Ayahs 26:38–43فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِيْقَاتِ۔۔ : سورة طٰہٰ (59) میں اس مقرر کردہ وقت اور مقام کا ذکر گزر چکا ہے۔
Ayahs 26:44–46وَقَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ۔۔ : فرعون کی تعظیم کے لیے اس کی عزت کی قسم کھائی کہ ہم ضرور ہی جیتیں گے۔ اس سے جادوگروں کا مقصد فرعون کو خوش اور موسیٰ ؑ کو مرعوب کرنا تھا۔ جاہلیت میں لوگ اس قسم کی قسمیں کھایا کرتے تھے، اسلام میں اس سے منع کردیا گیا۔ عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أَلاَ إِنَّ اللّٰہَ یَنْھَاکُمْ أَنْ تَحْلِفُوْا بآبَاءِکُمْ مَنْ کَانَ حَالِفًا فَلْیَحْلِفْ باللّٰہِ أَوْ لِیَصْمُتْ) [ بخاری، الأیمان والنذور، باب لا تحلفوا بآبائکم : 6646 ] ”خبر دار ! اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے باپوں کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے، جسے قسم کھانی ہو وہ اللہ کی قسم کھائے، یا خاموش رہے۔“ اس کے باوجود آج کل بعض مسلمان بھی اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات کی قسم کھانے پر مطمئن نہیں ہوتے، بلکہ اپنے پیر و مرشد یا کسی بزرگ کی قبر کی قسم کھاتے ہیں، یا عام رواج کے مطابق کہہ دیتے ہیں مجھے تیری قسم یا تیرے سر کی قسم وغیرہ، اس طرح وہ دوسروں کی عظمت کا اظہار کرتے ہیں، تو جس طرح اللہ تعالیٰ کی جھوٹی قسم کھانا گناہ ہے مخلوق کی سچی قسم کھانا اس سے بھی بڑھ کر گناہ ہے۔
Ayahs 26:47–48قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔۔ :”ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لے آئے“ کے بعد ”موسیٰ اور ہارون کے رب پر“ اس لیے کہا کہ کہیں فرعون کو شبہ نہ ہو کہ انھوں نے اسے تمام جہانوں کا رب قرار دے دیا ہے، کیونکہ وہ بھی اپنے آپ کو رب کہتا تھا۔ (کبیر)
Ayahs 26:49–50قَالُوْا لَا ضَيْرَ۔۔ : ”لَا ضَيْرَ“ کوئی نقصان نہیں۔ ”ضَارَ یَضِیْرُ ضَیْرًا“ اور ”ضَرَّ یَضُرُّ ضَرًّا“ ہم معنی ہیں، یعنی بہرحال اللہ کی طرف تو لوٹنا ہی ہے، اس طرح مریں گے تو شہادت کا درجہ پائیں گے اور صبر کا اجر ملے گا۔ (وحیدی)
Ayah 26:51اَنْ كُنَّآ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِيْنَ : یعنی دلیل واضح ہوجانے کے بعد قوم فرعون میں سے سب سے پہلے ہم ایمان لائے۔
نوٹ ! آیت (41) سے (ا 5) تک کی تفسیر کے لیے سورة اعراف (113 تا 126) اور سورة طٰہٰ (65 تا 75) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 26:52وَاَوْحَيْنَآ اِلٰى مُوْسٰٓي اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِيْٓ۔۔ : اوپر کے واقعات کے بعد بنی اسرائیل کی ہجرت کا ذکر شروع ہوتا ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے بعد فوراً ہی موسیٰ ؑ کو بنی اسرائیل سمیت مصر سے نکل جانے کا حکم دے دیا گیا، بلکہ یہاں کئی سال کی تاریخ چھوڑ دی گئی ہے، جس کا ذکر سورة اعراف (127 تا 135) اور سورة یونس (83 تا 89) میں گزر چکا ہے اور جس کا ایک حصہ آگے سورة مؤمن (23 تا 46) اور سورة زخرف (46 تا 56) میں آ رہا ہے۔ یہاں چونکہ سلسلہ کلام کی مناسبت سے صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ جس فرعون نے صریح نشانیاں دیکھ لینے کے باوجود یہ ہٹ دھرمی دکھائی تھی اس کا انجام آخر کار کیا ہوا۔
