Ayah 25:30وَقَال الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا۔۔ : اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے یہ شکایت دنیا میں کی، کیونکہ کفار نے کہا تھا : (وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ) [ حٰآ السجدۃ : 26 ] ”اس قرآن کو مت سنو اور اس میں شور کرو، تاکہ تم غالب رہو۔“ اور دوسرا یہ کہ قیامت کے دن آپ ﷺ یہ شکایت کریں گے، کیونکہ قرآن مجید میں یقینی مستقبل کے لیے ماضی کا لفظ کثرت سے استعمال ہوا ہے۔ یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ ”میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑا ہوا بنا رکھا تھا“ کے الفاظ سے جان بوجھ کر اسے نظر انداز کرنے کا مفہوم واضح ہو رہا ہے، جو صرف ”چھوڑ رکھا تھا“ کے الفاظ سے واضح نہیں ہوتا۔ ”ھٰذَا الْقُرْاٰنَ“ میں ”ھٰذَا“ کے لفظ سے قرآن کی عظمت بیان کرنا مقصود ہے، یعنی انھوں نے اتنی عظمت والے قرآن کو اس طرح بنا رکھا تھا جیسے کوئی ایسی چیز ہو جسے جان بوجھ کر نظر انداز کردیا جائے۔ رہا یہ سوال کہ آیت میں مذکور ”میری قوم“ سے مراد کیا ہے ؟ تو جواب اس کا یہ ہے کہ ”میری قوم“ کے لفظ سے سب سے پہلے آپ ﷺ کی زندگی میں قرآن پر ایمان نہ لانے والے مراد ہیں، اس کے بعد آپ ﷺ کی بعثت سے لے کر قیامت تک آنے والے وہ تمام لوگ مراد ہیں جو آپ ﷺ پر ایمان نہیں لائے، کیونکہ وہ بھی آپ ﷺ کی امت دعوت اور آپ کی قوم ہیں، جیسا کہ نوح ؑ کی امت تھی، جو ایمان نہ لانے کے باوجود ان کی امت اور ان کی قوم تھی۔ ان کے قرآن کو چھوڑنے سے مراد اسے سننے، پڑھنے، اس پر غور و فکر کرنے سے اجتناب اور اس پر ایمان نہ لانا ہے۔ اس کے بعد ”قَوْمِیْ“ میں وہ تمام ایمان لانے والے بھی شامل ہیں جنھوں نے کسی طرح بھی قرآن کو چھوڑا۔ حافظ ابن کثیر ؓ فرماتے ہیں : ”قرآن کو سننے سے گریز، اس میں شور ڈالنا اور اس پر ایمان نہ لانا، اسے چھوڑنا ہے۔ اسی طرح بقدر ضرورت اس کا علم حاصل نہ کرنا اور اسے حفظ نہ کرنا بھی اسے چھوڑنا ہے۔ اس کا مطلب سمجھنے کی کوشش نہ کرنا، اس کے اوامر پر عمل نہ کرنا اور اس کی منع کردہ چیزوں سے باز نہ آنا بھی اسے چھوڑنا ہے۔ اسے چھوڑ کر دوسری چیزوں کو اختیار کرنا بھی اسے چھوڑنا ہے، مثلاً گانے بجانے کو، عشقیہ اشعار کو، لوگوں کے اقوال و آراء کو اور ان کے بنائے ہوئے طریقوں کو قرآن پر ترجیح دینا اسے چھوڑنا ہے۔“
حقیقت یہ ہے کہ اس وقت امت مسلمہ نے جس طرح جان بوجھ کر قرآن کو پس پشت پھینک رکھا ہے شاید اس سے پہلے کبھی نہ پھینکا ہو۔ ان کے اکثر لوگ دنیا کمانے کے لیے اپنے بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان، تاجر اور صنعت کار بنائیں گے اور اس کام کے لیے اپنی ساری توانائیاں صرف کریں گے، مگر انھیں قرآن کی تعلیم نہیں دلوائیں گے اور دلوائیں گے بھی تو صرف ناظرہ قرآن کی یا حفظ کی، جس سے انھیں کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا مطلب کیا ہے ؟ کتنا ستم ہے کہ دنیا کی کوئی زبان سیکھی جائے تو اس کا ایک لفظ بھی مطلب سمجھے بغیر نہیں پڑھا جاتا، جب کہ قرآن پورا ناظرہ پڑھ لیا جاتا ہے، بعض اوقات حفظ کرلیا جاتا ہے، اس سے آگے اس کی تجوید اور حسن قراءت بھی حاصل کرلی جاتی ہے، مگر اس کا مطلب سمجھنے کی زحمت ہی نہیں کی جاتی۔ جب اس کا مطلب ہی نہیں سمجھا گیا، تو اس پر غور و فکر کا اور اس پر عمل کا مرحلہ کب آئے گا ؟ پورا قرآن تو دور کی بات ہے روزانہ پانچ وقت جو نماز وہ پڑھتے ہیں انھیں اس کا مطلب معلوم نہیں، نہ وہ یہ جانتے ہیں کہ ہم اپنے مالک سے کلام کرتے ہوئے کیا عرض کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے تمام ممالک میں (إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّيْ) قرآن کو مسلمانوں کی زندگی سے عملاً نکال باہر کردیا گیا ہے۔ ان کی سیاست کفار سے لی ہوئی جمہوریت ہے، جس میں اللہ اور اس کے رسول کا کوئی دخل نہیں، یا قرآن و سنت کے احکام کی پابندی سے آزاد استبدادی ملوکیت ہے، ان کی تجارت و صنعت کا دار و مدار سود پر ہے، ان کی عدالتوں میں کفار کے قوانین رائج ہیں اور ان کی وضع قطع اور تمدن و تہذیب یہود و نصاریٰ اور ہندوؤں کی سی ہے۔ ان کے ہاں قرآن صرف برکت کے لیے ہے، یا مجلس کے افتتاح کے لیے، یا دم درود اور پیری مریدی میں خود ساختہ وظائف کے لیے، یا محبت و عداوت اور تسخیر قلوب کے عملیات کے لیے، یا اچھے سے اچھے کاغذ اور اچھی جلد والا خرید کر جہیز میں دینے کے لیے ہے، یا خوبصورت غلاف میں لپیٹ کر اونچی سے اونچی جگہ رکھنے کے لیے۔ وہ اس کی طرف پیٹھ نہیں کرتے، مگر بات اس کی ایک نہیں مانتے۔ ان کے دینی مدارس میں سالہا سال تک انسانوں کے مرتب کیے ہوئے مسائل پڑھائے جاتے ہیں، جب وہ دل و دماغ میں خوب راسخ ہوجاتے ہیں تو انھیں قرآن و حدیث سے دورے کی شکل میں سال دو سال میں فارغ کردیا جاتا ہے۔ (الا ما رحم ربی)
حقیقت یہ ہے کہ جب تک ہم قرآن کو چھوڑنے کی یہ روش ترک کرکے صحابہ و تابعین کی طرح قرآن کی طرف واپس نہیں آئیں گے، اسے اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا نہیں بنائیں گے، نصرتِ الٰہی اور باعزت زندگی سے محروم ہی رہیں گے۔ سچ فرمایا امام مالک ؓ نے : ”لَنْ یَّصْلُحَ آخِرُ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ إِلَّا بِمَا صَلُحَ بِہِ أَوَّلُھَا“ [ شرح سنن أبي داوٗد لعبد المحسن العباد : 2؍334 ] ”اس امت کا آخر بھی اسی کے ساتھ درست ہوگا جس کے ساتھ اس کا اول درست ہوا تھا۔“
Ayah 25:31وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِيْنَ : چونکہ اس شکایت میں دل کی جلن اور شدید غم کا اظہار تھا، اس لیے اس آیت میں نبی ﷺ کو اور مسلمانوں کو تسلی دی کہ قرآن کو چھوڑنے والوں کا یہ طرز عمل صرف تمہارے ساتھ ہی نہیں ہے بلکہ پہلے انبیاء کے ساتھ بھی ایسے ہی رہا ہے۔ دیکھیے سورة انعام (112، 123)۔
وَكَفٰى بِرَبِّكَ هَادِيًا وَّنَصِيْرًا : اس میں آپ ﷺ کو دو بشارتیں دی ہیں، ایک یہ کہ جو لوگ اب اعراض کر رہے ہیں ان میں سے کئی ہدایت قبول کریں گے، یا ان کی پشتوں سے آنے والے ہدایت قبول کریں گے، جیسا کہ پہاڑوں کے فرشتے نے اللہ کے حکم سے آکر رسول اللہ ﷺ کو پیش کش کی کہ اگر آپ چاہیں تو میں ان پر مکہ کے دو پہاڑوں کو آپس میں ملا دوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا : (بَلْ أَرْجُوْ أَنْ یُّخْرِجَ اللّٰہُ مِنْ أَصْلاَبِھِمْ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰہَ وَحْدَہُ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْءًا) [ بخاري، بدء الخلق، باب إذا قال أحدکم آمین۔۔ : 3231 ] ”بلکہ میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی پشتوں سے ایسے لوگ نکالے گا جو اکیلے اللہ کی عبادت کریں گے، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کریں گے۔“ اور دوسری بشارت نصرت الٰہی کی ہے۔ ”وَكَفٰى بِرَبِّكَ هَادِيًا وَّنَصِيْرًا“ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اپنے سارے کام اس کے سپرد کر دو ، کیونکہ ہدایت و نصرت کے لیے کفایت کرنے والا وہی ہے۔ (ابن عاشور)
