Ayahs 26:158–159فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ ۭ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة اعراف (78) اور ہود (67)۔
اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً ۭ وَمَا كَانَ۔۔ : ان آیات کی تفسیر سورت کے شروع میں آیت (8، 9) کے تحت گزر چکی ہے۔
Ayahs 26:160–161كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِۨ الْمُرْسَلِيْنَ۔۔ : لوط ؑ کے حالات کے لیے دیکھیے سورة اعراف (80 تا 84) ، ہود (77 تا 83) ، حجر (61 تا 77) ، انبیاء (71 تا 75) ، نمل (54 تا 58) ، صافات (133 تا 138) اور قمر (33 تا 39) لوط ؑ ابراہیم ؑ کے بھتیجے تھے۔ اصلاً یہ عراق کے رہنے والے تھے، انھیں جن بستیوں کی طرف مبعوث کیا گیا ان کا صدر مقام سدوم تھا، اس کے رہنے والوں کو لوط کی قوم اس لیے کہا گیا کہ وہ ان میں جا کر آباد ہوگئے تھے۔ ممکن ہے ان کی بیوی بھی انھی میں سے ہو۔ اگلی آیت میں لوط ؑ کو ان کا بھائی اسی مناسبت سے کہا گیا ہے، ورنہ ان کا ان سے نسبی رشتہ نہیں تھا۔ اسی لیے جب ان کی قوم کے بدمعاش ان کے مہمانوں کی بےعزتی پر تل گئے تو انھوں نے کہا : (قَالَ لَوْ اَنَّ لِيْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِيْٓ اِلٰي رُكْنٍ شَدِيْدٍ) [ ھود : 80 ] ”کاش ! واقعی میرے پاس تمہارے مقابلہ کی کچھ طاقت ہوتی، یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لیتا۔“ تفصیل سورة اعراف (80 تا 84) ، ہود (77 تا 83) اور حجر (61 تا 77) میں دیکھیے۔
Ayahs 26:162–1643 ان آیات کی تفسیر آیت (107 تا 109) کے تحت گزر چکی ہے۔
Ayah 26:165اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِيْنَ : اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ سارے جہانوں میں سے تم نے مردوں کو اس کام کے لیے چن لیا ہے کہ ان سے خواہش نفس پوری کرو، حالانکہ دنیا میں عورتیں بہت ہیں۔ دوسرا یہ کہ دنیا بھر میں تم ہی ایسے لوگ ہو جو شہوت پوری کرنے کے لیے مردوں کے پاس جاتے ہو، تم سے پہلے کسی نے یہ خسیس حرکت نہیں کی۔ اس مفہوم کی صراحت سورة عنکبوت میں اس طرح آئی ہیں : (اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ ۡ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ) [ العنکبوت : 28 ] ”بیشک تم یقیناً اس بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے جہانوں میں سے کسی نے نہیں کی۔“
Ayah 26:166وَتَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ۔۔ : اس آیت کے بھی دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے جو بیویاں اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے پیدا کی ہیں انھیں چھوڑ کر مردوں کے پاس جاتے ہو۔ اس صورت میں ”مَا“ بیانیہ ہے، ترجمہ اسی کے مطابق کیا گیا ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ تمہاری بیویوں میں سے جو کچھ تمہارے رب نے تمہارے لیے پیدا کیا ہے اسے چھوڑ دیتے ہو ؟ یعنی قبل کے بجائے غیر فطری وضع سے شہوت پوری کرتے ہو۔ اس صورت میں ”مَا“ تبعیض کے لیے ہے۔ بعید نہیں کہ وہ لوگ یہ حرکت اولاد سے بچنے کے لیے کرتے ہوں۔
بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ : یعنی صرف اسی کام میں نہیں بلکہ ہر کام میں حد سے گزرنا تمہاری عادت بن چکی ہے، جیسا کہ فرمایا : (اَىِٕنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَتَقْطَعُوْنَ السَّبِيْلَ ڏوَتَاْتُوْنَ فِيْ نَادِيْكُمُ الْمُنْكَرَ) [ العنکبوت : 29 ] ”کیا بیشک تم واقعی مردوں کے پاس آتے ہو اور راستہ کاٹتے ہو اور اپنی مجلس میں برا کام کرتے ہو ؟“ ہمارے عہد میں یورپی لوگ فطرت کی مخالفت میں اس قدر حد سے گزر گئے ہیں کہ انھوں نے قانوناً قوم لوط کے عمل کو جائز قرار دے دیا ہے اور مردوں کا مردوں کے ساتھ نکاح کرنے لگے ہیں۔ اگرچہ نئی سے نئی بیماریوں کی صورت میں اللہ کے عذاب کا کوڑا ان پر برس رہا ہے، تاہم بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر ایسا عذاب بھیجے جو دنیا کے لیے باعث عبرت ہو۔
Ayah 26:167قَالُوْا لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ يٰلُوْطُ۔۔ : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کا شیوہ تھا کہ جو ان کی مرضی کے خلاف بات کرے اسے عبرت ناک طریقے سے ذلیل و خوار کرکے نکال دیتے تھے۔ اس لیے انھوں نے پہلے نکالے جانے والوں کے انجام کا حوالہ دے کر کہا کہ ہم تمہیں بھی ان میں شامل کردیں گے۔
3 بقاعی نے فرمایا، وہ لوگ لوط ؑ کو اپنی بستی سے ذلیل کر کے نکالنا چاہتے تھے، جبکہ اللہ تعالیٰ انھیں اس بستی سے باعزت طریقے سے نکالنے والا تھا، پھر وہی ہوا جو اللہ چاہتا تھا کیونکہ : (وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰٓي اَمْرِهٖ) [ یوسف : 21 ]”اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے۔“
Ayah 26:168قَالَ اِنِّىْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِيْنَ : ”الْقَالِيْنَ“ ”اَلْقَالِيْ“ کی جمع ہے جو ”قَلٰی یَقْلِيْ“ سے اسم فاعل ہے، جس کا معنی شدید نفرت اور دشمنی بھی ہے اور گوشت بھوننا بھی۔ لوط ؑ نے فرمایا کہ میں تمہیں منع کرنے سے کیسے باز آسکتا ہوں، جب کہ میں تمہارے اس کام سے شدید دشمنی رکھنے والوں میں سے ہوں، اتنی شدید کہ اس سے میرا دل جلتا ہے۔
Ayah 26:169رَبِّ نَجِّنِيْ وَاَهْلِيْ مِمَّا يَعْمَلُوْنَ : یعنی کفار پر ان اعمال کا وبال اور عذاب نازل فرما اور ہمیں ان کے اعمال بد کی نحوست اور وبال سے محفوظ رکھ۔
Ayahs 26:170–1733 ان آیات کی تفسیر اس مقام پر لوط ؑ کے قصے کے شروع میں دیے ہوئے حوالہ جات میں ملاحظہ فرمائیں۔
Ayahs 26:174–1753 ان آیات کی تفسیر آیت (8، 9) کے تحت گزر چکی ہے۔
Ayahs 26:176–177كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْــــَٔــيْكَةِ الْمُرْسَلِيْنَ۔۔ : ”اَلْءَیْکَۃُ“ درختوں کے جھنڈ کو کہتے ہیں، یہ جھنڈ مدین کے اردگرد واقع تھے۔ شعیب ؑ مدین والوں اور اصحاب الایکہ دونوں کی طرف مبعوث تھے، مگر چونکہ ان کی رہائش مدین میں تھی اور ان کا نسبی تعلق بھی اہل مدین سے تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے تمام پیغمبروں کا انتخاب بستیوں میں رہنے والے سے کیا ہے (دیکھیے یوسف : 109) اس لیے مدین کے ذکر میں شعیب ؑ کو ان کا بھائی قرار دیا، جیسا کہ فرمایا : (وَاِلٰي مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا) [ الأعراف : 85 ] ”اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔“ جب کہ اصحاب الایکہ کے ذکر میں فرمایا : (اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ) [ الشعراء : 177 ] ”جب شعیب نے ان سے کہا“ اس سے معلوم ہوا کہ شعیب ؑ ان کی طرف مبعوث تو تھے مگر نسب یا سسرال یا ان میں رہائش کا کوئی ایسا تعلق نہ تھا کہ انھیں ان کا بھائی کہا جاتا۔ (التحریر والتنویر)
