Ayah 26:118فَافْتَحْ بَيْنِيْ وَبَيْنَهُمْ فَتْحًا۔۔ : اس فیصلے سے مراد انھیں نیست و نابود کردینے والا عذاب ہے، جو ”وَّنَجِّـنِيْ وَمَنْ مَّعِيَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ“ سے سمجھ میں آ رہا ہے۔
Ayahs 26:119–120فَاَنْجَيْنٰهُ وَمَنْ مَّعَهٗ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ۔۔ : اس کی تفصیل سورة ہود (36 تا 49) میں ملاحظہ فرمائیں۔
Ayahs 26:121–122اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً۔۔ : ان آیات کی تفسیر سورت کے شروع میں آیت (8، 9) کے تحت گزر چکی ہے۔
Ayahs 26:123–127كَذَّبَتْ عَادُۨ الْمُرْسَلِيْنَ۔۔ : نوح ؑ اور ان کے بعد چاروں انبیاء ؑ کے قصوں میں خاص طور پر تقویٰ اور اطاعت کے حکم اور تبلیغ رسالت پر کسی قسم کے بدلے کی نفی سے ظاہر ہوتا ہے کہ انبیاء کی بعثت کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی توحید اور اس کے رسولوں کی اطاعت کا حکم دینا ہے اور یہ کہ انبیاء ؑ دنیاوی طمع سے پاک ہوتے ہیں۔
3 اس قصے کی اور نوح ؑ کے قصے کی ابتدائی آیات ایک جیسی ہیں، اس لیے ان کی تفسیر دہرانے کی ضرورت نہیں۔ تقابل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (65 تا 72) اور ہود (50 تا 60) مزید تفصیلات ان مقامات پر بھی ہیں، سورة حٰم السجدہ (13 تا 16) ، احقاف (21 تا 26) ، ذاریات (41 تا 45) ، قمر (18 تا 22) اور سورة فجر (6 تا 8) قوم عاد کا مسکن حضر موت کے قریب اس جگہ تھا جسے اب ”الربع الخالی“ کہا جاتا ہے۔ دیکھیے سورة اعراف (65)۔
اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ۔۔ : ہود ؑ کی تقریر سمجھنے کے لیے اس قوم کے متعلق وہ بنیادی معلومات نگاہ میں رہنا ضروری ہیں جو قرآن مجید میں مختلف مقامات پر مذکور ہیں۔ ان کے مطابق قوم نوح کی تباہی کے بعد اس قوم کو عروج عطا ہوا۔ (اعراف : 69) جسمانی لحاظ سے یہ لوگ بڑے تنو مند اور زور آور تھے۔ (اعراف : 69۔ حاقہ : 7) اس قوم جیسی کوئی قوم پیدا نہیں کی گئی۔ (فجر : 8) وہ نہایت ترقی یافتہ تھے، اونچے اونچے ستونوں والی بلند و بالا عمارتیں بنانے کی وجہ سے ان کی شہرت ہی ”ستونوں والے“ کے نام سے تھی۔ (فجر : 6، 7) مادی ترقی اور جسمانی قوت کی وجہ سے وہ سخت متکبر تھے اور کسی کو اپنے سے طاقتور نہیں مانتے تھے۔ (حٰم السجدہ : 15) ان کا سیاسی نظام بڑے بڑے سرکش جباروں کے ہاتھ میں تھا۔ (ہود : 59) مذہبی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے منکر نہیں تھے بلکہ مشرک تھے، ایک اللہ کو معبود ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ (اعراف : 70)۔
