26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 26:78

الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَهُوَ یَهْدِیْنِۙ Open ayah 26:78 in the Quran reader

وہ جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔

الَّذِيْ خَلَقَنِيْ فَهُوَ يَهْدِيْنِ : ”يَهْدِيْنِ“ اصل میں ”یَھْدِیْنِيْ“ ہے، آیات کے آخری حروف کی موافقت کے لیے یاء حذف کردی گئی ہے، نون کا کسرہ اس کی دلیل ہے۔ آئندہ آیات کے اندر ”يَسْقِيْنِ“ ، ”يَشْفِيْنِ“ اور ”يُحْيِيْنِ“ میں بھی یاء محذوف ہے۔ یہاں سے ابراہیم ؑ نے رب العالمین کی وہ صفات بیان کی ہیں جن کی وجہ سے وہ عبادت کا حق دار ہے، یعنی ”رب العالمین“ وہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔ یہاں ”الَّذِيْ خَلَقَنِيْ“ (وہ جس نے مجھے پیدا کیا) کے بعد ”فَهُوَ يَهْدِيْنِ“ (پھر وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے) حصر کے ساتھ ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ پیدا کرنے کا دعویٰ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے متعلق موجود ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق کہا جائے کہ اسی نے مجھے پیدا کیا ہے، جبکہ ہدایت کا دعویٰ بہت سی ہستیوں کے متعلق ہے، اس لیے فرمایا کہ پھر وہی مجھے ہدایت دیتا ہے، اور کوئی نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تم مانتے ہو کہ اس نے پیدا کیا تو مانو کہ ہدایت بھی وہی دیتا ہے۔ ”الَّذِيْ خَلَقَنِيْ“ (جس نے مجھے پیدا کیا) ماضی کے ساتھ ہے، کیونکہ پیدا تو وہ کرچکا، جبکہ ”فَهُوَ يَهْدِيْنِ“ (پھر وہ مجھے راستہ دکھاتا ہے) مضارع ہے، کیونکہ ہدایت کی ضرورت ہر ہر لمحے میں ہے اور وہ ہر لمحے مجھے ہدایت دیتا ہے۔ پیدائش کے بعد سب سے زیادہ اہم ہدایت ہے، اس لیے ان دونوں کا ذکر سب سے پہلے فرمایا۔
Ayah 26:79

وَ الَّذِیْ هُوَ یُطْعِمُنِیْ وَ یَسْقِیْنِۙ Open ayah 26:79 in the Quran reader

اور وہی جو مجھے کھلاتا ہے اور مجھے پلاتا ہے۔

وَالَّذِيْ هُوَ يُطْعِمُنِيْ وَيَسْقِيْنِ : یہ دونوں صفات بھی حصر کے ساتھ ہیں کہ وہی مجھے کھلاتا ہے اور مجھے پلاتا ہے، اور کوئی نہیں۔ یہاں بھی حصر کی ضرورت اس لیے ہے کہ لوگوں نے اور بھی داتا اور رزاق بنا رکھے ہیں۔ یہ ”رب العالمین“ ہونے کی تیسری وجہ ہے کہ اس نے پیدا کرکے مجھے چھوڑ نہیں دیا، بلکہ میری ضرورت کی ہر چیز مجھے مہیا کرتا ہے۔
Ayah 26:80

وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ۪ۙ Open ayah 26:80 in the Quran reader

اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔

وَاِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ : یعنی وہی ہے جو مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے، مگر میں جب اس کھانے پینے میں حد اعتدال سے گزر کر بیمار ہوتا ہوں، یا اپنی کسی اور غلطی کی وجہ سے بیمار ہوتا ہوں تو وہی ہے جو پھر مجھے شفا دے دیتا ہے۔ یہ پچھلی آیت کے ساتھ ایک لطیف مطابقت ہے۔ بعض طبیبوں کا کہنا ہے کہ اگر مردوں سے پوچھا جائے، تمہاری موت کا سبب کیا ہوا تو اکثر یہی کہیں گے کہ زیادہ کھانے سے، بدہضمی سے۔ 3 اگرچہ بیماری اور شفا دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں، مگر ابراہیم ؑ نے یہاں بیمار ہونے کی نسبت اپنی طرف کی ہے کہ ”جب میں بیمار ہوتا ہوں“ اور شفا دینے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی ہے کہ ”فَهُوَ يَشْفِيْنِ“ (تو وہی مجھے شفا دیتا ہے) ، اس میں ابراہیم ؑ نے اللہ تعالیٰ کا ادب ملحوظ رکھا ہے کہ خیر و شر دونوں کا خالق ہونے کے باوجود شر کی نسبت اس کی طرف نہ کی جائے، جیسا کہ صحیح مسلم (771) کی ایک حدیث میں ہے : (وَالشَّرُّ لَیْسَ إِلَیْکَ) اور جیسا کہ سورة فاتحہ میں ”اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ“ میں انعام کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے، مگر ”اَلْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ“ میں ”غضب“ اور ”ضلالت“ کی نسبت اس کی طرف نہیں ہے اور سورة کہف (79 تا 82) میں خضر ؑ نے تینوں واقعات کی تاویل بیان کرتے وقت اس ادب کو خوب ملحوظ رکھا ہے اور سورة جن (10) میں جنوں نے بھی اس ادب کو ملحوظ رکھا ہے۔ ”فَهُوَ يَشْفِيْنِ“ میں بھی حصر ہے کہ وہی مجھے شفا دیتا ہے، کوئی اور نہیں، کیونکہ اور بھی بیشمار ہستیاں ہیں جن کو لوگوں نے شفا دینے والے سمجھ رکھا ہے۔
Ayah 26:81

وَ الَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِۙ Open ayah 26:81 in the Quran reader

اور وہ جو مجھے موت دے گا، پھر مجھے زندہ کرے گا۔

وَالَّذِيْ يُمِيْـتُـنِيْ ثُمَّ يُحْيِيْنِ : یہ دونوں حصر کے بغیر ہیں، کیونکہ ان میں حصر کی ضرورت نہیں تھی کہ کہا جائے وہی مجھے موت دے گا اور وہی مجھے زندہ کرے گا، کیونکہ سب مانتے ہیں کہ مارنا یا زندہ کرنا صرف ”رب العالمین“ کا کام ہے، اور کسی کا یہ دعویٰ ہی نہیں۔ ابراہیم ؑ کے دور کے جبار نے جو کہا تھا : (اَنَا اُحْیٖ وَاٗمِیْت) [ البقرۃ : 258 ] (میں زندگی بخشتا اور موت دیتا ہوں) وہ محض اس کی ڈھٹائی اور بےشرمی تھی، اس کے دعوے کو کسی نے وقعت ہی نہیں دی۔
Ayah 26:82