ابن کثیر ؓ نے فرمایا : ”صحیح بات یہ ہے کہ اصحاب الایکہ اہل مدین ہی ہیں، دونوں کو ماپ تول پورا کرنے کی نصیحت کی گئی۔ انھیں اصحاب الایکہ اس لیے فرمایا کہ ”الایکہ“ ایک درخت تھا یا درختوں کا جھنڈ تھا، جس کی وہ پرستش کرتے تھے۔ جب مدین (شہر یا قوم) کا ذکر فرمایا تو شعیب ؑ کو ان کا بھائی فرمایا، لیکن جب ان کی نسبت شجر پرستی کی طرف کی تو فرمایا : (اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ) ”جب شعیب نے ان سے کہا“ یعنی اخوت کا تعلق ختم کردیا۔“
Ayahs 26:178–1803 ان آیات کی تفسیر اسی سورت کی آیات (107 تا 109) کے تحت گزر چکی ہے۔
Ayahs 26:181–183اَوْفُوا الْكَيْلَ وَلَا تَكُوْنُوْا۔۔ : ان کی ماپ تول میں کمی بیشی، زمین میں فساد اور رہزنی کا ذکر سورة اعراف (85، 86) میں گزر چکا ہے۔ شعیب ؑ کے قصے کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (85 تا 93) ، ہود (84 تا 95) اور عنکبوت (36، 37) بعض لوگوں نے مدین کے اس بزرگ کو شعیب ؑ قرار دیا ہے جس کے پاس موسیٰ ؑ نے دس سال گزارے تھے، مگر یہ بات بالکل بےاصل ہے، ”مدین“ کے ہر بزرگ کا شعیب ؑ ہونا ضروری نہیں۔
Ayah 26:184وَاتَّقُوا الَّذِيْ خَلَقَكُمْ وَالْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِيْنَ : شعیب ؑ نے گفتگو کا آغاز ”اَلَا تَتَّقُوْنَ“ سے کیا تھا، اب اسی تقویٰ کی تاکید کے لیے فرمایا کہ اپنے اس رب سے ڈرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلی نسلوں کو پیدا فرمایا۔ اس نے اگر تمہیں پیدا کیا ہے تو ملیا میٹ بھی کرسکتا ہے۔ اس میں توحید کی بھی تلقین ہے کہ جب پیدا کرنے میں اس کا کوئی شریک نہیں تو عبادت میں اس کے لیے شریک کیوں بناتے ہو۔ امت مسلمہ کو بھی اللہ تعالیٰ نے اسی دلیل کے ساتھ اپنی عبادت کا حکم دیا، فرمایا : (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ) [ البقرۃ : 21 ] ”اے لوگو ! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا اور ان لوگوں کو بھی جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم بچ جاؤ۔“
Ayahs 26:185–186قَالُوْٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِيْنَ۔۔ : یہ وہی جواب ہے جو قوم ثمود نے صالح ؑ کو دیا تھا۔
وَاِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِيْنَ : یہ ”اِنْ“ اصل میں ”إِنَّ“ ہے جس کا اسم ”نَا“ محذوف ہے : ”أَيْ وَ إِنَّا لَنَظُنُّکَ مِنَ الْکَاذِبِیْنَ“ یعنی ہمارا گمان تمہارے جھوٹے ہونے کے سوا کہیں جاتا ہی نہیں۔
Ayah 26:187فَاَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَاۗءِ : ”كِسَفًا“ ”کِسْفَۃٌ“ کی جمع ہے، جیسے ”قِطْعَۃٌ“ کی جمع ”قِطَعٌ“ ہے۔ ”کسفا“ کا معنی ہے ٹکڑے۔
Ayah 26:188قَالَ رَبِّيْٓ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ : شعیب ؑ نے جواب دیا کہ عذاب لانا یا آسمان سے ٹکڑے گرانا میرا کام نہیں، میرے رب کا کام ہے، کیونکہ وہی خوب جانتا ہے کہ تم کیا کرتے ہو، تم پر عذاب آنا ہے یا نہیں اور آنا ہے تو تمہارے اعمال کے مطابق کب آنا ہے اور کس قدر آنا ہے ؟ میرا کام متنبہ کرنا تھا وہ میں نے کردیا۔ شعیب ؑ کے اس واقعہ میں قریش کے لیے بھی تنبیہ ہے، کیونکہ وہ بھی رسول اللہ ﷺ سے یہ مطالبے کرتے تھے : (اَوْ تُسْقِطَ السَّمَاۗءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِيَ باللّٰهِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ قَبِيْلًا) [ بني إسرائیل : 92 ] ”یا آسمان کو ٹکڑے کر کے ہم پر گرا دے، جیسا کہ تونے دعویٰ کیا ہے، یا تو اللہ اور فرشتوں کو سامنے لے آئے۔“
