Ayahs 26:198–199وَلَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰي بَعْضِ الْاَعْجَمِيْنَ۔۔ : ”ْاَعْجَمِيْنَ“ ”أَعْجَمُ“ کی جمع ہے، گونگا یا جو سرے سے عربی نہ جانتا ہو، انسان ہو یا جانور۔ ”أَعْجَمِيٌّ“ کا بھی یہی معنی ہے، اس میں یائے نسبت تاکید کے لیے زیادہ کی گئی ہے۔ ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ انھوں نے طے کر رکھا ہے کہ وہ اس پر ایمان لائیں گے ہی نہیں، اس لیے آپ ان کے ایمان نہ لانے پر غم زدہ نہ ہوں۔ اگر اب یہ لوگ ایک عربی رسول پر نازل ہونے کی وجہ سے اس قرآن پر ایمان نہیں لا رہے، حالانکہ یہ عظیم ترین معجزہ ہے، جس کی ایک سورت کی مثال بھی وہ نہیں لاسکے، یہ کہہ کر کہ اس نے خود اسے تصنیف کرلیا ہے، تو اگر ہم اس فصیح و بلیغ ترین عربی کلام کو کسی عجمی پر نازل کرتے، جو عربی زبان کا ایک لفظ بھی نہ جانتا ہوتا اور وہ اسے ان کے سامنے پڑھتا، جس سے وہ اس کے من جانب اللہ ہونے کا انکار کر ہی نہ سکتے، پھر بھی یہ لوگ اپنے شدید عناد کی وجہ سے ایمان نہ لاتے، بلکہ اسے جادو کہہ کر یا کوئی اور بہانہ بنا کر جھٹلا دیتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَلَوْ جَاۗءَتْھُمْ كُلُّ اٰيَةٍ حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ) [ یونس : 96، 97 ] ”بیشک وہ لوگ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی، وہ ایمان نہیں لائیں گے، خواہ ان کے پاس ہر نشانی آجائے، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔“ مزید دیکھیے سورة حجر (14، 15) اور انعام (111)۔
Ayahs 26:200–201كَذٰلِكَ سَلَكْنٰهُ فِيْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِيْنَ۔۔ : ”سَلَکَ یَسْلُکُ“ پرونا، سوئی میں دھاگا داخل کرنا، کسی چیز کو دوسری کے اندر گھسا دینا۔ ”سَلَكْنٰهُ“ میں ”ہٗ“ کی ضمیر اس انکار اور تکذیب کی طرف جا رہی ہے جس کا ذکر پچھلی آیت ”مَّا كَانُوْا بِهٖ مُؤْمِنِيْنَ“ میں ہے، یعنی ہم نے اس ایمان نہ لانے کو ان مجرموں کے جرائم کی پاداش میں ان کے دلوں کے اندر اس طرح داخل کردیا ہے جس طرح سوئی میں دھاگا داخل کردیا جاتا ہے۔ اب یہ لوگ اس پر ایمان نہیں لائیں گے، حتیٰ کہ ”عذاب الیم“ دیکھ لیں۔ اس میں بھی رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ ان لوگوں نے ایمان لانا ہی نہیں تو ان پر آپ غم زدہ کیوں ہوتے ہیں۔ آیت کے سیاق کے لحاظ سے یہی معنی راجح ہے۔
بعض مفسرین نے ”سَلَكْنٰهُ“ میں ”ہُ“ کی ضمیر کا مرجع قرآن کو قرار دیا ہے۔ انھوں نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ قرآن کا حق ہونا تو ان کے دلوں میں اتار دیا گیا ہے مگر ان کی ہٹ دھرمی کا یہ حال ہے کہ۔۔ (اشرف الحواشی) بعض نے اس کا مرجع قرآن کو قرار دے کر اس کی تفسیر اس طرح کی ہے : ”یعنی یہ اہل حق کے دلوں کی طرح تسکین روح اور شفائے قلب بن کر ان کے اندر نہیں اترتا، بلکہ ایک گرم لوہے کی سلاخ بن کر اس طرح گزرتا ہے کہ وہ سیخ پا ہوجاتے ہیں اور اس کے مضامین پر غور کرنے کے بجائے اس کی تردید کے لیے حربے ڈھونڈھنے لگ جاتے ہیں۔“ (تفہیم القرآن)
Ayahs 26:202–203فَيَاْتِيَهُمْ بَغْتَةً وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ۔۔ : یعنی وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک وہ ”عذاب الیم“ کو دیکھ لیں، جو ان پر اچانک آئے اور وہ سوچتے بھی نہ ہوں، پھر وہ یہ کہیں کہ کیا ہم مہلت دیے جانے والے ہیں کہ ہم ایمان لائیں اور تصدیق کریں، مگر اس وقت مہلت نہیں ملے گی۔
Ayah 26:204اَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُوْنَ : یعنی عذاب آئے گا تو مہلت کا مطالبہ کریں گے اور آج مہلت ملی ہوئی ہے تو عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں، کبھی کہتے ہیں : (فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ) [ الأنفال : 32 ] ”تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا۔“ کبھی کہتے ہیں : (فَاَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَاۗءِ) [ الشعراء : 187 ] ”سو ہم پر آسمان سے کچھ ٹکڑے گرا دے۔“ کبھی کہتے ہیں : (اَوْ تَاْتِيَ باللّٰهِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ قَبِيْلًا) [ بني إسرائیل : 92 ] ”یا تو اللہ اور فرشتوں کو سامنے لے آئے۔“ کبھی کہتے ہیں : (وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ) [ یونس : 48 ] ”یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا، اگر تم سچے ہو۔“