Ayah 25:32وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَا نُزِّلَ۔۔ : یہ رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے منکروں کا پانچواں اعتراض ہے جو بالکل ہی بےکار ہے۔ اعتراض یہ تھا کہ آپ ﷺ پر سارا قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نازل نہیں کیا گیا ؟ یہ تھوڑا تھوڑا کر کے جو آ رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ ﷺ سوچ سوچ کر اسے تصنیف کرلیتے ہیں اور یہ انسانی کلام ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ ہاں، اسے ایسے ہی تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا گیا ہے، کیونکہ اس میں بہت سی حکمتیں ہیں۔ اعتراض بےکار اس لیے ہے کہ قرآن کا دعویٰ ہے کہ چونکہ یہ اللہ کا کلام ہے، اس لیے ساری کائنات مل کر بھی اس کی ایک سورت کی مثل نہیں بنا سکتی۔ اس سے پہلے قرآن کا جو حصہ نازل ہوا ہے اس کی مثل تو یہ لوگ لا نہیں سکے، اگر پورا قرآن اکٹھا نازل ہوجائے تو اس کی مثل کیسے پیش کریں گے۔ پھر ایسا مطالبہ کیوں ؟
3 یہاں بھی اگر ”وَقَالُوْا“ (اور انھوں نے کہا) کہہ دیا جاتا تو کافی تھا، مگر ”وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا“ اس لیے فرمایا کہ ان لوگوں نے جو یہ بات کی ہے اس کی وجہ اس مطالبے کا معقول ہونا نہیں بلکہ اس کا باعث صرف اور صرف کفر ہے، جب کوئی شخص انکار پر تل ہی جائے تو وہ ایسی ہی بےتکی ہانکا کرتا ہے۔
كَذٰلِكَ ڔ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ : یعنی اس طرح تھوڑا تھوڑا نازل کرنے میں بہت سے عظیم فائدے ہیں : 1 ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس طرح ہم آپ کے دل کو مضبوط اور قائم رکھتے ہیں، اس طرح کہ جب مشکلات کا ہجوم ہوتا ہے، کفار کوئی اعتراض کرتے ہیں، یا کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو ہم وحی کے ذریعے سے اس کا حل بتا دیتے ہیں، اس طرح بار بار وحی کا نزول ہوتا ہے، جبریل ؑ بار بار آپ کے پاس آتے ہیں، تو اس احساس سے آپ کی ڈھارس بندھ جاتی ہے، حوصلہ بڑھ جاتا ہے اور دل مضبوط ہوجاتا ہے کہ مالک ہمارے حال سے غافل نہیں، مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ساتھ ساتھ رہنمائی فرما رہا ہے اور اپنے سب سے مقرب فرشتے کو ہمارے پاس بھیج رہا ہے۔ اگر جبریل ؑ ایک ہی دفعہ پورا قرآن لا کر فارغ ہوجاتے تو بار بار پیش آنے والی مشکلات میں دل کو حوصلہ کیسے ملتا اور اسے وہ لذت و قوت کیسے حاصل ہوتی جو اس احساس سے حاصل ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قاصد اس کی طرف سے اس کا پیغام لے کر آیا ہے۔
وداع و وصل جدا گانہ لذتے دارد
ہزار بار برو، صد ہزار بار بیا
”وداع و وصل الگ الگ لذت رکھتے ہیں، تو ہزار بار جا اور سو ہزار بار آ۔“
2 ایک وقت میں چند آیات اترنے سے ان کا سمجھنا آسان ہوتا تھا، موقع کی مناسبت سے ان کا مفہوم زیادہ متعین اور واضح ہوجاتا تھا، یہ امکان ختم ہوجاتا تھا کہ ہر شخص محض لفظوں کو لے کر ان کا جو مفہوم چاہے نکالتا پھرے۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کے عمل میں آ کر ان آیات کی عملی تصویر بھی سامنے آجاتی تھی۔ ساری کتاب اکٹھی اترنے میں یہ بات نہ تھی۔ 3 اس طرح قرآن مجید اترنے میں احکام تدریج کے ساتھ اترے، جس سے امت کے لیے تخفیف ہوئی، اگر ایک ہی وقت میں چوری، ڈاکے، قتل، شراب، بہتان، زنا، غرض ہر گناہ کی حد بیان کردی جاتی تو اس پر عمل نہایت مشکل ہوتا۔ 4 مصلحت وقت کے لحاظ سے کئی احکام کچھ مدت تک کے لیے تھے، اس کے بعد انھیں منسوخ ہونا تھا، لہٰذا پوری کتاب نازل ہونے کی صورت میں یہ ممکن نہ تھا۔ 5 لوگوں کے سوالات کے حل اور کفار کے اعتراضات کے جواب کے لیے بار بار آیات کے نزول سے جو تسلی و تشفی ہوتی تھی وہ بیک وقت قرآن نازل ہونے سے کبھی نہ ہوسکتی تھی۔ 6 اہل عرب اُمّی لوگ تھے، جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے، ان کے لیے چند آیات کو حفظ کرنا آسان تھا، جو ہر موقع پر اترتیں۔ پورا قرآن اترنے میں یہ بات نہ تھی۔ اس طرح قرآن سینوں میں محفوظ ہوگیا، کاغذ کا محتاج نہ رہا۔ لکھی ہوئی پوری کتاب مسلسل یاد کرنے میں سستی ہوسکتی تھی، جس سے صرف لکھی ہوئی کتاب پر انحصار ہوجاتا، نتیجتاً قرآن بھی پہلی کتابوں کی طرح غیر محفوظ ہوجاتا۔ 7 چند آیات اترنے سے قرآن کا معجز اور بےمثال کتاب ثابت ہونا زیادہ واضح ہوتا تھا، جب بھی چند آیات اترتیں تو کفار کا ان کے جواب سے قاصر رہنا نمایاں ہوتا۔ اگر پورا قرآن ایک وقت میں اترتا تو اس کا اعجاز اتنا نمایاں نہ ہوتا۔ 8 دوسرے مقام پر فرمایا : (وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَي النَّاسِ عَلٰي مُكْثٍ وَّنَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا) [ بني إسرائیل : 106 ] ”اور عظیم قرآن، ہم نے اس کو جدا جدا کر کے (نازل) کیا، تاکہ تو اسے لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر پڑھے اور ہم نے اسے نازل کیا، (تھوڑا تھوڑا) نازل کرنا۔“ اس قرآن کی مثال بارش کی طرح ہے، بارش جب بھی نازل ہوتی ہے مردہ زمین میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے اور یہ فائدہ تبھی ہوتا ہے جب بارش وقتاً فوقتاً نازل ہو، نہ کہ ایک ہی مرتبہ ساری بارش ہوجائے۔ ایک مثال اس کی یہ ہے کہ کوئی استاد اپنے شاگرد کو ایک ہی دن میں ساری کتاب پڑھ کر سنا دے۔
وَرَتَّلْنٰهُ تَرْتِيْلًا :”تَرْتِيْلًا“ کا اصل ”تَرْتِیْلُ الْأَسْنَانِ“ سے ہے، ”دانتوں کے درمیان کچھ فاصلہ ہونا“ جیسے بابونہ کے پھول کی پتیاں ہوں، ایسے دانتوں کو ”ثَغْرٌ مُرتَّلٌ“ کہتے ہیں۔ یعنی اسی طرح قرآن ٹھہر ٹھہر کر تیئیس (23) برس میں نازل ہوا۔