Ayah 26:128اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِيْعٍ اٰيَةً تَعْبَثُوْنَ : ”رِيْعٍ“ اونچی جگہ۔ قاموس میں ہے ”رِیْعٌ“ (کسرہ اور فتحہ کے ساتھ) اونچی زمین یا ہر کشادہ راستہ یا ہر راستہ یا پہاڑ میں کھلا راستہ یا بلند پہاڑ۔ واحد کے لیے تاء کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ ”اٰيَةً“ نشانی، یادگار۔ ”تَعْبَثُوْنَ“ ”عَبَثٌ“ (ع) بےفائدہ اور لاحاصل کام کرنا، یعنی تم بےفائدہ اور لاحاصل کام کرتے ہو۔ ”کُلُّ رِیْعٍ“ سے مراد بہت سی اونچی جگہیں ہیں، کیونکہ ہر اونچی جگہ تو یاد گار نہ بن سکتی ہے اور نہ انھوں نے بنائی تھی۔ ہود ؑ نے پہلے اپنی قوم کو تمام انبیاء کی لائی ہوئی بنیادی تعلیم اللہ پر ایمان، اس کے تقویٰ اور اطاعت کی دعوت دی، اس کے بعد ان کے چند کاموں پر انکار کا اظہار فرمایا۔ پہلا یہ کہ تم ہر اونچی اور نمایاں جگہ، جہاں تمہارے فخر و غرور، تمہاری شان و شوکت اور دولت و قوت کا اظہار ہوسکتا ہے کوئی نہ کوئی یاد گار بنا دیتے ہو، جس کا دنیا یا آخرت میں کوئی فائدہ نہیں۔ ہود ؑ کا مقصد نمود و نمائش کے اس رجحان سے ہٹانا ہے، جس کی وجہ سے ایسے عبث کام کیے جاتے ہیں اور سمجھا جاتا ہے کہ ہم کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہیں۔ بےدریغ مال خرچ کرتے ہوئے کوئی اپنی یاد گار کے طور پر شاندار مقبرہ تعمیر کرا دیتا ہے، کوئی بلند و بالا مینار کھڑا کردیتا ہے، کوئی بارہ دری بنوا دیتا ہے۔ عجائب عالم میں شمار ہونے والے اہرام مصر اور تاج محل بھی اپنے بانیوں کی ایسی ہی لاحاصل اور عبث یاد گاریں ہیں، جن کی جواب دہی انھیں کرنا ہوگی۔ ان یادگاروں کی مذمت اس لیے فرمائی کہ یہ فخر و غرور، فضول خرچی اور عمر عزیز کو ضائع کرنے پر دلالت کرتی ہیں، جن کا باعث یہ ہے کہ ان کے بنانے والوں کو جواب دہی کا احساس نہیں۔
Ayah 26:129وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ۔۔ :”مَصَانِعَ“ ”مَصْنَعٌ“ یا ”مَصْنَعَۃٌ“ کی جمع ہے۔ مختار الصحاح اور قاموس میں اس کا معنی بڑے بڑے قلعے، مضبوط محلات اور زمین دوز نہریں لکھا ہے۔ راغب لکھتے ہیں کہ ”صَنْعٌ“ کا معنی کوئی کام عمدہ طریقے سے کرنا ہے۔ عالی شان جگہوں کو ”مَصَانِعَ“ کہا گیا ہے۔ ”لَعَلَّكُمْ“ ”لَعَلَّ“ کا معنی ہے ”امید ہے، شاید“ یہاں یہ ”کَأَنَّ“ کا مفہوم ادا کر رہا ہے ”گویا، جیسے۔“ یہ ان کا دوسرا کام ہے جس پر ہود ؑ نے انکار کا اظہار فرمایا، اس سے ان کی ہمیشہ زندہ رہنے کی حرص اور لمبی امید کا اظہار ہوتا تھا۔ یعنی تمہاری دوسری قسم کی تعمیرات ایسی ہیں جو اگرچہ استعمال کے لیے ہیں مگر انھیں شاندار، مزین اور مستحکم بنانے کے لیے تم اپنی دولت، محنت اور قابلیت اس طرح صرف کرتے ہو جیسے تمہیں ہمیشہ یہیں رہنا ہے، اس کے سوا تمہیں کسی اور زندگی کی فکر ہی نہیں۔