3 ان آیات میں ایک بہت بڑی عبرت یہ ہے کہ حق واضح ہونے کے بعد اسے تسلیم کرنے میں ایک طرف جادوگر ہیں، جنھوں نے ایمان لانے میں ایک لمحہ کی تاخیر نہیں کی اور ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی پر چڑھانے کی دھمکیاں بھی انھیں حق سے برگشتہ نہیں کرسکیں، دوسری طرف فرعون اور اس کی قوم ہے، جو سالہا سال تک ان معجزوں کے علاوہ مزید نشانیاں دیکھتے رہے اور بار بار ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزادی دینے کا وعدہ کرتے رہے، اس کے باوجود غرق ہونے تک ایمان سے محروم رہے۔ سچ فرمایا موسیٰ ؑ نے : (اِنْ هِىَ اِلَّا فِتْنَتُكَ ۭ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَاۗءُ وَتَهْدِيْ مَنْ تَشَاۗءُ) [ الأعراف : 155 ] ”یہ نہیں ہے مگر تیری آزمائش، جس کے ساتھ تو گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور ہدایت بخشتا ہے جسے چاہتا ہے۔“ سورت کے آغاز میں رسول اللہ ﷺ کو کفار کے ایمان نہ لانے پر تسلی دیتے ہوئے اسی حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے۔ دیکھیے اسی سورت کی آیات (3 تا 9)۔
3 جب فرعون کا ظلم و ستم حد سے بڑھ گیا تو موسیٰ ؑ نے فرعون اور اس کی قوم کے خلاف اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ (دیکھیے یونس : 88) اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور حکم دیا کہ میرے (مسلم) بندوں کو (بنی اسرائیلی ہوں یا کوئی اور) لے کر راتوں رات نکل جاؤ اور یاد رکھو ! تمہارا تعاقب کیا جائے گا، اس لیے اتنا فاصلہ طے کرلو کہ تعاقب کرنے والے جلدی تم تک نہ پہنچ سکیں۔ چناچہ ایسے موقع پر معروف طریقے کے مطابق پورے مصر کے بنی اسرائیل کے لیے ایک وقت اور ایک جگہ مقرر کردی گئی، جس پر وہ موسیٰ ؑ کے ساتھ جلد از جلد فرعون کی سلطنت (مصر) سے نکل جانے کے لیے رات کو روانہ ہوگئے۔ بعض تفاسیر میں ہے کہ ان میں سے ہر ایک نے قبطیوں سے عاریتاً زیور مانگ لیے تھے جنھیں وہ ساتھ لے کر ہی روانہ ہوگئے، مگر یہ بات درست نہیں۔ دیکھیے سورة طٰہٰ (87) کی تفسیر۔
Ayah 26:53فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدَاۗىِٕنِ حٰشِرِيْنَ : صبح ہوئی اور فرعون اور اس کے لوگوں نے دیکھا کہ بنی اسرائیل جا چکے ہیں تو وہ سخت برافروختہ ہوئے، وہ کسی صورت انھیں جانے نہیں دینا چاہتے تھے، کیونکہ وہ ان سے گھروں اور کھیتوں کی محنت مشقت کی بیگار لیتے تھے۔ اس لیے انھیں واپس لانے کے لیے فرعون نے فوجیں اکٹھی کرنے کے لیے تمام شہروں میں آدمی بھیج دیے۔
Ayah 26:54اِنَّ هٰٓؤُلَاۗءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِيْلُوْنَ : ”شِرْ ذِمَۃٌ“ چھوٹا سا گروہ، اس نے انھیں مزید حقیر اور بےوقعت بتانے کے لیے ”قَلِيْلُوْنَ“ کے ساتھ تاکید کی، جو جمع قلت کا صیغہ ہے۔ ”هٰٓؤُلَاۗءِ“ کے ساتھ اشارہ بھی حقارت کے اظہار کے لیے ہے کہ یہ لوگ ایک چھوٹی سی جماعت اور تھوڑے سے لوگ ہیں، ہمیں ان کی کیا پروا ہے، ہم آسانی سے انھیں نیست و نابود کرسکتے ہیں اور چاہیں تو معمولی وسائل کے ساتھ انھیں واپس لاسکتے ہیں۔ ان الفاظ کے ساتھ وہ اپنے آپ کو اور اپنی قوم کو دلیری دے رہا تھا، جب کہ اس سے اس کا سخت خوف زدہ ہونا ظاہر ہو رہا تھا کہ اگر واقعی وہ اتنے ہی قلیل اور بےوقعت ہیں تو تمہیں اتنی فوجیں اکٹھی کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ یہاں مفسرین نے بائبل سے متاثر ہو کر لکھا ہے کہ اس وقت بنی اسرائیل کی تعداد بچوں اور بوڑھوں کے علاوہ چھ لاکھ تھی، مگر یہ بات عقلاً ممکن ہی نہیں۔ حافظ ابن کثیر ؓ نے انھیں مبالغہ قرار دیا ہے۔ جوانوں کی اتنی بڑی تعداد اگر موسیٰ ؑ کے ساتھ ہوتی تو وہ کبھی ہجرت کا راستہ اختیار نہ کرتے اور چھ لاکھ کو ”لَشِرْذِمَةٌ قَلِيْلُوْنَ“ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ مفسر مراغی لکھتے ہیں : ”جو بات یقین سے کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل فرعون کے لشکر سے بہت کم تھے، لیکن ہم کسی معین عدد کا یقین نہیں کرسکتے، تورات اور تاریخ کی کتابوں میں جو مبالغہ آمیز باتیں ہیں ان کی تصدیق بہت مشکل ہے، ان پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے، ہمارے لیے بہتر ہے کہ ان کی تفاصیل میں نہ پڑیں۔ ابن خلدون نے اپنی تاریخ کے مقدمہ میں ان روایات کو باطل قرار دیا ہے اور ان میں موجود غلو کی وضاحت کی ہے، جسے نہ عقل قبول کرتی ہے اور نہ صحیح علمی بحث کے سامنے وہ قائم رہ سکتی ہیں۔“