Ayah 26:189فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ۔۔ : اس عذاب کی کوئی تفصیل قرآن مجید یا کسی صحیح حدیث میں نہیں آئی۔ ظاہر الفاظ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے کچھ ٹکڑے گرانے کے مطالبے کے جواب میں ان پر بادل کا ایک سائبان بھیج دیا، جس سے ایسا عذاب برسا کہ وہ تباہ و برباد ہوگئے۔ اس عذاب کی حقیقت اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، مگر خود اللہ تعالیٰ نے اس سوال کا جواب دیا کہ وہ کس قسم کا عذاب تھا، فرمایا یقیناً وہ ایک عظیم دن کا عذاب تھا۔ جب وہ دن عظیم تھا تو اس میں اترنے والے عذاب کی عظمت کا خود اندازہ کرلو۔
3 یہ آیت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ”اصحاب مدین“ اور ”اصحاب الایکہ“ الگ الگ قومیں تھیں، کیونکہ اصحاب الایکہ پر ”يَوْمِ الظُّلَّةِ“ کا عذاب آیا، جب کہ اصحاب مدین پر زلزلے اور صیحہ (چیخ) کا عذاب آیا تھا، جیسا کہ فرمایا : (فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ) [ الأعراف : 78 ] ”تو انھیں زلزلے نے پکڑ لیا تو انھوں نے اپنے گھر میں اس حال میں صبح کی کہ گرے پڑے تھے۔“ اور فرمایا : (وَاَخَذَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دِيَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ) [ ھود : 67] ”اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا انھیں چیخ نے پکڑ لیا، تو انھوں نے اپنے گھروں میں اس حال میں صبح کی کہ گرے پڑے تھے۔“
بعض مفسرین نے سائبان کے عذاب کی تفصیل یہ بیان کی ہے کہ ”اصحاب الایکہ“ پر پہلے سات دن تک سخت لو چلتی رہی، جس سے ان کے بدن پک گئے، چشموں اور کنووں کا پانی سوکھ گیا۔ وہ گھبرا کر جنگل کی طرف نکلے، وہاں دھوپ کی شدت اور نیچے سے گرم زمین نے ان کے پاؤں کی کھال اتار دی، پھر ایک سیاہ بادل سائبان کی شکل میں نمودار ہوا، وہ سارے کے سارے خوشی کے مارے اس کے سائے میں جمع ہوگئے، اس وقت اچانک بادل سے آگ برسنا شروع ہوئی جس سے سب ہلاک ہوگئے۔ مگر ہم مفسرین کی اس تفصیل کو نہ سچا کہتے ہیں نہ جھوٹا، کیونکہ یہ نہ قرآن مجید سے ثابت ہے نہ صحیح حدیث سے۔
Ayahs 26:190–191اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً۔۔ : اس سورت میں سات انبیاء کے واقعات میں سے ہر ایک کے آخر میں یہ الفاظ آئے ہیں، ان سے مقصود نبی کریم ﷺ کو تسلی دینا اور جھٹلانے والوں کو متنبہ کرنا ہے کہ ان میں سے ہر واقعہ میں ایک عظیم نشانی ہے کہ اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے۔ بار بار دہرانے سے بات زیادہ مؤثر ہوجاتی ہے۔
Ayah 26:192وَاِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ : شروع سورت میں تمہیداً قرآن کے ذکر سے مقصود رسول اللہ ﷺ کی رسالت و نبوت کو ثابت کرنا تھا، پھر جھٹلانے والوں کو دھمکی دی اور اس سلسلہ میں انبیاء کے سات قصے بیان فرمائے، تاکہ آپ ﷺ کو تسلی ہو اور آپ کو جھٹلانے والے عبرت حاصل کریں۔ اب یہاں سے پھر رسالت کا اثبات شروع کیا اور آپ کی نبوت کے حق ہونے کے دلائل اور کفار کے شبہات کے جواب آخر سورت تک چلے گئے ہیں۔ (کبیر، قرطبی)