ابن کثیر نے ابن ابی حاتم سے نقل فرمایا ہے کہ ابوالدرداء ؓ نے ”غوطہ“ میں مسلمانوں کی بنائی ہوئی عمارتیں اور شجر کاری دیکھی تو ان کی مسجد میں جا کر آواز دی : ”اے دمشق والو !“ وہ ان کے پاس جمع ہوگئے، تو انھوں نے اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا : ”کیا تم حیا نہیں کرتے ؟ کیا تم حیا نہیں کرتے ؟ تم وہ کچھ جمع کر رہے ہو جو کھاتے نہیں اور وہ عمارتیں بنا رہے ہو جن میں رہتے نہیں اور اس کی امید کرتے ہو جو کبھی حاصل نہیں کرسکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ تم سے پہلے کئی صدیاں گزریں، وہ لوگ جمع کرتے تھے، پھر اس کی حفاظت کرتے تھے، عمارتیں بناتے تھے اور بہت مضبوط بناتے تھے، امیدیں باندھتے تھے اور بہت لمبی باندھتے تھے، پھر ان کی امید دھوکا نکلی اور ان کی جماعت ہلاک ہوگئی اور ان کی رہائش گاہیں قبریں بن گئیں۔ یاد رکھو ! قوم عاد عدن سے عمان تک گھوڑوں اور اونٹوں کے مالک تھے، اب کون ہے جو مجھ سے ان کی میراث دو درہم میں خرید لے ؟“ دکتور حکمت بن بشیر نے فرمایا، اس کی سند حسن ہے۔
Ayah 26:130وَاِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِيْنَ : یہ ان کا تیسرا کام ہے جس پر ہود ؑ نے انکار فرمایا کہ تم ایسے سنگدل اور انسانیت سے عاری ہو کہ کمزوروں کے لیے تمہارے دل میں کوئی رحم نہیں، وہ گرد و پیش کی کمزور قومیں ہوں یا تمہارے پست طبقہ کے لوگ، جب انھیں پکڑتے ہو تو بہت بےرحم ہو کر پکڑتے ہو، دنیا کے لالچ اور تکبر نے انسانی اخلاق کا لباس تمہارے جسموں سے اتار دیا ہے۔ اس کا باعث بھی یہی تھا کہ ان کا اللہ کی توحید اور یوم آخرت پر ایمان نہ تھا۔ ایمان سنگدلی کی اجازت نہیں دیتا۔ مومن قتل کرتے وقت بھی سنگدلی سے کام نہیں لیتا۔ عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ أَعَفَّ النَّاسِ قِتْلَۃً أَھْلُ الْإِیْمَانِ) [ مسند أحمد : 1؍393، ح : 3728، قال المحقق حدیث حسن ] ”یقیناً قتل کرنے میں سب لوگوں سے زیادہ اچھا طریقہ اختیار کرنے والے اہل ایمان ہوتے ہیں۔“
Ayah 26:131فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوْنِ : یہ دعوت کا خلاصہ ہے جو تقریر کے شروع میں بیان فرمایا، تاکید کے لیے اسے پھر بیان فرمایا ہے کہ اللہ سے ڈر کر اس اکیلے کی عبادت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔
Ayahs 26:132–134وَاتَّــقُوا الَّذِيْٓ اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَ۔۔ : نصیحت کرتے ہوئے ہود ؑ نے انھیں اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلا کر تیسری بار پھر اس سے ڈرایا۔ پہلی آیت میں مجمل طور پر نعمتیں ذکر فرمائیں، پھر مفصل طریقے سے بیان کیں، یعنی سوچو جس مالک نے تمہیں اتنی نعمتیں عطا فرمائیں وہ انھیں چھین بھی سکتا ہے۔
Ayah 26:135اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ : نصیحت کی ابتدا ڈرانے سے کی تھی، اب اسے ختم بھی اسی پر کیا، کیونکہ خوف ہی انسان کو غلط راستے سے پلٹنے پر آمادہ کرسکتا ہے۔ یعنی اگر تم ایمان نہ لائے تو میں تم پر ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ ”بہت بڑے عذاب سے“ کہنے کے بجائے فرمایا ”بہت بڑے دن کے عذاب سے“ مطلب یہ ہے کہ جب وہ دن ہی بہت بڑا ہے تو اس کا عذاب کتنا بڑا ہوگا۔
