25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 25:70

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:70 in the Quran reader

مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لے آیا اور عمل کیا، نیک عمل تو یہ لوگ ہیں جن کی برائیاں اللہ نیکیوں میں بدل دے گا اور اللہ ہمیشہ بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا۔۔ : ابن عباس ؓ نے فرمایا : ”اہل شرک میں سے کچھ لوگوں نے قتل کیے اور بہت کیے اور زنا کیے اور بہت کیے، پھر وہ محمد ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے : ”آپ جو بات کہتے ہیں اور جس کی دعوت دیتے ہیں وہ بہت اچھی ہے، اگر آپ ہمیں یہ بتادیں کہ ہم نے جو کچھ کیا اس کا کوئی کفارہ ہے ؟“ تو یہ آیت اتری : (وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ۔۔) [ الفرقان : 68 ] اور یہ آیت اتری : (يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ۭ) [ الزمر : 53 ] ”اے میرے بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ! اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ۔“ [ مسلم، الإیمان، باب کون الإسلام یھدم ما قبلہ۔۔ : 122 ] یہ آیت ان لوگوں کے لیے بشارت ہے جن کی زندگی پہلے طرح طرح کے جرائم سے آلودہ رہی ہو اور اب وہ اپنی اصلاح پر آمادہ ہوں، یہی عام معافی کا دن تھا جس نے اس بگڑے ہوئے معاشرے کے لاکھوں انسانوں کو سہارا دے کر مستقبل کے بگاڑ سے بچا لیا اور انھیں امید کی روشنی دکھا کر اصلاح پر آمادہ کیا۔ اگر ان سے کہا جاتا کہ جو گناہ تم کرچکے ہو ان کی سزا سے اب تم کسی طرح بچ نہیں سکتے تو وہ ہمیشہ کے لیے بدی کے بھنور میں پھنس جاتے۔ توبہ کی اس نعمت نے بگڑے ہوئے لوگوں کو کس طرح سنبھالا، اس کا اندازہ ان بہت سے واقعات سے ہوتا ہے جو نبی ﷺ کے زمانے میں پیش آئے، عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں : ”جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کی محبت میرے دل میں ڈال دی تو میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے عرض کی : ”اپنا دایاں ہاتھ آگے کیجیے، تاکہ میں آپ کی بیعت کروں۔“ آپ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ آگے بڑھایا تو میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اے عمرو ! تجھے کیا ہوا ؟“ میں نے کہا : ”میری ایک شرط ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”تیری کیا شرط ہے ؟“ میں نے کہا : (أَنْ یُّغْفَرَ لِیْ ، قَالَ أَمَا عَلِمْتَ یَا عَمْرُو ! أَنَّ الإِْسْلَامَ یَھْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہُ ؟ وَ أَنَّ الْھِجْرَۃَ تَھْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَھَا ؟ وَأَنَّ الْحَجَّ یَھْدِمُ مَا کَانَ قبْلَہُ ؟) [ مسلم، الإیمان، باب کون الإسلام یھدم ما قبلہ و کذا الھجرۃ والحج : 121 ] ”(میری شرط یہ ہے) کہ میرے گناہ معاف ہوں (جو اب تک کیے ہیں)۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اے عمرو ! کیا تو جانتا نہیں کہ اسلام اپنے سے پہلے کے گناہوں کو ختم کردیتا ہے ؟ اور یہ کہ ہجرت اپنے سے پہلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ؟ اور یہ کہ حج اپنے سے پہلے گناہوں کو ختم کردیتا ہے ؟“ 3 اللہ تعالیٰ نے برائیوں کو نیکیوں میں بدلنے کے لیے تین شرطیں رکھی ہیں، پہلی توبہ، یعنی گناہ سے باز آجانا، گزشتہ گناہوں پر ندامت اور آئندہ کے لیے گناہ نہ کرنے کا عزم۔ دوسری شرط ایمان ہے، کیونکہ ایمان کے بغیر کوئی عمل قبول ہی نہیں اور تیسری شرط عمل صالح ہے، یعنی اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق عمل کرنا۔ ”عَمَلًا صَالِحًا“ نکرہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ کیا ہے ”اور عمل کیا، کچھ نیک عمل۔“ شاہ عبد القادر ؓ نے ترجمہ کیا ہے ”اور کیا کچھ نیک کام۔“ اس میں بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں توبہ اور ایمان کے ساتھ تھوڑے عمل صالح کی بھی بہت قدر ہے۔ فَاُولٰۗىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَـيِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ : اس کی دو تفسیریں ہیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں انھیں گناہوں کی جگہ نیکیوں کی توفیق دے گا، کفر اور شرک کی جگہ وہ ایمان اور توحید پر قائم ہوں گے، مومنوں کو قتل کرنے کے بجائے میدان جنگ میں کفار کو قتل کریں گے۔ زنا کی جگہ پاک دامنی پر، جھوٹ کی جگہ صدق پر اور نافرمانی کی جگہ فرماں برداری پر قائم ہوں گے۔ (و علی ہذا القیاس) یہ تفسیر ابن عباس ؓ سے معتبر سند کے ساتھ طبری نے نقل فرمائی ہے۔ دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کے تمام گناہوں کو نیکیوں میں بدل دے گا، یہ تفسیر رسول اللہ ﷺ سے آئی ہے۔ ابوذر غفاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنِّيْ لَأَعْلَمُ آخِرَ أَھْلِ الْجَنَّۃِ دُخُوْلًا الْجَنَّۃَ ، وَآخِرَ أَھْلِ النَّارِ خُرُوْجًا مِنْھَا، رَجُلٌ یُؤْتٰی بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، فَیُقَالُ اعْرِضُوْا عَلَیْہِ صِغَارَ ذُنُوْبِہِ وَارْفَعُوْا عَنْہُ کِبَارَھَا، فَتُعْرَضُ عَلَیْہِ صِغَارُ ذُنُوْبِہِ ، فَیُقَالُ عَمِلْتَ یَوْمَ کَذَا وَ کَذَا، کَذَا وَ کَذَا، وَ عَمِلْتَ یَوْمَ کَذَا وَ کَذَا، کَذَا وَ کَذَا، فَیَقُوْلُ نَعَمْ ، لَا یَسْتَطِیْعُ أَنْ یُّنْکِرَ ، وَھُوَ مُشْفِقٌ مِنْ کِبَارِ ذُنُوْبِہِ أَنْ تُّعْرَضَ عَلَیْہِ ، فَیُقَالُ لَہُ فَإِنَّ لَکَ مَکَانَ کُلِّ سَیِّءَۃٍ حَسَنَۃً ، فَیَقُوْلُ رَبِّ ! قَدْ عَمِلْتُ أَشْیَاءَ لَا أَرَاھَا ھٰھُنَا، فَلَقَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ ضَحِکَ حَتّٰی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ) [ مسلم، الإیمان، باب أدنٰی أہل الجنۃ منزلۃ فیھا : 190 ] ”میں اس شخص کو جانتا ہوں جو جنت میں داخل ہونے والوں میں سب سے آخری اور جہنم سے نکلنے والوں میں سب سے آخری ہوگا، وہ ایسا آدمی ہوگا جسے قیامت کے دن لایا جائے گا اور کہا جائے گا : ”اس کے سامنے اس کے چھوٹے گناہ پیش کرو اور اس کے بڑے گناہ بچائے رکھو۔“ تو اس کے سامنے اس کے چھوٹے گناہ پیش کیے جائیں گے اور کہا جائے گا : ”تو نے فلاں فلاں دن یہ یہ عمل کیے تھے اور فلاں فلاں دن یہ یہ عمل کیے تھے ؟“ وہ کہے گا : ”ہاں !“ انکار نہیں کرسکے گا اور وہ اپنے بڑے گناہوں کے پیش کیے جانے سے ڈر رہا ہوگا، تو اس سے کہا جائے گا : ”تمہارے لیے ہر برائی کی جگہ ایک نیکی ہے۔“ تو وہ کہے گا : ”اے میرے رب ! میں نے کئی کام کیے ہیں جو مجھے یہاں دکھائی نہیں دے رہے۔“ (ابو ذر ؓ کہتے ہیں) : ”تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ ہنسے یہاں تک کہ آپ کی ڈاڑھیں ظاہر ہوگئیں۔“ 3 اہل علم نے گناہوں کو نیکیوں میں بدلنے کی توجیہ یہ بیان فرمائی ہے کہ گناہ جتنی بار یاد آتے ہیں ان پر ندامت اور استغفار مسلسل نیکی ہے، اسی طرح توبہ کے بعد یہ عزم کہ آئندہ اگر موقع ملا تو میں ہمیشہ برائی کے بجائے نیکی کروں گا، یہ عزم ایسی نیکی ہے جو انسان کو جنت کا ابدی وارث بنا دیتی ہے۔ گزشتہ پر ندامت یا آئندہ کا عزم اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم گناہوں کو نیکیوں میں بدلنے کا باعث بن جائے گا۔ (بقاعی) ایک اور توجیہ یہ ہے کہ وہ شخص جس نے گناہ کیا ہی نہیں، مثلاً زنا یا چوری کی ہی نہیں، اسے گناہ سے بچنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی، بخلاف اس شخص کے جو زنا کا مرتکب رہا ہے، اسے زنا چھوڑنے میں جس قدر دشواری پیش آتی ہے اسے برداشت کرنا اور گناہ نہ کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔ وَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا : بظاہر گناہوں کو نیکیوں میں بدلنا بعید معلوم ہوتا ہے، اس کا جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے گناہوں پر پردہ ڈالنے والا اور بیحد رحم کرنے والا ہے، اس سے یہ کرم کچھ بھی بعید نہیں۔
Ayah 25:71