Ayah 26:55وَاِنَّهُمْ لَنَا لَغَاۗىِٕظُوْنَ : وہ ہمیں غصہ دلانے والے ہیں کہ وہ ہمیشہ ہم سے آزادی کا مطالبہ کر کے بدامنی اور شور و شر پھیلاتے رہتے ہیں اور اب ہمارے پوچھے بغیر ہمارے ہاتھ سے نکل گئے۔ بعض مفسرین نے غصہ دلانے کے اسباب میں سے ان کا زیورات لے جانا بھی لکھا ہے، مگر یہ بات ثابت نہیں۔
Ayah 26:56وَاِنَّا لَجَمِيْعٌ حٰذِرُوْنَ : یعنی اگرچہ وہ چھوٹا سا گروہ اور تھوڑے سے لوگ ہیں، مگر ہمیں ہر وقت ہوشیار اور چوکنا رہنا ہے اور ہر ایسے فتنے کا پہلے ہی سدباب کرنا ہے جو کسی وقت بھی پھیل سکتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ اس نے اپنی قوم کو ان کا پیچھا کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے سب سے پہلے یہ کہا کہ وہ قلیل تعداد والے چھوٹا سا گروہ ہیں، ان کے تعاقب میں کوئی مشکل درپیش نہیں، پھر یہ ذکر کیا کہ وہ ہمارے شدید دشمن ہیں اور انھوں نے ہمیں غصہ دلا دیا ہے، اس لیے ان کا ہر حال میں پیچھا کرنا ہوگا اور آخر میں اس نے لازمی احتیاطی تدبیر کے طور پر ان کے تعاقب کو ضروری قرار دیا۔ یہ سب باتیں اس نے اپنے خوف کو چھپانے کے لیے کیں کہ اتنا بڑا بادشاہ ہو کر ان بےسرو سامان لوگوں سے ڈر رہا ہے۔
Ayahs 26:57–58فَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ۔۔ : چند ہی دنوں میں فرعون نے بنی اسرائیل کے تعاقب کے لیے ایک لشکر جرار تیار کرلیا۔ اس کے نزدیک تو یہ کام نہایت عقل مندی کا تھا کہ اس نے پورے ملک سے اپنی ساری قوت اکٹھی کرلی، تاکہ بنی اسرائیل کو زبردستی دوبارہ اپنی غلامی میں واپس لے آئے، یا انھیں دنیا سے مٹا دے، مگر اللہ تعالیٰ کی تدبیر غالب ہے۔ اس نے فرعون کی چال اسی پر پلٹ دی، اس کی سلطنت کے بڑے بڑے ستون پورے ملک سے اکٹھے ہوگئے، تمام فوجیں بھی یکجا ہوگئیں اور ایک ہی وقت میں سمندر میں غرق کردی گئیں۔ اگر وہ بنی اسرائیل کے لیے فوجیں جمع نہ کرتا تو زیادہ سے زیادہ ایک قوم اس کے ہاتھ سے نکل جاتی، مگر اس کی سلطنت اور عیش و عشرت کے اسباب باقی رہتے۔ اب اس کی تدبیر کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ خود، اس کی افواج اور اس کے امراء و وزراء، جو اس کی سلطنت کا خلاصہ تھے، سب سمندر میں غرق ہوگئے۔ یہ اس قادر و مختار کا کام تھا کہ ایک طرف اس نے فرعون کو، اس کی پوری قوت کو اور اس کی قوم کے سرداروں کو ان کے باغوں، چشموں، خزانوں اور عالی شان مقامات سے نکالا اور سمندر میں لا کر غرق کردیا اور دوسری طرف بنی اسرائیل کو خیریت کے ساتھ مصر سے نکال کر آزادی سے ہمکنار کردیا۔
Ayah 26:59كَذٰلِكَ ۭ وَاَوْرَثْنٰهَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ”كَذٰلِكَ“ کو مبتدا محذوف کی خبر بنالیں ”أَيْ اَلْأَمْرُ کَذٰلِکَ“ یا فعل محذوف کا فاعل ”أَيْ وَقَعَ کَذٰلِکَ“ یعنی اگرچہ یہ بات ناممکن دکھائی دیتی ہے، مگر ایسے ہی ہوا اور ہم نے ان باغوں، چشموں، خزانوں اور عالی شان جگہوں کا وارث بنی اسرائیل کو بنادیا۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اس آیت سے ظاہر ہو رہا ہے کہ فرعون کے غرق ہونے کے بعد بنی اسرائیل مصر کی سر زمین کے مالک بن گئے، جب کہ بنی اسرائیل جہاد سے انکار کی پاداش میں چالیس برس تو صحرا ہی میں دھکے کھاتے رہے، اس کے بعد بھی معروف یہی ہے کہ ان کی پیش قدمی شام کی طرف ہوئی اور شام ہی یوشع بن نون اور بعد میں داؤد اور سلیمان کی سلطنت کا مرکز تھا۔ تاریخ میں ان کی مصر واپسی کا کہیں ذکر نہیں۔