Ayahs 26:205–207اَفَرَءَيْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ۔۔ : ان کا عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرنے سے ظاہر ہے کہ وہ اس کے آنے پر ایمان نہیں رکھتے اور بہت دیر تک زندہ رہنے کی امید رکھتے ہیں، اسی لیے وہ اسے جلدی طلب کرتے اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ فرمایا، یہ بتاؤ کہ اگر ہم ان کی توقع کے مطابق کچھ سال انھیں زندہ رہنے اور فائدہ اٹھانے کا موقع دے دیں، پھر ان پر عذاب آئے یا موت ہی آجائے جس کے بعد عذاب ہی عذاب ہے، تو جتنے سال انھیں زندہ رہنے کا اور زندگی سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جاتا رہا وہ عذاب سے بچانے میں ان کے کس کام آئے گا ؟ (دیکھیے بقرہ : 96) وہ گزرا ہوا سارا عرصہ تو ایک ساعت سے زیادہ معلوم نہیں ہوگا۔ (دیکھیے روم : 55) اور رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق دنیا کے سب سے خوش حال کافر کو جہنم کا ایک غوطہ دلانے کے بعد پوچھا جائے گا کہ تو نے کبھی خیر دیکھی ہے تو وہ قسم اٹھا کر کہے گا کہ نہیں۔ [ دیکھیے مسلم، صفات المنافقین، باب صبغ أنعم أھل الدنیا في النار : 2807، عن أنس ] تفسیر کبیر میں ہے کہ میمون بن مہران طواف میں حسن بصری سے ملے اور نصیحت کی درخواست کی تو انھوں نے صرف اس آیت کی تلاوت کردی، تو میمون نے کہا، آپ نے نصیحت کی اور کمال کی نصیحت کی۔
”سِـنِيْنَ“ جمع مذکر سالم نکرہ قلت کے لیے استعمال ہوا ہے، یعنی جتنی لمبی زندگی بھی مل جائے وہ چند سال ہی ہیں، کیونکہ گزر جانے والی چیز قلیل ہی ہوتی ہے۔
Ayahs 26:208–209وَمَآ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ اِلَّا لَهَا مُنْذِرُوْنَ۔۔ : یعنی ہم نے جو بستی بھی ہلاک کی اس کی طرف خبردار کرنے اور ڈرانے والے بھیجے، تاکہ وہ انھیں نصیحت کریں اور یاد دہانی کروائیں، پھر جب انھوں نے ان کی نصیحت قبول نہیں کی، نہ یاد دہانی کی پروا کی تو ہم نے انھیں ہلاک کردیا۔ ظاہر ہے کہ یہ ہماری طرف سے ان پر کوئی ظلم نہ تھا، ظلم اس وقت ہوتا جب ہم پہلے نصیحت نہ کرتے اور خبردار نہ کرتے۔ پہلی آیت کے مضمون کے لیے دیکھیے سورة بنی اسرائیل (15) اور قصص (59) اور دوسری آیت کے مضمون کے لیے دیکھیے سورة یونس (44) اور نساء (40)۔
Ayah 26:210وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيٰطِيْنُ : یہ ذکر کرنے کے بعد کہ یہ قرآن رب العالمین کا نازل کردہ ہے، جسے جبریل امین لے کر آپ کے دل پر اترا ہے، اب ان لوگوں کی تردید فرمائی جو کہتے تھے کہ محمد ﷺ کے پاس یہ وحی شیطان لاتے ہیں، جیسا کہ جندب بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ جبریل ؑ کی آمد رک گئی تو قریش کی ایک عورت کہنے لگی : ”أَبْطَأَ عَلَیْہِ شَیْطَانُہُ“ ”اس کے شیطان نے اس کے پاس آنے میں دیر کردی ہے۔“ تو اس پر یہ آیات اتریں : (وَالضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلٰى) [ الضحٰی : 1 تا 3 ] ”قسم ہے دھوپ چڑھنے کے وقت کی ! اور رات کی جب وہ چھا جائے ! نہ تیرے رب نے تجھے چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا۔“ [ بخاري، التہجد، باب ترک القیام للمریض : 1125 ] اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس قرآن کو لے کر شیاطین نہیں اترے کہ یہ جادو ہو یا کہانت ہو، یا شعر ہو یا اوٹ پٹانگ خواب ہوں، کیونکہ شیاطین کا سرمایہ یہی کچھ ہوتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے شیاطین کے لیے اس کے ناممکن ہونے کی تین وجہیں بیان فرمائیں۔
Ayah 26:211وَمَا يَنْۢبَغِيْ لَهُمْ : پہلی یہ کہ اتنا پاکیزہ کلام لے کر اترنا شیاطین کے لائق ہی نہیں، کیونکہ قرآن سر اسر خیر و برکت اور نور ہے، جبکہ شیاطین سرا سر شر و فساد اور ظلمت سے بھرے ہوئے ہیں، دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔
وَمَا يَسْتَطِيْعُوْنَ : دوسری یہ کہ اگر ان کے لائق ہو بھی تو وہ اس جیسا کلام لانے کی طاقت ہی نہیں رکھتے، خواہ کتنی کوشش کرلیں، فرمایا : (قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓي اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا) [ بني إسرائیل : 88 ] ”کہہ دے اگر سب انسان اور جن جمع ہوجائیں کہ اس قرآن جیسا بنا لائیں تو اس جیسا نہیں لائیں گے، اگرچہ ان کا بعض بعض کا مددگار ہو۔“
