Ayah 25:52فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِيْنَ چونکہ ہم نے ہر بستی کی طرف الگ الگ نذیر بھیجنے کے بجائے تمام جہانوں کے لیے آپ ہی کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، اس لیے آپ کافروں کا کہنا مت مانیے، خواہ وہ معجزوں کا مطالبہ کریں یا طعن و تشنیع اور ٹھٹھے مذاق کے ساتھ دعوت سے روکنے کی کوشش کریں، یا مدا ہنت کی پیش کش کریں، جیسا کہ فرمایا : (وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُوْنَ) [ القلم : 9 ] ”وہ چاہتے ہیں کاش ! تو نرمی کرے تو وہ بھی نرمی کریں۔“
وَجَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِيْرًا : ”جَاھَدَ یُجَاھِدُ جِھَادًا وَ مُجَاھَدَۃً“ (مفاعلہ) کسی کے مقابلے میں اپنی پوری کوشش صرف کردینا۔ ”بِهٖ“ سے مراد قرآن مجید ہے، جس کا تذکرہ ”وَلَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَيْنَهُمْ“ میں گزرا ہے اور جس کے ذکر کے ساتھ سورت کی ابتدا ہوئی ہے، فرمایا : (تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِهٖ) یعنی اگر ہر بستی میں ایک ڈرانے والا بھیجا جاتا تو آپ کے بوجھ میں کمی ہوجاتی، اب تمام لوگوں تک پیغام پہنچانے کی ذمہ داری کی وجہ سے آپ کا بوجھ بہت زیادہ ہوگیا ہے، اس لیے آپ اس قرآن کو لے کر جہاد کبیر کریں۔ ”جہاد کبیر“ سے کیا مراد ہے ؟ ظاہر ہے اس سے مراد اپنی آخری کوشش تک لگا دینا ہے، یعنی دعوت کے ذریعے سے بھی اور جب ممکن ہو قتال کے ذریعے سے بھی۔ رازی لکھتے ہیں : ”بعض مفسرین نے فرمایا، یہاں جہاد سے مراد اللہ کا پیغام پہنچانے اور دعوت میں پوری کوشش کرنا ہے اور بعض نے فرمایا، قتال (لڑائی) کے ساتھ جہاد مراد ہے اور بعض نے فرمایا، دونوں کے ساتھ جہاد مراد ہے۔“ رازی نے فرمایا : ”پہلی تفسیر زیادہ قریب ہے، کیونکہ سورت مکی ہے اور قتال کا حکم ہجرت کے بھی کچھ دیر بعد نازل ہوا۔“ مگر حقیقت یہ ہے کہ زیادہ قریب بات یہ ہے کہ دعوت و قتال دونوں کے ساتھ جہاد مراد ہے، کیونکہ لفظ جہاد (پوری کوشش صرف کرنے) کا تقاضا بھی یہی ہے اور لفظ ”کبیر“ کا بھی۔ رہی یہ بات کہ یہ سورت مکی ہے، تو مکی سورتوں میں بھی قتال کا ذکر موجود ہے، اگرچہ حکمت الٰہی کے پیش نظر ہجرت سے پہلے قتال کی اجازت نہیں دی گئی، جیسا کہ سورة مزمل میں (جو بالاتفاق مکی ہے) فرمایا : (عَلِمَ اَنْ سَيَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى ۙ وَاٰخَرُوْنَ يَضْرِبُوْنَ فِي الْاَرْضِ يَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ ۙوَاٰخَرُوْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ڮ فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ) [ المزمل : 20 ] ”اس نے جان لیا کہ یقیناً تم میں سے کچھ بیمار ہوں گے اور کچھ دوسرے زمین میں سفر کریں گے، اللہ کا فضل تلاش کریں گے اور کچھ دوسرے اللہ کی راہ میں لڑیں گے، پس اس میں سے جو میسر ہو پڑھو۔“ اور عروہ بن زبیر نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے پوچھا : ”قریش نے رسول اللہ ﷺ کو زیادہ سے زیادہ جو ایذا دی وہ کیا تھی ؟“ تو انھوں نے دو دنوں کا ذکر فرمایا، جن میں سے ایک وہ دن تھا جب عقبہ بن ابی معیط نے آپ ﷺ کی گردن میں چادر ڈال کر گلا گھونٹا اور ابوبکر ؓ نے اسے دھکا دے کر آپ کو چھڑایا اور ایک اس سے پہلا دن کہ جب آپ طواف کر رہے تھے اور جب آپ کفار قریش کے پاس سے گزرتے تو وہ کوئی نہ کوئی تکلیف دہ بات کرتے، تین چکروں میں ایسا ہی ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا : (تَسْمَعُوْنَ یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ ! أَمَا وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ ! لَقَدْ جِءْتُکُمْ بالذَّبْحِ) ”قریشیو ! سنتے ہو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے ! میں تمہارے پاس (تمھارے) ذبح (کا پیغام) لے کر آیا ہوں۔“ [ مسند أحمد : 2؍218، ح : 7054۔ مسند أبی یعلٰی : 6؍425، ح : 7339 ] مسند احمد اور مسند ابی یعلی ٰ دونوں کی تحقیق میں اسے حسن کہا گیا ہے۔
ذبح کا یہ حکم جسے لے کر رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے تھے، جب اس پر عمل کا وقت آیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس پر عمل کرکے دکھایا اور فرمایا : (أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْھَدُوْا أَنْ لَا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ ، وَیُقِیْمُوا الصَّلَاۃَ ، وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ ، فَإِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ عَصَمُوْا مِنِّيْ دِمَاءَ ھُمْ وَ أَمْوَالَھُمْ إِلَّا بِحَقِّ الإِْسْلاَمِ وَ حِسَابُھُمْ عَلَی اللّٰہِ) [ بخاري، الإیمان، باب : (فإن تابوا و أقاموا الصلاۃ۔۔) : 25، عن ابن عمر ] ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمام لوگوں سے لڑوں، یہاں تک کہ وہ اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کا رسول ہے۔ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں، جب وہ یہ کام کرلیں تو انھوں نے مجھ سے اپنے خون اور اپنے مال محفوظ کرلیے، مگر اسلام کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔“
3 جہاد کبیر کی تفسیر دعوت و قتال دونوں کے ساتھ کرنا اس لیے بھی راجح ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا : (أَيُّ الْجِھَادِ أَفْضَلُ ؟) ”کون سا جہاد افضل ہے ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ وَ أُھْرِیْقَ دَمُہُ عُقِرَ جَوَادُہُ) [ ابن ماجہ، الجہاد، باب القتال في سبیل اللہ : 2794، قال الشیخ الألباني صحیح ] ”جس کا خون بہا دیا گیا اور اس کا گھوڑا کاٹ دیا گیا۔“ اور طارق ابن شہاب ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اس وقت رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا جب آپ رکاب میں پاؤں رکھ چکے تھے : (أَيُّ الْجِھَادِ أَفْضَلُ ؟) ”کون سا جہاد افضل ہے ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : (کَلِمَۃُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَاءِرٍ) [ نساءي، البیعۃ، باب فضل من تکلم بالحق عند إمام جائر : 4214 ] ”کسی ظالم بادشاہ کے پاس حق بات کہہ دینا۔“ ظاہر ہے ظالم بادشاہ کے سامنے وہی شخص کلمۂ حق کہہ سکتا ہے جو اس کے سامنے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر جائے گا، یہ ہر ایرے غیرے کا کام نہیں۔ اس لیے پچھلی حدیث میں اور اس میں کوئی تضاد نہیں۔