وَ الَّذِیْۤ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِیْٓئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ Open ayah 26:82 in the Quran reader

اور وہ جس سے میں طمع رکھتا ہوں کہ وہ جزا کے دن مجھے میری خطا بخش دے گا۔

وَالَّذِيْٓ اَطْمَــعُ اَنْ يَّغْفِرَ لِيْ خَطِيْۗـــــَٔــتِيْ يَوْمَ الدِّيْنِ : یعنی قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ عدالت قائم فرمائے گا تو وہاں کسی کی عدالت، حاکمیت یا سلطنت نہیں ہوگی، نہ اس کے فیصلوں میں کسی کا کوئی دخل ہوگا، نہ اس کے سوا کوئی کسی کے گناہ معاف کرسکے گا، جیسا کہ فرمایا : (وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ) [ آل عمران : 135 ]”اور اللہ کے سوا اور کون گناہ بخشتا ہے ؟“ چونکہ میں اس کا موحد بندہ ہوں، میں نے اس کے ساتھ شرک نہیں کیا، اس لیے میں اس سے امید رکھتا ہوں کہ اس دن وہ میری خطائیں معاف فرمائے گا۔ اس میں ابراہیم ؑ کی تواضع اور ان کا انکسار بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے جلال اور اس کی بےپروائی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی امید کا اظہار کیا ہے۔ ابراہیم ؑ نے یہ صفات اس لیے بیان فرمائیں کہ مشرکین کو مطمئن کرسکیں کہ عبادت صرف اس ”رب العالمین“ کا حق ہے جو ان صفات کا مالک ہے۔ دوسرے معبود جو نہ پیدا کرسکیں، نہ رہنمائی کرسکیں، نہ کھانے کو دے سکیں، نہ پینے کو، نہ شفا کے مالک ہوں، نہ موت و حیات کے، نہ قیامت برپا کرسکتے ہوں، نہ عدالت قائم کرسکتے ہوں، وہ عبادت کے حق دار کیسے ہوسکتے ہیں ؟
Ayah 26:83

رَبِّ هَبْ لِیْ حُكْمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 26:83 in the Quran reader

اے میرے رب ! مجھے حکم عطا کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا۔

رَبِّ هَبْ لِيْ حُكْمًا : اللہ تعالیٰ کی تعریف اور اس کی صفات بیان کرنے کے بعد ابراہیم ؑ نے اللہ کی بارگاہ میں چند دعائیں کی ہیں۔ اس میں دعا کا ادب ملحوظ رکھا گیا ہے اور اس کا سلیقہ سکھایا گیا ہے کہ دعا سے پہلے اللہ تعالیٰ کی تعریف جس قدر ہو سکے کرو، پھر اپنی عرض داشت پیش کرو۔ سورة فاتحہ میں بھی یہی سبق سکھایا گیا ہے۔ 3 حُکْم کا معنی فیصلہ ہے، یعنی پروردگار ! فیصلے کے لیے جو چیزیں درکار ہیں وہ سب مجھے عطا کر، یعنی اپنے دین کا پورا علم جس سے صحیح فیصلہ ہوتا ہے، پھر ہر معاملے کا صحیح فہم، پھر وہ اقتدار جس کے ساتھ فیصلہ نافذ ہوتا ہے۔ وَّاَلْـحِقْنِيْ بالصّٰلِحِيْنَ : یعنی دنیا میں بھی صالح دوستوں اور ساتھیوں کی رفاقت عطا فرما اور آخرت میں بھی انھی کے ساتھ ملا دے۔ یوسف ؑ نے بھی یہ دعا کی : (تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِيْ بالصّٰلِحِيْنَ) [ یوسف : 101 ] ”مجھے مسلم ہونے کی حالت میں فوت کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے۔“ اور ہمارے نبی کریم ﷺ نے بھی آخری وقت دعا کی تھی : (اَللّٰھُمَّ فِي الرَّفِیْقِ الْأَعْلٰی) ”(اے اللہ !) مجھے سب سے بلند رفیقوں میں شامل فرما دے۔“ آپ ﷺ نے یہ دعا تین دفعہ کی۔ [ بخاري، فضائل أصحاب النبي ﷺ ، باب : 3669، 4437 ]
Ayah 26:84

وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 26:84 in the Quran reader

اور پیچھے آنے والوں میں میرے لیے سچی ناموری رکھ۔

وَاجْعَلْ لِّيْ لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْاٰخِرِيْنَ۔۔ : ”لِسَانَ“ سے مراد تعریف ہے، کیونکہ وہ زبان سے ہوتی ہے۔ ”لِسَانَ صِدْقٍ“ سے مراد اچھی تعریف اور نیک شہرت ہے، یعنی قیامت تک آنے والی نسلوں میں مجھے سچی ناموری عطا فرما کہ وہ اچھے الفاظ میں میرا ذکر کرتی رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی، یہودی، عیسائی اور مسلمان سب انھیں اپنا پیشوا مانتے ہیں اور ان کا ذکر خیر کرتے ہیں۔ مسلمان تو نماز میں ”کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ“ اور ”کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ“ بھی کہتے ہیں۔ [ دیکھیے بخاري : 3370 ] امام مالک ؓ نے اس آیت سے استدلال فرمایا کہ آدمی کی اس خواہش میں کوئی حرج نہیں کہ اس کی نیک شہرت ہو۔ بعض اہل علم نے فرمایا کہ اس کا فائدہ آخرت میں یہ ہے کہ ممکن ہے کہ نیک اعمال میں اس کی شہرت سن کر کوئی شخص وہ اعمال کرنے لگے جس کا اجر اسے بھی ملے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً فَعُمِلَ بِھَا بَعْدَہُ کُتِبَ لَہُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِھَا وَلَا یَنْقَصُ مِنْ أُجُوْرِھِمْ شَيْءٌ) [ مسلم، العلم، باب من سن سنۃ حسنۃ۔۔ : 15؍1017، قبل ح : 2674، عن جریر بن عبداللہ ؓ ] ”جو شخص اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کرے، پھر اس کے بعد اس پر عمل کیا جائے، تو اس کے لیے ان لوگوں جیسا اجر لکھا جائے گا جو اس پر عمل کریں گے اور ان کے اجروں سے کچھ کم نہیں کیا جائے گا۔“ بعض مفسرین نے اس سے یہ بھی مراد لیا ہے کہ آخر زمانے میں میری نسل سے نبی ہو، جیسا کہ فرمایا : (رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ) [ البقرۃ : 129 ] ”اے ہمارے رب ! اور ان میں انھی میں سے ایک رسول بھیج۔“ مگر اس دعا کے الفاظ سے یہ مفہوم نہیں نکلتا۔
Ayah 26:85