Ayah 26:212اِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَ : تیسری وجہ یہ کہ اگر بالفرض وہ سن سنا کر لانے کی طاقت بھی رکھتے ہوں تو بارگاہ الٰہی میں ان کا دخل ہی نہیں کہ سن لیں، زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا تھا کہ وہ فرشتوں سے سن کر آگے پہنچا دیں، مگر قرآن کے نزول کے وقت ان پر فرشتوں کی باہمی گفتگو سننے پر بھی پابندی لگا دی گئی، اب وہ سننے کی کوشش کرتے ہیں تو ان پر شہابوں کی بارش ہوتی ہے۔ کوئی ایک آدھ بات چوری سے سن بھی لیں تو سیکڑوں جھوٹوں کی آمیزش کی وجہ سے اس کا اعتبار نہیں رہتا۔ دیکھیے سورة جنّ (8 تا 10) اور صافات (6 تا 10)۔
Ayah 26:213فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ۔۔ : قرآن کے حق اور منزل من اللہ ہونے کے بیان کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو ایک اللہ کو پکارنے اور اس کے سوا کسی کو بھی نہ پکارنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اگر کسی اور کو پکارو گے تو عذاب دیے جانے والوں میں سے ہوجاؤ گے۔ یہ خطاب اگرچہ رسول اللہ ﷺ کو ہے، مگر اصل مقصود کفار و مشرکین کو متنبہ کرنا ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے تو نہ شرک کیا نہ کرنا تھا، آپ ﷺ کو اس لیے مخاطب کیا کہ سب لوگ آگاہ ہوجائیں کہ شرک اتنا بڑا گناہ ہے کہ بالفرض رسول سے سرزد ہوجائے تو اسے بھی عذاب ہوگا، پھر دوسرے لوگوں کا کیا حال ہوگا ؟ جیسا کہ فرمایا : (وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ) [ الزمر : 65 ] ”اور بلاشبہ یقیناً تیری طرف وحی کی گئی اور ان لوگوں کی طرف بھی جو تجھ سے پہلے تھے کہ بلاشبہ اگر تو نے شریک ٹھہرایا تو یقیناً تیرا عمل ضرور ضائع ہوجائے گا اور تو ضرور بالضرور خسارہ اٹھانے والوں سے ہوجائے گا۔“
Ayah 26:214وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ : اور اپنے سب سے قریب رشتہ داروں کو اللہ کے عذاب سے ڈرا کہ میری قرابت پر بھروسا نہ رکھنا۔ سب سے قریب رشتہ داروں کو ڈرانے کے حکم سے ظاہر ہے کہ جو ان کے علاوہ ہیں انھیں بالاولیٰ ڈرانا ہوگا اور جب قریب ترین رشتہ داروں کو ڈرانے میں ان کی ناپسندیدگی یا ناراضی کی پروا نہیں کی جائے گی تو دوسروں کی ناراضی یا ناپسندیدگی تو اس کے مقابلے میں معمولی بات ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس فریضہ کو اس طرح ادا کیا جیسے اس کا حق تھا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت : (وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ) اتری تو رسول اللہ ﷺ صفا پہاڑ پر چڑھے اور آواز دینے لگے : (یَا بَنِيْ فِھْرٍ ! یَا بَنِيْ عَدِيٍّ ! لِبُطُوْنِ قُرَیْشٍ ، حَتَّی اجْتَمَعُوْا، فَجَعَلَ الرَّجُلُ إِذَا لَمْ یَسْتَطِعْ أَنْ یَّخْرُجَ أَرْسَلَ رَسُوْلًا لِیَنْظُرَ مَا ھُوَ ، فَجَاءَ أَبُوْ لَھَبٍ وَ قُرَیْشٌ فَقَالَ أَرَأَیْتَکُمْ لَوْ أَخْبَرْتُکُمْ أَنَّ خَیْلًا بالْوَادِيْ تُرِیْدُ أَنْ تُغِیْرَ عَلَیْکُمْ أَ کُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ ؟ قَالُوْا نَعَمْ مَا جَرَّبْنَا عَلَیْکَ إِلَّا صِدْقًا، قَالَ فَإِنِّيْ نَذِیْرٌ لَکُمْ بَیْنَ یَدَيْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ ، فَقَالَ أَبُوْ لَھَبٍ تَبًّا لَکَ سَاءِرَ الْیَوْمِ ، أَ لِھٰذَا جَمَعْتَنَا ؟ فَنَزَلَتْ : (تَبَّتْ يَدَآ اَبِيْ لَهَبٍ وَّتَبَّ مَآ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَمَا كَسَبَ) [ بخاري، التفسیر، باب : (و أنذر عشیرتک الأقربین۔۔) : 4770 ] ”یا بنی فہر ! یا بنی عدی !“ قریش کے مختلف قبائل کو آواز دی، یہاں تک کہ وہ جمع ہوگئے، کوئی آدمی خود نہ آسکتا تو کسی دوسرے کو بھیج دیتا، تاکہ وہ دیکھے کیا معاملہ ہے۔ غرض ابولہب اور قریش سب آگئے تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”یہ بتاؤ کہ اگر میں تمہیں اطلاع دوں کہ اس وادی میں ایک لشکر تم پر حملہ آور ہونا چاہتا ہے تو کیا تم مجھے سچا جانو گے ؟“ انھوں نے کہا : ”ہاں ! ہم نے آپ پر سچ ہی کا تجربہ کیا ہے۔“ آپ نے فرمایا : ”پھر میں تمہیں ایک شدید عذاب سے پہلے ڈرانے والا ہوں۔“ تو ابو لہب نے کہا : ”تیرے لیے سارا دن ہلاکت ہو، کیا تو نے ہمیں اسی لیے جمع کیا ہے ؟“ اس پر یہ سورت اتری : (تَبَّتْ يَدَآ اَبِيْ لَهَبٍ وَّتَبَّ مَآ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَمَا كَسَبَ) [ اللھب : 1، 2 ]