3 اس مقام پر ایک روایت بیان کی جاتی ہے، جس میں مال و جان کی قربانی والے جہاد کو جہاد اصغر قرار دیا گیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (رَجَعْنَا مِنَ الْجِھَادِ الْأَصْغَرِ إِلَی الْجِھَادِ الْأَکْبَرِ قَالُوْا وَمَا الْجِھَادُ الْأَکْبَرُ ؟ قَالَ جِھَادُ الْقَلْبِ)”ہم جہاد اصغر سے جہاد اکبر کی طرف واپس پلٹ آئے ہیں۔“ لوگوں نے کہا : ”تو وہ جہاد اکبر کیا ہے ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”جہاد القلب (دل کا جہاد)۔“ ”اَلْمَقُوْلُ مِنْ مَا لَیْسَ بِمَنْقُوْلٍ“ کے مصنف ولید بن راشد السعیدان لکھتے ہیں : ”حافظ ابن حجر نے (تسدید القوس میں) فرمایا، یہ ابراہیم بن ابی عبلہ کا کلام ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ اس کا اصل کچھ نہیں اور یہ جابر ؓ سے بھی مروی ہے اور اس کی سند بھی ضعیف ہے۔ (واللہ اعلم)
Ayah 25:53وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ۔۔ : ”فُرَاتٌ“ ”فَرُتَ یَفْرُتُ“ کا معنی توڑ دینا ہے، میٹھا پانی پیاس کو ختم کرتا ہے، اس لیے اسے ”فُرَاتٌ“ کہتے ہیں۔ توحید کے دلائل جو ”اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ“ سے شروع ہوئے تھے یہ ان کا چوتھا سلسلہ ہے۔ اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی قدرت کے کمال اور انسان پر اس کے انعامات تینوں چیزوں کا بیان ہے۔ اس کی ہم معنی آیت سورة رحمن میں ہے : (مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيٰنِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيٰنِ) [ الرحمٰن : 19، 20 ] ”اس نے دو سمندروں کو ملادیا، جو اس حال میں مل رہے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان ایک پردہ ہے (جس سے) وہ آگے نہیں بڑھتے۔“ ”هُوَ الَّذِيْ“ میں مبتدا اور خبر دونوں کے معرفہ ہونے سے قصر کا مفہوم ادا ہو رہا ہے کہ دو سمندروں کو اس طرح ملانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے، کسی اور کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ زمین کے تقریباً ستر (70) فیصد حصے پر سمندر ہے جس کا پانی سخت نمکین ہے، بظاہر اس کے ساتھ ملا ہوا میٹھے پانی کا کوئی سمندر نہیں اور یہ بات یقینی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بات کسی صورت غلط نہیں ہوسکتی۔ اس لیے مفسرین نے آیت کے کئی مصداق بیان فرمائے ہیں اور سبھی درست ہیں۔ ایک مصداق اس کا یہ ہے کہ عربی میں بحر کا لفظ پانی کے بڑے ذخیرے پر بولا جاتا ہے، اس لیے یہ لفظ سمندر اور دریا دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ تو اس سے مراد زمین پر موجود پانی کے دو بڑے ذخیرے ہیں، ایک میٹھا جو دریاؤں، جھیلوں اور ندی نالوں کی صورت میں ہے اور دوسرا کڑوا جو سمندر کی صورت میں ہے۔ ایک دوسرے کے قریب ہونے کے باوجود دونوں کے درمیان اللہ تعالیٰ نے زمین کی اوٹ بنادی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی اپنی جگہ رہتے ہیں، نہ نمکین میٹھے پر غالب آتا ہے اور نہ میٹھا نمکین پر۔ اس کا واضح مشاہدہ جزیروں پر ہوتا ہے، جہاں سمندر کے سخت نمکین پانی کے ساتھ ہی میٹھے پانی کا دریا چل رہا ہوتا ہے۔