وَ مَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ یَتُوْبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا Open ayah 25:71 in the Quran reader

اور جو توبہ کرے اور نیک عمل کرے تو یقینا وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے، سچا رجوع کرنا۔

وَمَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوْبُ۔۔ : یہاں ایک سوال یہ ہے کہ پچھلی آیت میں توبہ کے ذکر کے بعد دوبارہ توبہ کے ذکر میں کیا حکمت ہے ؟ اور ایک یہ کہ یہ کہنا کہ ”جو شخص توبہ کرے تو وہ توبہ کرتا ہے۔۔“ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے ”مَنْ قَامَ فَإِنَّہُ یَقُوْمُ“ یعنی جو کھڑا ہو تو وہ کھڑا ہوتا ہے، تو اس سے کیا فائدہ حاصل ہوا ؟ اس کا جواب کئی طرح سے دیا گیا ہے، ایک یہ کہ اس میں توبہ کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ جو شخص توبہ کرے اور عمل صالح کرے، تو اسے جان لینا چاہیے کہ وہ اس توبہ کے ساتھ کسی معمولی ہستی کی طرف پلٹ کر نہیں جا رہا، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹ کر جا رہا ہے، جو بندے کی توبہ سے بہت محبت کرتا ہے اور اس کی توبہ معمولی نہیں بلکہ بڑی شان والی اور سچی توبہ ہے۔ دوسرا یہ کہ اگرچہ پچھلی آیت میں بھی عمل صالح کا ذکر تھا مگر اس کی اہمیت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے اسے پھر دہرایا اور فرمایا کہ صرف زبانی توبہ اللہ کے ہاں معتبر نہیں، اس کے مطابق عمل بھی ضروری ہے، چناچہ جو شخص توبہ کرے اور نیک اعمال کرے وہ اللہ کی طرف سچی اور حقیقی توبہ کرتا ہے اور جو قدرت کے باوجود عمل نہ کرے اس کا توبہ کا دعویٰ قبول نہیں اور اس کی توبہ سچی اور حقیقی نہیں، بلکہ جھوٹی اور بےکار ہے۔ تیسرا یہ کہ پچھلی آیت میں کفر کے زمانے میں کیے ہوئے گناہوں سے توبہ کا ذکر تھا، اس آیت میں مسلمان ہونے کے بعد کیے ہوئے گناہوں سے توبہ کا ذکر ہے کہ مسلمان ہونے کے بعد بھی کوئی شخص کسی بھی گناہ سے توبہ کرے تو اس کی توبہ بھی سچی اور مقبول توبہ ہوگی۔ ابن عباس ؓ مسلمان قاتل کی توبہ قبول ہونے کے قائل نہیں، اس آیت سے اس کی توبہ کا قبول ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة نساء کی آیت (93) : (وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا) کی تفسیر۔
Ayah 25:72

وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ١ۙ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا Open ayah 25:72 in the Quran reader