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : (یَا بَنِيْ عَبْدِ مَنَافٍ ! اشْتَرُوْا أَنْفُسَکُمْ مِنَ اللّٰہِ ، یَا بَنِيْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ! اشْتَرُوْا أَنْفُسَکُمْ مِنَ اللّٰہِ ، یَا أُمَّ الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ عَمَّۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ ! یَا فَاطِمَۃُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ ! اشْتَرِیَا أَنْفُسَکُمَا مِنَ اللّٰہِ ، لَا أَمْلِکُ لَکُمَا مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا، سَلَانِيْ مِنْ مَالِيْ مَا شِءْتُمَا) [ بخاري، المناقب، باب من انتسب إلی آباۂ۔۔ : 3527 ] ”اے بنی عبد مناف ! اپنی جانیں اللہ سے خرید لو، اے بنی عبد المطلب ! اپنی جانیں اللہ سے خرید لو، اے زبیر بن عوام کی ماں اور رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی (صفیہ) ! اے فاطمہ بنت محمد ! تم دونوں اپنی جانیں اللہ سے خرید لو، میں اللہ کے ہاں تمہارے لیے کچھ اختیار نہیں رکھتا، مجھ سے میرے مال میں سے جو چاہو مانگ لو۔“ ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے قریش کو اور اپنے چچا عباس کو بھی مخاطب فرمایا۔ [ دیکھیے بخاري، التفسیر، باب : (و أنذر عشیرتک۔۔) : 4771 ]
Ayah 26:215وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ۔۔ : ڈرانے کی ضرورت اس کے لیے ہے جو اعراض کرے، جو پیروی اختیار کرے اس کے لیے اس کے برعکس حکم دیا، فرمایا مومنوں میں سے جو آپ کے پیچھے چلیں، اپنے ہوں یا پرائے، ان کے لیے اپنا (شفقت کا) بازو جھکا دیں، جس طرح مرغی کسی خطرے کو محسوس کرکے اپنے بچوں کو اپنے پروں میں لے لیتی ہے اسی طرح آپ بھی اے پیغمبر ! ان کو اپنی رحمت و عنایت کے بازؤوں کے نیچے چھپائے رکھیں۔ نرمی کا یہ حکم ان پیچھے چلنے والوں کے لیے ہے جو مومن ہیں۔ معلوم ہوا جو لوگ قرابت کی وجہ سے آپ کا ساتھ دیتے تھے، جیسے ابوطالب، بنو ہاشم اور بنو مطلب، یا حق کو پہچاننے کی وجہ سے ساتھ دیتے تھے مگر ایمان نہیں لاتے تھے، ان کے ساتھ مومنوں والی نرمی اور شفقت کا حکم نہیں۔
Ayah 26:216فَاِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ۔۔ : یعنی پھر اگر وہ تیری نافرمانی کریں، تیرے قریب ترین رشتہ دار ہوں یا کوئی اور، تو ان کے ساتھ مومنوں کے لیے نرمی والے معاملے کے بجائے ان سے الگ ہوجا اور کہہ دے کہ تم جس نافرمانی کا ارتکاب کر رہے ہو میں اس سے بری ہوں۔ ممکن ہے تیرا لاتعلقی کا اعلان ہی انھیں واپس لے آئے، یا کم از کم تو اللہ کے ہاں بری ہوجائے۔
Ayah 26:217ۚ وَتَوَكَّلْ عَلَي الْعَزِيْزِ الرَّحِيْمِ : جب ہر نافرمانی کرنے والے سے براءت کا اعلان کرنے کا حکم دیا تو ساتھ ہی فرمایا کہ نافرمانی کرنے والے کوئی ہوں یا کتنے ہوں، تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اس لیے سب سے بیزار ہو کر اس مالک پر بھروسا رکھ، جو عزیز (سب پر غالب) بھی ہے کہ اس کے مقابلے میں کسی کی پیش نہیں جاتی اور رحیم (بےحد رحم والا) بھی کہ اس کی بےحساب رحمت ہمیشہ اپنوں پر متوجہ رہتی ہے۔ توکل کا معنی اپنا کام اس کے سپرد کردینا جس کے متعلق یقین ہو کہ وہ اس کے لیے کافی ہوجائے گا۔
Ayahs 26:218–220الَّذِيْ يَرٰىكَ حِيْنَ تَقُوْمُ۔۔ : یعنی اس عزیز و رحیم پر بھروسا رکھ جو ہر وقت تجھے دیکھ رہا ہے، اس وقت بھی جب تو کھڑا ہوتا ہے، رات قیام میں کھڑا ہو یا دعوت و جہاد کے فریضے کی ادائیگی کے لیے، یا کسی بھی کام کے لیے اور تیرے صحابہ میں تیرے گھومنے پھرنے کو بھی دیکھ رہا ہے جن کا خاص وصف ساجدین ہے، فرمایا : (تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانًا ۡ سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ ۭ) [ الفتح : 29 ] ”تو انھیں اس حال میں دیکھے گا کہ رکوع کرنے والے ہیں، سجدے کرنے والے ہیں، اپنے رب کا فضل اور (اس کی) رضا ڈھونڈتے ہیں، ان کی شناخت ان کے چہروں میں (موجود) ہے۔“ جب تو ان کے ساتھ باجماعت نماز کی حالت میں اپنی ہیئت بدل رہا ہوتا ہے، کبھی ان کے ساتھ سجدے میں ہوتا ہے، کبھی رکوع میں، کبھی قیام میں اور جب تو ان سجدہ گزاروں کے ساتھ دعوت یا جہاد کے کام میں پھر رہا ہوتا ہے تو تیرا رب ہر وقت تجھے دیکھ رہا ہے اور اپنے اس قیام اور پھرنے میں تو جو کچھ کہتا ہے وہ اسے سنتا ہے اور جو کچھ تو کرتا ہے اسے جانتا ہے، کیونکہ وہی سننے والا، جاننے والا ہے۔ اس لیے اس پر بھروسا رکھ جس کی نگاہ سے تو ایک لمحہ اوجھل نہیں، وہ تجھے کبھی بےسہارا نہیں چھوڑے گا۔
3 ان آیات میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کی شب و روز کی مصروفیات کو جو شخص بھی غور سے دیکھے گا وہ کبھی نہیں کہہ سکتا کہ ان لوگوں کا شیطان سے کوئی تعلق ہوسکتا ہے۔