”تَنْزِیْلٌ“ مصدر ہے جو اسم مفعول کے معنی میں ہے، نازل کیا ہوا۔ کفار قرآن کے وحی الٰہی ہونے کا انکار کرتے تھے، اس لیے وہ نبی ﷺ کی رسالت کے بھی منکر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کا آغاز یہ کہہ کر فرمایا کہ یہ کتاب مبین کی آیات ہیں، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے لیے اور کفار کو کفر کے انجام بد سے ڈرانے کے لیے انبیائے کرام ؑ کے سات قصّے بیان فرمائے، جو اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ یہ قرآن یقیناً وحی الٰہی ہے اور آپ ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں، کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ رسول، جو نہ پڑھ سکتا ہے نہ لکھ سکتا ہے، گزشتہ انبیاء اور قوموں کے واقعات کیسے بیان کرسکتا تھا۔ بلاغت کا قاعدہ ہے کہ انکار جتنا شدید ہو بات اتنی ہی تاکید سے کی جاتی ہے۔ اس لیے نہایت تاکید کے ساتھ فرمایا کہ بیشک یہ یقیناً رب العالمین کا نازل کیا ہوا ہے، نہ محمد ﷺ نے اسے خود تصنیف کیا ہے، نہ کسی اور انسان یا جن کا گھڑا ہوا ہے۔
Ayah 26:193نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ : ”الرُّوْحُ“ سے مراد فرشتہ ہے، اسے ”روح“ اس لیے کہا گیا ہے کہ فرشتے عالم اجسام کے بجائے عالم ارواح سے تعلق رکھتے ہیں۔ (ابن عاشور) ”الْاَمِيْنُ“ نہایت امانت دار، اس سے مراد جبریل ؑ ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں انبیاء تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے امین قرار دیا ہے۔ ان کی یہ صفت اور دوسری صفات سورة تکویر (19 تا 21) میں ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 26:194عَلٰي قَلْبِكَ : دوسری جگہ فرمایا : (قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ) [ البقرۃ : 97 ] ”کہہ دے جو کوئی جبریل کا دشمن ہو تو بیشک اس نے یہ کتاب تیرے دل پر اللہ کے حکم سے اتاری ہے۔“ یعنی اس قرآن مجید کو جبریل ؑ نے کانوں کے ذریعے سے آپ کو سنانے کے بجائے آپ کے دل پر نازل کیا ہے۔ اگرچہ کانوں نے بھی دل ہی کو بات پہچانی ہے، مگر بلاواسطہ دل پر نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اسے سمجھنے میں اور یاد رکھنے میں کوئی کمی نہ رہے، جیسا کہ فرمایا : (سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰٓى اِلَّا مَا شَاۗءَ اللّٰهُ) [ الأعلٰی : 6، 7 ] ”ہم ضرور تجھے پڑھائیں گے تو تو نہیں بھولے گا، مگر جو اللہ چاہے۔“ اور دیکھیے سورة قیامہ (16 تا 19)۔
لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ : یہ کہنے کے بجائے کہ ”تاکہ تو ڈرانے والا بن جائے“ فرمایا ”تاکہ تو انبیاء و رسل کی عظیم الشان جماعت میں شامل ہوجائے“ کیونکہ اس میں آپ کی زیادہ عظمت کا اظہار ہے۔ اگرچہ رسول ”نذیر“ بھی ہوتے ہیں اور ”بشیر“ بھی، مگر یہاں ”منذر“ ہونے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ اس سورت کا سارا بیان ہی انبیاء کے اپنی اقوام کو ڈرانے پر مشتمل ہے اور جیسا کہ پہلے گزرا کہ جب تک کسی شخص یا قوم کو اپنے غلط راستے پر چلنے کے خوفناک نتائج سے آگاہ نہ کیا جائے اس کا راہ راست پر آنا مشکل ہوتا ہے، اس لیے ہر پیغمبر نے اپنی بات کا آغاز ”اَلَا تَتَّقُوْنَ“ سے فرمایا۔
Ayah 26:195بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ : معلوم ہوا کہ نبی ﷺ پر صرف قرآن مجید کے مفہوم و معانی نازل نہیں ہوئے کہ آپ نے انھیں الفاظ کا جامہ پہنایا ہو، بلکہ یہ عربی زبان کے الفاظ کی صورت میں آپ پر نازل ہوا ہے۔ بعض لوگ اللہ تعالیٰ کے الفاظ کے ساتھ کلام کرنے کے منکر ہیں، یہ آیت اور دوسری بہت سی آیات ان کا رد کرتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ عربی زبان میں اللہ تعالیٰ کا معجز کلام ہے جو اللہ تعالیٰ کا امتیاز ہے، ساری مخلوق جمع ہو کر بھی صرف معانی ہی نہیں اس کے الفاظ کی مثال لانے سے بھی عاجز ہے۔