اس سوال کا حل دو طرح سے ہے، ایک وہ جو بہت سے مفسرین نے اختیار کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بہت سے باغوں، چشموں، خزانوں اور عمدہ جگہوں کا وارث بنایا، مگر مصر میں نہیں بلکہ شام میں۔ مصر کے باغوں، چشموں وغیرہ کی وارث اور قومیں بنیں۔ ان مفسرین کے نزدیک سورة دخان (28) میں مذکور : (كَذٰلِكَ ۣوَاَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِيْنَ) (اسی طرح ہوا اور ہم نے ان کا وارث اور لوگوں کو بنادیا) کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے سر زمین مصر کا وارث بنی اسرائیل کے سوا اور لوگوں کو بنادیا۔ ابن عاشور، بقاعی اور بہت سے مفسرین کی یہی رائے ہے۔
دوسرا حل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مصر کے باغوں، چشموں اور خزانوں وغیرہ کا مالک بالآخر بنی اسرائیل کو بنادیا، مگر ان کو نہیں جو موسیٰ ؑ کے ہمراہ ہجرت کرکے وہاں سے نکلے تھے، بلکہ بنی اسرائیل ہی کی ایک اور نسل کو یہ نعمت عطا ہوئی اور یہی مطلب ہے اس آیت کا : (كَذٰلِكَ ۣوَاَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِيْنَ) [ الدخان : 28 ] مجھے اس رائے پر اطمینان ہوتا ہے۔ رہی یہ بات کہ تاریخ میں بنی اسرائیل کے مصر واپس آنے کا ذکر نہیں تو حقیقت یہ ہے کہ قبل مسیح کی تاریخ کا پوری طرح اعتبار مشکل ہے اور اس میں کسی بات کے ذکر نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ واقعہ ہوا ہی نہیں۔ سلیمان ؑ جنھوں نے یمن کی ملکہ کی حکومت کا علم ہونے پر اسے اپنے زیر نگیں کرنے تک دم نہیں لیا اور قرآن کے بیان کے مطابق جنھیں ایسی سلطنت ملی جو بعد میں کسی کے شایان شان ہی نہیں، ان کے لیے مصر کو اپنی قلمرو میں شامل کرنا کچھ مشکل نہیں تھا۔ اس لیے فرعون کی قوم کو ان کے باغوں اور چشموں وغیرہ سے نکال لانے کے بعد ”اور ہم نے ان کا وارث بنی اسرائیل کو بنادیا“ کے الفاظ کو ان کے ظاہر پر ہی رہنے دینا چاہیے۔ ہاں، یہ درست ہے کہ وہ بنی اسرائیل اور تھے جو وارث بنے، ”تیہ“ میں چالیس سال تک سر مارتے رہنے والے بنی اسرائیل نہیں تھے۔ (واللہ اعلم) مزید دیکھیے سورة اعراف (136)۔
Ayah 26:60فَاَتْبَعُوْهُمْ مُّشْرِقِيْنَ :”مُّشْرِقِيْنَ“ کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک تو یہ کہ وہ لوگ سورج طلوع ہوتے ہی بنی اسرائیل کے تعاقب میں روانہ ہوگئے اور دوسرا معنی یہ کہ وہ مشرق کی طرف رخ کیے ہوئے ان کے پیچھے چل پڑے۔ (ابن جزی) اگر نقشے کو غور سے دیکھیں تو مصر کے مشرق میں بحر قلزم ہے، جو شمال کی طرف پھیلتا گیا ہے، اس کے آخر میں مصر خشکی کے ذریعے سے صحرائے سینا کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ ؑ نے مصر سے نکلنے کے لیے مشرق کی طرف سمندر کا رخ کیا، جس کے ساتھ ساتھ شمال کی طرف چلتے ہوئے وہ صحرائے سینا میں داخل ہونا چاہتے تھے، مگر فرعون نے انھیں سمندر پر ہی جا لیا۔ اب ان کے آگے سمندر تھا اور پیچھے فرعون اور اس کا لشکر۔
Ayah 26:61فَلَمَّا تَرَاۗءَ الْجَمْعٰنِ۔۔ :”تَرَاءٰ ی یَتَرَاءٰ ی تَرَاءُیًا“ (تفاعل) ایک دوسرے کو دیکھنا۔ جب دونوں جماعتیں ایک دوسرے کو نظر آنے لگیں تو موسیٰ ؑ کے ساتھی کہنے لگے کہ ہم تو یقیناً پکڑے جانے والے ہیں۔ ”إِنَّ“ اور ”لام تاکید“ سے ان کے شدید خوف کا اظہار ہو رہا ہے کہ اب ہر صورت یہ لوگ ہمیں مار ڈالیں گے، یا پھر غلام بنا کر ساتھ لے جائیں گے۔ اس سے پہلے مصر میں بھی انھوں نے موسیٰ ؑ سے کہا تھا : (اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِيَنَا) [ الأعراف : 129 ] ”ہمیں اس سے پہلے ایذا دی گئی کہ تو ہمارے پاس آئے اور اس کے بعد بھی کہ تو ہمارے پاس آیا۔“ اب انھیں فرعون کی صورت میں موت نظر آئی تو انھوں نے یہ بات کہی۔ یہاں ”قَالَ بَنُوْ إِسْرَاءِیْلَ“ کے بجائے ”قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰٓي“ اس لیے فرمایا کہ ہجرت کرکے آنے والوں میں بنی اسرائیل کے علاوہ مسلمان بھی تھے۔