Ayah 26:136قَالُوْا سَوَاۗءٌ عَلَيْنَآ اَوَعَــظْتَ۔۔ : مفردات راغب میں ہے ”وعظ“ ایسا ڈانٹنا ہے جس کے ساتھ خوف دلانا بھی ہو۔ خلیل نے فرمایا : ”اس کا معنی ہے ایسے اچھے طریقے سے نصیحت کرنا جس سے دل نرم ہوجائیں۔“ یہ ہود ؑ کی قوم کا جواب ہے کہ تم نصیحت کرو یا نہ کرو، ہم تمہاری بات کسی طرح ماننے والے نہیں۔ ان الفاظ سے ان کا ہود ؑ کے ساتھ بےپروائی اور تحقیر کا سلوک نمایاں ہو رہا ہے۔ سورة ہود (53) میں ان کے جواب کے مزید الفاظ ملاحظہ فرمائیں۔
Ayahs 26:137–138اِنْ ھٰذَآ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِيْنَ۔۔ : یعنی یہ بت پرستی، یادگاریں اور عالی شان عمارتیں بنانا اور اپنے مخالفین کے ساتھ ایسا سلوک کرنا کوئی ہمارا شیوہ ہی نہیں، یہی کچھ ہمارے پہلے باپ دادا کرتے آئے ہیں۔ ان کا دین بھی یہی تھا اور تمدن بھی یہی، نہ ان پر کوئی عذاب آیا نہ ہم پر آئے گا۔ آیت کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نصیحت کی یہ باتیں جو تم ہم سے کر رہے ہو کوئی نئی نہیں ہیں، پہلے بھی ایسے خبطی گزرے ہیں جو اس طرح کی باتیں کرتے رہے ہیں۔ ہم پر ان کا کچھ اثر نہیں، نہ ہمیں کوئی عذاب ہوگا۔
Ayah 26:139فَكَذَّبُوْهُ فَاَهْلَكْنٰهُمْ : اللہ تعالیٰ نے بہت سی قوموں کو پانی کے ذریعے سے عذاب دیا اور جن لوگوں کو اپنی قوت و طاقت کا بہت زعم تھا، اللہ تعالیٰ نے انھیں ہوا کے ذریعے سے عذاب دیا جو پانی سے کہیں بڑھ کر قوت و طاقت رکھتی ہے، یہ عذاب آندھی کی صورت میں تھا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل ان پر چلی اور اس نے ان کی ہر چیز کو تباہ کر ڈالا۔ دیکھیے سورة حٰم السجدہ (16) ، احقاف (24، 25) اور حاقہ (6، 7)۔
اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً۔۔ : بیشک ان لوگوں کے قصے میں مشرکین مکہ کے لیے ایک عظیم درس عبرت ہے، مگر نہ ان کے اکثر لوگ ایمان لائے، نہ ان کے اکثر ایمان لانے والے ہیں۔
Ayah 26:140وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ : ظالموں پر عذاب اس کی عزت اور غلبے کا اظہار ہے اور ایمان والوں کی نجات اس کی رحمت کا اظہار ہے۔
Ayahs 26:141–145كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِيْنَ۔۔ : ثمود اور صالح ؑ کا قصہ اس سے پہلے سورة اعراف (73 تا 79) ، ہود (61 تا 68) ، حجر (80 تا 84) اور بنی اسرائیل (59) میں گزر چکا ہے۔ مزید دیکھیے سورة نمل (45 تا 53) ، ذاریات (43 تا 45) ، قمر (23 تا 31) ، فجر (9) اور شمس (11)۔
اِنِّىْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ : صالح ؑ کی قوم بھی ان کی امانت و دیانت اور غیر معمولی قابلیت کو مانتی تھی۔ (دیکھیے ہود : 62) قوم کا انھیں ”اِنَّمَآ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِيْنَ“ کہنے سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ نبوت کے اعلان سے پہلے وہ ان کے نزدیک نہایت سمجھ دار اور عقل مند تھے اور ان کی حالت کی تبدیلی ان کے خیال سے جادو کا نتیجہ تھی۔