مُّبِيْنٍ : یعنی منکرین کا اس پر ایمان نہ لانا اس کے بیان میں کسی خامی کی وجہ سے نہیں بلکہ خود ان کی نااہلی یا ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہے، کیونکہ یہ تمام زبانوں سے فصیح زبان عربی میں ہے اور اس عربی میں جو معمے یا پہیلی کی زبان نہیں بلکہ ”عربی مبین“ ہے، اس میں کوئی ایسا لفظ یا ایسی ترکیب نہیں جو عرب میں کثرت سے مستعمل نہ ہو، یا معنی کی ادائیگی میں اس کے اندر کوئی کمی ہو۔ جو لوگ اس پر ایمان نہیں لا رہے ان کے پاس یہ عذر ہرگز نہیں کہ ہم اسے سمجھ نہیں سکے۔
Ayah 26:196وَاِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ :”زُبُرِ“ ”زَبُوْرٌ“ کی جمع ہے، جس کا معنی کتاب ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوْهُ فِي الزُّبُرِ) [ القمر : 52 ] ”اور ہر چیز جسے انھوں نے کیا، وہ دفتروں میں درج ہے۔“ اس آیت میں دو مفہوم شامل ہیں، ایک یہ کہ اس قرآن میں جو احکام و تعلیمات ہیں وہ پہلے انبیاء و رسل کی کتابوں میں بھی موجود ہیں۔ سب کتابیں اللہ کی توحید، آخرت، اس کے رسولوں پر ایمان اور ان کی اطاعت کے حکم پر مشتمل ہیں اور سب میں شرک اور اللہ اور اس کے رسولوں کی نافرمانی سے منع کیا گیا ہے، لہٰذا یہ کتاب کوئی انوکھی یا پہلی کتابوں سے الگ تعلیمات پر مشتمل نہیں ہے۔
دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اس قرآن کا تذکرہ پہلی کتابوں میں بھی موجود ہے، کیونکہ ان میں واضح الفاظ میں اس قرآن کو لانے والے پیغمبر کی آمد کی بشارت دی گئی ہے، جیسا کہ فرمایا : (الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ) [ الأعراف : 157 ] ”وہ جس کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔“ اور عیسیٰ ؑ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا : (وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ يَّاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِي اسْمُهٗٓ اَحْمَدُ) [ الصف : 6 ] ”اور میں ایک رسول کی بشارت دیتا ہوں جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہے۔“ تورات و انجیل کے حوالوں کے لیے مذکورہ بالا آیات کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 26:197اَوَلَمْ يَكُنْ لَّهُمْ اٰيَةً۔۔ : یعنی کیا مشرکین مکہ کے یہ جاننے کے لیے کہ قرآن واقعی اللہ کی طرف سے نازل شدہ اور پہلی کتابوں میں مذکور ہے اور یہ کہ محمد ﷺ نبی آخر الزماں ہیں، یہ بات کافی نہیں کہ بنی اسرائیل کے علماء اس سے واقف ہیں، جیسا کہ ان حضرات کی شہادت سے معلوم ہوا جو ان میں سے ایمان لائے، مثلاً عبداللہ بن سلام اور سلمان فارسی ؓ اور جیسا کہ ان میں سے بعض علانیہ اور بعض اپنی خصوصی مجلسوں میں اس کا ذکر کرتے ہیں، گو اپنی بعض مصلحتوں کی وجہ سے ایمان نہیں لائے۔ اہل کتاب کی شہادت مشرکین مکہ کے ہاں اس لیے حجت قرار پاتی ہے کہ وہ پچھلی کتابوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے انھی کی طرف رجوع کرتے تھے اور جو بات وہ کہتے تھے اسے صحیح تسلیم کرتے تھے۔ نجاشی اور اس کے درباریوں نے جعفر ؓ سے سورة مریم کی آیات سن کر ان کے حق ہونے کا برملا اقرار کیا تھا۔ دیکھیے سورة مائدہ (83) ، مزید دیکھیے قصص (52، 53) آیت میں لفظ ”اٰیَةً“ ”لَمْ یَکپنْ“ کی خبر ہے اور ”اَنْ یَّعْلَمَه۔۔“ ب تاویل مصدر اس کا اسم مؤخر ہے۔ (قرطبی، شوکانی)