25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 25:1

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ Open ayah 25:1 in the Quran reader

بہت برکت والا ہے وہ جس نے اپنے بندے پر فیصلہ کرنے والی (کتاب) اتاری، تاکہ وہ جہانوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔

تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں سب سے پہلے توحید پر کلام فرمایا، کیونکہ وہ سب سے پہلے اور سب سے اہم ہے، پھر نبوت پر، کیونکہ وہ رب اور بندے کے درمیان واسطہ ہے، پھر قیامت پر، کیونکہ وہ خاتمہ ہے۔ (شوکانی) ”تَبٰرَكَ“ ”بَرَکَۃٌ“ سے باب تفاعل ہے، ”بَرَکَۃٌ“ کا اشتقاق ”بِرْکَۃٌ“ (حوض) سے ہے کہ اس میں بہت زیادہ پانی ہوتا ہے، یا ”بَرَکَ الإِْبِلُ“ سے ہے، جس کا معنی اونٹ کا بیٹھنا ہے۔ باب تفاعل میں مبالغہ پایا جاتا ہے، اسی مناسبت سے اس کا ترجمہ ”بہت برکت والا ہے“ کیا گیا ہے۔ برکت سے مراد خیر میں زیادہ ہونا، بڑھا ہوا ہونا، دائمی خیر والا ہونا ہے۔ یعنی وہ خیر اور بھلائی میں ساری کائنات سے بےانتہا بڑھا ہوا ہے۔ بلندی، بڑائی، احسان، غرض ہر لحاظ سے اس کی ذات بیحد و حساب خوبیوں اور بھلائیوں کی جامع ہے۔ یاد رہے ”تَبٰرَكَ“ کا لفظ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے آتا ہے، کسی اور میں یہ خوبی نہیں۔ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ : ”نَزَّلَ“ میں تکرار کا معنی پایا جاتا ہے، یعنی تھوڑا تھوڑا کرکے نازل فرمایا۔ اس کی حکمت آگے آیت (32) میں آرہی ہے۔ قرآن کو ”الْفُرْقَانَ“ کہا ہے، یعنی یہ اپنے احکام کے ذریعے سے حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والا ہے اور اسی لفظ کی بنا پر اس سورت کا نام ”الفرقان“ رکھا گیا ہے۔ عَلٰي عَبْدِهٖ : دیکھیے سورة بنی اسرائیل کی پہلی آیت کی تفسیر۔ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَۨا : اس میں آپ پر قرآن نازل کرنے کی حکمت بیان فرمائی ہے۔ سارے جہانوں سے مراد قیامت تک تمام جن و انس ہیں، اس لیے کہ آپ ﷺ کی بعثت ان سب کے لیے ہے، کوئی دوسرا رسول دنیا میں ایسا نہیں آیا۔ یہ مضمون قرآن مجید میں کئی مقامات پر بیان ہوا ہے۔ دیکھیے سورة اعراف (158) ، انعام (19) ، سبا (28) اور احزاب (40) عرب اور اہل کتاب کی صراحت کے لیے دیکھیے آل عمران (20) جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أُعْطِیْتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَھُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِیَاءِ قَبْلِیْ۔۔ وَ کَان النَّبِيُّ یُبْعَثُ إِلٰی قَوْمِہِ خَاصَّۃً وَ بُعِثْتُ إِلَی النَّاسِ کَافَّۃً) [ بخاري، الصلاۃ، باب قول النبي ﷺ : جعلت لي الأرض۔۔ : 438 ] ”مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے انبیاء میں سے کسی کو نہیں دی گئیں۔۔ (ان میں سے ایک یہ ہے کہ) پہلے نبی خاص اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا جبکہ مجھے تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا۔“ 3 یہاں رسول اللہ ﷺ کے صرف ”نذیر“ ہونے کا ذکر فرمایا، کیونکہ آگے کفار کے اقوال و احوال اور ان کے انجام کا ذکر ہے، اس کے مناسب ڈرانا ہی ہے۔ نذارت و بشارت دونوں کا اکٹھا ذکر آگے آ رہا ہے، فرمایا : (وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا) [ الفرقان : 56 ] ”اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر۔“
Ayah 25:2

اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا Open ayah 25:2 in the Quran reader

وہ ذات کہ اسی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اس نے نہ کوئی اولاد بنائی اور نہ کبھی بادشاہی میں کوئی اس کا شریک رہا ہے اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا، پھر اس کا اندازہ مقرر کیا، پورا اندازہ۔

الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی چار صفات بیان فرمائی ہیں جو اس کی توحید کی دلیل ہیں۔ پہلی یہ کہ آسمان و زمین کی بادشاہی اسی کی ہے، کسی اور کی نہیں۔ ان دونوں کو چلانے والا وہی ہے، دوسرے سب اپنے وجود اور اپنی بقا میں اسی کے محتاج ہیں۔ وَلَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا : یہ دوسری صفت ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بنی اسرائیل کی آخری آیت کی تفسیر۔ اس میں یہود و نصاریٰ کا ردّ ہے اور ان جھوٹے مسلمانوں کا بھی جو نبی ﷺ کو یا علی، فاطمہ، حسن اور حسین ؓ کو، یا کسی اور کو اللہ کے نور کا ٹکڑا مانتے ہیں۔ وَّلَمْ يَكُنْ لَّهُ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ : یہ تیسری صفت ہے۔ ”لَمْ يَكُنْ“ میں نفی کا استمرار ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”اور نہ کبھی بادشاہی میں کوئی اس کا شریک رہا ہے۔“ اس میں ہر قسم کے مشرکین کا ردّ ہے، جیسے بت پرست، قبر پرست، دو خدا ماننے والے اور شرک خفی کا ارتکاب کرنے والے وغیرہ۔ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِيْرًا : یہ چوتھی صفت ہے کہ ہر چیز اسی نے پیدا کی، پھر اس کے لیے ایک خاص اندازہ مقرر فرما دیا، جس کی بدولت اس سے وہی افعال و اثرات صادر ہوتے ہیں جن کے لیے وہ پیدا کی گئی ہے اور اسے وہی صورت، جسامت اور صلاحیتیں عطا کیں جو اس کی ضرورت کے مطابق ہیں، مثلاً انسان کو فہم و ادراک، غور و فکر، صنعت و حرفت اور مفید کام بجا لانے کی صلاحیت بخشی، اسی طرح ہر حیوان اور پودے اور جماد کو اس مصلحت کے مطابق بنایا جو اس سے مطلوب تھی۔ جب اللہ کے سوا کسی نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا تو کسی اور کی عبادت کیوں ؟ دیکھیے سورة انعام (102) ، رعد (16) ، فاطر (3) ، زمر (62) ، مؤمن (62) ، حج (73) ، نحل (20) اور اعراف (191)۔
Ayah 25:3

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا Open ayah 25:3 in the Quran reader

اور انھوں نے اس کے سوا کئی اور معبود بنالیے، جو کوئی چیز پیدا نہیں کرتے اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں اور اپنے لیے نہ کسی نقصان کے مالک ہیں اور نہ نفع کے اور نہ کسی موت کے مالک ہیں اور نہ زندگی کے اور نہ اٹھائے جانے کے۔

وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اٰلِهَةً لَّا يَخْلُقُوْنَ شَـيْـــــًٔا۔۔ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے معبود برحق ہونے کے چند معیار بیان فرمائے اور تمام مشرکوں کو دعوت دی کہ وہ اپنے خداؤں کو ان معیاروں پر پرکھیں اور بتائیں کہ وہ کسی طرح بھی معبود ہوسکتے ہیں۔ وہ معیار یہ ہیں : 1 جو ہستی کوئی چیز پیدا نہ کرسکے، یا کسی چیز کی بھی خالق نہ ہو وہ معبود نہیں ہوسکتی۔ 2 جو چیز خود مخلوق ہو، اسے کسی نے پیدا کیا ہو وہ الٰہ نہیں ہوسکتی۔ ظاہر ہے اللہ کے سوا جن کو بھی معبود بنایا گیا ہے سب مخلوق ہیں، وہ چاہے فرشتے ہوں یا جن، انسان، درخت، پتھر، بت، قبر، سورج، چاند، تارے یا کوئی اور، اس لیے انھیں معبود بنانا بہت بڑی جہالت ہے۔ 3 جو ہستی کسی دوسرے کو فائدہ یا نقصان نہ پہنچا سکتی ہو، دوسرے لفظوں میں جو ہستی حاجت روا اور مشکل کشا نہ ہو وہ الٰہ نہیں ہوسکتی۔ یہی وہ صفت ہے جسے مشرکین اللہ کے سوا بعض دوسری ہستیوں میں تسلیم کرتے ہیں، خواہ وہ جان دار ہوں یا بےجان، زندہ ہوں یا مرچکی ہوں، اور شرک کی یہی قسم سب سے زیادہ عام ہے۔ اس کا ردّ اللہ تعالیٰ نے اس طرح فرمایا کہ جو چیز اپنے نفع و نقصان ہی کی مالک نہ ہو وہ کسی دوسرے کی حاجت روا یا مشکل کشا کیسے ہوسکتی ہے ! یہ معیار ایسا واضح اور زبردست ہے کہ اس کے مطابق اللہ کے سوا تمام معبود باطل قرار پاتے ہیں۔ ابراہیم ؑ نے بتوں کو توڑا اور وہ ان کا بال بیکا نہ کرسکے۔ رہے بزرگان دین، خواہ وہ پیغمبر ہوں یا ولی، زندہ ہوں یا فوت ہوچکے ہوں، سب کو ان کی زندگی میں بیشمار تکلیفیں پہنچتی رہیں، لیکن وہ اپنی تکلیفیں اور بیماریاں خود رفع نہ کرسکے، تو دوسروں کی کیا کرتے، یا کیا کریں گے، وہ تو خود صرف اللہ سے دعا کرتے رہے۔ رہے شمس و قمر، تارے اور فرشتے، تو یہ سب ایسی مخلوق ہیں جن کے پاس اپنا اختیار کچھ بھی نہیں ہے۔ اللہ نے انھیں جس کام پر لگا دیا ہے اس کے سوا دوسرا کام کر ہی نہیں سکتے، لہٰذا وہ بھی الوہیت کے معیار پر پورے نہیں اترتے۔ 4 معبود برحق ہونے کا ایک معیار یہ ہے کہ وہ ہستی کسی زندہ کو مار سکتی ہو اور مردہ کو زندہ کرسکتی ہو اور زندہ کرکے قبروں سے اٹھا سکتی ہو، اللہ کی یہ شان ہے کہ وہ ہر وقت زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ چیزیں پیدا کر رہا ہے، قیامت کو وہ سب کو زندہ کرکے سامنے لا کھڑا کرے گا، دوسری کسی ہستی کے اختیار میں کسی کو زندہ کرنا ہے نہ مارنا اور نہ قیامت برپا کرنا۔ اس مقام پر معبود برحق ہونے کے یہ معیار بیان ہوئے ہیں، جب کہ دوسرے مقامات پر اور بھی کئی معیار مذکور ہیں، مثلاً جو خود محتاج ہو وہ الٰہ نہیں ہوسکتا، جو بےجان ہو وہ الٰہ نہیں ہوسکتا، جو کھانا کھاتا ہو وہ الٰہ نہیں ہوسکتا، جسے نیند یا موت آتی ہے وہ الٰہ نہیں ہوسکتا، جو ہر چیز کا علم نہ رکھتا ہو وہ الٰہ نہیں ہوسکتا، جو نہ سن سکتا ہو، نہ دیکھ سکتا ہو، نہ بول سکتا ہو، نہ جواب دے سکتا ہو وہ الٰہ نہیں ہوسکتا وغیرہ۔ (تیسیر القرآن کیلانی بتصرف)
Ayah 25:4

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ Open ayah 25:4 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، یہ نہیں ہے مگر ایک جھوٹ، جو اس نے گھڑ لیا اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس پر اس کی مدد کی، سو بلاشبہ وہ ایک ظلم اور جھوٹ پر اتر آئے ہیں۔

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا۔۔ : توحید کے بیان اور شرک اور مشرکین کے ردّ کے بعد منکرین نبوت کے شبہات و اعتراضات ذکر فرمائے، چناچہ پہلا اعتراض ان کا یہ بیان فرمایا کہ یہ قرآن آپ نے اپنے پاس سے گھڑ لیا ہے اور کچھ لوگوں نے اس معاملہ میں آپ کی مدد کی ہے۔ اس کی کچھ تفصیل سورة نحل (103) میں گزر چکی ہے۔ فَقَدْ جَاۗءُوْ ظُلْمًا وَّزُوْرًا : ظلم کا معنی کسی چیز کو اس کی جگہ کے سوا رکھ دینا ہے، کیونکہ ظلم کا اصل معنی اندھیرا ہے اور اندھیرے میں آدمی چیز کو اس کی جگہ نہیں رکھ سکتا۔ ”اِفْکٌ“ ایسے سخت جھوٹ کو کہتے ہیں جو بنا سنوار کر خوش نما بنادیا گیا ہو، اس لیے اس کا معنی فریب بھی ہوسکتا ہے۔ تنوین تہویل کے لیے ہے، یعنی انھوں نے یہ جو بات کہی ہے وہ بھاری ظلم (بےانصافی) اور سخت جھوٹ ہے، اس لیے کہ وہ جانتے ہیں کہ قرآن جیسی کتاب، جس کی فصاحت و بلاغت اور مضامین کے مقابلے سے کل کائنات عاجز ہے، اسے اپنے پاس سے تصنیف کرکے پیش کردینا کسی انسان کے بس میں نہیں، چاہے اس کی پشت پر چند نہیں ہزاروں بلکہ اللہ کے سوا سب جمع ہوجائیں۔ افسوس اور تعجب اس پر ہے کہ یہ لوگ محمد ﷺ کے بارے میں یہ بات کہہ رہے ہیں جن کی پوری زندگی ان کے سامنے گزری (دیکھیے یونس : 16) اور جن کے بارے میں انھیں خوب معلوم ہے کہ آپ نے نہ کبھی پڑھنا لکھنا سیکھا اور نہ کسی عالم کی شاگردی کی (دیکھیے عنکبوت : 48) پھر یہ قرآن آپ کی تصنیف کیسے ہوسکتا ہے ؟
Ayah 25:5

وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 25:5 in the Quran reader

اور انھوں نے کہا یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں، جو اس نے لکھوا لی ہیں، تو وہ پہلے اور پچھلے پہر اس پر پڑھی جاتی ہیں۔

وَقَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا۔۔ : یعنی خود تو اَن پڑھ ہے، اس لیے دوسرے لوگوں کے ذمے اس نے یہ کام لگا رکھا ہے کہ صبح و شام یہ لکھوائی ہوئی کہانیاں اسے پڑھ پڑھ کر سنائیں، تاکہ اسے زبانی یاد ہوجائیں۔ یہ بات ایسی تھی جس کے جھوٹ اور بہتان ہونے میں کسی کو شبہ نہیں ہوسکتا۔ چالیس سال آپ ﷺ ان میں رہ چکے تھے، اگر کوئی شخص چھوٹے سے شہر میں چند دن صبح و شام کسی کے پاس رہے تو اس کا پتا ہر ایک کو چل جاتا ہے اور ان لوگوں کا اصرار ہے کہ اب بھی دوسروں کی لکھوائی ہوئی باتیں صبح و شام آپ کے سامنے پڑھی جاتی ہیں۔ پھر اگر ایسا ہی تھا تو وہ بھی کسی سے لکھو اکر ایسی ایک سورت ہی پیش کردیتے۔
Ayah 25:6

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:6 in the Quran reader

تو کہہ اسے اس نے نازل کیا ہے جو آسمانوں اور زمین میں سب پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے۔ بیشک وہ ہمیشہ سے بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِيْ يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ : یہ ان کے جھوٹ اور افترا کے جواب میں فرمایا کہ قرآن کو تو دیکھو اس میں کیا ہے ؟ کیا اس کی کوئی بات غلط اور خلاف واقعہ ہے ؟ یقیناً نہیں ہے، بلکہ ہر بات بالکل سچی اور صحیح ہے، اس لیے کہ اس کو اتارنے والی وہ ذات ہے جس کے پاس زمین و آسمان کی ظاہر باتوں ہی کا نہیں تمام پوشیدہ باتوں کا بھی پورا علم ہے۔ وہ ماضی کو جانتا ہے، حال اور مستقبل کو بھی۔ اس لیے اس کی نازل کردہ کتاب میں گزشتہ زبانوں کی باتیں ہیں، حال کی بھی اور آئندہ زمانے کی بھی اور ان میں سے کوئی بات غلط ثابت ہوئی ہے نہ ہوگی۔ جو شخص آسمانوں اور زمین کے تمام راز نہ جانتا ہو وہ اس جیسی کتاب تو کجا اس جیسی ایک سورت بھی نہیں بنا سکتا، اگر تمہیں اصرار ہے کہ یہ اللہ کا کلام نہیں بلکہ بندے کی تصنیف ہے، تو تم بھی مقابلے میں کوئی سورت لے آؤ۔ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا : یہ اس سوال کا جواب ہے کہ جو سب چیزوں کا علم رکھتا ہو وہ ہر چیز پر قادر بھی ہوتا ہے، پھر وہ ان لوگوں کے انکار، تکبر اور استہزا پر فوری گرفت کیوں نہیں کرتا۔ فرمایا وجہ یہ ہے کہ ”اِنَّهٗ كَانَ“ یعنی وہ ہمیشہ سے بندوں کے گناہوں پر بہت پردہ ڈالنے والا ہے، دائمی رحم والا ہے، وہ چاہتا تو اس گستاخی پر انھیں سخت سزا دیتا، مگر وہ غفور و رحیم ہے، اس لیے تم سے درگزر کر رہا ہے۔ اس میں انھیں توبہ وانابت اور اسلام و ہدایت کی طرف پلٹ آنے کی ترغیب ہے۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”یعنی (آسمان و زمین کی چھپی ہوئی باتیں جاننے والے نے) اپنی بخشش اور مہربانی سے ہی اسے اتارا ہے۔“ (موضح) یعنی اس کی مغفرت و رحمت یہ قرآن اتارنے کا باعث ہے۔
Ayah 25:7

وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ Open ayah 25:7 in the Quran reader

اور انھوں نے کہا اس رسول کو کیا ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے، اس کی طرف کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا کہ اس کے ساتھ ڈرانے والا ہوتا۔

وَقَالُوْا مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ۔۔ : یہ قرآن پر طعن کے بعد رسول پر طعن ہے اور بہت گھٹیا طعن ہے، کفار کا یہ جاہلانہ طعن قرآن میں متعدد مقامات پر دہرایا گیا ہے، ان کے خیال میں کوئی بشر رسول نہیں ہوسکتا۔ (دیکھیے بنی اسرائیل : 94، 95) اس لیے انھوں نے کہا، یہ رسول (جو ہماری طرف بھیجے جانے کا دعویٰ کرتا ہے) اسے کیا ہے کہ ہماری طرح کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے، ہم میں اور اس میں فرق کیا ہے ؟ اسے تو فرشتہ ہونا چاہیے تھا، جو بشری ضرورتوں سے پاک ہوتا اور اگر انسان ہوتے ہوئے اسے یہ مقام مل گیا تھا، تو اس کی شان کم از کم اتنی تو ہوتی جتنی دنیا کے کسی بادشاہ کی ہوتی ہے۔ (دیکھیے زخرف : 53) اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب آگے آیت (20) میں دیا ہے۔ لَوْلَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَلَكٌ۔۔ : یعنی اگر انسان ہی کو رسول ہونا تھا تو اس کی طرف آسمان سے کوئی فرشتہ اتارا جاتا، جو سب کو نظر آتا، ہر وقت اس کے ساتھ رہتا اور لوگوں کو بتاتا کہ یہ اللہ کا رسول ہے، پھر جو لوگ اس پر ایمان نہ لاتے انھیں اللہ کے عذاب کی دھمکی دیتا۔
Ayah 25:8

اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 25:8 in the Quran reader

یا اس کی طرف کوئی خزانہ اتارا جاتا، یا اس کا کوئی باغ ہوتا جس سے وہ کھایا کرتا اور ظالموں نے کہا تم تو بس ایسے آدمی کی پیروی کر رہے ہو جس پر جادو کیا ہوا ہے۔

اَوْ يُلْقٰٓى اِلَيْهِ كَنْزٌ : یا اس کی طرف کوئی خزانہ اتارا جاتا جس سے اس کی شان کم از کم قیصر و کسریٰ کی سی تو ہوتی۔ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ يَّاْكُلُ مِنْهَا : یا خزانہ نہ سہی، کم از کم اس کا کوئی باغ ہوتا، تاکہ اس باغ سے اطمینان کی روزی حاصل کرتا اور روزی کمانے کے لیے بازاروں کے چکر لگانے سے بچ جاتا۔ کفار کے اس طرح کے مطالبات کی اس سے بھی لمبی فہرست سورة بنی اسرائیل (90 تا 93) میں بیان ہوئی ہے۔ وَقَال الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا : یہی بات فرعون نے موسیٰ ؑ سے کہی تھی۔ دیکھیے بنی اسرائیل (101)۔
Ayah 25:9

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:9 in the Quran reader

دیکھ انھوں نے تیرے لیے کیسی مثالیں بیان کیں، سو گمراہ ہوگئے، پس وہ کوئی راستہ نہیں پاسکتے۔

اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ : دیکھو انھوں نے تمہارے لیے کیسے مثالیں بیان کیں، صرف اس لیے کہ کسی طرح آپ کو جھوٹا ثابت کرسکیں۔ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا : سو بھٹک گئے اور ایسے بھٹکے کہ کسی راستے پر آ ہی نہیں سکتے، کیونکہ راہ پر وہ آتا ہے جس کے دل میں اخلاص ہو اور وہ محض غلط فہمی کا شکار ہوگیا ہو، ان کے دلوں میں تو اخلاص کے بجائے ضد اور ہٹ دھرمی ہے۔ مزید دیکھیے بنی اسرائیل (47، 48)۔
Ayah 25:10

تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا Open ayah 25:10 in the Quran reader

بہت برکت والا ہے وہ کہ اگر چاہے تو تیرے لیے اس سے بھی بہتر بنادے ایسے باغات جن کے نیچے سے نہریں چلتی ہیں اور تیرے لیے کئی محل بنادے۔

تَبٰرَكَ الَّذِيْٓ اِنْ شَاۗءَ جَعَلَ لَكَ خَيْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ۔۔ : بہت برکت اور لامحدود قوتوں اور اسباب کا مالک ہے وہ اللہ کہ اگر چاہے تو جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں آپ کو اس سے کہیں بہتر چیزیں دنیا ہی میں دے دے، ایک باغ نہیں بیشمار باغات دے دے، جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور ایک محل نہیں بہت سے محل عطا کر دے۔
Ayah 25:11

بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ Open ayah 25:11 in the Quran reader

بلکہ انھوں نے قیامت کو جھٹلا دیا اور ہم نے اس کے لیے جو قیامت کو جھٹلائے، ایک بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔

بَلْ كَذَّبُوْا بالسَّاعَةِ ۣ۔۔ : پچھلی آیت کے ساتھ اس کا تعلق یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو اس سے کہیں بہتر چیزیں عطا کر بھی دے تو سوال یہ ہے کہ کیا یہ لوگ ایمان لے آئیں گے ؟ یقینی جواب اس کا یہ ہے کہ یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے، بلکہ پھر اور قسم کی باتیں بنانا شروع کردیں گے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ سرے سے قیامت کے دن کو، دوبارہ جی اٹھنے کو، اللہ کے سامنے حاضر ہونے کو اور اپنے برے اعمال کی سزا بھگتنے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں، بلکہ انھوں نے اسے صاف جھٹلا دیا ہے، کیونکہ اس سے انھیں دنیا میں اپنی خواہش پرستی سے دست بردار ہونا پڑتا ہے، پھر اگر یہ لوگ ایسی کٹ حجتیاں نہ کریں تو اور کریں بھی کیا ؟ دیکھیے سورة قیامہ کی آیات (1 تا 6)۔
Ayah 25:12

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا Open ayah 25:12 in the Quran reader

جب وہ انھیں دور جگہ سے دیکھے گی تو وہ اس کے لیے سخت غصے کی اور گدھے کی سی آواز سنیں گے۔

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ۔۔ : جہنم جب ان کافروں کو بہت دور سے دیکھے گی تو وہ جہنم کی ایسی آواز سنیں گے جو شدید غصے والی اور گدھے کی آواز جیسی ہوگی۔ اس وقت جہنم کے غصے کا حال سورة ملک (6 تا 8) میں بیان ہوا ہے۔ اس سے جہنم کا صاحب شعور ہونا ثابت ہوتا ہے، اس کے علاوہ بھی کئی آیات و احادیث سے جہنم کا صاحب شعور ہونا، غصے ہونا، گدھے جیسی آواز نکالنا، کلام کرنا سب کچھ ثابت ہے، جیسا کہ فرمایا : (يَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَتَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِيْدٍ) [ ق : 30 ] ”جس دن ہم جہنم سے کہیں گے کیا تو بھر گئی ؟ اور وہ کہے گی کیا کچھ مزید ہے ؟“ اور صحیح بخاری میں جنت اور جہنم کے آپس میں جھگڑنے کا ذکر آیا ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کے جہنم کے اندر قدم (پاؤں) رکھنے پر اس کے قط قط (بس بس) کہنے کا ذکر ہے۔ [ دیکھیے بخاري، التفسیر، باب قولہ : (و تقول ھل من مزید) : 4848، 4849 ] اور بخاری ہی میں جہنم کے اللہ تعالیٰ سے اپنی شدید گرمی کی شکایت کرنے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے سال میں دو سانس نکالنے کی اجازت ملنے کی حدیث موجود ہے۔ [ دیکھیے بخاري، بدء الخلق، باب صفۃ النار وأنہا مخلوقۃ : 3260 ] جہنم کے شعور، اس کی تندی اور سرکشی کے لیے دیکھیے سورة فجر (23) کی تفسیر۔ بعض عقل پرست حضرات ان تمام آیات و احادیث کو مجاز پر محمول کرتے ہیں، مگر اہل السنہ اسے حقیقت مانتے ہیں، کیونکہ مجاز اس وقت مانا جاتا ہے جب حقیقت ناممکن ہو۔ اللہ تعالیٰ کا جہنم کو شعور، رؤیت اور کلام عطا کرنا کچھ مشکل نہیں۔ اگر بےجان حنانہ (ستون) کے رونے کی آواز صحابہ کرام ؓ سن سکتے ہیں تو جہنمی جہنم کے غصے کی آواز کیوں نہیں سن سکتے اور جہنم انھیں دور سے کیوں نہیں دیکھ سکتی ؟ اور اگر اللہ تعالیٰ گوشت کے ایک ٹکڑے (زبان) کو بولنے کی قوت عطا کرسکتا ہے تو وہ کسی بھی چیز میں یہ قوت کیوں پیدا نہیں کرسکتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے قریب مسلمانوں اور یہودیوں کی جنگ میں غرقد کے سوا ہر درخت اور پتھر مومن کو بول کر بتائے گا کہ یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے اسے قتل کر دے۔ [ دیکھیے مسلم، الفتن و أشراط الساعۃ، باب لا تقوم الساعۃ حتی۔۔ : 2922 ] اور ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہِ ، لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تُکَلِّمَ السِّبَاعُ الإِْنْسَ ، وَ حَتّٰی تُکَلِّمَ الرَّجُلَ عَذَبَۃُ سَوْطِہِ وَ شِرَاکُ نَعْلِہِ وَ تُخْبِرُہُ فَخِذُہُ بِمَا أَحْدَثَ أَھْلُہُ بَعْدَہُ) [ ترمذي، الفتن، باب ما جاء في کلام السباع : 2181، وقال الألباني صحیح ] ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ درندے انسانوں سے کلام کریں گے اور آدمی سے اس کے کوڑے کا سرا اور جوتے کا تسمہ کلام کرے گا اور اس کی ران اسے بتائے گی کہ اس کے اہل نے اس کے بعد کیا گناہ کیا ہے۔“ عقل پرست حضرات ان تمام مقامات پر تاویل کرتے جائیں تو اکثر آیات و احادیث کھلونا بن کر رہ جائیں گی، جن سے یہ لوگ جس طرح چاہیں گے کھیلیں گے اور جو مطلب چاہیں گے نکالتے رہیں گے۔
Ayah 25:13

وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ Open ayah 25:13 in the Quran reader

اور جب وہ اس کی کسی تنگ جگہ میں آپس میں جکڑے ہوئے ڈالے جائیں گے تو وہاں کسی نہ کسی ہلاکت کو پکاریں گے۔

وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا۔۔ :”مُّقَرَّنِيْنَ“ ”قَرَنَ الثَّوْرَیْنِ“ (ض) اس نے دو بیل ایک لکڑی میں اکٹھے جوڑ دیے۔ ”قَرَنَ الْبَعِیْرَیْنِ“ اس نے دو اونٹ ایک رسی میں اکٹھے باندھ دیے۔ ”مُّقَرَّنِيْنَ“ باب تفعیل سے اسم مفعول ہے، اس میں باندھنے کی شدت کا اظہار ہو رہا ہے۔ اس سے دو چیزوں کا مفہوم ظاہر ہوتا ہے، ایک ان کے ہاتھوں، پاؤں اور گردنوں کا زنجیروں سے بندھا ہوا ہونا اور دوسرا ایک قسم کے کئی مجرموں کا ایک ہی جگہ ہونا۔ (دیکھیے نمل : 83۔ حم السجدہ : 19) یعنی جہنم میں ہر مجرم کے لیے اتنی تنگ جگہ ہوگی جہاں سے وہ ہل بھی نہیں سکے گا، اس کے علاوہ ایک ہی قسم کے کئی مجرم ایک ساتھ ہوں گے۔ (دیکھیے ابراہیم : 49۔ ہمزہ : 8، 9) جہنم کی آگ کی لپیٹیں انھیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہوں گی، اس وقت وہ سخت مصیبت سے گھبرا کر موت کو پکاریں گے۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”یعنی ایک بار مریں تو چھوٹ جائیں، دن میں ہزار بار مرنے سے بدتر حال ہوتا ہے۔“ (موضح)
Ayah 25:14

لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا Open ayah 25:14 in the Quran reader

آج ایک ہلاکت کو مت پکارو، بلکہ بہت زیادہ ہلاکتوں کو پکارو۔

لَا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا۔۔ : یعنی انھیں یہ جواب دیا جائے گا۔ دیکھیے سورة زخرف (77) اور مومن (49، 50)۔
Ayah 25:15

قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا Open ayah 25:15 in the Quran reader

کہہ دے کیا یہ بہتر ہے یا ہمیشگی کی جنت، جس کا متقی لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے، وہ ان کے لیے بدلہ اور ٹھکانا ہوگی۔

قُلْ اَذٰلِكَ خَيْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ۔۔ : یعنی آپ ان مشرکوں سے کہیں کہ اس طرح جکڑے ہوئے جہنم کی تنگ جگہ میں ہر وقت موت کی آرزو کرتے رہنا بہتر ہے، یا جنت خلد (ہمیشگی کی جنت) ؟ یہ سوال پوچھنے کے لیے نہیں بلکہ ڈانٹنے کے لیے ہے، کیونکہ جنت اور جہنم کے درمیان بہتر ہونے کا کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ : متقی سے مراد وہ شخص ہے جو کم از کم شرک سے بچے، اس کے بعد گناہ سے بچنے کے لحاظ سے متقین کے بیشمار درجے ہیں اور حسب مراتب سب کے ساتھ جنت کا وعدہ ہے۔ البتہ مشرک کبھی جنت میں نہیں جائے گا، فرمایا : (ۭاِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ باللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَاْوٰىهُ النَّارُ ۭوَمَا للظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ) [ المائدۃ : 72 ] ”بیشک حقیقت یہ ہے کہ جو بھی اللہ کے ساتھ شریک بنائے، سو یقیناً اس پر اللہ نے جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا آگ ہے اور ظالموں کے لیے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔“
Ayah 25:16

لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا Open ayah 25:16 in the Quran reader

ان کے لیے اس میں جو چاہیں گے ہوگا، ہمیشہ رہنے والے، یہ تیرے رب کے ذمے ہوچکا، ایسا وعدہ جو قابل طلب ہے۔

لَهُمْ فِيْهَا مَا يَشَاۗءُوْنَ خٰلِدِيْنَ :”لَھُم“ اور ”فِیْھَا“ کو پہلے لانے میں حصر کا مفہوم ہے، یعنی یہ نعمت کہ جو چاہیں مل جائے، صرف متقی لوگوں کو حاصل ہوگی اور انھیں بھی صرف جنت میں ملے گی۔ دنیا میں یہ نعمت نہ متقی لوگوں کو حاصل ہے نہ غیر متقی لوگوں کو۔ دنیا میں ہر ایک کا حال وہ ہے جو شاعر نے بیان کیا ہے ؂ مَا کُلُّ مَا یَتَمَنَّی الْمَرْءُ یُدْرِکُہُ تَجْرِی الرِّیَاحُ بِمَا لَا تَشْتَھِی السُّفُنُ ”ایسا نہیں کہ آدمی جو بھی تمنا کرے اسے حاصل ہی کرلے، کیونکہ ہوائیں کشتیوں کی خواہش کے خلاف چلا کرتی ہیں۔“ سورۂ حٰمٓ السجدہ کی آیت (31) : (وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْٓ اَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ) میں بھی اسی آیت کا مضمون بیان ہوا ہے۔ 3 یہاں ایک سوال کیا جاتا ہے کہ جنتیوں کو جب ہر وہ چیز ملے گی جس کی وہ خواہش کریں گے تو اگر وہ نبیوں کے مرتبے کی خواہش کریں تو کیا انھیں وہ بھی حاصل ہوجائے گا ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ان کے دلوں میں ایسی تمنا پیدا ہی نہیں ہوگی، وہ سب اپنے اپنے شغل ہی میں خوش ہوں گے اور سب حسد اور تنافس سے پاک اپنی حالت پر خوش ہوں گے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ فِيْ شُغُلٍ فٰكِــهُوْنَ) [ یٰسٓ : 55 ] ”بیشک جنت کے رہنے والے آج ایک شغل میں خوش ہیں۔“ اور جنت میں درجوں کا تفاوت اللہ تعالیٰ کی طرف سے طے ہے۔ ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ أَھْلَ الْجَنَّۃِ یَتَرَاءَ وْنَ أَھْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِھِمْ کَمَا یَتَرَاءَ وْنَ الْکَوْکَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ فِي الْأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ أَوِ الْمَغْرِبِ لِتَفَاضُلِ مَا بَیْنَھُمْ) [ بخاري، بدء الخلق، باب ما جاء في صفۃ الجنۃ۔۔ : 3256 ] ”اہل جنت اپنے اوپر کے بالاخانوں والوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے وہ نہایت چمک دار تارے کو دیکھتے ہیں، جو مشرق یا مغرب کے دور افق میں ہوتا ہے، ان کی ایک دوسرے کے درمیان درجوں کی برتری کی وجہ سے۔“ كَانَ عَلٰي رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْـُٔـوْلًا : اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ یہ وعدہ اس قابل ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کے پورا کرنے کی دعا کی جائے، یا یہ ایسا وعدہ ہے جو مانگنے پر یقیناً پورا کیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ”اولوا الباب“ (مومنوں) کی دعا ذکر فرمائی ہے، جو وہ کیا کرتے ہیں : (رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰي رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭاِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ) [ آل عمران : 194 ] ”اے ہمارے رب ! اور ہمیں عطا فرما جس کا وعدہ تو نے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانی کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر، بیشک تو وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔“ طبری نے بعض اہل عربیت سے ”وَعْدًا مَّسْـُٔـوْلًا“ کا معنی ”وَعْدًا وَاجِبًا“ نقل فرمایا ہے، کیونکہ جس چیز کا سوال یا مطالبہ ہوسکتا ہو وہ واجب ہوتی ہے، خواہ مطالبہ نہ ہی کیا جائے، مثلاً قرض، جیسا کہ عرب کہتے ہیں : ”لَأُعْطِیَنَّکَ أَلْفًا وَّعْدًا مَسْءُوْلًا“ ”میں تمہیں ایک ہزار دوں گا، یہ مسؤل وعدہ ہے۔“ یعنی تمہارے لیے واجب ہے، تم اس کا سوال اور مطالبہ کرسکتے ہو۔
Ayah 25:17