Ayahs 26:146–150اَتُتْرَكُوْنَ فِيْ مَا هٰهُنَآ اٰمِنِيْنَ۔۔ : قوم عاد کی طرح یہ لوگ بھی اللہ کی عبادت سے کنارہ کش ہوچکے تھے، بتوں کے پجاری اور قیامت کے منکر تھے، جس کے نتیجے میں ان کی ساری تگ و دو دنیا کی آسائشوں کے حصول اور عیش پرستی تک محدود تھی، آخرت کی فکر اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کے احساس سے یکسر عاری تھے، ان کے بدترین اور مفسد لوگ ان کے سردار اور راہ نما بنے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف صالح ؑ کو بھیجا، جنھوں نے اوپر والی آیات کے مطابق انھیں اللہ سے ڈرنے اور اپنے رسول کی اطاعت کرنے کی تلقین فرمائی اور بتایا کہ وہ ان سے کسی بھی قسم کی مالی منفعت کے طلب گار نہیں ہیں۔ اس کے بعد انھیں اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلا کر اور اس کے عذاب سے ڈرا کر نصیحت فرمائی۔ قوم ثمود کی آبادی حجر کے علاقہ میں تھی، جو مدینہ منورہ اور تبوک کے درمیان واقع ہے اور آج کل اسے ”مدائن صالح“ کہا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ تبوک کو جاتے ہوئے یہاں سے گزرے تھے، اس کی تفصیل سورة اعراف (73) میں دیکھیے۔ یعنی یہاں دنیا کے اندر اپنے علاقے میں جو تم امن سے رہ رہے ہو، کسی دشمن کا خوف نہیں، ضرورت کی ہر چیز تمہیں میسر ہے اور راحت و آرام کے تمام اسباب بھی، تو کیا تمہیں ان باغوں چشموں، کھیتوں کے نرم و نازک خوشوں والے درختوں اور پہاڑوں کو تراش کر نہایت مہارت کے ساتھ بنائی پائیدار اور خوبصورت عمارتوں میں ہمیشہ رہنے دیا جائے گا ؟ جب یہ طے شدہ ہے کہ ایسا نہیں ہوگا، بلکہ ہر حال میں تمہیں مالک کے سامنے پیش ہو کر جواب دہ ہونا ہے، تو اللہ سے ڈرو اور اس سوال کا جواب سوچ لو کہ اس کا دیا کھاتے ہو اور دوسرے کے گن گاتے ہو اور میری اطاعت کرو، کیونکہ اس نے مجھے تمہاری ہدایت کے لیے بھیجا ہے۔
وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ۔۔ : عاد کے تمدن کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ اونچے ستونوں والی عمارتیں بناتے تھے، جب کہ ثمود کے تمدن کی سب سے نمایاں خصوصیت، جس کی بنا پر وہ مشہور تھے، یہ تھی کہ وہ پہاڑوں کو تراش تراش کر ان کے اندر عمارتیں بناتے تھے۔ چناچہ سورة فجر (7) میں عاد کو ”ذَاتِ الْعِمَاد“ (ستونوں والے) کہا گیا ہے اور ثمود کے متعلق فرمایا : (وَثَمُوْدَ الَّذِيْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بالْوَادِ) [ الفجر : 9 ] ”جنھوں نے وادی میں چٹانوں کو تراشا۔“ اس کے علاوہ وہ اپنے میدانی علاقوں میں بھی بڑے بڑے محل تعمیر کرتے تھے، فرمایا : (تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا) [ الأعراف : 74 ] ”تم اس کے میدانوں میں محل بناتے ہو۔“ ان تعمیرات سے ان کی غرض وغایت اپنی شان و شوکت، مہارت اور کمال فن کی نمائش تھی، نہ کہ کوئی حقیقی ضرورت۔ بگڑے ہوئے معاشروں کا یہی حال ہوتا ہے کہ ایک طرف لوگوں کو سر چھپانے کے لیے جگہ نہیں ملتی تو دوسری طرف امراء اور اہل ثروت کمزوروں کی مدد کے بجائے اپنی ضرورت سے زیادہ عمارتیں بنانے کے بعد بلاضرورت نمائشی یادگاریں تعمیر کرنے لگتے ہیں۔