Ayahs 26:221–222هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰي مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيٰطِيْنُ۔۔ :”اَفَّاکٍ“ ”إِفْکٌ“ میں سے مبالغہ ہے، زبردست جھوٹا۔ ”اَثِیْمٍ“ ”إِثْمٌ“ میں سے مبالغہ ہے، سخت گناہ گار۔ پہلے فرمایا تھا کہ شیاطین نہ یہ قرآن لے کر اترے ہیں نہ ان کے لیے یہ ممکن ہے، اب یہ بیان ہے کہ شیاطین کا قرآن لے کر آنے کی طرح رسول اللہ ﷺ پر اترنا بھی محال ہے، کیونکہ آپ ﷺ صادق و امین ہیں اور خیر کی تمام خوبیوں سے آراستہ ہیں، شیاطین تو ایسے لوگوں پر اترتے ہیں جو نہایت جھوٹے اور سخت گناہ گار ہوں، کیونکہ انھوں نے انھی لوگوں پر اترنا ہوتا ہے جن کے دلوں میں ان کی بات قبول کرنے کی استعداد ہو اور جو جھوٹ، خیانت، خبث اور دوسری کمینگیوں میں ان کے ساتھ مناسبت رکھتے ہوں۔ مراد اس سے وہ کاہن، نجومی، جوتشی، چوریاں بتانے والے اور عامل قسم کے لوگ ہیں جو غیب دانی کا ڈھونگ رچاتے اور لوگوں کو ان کی قسمتیں بتاتے پھرتے ہیں۔ کچھ جنوں اور موکّلوں کی تسخیر کے دعوے سے اپنا کاروبار چلاتے پھرتے ہیں۔
Ayah 26:223يُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَاَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَ : ”السَّمْعَ“ مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، یعنی سنی ہوئی بات۔ اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ شیاطین فرشتوں سے سنی ہوئی بات کاہنوں کے کانوں میں لا ڈالتے ہیں، جن میں وہ اپنی طرف سے سو (100) جھوٹی باتیں ملا دیتے ہیں۔ فرشتوں سے سنی ہوئی وہ بات سچی نکلتی ہے تو سو (100) جھوٹی باتوں کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں کرتے۔ دوسرا یہ کہ وہ ”افاک و اثیم“ کاہن شیاطین سے سنی ہوئی بات لوگوں کو بتاتے ہیں جس میں وہ مزید جھوٹ ملا دیتے ہیں اور ان کے اکثر جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں، سوائے اس ایک بات کے جو شیاطین نے چرا کر ان تک پہنچائی ہوتی ہے۔ ”يُّلْقُوْنَ السَّمْعَ“ میں ”السَّمْعَ“ مصدر مفعول لہ بھی ہوسکتا ہے، یعنی وہ شیاطین فرشتوں کی گفتگو سننے کے لیے کان لگاتے ہیں، یا وہ کاہن شیاطین کی باتیں سننے کے لیے کان لگاتے ہیں۔ یہ معنی بھی درست ہے۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِذَا قَضَی اللّٰہُ الْأَمْرَ فِي السَّمَاءِ ، ضَرَبَتِ الْمَلَاءِکَۃُ بِأَجْنِحَتِھَا خُضْعَانًا لِقَوْلِہِ ، کَأَنَّہُ سِلْسِلَۃٌ عَلٰی صَفْوَانٍ ، فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِھِمْ قَالُوْا مَا ذَا قَالَ رَبُّکُمْ ؟ قَالُوْا لِلَّذِيْ قَالَ الْحَقَّ ، وَھُوَ الْعَلِيُّ الْکَبِیْرُ ، فَیَسْمَعُھَا مُسْتَرِقُ السَّمْعِ وَمُسْتَرِقُوا السَّمْعِ ھٰکَذَا بَعْضُہُ فَوْقَ بَعْضٍ ، وَصَفَہُ سُفْیَانُ بِکَفِّہِ فَحَرَفَھَا وَ بَدَّدَ بَیْنَ أَصَابِعِہِ ، فَیَسْمَعُ الْکَلِمَۃَ فَیُلْقِیْھَا إِلٰی مَنْ تَحْتَہُ ، ثُمَّ یُّلْقِیْھَا الْآخَرُ إِلٰی مَنْ تَحْتَہُ ، حَتّٰی یُلْقِیَھَا عَلٰی لِسَان السَّاحِرِ أَوِ الْکَاھِنِ ، فَرُبَّمَا أَدْرَکَ الشِّھَابُ قَبْلَ أَنْ یُلْقِیَھَا، وَرُبَّمَا أَلْقَاھَا قَبْلَ أَنْ یُّدْرِکَہُ ، فَیَکْذِبُ مَعَھَا ماءَۃَ کَذْبَۃٍ فَیُقَالُ أَلَیْسَ قَدْ قَالَ لَنَا یَوْمَ کَذَا وَ کَذَا، کَذَا وَ کَذَا ؟ فَیُصَدَّقُ بِتِلْکَ الْکَلِمَۃِ الَّتِيْ سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاءِ) [ بخاري، التفسیر، باب (حتی إذا فزع عن قلوبہم۔۔) : 4800 ] ”جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا فیصلہ آسمان پر کرتا ہے تو فرشتے عاجزی سے اپنے پر پھڑ پھڑاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا فرمان انھیں اس طرح سنائی دیتا ہے جیسے صاف چکنے پتھر پر زنجیر کی آواز ہوتی ہے، پھر جب وہ گھبراہٹ ان کے دلوں سے دور ہوجاتی ہے تو وہ آپس میں دریافت کرتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے ؟ وہ کہتے ہیں کہ اس نے حق فرمایا ہے اور وہ بہت بلندی والا،