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 25:17 in the Quran reader

اور جس دن وہ انھیں اور جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے، اکٹھا کرے گا، پھر کہے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا، یا وہ خود راستے سے بھٹک گئے تھے ؟

وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ وَمَا يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ۔۔ : قیامت کے دن اللہ تعالیٰ غیر اللہ کی پرستش کرنے والوں کو اور ان سب کو اکٹھا کرے گا جن کی وہ پرستش کرتے رہے تھے۔ ان میں فرشتے بھی ہوں گے، انبیاء بھی، جیسے عیسیٰ اور عزیر ؑ اور اللہ کے کئی دوسرے نیک بندے بھی، حیوانات بھی ہوں گے، جیسے گائے، سانپ اور بندر وغیرہ، نباتات بھی ہوں گے، جیسے بیل وغیرہ اور جمادات بھی ہوں گے، جیسے بت وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ بےشعور اور بےجان چیزوں کو بھی شعور اور بولنے کی قوت عطا فرمائے گا اور ان سب سے پوچھے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا، یا یہ خود ہی سیدھے راستے سے بھٹک گئے تھے ؟ 3 اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا پہلے ہی علم ہے، اس سوال سے مقصود ایک تو غیر اللہ کی پرستش کرنے والوں کو لاجواب اور ذلیل و رسوا کرنا ہوگا، دوسرا ان کی پاک باز ہستیوں کی زبانی شرک سے بےزاری کا اعلان ہوگا۔ ”وَمَا يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ“ میں لفظ ”مَا“ استعمال ہوا ہے، جو عموماً غیر عاقل چیزوں کے لیے آتا ہے، حالانکہ وہ انبیاء و اولیاء کی بھی پرستش کرتے تھے۔ شاید ایسا اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان کی حیثیت ظاہر کرنے کے لیے کیا گیا ہے، یا اس لیے کہ ”مَا“ عاقل اور غیر عاقل دونوں کے لیے آتا ہے، اگرچہ اکثر غیر عاقل چیزوں کے لیے آتا ہے۔ 3 یہ مضمون قرآن مجید میں کئی مقامات پر آیا ہے، فرشتوں سے سوال کے لیے دیکھیے سورة سبا (40، 41) اور مسیح ؑ سے سوال کے لیے دیکھیے سورة مائدہ (116)۔
Ayah 25:18

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 25:18 in the Quran reader

وہ کہیں گے تو پاک ہے، ہمارے لائق نہ تھا کہ ہم تیرے سوا کسی بھی طرح کے دوست بناتے اور لیکن تو نے انھیں اور ان کے باپ دادا کو سامان دیا، یہاں تک کہ وہ (تیری) یاد کو بھول گئے اور وہ ہلاک ہونے والے لوگ تھے۔

ۭقَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ يَنْۢبَغِيْ لَنَآ۔۔ : یعنی جب ہم خود تیرے سوا کسی کو یارو مددگار نہیں سمجھتے تھے اور تیری توحید پر قائم تھے، تو لوگوں کو اپنے بارے میں کس طرح کہہ سکتے تھے کہ تم اللہ کے بجائے ہمیں اپنا حاجت روا اور مشکل کشا بنا لو۔ یہ بات تو ہمیں زیب ہی نہیں دیتی۔ دیکھیے آل عمران (79، 80)۔ وَلٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَاٰبَاۗءَهُمْ۔۔ : ”بُوْرًا“ ”بَارَ یَبُوْرُ“ سے مصدر بمعنی اسم فاعل برائے مبالغہ ہے، یا ”بَاءِرٌ“ کی جمع ہے، ہلاک ہونے والے، یعنی ہم نے انھیں گمراہ نہیں کیا، بلکہ یہ خود ہی کم ظرف اور کمینے لوگ تھے، تو نے انھیں اور ان کے آبا و اجداد کو ہر قسم کا رزق دیا، یہ کھا پی کر نمک حرام ہوگئے، حتیٰ کہ تیری یاد بھی بھول گئے، جو انھیں سب نعمتیں دینے والا تھا۔ ”اَلذِّکْرَ“ کا دوسرا معنی یہ ہے کہ یہ لوگ وہ نصیحتیں بھول گئے جو انبیاء نے انھیں کی تھیں۔ دیکھیے سورة انبیاء (44)۔
Ayah 25:19

فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا Open ayah 25:19 in the Quran reader

سو انھوں نے تو تمہیں اس بات میں جھٹلا دیا جو تم کہتے ہو، پس تم نہ کسی طرح ہٹانے کی طاقت رکھتے ہو اور نہ کسی مدد کی اور تم میں سے جو ظلم کرے گا ہم اسے بہت بڑا عذاب چکھائیں گے۔

فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ : یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے جو وہ مشرکین سے مخاطب ہو کر فرمائے گا کہ تم نے جنھیں معبود بنا رکھا تھا انھوں نے تو تمہیں تمہاری بات میں جھٹلا دیا اور تم سے بری ہوگئے۔ قیامت کے دن تمام خود ساختہ معبودوں کا اپنے پوجنے والوں سے بری ہونا اور ان کا دشمن بن جانا قرآن میں متعدد مقامات پر آیا ہے، دیکھیے سورة یونس (28) ، نحل (86) ، مریم (82) ، فاطر (13، 14) اور احقاف (6)۔rnۙ فَمَا تَسْتَطِيْعُوْنَ صَرْفًا وَّلَا نَصْرًا ۚ : یعنی جن سے تم مدد کی توقع رکھتے تھے وہ تمہارے دشمن بن گئے، تو اب تم عذاب سے کسی طرح نہیں بچ سکتے، نہ اسے اپنے آپ سے کسی سفارش یا فدیے سے ہٹا سکتے ہو اور نہ ہی خود یا کوئی اور تمہاری مدد کو آسکتا ہے۔ وَمَنْ يَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِيْرًا : ظلم سے مراد شرک ہے، دیکھیے سورة انعام کی آیت (82) : (اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ) کی تفسیر اور عذاب کبیر سے مراد جہنم ہے۔ مطلب یہ کہ تم سب نے ظلم کا ارتکاب کیا، اس لیے ہم تمہیں جہنم کا عذاب چکھائیں گے، یعنی جہنم میں پھینکنے کی وجہ بیان فرمائی ہے۔
Ayah 25:20

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠ Open ayah 25:20 in the Quran reader

اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجے مگر بلا شبہ وہ یقینا کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے اور ہم نے تمہارے بعض کو بعض کے لیے ایک آزمائش بنایا ہے۔ کیا تم صبر کرو گے ؟ اور تیرا رب ہمیشہ سے سب کچھ دیکھنے والا ہے۔

وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ۔۔ : یہ اس اعتراض کا جواب ہے کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ؟ فرمایا، پہلے تمام رسول بھی کھاتے پیتے تھے اور روزی کمانے کے لیے اور ضرورت کی چیزیں خریدنے کے لیے بازاروں میں جاتے تھے، بشر تھے فرشتے نہ تھے۔ (دیکھیے یوسف : 109۔ انبیاء : 7، 8) اگر کھانے پینے اور بازاروں میں چلنے پھرنے کے باوجود تم انھیں رسول مانتے ہو، جیسا کہ تم ابراہیم اور اسماعیل ؑ کی اولاد ہونے اور ان کی ملت ہونے پر فخر کرتے ہو، نوح، موسیٰ اور عیسیٰ ؑ کو پیغمبر مانتے ہو، تو اس رسول پر ایمان کیوں نہیں لاتے ؟ وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً ۭ اَتَصْبِرُوْنَ ۚ : یہ اس سوال کا جواب ہے کہ پیغمبر کو سونے چاندی کے خزانے اور باغات و محلات کیوں عطا نہیں کیے گئے ؟ فرمایا : ”ہم نے تمہارے بعض کو بعض کے لیے آزمائش بنایا ہے“ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عموماً انبیاء کو دنیاوی لحاظ سے معمولی حالت میں رکھتا ہے، ورنہ اگر وہ انھیں دنیا کثرت کے ساتھ دیتا تو بہت سے لوگ مال کے لالچ میں ان کے ساتھ ہوجاتے، سچے جھوٹے مل جل جاتے اور امتحان کا مقصد فوت ہوجاتا۔ عیاض بن حمار ؓ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : (إِنَّمَا بَعَثْتُکَ لِأَبْتَلِیَکَ وَ أَبْتَلِيَ بِکَ وَ أَنْزَلْتُ عَلَیْکَ کِتَابًا لَا یَغْسِلُہُ الْمَاءُ تَقْرَأُہُ نَاءِمًا وَ یَقْظَانَ) [ مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمھا و أھلھا، باب الصفات التي یعرف بہا۔۔ : 2865 ] ”میں نے تجھے صرف اس لیے بھیجا ہے کہ تیری آزمائش کروں اور تیرے ساتھ (لوگوں کی) آزمائش کروں اور میں نے تجھ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جسے پانی نہیں دھو سکتا، تو اسے سوتے جاگتے پڑھے گا۔“ الغرض ! اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کو ان کے مختلف حالات کی وجہ سے ایک دوسرے کے لیے آزمائش بنایا ہے، چناچہ رسول اور اہل ایمان منکرین کے لیے آزمائش ہیں اور منکرین کے لیے رسول اور اہل ایمان آزمائش ہیں۔ غنی فقیر کے لیے آزمائش ہیں، تندرست بیمار کے لیے آزمائش ہیں کہ وہ اپنے سے برتر کو دیکھ کر اپنی حالت پر صبر کرتے ہیں یا نہیں۔ فقیر اور بیمار غنی اور تندرست کے لیے آزمائش ہیں کہ وہ اپنے سے کم تر کو دیکھ کر شکر کرتے ہیں یا نہیں۔ حقیقت ہے کہ شکر کی بنیاد بھی صبر ہے، جو اپنی حالت پر صابر نہیں وہ کبھی شاکر نہیں ہوسکتا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے صبر کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا : (اَتَصْبِرُوْن) ”کیا تم صبر کرتے ہو۔“ مطلب یہ ہے کہ صبر کرو۔ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيْرًا : اس کے دو معنی ہیں اور دونوں ہی یہاں مناسبت رکھتے ہیں، ایک یہ کہ تمہارا رب جو کچھ کر رہا ہے دیکھ کر ہی کر رہا ہے، اس کے ہر کام میں حکمت ہے۔ دوسرا یہ کہ تم جس صدق اور خلوص کے ساتھ کفار کی مخالفت برداشت کرو گے وہ اسے دیکھ رہا ہے اور وہ کبھی تمہاری محنت کی بےقدری نہیں کرے گا۔
Ayah 25:21

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 25:21 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے کہا جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے، ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے، یا ہم اپنے رب کو دیکھتے ؟ بلا شبہ یقینا وہ اپنے دلوں میں بہت بڑے بن گئے اور انھوں نے سرکشی اختیار کی، بہت بڑی سر کشی۔

وَقَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا۔۔ : یہ نبی ﷺ کی نبوت کے منکروں کا چوتھا اعتراض ہے، اللہ تعالیٰ نے ”وَقَالُوْا“ (اور انھوں نے کہا) یا ”وَ قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا“ (اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا) کہنے کے بجائے فرمایا : (وَقَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا) (اور ان لوگوں نے کہا جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے) یعنی انھیں اتنی گستاخی کی جرأت اس لیے ہوئی کہ وہ ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے۔ یقین تو دور، اگر انھیں قیامت کی اور ہمارے سامنے پیش ہونے کی امید بھی ہوتی تو اتنی بڑی بات ان کے منہ سے نہ نکلتی۔ 3 منکرین نے کہا کہ (اس نبی پر فرشتہ وحی لے کر اترتا ہے تو) ہم پر فرشتے کیوں نازل نہیں کیے گئے، یا ایسا کیوں نہیں ہوا کہ ہم اپنے رب کو (اپنی آنکھوں سے) دیکھ لیتے ؟ یہ ایسی بات ہے کہ کسی انسان کا حق نہیں کہ زبان پر لانے کی جرأت کرے، کیونکہ یہ اس ذات پاک پر اعتراض ہے جس کی عظمت کی کوئی حد ہے نہ کوئی اس کی حکمتیں معلوم کرسکتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے قسم کا مفہوم رکھنے والے الفاظ ”لَقَدْ“ کے ساتھ فرمایا کہ مجھے قسم ہے کہ یہ لوگ اپنے دلوں میں بہت بڑے بن گئے اور انھوں نے ایسی سرکشی اختیار کی جو بہت بڑی سرکشی ہے۔ حالانکہ نہ حقیقت میں انھیں کوئی بڑائی حاصل ہے نہ لوگوں کی نگاہ میں۔ آیت کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایسا کیوں نہیں ہوا کہ اس نبی کے ساتھ فرشتے اترتے، یا خود رب تعالیٰ سامنے آ کر اس کی تصدیق کرتا۔ گویا ان کے لیے نبی کے واضح معجزات خصوصاً قرآن کی کوئی حیثیت نہیں، جس کی ایک سورت کی مثل وہ نہیں لاسکے۔ 3 کفار کا یہ اعتراض اللہ تعالیٰ نے دوسرے کئی مقامات پر بھی ذکر فرمایا ہے۔ چناچہ سورة انعام میں فرمایا : (وَاِذَا جَاۗءَتْهُمْ اٰيَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ ۂاَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ ۭسَيُصِيْبُ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعَذَابٌ شَدِيْدٌۢ بِمَا كَانُوْا يَمْكُرُوْنَ) [ الأنعام : 124 ] ”اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے، یہاں تک کہ ہمیں اس جیسا دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا، اللہ زیادہ جاننے والا ہے جہاں وہ اپنی رسالت رکھتا ہے۔ عنقریب ان لوگوں کو جنھوں نے جرم کیے، اللہ کے ہاں بڑی ذلت پہنچے گی اور بہت سخت عذاب، اس وجہ سے کہ وہ فریب کیا کرتے تھے۔“ اور سورة بنی اسرائیل کی آیات (90 تا 93) میں ان مطالبات کا ذکر ہے جو انھوں نے رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کی شرط کے طور پر پیش کیے تھے، ان میں سے ایک مطالبہ یہ تھا : (اَوْ تَاْتِيَ باللّٰهِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ قَبِيْلًا) [ بني إسرائیل : 92 ] ”یا تو اللہ اور فرشتوں کو سامنے لے آئے۔“ 3 اللہ تعالیٰ نے اسے بہت بڑا تکبر اور بہت بڑی سرکشی اس لیے قرار دیا کہ انھوں نے اپنے ہر شخص کے لیے نبی کا مرتبہ ملنے کا مطالبہ کیا جو فرشتے کے نزول کی وجہ سے اسے حاصل ہوتا ہے۔ (دیکھیے مدثر : 52، 53) پھر یہیں تک نہیں رہے، بلکہ کئی فرشتوں کے نزول کا مطالبہ کیا جو ان کے پاس اللہ کا پیغام لے کر آئیں۔ اس سے بھی بڑھے تو رب تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کردیا۔ گویا ان چیزوں کا مطالبہ کردیا جو نبیوں کو بھی عطا نہیں ہوئیں۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا سوال تو موسیٰ ؑ نے بھی کیا تھا، اسے تکبر کیوں نہیں کہا گیا ؟ جواب یہ ہے کہ موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ کے دیدار کا مطالبہ ایمان کی شرط کے طور پر نہیں کیا تھا بلکہ شوق کے تقاضے سے کیا تھا۔
Ayah 25:22

یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:22 in the Quran reader

جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن مجرموں کے لیے خوشی کی کوئی خبر نہ ہوگی اور کہیں گے (کاش ! ہمارے اور ان کے درمیان) ایک مضبوط آڑ ہو۔

يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلٰۗىِٕكَةَ لَا بُشْرٰى يَوْمَىِٕذٍ لِّلْمُجْرِمِيْنَ : یعنی رب تعالیٰ کو دیکھنا تو بہت دور، فرشتوں کو دیکھنا بھی معمولی بات نہیں، جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن ان مجرموں کے لیے کوئی خوشی کی خبر نہیں ہوگی، کیونکہ وہ ان کے لیے عذاب ہی لے کر آتے ہیں (حجر : 8) خواہ وہ دنیا میں کوئی عذاب لے کر آئیں یا موت کے وقت ان کے پاس آئیں (انعام : 93۔ انفال : 50۔ محمد : 27، 28) یا قیامت کے دن انھیں دکھائی دیں۔ وَيَقُوْلُوْنَ حِجْـرًا مَّحْجُوْرًا : ”حِجْـرًا“ کا معنی آڑ، رکاوٹ ہے، ”مَّحْجُوْرًا“ تاکید کے لیے ہے، یعنی بہت مضبوط رکاوٹ۔ یعنی جب مجرم فرشتوں کو دیکھیں گے تو چاہیں گے کہ ان کے اور فرشتوں کے درمیان کوئی مضبوط آڑ ہو، کوئی سخت رکاوٹ ہو جس کے ذریعے سے وہ ان سے بچ جائیں۔
Ayah 25:23

وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا Open ayah 25:23 in the Quran reader

اور ہم اس کی طرف آئیں گے جو انھوں نے کوئی بھی عمل کیا ہوگا تو اسے بکھرا ہوا غبار بنادیں گے۔

وَقَدِمْنَآ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ۔۔ : ”هَبَاۗءً“ غبار کے ان ذرّات کو کہتے ہیں جو روشن دان کے ذریعے سے کمرے میں آنے والی دھوپ میں چمک رہے ہوتے ہیں، پکڑنا چاہیں تو کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ کوئی شخص جسے کسی چیز سے شدید کراہت و نفرت ہو وہ اسے کسی دوسرے کے ہاتھوں تباہ و برباد کرنے پر قناعت نہیں کرتا، بلکہ وہ خود اسے تباہ و برباد کرتا ہے، اس لیے فرمایا کہ جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے، دنیا میں دیکھیں یا آخرت میں، تو انھوں نے اپنے خیال میں جو بھی اچھا عمل کیا ہوگا، خواہ سخاوت ہو یا صلہ رحمی یا مظلوم کی مدد یا بیت اللہ کی آباد کاری اور حاجیوں کی خدمت وغیرہ، ہم خود اس کی طرف آئیں گے اور اسے بکھرا ہوا غبار بنادیں گے، کیونکہ عمل کی قبولیت کے لیے ایمان، اخلاص اور اس کا شریعت کے مطابق ہونا ضروری ہے، جب کہ ان کے اعمال اس سے خالی تھے۔ روشن دان سے آنے والی روشنی میں سکون کی حالت میں غبار کے ذرات پھر بھی کچھ مرتب اور موجود نظر آتے ہیں، لیکن جب انھیں ہوا یا کوئی اور چیز حرکت دیتی ہے تو کچھ ہاتھ نہیں آتا اور وہ سب بکھر کر کالعدم ہوجاتے ہیں، اس لیے انھیں بکھرا ہوا غبار فرمایا۔ (بقاعی) کفار کے اعمال کو اللہ تعالیٰ نے کہیں ”رَمَادٌ“ (راکھ) کے ساتھ تشبیہ دی ہے (دیکھیے ابراہیم : 18) ، کہیں سراب کے ساتھ (دیکھیے نور : 39) اور کہیں فرمایا کہ ہم ان کے لیے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے۔ (دیکھیے کہف : 105)۔
Ayah 25:24

اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا Open ayah 25:24 in the Quran reader

اس دن جنت والے ٹھکانے کے اعتبار سے نہایت بہتر اور آرام گاہ کے اعتبار سے کہیں اچھے ہوں گے۔

اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا۔۔ : جہنمیوں کے ذکر کے ساتھ اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ وہ اس دن کفار سے ٹھکانے کے اعتبار سے نہایت بہتر اور آرام گاہ کے اعتبار سے کہیں اچھے ہوں گے۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ قیامت کے دن کفار کے لیے تو خیر کا وجود ہی نہیں ہوگا، پھر اہل جنت کا ٹھکانے اور آرام گاہ میں ان سے بہتر ہونے کا کیا مطلب ؟ جواب یہ ہے کہ دنیا میں کفار کو جو عیش و آرام میسر تھا اہل جنت اس دن اس سے کہیں اچھے ٹھکانے اور آرام گاہ میں ہوں گے، یا یہ بات جہنمیوں پر طنز کے طور پر کہی گئی ہے۔ وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا : اصل میں ”مَقِيْلًا“ کے لفظی معنی ہیں ”قیلولہ کرنے کی جگہ“ اور قیلولہ گرمی میں دوپہر کے آرام کو کہتے ہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں : (لَا یَنْتَصِفُ النَّھَارُ مِنْ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ حَتّٰی یَقِیْلَ ھٰؤُلَاءِ وَ ھٰؤُلَاءِ ثُمَّ قَرَأَ : (اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَا۟اِلَى الْجَحِيْمِ) [ مستدرک حاکم : 2؍402، ح : 3516، صححہ الحاکم و وافقہ الذھبي ] ”قیامت کے دن ابھی دوپہر نہ ہوئی ہوگی کہ یہ لوگ اور وہ لوگ دوپہر کا آرام کر رہے ہوں گے، پھر (کفار کے متعلق) یہ آیت پڑھی : (اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَا۟اِلَى الْجَحِيْمِ) [ الصافات : 68 ] ”بلاشبہ ان کی واپسی یقیناً اسی بھڑکتی ہوئی آگ کی طرف ہوگی۔“
Ayah 25:25

وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِیْلًا Open ayah 25:25 in the Quran reader

اور جس دن آسمان بادل کے ساتھ پھٹ جائے گا اور فرشتے اتارے جائیں گے، لگاتار اتارا جانا۔

وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاۗءُ بالْغَمَامِ۔۔ : ”يَوْمَ“ پر نصب محذوف ”اُذْکُرْ“ کی وجہ سے ہے، یعنی اس دن کو یاد کرو۔ ”تَشَقَّقُ“ اصل میں ”تَتَشَقَّقُ“ ہے، تخفیف کے لیے ایک تاء حذف کردی ہے۔ ”آسمان بادل کے ساتھ پھٹ جائے گا“ کا مطلب یہ ہے کہ آسمان پھٹ کر اس سے بادل نکلے گا، جیسا کہ کہا جاتا ہے : ”تَشَقَّقَتِ الْأَرْضُ بالنَّبَاتِ“ ”زمین نبات کے ساتھ پھٹی“ یعنی زمین پھٹ کر اس میں سے نبات نکلی۔ یعنی اس دن کو یاد کرو جب آسمان پھٹ کر اس میں سے سائبانوں کی صورت ایک بادل نکلے گا، جس میں فرشتے جماعتوں کی صورت میں لگا تار میدان محشر میں اتارے جائیں گے، جو زمین پر ہوگا۔ ابن کثیر ؓ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کی ہولناکی اور اس میں واقع ہونے والے عظیم معاملات کا ذکر فرما رہے ہیں، جن میں سے آسمان کا پھٹنا اور بادلوں کے ساتھ اس کا کھل جانا بھی ہے، جو نور کے عظیم سائبانوں کی صورت میں ہوں گے۔ پھر فرشتے اتریں گے اور میدان محشر میں تمام انسانوں کو گھیر لیں گے، پھر اللہ اپنے بندوں میں فیصلے کے لیے تشریف لائے گا۔ مجاہد نے فرمایا، یہ اسی طرح ہوگا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ھَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيَهُمُ اللّٰهُ فِيْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ وَقُضِيَ الْاَمْرُ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ) [ البقرۃ : 210 ] ”وہ اس کے سوا کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس اللہ بادل کے سائبانوں میں آجائے اور فرشتے بھی اور کام تمام کردیا جائے اور سب کام اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔“ اس دن کی کچھ کیفیت ان آیات میں بیان ہوئی ہے، فرمایا : (فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌ وَّحُمِلَتِ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ وَانْشَقَّتِ السَّمَاۗءُ فَھِيَ يَوْمَىِٕذٍ وَّاهِيَةٌ وَّالْمَلَكُ عَلٰٓي اَرْجَاۗىِٕهَا ۭ وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ يَوْمَىِٕذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِيَةٌ) [ الحاقۃ : 13 تا 18 ] ”پس جب صور میں پھونکا جائے گا، ایک بار پھونکنا۔ اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھایا جائے گا، پس دونوں ٹکرا دیے جائیں گے، ایک بار ٹکرا دینا۔ تو اس دن ہونے والی ہوجائے گی۔ اور آسمان پھٹ جائے گا، پس وہ اس دن کمزور ہوگا۔ اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے اور تیرے رب کا عرش اس دن آٹھ (فرشتے) اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اس دن تم پیش کیے جاؤ گے، تمہاری کوئی چھپی ہوئی بات چھپی نہیں رہے گی۔“ اور فرمایا : (وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَاۗءَ اللّٰهُ ۭ ثُمَّ نُفِخَ فِيْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِيَامٌ يَّنْظُرُوْنَ وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْۗءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَهُوَ اَعْلَمُ بِمَا يَفْعَلُوْنَ) [ الزمر : 68 تا 70 ] ”اور صور میں پھونکا جائے گا تو جو لوگ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہوں گے، مر کر گرجائیں گے مگر جسے اللہ نے چاہا، پھر اس میں دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو اچانک وہ کھڑے دیکھ رہے ہوں گے۔ اور زمین اپنے رب کے نور کے ساتھ روشن ہوجائے گی اور لکھا ہوا (سامنے) رکھا جائے گا اور نبی اور گواہ لائے جائیں گے اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ اور ہر شخص کو پورا پورا دیا جائے گا جو اس نے کیا اور وہ زیادہ جاننے والا ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں۔“ اور فرمایا : (كَلَّآ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّا وَّجَاۗءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا وَجِايْۗءَ يَوْمَىِٕذٍۢ بِجَهَنَّمَ ڏ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى) [ الفجر : 21 تا 23 ] ”ہرگز نہیں، جب زمین کوٹ کوٹ کر ریزہ ریزہ کردی جائے گی۔ اور تیرا رب آئے گا اور فرشتے جو صف در صف ہوں گے۔ اور اس دن جہنم کو لایا جائے گا، اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا اور (اس وقت) اس کے لیے نصیحت کہاں۔“ اتنی صریح آیات کے باوجود کئی بدنصیب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے زمین پر نزول فرمانے کے منکر ہیں اور ایسی تاویلیں کرتے ہیں جو انکار سے بھی بدتر ہیں۔ مزید دیکھیے سورة بقرہ (210) ، فجر (21 تا 23) اور حاقہ (16، 17) کی تفسیر۔
Ayah 25:26