Ayah 25:33وَلَا يَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ۔۔ : ”مَثَلٌ“ کا معنی کسی چیز کے مشابہ چیز بھی ہے، ضرب المثل یا کہاوت بھی اور کسی چیز کی صفت بھی، جیسے فرمایا : (مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ) [ الرعد : 35 ] ”اس جنت کی صفت جس کا متقی لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے۔“ (راغب) سورت کے شروع سے اللہ تعالیٰ نے کفار کے پانچ اعتراض ذکر فرمائے ہیں اور سب کا دندان شکن جواب دیا ہے، آخر میں خلاصے کے طور پر فرمایا کہ ان لوگوں نے جو شکوک و شبہات اور طعن و اعتراض پیش کیے ہیں، یا قیامت تک پیش کریں گے ہم نے سب کا ایسا جواب دیا ہے اور دیتے رہیں گے جو سراسر حق ہے اور نہایت واضح ہے، ان کے اقوال کی طرح باطل یا غیر واضح نہیں ہے۔ ”مَثَلٌ“ سے مراد ان کے وہ سوالات، مطالبات اور اعتراضات ہیں جو انھوں نے آپ پر پیش کیے تھے اور ”اَلْحَقُّ“ سے مراد شبہ کا ازالہ اور سوال کا جواب ہے۔ (شوکانی) دیکھیے ان کا پہلا اعتراض تھا : (وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّآ اِفْكُۨ افْتَرٰىهُ وَاَعَانَهٗ عَلَيْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ) [ الفرقان : 4 ] اسی کے ضمن میں تھا : (ڔوَقَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلٰى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا) [ الفرقان : 5 ] دوسرا اعتراض تھا : (وَقَالُوْا مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِيْ فِي الْاَسْوَاقِ ۭ لَوْلَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِيْرًا اَوْ يُلْقٰٓى اِلَيْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ يَّاْكُلُ مِنْهَا) [ الفرقان : 7، 8 ] تیسرا اعتراض تھا : (وَقَالُوْا مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِيْ فِي الْاَسْوَاقِ ۭ لَوْلَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِيْرًا اَوْ يُلْقٰٓى اِلَيْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ يَّاْكُلُ مِنْهَا) [ الفرقان : 8 ] چوتھا اعتراض تھا : (وَقَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَوْ نَرٰي رَبَّنَا) [ الفرقان : 21 ] اور پانچواں اعتراض تھا : وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً) [ الفرقان : 32 ] ان اعتراضات کو امثال کہنے کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا تیسرا اعتراض ”وَقَال الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا“ بیان کرنے کے بعد فرمایا : (اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا) [ الفرقان : 9 ] ”دیکھ انھوں نے تیرے لیے کیسی مثالیں بیان کیں، سو گمراہ ہوگئے، پس وہ کوئی راستہ نہیں پاسکتے۔“ (ابن عاشور)
Ayah 25:34اَلَّذِيْنَ يُحْشَرُوْنَ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ۔۔ : اس آیت کو پچھلی آیات کے ساتھ ملائیں تو ان الفاظ کا تقاضا ہے کہ یہاں کچھ عبارت محذوف ہے، جو یہ ہے کہ ”نبی اور قرآن پر اعتراض کرنے والے یہ لوگ اپنے چہروں کے بل جہنم کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے“ اور وہ لوگ جو اپنے چہروں کے بل جہنم کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے وہی ٹھکانے میں نہایت برے اور راستے کے اعتبار سے بہت زیادہ گمراہ ہیں۔
اُولٰۗىِٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّاَضَلُّ سَبِيْلًا : ”شَرٌّ“ اصل میں ”أَشَرُّ“ ہے، جیسے ”خَیْرٌ“ اصل میں ”أَخْیَرُ“ ہے، دونوں اسم تفضیل کے صیغے ہیں، ”اَضَلُّ“ بھی اسم تفضیل ہے، مگر یہاں تفضیل مراد نہیں، نہ یہ معنی ہے کہ یہ لوگ اہل جنت سے زیادہ برے ہیں۔ یہاں ”شر“ اور ”اضل“ کا لفظ کسی کے مقابلے میں زیادہ برے یا زیادہ گمراہ کے معنی میں نہیں بلکہ صرف مبالغے کے لیے ہے، یعنی نہایت برے اور بہت زیادہ گمراہ ہیں، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”وہی ٹھکانے میں نہایت برے اور راستے کے اعتبار سے بہت زیادہ گمراہ ہیں۔“ ٹھکانے سے مراد جہنم ہے اور راستے سے مراد کفر و شرک کا راستہ ہے، جو جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔ چند آیات پہلے اہل جنت کا وصف بیان ہوا ہے : (اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا) [ الفرقان : 24 ] اس کے مقابلے میں یہاں اہل جہنم کا وصف ”شَرٌّ مَّكَانًا وَّاَضَلُّ سَبِيْلًا“ بیان ہوا ہے۔
اَلَّذِيْنَ يُحْشَرُوْنَ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ۔۔ : دیکھیے سورة بنی اسرائیل (97) اور طٰہٰ (125) چہروں کے بل اکٹھے کیے جانے کی ایک تفسیر یہ ہے کہ انھیں چہروں کے بل گھسیٹتے ہوئے میدان محشر کی طرف لے جایا جائے گا، جیسا کہ جہنم میں بھی ان کے ساتھ یہی معاملہ ہوگا، فرمایا : (يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ) [ القمر : 48 ] ”جس دن وہ آگ میں اپنے چہروں پر گھسیٹے جائیں گے، چکھو آگ کا چھونا۔“ اور فرمایا : (وَمَنْ جَاۗءَ بالسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِي النَّارِ) [ النمل : 90 ] ”اور جو برائی لے کر آئے گا تو ان کے چہرے آگ میں اوندھے ڈالے جائیں گے۔“ دوسری تفسیر وہ ہے جو انس ؓ نے روایت فرمائی ہے کہ ایک آدمی نے کہا : ”یا رسول اللہ ! کافر کو قیامت کے دن چہرے کے بل اکٹھا کیا جائے گا ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : (أَلَیْسَ الَّذِيْ أَمْشَاہُ عَلَی الرِّجْلَیْنِ فِي الدُّنْیَا قَادِرًا عَلٰی أَنْ یُّمْشِیَہُ عَلٰی وَجْھِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ؟) [ بخاري، التفسیر، باب قولہ : (الذین یحشرون علی۔۔) : 4760 ] ”کیا جس نے اسے ٹانگوں پر چلایا ہے وہ اس پر قادر نہیں کہ اسے قیامت کے دن اس کے چہرے پر چلائے ؟“ اکثر مفسرین نے یہی تفسیر کی ہے۔
Ayah 25:35وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے پانچ رسولوں اور ان کی اقوام کے قصّے اور قوم لوط کی بستیوں کا ذکر نہایت اختصار کے ساتھ فرمایا ہے، مقصد رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینا اور آپ ﷺ کو جھٹلانے والوں کو گزشتہ اقوام جیسے برے انجام سے ڈرانا ہے۔ موسیٰ ؑ کو فرعون کی طرف بھیجنے سے پہلے جو کتاب عطا فرمائی گئی اس کے متعلق دو قول ہیں، ایک یہ کہ وہ تورات ہی تھی اور فرعون کے غرق ہونے کے بعد موسیٰ ؑ کو جو کتاب الواح کی شکل میں ”طُور“ پر عطا کی گئی وہ پوری تورات نہ تھی، بلکہ اس کا ایک حصہ تھی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ تورات تو فرعون کے غرق ہونے کے بعد موسیٰ ؑ کو ”طور“ پر ملی، اس سے پہلے فرعون کی طرف روانہ ہوتے وقت موسیٰ ؑ کو جو کتاب عطا ہوئی اس سے مراد وحی الٰہی پر مشتمل وہ احکام ہیں جو تورات کے علاوہ تھے، انھیں بھی ”کتاب اللہ“ کہا جاتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس مزدور کے فیصلے کے متعلق فرمایا تھا جس نے اس شخص کی بیوی سے زنا کیا تھا جس کی وہ مزدوری کر رہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : (وَ الَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہِ لَأَقْضِیَنَّ بَیْنَکُمَا بِکِتَاب اللّٰہِ) ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب کے ساتھ فیصلہ کروں گا۔“ پھر آپ ﷺ نے کنوارے مزدور کو سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کا اور عورت کو اعتراف کی صورت میں رجم کا حکم دیا۔ [ بخاري، الشروط، باب الشروط التي لا تحل في الحدود : 2724، 2725 ] اس قول کے مطابق فرعون اس کتاب اللہ کی تکذیب کی وجہ سے غرق ہوا جو تورات کے علاوہ تھی اور جو موسیٰ ؑ کی طرف حدیث کی صورت میں بھیجی گئی تھی۔