اور وہ جو جھوٹ میں شریک نہیں ہوتے اور جب بےہودہ کام کے پاس سے گزرتے ہیں تو باعزت گزر جاتے ہیں۔

وَالَّذِيْنَ لَا يَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ : اہل ایمان کی تین بنیادی صفات کے بعد اب چند مزید صفات کا ذکر ہوتا ہے، جن کے ساتھ ایمان میں کمال حاصل ہوتا ہے۔ ”شَھِدَ یَشْھَدُ“ حاضر ہونے کے معنی میں آتا ہے اور اس کا اصل مفہوم یہی ہے، جیسا کہ فرمایا : (فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ) [ البقرۃ : 185 ] ”تو تم میں سے جو اس مہینے میں حاضر ہو وہ اس کا روزہ رکھے۔“ اور کسی چیز کے متعلق گواہی دینے کے لیے بھی آتا ہے، جس میں وہ حاضر رہا ہو یا جانتا ہو، جیسا کہ فرمایا : (وَّاَشْهِدُوْا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ) [ الطلاق : 2 ] ”اور اپنوں میں سے دو صاحب عدل آدمی گواہ بنا لو۔“ اور فرمایا : (شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۙ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ وَاُولُوا الْعِلْمِ قَاۗىِٕمًۢا بالْقِسْطِ) [ آل عمران : 18 ]”اللہ نے گواہی دی کہ بیشک حقیقت یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی، اس حال میں کہ وہ انصاف پر قائم ہے۔“ اس آیت کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ وہ باطل کی مجلسوں میں حاضر نہیں ہوتے، جن میں مشرکین حاضر ہوتے ہیں۔ وہ لہو و لعب، گانے بجانے، غیبت یا بدکاری کی مجلسیں ہوں یا ظلم و زیادتی یا کسی بھی گناہ کی منصوبہ بندی کی مجلسیں، یا کفار کے جشنوں، ان کے کھیل تماشوں کی مجلسیں، غرض ایسی ہر مجلس میں شرکت سے وہ اجتناب کرتے ہیں۔ اس صورت میں لفظ ”الزُّوْرَ“ ”لَا يَشْهَدُوْنَ“ کا مفعول بہ ہوگا۔ یہی مفہوم سورة انعام میں بیان ہوا ہے، فرمایا : (وَاِذَا رَاَيْتَ الَّذِيْنَ يَخُوْضُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰي يَخُوْضُوْا فِيْ حَدِيْثٍ غَيْرِهٖ ۭ وَاِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰي مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ) [ الأنعام : 68 ] ”اور جب تو ان لوگوں کو دیکھے جو ہماری آیات کے بارے میں (فضول) بحث کرتے ہیں تو ان سے کنارہ کر، یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ بات میں مشغول ہوجائیں اور اگر کبھی شیطان تجھے ضرور ہی بھلا دے تو یا د آنے کے بعد ایسے ظالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھ۔“ اور ”یَشْھَدُوْنَ“ کا معنی گواہی بھی ہوسکتا ہے، اس صورت میں ”لَا يَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ“ سے مراد ”لَا یَشْھَدُوْنَ بالزُّوْرِ“ یا ”لَا یَشْھَدُوْنَ شَھَادَۃَ الزُّوْرِ“ ہوگا کہ وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔ انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے کبیرہ گناہوں کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : (اَلإِْشْرَاک باللّٰہِ وَ عُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ وَ قَتْلُ النَّفْسِ وَ شَھَادَۃُ الزُّوْرِ) [ بخاري، الشھادات، باب ما قیل في شھادۃ الزور : 2653 ] ”اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، والدین کو ستانا، کسی جان کو قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔“ ابن کثیر ؓ نے فرمایا : ”آیات کے سیاق سے زیادہ ظاہر بات یہی ہے کہ وہ جھوٹ اور باطل کی مجلس میں شریک نہیں ہوتے۔“ وَاِذَا مَرُّوْا باللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا :”كِرَامًا“ کریم کا اصل معنی وہ چیز ہے جو اپنی قسم میں سب سے عمدہ ہو، جیسا کہ فرمایا : (فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيْمٍ) [ لقمان : 10 ] ”پھر ہم نے اس میں ہر طرح کی عمدہ قسم اگائی۔“ ”لغو“ کا معنی بےفائدہ اور بےکار چیز، یعنی ”کُلَّ مَا یَنْبَغِيْ أَنْ یُّلْغٰی وَ یُطْرَحُ“ کہ ہر وہ چیز جو بےکار کیے جانے اور پھینکے جانے کے لائق ہو۔ (کشاف) اس میں ہر گناہ آجاتا ہے، یعنی رحمٰن کے بندے بےہودہ مجالس میں شریک نہیں ہوتے اور اگر ایسی کسی مجلس پر ان کا گزر ہو تو الجھنے اور لڑنے کے بجائے بہت باعزت اور عمدہ ترین طریقے سے گزر جاتے ہیں۔ دوسری جگہ فرمایا : (وَذَرِ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَهُمْ لَعِبًا وَّلَهْوًا) [ الأنعام : 70 ] ”اور ان لوگوں کو چھوڑ دے جنھوں نے اپنے دین کو کھیل اور دل لگی بنا لیا۔“ اور فرمایا : (وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ) [ القصص : 55 ] ”اور جب وہ لغو بات سنتے ہیں تو اس سے کنارہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال۔ سلام ہے تم پر، ہم جاہلوں کو نہیں چاہتے۔“
Ayah 25:73

وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْهَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا Open ayah 25:73 in the Quran reader

اور وہ کہ جب انھیں ان کے رب کی آیات کے ساتھ نصیحت کی جائے تو ان پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گرتے۔

وَالَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ۔۔ : ”بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گرتے“ بلکہ وہ انھیں نہایت غور و فکر سے سنتے اور ان کا گہرا اثر قبول کرتے ہیں۔ اس میں کفار پر چوٹ ہے کہ وہ اپنے رب کی آیات سن کر ذرہ بھر متاثر نہیں ہوتے، بلکہ اپنے کفر پر سختی سے جمے رہتے ہیں۔ نوح ؑ نے اپنی قوم کے کفار کا یہی نقشہ کھینچا ہے، فرمایا : (وَاِنِّىْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْٓا اَصَابِعَهُمْ فِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِيَابَهُمْ وَاَصَرُّوْا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا) [ نوح : 7 ] ”اور بیشک میں نے جب بھی انھیں دعوت دی، تاکہ تو انھیں معاف کردے، انھوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں اور اپنے کپڑے اوڑھ لیے اور اڑ گئے اور تکبر کیا، بڑا تکبر کرنا۔“ کفار کی اس حالت کے بیان کے لیے دیکھیے سورة حم السجدہ (5، 26)۔ زمخشری نے فرمایا کہ اس کا معنی یہ نہیں کہ رحمٰن کے بندے آیات کے ساتھ نصیحت سن کر گرتے نہیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اندھے بہرے ہو کر نہیں گرتے بلکہ سنتے اور دیکھتے ہوئے گرجاتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّمَا يُؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ) [ السجدۃ : 15 ] ”ہماری آیات پر تو وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب انھیں ان کے ساتھ نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ کرتے ہوئے گرپڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔“ اور فرمایا : (اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّبُكِيًّا) [ مریم : 58 ] ”جب ان پر رحمٰن کی آیات پڑھی جاتی تھیں وہ سجدہ کرتے اور روتے ہوئے گرجاتے تھے۔“
Ayah 25:74

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا Open ayah 25:74 in the Quran reader

اور وہ جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ! ہمیں ہماری بیویوں اور اولادوں سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا۔

وَالَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا۔۔ : مکی دور میں مسلمانوں کی زندگی کچھ اس طرح سے گزر رہی تھی کہ باپ مسلمان ہے تو اولاد کافر ہے اور اولاد مسلمان ہے تو والدین کافر ہیں، شوہر مسلمان ہے تو بیوی کافر ہے اور بیوی مسلمان ہے تو شوہر کافر ہے۔ یہ صورت حال مسلمانوں کے لیے سخت غم اور اضطراب کا باعث بنی ہوئی تھی، وہ اپنی آنکھوں سے اپنے پیاروں کو جہنم کا ایندھن بنتے ہوئے دیکھتے تو سخت بےچین ہوتے۔ لہٰذا عباد الرحمان کی صفات میں سے ایک صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ یہ دعا کرتے رہتے ہیں کہ ہمارے ازواج و اولاد کو بھی ایمان کی دولت نصیب فرما، تاکہ انھیں دیکھ کر ہماری آنکھیں ٹھندی ہوں۔ واضح رہے کہ مرد یہ دعا کریں تو ان کی ازواج بیویاں ہوں گی اور عورتیں یہ دعا کریں تو ان کے ازواج ان کے خاوند ہوں گے۔ اس دعا کے مفہوم میں یہ بھی شامل ہے کہ پروردگار ! ہمیں ایسے ازواج و اولاد عطا فرما جو تیرے فرماں بردار ہوں اور ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کی خوشی کا باعث ہوں۔ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا : اس کے دو معنی ہیں، ایک تو یہ کہ ہر شخص امام ہے اور کوئی نہ کوئی پیروکار رکھتا ہے، جیسا کہ صحیح بخاری (5200) میں ہے : (کُلُّکُمْ رَاعٍ وَ کُلُّکُمْ مَسْءُوْلٌ عَنْ رَّعِیَّتِہِ)”تم سب حکمران ہو اور تم سب اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہو۔“ مطلب یہ ہے کہ پروردگار ! جن لوگوں کے ہم امام ہیں، مثلاً ہمارے اہل و عیال اور ہمارے زیر نگرانی لوگ، تو انھیں متقی بنا دے، تاکہ ہم متقین کے امام ہوں، فاجروں کے امام نہ ہوں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ تو ہمیں اتنا متقی بنا کہ ہم متقین کے امام اور پیشوا بن جائیں۔ طبری نے معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ کا قول نقل فرمایا ہے کہ ہمیں ہدایت کے امام بنا کہ ہم سے لوگوں کو ہدایت حاصل ہو، گمراہی کے امام نہ بنا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل سعادت کے متعلق فرمایا : (وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَاَوْحَيْنَآ اِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرٰتِ وَاِقَام الصَّلٰوةِ وَاِيْتَاۗءَ الزَّكٰوةِ ۚ وَكَانُوْا لَنَا عٰبِدِيْنَ) [ الأنبیاء : 73 ] ”اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو ہمارے حکم کے ساتھ رہنمائی کرتے تھے اور ہم نے ان کی طرف نیکیاں کرنے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی وحی بھیجی اور وہ صرف ہماری عبادت کرنے والے تھے۔“ اور اہل شقاوت کے متعلق فرمایا : (وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ) [ القصص : 41 ] ”اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو آگ کی طرف بلاتے تھے۔“ خلاصہ یہ کہ انھوں نے دو دعائیں کیں، ایک اپنی اولاد و ازواج کے لیے کہ وہ توحید و اطاعتِ الٰہی پر کاربند ہوں اور ان کے لیے دنیا و آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں، دوسری اپنے لیے کہ انھیں تقویٰ کی ایسی توفیق عطا ہو کہ وہ متقین کے امام بنیں اور لوگوں کو ہدایت اور تقویٰ کی دعوت دیں۔
Ayahs 25:75–76

اُولٰٓئِكَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ سَلٰمًاۙ Open ayah 25:75 in the Quran reader

ان لوگوں کو جزا میں بالاخانہ دیا جائے گا، اس لیے کہ انھوں نے صبر کیا اور اس میں ان کا استقبال زندگی کی دعا اور سلام کے ساتھ کیا جائے گا۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:76 in the Quran reader