تفہیم القرآن میں ہے : ”ثمود کی ان عمارات میں سے کچھ اب بھی باقی ہیں، جنھیں 1959 ء کے دسمبر میں میں نے خود دیکھا ہے۔ یہ جگہ مدینہ اور تبوک کے درمیان حجاز کے مشہور مقام ”العلاء“ (جسے عہد نبوی میں وادی القریٰ کہا جاتا تھا) سے چند میل کے فاصلے پر بجانب شمال واقع ہے۔ آج بھی اس جگہ کو مقامی باشندے الحجر اور مدائن صالح کے ناموں ہی سے یاد کرتے ہیں۔ اس علاقے میں ”العلاء“ تو اب بھی نہایت سرسبز و شاداب وادی ہے، جس میں کثرت سے چشمے اور باغات ہیں، مگر ”الحجر“ کے گرد و پیش بڑی نحوست پائی جاتی ہے، آبادی برائے نام ہے، روئیدگی بہت کم ہے، چند کنویں ہیں، انھی میں سے ایک کنویں کے متعلق مقامی آبادی میں یہ روایت چلی آرہی ہے کہ صالح ؑ کی اونٹنی اسی سے پانی پیتی تھی۔ اب وہ ترکی عہد کی ایک ویران چھوٹی سی چوکی کے اندر پایا جاتا ہے اور بالکل خشک پڑا ہے۔ اس علاقے میں جب ہم داخل ہوئے تو ”العلاء“ کے قریب پہنچتے ہی ہر طرف ایسے پہاڑ نظر آئے جو بالکل کھیل کھیل ہوگئے ہیں، صاف محسوس ہوتا تھا کہ کسی سخت ہولناک زلزلے نے انھیں سطح زمین سے چوٹی تک جھنجھوڑ کر قاش قاش کر رکھا ہے۔ اسی طرح کے پہاڑ ہمیں مشرق کی طرف ”العلاء“ سے خیبر جاتے ہوئے تقریباً پچاس (50) میل تک اور شمال کی طرف ریاست اردن کے حدود میں 30، 40 میل کے اندر ملتے چلے گئے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ تین چار سو میل لمبا اور سو میل چوڑا ایک علاقہ تھا جسے ایک زلزلہ عظیم نے ہلا کر رکھ دیا تھا۔“
Ayahs 26:151–152وَلَا تُطِيْعُوْٓا اَمْرَ الْمُسْرِفِيْنَ۔۔ : یعنی ان لوگوں کا کہنا مت مانو جو اخلاق و تہذیب کی ساری حدیں پھلانگ کر شتر بےمہار بن گئے ہیں۔ مراد ان کے وہ سردار اور امراء ہیں جو شرک و کفر کے داعی اور حق کی مخالفت میں پیش پیش تھے اور جن کی زیر قیادت ان کا بگڑا ہوا نظام زندگی چل رہا تھا، ایسے لوگ ہمیشہ زمین میں فساد ہی پھیلاتے ہیں، ان کے ہاتھوں اصلاح کبھی نہیں ہوسکتی۔ قرآن مجید کے دوسرے مقام سے معلوم ہوتا ہے کہ ان ”الْمُسْرِفِيْنَ“ میں سب سے پیش پیش وہ نو (9) بدمعاش تھے جنھوں نے ملک میں فساد مچا رکھا تھا اور آخر کار قوم کی تباہی کا سبب بنے، فرمایا : (وَكَانَ فِي الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ) [ النمل : 48 ] ”اور اس شہر میں نو (9) شخص تھے، جو اس سرزمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔“