وَجَعَلْنَا مَعَهٗٓ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِيْرًا : دیکھیے سورة طٰہٰ (29 تا 35) اس آیت میں یہ اشارہ بھی ہے کہ کسی رسول کو اگر واقعی ضرورت ہو تو اس کا بوجھ بٹانے کے لیے فرشتہ نہیں بھیجا جاتا، جیسا کہ کفار کا مطالبہ ہے، بلکہ آدمی ہی بھیجا جاتا ہے۔
Ayah 25:36فَقُلْنَا اذْهَبَآ اِلَى الْقَوْمِ۔۔ : اس سے پہلی آیت اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ اور فرعون کے قصے کی ابتدا کا ذکر فرمایا، پھر سارا طویل قصہ حذف کرکے ان دونوں کے قصے کی انتہا کا ذکر فرما دیا، کیونکہ یہاں مقصود اتنی بات ہی تھی، یہ اختصار کا کمال ہے۔
اِلَى الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا : ان آیات سے مراد یا تو وہ معجزے ہیں جو موسیٰ ؑ لے کر آئے تھے، یا ایک اللہ کی عبادت، موسیٰ ؑ کی نبوت تسلیم کرنے اور بنی اسرائیل کو آزادی دینے کے احکام ہیں، جو اللہ کی طرف سے موسیٰ ؑ لے کر فرعون کے پاس گئے تھے۔ رسول بھیجنے سے پہلے ہی انھیں آیات جھٹلانے والے اس لیے قرار دیا کہ اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ انھوں نے آیات کو جھٹلا دینا ہے، یا اس لیے کہ قرآن کے مخاطب لوگوں کو معلوم تھا کہ فرعون نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا تھا۔ ان کے علم کے اعتبار سے ”كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا“ فرما دیا۔
فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِيْرًا :”ۭتَدْمِيْرًا“ کسی چیز کو اس طرح توڑنا کہ پھر درست نہ ہو سکے۔ (المراغی) مزید وضاحت کے لیے دیکھیے سورة بنی اسرائیل (16)۔
Ayah 25:37وَقَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ۔۔ : اس قوم کی طرف صرف نوح ؑ آئے تھے، جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ انھوں نے رسولوں کو جھٹلا دیا، وجہ اس کی یہ ہے کہ ایک پیغمبر کو جھٹلانا سب کو جھٹلانا ہے، کیونکہ تمام انبیاء کی دعوت ایک ہے۔ ان کی تکذیب اور غرق کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة ہود (25 تا 49)۔
Ayah 25:38وَّعَادًا وَّثَمُــوْدَا۟ وَاَصْحٰبَ الرَّسِّ : نوح ؑ سب سے پہلے نبی ہیں جن کی امت انھیں جھٹلانے کی وجہ سے غرق ہوئی اور موسیٰ ؑ آخری نبی ہیں جن پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے فرعون اور اس کی آل غرق ہوئی۔ اس آیت میں ان کے درمیان کے لوگوں کا ذکر ہے جو پانی کے سوا ہلاک کیے گئے۔ ”الرَّسِّ“ کا معنی کنواں اور جمع ”رِسَاسٌ“ ہے۔ ابن جریر نے فرمایا : ”کلام عرب میں ”الرَّسِّ“ ہر کھودی ہوئی جگہ کو کہتے ہیں، مثلاً کنواں اور قبر وغیرہ۔“ اس لیے بعض نے اس سے مراد ”اصحاب الاخدود“ بھی لیے ہیں۔ شنقیطی نے فرمایا : ”عاد وثمود کا قصہ قرآن کی متعدد آیات میں آیا ہے، رہے ”اَصْحٰبَ الرَّسِّ“ تو قرآن میں نہ ان کے قصے کی تفصیل آئی ہے نہ ان کے نبی کا نام آیا ہے۔“ ان کے متعلق مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں جو سب بےدلیل ہیں، اس لیے ہم نے انھیں ذکر نہیں کیا۔ ”الرس“ ایک وادی کا نام بھی ہے، جس کا زہیر نے اپنے مُعَلَّقہ میں ذکر کیا ہے
بَکَرْنَ بُکُوْرًا وَاسْتَحَرْنَ بِسُحْرَۃٍ
فَھُنَّ لِوَادِی الرَّسِّ کَالْیَدِ لِلْفَمِ
وَقُرُوْنًــۢا بَيْنَ ذٰلِكَ كَثِيْرًا :”قَرْنٌ“ ایک زمانے کے لوگ جو ایک دوسرے سے ملتے رہے ہوں، ”فَھُوَ مِنَ الْاِقْتِرَانِ۔“ ”بَيْنَ ذٰلِكَ“ (اس کے درمیان) سے مراد نوح اور موسیٰ ؑ کے درمیان کا یا عاد وثمود اور اصحاب الرس کے درمیان کا زمانہ ہے۔ دوسری جگہ ان کی کثرت کے متعلق فرمایا : (اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَ ټ وَالَّذِيْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ ړ لَا يَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ ۭ) [ إبراہیم : 9 ] ”کیا تمہارے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں آئی جو تم سے پہلے تھے، نوح کی قوم کی (خبر) اور عاد اور ثمود کی اور ان کی جو ان کے بعد تھے، جنھیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“ اور فرمایا : (وَكَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ) [ بني إسرائیل : 17 ] ”اور ہم نے نوح کے بعد کتنے ہی زمانوں کے لوگ ہلاک کردیے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ بائبل وغیرہ کے حوالے سے نوح اور موسیٰ ؑ کے درمیان آباء کی گنتی اور سالوں کی گنتی کا کچھ اعتبار نہیں، نہ دنیا کی مدت کا کوئی یقینی علم ہے۔ سائنسدانوں کی باتیں بھی محض ظن وتخمین پر مبنی ہیں۔
Ayah 25:39وَكُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ : یعنی ہم نے ہر ایک کو مثالیں اور دلائل دے دے کر سمجھایا۔ یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے ہر ایک کو پہلی تباہ شدہ قوموں کی مثالیں بیان کرکے سمجھایا۔
وَكُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِيْرًا : ”تَبَّرَ یُتَبِّرُ تَتْبِیْرًا“ کسی چیز کو ٹکڑے ٹکڑے اور ریزہ ریزہ کردینا۔
Ayah 25:40وَلَقَدْ اَتَوْا عَلَي الْقَرْيَةِ۔۔ : ”وَلَقَدْ“ کا لفظ قسم کا مفہوم رکھتا ہے، یعنی قسم ہے کہ یہ لوگ شام کی طرف جاتے ہوئے قوم لوط کی بستیوں کے پاس سے گزرتے ہیں، کیونکہ وہ مکہ سے شام کو جانے والے راستے پر تھیں۔ دیکھیے سورة حجر (79) اور صافات (137)۔
اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ : مراد کھنگر پتھروں کی بارش ہے۔ دیکھیے سورة ہود (82) ، حجر (74) ، اعراف (84) ، شعراء (173) اور نمل (58)۔rnۭ اَفَلَمْ يَكُوْنُوْا يَرَوْنَهَا۔۔ : ”تو کیا وہ اسے دیکھا نہ کرتے تھے ؟“ یعنی یقیناً دیکھا کرتے تھے۔ تو ان کے ایمان نہ لانے کی یہ وجہ نہ تھی کہ انھوں نے ان تباہ شدہ بستیوں کے آثار نہیں دیکھے تھے، بلکہ اصل وجہ یہ تھی کہ وہ کسی طرح دوبارہ زندہ ہونے کی امید نہ رکھتے تھے، اس لیے انھوں نے انھیں صرف تماشائی کی حیثیت سے دیکھا، ان سے کوئی عبرت حاصل نہ کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کے قائل اور اس کے منکر کے دیکھنے میں کتنا بڑا فرق ہوتا ہے۔ ”نُشُوْرًا“ کی تنوین کی وجہ سے ترجمہ کیا ہے ”بلکہ وہ کسی طرح اٹھائے جانے کی امید نہ رکھتے تھے۔“
Ayah 25:41وَاِذَا رَاَوْكَ اِنْ يَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا : مشرکین رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا جس طرح شدت کے ساتھ انکار کرتے اور آپ کی نبوت اور قرآن پر متعدد اعتراضات کرتے رہتے تھے، اس کے ذکر کے بعد ان کی ایک خاص ایذا کا ذکر فرمایا کہ وہ جب تجھے دیکھتے ہیں تو اپنے مذاق کا نشانہ بنا لیتے ہیں۔
اَھٰذَا الَّذِيْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا : ”ھٰذَا“ کا اشارہ آپ ﷺ کی تحقیر کے لیے ہے، یعنی کیا یہی وہ شخص ہے جسے اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ رسول ہو کیسے گیا، جب کہ یہ ہمارے جیسا بشر ہے، جیسا کہ ایک جگہ ان کا قول ہے : (اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا) [ بني إسرائیل : 94 ] ”کیا اللہ نے ایک بشر کو رسول بنا کر بھیج دیا ہے۔“ پھر دیکھو اگر رسالت کسی بشر کو ملنا ہی تھی تو مکہ اور طائف کے کسی سردار کو ملتی۔ یہ نہ بادشاہ نہ سرمایہ دار، اسے کیسے مل گئی ! ان کا قول نقل کرتے ہوئے فرمایا : (وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ) [ الزخرف : 31 ] ”اور انھوں نے کہا یہ قرآن ان دو بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا ؟“ شیخ عبد الرحمن السعدی نے فرمایا : ”ان کی یہ بات ایسا شخص ہی کرسکتا ہے جو سب سے بڑھ کر جاہل اور گمراہ ہو اور سخت عناد اور دشمنی رکھتا ہو۔ اس کا مقصد اپنے باطل کی ترویج ہو۔“ دوسری جگہ فرمایا : (وَاِذَا رَاٰكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ يَّـتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُـزُوًا ۭ اَھٰذَا الَّذِيْ يَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ ۚ وَهُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ) [ الأنبیاء : 36 ] ”اور جب تجھے وہ لوگ دیکھتے ہیں جنھوں نے کفر کیا تو تجھے مذاق ہی بناتے ہیں، کیا یہی ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے، اور وہ خود رحمٰن کے ذکر ہی سے منکر ہیں۔“
Ayah 25:42اِنْ كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا۔۔ : ”ان کاد“ اصل میں ”إِنَّہُ کَادَ“ تھا، یعنی بیشک وہ قریب تھا۔ یعنی یہ تو یقیناً قریب تھا کہ ہمیں ہمارے معبودوں کی عبادت ہی سے نہیں خود ان معبودوں ہی سے گمراہ کردیتا، یہ ہماری بہادری ہے کہ ہم ان کی عبادت پر ڈٹے رہے ہیں۔
3 اس سے کفار کا اپنے شرک پر شدت کے ساتھ ڈٹے رہنا ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ اسے چھوڑنے کو گمراہ ہونا قرار دے رہے ہیں اور یہ بھی کہ ان کا یہ کام کسی دلیل کی بنا پر نہ تھا، بلکہ محض آبا و اجداد کی تقلید اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے تھا۔
3 اس آیت سے ان کا اعتراف ثابت ہو رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حق کی دعوت پیش کرنے، اس کے لیے دلائل و معجزات پیش کرنے اور ہر اعتراض کا جواب دینے میں اتنی محنت سے کام لیا کہ کفار کو حق تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا، پھر انھوں نے حق قبول نہیں کیا تو اس کی وجہ صرف اور صرف ان کی ہٹ دھرمی تھی۔
3 پچھلی آیت کے ساتھ ملا کر اس آیت کو دیکھیں تو کفار کی عجیب تضاد بیانی سامنے آتی ہے کہ ابھی جس شخص کے متعلق انھوں نے نہایت حقارت سے کہا کہ کیا یہی ہے وہ جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ تو ابھی اس کی شخصیت کی تاثیر اور اس کے دلائل کی قوت کے بےپناہ ہونے کا اپنے منہ سے اعتراف کر رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ اسلام کی دعوت سے کس قدر مرعوب اور بوکھلائے ہوئے تھے کہ مذاق بھی اڑاتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کی عظمت اور برتری کا احساس ان پر اس قدر حاوی بھی تھا کہ بلا ارادہ ان کے منہ سے وہ باتیں نکلوا دیتا تھا جو وہ ہرگز کہنا نہیں چاہتے تھے۔
وَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ حِيْنَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ۔۔ : یہ ان کے لیے حق کو گمراہی کہنے پر اللہ تعالیٰ کی طرسے سخت وعید ہے۔
Ayah 25:43اَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـهَهٗ هَوٰىهُ : یہ فطری بات ہے کہ کفار کا رسول اللہ ﷺ کو مذاق کا نشانہ بنانا اور اپنے باطل معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہنا آپ ﷺ کے لیے سخت تکلیف دہ تھا، کیونکہ آپ کی شدید خواہش تھی کہ وہ ایمان لے آئیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے حال پر تعجب دلاتے ہوئے فرمایا : ”کیا تو نے وہ شخص دیکھا جس نے اپنی خواہش ہی اپنا معبود بنا لیا ؟“ ابوحیان نے فرمایا : ”وَالْمَعْنٰی أَنَّہُ لَمْ یَتَّخِذْ إِلٰھًا إِلَّا ھَوَاہُ“ ”معنی یہ ہے کہ اس نے اپنی خواہش کے سوا کسی کو معبود بنایا ہی نہیں۔“ زمخشری نے فرمایا : ”جو شخص اپنے دین میں خواہش ہی کا حکم مانے، کوئی بھی کام کرنے یا نہ کرنے میں اسی کے پیچھے چلے تو یہ شخص اپنی خواہش کی عبادت کرنے والا اور اسے اپنا معبود بنانے والا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ شخص جو اپنی خواہش کے سوا کسی اور کو اپنا معبود ہی نہیں سمجھتا آپ اسے ہدایت کی طرف کیسے لاسکتے ہیں ؟ کیا آپ اس کے ذمہ دار ہیں، یا اسے اسلام لانے پر مجبور کرسکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ تمہیں ہر حال میں اسلام قبول کرنا ہوگا، چاہو یا نہ چاہو، جب کہ دین میں (قبول اسلام کے معاملہ میں) زبردستی ہے ہی نہیں، فرمایا : (لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ) [ البقرۃ : 256 ] ”دین میں کوئی زبردستی نہیں۔“ اور فرمایا : (وَمَآ اَنْتَ عَلَيْهِمْ بِجَبَّارٍ) [ ق : 45 ] ”اور تو ان پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں۔“ اور فرمایا : (لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَۜيْطِرٍ) [ الغاشیۃ : 22 ] ”تو ہرگز ان پر کوئی مسلط کیا ہوا نہیں ہے۔“ (الکشاف) اور دیکھیے سورة جاثیہ (23) اور فاطر (8)۔