بہت بڑائی والا ہے، تو (کبھی کبھی) چوری سننے والا اسے سن لیتا ہے اور چوری سننے والے اس طرح ایک دوسرے کے اوپر ہوتے ہیں۔“ اور (حدیث کے راوی) سفیان نے چوری سننے والوں کی کیفیت بیان کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو الگ الگ کرکے ایک دوسرے کے اوپر رکھ کر دکھایا۔ ”تو وہ (شیطان جنّ) بات سن لیتا ہے اور اپنے سے نیچے والے کو پہنچا دیتا ہے، پھر وہ دوسرا اسے اپنے سے نیچے والے کو پہنچا دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ اسے جادوگر کاہن کی زبان پر ڈال دیتا ہے، پھر بعض اوقات شعلہ اسے نیچے پہنچانے سے پہلے آ پکڑتا ہے اور بعض اوقات وہ شعلہ پہنچنے سے پہلے دوسرے کو وہ بات پہنچا دیتا ہے تو وہ اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا دیتا ہے۔ تو کہا جاتا ہے، کیا اس نے ہمیں فلاں فلاں دن ایسے ایسے نہیں کہا تھا ؟ تو اس بات کی وجہ سے جو آسمان سے سنی تھی اس کو سچا سمجھ لیا جاتا ہے۔“ عائشہ زوج النبی ﷺ بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرما رہے تھے : (إِنَّ الْمَلَاءِکَۃَ تَنْزِلُ فِي الْعَنَانِ ، وَھُوَ السَّحَابُ ، فَتَذْکُرُ الْأَمْرَ قُضِيَ فِي السَّمَاءِ ، فَتَسْتَرِقُ الشَّیَاطِیْنُ السَّمْعَ فَتَسْمَعُہُ ، فَتُوْحِیْہِ إِلَی الْکُھَّانِ ، فَیَکْذِبُوْنَ مَعَھَا ماءَۃَ کَذْبَۃٍ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِھِمْ) [ بخاري، بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ۔۔ : 3210 ] ”فرشتے بادل میں اترتے ہیں اور اس کام کا ذکر کرتے ہیں جس کا آسمان میں فیصلہ کیا گیا ہوتا ہے۔ تو شیطان چوری سے اس کی طرف کان لگاتے ہیں اور اسے سن لیتے ہیں اور کاہنوں کے دلوں میں پہنچا دیتے ہیں اور اس کے ساتھ اپنی طرف سے سو (100) جھوٹ ملا دیتے ہیں۔“
صفیہ نے نبی ﷺ کی بیویوں میں سے ایک بیوی سے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا : (مَنْ أَتٰی عَرَّافًا فَسَأَلَہُ عَنْ شَيْءٍ لَمْ تُقْبَلْ لَہُ صَلاَۃُ أَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً) [ مسلم، السلام، باب تحریم الکہانۃ۔۔ : 2230 ] ”جو شخص کسی عراف (چوریاں یا گم شدہ چیزیں بتانے والے) کے پاس گیا اور اس سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا تو اس کی چالیس راتوں کی نماز قبول نہیں ہوگی۔“ ابوہریرہ اور حسن ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ أَتٰی کَاھِنًا أَوْ عَرَّافًا فَصَدَّقَہُ بِمَا یَقُوْلُ فََقَدْ کَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) [ مسند أحمد : 2؍429، ح : 9548 ] ”جو شخص کسی کاہن یا عراف کے پاس جائے اور اسے اس بات میں سچا سمجھے جو وہ کہے تو اس نے اس کے ساتھ کفر کیا جو محمد ﷺ پر نازل ہوا۔“ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے کاہنوں (غیب کی باتیں بتانے والوں) کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : (لَیْسُوْا بِشَيْءٍ ، قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! فَإِنَّھُمْ یُحَدِّثُوْنَ أَحْیَانًا بالشَّيْءِ یَکُوْنُ حَقًّا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تِلْکَ الْکَلِمَۃُ مِنَ الْحَقِّ یَخْطَفُھَا الْجِنِّيُّ فَیَقُرُّھَا فِيْ أُذُنِ وَلِیِّہِ قَرَّ الدَّجَاجَۃِ فَیَخْلِطُوْنَ فِیْھَا أَکْثَرَ مِنْ ماءَۃِ کَذْبَۃٍ) [ بخاري، الأدب، باب قول الرجل للشيء۔۔ : 6213 ] ”وہ کچھ بھی نہیں۔“ لوگوں نے کہا : ”یا رسول اللہ ! بعض اوقات وہ ہمیں کوئی بات بتاتے ہیں جو سچی نکلتی ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”وہ بات حق ہوتی ہے جسے جنّی (جن) اچک لیتا ہے اور اپنے دوست کے کان میں مرغی کے کڑکڑ کرنے کی طرح ڈال دیتا ہے، پھر وہ اس کے ساتھ سو (100) جھوٹ ملا لیتے ہیں۔“
Ayah 26:224وَالشُّعَرَاۗءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَ : ”الْغَاوٗنَ“ ”غَوٰی یَغْوِيْ“ (ض) سے اسم فاعل کی جمع ہے، گمراہ لوگ۔ کفارِمکہ رسول اللہ ﷺ پر کاہن کے علاوہ شاعر ہونے کا الزام بھی لگاتے تھے، اس لیے آپ سے کہانت کی نفی کے بعد شاعر ہونے کی نفی بھی فرمائی۔ مزید دیکھیے سورة یٰس (69) اور حاقہ (40 تا 43) ان آیات میں شعراء کی تین خصوصیات بیان فرمائیں جن سے صاف ظاہر ہے کہ شعراء اور نبی کریم ﷺ میں اور شعر اور قرآن مجید میں مشرق و مغرب کا فرق ہے۔ پہلی خصوصیت یہ کہ شعراء کے پیچھے گمراہ، بھٹکے ہوئے اور اوباش قسم کے لوگ لگتے ہیں، پھر جن کے پیچھے لگنے والے گمراہ ہوں خود ان کے گمراہ ہونے میں کیا کمی ہوگی ؟ عرب کے سب سے بڑے شاعر ”امرء القیس“ نے جس بےحیائی اور فحاشی کی اشاعت اپنے شعروں میں کی ہے اس کی مثال نہیں ملتی، یہاں تک کہ اہل عرب بھی اسے اپنا سب سے بڑا شاعر ماننے کے باوجود ”اَلْمَلِکُ الضَّلِیْلُ“ (رند بادشاہ) کہتے تھے۔ شاعروں کا محبوب موضوع عشق بازی، شراب نوشی اور بازاری عورتوں یا کسی کی معصوم بہو وبیٹی کے حسن و جمال کا تذکرہ ہے، یا شہوت بھڑکانے والی فحش باتیں۔ وہ کسی کی بےجا مدح کرتے ہیں اور کسی کی ناجائز مذمت، اس لیے ان کے ساتھی بھی اسی قبیل کے لوگ ہوتے ہیں۔ جبکہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھی انتہائی سچے، پاکباز، شریف اور مہذب تھے۔ ایسے شخص کو شاعر وہی شخص کہہ سکتا ہے جو جھوٹ بولنے میں حیا کی ساری حدیں پار کر گیا ہو۔