Ayah 26:153قَالُوْٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِيْنَ : ”مَسْحُوْرِیْنَ“ جن پر جادو کیا گیا ہو۔ ”لْمُسَحَّرِيْنَ“ باب تفعیل سے ہے، اس میں مبالغہ ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”تو تو انھی لوگوں سے ہے جن پر زبردست جادو کیا گیا ہے۔“ جب وہ لوگ صالح ؑ کی دعوت پر کوئی اعتراض نہ کرسکے تو عامۃ الناس کو بیوقوف بنانے کے لیے کہنے لگے، زبردست جادو کی وجہ سے تیری عقل ماری گئی ہے۔
Ayah 26:154مَآ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا۔۔ : اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ تو ہمارے جیسا بشر ہے اور بشر رسول نہیں ہوسکتا، جیسا کہ تمام پیغمبروں کے امتیوں نے بشر ہونے کی وجہ سے ان کی رسالت کا انکار کیا۔ (دیکھیے بنی اسرائیل : 94) دوسرا یہ کہ تو ہمارے جیسا ایک بشر ہے، پھر تجھ میں کیا خصوصیت ہے کہ ہمیں چھوڑ کر تجھے رسالت عطا ہوئی ہے۔ (دیکھیے قمر : 25) ”فَاْتِ بِاٰيَةٍ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ“ اس لیے اپنی اس خصوصیت کی دلیل کے طور پر تجھے کوئی معجزہ پیش کرنا ہوگا، جس سے ثابت ہوجائے کہ واقعی تجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے۔
Ayahs 26:155–156قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے اس اونٹنی کو ”آیَۃٌ بَیِّنَۃٌ“ اور ”آیَۃٌ مُبْصِرَۃٌ“ (واضح نشانی و معجزہ) قرار دیا ہے۔ دیکھیے سورة اعراف (73) ، ہود (64) اور بنی اسرائیل (59) اس سے معلوم ہوا کہ وہ عام قسم کی اونٹنی نہ تھی بلکہ اس کی پیدائش اور ظاہر ہونے میں ضرور کوئی ایسی بات تھی جس کی بنا پر اسے معجزہ قرار دیا گیا۔ ”الصحیح المسبور“ میں ہے کہ ابن حبان نے صحیح سند کے ساتھ ابوطفیل عامر بن واثلہ ؓ سے روایت کی ہے : ”صالح ؑ نے انھیں فرمایا، نکلو ! تو وہ ایک چٹان کی طرف نکلے، وہ چٹان اس طرح لرزی جس طرح حاملہ اونٹنی کو درد زہ ہوتا ہے، پھر وہ پھٹی اور اس کے درمیان سے اونٹنی نکلی تو صالح ؑ نے ان سے کہا : (وَيٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَــةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰيَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِيْٓ اَرْضِ اللّٰهِ وَلَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْۗءٍ فَيَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِيْبٌ) [ ہود : 64 ] ”یہ اللہ کی اونٹنی ہے، تمہارے لیے عظیم نشانی، پس اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے اور اسے کوئی تکلیف نہ پہنچاؤ، ورنہ تمہیں ایک قریب عذاب پکڑ لے گا۔“ اگرچہ اس روایت کی سند صحیح ہے مگر یہ صحابی کا قول ہے۔