ہمیشہ اس میں رہنے والے ہیں۔ وہ ٹھہرنے اور رہنے کی اچھی جگہ ہے۔

اُولٰۗىِٕكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ۔۔ :”غُرْفَۃٌ“ ہر بلند عمارت اور اونچا محل، بالا خانہ۔ ”الْغُرْفَةَ“ سے مراد کوئی ایک بالا خانہ نہیں بلکہ مراد جنس ہے، یعنی عباد الرحمان کو صبر کے بدلے جنت کے بالا خانے یعنی اونچے محل عطا کیے جائیں گے، جن کی بلندی ان کے مراتب کے اعتبار سے ہوگی۔ ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ أَھْلَ الْجَنَّۃِ یَتَرَاءَوْنَ أَھْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِھِمْ ، کَمَا یَتَرَاءَوْنَ الْکَوْکَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ فِي الْأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ أَوِ الْمَغْرِبِ لِتَفَاضُلِ مَا بَیْنَھُمْ) [ بخاري، بدء الخلق، باب ما جاء في صفۃ الجنۃ۔۔ : 3256 ]”اہل جنت اپنے اوپر کی طرف بالا خانوں والوں کو دیکھیں گے جیسے تم مشرق یا مغرب کے افق پر دور چمک دار تارے کو دیکھتے ہو، ان کی ایک دوسرے کے درمیان درجوں کی برتری کی وجہ سے۔“ اور دیکھیے سورة زمر (20) اور عنکبوت (58)۔ بِمَا صَبَرُوْا : یعنی عباد الرحمان کو یہ نعمت ان کے صبر کی وجہ سے حاصل ہوگی کہ انھوں نے نیکی پر صبر کیا، برائی سے اجتناب پر صبر کیا اور راہ حق میں پیش آنے والی مصیبتوں پر صبر کیا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ) [ الزمر : 10 ] ”صرف صبر کرنے والوں ہی کو ان کا اجر کسی شمار کے بغیر دیا جائے گا۔“ وَيُلَقَّوْنَ فِيْهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا : ”تَحِيَّةً“ ”حَیّٰ یُحَیِّيْ“ کا مصدر ہے، زندگی کی دعا دینا۔ رب تعالیٰ اور فرشتوں کی طرف سے جنتیوں کے استقبال اور سلام کے لیے دیکھیے سورة رعد (23، 24) ، انبیاء (101 تا 103) ، زمر (73) اور سورة یٰس (55 تا 58)۔
Ayah 25:77

قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ١ۚ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَكُوْنُ لِزَامًا۠ Open ayah 25:77 in the Quran reader

کہہ میرا رب تمہاری پروا نہیں کرتا اگر تمہارا پکارنا نہ ہو، سو بیشک تم نے جھٹلا دیا، تو عنقریب (اس کا انجام) چمٹ جانے والا ہوگا۔

قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّيْ :”مَا“ یہاں نافیہ بھی ہوسکتا ہے اور استفہامیہ بھی، یعنی میرا رب تمہاری پروا نہیں کرتا، یا میرا رب تمہاری کیا پروا کرے گا ؟ ”میرا رب“ اس لیے فرمایا کہ خطاب کفار سے ہے، جو کما حقہ اسے رب نہیں مانتے۔ لَوْلَا دُعَاۗؤُكُمْ : یہ خطاب کفار سے ہے، کیونکہ آگے فرمایا ہے : (فَقَدْ كَذَّبْتُمْ) ”سو بیشک تم نے جھٹلا دیا۔“ ”دُعَاۗؤُكُمْ“ کا معنی ابن عباس ؓ نے ”إِیْمَانُکُمْ“ کیا ہے۔ [ طبري بطریق علي بن أبي طلحۃ و ذکرہ البخاري ] یعنی میرا رب تمہیں مہلت اس لیے دے رہا ہے کہ تم اس پر ایمان لے آؤ، اس کی عبادت کرو اور اس سے دعا کرو، کیونکہ اس نے جنّ و انس کو پیدا ہی اپنی عبادت کے لیے کیا ہے، سو اگر تم ایمان لا کر اس کی عبادت نہ کرو اور اس کے حضور دعائیں نہ کرو تو اسے تمہاری کچھ پروا نہیں ہے۔ ایک تفسیر اس کی یہ بھی ہے کہ کفار بھی شدید مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے ان کی التجا سن کر مصیبت دور بھی کردیتا ہے۔ دیکھیے سورة انعام (40، 41) ، یونس (22) ، عنکبوت (65) ، روم (33) اور لقمان (32) فرمایا، اللہ تعالیٰ جو تمہیں مہلت دے رہا ہے اور تمہاری پکار پر مشکلات بھی دور کردیتا ہے، یہ صرف تمہارے اس کو پکارنے کی وجہ سے ہے، اس کے باوجود تم نے جھٹلا دیا ہے تو سن لو کہ اس کا عذاب تمہیں پہنچ کر رہے گا۔ چناچہ دنیا ہی میں جنگ بدر اور دوسرے موقعوں پر انھوں نے وہ عذاب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور قیامت بھی کچھ دور نہیں۔