3 کوئی شخص اگر نفس کی خواہش پر کوئی گناہ کرلے اور اپنے آپ کو اللہ کا گناہ گار سمجھے تو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس نے اپنی خواہش کو اپنا الٰہ بنا لیا۔ ورنہ ہر گناہ شرک ہوگا اور ہر گناہ گار مشرک، جبکہ ایسا نہیں ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ) [ النساء : 48 ] ”بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے۔“ طبری نے اپنی معتبر سند کے ساتھ علی بن ابی طلحہ سے ابن عباس ؓ کا قول نقل فرمایا : ”مراد اس سے کافر ہے جو اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور کسی دلیل کے بجائے اپنی خواہش ہی کو اپنا معبود بنا لے۔“
اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَيْهِ وَكِيْلًا : یعنی آپ اس کی ہدایت کے ذمہ دار نہیں ہیں، آپ کا کام صرف دعوت ہے، جیسا کہ فرمایا : (فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ) [ الرعد : 40 ] ”تو تیرے ذمے صرف پہنچا دینا ہے اور ہمارے ذمے حساب لینا ہے۔“ اور دیکھیے سورة شوریٰ (48)۔
Ayah 25:44اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُوْنَ۔۔ : راستے کے اعتبار سے زیادہ گمراہ اس لیے کہ جانور تو معذور ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سوچنے سمجھنے کا مادہ ہی نہیں رکھا، مگر افسوس ان پر ہے جو عقل و شعور رکھتے ہیں مگر اس سے کوئی کام نہیں لیتے، یا لیتے ہیں تو الٹا لیتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ چوپائے تو پھر بھی اپنے مالک کے تابع رہتے ہیں، چراگاہ میں چلے جاتے ہیں، پھر واپس ٹھکانے پر پہنچ جاتے ہیں، مگر یہ نہ اپنے خالق ومالک کو پہچانتے ہیں نہ اس کی مرضی کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں۔ دیکھیے سورة اعراف (179)۔
Ayah 25:45اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ۔۔ : سورت کی ابتدا توحید کے اثبات اور شرک کے رد کے دلائل سے ہوئی ہے، کفار کی گمراہی کے بیان کے بعد ایک بار پھر توحید کے دلائل کا بیان ہے۔ دوسری مناسبت یہ ہے کہ سائے کے پھیلنے اور سکڑنے کو کائنات میں تدریج کے اصول کی مثال کے طور پر ذکر کیا گیا ہے، توجہ اس بات کی طرف دلائی جا رہی ہے کہ یہی اصول قرآن کے آہستہ آہستہ نازل ہونے میں کار فرما ہے۔
3 آیت کے شروع میں رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرکے اپنا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ فرمایا ہے، فرمایا : (اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ) ”کیا تو نے اپنے رب کو نہیں دیکھا، اس نے کس طرح سائے کو پھیلا دیا۔“ کیونکہ اصل مقصود سائے کی کیفیت کی طرف توجہ دلانا ہے اور آخر میں اپنا ذکر اپنی عظمت کے اظہار کے لیے جمع متکلم کے صیغے کے ساتھ فرمایا ہے، فرمایا : (جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيْلًا) ”پھر ہم نے سورج کو اس پر دلالت کرنے والا بنایا۔“
3 سائے سے مراد روشنی اور تاریکی کے بین بین وہ درمیانی حالت ہے جو سورج نکلنے سے پہلے ہوتی ہے اور دن بھر مکانوں میں، دیواروں کی اوٹ میں اور درختوں کے نیچے رہتی ہے۔ بعض مفسرین نے سائے سے مراد رات کی ظلمت لی ہے، جسے اللہ تعالیٰ سورج غروب ہونے کے ساتھ بتدریج پھیلاتا ہے اور طلوع آفتاب تک بتدریج ختم کرتا ہے۔
3 یعنی تم نے اپنے رب کی عجیب کاری گری نہیں دیکھی کہ اس نے سائے کو اس طرح بنایا کہ طلوع آفتاب تک ہر جگہ پھیلا ہوتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ سورج کو طلوع نہ ہونے دیتا تو وہی سایہ قائم رہتا، مگر اس نے اپنی قدرت سے سورج نکالا، جس سے دھوپ پھیلنا شروع ہوئی اور سایہ بتدریج ایک طرف کو سمٹنے لگا۔ اگر دھوپ نہ آتی تو سائے کو ہم سمجھ بھی نہ سکتے۔ پھر سورج طلوع ہونے کے ساتھ ہر چیز کا سایہ مغرب کی طرف بہت لمبا اور پھیلا ہوا ہوتا ہے، پھر جیسے جیسے سورج بلند ہوتا ہے سایہ آہستہ آہستہ سکڑتا جاتا ہے، حتیٰ کہ دھوپ پھیلنے سے بالکل ختم ہوجاتا ہے یا تھوڑا سا رہ جاتا ہے، پھر سایہ مشرق کی طرف بڑھنا شروع ہوجاتا ہے جو آخر کار رات کی تاریکی کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے۔ سائے کے اس پھیلنے اور سکڑنے میں انسان، حیوان حتیٰ کہ زمین پر پائی جانے والی ہر چیز کے لیے بیشمار فائدے ہیں، بلکہ ان کی زندگی ہی سائے کے اس گھٹنے بڑھنے پر موقوف ہے۔ ہمیشہ سایہ رہے تو زمین پر کوئی جان دار مخلوق بلکہ نباتات تک باقی نہ رہ سکے، کیونکہ ان سب کی زندگی سورج کی حرارت پر موقوف ہے۔ سایہ بالکل نہ رہے تب بھی زندگی محال ہے، کیونکہ ہر وقت سورج کے سامنے رہنے اور اس کی شعاعوں سے کوئی پناہ نہ ملنے کی صورت میں نہ جان دار زندہ رہ سکتے ہیں نہ نباتات، بلکہ پانی تک کا وجود باقی رہنا مشکل ہے، پھر اللہ کا فضل یہ ہے کہ دھوپ چھاؤں کا یہ سلسلہ آہستہ آہستہ بدلتا ہے، اگر یہ تبدیلی یک لخت ہو تب بھی زمین کی مخلوقات کی خیر نہیں۔ دن رات، دھوپ چھاؤں اور موسموں کے تغیر و تبدل کا سارا سلسلہ تدریج کے اصول پر قائم ہے، جس سے مقصود انسان کی ضروریات بہم پہنچانا ہے۔ دن بھر کے اوقات، نمازوں کے ہوں یا کسی اور کام کے، سائے کے بڑھنے گھٹنے سے وجود میں آتے ہیں۔
وَلَوْ شَاۗءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة قصص (71، 72)۔
ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيْلًا : یعنی اگر دھوپ نہ ہوتی تو کچھ پتا نہ چلتا کہ سایہ کیا ہوتا ہے، کیونکہ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ (قرطبی) اس کے علاوہ سورج کا سائے پر دلالت کرنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ سایہ دھوپ کے تابع رہتا ہے، دھوپ ہی کے اعتبار سے وہ بڑھتا گھٹتا اور پھیلتا سمٹتا ہے، گویا دھوپ اس کے لیے بمنزلہ دلیل و راہنما ہے۔ (شوکانی)
Ayah 25:46ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اِلَيْنَا۔۔ : یعنی آہستہ آہستہ گھٹاتے ہوئے ہم اسے بالکل مٹا دیتے ہیں، جیسے جیسے سورج بلند ہوتا ہے سایہ بھی بتدریج کم ہوتا جاتا ہے، حتیٰ کہ نصف النہار کے وقت بالکل ختم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح سورج کے مغرب کی طرف ڈھلنے کے ساتھ سائے کو بڑھاتے بڑھاتے رات کے آنے پر اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔
3 اپنی طرف سمیٹنے سے مراد غائب کرنا اور فنا کردینا ہے، کیونکہ ہر چیز کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہے، ہر چیز اسی کی طرف سے آتی ہے اور اسی کی طرف جاتی ہے، چناچہ فرمایا : (وَلِلّٰهِ غَيْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاِلَيْهِ يُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ) [ ھود : 123 ] ”اور اللہ ہی کے پاس آسمانوں اور زمین کا غیب ہے اور سب کے سب کام اسی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔“
قَبْضًا يَّسِيْرًا : یعنی اتنا آہستہ کہ پوری طرح اس کے سمٹنے کا ادراک نہایت مشکل ہے۔
Ayah 25:47وَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ لِبَاسًا۔۔ : ”سُـبَاتًا“ اور ”سَبْتٌ“ (ن، ض) مصدر ہیں، راحت، سکون، قطع کرنا۔ کلام کا اسلوب بطور التفات متکلم سے غائب کی طرف واپس آگیا ہے۔ سائے اور دھوپ کے بعد رات اور دن کا ذکر فرمایا۔ جملے کے دونوں جز ”ھُوَ“ اور ”اَلَّذِی“ معرفہ ہونے سے اس میں قصر افراد پیدا ہو رہا ہے، یعنی رات دن بنانے والا وہ اکیلا ہی ہے، کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں۔ جب تم بھی مانتے ہو کہ رات دن کا ایک لمحہ بنانے میں کسی کا کوئی حصہ نہیں، تو ان کے اندر موجود کسی چیز کا داتا اور دستگیر کوئی دوسرا کیسے بن گیا ؟ ”جَعَلَ لَكُمُ“ میں توجہ دلائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دھوپ چھاؤں اور رات دن کا یہ سلسلہ تمہارے لیے بنایا ہے، وہ ہر چیز سے غنی ہے۔ رات کو لباس بنانے کا مطلب یہ ہے کہ روشنی راحت میں خلل انداز ہوسکتی تھی، لہٰذا اس نے رات کو تاریک بنادیا جو لباس کی طرح ہر چیز کو چھپا لیتی ہے۔ رات کی تاریکی میں کتنے ہی دینی و دنیوی فائدے ہیں، کسی غازی، کسی عابد شب بیدار، کسی علم کی لذت یا کسی اونچے مقصد کی لذت سے آشنا ہی کو اس کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ البتہ ایک فائدہ ایسا ہے جس سے کوئی بھی محروم نہیں رہتا، نہ اس سے کوئی مستغنی ہوسکتا ہے اور وہ ہے نیند، جو موت کی طرح تمہاری تمام حرکت قطع کر کے تمہیں مکمل سکون کی وادی میں لے جاتی ہے اور تمہاری تھکن دور کرتی اور پورے جسم کی ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کردیتی ہے۔ دیکھیے سورة انعام (60) اور زمر (42)۔
وَّجَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا : ”نُشُوْرًا“ میں دو مفہوم پائے جاتے ہیں، ایک یہ کہ نیند ایک طرح کی موت ہے اور دن کو بیدار ہونا قیامت کو اٹھنے کی ایک مثال ہے۔ حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بستر پر جاتے تو کہتے : (بِاسْمِکَ أَمُوْتُ وَ أَحْیَا) ”تیرے ہی نام کے ساتھ میں مرتا ہوں اور زندہ ہوں گا۔“ اور جب بیدار ہوتے تو کہتے : (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ أَحْیَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَ إِلَیْہِ النُّشُوْرُ) [ بخاري، الدعوات، باب ما یقول إذا نام : 6312 ] ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں موت دینے کے بعد زندگی بخشی اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔“ دوسرا یہ کہ رات آرام کے لیے اور دن کام کاج اور اللہ کا فضل تلاش کرنے کے لیے ہے۔ آیت میں اللہ کی توحید کی دلیل بھی ہے اور قیامت پر اس کی قدرت کا اظہار بھی اور نعمت کی یاد دہانی بھی۔ اور دیکھیے سورة قصص (73)۔
Ayah 25:48وَهُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا۔۔ : دیکھیے سورة اعراف (57) ابن کثیر ؓ نے فرمایا : ”یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ ہے کہ وہ ہواؤں کو خوش خبری دینے والی بنا کر بھیجتا ہے کہ وہ اپنے بعد بادل آنے کی خوش خبری دیتی ہیں، اور ہواؤں کی کئی قسمیں ہیں جو کئی کاموں پر مقرر ہیں، بعض وہ جو بادلوں کو ابھارتی ہیں، بعض انھیں اٹھاتی ہیں، کچھ انھیں ہانکتی ہیں، کچھ ان سے پہلے بشارت دیتی ہیں، کچھ زمین پر جھاڑو پھیر دیتی ہیں اور کچھ بادلوں میں بار آوری کا کام کرتی ہیں، تاکہ ان سے بارش برسے۔“ یعنی ہواؤں، بادلوں اور بارش کے اس سلسلے کا خالق اور مالک و مختار بھی وہی ہے۔ اس حقیقت کو مشرکین مکہ بھی تسلیم کرتے تھے۔
وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً طَهُوْرًا : یہاں پھر غائب سے متکلم کی طرف التفات ہے۔ ”السَّمَاۗءِ“ سے مراد بادل ہے۔ ”طَهُوْرًا“ ”جس کے ساتھ طہارت حاصل کی جائے“ جیسا کہ ”وَقُوْدٌ“ جس کے ساتھ آگ جلائی جائے، ”وَضُوْءٌ“ جس کے ساتھ وضو کیا جائے، ”سَحُوْرٌ“ جس کے ساتھ سحری کی جائے اور ”سَنُوْنٌ“ جس کے ساتھ دانت صاف کیے جائیں۔ یعنی ہم نے بادل سے پانی اتارا جو ہر طرح کی گندگیوں سے پاک ہوتا ہے اور ہر طرح کے جراثیم اور زہریلے مادوں سے بھی۔ زمین سے جو پانی بخارات کی صورت میں بادل کی صورت اختیار کرتا ہے وہ بخارات بن کر اڑنے سے پہلے نجس ہو یا زہر آلود، نمکین ہو یا کسی عنصر کے ساتھ ملا ہوا، جب بادل سے برسے گا تو ہر آمیزش اور نجاست سے پاک ہوگا اور صرف خود ہی پاک نہیں ہوگا بلکہ دوسری چیزوں کو بھی نجاست سے پاک کرنے والا ہوگا۔ یہ آیت دلیل ہے کہ کسی بھی چیز کو پاک کرنے کا اصل ذریعہ پانی ہے۔
Ayah 25:49لِّنُحْيِۦ بِهٖ بَلْدَةً مَّيْتًا وَّنُسْقِيَهٗ۔۔ : ”اَنَاسِيَّ“ ”أَنْسِيٌّ“ کی جمع ہے، جیسے : ”کُرْسِيٌّ“ کی جمع ”کَرَاسِيُّ“ ہے یا ”إِنْسَانٌ“ کی جمع ہے جو اصل میں ”أَنَاسِیْنُ“ تھا، جیسے : ”ظَرْبَانٌ“ (بلی جیسا ایک جانور) کی جمع ”ظَرَابِيُّ“ ہے، پھر آخری نون کو یاء سے بدل دیا اور یاء کا یاء میں ادغام کردیا۔ ”سَقٰی یَسْقِيْ“ پلانا، ”أَسْقٰی یُسْقِيْ“ پلوانا، پینے کے لیے مہیا کرنا۔
3 اگر سمندر کا پانی اپنی اصل حالت میں کھیتی کو پلایا جائے تو کھیتی مرجھا کر تباہ ہوجائے اور اگر کوئی جان دار پی لے تو اس کی آنتوں کو کاٹ کے رکھ دے، یا کم از کم زخمی کر دے، لیکن اسی سمندر کے پانی کے بخارات جب بارش میں منتقل ہوتے ہیں تو کیا نباتات، کیا حیوان اور کیا انسان، سب کے لیے یہ پانی حیات بخش ثابت ہوتا ہے، کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں اور جان دار مخلوق بارش ہونے سے پہلے ہواؤں کی آمد ہی پر مسرور ہو کر جھومنے لگتی ہے۔ نباتات ہی سے جان دار مخلوق کو غذا حاصل ہوتی ہے اور اس کے پینے کے لیے اللہ تعالیٰ صاف ستھرا پانی دیتا ہے۔ جمادات کے علاوہ اس کائنات ارضی پر کوئی مخلوق ایسی نہیں جس کی زندگی کی بقا پانی کے بغیر ممکن ہو۔ (کیلانی)
3 ان دو آیات میں بھی اللہ کی توحید، موت کے بعد زندگی کے دلائل اور اللہ کی نعمت کی یاد دہانی تینوں چیزیں موجود ہیں۔