Ayah 26:225اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِيْ كُلِّ وَادٍ يَّهِيْمُوْنَ : یہ شاعروں کی دوسری خصوصیت ہے جو یہاں بیان کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ جب انھیں کوئی خیال آتا ہے اسے اچھوتے انداز میں شعر کے قالب میں ڈھال دیتے ہیں، انھیں اس سے غرض نہیں کہ وہ رحمانی ہے یا شیطانی، روحانی ہے یا نفسانی، اس سے خیر کے جذبات پیدا ہوں گے یا شر کے۔ کبھی کسی کی تعریف کرکے اسے آسمان پر چڑھا دیتے ہیں اور کبھی کسی کی ہجو اور مذمت کرکے اسے آسمان سے زمین پر پٹخ دیتے ہیں۔ ایک شعر سے معلوم ہوگا کہ شاعر ولی ہے جب کہ دوسرے شعر سے پتا چلے گا کہ وہ شیطان ہے۔ ایک ہی سانس میں وہ نیکی اور بدی دونوں کی باتیں بےتکلف کہہ دے گا، لیکن کہے گا ایسے مؤثر اور دلکش انداز میں کہ سننے والے ان دونوں سے متاثر ہوجائیں گے، لیکن نفس انسانی کو چونکہ نیکی کے بجائے بدی کی باتیں ہی عموماً مرغوب ہوتی ہیں، اس لیے شاعر کے چھوڑے ہوئے بدی والے اثرات و نقوش تو قائم رہتے ہیں، مگر نیکی کے اثرات غائب ہوجاتے ہیں اور اس طرح ان کا کلام ”وَاِثْمُھَا اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِھِمَا“ کا مصداق بن جاتا ہے۔ (تفسیر مدنی)
Ayah 26:226وَاَنَّهُمْ يَقُوْلُوْنَ مَا لَا يَفْعَلُوْنَ : یہ شاعروں کی تیسری خصوصیت ہے جو نبی ﷺ کے طرز عمل کی عین ضد تھی، آپ ﷺ کو جاننے والا ہر شخص جانتا تھا کہ آپ جو کہتے ہیں وہی کرتے ہیں، دوست دشمن سب کا اتفاق تھا کہ آپ کے قول و فعل میں تضاد نہیں، جب کہ شاعروں کے متعلق ہر شخص جانتا ہے کہ ان کے کہنے کی باتیں اور ہوتی ہیں، کرنے کی اور۔ شعر پڑھو تو معلوم ہوگا کہ شیر سے زیادہ بہادر ہیں مگر پرلے درجے کے بزدل ہوں گے، سخاوت کا مضمون ایسا باندھیں گے کہ آدمی سمجھے ان سے بڑا سخی کوئی نہیں جب کہ واقع میں سخت کنجوس ہوں گے، زہد و قناعت اور خود داری کا بلند بانگ دعویٰ کریں گے جب کہ حرص و طمع میں ذلت کی آخری حد کو پار کر رہے ہوں گے۔ مرزا غالب نے اپنا حال خود ہی بیان کردیا ہے
یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
حالی نے مسدس میں اپنے زمانے کے شاعروں کا خوب نقشہ کھینچا ہے
برا شعر کہنے کی گر کچھ سزا ہے
تو وہ محکمہ جس کا قاضی خدا ہے
گنہ گار واں چھوٹ جائیں گے سارے
عبث جھوٹ بکنا اگر ناروا ہے
مقرر جہاں نیک و بد کی سزا ہے
جہنم کو بھر دیں گے شاعر ہمارے
ان اشعار میں حالی نے شاعروں کی مذمت کرتے ہوئے دوسرے تمام گناہ گاروں کو جہنم سے آزادی کا پروانہ دے دیا، یہ اس شاعری ہی کا نتیجہ ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے مذمت فرمائی ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَأَنْ یَّمْتَلِئَ جَوْفُ الرَّجُلِ قَیْحًا یَرِیْہِ خَیْرٌ مِّنْ أَنْ یَّمْتَلِئَ شِعْرًا) [ مسلم، الشعر، باب في إنشاد الأشعار۔۔ : 2257، عن أبي ہریرہ ؓ ] ”(تم میں سے) کسی آدمی کا اندرون (سینہ، پیٹ) پیپ سے بھر جائے جو اسے گلا دے، تو وہ اس سے بہتر ہے کہ شعر سے بھرے۔“ اندرون (سینہ، پیٹ) شعر سے بھرنے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن و حدیث کے بجائے اشعار آدمی پر غالب ہوں۔ ورنہ اچھے اشعار یاد کرنے اور سننے سنانے میں کوئی حرج نہیں۔ عمرو بن شرید اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سواری پر سوار تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : (ھَلْ مَعَکَ مِنْ شِعْرِ أُمَیَّۃَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ شَيْءٌ ؟ قُلْتُ نَعَمْ ، قَالَ ھِیْہِ فَأَنْشَدْتُّہُ بَیْتًا، فَقَالَ ھِیْہِ ثُمَّ أَنْشَدْتُّہُ بَیْتًا فَقَالَ ھِیْہِ حَتّٰی أَنْشَدْتُّہُ ماءَۃَ بَیْتٍ) [ مسلم، الشعر، باب في إنشاد الأشعار۔۔ : 2255 ] ”تمہیں امیہ بن صلت کے کچھ اشعار یاد ہیں ؟“ میں نے کہا : ”جی ہاں !“ آپ نے فرمایا : ”سناؤ۔“ میں نے ایک شعر سنایا، آپ نے فرمایا : ”اور سناؤ۔“ میں نے ایک شعر اور سنایا، آپ نے فرمایا : ”اور سناؤ۔“ حتیٰ کہ میں نے آپ کو سو شعر سنائے۔“ ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا : (إِذَا خَفِيَ عَلَیْکُمْ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ فَابْتَغُوْہُ فِي الشِّعْرِ فَإِنَّہُ دِیْوَانُ الْعَرَبِ) [ مستدرک حاکم : 2؍499، ح : 3845، قال الحاکم صحیح و وافقہ الذھبي ]”جب تم سے قرآن کی کوئی چیز مخفی رہے (کسی لفظ کا مطلب سمجھ میں نہ آئے) تو اسے شعر میں تلاش کرو، کیونکہ وہ عرب کا دیوان ہے (یعنی ان کے گزشتہ علوم کا مجموعہ ہے)۔“ ابن حبان (7377) کے حاشیہ میں اس کے محقق نے یہ روایت بیہقی کی ”الاسماء والصفات“ کے حوالے سے نقل کر کے اس کی دو سندوں کو حسن کہا ہے۔ ابن عباس ؓ کا تفسیر قرآن میں اشعار عرب سے استشہاد معروف ہے۔