Ayah 26:62قَالَ كَلَّا ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ : فرمایا، ایسا ہرگز نہیں ہوگا، بلکہ میرا رب میرے ساتھ ہے، اس نے فرعون کی طرف روانہ کرتے ہوئے خود مجھ سے وعدہ کیا ہے : (اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ) [ الشعراء : 15 ] ”بیشک ہم تمہارے ساتھ خوب سننے والے ہیں۔“ اسی کے حکم سے میں یہاں آیا ہوں، یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ اب وہ مجھے بےیارو مددگار چھوڑ دے، وہ مجھے ضرور ان سے نجات کا راستہ بتائے گا۔
Ayah 26:63فَاَوْحَيْنَآ اِلٰى مُوْسٰٓي اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ۔۔ : بعض لوگ جو معجزات کے منکر ہیں فرعون اور اس کی قوم کے سمندر میں غرق ہونے کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ جب بنی اسرائیل سمند رکے کنارے پہنچے تو اس وقت سمندر میں جزر کی کیفیت تھی، پانی پیچھے ہٹ گیا تھا، چناچہ وہ بخیریت اس سے گزر گئے، ان کے پیچھے فرعون اور اس کی قوم بھی سمندر میں داخل ہوگئی۔ جب وہ پوری طرح اس کے اندر داخل ہوگئے تو سمندر میں ”مد“ کی کیفیت پیدا ہوگئی، پانی یک لخت چڑھ آیا اور وہ سب غرق ہوگئے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تاویل نہیں بلکہ قرآن کا صاف انکار ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے اس موقع پر موسیٰ ؑ کو وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مار، چناچہ سمندر پھٹ گیا اور پانی کا ہر ٹکڑا ایک بہت بڑے، لمبے چوڑے اور اونچے پہاڑ کی صورت میں تھم گیا۔ سورة طٰہٰ میں ہے کہ ان کے درمیان (سمندر کی تہ کی گیلی اور دلدلی زمین میں) خشک راستہ بن گیا، فرمایا : (فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيْقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا) [ طٰہٰ : 77 ] ”پس ان کے لیے سمندر میں ایک خشک راستہ بنا۔“ غور کریں کہاں مد و جزر سے سمندر کا بڑھنا گھٹنا اور کہاں پانی کا اپنی سطح ہموار رکھنے کے بجائے بہت بڑے پہاڑوں کی صورت میں تھم جانا۔ دراصل ان لوگوں کا ایمان ہی نہیں کہ جس مالک نے آگ میں جلانے کی اور پانی میں بہنے اور ڈبونے کی خاصیت رکھی ہے، وہ جب چاہے ان سے یہ خاصیت واپس بھی لے سکتا ہے۔ یہ لوگ اندھے بہرے مادے ہی کو اپنا معبود بنائے بیٹھے ہیں، جو اپنے آپ پر بھی کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ یہاں ”فَأَوْحَیْنَا إِلَیْہِ“ کے بجائے ”فَاَوْحَيْنَآ اِلٰى مُوْسٰٓي“ میں موسیٰ ؑ کا نام اپنے رب پر اعتماد کے صلے میں ان کی عظمت شان کے اظہار کے لیے ہے۔
Ayah 26:64وَاَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِيْنَ ”أَزْلَفَ یُزْلِفُ“ قریب کرنا۔ ”ثَمَّ“ وہاں، اس جگہ۔ ”الاخرین“ دوسرے لوگ یعنی فرعون کی قوم۔ ”الْاٰخَرِيْنَ“ کا مطلب یہ ہے کہ اس عظیم الشان موقع پر ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو مسلمانوں کے قریب پہنچا دیا۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا خاص تصرّف تھا کہ فرعون اور اس کی قوم سمندر میں داخل ہوگئی، ورنہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ فرعون جیسا مادہ پرست ایسے خوفناک منظر کو دیکھتے ہوئے کیسے سمندر میں داخل ہوگیا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس فعل کو اپنی طرف منسوب کرکے جمع متکلم کے صیغے کے ساتھ فرمایا کہ اس موقع پر ہم انھیں قریب لے آئے، ورنہ وہ کہاں قریب آنے والے تھے۔