دوسرا مصداق اس کا یہ ہے کہ اس سے مراد زمین کے نیچے موجود پانی کے دو سمندر ہیں، جن میں سے ہر ایک کی رو دوسرے کی رو کے بالکل ساتھ چل رہی ہے، ایک جگہ نلکا لگائیں تو میٹھا پانی نکلتا ہے اور بعض اوقات اس کے قریب ہی دوسرا نلکا لگانے سے نمکین پانی نکلتا ہے، حتیٰ کہ دیوار کی ایک طرف کا پانی میٹھا ہوتا ہے اور دوسری طرف کا نمکین، نہ یہ اس کی نمکینی میں دخل دیتا ہے اور نہ وہ اس کی شیرینی میں۔ میری دانست میں یہ صورت سب سے واضح ہے، ہر شخص اس کا مشاہدہ کرسکتا ہے اور اس پر کسی ملحد کے لیے اعتراض کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔ تیسرا مصداق اس کا وہ مقام ہے جہاں کسی بڑے دریا کا پانی سمندر میں گرتا ہے اور اس کے اندر دور تک چلا جاتا ہے، اس کا رنگ اور ذائقہ سمندر کے پانی کے رنگ اور ذائقے سے الگ رہتا ہے، دونوں کے درمیان نظر نہ آنے والی رکاوٹ حائل رہتی ہے۔ مفسر ابوحیان لکھتے ہیں : ”وَ نِیْلُ مِصْرَ فِيْ فَیْضِہِ یَشُقُّ الْبَحْرَ الْمَالِحَ شَقًّا بِحَیْثُ یَبْقٰي نَھْرًا جَارِیًا أَحْمَرَ فِيْ وَسْطِ الْمَالِحِ لِیَسْتَقِی النَّاسُ مِنْہُ“ [ البحر المحیط ] ”یعنی مصر کا دریائے نیل اپنی طغیانی کے زمانے میں نمکین سمندر کو چیرتا ہوا شور سمندر کے وسط میں سرخ رنگ کے دریا کی صورت میں دور تک بہتا چلا جاتا ہے، جس سے لوگ پینے کے لیے پانی حاصل کرتے ہیں۔“ چوتھا مصداق اس کا یہ ہے کہ کھارے اور کڑوے سمندر کے درمیان ایسے ذخیرے موجود ہیں جن کا پانی بالکل میٹھا ہے۔ ابو حیان ہی نے لکھا ہے : ”وَ تَرَی الْمِیَاہَ قِطْعًا فِيْ وَسْطِ الْبَحْرِ الْمَالِحِ فَیَقُوْلُوْنَ ھٰذَا مَاءٌ ثَلْجٌ فَیَسْقُوْنَ مِنْہُ مِنْ وَسْطِ الْبَحْرِ“ [ البحر المحیط ] ”یعنی نمکین سمندر کے وسط میں (میٹھے) پانی ٹکڑوں کی صورت میں دکھائی دیتے ہیں، جن کے متعلق لوگ کہتے ہیں کہ یہ برف کا پانی ہے اور وہ سمندر کے درمیان اس سے پینے کا پانی حاصل کرتے ہیں۔“
تفہیم القرآن میں ہے : ”خود سمندر میں بھی مختلف مقامات پر میٹھے پانی کے چشمے پائے جاتے ہیں، جن کا پانی سمندر کے نہایت تلخ پانی کے درمیان بھی اپنی مٹھاس پر قائم رہتا ہے۔ ترکی امیر البحر سیدی علی رئیس (کاتب رومی) اپنی کتاب ”مرأۃ الممالک“ میں (جو سولھویں صدی عیسوی کی تصنیف ہے) خلیج فارس کے اندر ایسے ہی ایک مقام کی نشان دہی کرتا ہے، اس نے لکھا ہے کہ وہاں آب شور کے نیچے آب شیریں کے چشمے ہیں، جن سے میں خود اپنے بیڑے کے لیے پینے کا پانی حاصل کرتا رہا ہوں۔ موجودہ زمانے میں جب امریکن کمپنی نے سعودی عرب میں تیل نکالنے کا کام شروع کیا تو ابتداءً وہ بھی خلیج فارس کے انھی چشموں سے پانی حاصل کرتی تھی، بعد میں ”ظہران“ کے پاس کنویں کھود لیے گئے اور ان سے پانی لیا جانے لگا۔ بحرین کے قریب بھی سمندر کی تہ میں آب شیریں کے چشمے ہیں جن سے لوگ کچھ مدت پہلے تک پینے کا پانی حاصل کرتے رہے ہیں۔“