Ayah 25:50وَلَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَيْنَهُمْ۔۔ : اس آیت کی دو تفسیریں ہیں اور دونوں درست ہیں۔ اگر ”صَرَّفْنٰهُ“ میں ”ہٗ“ کی ضمیر اوپر بیان کردہ دلائل کی طرف ہو، جیسا کہ اکثر مفسرین کا رجحان ہے، تو معنی یہ ہوگا کہ ہم نے توحید کے دلائل کو قرآن مجید میں مختلف طریقوں سے پھیر پھیر کر بیان کیا ہے، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں، مگر اکثر لوگوں نے توحید قبول نہیں کی اور انھوں نے ناشکری اور کفر کے سوا کچھ مانا ہی نہیں۔ اور اگر ”صَرَّفْنٰهُ“ کی ضمیر ”مَاءً“ کی طرف ہو تو معنی یہ ہوگا کہ ہم نے اس پانی کو ان کے درمیان طرح طرح سے پھیرا ہے، چناچہ وہ کہیں زیادہ برستا ہے کہیں کم۔ سب جگہ ایک جیسا اور ایک وقت میں نہیں برستا، کسی جگہ بارش سے سیلاب آجاتا ہے تو دوسری جگہ بارش کا ایک قطرہ نہیں گرتا اور قحط پڑجاتا ہے، کہیں وہ مائع صورت میں ہے، کہیں پتھر کی طرح برف کی صورت میں اور کہیں بخارات کی صورت میں۔ غرض یہ سب اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی قدرت کے کرشمے ہیں۔ ابن کثیر ؓ لکھتے ہیں کہ ابن عباس اور ابن مسعود ؓ نے فرمایا : (مَا مِنْ عَامٍ أَمْطَرَ مِنْ عَامٍ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَصْرِفُہُ حَیْثُ یَشَاءُ ثُمَّ قَرَأَ : (وَلَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوْا) [ مستدرک حاکم : 2؍403، ح : 3520۔ طبري : 21216۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : 5؍460، ح : 2461 ] ”یعنی کوئی سال ایسا نہیں جس میں دوسرے کسی سال سے زیادہ بارش ہوتی ہو، لیکن اللہ تعالیٰ جیسے چاہتا ہے اسے پھیرتا ہے۔“ پھر یہ آیت پڑھی : (وَلَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوْا) [ الفرقان : 50 ]”اور بلاشبہ یقیناً ہم نے اسے ان کے درمیان پھیر پھیر کر بھیجا، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔“ دکتور حکمت بن بشیر نے اس حدیث کی تخریج کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابن عباس ؓ کا قول ابن ابی حاتم نے صحیح سند کے ساتھ سعید بن جبیر کے واسطے سے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسی سند کے ساتھ روایت کرکے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے اس کی موافقت کی ہے اور ابن مسعود ؓ کا قول طبری اور بیہقی نے دو سندوں سے روایت کیا ہے اور امام بیہقی نے اسے صحیح کہا ہے۔ [ السنن الکبریٰ للبیہقي : 3؍363 ]
ان دو جلیل القدر صحابہ کے قول کی رو سے یہ تفسیر زیادہ صحیح ہے، کیونکہ ظاہر ہے کہ یہ بات وہ اپنے پاس سے نہیں کہہ سکتے، اس لیے یہ حکماً مرفوع ہے۔ ابن عاشور لکھتے ہیں : ”جدید تحقیق سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ بارش زمین پر ہر سال مجموعی طور پر ایک جیسی ہوتی ہے اور یہی بات سیکڑوں برس پہلے وحی کے ذریعے سے بتادی گئی تھی۔“
لِيَذَّكَّرُوْا : یعنی بارش کو اس طرح پھیر پھیر کر مختلف جگہوں پر کم یا زیادہ نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں، بارش کو محض اللہ تعالیٰ کی رحمت و فضل کا نتیجہ مانیں، اس کے برسنے پر اللہ کا شکر ادا کریں اور نہ برسنے پر توبہ و استغفار کریں۔
فَاَبٰٓى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا : ”كُفُوْرًا“ اور ”کُفْرٌ“ دونوں مصدر ہیں، ”كُفُوْرًا“ میں حرف زیادہ ہونے کی وجہ سے مبالغہ ہے، یعنی سخت ناشکری۔ ناشکری یہ کہ اس بارش کو ستاروں کا کرشمہ قرار دیا جائے۔ زید بن خالد جہنی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حدیبیہ میں ایک بارش کے بعد، جو رات کے وقت ہوئی تھی، صبح کی نماز پڑھائی، جب فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : (ھَلْ تَدْرُوْنَ مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ ؟ قَالُوا اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَعْلَمُ ، قَالَ : قَالَ أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِيْ مُؤْمِنٌ بِيْ وَ کَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللّٰہِ وَ رَحْمَتِہِ ، فَذٰلِکَ مُؤْمِنٌ بِيْ وَکَافِرٌ بالْکَوْکَبِ ، وَ أَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ کَذَا وَ کَذَا، فَذٰلِکَ کَافِرٌ بِيْ وَ مُؤْمِنٌ بالْکَوْکَبِ) [ مسلم، الإیمان، باب بیان کفر من قال مطرنا بالنوء : 71۔ بخاري : 846 ] ”جانتے ہو آج رات تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے ؟“ انھوں نے کہا : ”اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔“ کہا، اس نے فرمایا ہے : ”آج میرے بندوں نے صبح کی ہے کہ کچھ مجھ پر ایمان رکھنے والے ہیں اور کچھ کفر کرنے والے ہیں۔ جس نے کہا، ہم پر اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی ہے، تو یہ مجھ پر ایمان رکھنے والا اور ستارے کے ساتھ کفر کرنے والا ہے اور جس نے کہا، ہم پر فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی تو یہ ستارے پر ایمان رکھنے والا اور میرے ساتھ کفر کرنے والا ہے۔“
Ayah 25:51وَلَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِيْ كُلِّ قَرْيَةٍ نَّذِيْرًا : یعنی جس طرح ہم نے بارش کو مختلف شہروں اور ملکوں میں بانٹ دیا، اگر ہم چاہتے تو اسی طرح ہر بستی میں ایک ڈرانے والا بھیج دیتے، مگر ہم نے ایسا نہیں چاہا، کیونکہ اس سے الگ الگ امتیں وجود میں آتیں، جن کا آپس میں اختلاف ہوتا، اس لیے ہم نے ساری زمین کے لیے ایک آفتاب کی طرح سب کے لیے ایک ہی ڈرانے والا مقرر فرمایا کہ سب اس کی اطاعت کریں اور ان کے انکار کی صورت میں وہ سب کے ساتھ قتال کرے۔ رسول اللہ ﷺ کا قیامت تک کے تمام لوگوں کے لیے نذیر ہونے کا ذکر اسی سورت کے شروع میں بھی ہے : (لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَۨا) مزید حوالہ جات کے لیے دیکھیے سورة اعراف (158)۔
3 اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی کمال قوت اور بےنیازی کا اظہار بھی ہے اور اس کی حکمت اور رسول اللہ ﷺ پر کمال نعمت کا بھی۔ فرمایا اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک ڈرانے والا بھیج دیتے اور جس شان کا چاہتے بھیج دیتے، کسی کی جرأت نہ تھی کہ ہمیں روک سکتا، مگر ہم نے یہ نہیں چاہا، بلکہ یہ چاہا ہے کہ یہ عزت و رفعت ”محمد ﷺ“ کو ملے، فرمایا : (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ) [ الم نشرح : 4 ]”اور ہم نے تیرے لیے تیرا ذکر بلند کردیا۔“ اور فرمایا : (عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا)[ بني إسرائیل : 79 ] ”قریب ہے کہ تیر ارب تجھے مقام محمود پر کھڑا کرے۔“