Ayahs 26:65–66وَاَنْجَيْنَا مُوْسٰي وَمَنْ مَّعَهٗٓ۔۔ : یعنی اس وقت وہ دونوں ایک دوسرے کے قریب تھے کہ ہم نے اس پانی سے موسیٰ ؑ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا کر نکال لیا، پھر ہم نے اسی پانی کے ساتھ دوسروں کو غرق کردیا۔
Ayah 26:67اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً : ایک ہی پانی کے ذریعے سے کسی کو بچا لینے اور کسی کو غرق کردینے میں یقیناً بہت بڑی نشانی ہے کہ اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ قوموں اور سلطنتوں میں انقلاب آتے رہتے ہیں، مگر ایسے حیرت انگیز اور عظیم الشان واقعہ کے ساتھ انقلاب ایک بہت بڑا معجزہ ہے۔
وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِيْنَ : اس جگہ ”اَكْثَرُهُمْ“ سے مراد ان لوگوں میں سے اکثر مراد نہیں جو فرعون کے ساتھ آئے تھے، کیونکہ وہ تو سب غرق ہوگئے اور غرق ہوتے وقت ایمان لائے بھی تو بےسود۔ (دیکھیے یونس : 90، 91) مراد مصر میں فرعون سے تعلق رکھنے والے تمام لوگ ہیں کہ ان کے اکثر ایمان نہیں لائے، بہت کم ایمان لائے۔ جن میں فرعون کے جادو گر، اس کی بیوی آسیہ اور اس کی قوم کے چند لڑکے شامل تھے۔ (دیکھیے یونس : 83) اس میں رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی بھی ہے کہ اتنے عظیم الشان معجزے دیکھ کر بھی ان کے اکثر ایمان نہیں لائے تو آپ اپنی قوم کے اکثر لوگوں کے ایمان نہ لانے پر اتنے غمگین کیوں ہیں ؟ یہاں مفسرین نے موسیٰ ؑ پر ایمان لانے والوں میں ایک خاتون کا ذکر کیا ہے، جس کے بتانے پر بنی اسرائیل یوسف ؑ کی میّت کو ان کی قبر سے نکال کر ساتھ لے گئے تھے اور جس نے اس شرط پر موسیٰ ؑ کو اس قبر کی نشان دہی کی تھی کہ وہ اس بات کی ضمانت دیں کہ اسے جنت میں ان کا ساتھ ملے گا۔ حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں، میں نے مفسرین کی دیکھا دیکھی اسے نقل کردیا ہے، ورنہ اس میں نکارت ہے، یعنی یہ واقعہ صحیح نہیں ہے۔
Ayah 26:68وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ : یعنی اپنے دشمنوں سے انتقام لینے والا اور اپنے ماننے والوں پر رحم کرنے والا ہے۔ چناچہ دیکھو دم بھر میں فرعون کو غرق کردیا اور بنی اسرائیل کو نجات دلا کر بادشاہ بنادیا۔ اس میں ہمارے نبی کریم ﷺ کے لیے بھی بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کرے گا، اگر ہجرت کے بعد مکہ کے فرعونوں نے آپ کا تعاقب کیا تو ان کا حال بھی مصر کے فرعون جیسا ہوگا اور پھر واقعی اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی مدد فرمائی اور بدر کے میدان میں مکہ کے فرعونوں کو تباہ و برباد کیا۔
Ayah 26:69وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِيْمَ : سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی شدت غم کا ذکر فرمایا، جو آپ کو اپنی قوم کے ایمان نہ لانے پر لاحق ہوئی تھی۔ پھر موسیٰ ؑ کا بیان فرمایا، تاکہ آپ کو تسلی ہو اور آپ کو یاد رہے کہ نہ آپ پہلے رسول ہیں اور نہ ہی آپ کی قوم جھٹلانے میں پہلی ہے، بلکہ موسیٰ ؑ کے عظیم الشان معجزے لے کر آنے کے باوجود قبطیوں کے بہت ہی کم لوگ ان پر ایمان لائے۔ اس کے بعد ابو الانبیاء ابراہیم ؑ کا ذکر فرمایا جو خلیل اللہ کے بلند منصب پر فائز تھے، تاکہ آپ کے سامنے وہ شخصیت بھی رہے جس کا غم بھی بےانتہا تھا، کیونکہ وہ اپنے باپ اور اپنی قوم کو آگ میں جاتے ہوئے دیکھتا تھا، مگر انھیں اس سے بچا نہ سکتا تھا۔ اس نے انھیں ہر طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی، حتیٰ کہ دلیل کے ساتھ انھیں بالکل لاجواب کردیا، مگر انھوں نے نہیں مانا، بلکہ آباء کی تقلید ہی پر جمے رہے۔ فرمایا : ”اور ان (مشرکین مکہ) کے سامنے ابراہیم ؑ کی عظیم خبر بھی پڑھ۔“