3 اس آیت میں نعمت کی یاد دہانی کس طرح ہے، اس کے لیے میٹھے اور نمکین سمندروں میں سے میٹھے پانی کے فوائد بیان کرنے کی تو خاص ضرورت ہی نہیں، کیونکہ خشکی کے ہر جان دار کی زندگی کا دار و مدار اسی پر ہے، البتہ نمکین سمندر میں اللہ تعالیٰ کی نعمت کا مشاہدہ کئی طرح سے ہوتا ہے۔ ”تفسیر احسن البیان“ میں ہے : ”سمندری پانی کھارا رکھنے میں اللہ تعالیٰ کی بڑی حکمت ہے۔ میٹھا پانی زیادہ دیر کہیں ٹھہرا رہے تو وہ خراب ہوجاتا ہے، اس کے ذائقے، رنگ یا بو میں تبدیلی آجاتی ہے، کھارا پانی خراب نہیں ہوتا، نہ اس کا ذائقہ بدلتا ہے، نہ رنگ اور بو۔ اگر ان ساکن سمندروں کا پانی بھی میٹھا ہوتا تو اس میں بدبو پیدا ہوجاتی، جس سے انسانوں اور حیوانوں کا زمین میں رہنا مشکل ہوجاتا۔ اس میں مرنے والے جانوروں کی سڑاند اس پر مستزاد۔ اللہ کی حکمت تو یہ ہے کہ ہزاروں (لاکھوں) برس سے یہ سمندر موجود ہیں، ان میں ہزاروں (لاکھوں بلکہ کروڑوں) جانور مرتے ہیں اور انھی میں گل سڑ جاتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان میں ملاحت (نمکیات) کی اتنی مقدار رکھ دی ہے کہ وہ اس کے پانی میں ذرا بھی بدبو پیدا نہیں ہونے دیتی، ان سے اٹھنے والی ہوائیں بھی صحیح ہیں اور ان کا پانی بھی پاک ہے، حتیٰ کہ ان کا مردار بھی حلال ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے : (ھُوَ الطَّھُوْرُ مَاءُ ہُ الْحِلُّ مَیْتَتُہُ) [ أبوداوٗد، الطہارۃ، باب الوضوء بماء البحر : 83 ] ”اس (سمندر) کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے۔“ (احسن البیان) پانی کا یہ عظیم ذخیرہ ہزاروں لاکھوں ٹن وزنی سامان مختلف مقامات پر پہنچانے کا آسان ترین ذریعہ بھی ہے، خوراک اور ضروریات زندگی کا لا محدود خزانہ بھی اور تمام جان داروں اور پودوں کو میٹھا پانی مہیا کرنے کے لیے بادلوں اور بارشوں کی پیدائش کا منبع بھی۔ اس کے علاوہ موسموں کے رد و بدل میں بھی اس کا بہت بڑا حصہ ہے۔ مزید دیکھیے سورة فاطر (12) ، نحل (14) ، حج (65) ، زخرف (11، 12) اور جاثیہ (12)۔
Ayah 25:54وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ مِنَ الْمَاۗءِ بَشَرًا۔۔ : یہ توحید کے دلائل کی پانچویں قسم ہے۔ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی قدرت کاملہ اور آدمی پر انعام تینوں کا ذکر ہے۔ ”بَشَراً“ کا لفظ ”اَلْبَشَرَۃُ“ (کھال، ظاہری جلد) سے ہے، دوسرے تمام جانوروں کا جسم بالوں سے یا پروں وغیرہ سے چھپا ہوتا ہے، جبکہ انسان کی جلد اس سے صاف ہوتی ہے، اس لیے اسے ”بشر“ کہا جاتا ہے۔ پچھلی آیت میں خالق ومالک اور تنہا معبود ہونے کی دلیل کے طور پر دو پانیوں کو ملنے سے روکنے کی قدرت کا ذکر تھا اور اس آیت میں انھیں ملانے کا ذکر ہے، فرمایا : (اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ ڰ نَّبْتَلِيْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا) [ الدھر : 2 ] ”بلاشبہ ہم نے انسان کو ایک ملے جلے قطرے سے پیدا کیا۔“ تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ کائنات میں سب کچھ خود بخود ہر چیز کی طبیعت کے تقاضے سے ہو رہا ہے۔ نہیں ! یہ اس زبردست مالک و مختار کا کام ہے، چاہتا ہے تو سمندروں کو ملنے سے روک دیتا ہے، چاہتا ہے تو قطرے کو باہم ملا دیتا ہے اور پانی پر صورت گری اور نقش آفرینی فرما دیتا ہے۔
فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّصِهْرًا : یعنی یہی کرشمہ بجائے خود کیا کم تھا کہ وہ ایک حقیر قطرے سے انسان جیسی حیرت انگیز مخلوق بنا دیتا ہے، اس پر مزید یہ کہ اس نے انسان کا ایک نمونہ ہی نہیں، دو الگ الگ نمونے (عورت اور مرد) بنا دیے، فرمایا : (فَجَــعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْاُنْثٰى) [ القیامۃ : 39 ] ”پھر اس نے اس سے دو قسمیں نر اور مادہ بنائیں۔“ پھر وہ مذکر ہو یا مؤنث، ان سب کی نسبت باپ دادا کی طرف ہوتی ہے، فلاں بن فلاں اور فلانہ بنت فلاں۔ جب مرد اور عورت کی آپس میں شادی ہوتی ہے تو ان کے بہت سے سسرالی رشتے دار بن جاتے ہیں، خاندانی قبیلوں اور قوموں کا یہ سارا پھیلاؤ ایک قطرۂ منی سے وجود میں آتا ہے۔ دیکھیے سورة نساء کی پہلی آیت اور سورة حجرات (13)۔
وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيْرًا : یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کرشمے ہیں، کیونکہ تیرا رب ہمیشہ سے بیحد قدرت والا ہے۔ ہمیشگی کا مفہوم ”كَانَ“ سے ظاہر ہو رہا ہے۔
Ayah 25:55وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنْفَعُهُمْ وَلَا يَضُرُّهُمْ۔۔ : انسان کو کسی کی عبادت اور خود سپردگی پر آمادہ کرنے والی چیز اس سے فائدے کی امید ہوتی ہے یا نقصان کا خوف۔ اللہ تعالیٰ نے انسان پر اپنے انعامات اور عاد وثمود اور دوسری قوموں کو دی جانے والی سزائیں شمار کرنے کے بعد کفار کی بےعقلی بیان فرمائی کہ وہ اس محسن کو چھوڑ کر جس نے انھیں پانی کی ایک بوند سے پیدا فرما کر ضرورت کی ہر چیز اور ہر نعمت عطا فرمائی ہے، ان بےحقیقت چیزوں کی پوجا کر رہے ہیں جو نہ انھیں کوئی فائدہ پہنچاتی ہیں اور نہ نقصان۔ ”يَعْبُدُوْنَ“ مضارع کا صیغہ (جو استمرار کے لیے ہے) ان کے حال پر تعجب کے لیے ذکر فرمایا کہ یہ نہیں کہ انھوں نے ایک آدھ دفعہ یہ کمینگی کی ہو، بلکہ کرتے ہی چلے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے سوا تمام ہستیوں کے نفع و نقصان کے مالک ہونے کی اور عبادت کا حق دار ہونے کی نفی بار بار فرمائی ہے۔ دیکھیے سورة مائدہ (76) ، اعراف (188) ، یونس (18، 49) ، رعد (16) ، فرقان (3) ، یٰس (75) ، فتح (11) اور سورة جن (21)۔
وَكَانَ الْكَافِرُ عَلٰي رَبِّهٖ ظَهِيْرًا : ”الْكَافِرُ“ میں الف لام جنس کا ہے یا استغراق کا، اور ”کَانَ“ استمرار اور ہمیشگی کے لیے ہے، یعنی ہر کافر کی عادت ہے کہ وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں اس کے دشمنوں کی مدد کرتا ہے، خواہ وہ شیاطین الجن ہوں یا شیاطین الانس۔ اس کی دلی، زبانی، مالی اور جانی ساری توانائیاں اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت اور کفر اور کافروں کی حمایت کے لیے وقف ہوتی ہیں، جیسا کہ فرمایا : (اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْٓا اَوْلِيَاۗءَ الشَّيْطٰنِ ۚ اِنَّ كَيْدَ الشَّيْطٰنِ كَانَ ضَعِيْفًا) [ النساء : 76 ] ”وہ لوگ جو ایمان لائے وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہ باطل معبود کے راستے میں لڑتے ہیں۔ پس تم شیطان کے دوستوں سے لڑو، بیشک شیطان کی چال ہمیشہ نہایت کمزور رہی ہے۔“ ”عَلیٰ رَبِّهٖ“ میں کافر کی نمک حرامی نمایاں فرمائی ہے کہ اسے سوچنا چاہیے کہ وہ کس کے خلاف مورچہ باندھے ہوئے ہے، کیا اپنے پرورش کرنے والے ہی کے خلاف ؟