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا Open ayah 25:26 in the Quran reader

اس دن حقیقی بادشاہی رحمان کی ہوگی اور کافروں پر وہ بہت مشکل دن ہوگا۔

اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ۔۔ : یعنی دنیا کی وہ تمام عارضی اور مجازی حکومتیں ختم ہوجائیں گی، جن سے انسان دھوکے میں پڑا رہتا ہے اور ظاہراً ، باطناً ، صورتاً ، یعنی ہر لحاظ سے اکیلے رحمٰن کی بادشاہت ہوگی اور صرف اسی کا حکم چلے گا اور وہ دن کافروں پر بہت سخت ہوگا۔ یہ بھی مومنوں پر اس کی رحمت کا تقاضا ہوگا، کیونکہ ان کے دشمنوں کو سزا دینے سے جو خوشی انھیں حاصل ہونی ہے وہ اور کسی طرح حاصل نہیں ہوسکتی ؟ (بقاعی) عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (یَطْوِي اللّٰہُ عَزَّ وَ جَلَّ السَّمَاوَاتِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ثُمَّ یَأْخُذُھُنَّ بِیَدِہِ الْیُمْنٰی ثُمَّ یَقُوْلُ أَنَا الْمَلِکُ ، أَیْنَ الْجَبَّارُوْنَ ؟ أَیْنَ الْمُتَکَبِّرُوْنَ ؟) [ مسلم، صفات المنافقین، باب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار : 2788 ] ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمان کو لپیٹ دے گا، پھر انھیں اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑ کر فرمائے گا، میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں جبار لوگ ؟ کہاں ہیں متکبر لوگ ؟“ اور دیکھیے سورة زمر (67) اور مومن (16) کفار پر اس دن کے سخت ہونے اور مومنوں پر آسان ہونے کا مضمون دیکھیے سورة مدثر (8 تا 10) میں۔
Ayah 25:27

وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا Open ayah 25:27 in the Quran reader

اور جس دن ظالم اپنے دونوں ہاتھ دانتوں سے کاٹے گا، کہے گا اے کاش ! میں رسول کے ساتھ کچھ راستہ اختیار کرتا۔

وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰي يَدَيْهِ : ظالم سے مراد یہاں وہ مشرک ہے جس نے ایمان قبول نہیں کیا۔ اس کا قرینہ ”يٰلَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِيْلًا“ ہے، یعنی وہ حسرت و افسوس اور ندامت سے ہاتھوں کو دانتوں سے کاٹے گا۔ يَقُوْلُ يٰلَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِيْلًا : ”سَبِيْلًا“ پر تنوین تنکیر کے لیے ہے، کوئی راستہ، کچھ راستہ، یعنی قیامت کے دن جب ایمان والوں کو، وہ خواہ کسی بھی درجے کا ایمان رکھتے ہوں، آخر کار جنت میں داخلہ ملے گا، تو اس وقت کافر کہے گا، کاش ! میں نے رسول کے ساتھ کچھ ہی راستہ اختیار کیا ہوتا، کسی بھی درجے میں رسول کی رفاقت اختیار کی ہوتی۔ دیکھیے اس کی ہم معنی آیت : (رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ) [ الحجر : 2 ] کی تفسیر۔
Ayah 25:28

یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا Open ayah 25:28 in the Quran reader

ہائے میری بربادی ! کاش کہ میں فلاں کو دلی دوست نہ بناتا۔

يٰوَيْلَتٰى لَيْتَنِيْ لَمْ اَتَّخِذْ۔۔ : ”یویلتی“ اصل میں ”یَا وَیْلَتِيْ“ ہے، جس میں لفظ ”وَیْلَۃٌ“ یائے متکلم کی طرف مضاف ہے، جسے الف سے بدل دیا گیا ہے، معنی ہے میری ہلاکت، میری بربادی۔ یعنی کافر اپنی ہلاکت کو پکارے گا اور ان لوگوں کا نام لے کر کہے گا جنھوں نے اسے گمراہ کیا تھا کہ کاش ! میں فلاں کو دلی دوست نہ بناتا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک ایک کا نام لینے کے بجائے ہر شخص کے دلی دوست کے لیے ”خَلِیْلاً“ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ کفار کی اس ندامت کا ذکر سورة بقرہ (167) اور سورة احزاب (66 تا 68) میں بھی دیکھیے۔ اس سے معلوم ہوا آدمی کو خوب سوچ سمجھ کر دوست کا انتخاب کرنا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَلرَّجُلُ عَلٰی دِیْنِ خَلِیْلِہِ فَلْیَنْظُرْ أَحَدُکُمْ مَنْ یُّخَالِلُ) [ أبوداوٗد، الأدب، باب من یؤمر أن یجالس : 4833، عن أبي ہریرہ ؓ و حسنہ الألباني ] ”آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، اس لیے تم میں سے ہر ایک کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کسے دلی دوست بنا رہا ہے۔“ اور آپ ﷺ نے فرمایا : (مَثَلُ الْجَلِیْسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ کَحَامِلِ الْمِسْکِ وَ نَافِخِ الْکِیْرِ ، فَحَامِلُ الْمِسْکِ إِمَّا أَنْ یُّحْذِیَکَ وَ إِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْہُ وَ إِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْہُ رِیْحًا طَیِّبَۃً ، وَ نَافِخُ الْکِیْرِ إِمَّا أَنْ یُحْرِقَ ثِیَابَکَ وَ إِمَّا أَنْ تَجِدَ رِیْحًا خَبِیْثَۃً) [ بخاري، الذبائح و الصید، باب المسک : 5534، عن أبي موسیٰ ] ”نیک اور برے ہم نشین کی مثال کستوری رکھنے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی ہے، کستوری رکھنے والا یا تو تجھے عطیہ دے دے گا، یا تو اس سے خرید لے گا، یا اس سے عمدہ خوشبو پاتا رہے گا اور بھٹی دھونکنے والا یا تو تیرے کپڑے جلا دے گا، یا تو اس سے گندی بو پاتا رہے گا۔“
Ayah 25:29

لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا Open ayah 25:29 in the Quran reader

بیشک اس نے تو مجھے نصیحت سے گمراہ کردیا، اس کے بعد کہ میرے پاس آئی اور شیطان ہمیشہ انسان کو چھوڑ جانے والا ہے۔

لَقَدْ اَضَلَّنِيْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَاۗءَنِيْ : اس میں اس تمنا کی وجہ بیان کی ہے کہ کاش ! میں فلاں کو دوست نہ بناتا۔ وہ یہ کہ میرے پاس (الذِّكْرِ) کامل نصیحت آئی، مگر اس دوست نے مجھے اس کو قبول کرنے سے بےراہ کردیا۔ ”اَلذِّکْر“ سے مراد کے لیے دیکھیے سورة حجر (6، 9)۔ وَكَان الشَّيْطٰنُ۔۔ : ”الشَّيْطٰنُ“ ”شَطْنٌ“ سے مشتق ہے، جس کا معنی دوری بھی ہے اور خباثت بھی۔ شیطان ہر وہ خبیث شخص ہے جو حق سے دور ہو، خواہ انسان ہو یا جن، کیونکہ شیطان دونوں ہی میں پائے جاتے ہیں۔ دیکھیے سورة انعام (112) ”خَذُوْلًا“ چھوڑ جانے والا، ”کَانَ“ کی وجہ سے ”ہمیشہ چھوڑ جانے والا“ ترجمہ کیا گیا ہے، یعنی شیطان آدمی کو پہلے برے کام کی ترغیب دیتا ہے، جب آدمی وہ کام کرلیتا ہے اور مصیبت میں گرفتار ہوجاتا ہے تو اس کو چھوڑ کر الگ ہوجاتا ہے۔ دیکھیے سورة ابراہیم (21، 22) رہے دوست، تو قیامت کے دن متقی دوستوں کے سوا سب ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے۔ دیکھیے سورة زخرف (67)۔