Ayah 26:70اِذْ قَالَ لِاَبِيْهِ وَقَوْمِهٖ مَا تَعْبُدُوْنَ : یہ سوال کہ تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو، پوچھنے کے لیے نہیں تھا، کیونکہ ابراہیم ؑ جانتے تھے کہ وہ بت پوجتے ہیں، بلکہ بت پرستی پر غور و فکر کی دعوت دینے کے لیے تھا، کیونکہ اپنا موقف خود بیان کرتے وقت اس کی کمزوریاں انسان کے سامنے اس سے کہیں زیادہ آتی ہیں کہ کوئی دوسرا اسے بیان کرے۔
Ayah 26:71قَالُوْا نَعْبُدُ اَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيْنَ :”اَصْنَامًا“ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے۔ دن بھر کام کرنے کو ”ظَلَّ یَظَلُّ“ اور رات بھر کام کرنے کو ”بَاتَ یَبِیْتُ“ کہتے ہیں۔ ”ظَلَّ یَظَلُّ“ کسی وقت کسی کام میں مصروف ہونے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ ”عٰكِفِيْنَ“ اعتکاف کہتے ہیں کسی جگہ جم کر بیٹھے رہنا یعنی مجاوری۔ ابراہیم ؑ کے سوال کے جواب میں اتنا کہنا ہی کافی تھا کہ ”اَصْنَامًا“ (بتوں کی) مگر انھوں نے فخر کے لیے کہا کہ ہم عظیم بتوں کی عبادت کرتے ہیں۔ ”لَھَا“ کو ”عٰكِفِيْنَ“ سے پہلے لانے سے تخصیص پیدا ہو رہی ہے، یعنی ہم انھی کے مجاور بنے رہتے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ کسی قبر پرست کو سمجھانے کے لیے کہا جائے کہ تم کس چیز کی پوجا کر رہے ہو ؟ (یعنی جس کا کوئی فائدہ نہیں) تو وہ آگے سے فخر کے ساتھ کہے کہ ہم تو فلاں دربار ہی کے مجاور ہیں۔
Ayahs 26:72–73قَالَ هَلْ يَسْمَعُوْنَكُمْ اِذْ تَدْعُوْنَ۔۔ : ابراہیم ؑ نے کسی بھی ذات کی عبادت کے لیے اس میں پائی جانے والی تین صفات ذکر کرکے فرمایا کہ کیا ان میں یہ تینوں یا کوئی ایک صفت پائی جاتی ہے ؟ کیا جب تم انھیں پکارتے ہو تو یہ تمہاری بات سنتے ہیں ؟ یا تمہیں کوئی فائدہ پہنچاتے ہیں ؟ یا نقصان پہنچاتے ہیں ؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں، تو ان کی عبادت کیوں کرتے ہو ؟
Ayah 26:74قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَآ اٰبَاۗءَنَا كَذٰلِكَ يَفْعَلُوْنَ : یعنی لکڑی، پتھر اور دھات کے یہ بت سنتے تو نہیں، نہ ہی کوئی نفع نقصان پہنچا سکتے ہیں، مگر ہم نے اپنے آبا و اجداد کو قدیم زمانے سے ایسے ہی کرتے ہوئے پایا ہے، تو کیا وہ سب بیوقوف تھے جو ان کی پوجا کرتے رہے، آخر ان کے پاس ان کی عبادت کی کوئی دلیل تو ہوگی۔ گویا جب کوئی معقول جواب نہ بن پڑا تو باپ دادا کی تقلید کا سہارا لیا، جو ہر اندھے کی لاٹھی اور ڈوبنے والے کے لیے آخری تنکا ہے۔ یہی حال ان مقلد حضرات کا ہے جو اس لیے اپنے امام کی تقلید کرتے جا رہے ہیں کہ فلاں فلاں بزرگ بھی تو ان کی تقلید کرتے رہے ہیں۔
Ayahs 26:75–76قَالَ اَفَرَءَيْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ۔۔ : ”َاٰبَاۗؤُكُمُ الْاَقْدَمُوْنَ“ کے الفاظ سے ابراہیم ؑ یہ باور کروا رہے ہیں کہ کسی دین کے حق ہونے کے لیے بس یہ دلیل کافی نہیں کہ وہ قدیم آبا و اجداد کے وقت سے چلا آ رہا ہے۔ دنیا کے کسی بھی کام میں پہلے لوگوں کی غلطی ثابت ہوجائے تو اسے فوراً چھوڑ دیتے ہو، تو کیا دین ہی اتنا بےحیثیت ہے کہ غلط جان کر بھی نسلوں کی نسلیں آنکھیں بند کرکے اس پر چلتی جائیں اور مکھی پر مکھی مارتی جائیں ؟