وَ اجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 26:85 in the Quran reader

اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں سے بنا۔

وَاجْعَلْنِيْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيْمِ : ”وَّرَثَةِ“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة مومنون کی آیت (11) پچھلی آیت میں دنیا کی سعادت مانگی اور اس آیت میں آخرت کی سعادت طلب کی۔
Ayah 26:86

وَ اغْفِرْ لِاَبِیْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَۙ Open ayah 26:86 in the Quran reader

اور میرے باپ کو بخش دے، یقینا وہ گمراہوں میں سے تھا۔

وَاغْفِرْ لِاَبِيْٓ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّاۗلِّيْنَ : ابراہیم ؑ نے اپنے باپ سے رخصت ہوتے وقت استغفار کی دعا کا وعدہ کیا تھا (مریم : 47) چناچہ انھوں نے یہ دعا فرمائی۔ زندگی میں دعا کا حاصل یہ ہے کہ اسے توبہ کی توفیق بخش، تاکہ اس کے گناہ معاف ہوجائیں اور وفات کے بعد ہو تو اس کے شرک اور دوسرے گناہ معاف کرنے کی دعا ہے، لیکن بعد میں جب انھیں معلوم ہوا کہ ایک مشرک اور دشمن حق کے لیے دعائے مغفرت کرنا صحیح نہیں ہے تو انھوں نے اس دعا سے رجوع کرلیا، جیسا کہ سورة توبہ میں ہے : (ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَهٗٓ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ) [ التوبۃ : 114 ] ”پھر جب اس کے لیے واضح ہوگیا کہ بیشک وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بےتعلق ہوگیا۔“
Ayah 26:87

وَ لَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَۙ Open ayah 26:87 in the Quran reader

اور مجھے رسوا نہ کر، جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔

وَلَا تُخْزِنِيْ يَوْمَ يُبْعَثُوْنَ : یعنی قیامت کے دن تمام مخلوق کے سامنے میرا مؤاخذہ کرکے، یا میرے والد کو عذاب دے کر مجھے رسوا نہ کر کہ لوگ اسے جہنم میں جلتا ہوا دیکھ کر کہیں یہ ابراہیم کا باپ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کی یہ دعا بھی قبول فرمائی، چناچہ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (یَلْقٰی إِبْرَاھِیْمُ أَبَاہُ آزَرَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَ عَلٰی وَجْہِ آزَرَ قَتَرَۃٌ وَغَبَرَۃٌ فَیَقُوْلُ لَہُ إِبْرَاھِیْمُ أَلَمْ أَقُلْ لَّکَ لَا تَعْصِنِيْ ؟ فَیَقُوْلُ أَبُوْہُ فَالْیَوْمَ لَا أَعْصِیْکَ ، فَیَقُوْلُ إِبْرَاھِیْمُ یَا رَبِّ ! إِنَّکَ وَعَدْتَنِيْ أَنْ لَّا تُخْزِیَنِيْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ ، فَأَيُّ خِزْيٍ أَخْزٰی مِنْ أَبِي الْأَبْعَدِ ؟ فَیَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی إِنِّيْ حَرَّمْتُ الْجَنَّۃَ عَلَی الْکَافِرِیْنَ ، ثُمَّ یُقَالُ یَا إِبْرَاھِیْمُ ! مَا تَحْتَ رِجْلَیْکَ ؟ فَیَنْظُرُ فَإِذَا ھُوَ بِذِیْخٍ مُلْتَطِخٍ فَیُؤْخَذُ بِقَوَاءِمِہِ فَیُلْقٰی فِي النَّارِ) [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ : (واتخذ اللہ إبراہیم خلیلا) : 3350 ] ”قیامت کے دن ابراہیم ؑ اپنے باپ کو اس حال میں ملیں گے کہ اس کے چہرے پر سیاہی اور غبار ہوگا۔ ابراہیم ؑ اس سے کہیں گے : ”میں نے تجھے کہا نہ تھا کہ میری نافرمانی مت کر۔“ ان کا باپ کہے گا : ”تو آج میں تیری نافرمانی نہیں کروں گا۔“ ابراہیم ؑ کہیں گے : ”اے رب ! تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تو مجھے اس دن رسوا نہیں کرے گا جب لوگ اٹھائے جائیں گے، تو میرے بدنصیب باپ سے بڑھ کر ذلت کیا ہوگی۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ”یقیناً میں نے جنت کافروں پر حرام کردی ہے۔“ پھر کہا جائے گا : ”ابراہیم ! تیرے پاؤں کے نیچے کیا ہے ؟“ وہ دیکھیں گے تو اچانک گندگی میں لت پت ایک بِجّو ہوگا، پھر اس بِجّو کو اس کی ٹانگوں سے پکڑ کر آگ میں پھینک دیا جائے گا۔“ گویا اللہ تعالیٰ مشرک پر جنت حرام کرنے کا قانون بھی قائم رکھیں گے اور ابراہیم ؑ کو رسوا ہونے سے بھی بچا لیں گے کہ رسوائی تو تب ہو کہ لوگ دیکھیں کہ ابراہیم ؑ کا باپ آگ میں جل رہا ہے۔ ایک بِجّو آگ میں جل رہا ہو تو کسی کو کیا خبر کہ یہ ابراہیم ؑ کا باپ ہے۔
Ayah 26:88