ابن کثیر ؓ لکھتے ہیں : ”قوم کے بڑے بڑے سردار جمع ہوئے اور انھوں نے ایک چٹان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صالح ؑ سے مطالبہ کیا کہ اس چٹان سے ہمارے دیکھتے دیکھتے ایک پوری جسامت کی اونٹنی نکالو، جس کی یہ یہ صفات ہوں۔ صالح ؑ نے ان سے پختہ عہد لیا کہ اگر ان کی فرمائش پوری کردی جائے تو وہ ایمان لا کر ان کی پیروی اختیار کریں گے۔ جب انھوں نے قول دے دیا تو صالح ؑ اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کے لیے کھڑے ہوئے کہ ان کی فرمائش پوری کردی جائے، چناچہ وہ چٹان جس کی طرف انھوں نے اشارہ کیا تھا، یکایک پھٹی اور اس میں سے ان کی مطلوبہ صفات کی اونٹنی ظاہر ہوئی، اسے دیکھ کر کچھ لوگ ایمان لے آئے، لیکن اکثر اپنے کفر پر جمے رہے، اس پر صالح ؑ نے ان سے فرمایا : (قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ) [ ھود : 64 ] ”یہ اللہ کی اونٹنی ہے، تمہارے لیے عظیم نشانی، پس اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے اور اسے کوئی تکلیف نہ پہنچاؤ، ورنہ تمہیں ایک قریب عذاب پکڑ لے گا۔“ مفسر مراغی لکھتے ہیں : ”اس قسم کی روایات کو سچا ماننا ہم پر اسی وقت لازم ہے جب وہ صحیح خبروں سے ثابت ہوں۔“ مطلب یہ ہے کہ یہ روایات رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں ہیں، تاہم اس میں شک نہیں کہ وہ عام اونٹنی نہ تھی بلکہ معجزانہ شان رکھنے والی اونٹنی تھی۔ اس اونٹنی کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے مروی ایک صحیح حدیث مسند احمد کے حوالے سے سورة اعراف (73) میں گزر چکی ہے۔
لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ : قرآن کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم کو صرف اتنا حکم نہ تھا کہ ہر دوسرے روز یہ اونٹنی تمہارے سارے علاقے کا پانی پیے گی، بلکہ یہ حکم بھی تھا کہ یہ تمہارے کھیتوں اور باغوں میں جہاں چاہے گی جائے گی اور جو چاہے گی کھائے گی، اسے کوئی نقصان نہ پہنچانا۔ دیکھیے سورة اعراف (73) اور ہود (64)۔
Ayah 26:157فَعَقَرُوْهَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِيْنَ : اللہ تعالیٰ نے یہاں ان سب کے متعلق فرمایا کہ انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں، حالانکہ کونچیں کاٹنے والا صرف ایک شخص ”قدار“ تھا، جیسا کہ سورة شمس میں ہے : (اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا) [ الشمس : 12 ] ”جب اس (قوم) کا سب سے بڑا بدبخت اٹھا۔“ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے یہ کام پوری قوم کے مشورے اور ان کی فرمائش پر کیا تھا، جیسا کہ سورة قمر میں ہے : (فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ) [ القمر : 29 ] ”تو انھوں نے اپنے ساتھی کو پکارا، سو اس نے (اسے) پکڑا، پس کونچیں کاٹ دیں۔“ اس لیے سبھی مجرم قرار دیے گئے۔
فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِيْنَ : سورة ہود میں ہے کہ اونٹنی کو قتل کرنے پر صالح ؑ نے انھیں تین دن کی مہلت دی، چناچہ جب حسب وعدہ عذاب کے آثار نمودار ہونے لگے تو وہ ندامت کا اظہار کرنے لگے، مگر وہ وقت ندامت اور توبہ کا نہ تھا۔ (دیکھیے مومن : 85) اور ان کی ندامت رسول کو جھٹلانے پر نہ تھی، بلکہ عذاب میں مبتلا ہونے پر تھی۔