Ayah 26:227اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ۔۔ : شعراء کی مذمت کے بعد ان میں سے ایسے لوگوں کو مستثنیٰ فرمایا جن میں چار اوصاف پائے جائیں، پہلا وصف یہ کہ وہ مومن ہوں۔ دوسرا یہ کہ وہ صالح اعمال کے حامل ہوں، فاسق و فاجر اور بدکار نہ ہوں۔ تیسرا یہ کہ اللہ کو کثرت سے یاد کرتے ہوں، اپنی عام زندگی میں بھی اور اپنے اشعار میں بھی۔ ایسا نہ ہو کہ زبانی تسبیح و تہلیل اور اذکار پر تو بہت زور ہو مگر اشعار میں اللہ کی یاد کے بجائے عشق و ہوس اور فضول باتوں کا تذکرہ ہو۔ چوتھا وصف یہ کہ وہ اپنے کلام سے ظالموں کے مقابلے میں حق کی حمایت کا کام لیتے ہوں اور کفار و مشرکین اسلام، مسلمانوں اور رسول اللہ ﷺ کے متعلق جو بد زبانی کریں ان کا دندان شکن جواب دیں۔ ایسے موقع پر وہ زبان سے وہ کام لیتے ہیں جو میدان جنگ میں مجاہد تیر و تلوار سے لیتا ہے۔ اس مقصد کے لیے رسول اللہ ﷺ خود شعرائے اسلام کی ہمت افزائی فرمایا کرتے تھے۔ چناچہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اُھْجُوْا قُرَیْشًا فَإِنَّہُ أَشَدُّ عَلَیْھَا مِنْ رَشْقٍ بالنَّبْلِ) [ مسلم، فضائل الصحابۃ، باب فضائل حسان بن ثابت ؓ : 2490 ] ”قریش کی ہجو کرو، کیونکہ وہ ان پر تیروں کے چھیدنے سے بھی سخت ہے۔“ اور اس حدیث کے آخر میں ہے، عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا، آپ حسان ؓ سے کہہ رہے تھے : (إِنَّ رُوْحَ الْقُدُسِ لَا یَزَالُ یُؤَیِّدُکَ مَا نَافَحْتَ عَنِ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہِ) ”روح القدس تیری مدد کرتا رہتا ہے جب تک تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا دفاع کرتا رہے۔“ اور فرماتی ہیں کہ میں نے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا : (ھَجَاھُمْ حَسَّانُ فَشَفٰی وَ اشْتَفٰی) [ مسلم، فضائل الصحابۃ، باب فضائل حسان بن ثابت ؓ : 2490 ] ”حسان نے ان کی ہجو کی اور شفا دی اور شفا پائی۔“ کعب بن مالک ؓ نے کہا : ”یا رسول اللہ ! آپ کی شعر کے بارے میں کیا رائے ہے ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ الْمُؤْمِنَ یُجَاھِدُ بِسَیْفِہِ وَلِسَانِہِ وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہِ لَکَأَنَّمَا تَنْضَحُوْنَھُمْ بالنَّبْلِ) [ صحیح ابن حبان : 4707، قال المحقق إسنادہ علی شرط الشیخین ] ”مومن اپنی تلوار اور اپنی زبان کے ساتھ جہاد کرتا ہے، قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! گویا تم انھیں تیروں کے ساتھ چھیدتے ہو۔“ آیت سے ظاہر ہے کہ شعر کی دو حالتیں ہیں، ایک وہ جس کی مذمت آئی ہے، دوسری وہ جس کی اجازت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِکْمَۃً) [ ابن ماجہ، الأدب، باب الشعر : 3755، و قال الألباني صحیح ] ”بعض شعر حکمت سے بھرے ہوتے ہیں۔“ عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (الشِّعْرُ بِمَنْزِلَۃِ الْکَلَامِ حَسَنُہُ کَحَسَنِ الْکَلَامِ وَ قَبِیْحُہُ کَقَبِیْحِ الْکَلَامِ) [ السنن الدار قطني : 5؍274، ح : 4308 ]”شعر کلام کی طرح ہے، سو اس میں سے جو اچھا ہے وہ اچھے کلام کی طرح ہے اور جو اس میں سے برا ہے وہ برے کلام کی طرح ہے۔“
وَسَـيَعْلَمُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا۔۔ : ظلم کرنے والوں سے مراد وہ کفار و مشرکین ہیں جنھوں نے ایمان قبول نہ کرکے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور ضد اور ہٹ دھرمی سے اسلام کو نیچا دکھانے کے لیے رسول اللہ ﷺ کو ساحر، کاہن اور شاعر کہہ کر جھٹلاتے رہے۔ فرمایا، یہ لوگ جلد ہی جان لیں گے کہ ان کا کیا انجام ہونے والا ہے آخرت میں اور دنیا میں بھی۔ ان الفاظ میں کفار کے لیے بہت سخت وعید ہے۔ [ اَللّٰھُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِي الْأُمُوْرِ کُلِّھَا وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْیَا وَ عَذَابِ الْآخِرَۃِ ]