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ Open ayah 26:88 in the Quran reader

جس دن نہ کوئی مال فائدہ دے گا اور نہ بیٹے۔

يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ : جس دن آدمی کو اللہ کے عذاب سے کوئی مال نہیں بچا سکے گا، خواہ زمین بھرنے کے برابر سونا ہو (آل عمران : 91) اور صرف بیٹے ہی نہیں، زمین کے تمام لوگ بطور فدیہ پیش کیے جائیں تو وہ بھی کام نہ آئیں گے۔ (معارج : 11 تا 14)۔
Ayah 26:89

اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ Open ayah 26:89 in the Quran reader

مگر جو اللہ کے پاس سلامتی والا دل لے کر آیا۔

اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِيْمٍ : سلامتی والے دل سے مراد ایسا دل ہے جو کفر و شرک سے پاک ہو۔ بعض نے بدعت و جہالت اور اخلاق رذیلہ سے پاک ہونا بھی مراد لیا ہے۔ مال اور اولاد بھی کام آئیں گے تو اس کے جس کا دل کفر و شرک سے خالی ہوگا۔
Ayahs 26:90–91

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 26:90 in the Quran reader

اور متقی لوگوں کے لیے جنت قریب لائی جائے گی۔

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِلْغٰوِیْنَۙ Open ayah 26:91 in the Quran reader

اور گمراہ لوگوں کے لیے بھڑکتی آگ ظاہر کردی جائے گی۔

وَاُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِيْنَ۔۔ : ابراہیم ؑ نے ”یَوْمَ یَبْعَثُوْن“ کا مزید نقشہ بیان کیا ہے کہ جنت متقین کے قریب لائی جائے گی اور وہ اس کے نظارے سے لطف اندوز ہوں گے، اسی طرح جہنم گمراہوں کو میدان حشر ہی میں دکھائی دینے لگے گی جو ان کا ٹھکانا بننے والی ہے، تاکہ جلد از جلد ہر ایک کو اس کے اعمال کی جزا مل جائے۔ ”غَاوِیْنَ“ (گمراہوں) سے مراد یہاں مشرکین ہیں، جیسا کہ اگلی آیت میں صراحت آرہی ہے۔
Ayahs 26:92–93

وَ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:92 in the Quran reader

اور ان سے کہا جائے گا کہاں ہیں وہ جنھیں تم پوجتے تھے ؟

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ هَلْ یَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ یَنْتَصِرُوْنَؕ Open ayah 26:93 in the Quran reader

اللہ کے سوا۔ کیا وہ تمہاری مدد کرتے ہیں، یا اپنا بچاؤ کرتے ہیں ؟

وَقِيْلَ لَهُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ۔۔ : ”یَنْتَصِرُوْنَکُمْ“ ”اِنْتَصَرَ یَنْتَصِرُ“ (افتعال) کا معنی اپنا بچاؤ کرنا بھی ہے اور بدلا لینا بھی، یعنی ان گمراہوں سے کہا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے، کیا وہ تمہاری مدد کرتے ہیں، یا تمہارا بدلا لیتے ہیں، یا کم از کم اپنا بچاؤ ہی کرتے ہیں ؟
Ayahs 26:94–95

فَكُبْكِبُوْا فِیْهَا هُمْ وَ الْغَاوٗنَۙ Open ayah 26:94 in the Quran reader

پھر وہ اور تمام گمراہ لوگ اس میں اوندھے منہ پھینک دیے جائیں گے۔

وَ جُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَؕ Open ayah 26:95 in the Quran reader

اور ابلیس کے تمام لشکر بھی۔

فَكُبْكِبُوْا فِيْهَا هُمْ وَالْغَاوٗنَ۔۔ : ”کَبَّ یَکُبُّ“ منہ کے بل گرانا۔ ”کَبْکَبَ“ میں لفظ کے تکرار سے معنی میں تکرار پیدا ہو رہا ہے، بار بار گرانا۔ یعنی ان کے باطل معبود اوندھے منہ جہنم میں ایک دوسرے کے اوپر بار بار گرائے جائیں گے، یعنی جب انھیں اوندھے منہ ڈالا جائے گا تو بار بار ٹھوکریں کھاتے ہوئے، الٹ پلٹ ہوتے ہوئے نیچے گرتے جائیں گے، حتیٰ کہ اس کی گہرائی تک پہنچ جائیں گے۔ ان کے ساتھ ان کی عبادت کرنے والے گمراہ لوگ اور ابلیس کے تمام لشکر بھی اسی طرح گرائے جائیں گے۔ بتوں کا ذکر پہلے فرمایا، تاکہ پوجنے والوں کو انھیں پہلے گرتے ہوئے دیکھ کر مزید عبرت ہو۔ ابلیس کے لشکروں سے مراد اس کے تمام پیروکار ہیں جو دوسروں کو بھی گمراہ کرتے رہے۔ طبری نے معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ ”فَكُبْكِبُوْا فِيْهَا“ کا معنی ہے اس میں جمع کیے جائیں گے، گویا الٹے منہ گراتے ہوئے سب کو وہاں جمع کردیا جائے گا۔ [ طبري : 26888 ]
Ayahs 26:96–98

قَالُوْا وَ هُمْ فِیْهَا یَخْتَصِمُوْنَۙ Open ayah 26:96 in the Quran reader

وہ کہیں گے جب کہ وہ اس میں جھگڑ رہے ہوں گے۔

تَاللّٰهِ اِنْ كُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 26:97 in the Quran reader

اللہ کی قسم ! بیشک ہم یقینا کھلی گمراہی میں تھے۔

اِذْ نُسَوِّیْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 26:98 in the Quran reader