Ayah 26:77فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّيْٓ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ : ”عَدُوٌّ“ ”فَعُوْلٌ“ کے وزن پر ہے، واحد، جمع، مذکر اور مؤنث سب کے لیے یکساں استعمال ہوتا ہے، اس لیے ”فَاِنَّھُم“ میں جمع کی خبر ہونے کے باوجود واحد آیا ہے۔ یعنی تم اور تمہارے قدیم ترین آبا و اجداد جن چیزوں کی عبادت کرتے رہے ہیں وہ سب چیزیں میری دشمن ہیں۔ ہاں، اگر ان میں سے کوئی ”رب العالمین“ کی بھی عبادت کرتا رہا ہے، تو صرف ”رب العالمین“ میرا دوست ہے۔
3 یہاں ایک سوال ہے کہ بتوں کے دشمن تو ابراہیم ؑ تھے، بتوں نے ان سے کیا دشمنی کرنا تھی ؟ تو یہاں یہ کہنے کے بجائے کہ میں ان کا دشمن ہوں، یہ کیوں فرمایا کہ وہ میرے دشمن ہیں ؟ اس کے دو جواب ہیں، ایک یہ کہ ابراہیم ؑ انھیں بتانا یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا تم جن کی عبادت کرتے ہو، جتنی مرضی ان سے محبت کرلو یا ان کی عبادت کرلو، قیامت کے دن وہ تمہارے دشمن بن جائیں گے، ایک اللہ عز و جل کی ذات پاک ہے کہ وہ اپنی عبادت کرنے والوں کی دوست رہے گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَاۗءً وَّكَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِيْنَ) [ الأحقاف : 5، 6 ]”اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اللہ کے سوا انھیں پکارتا ہے جو قیامت کے دن تک اس کی دعا قبول نہیں کریں گے اور وہ ان کے پکارنے سے بیخبر ہیں۔ اور جب سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت سے منکر ہوں گے۔“ سورة بقرہ (165، 166) اور سورة مریم (81، 82) میں بھی یہی بات بیان ہوئی ہے۔ مگر ابراہیم ؑ نے یہ کہنے کے بجائے کہ ”تمہارے معبود تمہارے دشمن ہوں گے“ یہ فرمایا کہ تمہارے یہ معبود (اگر میں ان کی عبادت کروں گا تو) میرے دشمن ہوں گے۔ اس میں انھوں نے دعوت میں حکمت اور دانائی کو محفوظ رکھا ہے کہ مخاطب سوچے کہ جس طرح ابراہیم ؑ کو اپنی فکر ہے کہ بتوں کی عبادت کی صورت میں انھیں ان کی دشمنی کے علاوہ کچھ حاصل نہ ہوگا، اسی طرح مجھے بھی اپنی فکر کرنی چاہیے۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ ”عَدُوٌّ“ (دشمن) اسی کو نہیں کہتے جسے آپ سے دشمنی ہو، اسے بھی دشمن کہا جاتا ہے جس سے آپ کو دشمنی ہو۔ جس سے اپنی شدید دشمنی کا اظہار کرنا ہو اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ میرا دشمن ہے اور جس سے شدید محبت کا اظہار کرنا ہو اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ میرا دوست ہے۔ مرزا غالب نے کہا ہے
یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں
عدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو
گویا ابراہیم ؑ نے اپنی شدید عداوت کے اظہار کے لیے انھیں اپنا دشمن اور ”رب العالمین“ کو اپنا دوست قرار دیا ہے۔
3 ابراہیم ؑ نے ان الفاظ میں بتوں سے اپنی دشمنی کا جو اظہار کیا ہے دوسری جگہ اس کا اظہار ان الفاظ میں ہوا ہے : (وَتَاللّٰهِ لَاَكِيْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِيْنَ) [ الأنبیاء : 57 ] ”اور اللہ کی قسم ! میں ضرور ہی تمہارے بتوں کی خفیہ تدبیر کروں گا، اس کے بعد کہ تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔“ پھر ابراہیم ؑ نے اس دشمنی کا عملی مظاہرہ بھی بتوں کو توڑ کر فرمایا۔ ان الفاظ میں اس بات کا بھی اظہار ہے کہ میں تمہارے بتوں سے ہرگز نہیں ڈرتا، وہ میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتے، میرا ان کے ساتھ اور تمہارے ساتھ تعلق دشمنی کا ہے۔ (دیکھیے ممتحنہ : 4۔ انعام : 80، 81) اللہ تعالیٰ کے دوسرے جلیل القدر پیغمبروں نے بھی کفار اور ان کے معبودوں کے متعلق صاف اعلان کیا کہ وہ ان کے خلاف جو کرسکتے ہیں انھیں ان کی کوئی پروا ہے نہ ان سے کوئی خوف۔ نوح ؑ کے متعلق دیکھیے سورة یونس (71) اور ہود ؑ کے متعلق دیکھیے سورة ہود (55، 56)۔