جب ہم تمہیں جہانوں کے رب کے برابر ٹھہراتے تھے۔

قَالُوْا وَهُمْ فِيْهَا يَخْتَصِمُوْنَ۔۔ : ”اِنْ كُنَّا لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ“ اصل میں ”إِنَّا کُنَّا لَفِيْ ضَلاَلٍ مُّبِیْنٍ“ ہے۔ دلیل اس کی ”فِيْ“ پر آنے والا لام ہے۔ یعنی وہ جہنم میں اپنے معبودوں سے جھگڑتے ہوئے ان سے کہیں گے کہ اللہ کی قسم ! ہم یقیناً کھلی گمراہی میں تھے، جب ہم تمہیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے، اس کے بعض اختیارات اور صفات تمہارے لیے بھی مانتے تھے، تمہارے لیے حلال و حرام کرنے کے اختیار کا عقیدہ رکھتے تھے، تمہیں بھی عالم الغیب اور مختار کل سمجھتے تھے، تمہیں بگڑی بنانے والے، فریاد کو پہنچنے والے، اولاد عطا کرنے والے اور شفا دینے والے سمجھتے تھے۔ 3 یاد رہے رسول اللہ ﷺ نے ایسے الفاظ بولنے سے بھی منع فرمایا جن سے مخلوق کی خالق کے ساتھ کسی طرح بھی برابری ظاہر ہوتی ہو۔ حذیفہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : (لَا تَقُوْلُوْا مَا شَاء اللّٰہُ وَ شَاءَ فُلَانٌ وَلٰکِنْ قُوْلُوْا مَا شَاء اللّٰہُ ثُمَّ شَاءَ فُلَانٌ) [ أبوداوٗد، الأدب، باب لا یقال خبثت نفسي : 4980، قال الألباني صحیح ] ”یہ مت کہو کہ جو اللہ نے چاہا اور فلاں نے چاہا، بلکہ یوں کہو کہ جو اللہ نے چاہا، پھر فلاں نے چاہا۔“ ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے کہا : (مَا شَاء اللّٰہُ وَ شِءْتَ) ”جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا : (جَعَلْتَ لِلّٰہِ نِدًّا)”تم نے اللہ کا شریک بنادیا۔“ یوں کہو : (مَا شَاء اللّٰہُ وَحْدَہُ)”جو اللہ اکیلا چاہے۔“ [ الأدب المفرد : 1؍274، ح : 783، وقال الألباني صحیح ]
Ayah 26:99

وَ مَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 26:99 in the Quran reader

اور ہمیں گمراہ نہیں کیا مگر ان مجرموں نے۔

وَمَآ اَضَلَّنَآ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ : ان مجرموں سے مراد وہ سردار اور و ڈیرے ہیں جنھوں نے انھیں گمراہ کیا تھا۔ پیروکاروں اور معتقدوں کی طرف سے انھی لوگوں کو نشانۂ ملامت بنایا جا رہا ہوگا جنھیں وہ دنیا میں اپنا پیشوا اور بزرگ مانتے تھے، ان کے ہاتھ پاؤں چومتے تھے، ان کی نذریں نیازیں چڑھاتے تھے، قیامت کو جب حقیقت کھلے گی اور پیچھے چلنے والوں کو معلوم ہوگا کہ آگے چلنے والے ہمیں کہاں لے آئے اور خود کہاں ہیں تو یہی پیروکار انھیں مجرم ٹھہرائیں گے اور ان پر لعنت کریں گے۔ قرآن نے کئی مقامات پر یہ نقشہ کھینچا ہے، تاکہ لوگ آنکھیں بند کرکے کسی کے پیچھے نہ چلیں اور تقلید کے بجائے تحقیق سے کام لیں۔ دیکھیے سورة بقرہ (166، 167) ، اعراف (37، 38) ، احزاب (67، 68) ، حٰم السجدہ (29) اور سورة ص (59 تا 61)۔
Ayah 26:100

فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَۙ Open ayah 26:100 in the Quran reader

اب نہ ہمارے لیے کوئی سفارش کرنے والے ہیں۔

فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِيْنَ : یعنی جن جن کو ہم دنیا میں اپنا سفارشی سمجھتے تھے اور ہمارا خیال تھا کہ ان کا دامن تھام لیں گے تو ہمارا بیڑا پار ہے، ان میں سے آج کوئی نظر نہیں آتا۔ مشرکوں کے لیے کوئی سفارشی نہیں ہوگا، جب کہ مومنوں کے لیے انبیاء، فرشتے اور مومن سفارشی ہوں گے۔
Ayah 26:101

وَ لَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ Open ayah 26:101 in the Quran reader

اور نہ کوئی دلی دوست۔

وَلَا صَدِيْقٍ حَمِيْمٍ : ”صَدِيْقٍ“ جو دوستی میں سچا ہو اور ”حَمِيْمٍ“ جسے دوست کی وجہ سے گرمی آتی ہو، یعنی دلی دوست۔ ”حَمِيْمٍ“ کا معنی رشتہ دار بھی ہے۔ یعنی کفار کا قیامت کے دن کوئی دلی دوست ہوگا نہ رشتے دار، سب ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے، جب کہ مومنوں کے دوست انبیاء، فرشتے اور تمام مومن ہوں گے، جیسا کہ فرمایا : (اَلْاَخِلَّاۗءُ يَوْمَىِٕذٍۢ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِيْنَ) [ الزخرف : 67 ] ”سب دلی دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر متقی لوگ۔“
Ayah 26:102

فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:102 in the Quran reader

تو کاش کہ واقعی ہمارے لیے واپس جانے کا ایک موقع ہو، تو ہم مومنوں میں سے ہوجائیں۔

فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً۔۔ : کفار کی اس تمنا کا ذکر قرآن میں متعدد مقامات پر ہے اور یہ بھی کہ ان کی یہ تمنا کبھی پوری نہیں ہوگی۔ دیکھیے سورة بقرہ (167) ، انعام (27، 28) اور مؤمنون (106 تا 108)۔
Ayah 26:103

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:103 in the Quran reader

بیشک اس میں یقینا ایک نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان والے نہیں تھے۔

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً ۭ وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۔۔ : یعنی ابراہیم ؑ کے اپنی قوم کو دعوت کے ان واقعات میں بہت بڑی نشانی ہے، اس کے باوجود ان کے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہ ہوئے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی بھی ہے کہ جب خلیل اللہ کی بیحد کوشش و محنت کے باوجود اکثر لوگ ایمان نہ لائے، تو آپ ان کے ایمان نہ لانے پر غمگین کیوں ہوتے ہیں۔ ایک معنی اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان قریش میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں، سو آپ ان کے ایمان نہ لانے پر غمگین نہ ہوں۔
Ayah 26:104

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:104 in the Quran reader

اور بیشک تیرا رب، یقینا وہی سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے۔

وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ : اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (9)۔
Ayah 26:105

كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:105 in the Quran reader

نوح کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا۔

كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِۨ الْمُرْسَلِيْنَ : سورت کا آغاز نبی کریم ﷺ کو تسلی دلانے اور رسولوں کو جھٹلانے کے انجام بد کے ساتھ ہوا تھا، موسیٰ اور ابراہیم ؑ اور ان کی قوم کے ذکر کے بعد اب قوم نوح کا ذکر ہوتا ہے۔ اس میں بھی رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی ہے اور اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے والوں کے انجام بد کا ذکر ہے، اس کے بعد عاد، ثمود، قوم لوط اور اصحاب الایکہ کے ذکر میں بھی یہ دونوں چیزیں نمایاں ہیں۔ 3 اگرچہ انھوں نے صرف ایک پیغمبر نوح ؑ کو جھٹلایا تھا، لیکن چونکہ تمام پیغمبروں کی دعوت ایک تھی اور ایک پیغمبر کو جھٹلانا اس دعوت کو جھٹلانا ہے جو تمام پیغمبر لے کر آئے، اس لیے فرمایا کہ انھوں نے تمام پیغمبروں کو جھٹلا دیا۔ تقابل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (59 تا 64) ، یونس (25 تا 48) ، بنی اسرائیل (3) ، انبیاء (76، 77) ، مؤمنون (23 تا 30) اور فرقان (37) اس کے علاوہ نوح ؑ کے واقعہ کی تفصیل کے لیے یہ مقامات بھی زیر نظر رکھیں، سورة عنکبوت (14، 15) ، صافات (75 تا 82) ، قمر (9 تا 15) اور سورة نوح مکمل۔
Ayah 26:106

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:106 in the Quran reader

جب ان سے ان کے بھائی نوح نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ؟

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ : ”اَخُوْهُمْ“ کے لفظ سے ان کے ساتھ نوح ؑ کا نسبی تعلق واضح کیا ہے اور اس خیر خواہی کی طرف اشارہ ہے جو نوح ؑ کو اس قوم کا فرد ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ تھی۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول بشر ہی ہوتے ہیں اور حکمت کا تقاضا بھی یہی ہے، کیونکہ انسانوں کے لیے نمونہ انسان ہی بن سکتا ہے، فرشتہ یا کوئی اور نہیں، مگر اس وقت کفار نے بشر ہونے کی وجہ سے انھیں نبی نہیں مانا اور اب کئی جاہل ایسے ہیں جو نبی مانتے ہیں مگر نبی ہونے کی وجہ سے بشر نہیں مانتے۔ عقیدہ دونوں کا ایک ہے کہ بشر نبی نہیں ہوسکتا۔ قرآن نے جا بجا اس عقیدے کی تردید کی ہے۔ دوسرے مقامات پر مذکور نوح ؑ کے خطاب کی ابتدا ان الفاظ سے ہوتی ہے : (يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ۭ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ) [ المؤمنون : 23 ] ”اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی بھی معبود نہیں، تو کیا تم ڈرتے نہیں ؟“ اور فرمایا : (اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاتَّقُوْهُ وَاَطِيْعُوْنِ) [ نوح : 3 ] ”کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اور میرا کہنا مانو۔“ دعوت کے آغاز میں خوف دلانے میں حکمت یہ ہے کہ جب تک کسی شخص یا قوم کو اس کے غلط رویے کے برے انجام کا خطرہ محسوس نہ کرایا جائے وہ صحیح بات پر توجہ کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا۔ ہمارے نبی کریم ﷺ نے بھی اپنے قریبی رشتہ داروں کو جمع کرکے صفا پر کھڑے ہو کر یہی کہا تھا : (فَإِنِّیْ نَذِیْرٌ لَّکُمْ بَیْنَ یَدَيْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ) [ بخاري، التفسیر، باب : (و أنذر عشیرتک الأقربین۔۔) : 4770 ] ”میں تمہیں ایک بہت سخت عذاب سے پہلے ڈرانے والا ہوں۔“
Ayahs 26:107–108

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:107 in the Quran reader

بیشک میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:108 in the Quran reader

پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔

اِنِّىْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ۔۔ : نوح ؑ نے دعوئ رسالت کے ثبوت کے طور پر دو چیزیں پیش فرمائیں، پہلی یہ کہ میں امانت دار ہوں، میری ساری عمر تمہارے سامنے گزری، تم میری امانت اور میرے صدق سے خوب واقف ہو، پھر تمہیں میری رسالت تسلیم کرنے میں رکاوٹ کیا ہے ؟ ہمارے نبی ﷺ کو بھی اللہ تعالیٰ نے یہ بات واشگاف الفاظ میں کہہ دینے کا حکم دیا، فرمایا : (فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ) [ یونس : 16 ] ”پس بیشک میں تم میں اس سے پہلے ایک عمر رہ چکا ہوں، تو کیا تم نہیں سمجھتے ؟“ حدیث ہرقل میں ابوسفیان نے جب رسول اللہ ﷺ کا صادق و امین ہونا تسلیم کیا تو ہرقل نے کہا : ”یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ لوگوں پر جھوٹ سے تو اجتناب کرے اور اللہ پر جھوٹ باندھ دے کہ اس نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہے۔“ (دیکھیے بخاری : 7) غرض نوح ؑ نے قوم کو اپنے امین ہونے کا حوالہ دے کر اپنی رسالت کی اطلاع دی اور فرمایا (چونکہ میں رسول امین ہوں) اس لیے تم اللہ سے ڈرو کہ مجھے جھٹلا کر کہیں تم اس کے غضب کا نشانہ نہ بن جاؤ اور میرا کہا مانو۔ معلوم ہوا کہ رسول کا ہر حکم ماننا امت کے لیے ضروری ہے۔ یہ نہیں کہ وہ کتاب اللہ کی چند آیات پہنچا دے اور بس، اس کے علاوہ اس کی بات ماننا لازم نہ ہو۔
Ayah 26:109

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 26:109 in the Quran reader

اور میں اس پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، میری اجرت تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔

وَمَآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ : اپنی رسالت کے ثبوت کے لیے دوسری چیز یہ پیش فرمائی کہ دین داری اور روحانیت کے دعوے داروں کا مقصود عموماً اپنی گدی جمانا، مال و زر جمع کرنا اور سرداری حاصل کرنا ہوتا ہے۔ خانقاہوں اور راہبوں کی کٹیاؤں کے تقدس کے پیچھے عموماً بدترین ہوس زر ہی چھپی ہوتی ہے، مگر مجھے اللہ کا پیغام پہنچانے میں نہ تم سے کسی مزدوری یا دنیاوی منفعت کی خواہش ہے نہ تم سے اس کا کوئی مطالبہ۔ ایسے بےغرض خیر خواہ کی بھی بات نہ مانو تو تم سے بڑا بدنصیب کون ہوگا۔ اس بات کا نوح ؑ نے خاص طور پر اس لیے بھی ذکر کیا کہ ان کی قوم نے ان پر بہتان باندھا تھا کہ وہ رسالت کے ذریعے سے اپنی قوم پر بڑائی حاصل کرنا چاہتے ہیں، سورة مؤمنون میں ہے : (مَا ھٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ۙ يُرِيْدُ اَنْ يَّتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ) [ المؤمنون : 24 ] ”یہ نہیں ہے مگر تمہارے جیسا ایک بشر، جو چاہتا ہے کہ تم پر برتری حاصل کرلے۔“ نوح ؑ کی طرح ہمارے پیغمبر ﷺ کی پوری زندگی بھی اس کی شاہد عدل ہے، آپ ﷺ نے بھی اپنے پیچھے نہ کوئی دینار چھوڑا، نہ درہم اور نہ کوئی اور چیز، جو کچھ تھا صدقہ کردیا۔ اللہ کے پیغمبر ایسے ہی بےلوث ہوتے ہیں اور وہ اس کا اعلان بھی کرتے رہتے ہیں۔ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلٰي رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ : اس میں قیامت کے عقیدے کی دعوت بھی ہے کہ میری تگ و دو اور محنت کی اجرت صرف اور صرف رب العالمین کے ذمے ہے اور ظاہر ہے کہ وہ قیامت کے دن ہی پوری پوری ملے گی۔
Ayah 26:110

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِؕ Open ayah 26:110 in the Quran reader

پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوْنِ : یہ آیت دوبارہ آئی ہے، اس کے تکرار میں حکمت یہ ہے کہ پہلی آیت میں رسول امین کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور اس کو جھٹلانے پر اللہ سے ڈرایا ہے اور اس آیت میں اس رسول کو جھٹلانے پر اللہ تعالیٰ سے ڈرایا ہے جو پیغامِ الٰہی پہنچانے میں کسی اجرت کا مطالبہ نہیں کرتا۔ فرمایا، ایسے بےلوث خیر خواہ کو جھٹلاتے ہوئے اللہ سے ڈرو اور اس کی اطاعت کرو۔
Ayah 26:111

قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَ اتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَؕ Open ayah 26:111 in the Quran reader

انھوں نے کہا کیا ہم تجھ پر ایمان لے آئیں، حالانکہ تیرے پیچھے وہ لوگ لگے ہیں جو سب سے ذلیل ہیں۔

قَالُـوْٓا اَنُؤْمِنُ لَكَ۔۔ : ”الْاَرْذَلُوْنَ“ ”أَرْذَلُ“ (اسم تفضیل) کی جمع سالم ہے، سب سے کمتر، نیچ، ذلیل، جن کے پاس جاہ و مال نہ ہو، غریب، محتاج۔ ان میں وہ لوگ بھی آجاتے ہیں جو حقیر سمجھے جانے والے پیشوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ بات کہنے والے نوح ؑ کی قوم کے سردار تھے۔ دیکھیے سورة ہود (27) اس سے معلوم ہوا کہ نوح ؑ پر ایمان لانے والے زیادہ تر غریب لوگ، چھوٹے چھوٹے پیشہ ور یا ایسے نوجوان تھے جن کی قوم میں کوئی حیثیت نہ تھی۔ ہمارے نبی ﷺ پر ایمان لانے والے بھی ایسے ہی لوگ تھے۔ حدیث ہرقل میں ہے کہ اس نے ابوسفیان سے سوال کیا : (فَأَشْرَاف النَّاسِ یَتَّبِعُوْنَہُ أَمْ ضُعَفَاءُھُمْ ؟) ”اونچے لوگ اس کی پیروی اختیار کر رہے ہیں یا کمزور لوگ ؟“ ابوسفیان نے جواب دیا : ”کمزور لوگ۔“ تو ہرقل نے کہا : ”رسولوں کی پیروی کرنے والے یہی لوگ ہوتے ہیں۔“ [ بخاري، بدء الوحي، باب کیف کان بدء الوحي۔۔ : 7 ] کیونکہ مال و جاہ والے لوگوں کو ایمان قبول کرنے میں ان کا مال و جاہ، اپنی عزت اور رتبے کا احساس اور دنیوی مفاد رکاوٹ بن جاتے ہیں، کیونکہ ایمان لانے کی صورت میں انھیں حکم منوانے کے بجائے حکم ماننا پڑتا ہے، جب کہ کمزور لوگ ان رکاوٹوں سے آزاد ہوتے ہیں۔ اس مکالمے میں نبی ﷺ کے لیے بھی تسلی ہے، کیونکہ آپ کی قوم کے لوگ بھی اللہ کے فضل کا مستحق مال داروں ہی کو سمجھتے تھے۔ ان کی نظر میں رسول اللہ ﷺ کے بجائے مکہ یا طائف کے کسی مال دار سردار کو نبوت ملنی چاہیے تھی، سورة زخرف میں ہے : (وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ) [ الزخرف : 31 ] ”اور انھوں نے کہا یہ قرآن ان دوبستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا ؟“ واضح رہے کہ مومن کو رذیل یا ذلیل سمجھنا یا کہنا جائز نہیں، بلکہ ہر مومن کے متعلق یہی خیال رکھنا چاہیے کہ ہوسکتا ہے یہ مجھ سے بہتر ہو، جیسا کہ فرمایا : (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰٓى اَنْ يَّكُوْنُوْا خَيْرًا مِّنْهُمْ) [ الحجرات : 11 ] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! کوئی قوم کسی قوم سے مذاق نہ کرے، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔“
Ayahs 26:112–113

قَالَ وَ مَا عِلْمِیْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:112 in the Quran reader

اس نے کہا اور مجھے کیا علم کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں۔

اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَۚ Open ayah 26:113 in the Quran reader

ان کا حساب تو میرے رب ہی کے ذمے ہے، اگر تم سمجھو۔

قَالَ وَمَا عِلْمِىْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۔۔ : یعنی مجھے تو اللہ کا راستہ بتانے سے غرض ہے نہ کہ ان کے پیشوں سے۔ وہ کمائی کے لیے جو بھی کام کریں یا جو بھی پیشہ اختیار کریں، اگر وہ جائز ہے تو وہ اپنے ایمان دار ہونے کی وجہ سے ان مغرور مال داروں سے افضل ہیں جو اللہ کی نافرمانی پر تلے ہوئے ہیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ میں کیا جانوں کہ ان کے عمل کیسے ہیں، مجھے تو ظاہری ایمان کو دیکھنا ہے، ان کی نیتوں کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے، وہی ان کا حساب کرے گا۔ ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْھَدُوْا أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ ، وَ یُقِیْمُوا الصَّلَاۃَ ، وَ یُؤْتُوا الزَّکَاۃَ ، فَإِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ عَصَمُوْا مِنِّيْ دِمَاءَ ھُمْ وَ أَمْوَالَھُمْ إِلَّا بِحَقِّ الإِْسْلَامِ وَ حِسَابُھُمْ عَلَی اللّٰہِ) [ بخاري، الإیمان، باب فإن تابوا و أقاموا الصلاۃ : 25 ] ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں، یہاں تک کہ وہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں، اگر وہ یہ کام کریں تو انھوں نے اپنے خون اور اپنے مال مجھ سے محفوظ کرلیے مگر اسلام کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔“
Ayahs 26:114–115

وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:114 in the Quran reader

اور میں ایمان والوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں۔

اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 26:115 in the Quran reader

میں نہیں ہوں مگر ایک کھلم کھلا ڈرانے والا۔

وَمَآ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِيْنَ : یہ سرداروں کے اس مطالبے کا جواب ہے کہ ان رذیلوں کو اپنے ہاں سے نکال دیں تو ہم آپ کی مجلس میں بیٹھیں، فرمایا میں کسی صورت ایمان والوں کو نکال دینے والا نہیں کہ انھیں دھکے دے کر نکال دوں۔ (نفی کی تاکید باء کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ترجمہ میں ”کسی صورت“ کا اضافہ کیا گیا ہے) یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جو لوگ میری بات نہیں مانتے میں ان کے پیچھے پھرتا رہوں اور جو میری بات مانتے ہیں انھیں دھکے دے کر نکال دوں۔ (دیکھیے عبس : 5 تا 9) میرا کام تو صاف اور واضح الفاظ میں کفر کے برے انجام سے ڈرانا ہے، پھر جس کا جی چاہے مانے جس کا جی چاہے نہ مانے۔ ہمارے نبی ﷺ کے ساتھ بھی بعینہٖ یہی صورت پیش آئی، نوح ؑ اور ان کی قوم کی گفتگو آپ ﷺ کو اسی لیے سنائی جا رہی ہے، فرق صرف نوح ؑ اور محمد ﷺ کا ہے، ورنہ دونوں کی دعوت اور دونوں کے لیے مغرور اور متکبر سرداروں کا جواب ایک ہی ہے۔ یقیناً اس میں رسول اللہ ﷺ کے لیے بہت بڑی تسلی ہے کہ یہ سب کچھ آپ ہی پر نہیں گزر رہا، اہل زمین کی طرف سب سے پہلے رسول کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا تھا۔ اہل ایمان کو اپنے پاس سے نکالنے کی ممانعت کے لیے دیکھیے سورة انعام (52، 53) اور کہف (28)۔
Ayah 26:116

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَؕ Open ayah 26:116 in the Quran reader

انھوں نے کہا اے نوح ! یقینا اگر تو باز نہ آیا تو ہر صورت سنگسار کیے گئے لوگوں سے ہوجائے گا۔

قَالُوْا لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ يٰنُوْحُ۔۔ : نوح ؑ اور ان کی قوم کی یہ گفتگو دو چار مواقع کی بات نہیں بلکہ ان کے ساتھ ان کی قوم کی یہ کش مکش ساڑھے نو سو (950) برس جاری رہی۔ جیسے جیسے آپ دعوت کے کام میں آگے بڑھتے گئے وہ بدی میں آگے بڑھتے گئے۔ آخر کار تمام ظالم و جابر لوگوں کی طرح، جو دلیل میں لاجواب ہو کر دھمکیوں اور تشدد پر اتر آتے ہیں، نوح ؑ کی قوم نے بھی صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ آئندہ اگر تم اپنی دعوت سے باز نہ آئے تو ہم پتھر مار مار کر تمہیں ختم کردیں گے۔
Ayah 26:117

قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِۚۖ Open ayah 26:117 in the Quran reader

اس نے کہا اے میرے رب ! بیشک میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا۔

قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِيْ كَذَّبُوْنِ : ”كَذَّبُوْنِ“ اصل میں ”کَذَّبُوْنِيْ“ ہے۔ جب قوم اس حد تک پہنچ گئی کہ اپنے رسول کو سنگسار کر دے اور اللہ تعالیٰ نے نوح ؑ کو اطلاع بھی دے دی کہ اب ان میں سے مزید کوئی ایمان نہیں لائے گا (دیکھیے ہود : 37) تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، اس دعا کے الفاظ قرآن میں مختلف مقامات پر موجود ہیں، فرمایا : (اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ) [ القمر : 10 ] ”کہ بیشک میں مغلوب ہوں، سو تو بدلا لے۔“ اور فرمایا : (رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَي الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ دَيَّارًا) [ نوح : 26 ] ”اے میرے رب ! زمین پر ان کافروں میں سے کوئی رہنے والا نہ چھوڑ۔“ یہاں انھوں نے جو کہا ہے کہ ”اے میرے رب ! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا“ یہ اللہ کے حضور شکایت کے لیے ہے، یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات معلوم نہیں اور نوح ؑ اسے بتا رہے ہیں۔