Ayah 25:56وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا : اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی ہے اور کفار کے لیے تنبیہ، یعنی اگر کافر ایمان نہیں لاتے اور اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان کی دشمنی اور مخالفت سے باز نہیں آتے تو اس کی ذمہ داری آپ پر نہیں، آپ کا کام حق قبول کرنے والوں کو بشارت دینا اور اسے ٹھکرانے والے کو ڈرانا ہے اور بس۔ کفار کو سمجھایا جا رہا ہے کہ جس رسول کی دشمنی پر تم کمر باندھے ہوئے ہو وہ تو سر سے پاؤں تک تمہارا خیر خواہ ہے، وہ تمہیں ایمان قبول کرنے پر جنت کی خوش خبری دینے والا اور ایمان سے انکار کرنے پر اللہ کے عذاب سے ڈرانے والا ہے، ایسے خیر خواہ سے دشمنی رکھنا تمہیں زیب دیتا بھی ہے ؟
Ayah 25:57قُلْ مَآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ : قرآن مجید میں یہ جملہ کئی جگہ آیا ہے، یہاں مطلب یہ ہے کہ کفار جو آپ کی عداوت پر تلے ہوئے ہیں ان سے کہہ دیجیے کہ میں اپنے رب کی طرف سے تمہارے پاس جو پیغام لے کر آیا ہوں، اسے پہنچانے میں تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا کہ تم اپنے اموال بچانے کی خاطر مجھ پر ایمان لانے سے گریز کرو۔ دوسری جگہ فرمایا : (اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلَي الَّذِيْ) [ ھود : 51 ] ”میری مزدوری اللہ کے سوا کسی پر نہیں۔“ اس سے بڑی نادانی کیا ہوگی کہ جو شخص تمہاری دین و دنیا کی بہتری کے لیے اپنی ساری توانائیاں صرف کر رہا ہے اور اس پر تم سے کسی مزدوری کا مطالبہ بھی نہیں کرتا، تم اسی کی جان کے دشمن بنے ہوئے ہو۔
اِلَّا مَنْ شَاۗءَ اَنْ يَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا : مفسرین نے اس جملے کی دو تفسیریں فرمائی ہیں اور دونوں درست ہیں۔ ایک یہ کہ میں اس دعوت پر تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا، لیکن تم میں سے جو شخص چاہے کہ جہاد اور دوسرے خیر کے کاموں میں خرچ کرکے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرے اور اسے اس کی رحمت اور ثواب کے حصول کا ذریعہ بنائے تو وہ ایسا کرے، جیسا کہ فرمایا : (وَمِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ يُّؤْمِنُ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَصَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ ۭ اَلَآ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّھُمْ ۭ سَـيُدْخِلُھُمُ اللّٰهُ فِيْ رَحْمَتِهٖ ۭ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) [ التوبۃ : 99 ] ”اور بدویوں میں سے کچھ وہ ہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کے ہاں قربتوں اور رسول کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ سن لو ! بیشک وہ ان کے لیے قرب کا ذریعہ ہے، عنقریب اللہ انھیں اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ بیشک اللہ بیحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔“ اس صورت میں ”اِلَّا“ بمعنی ”لٰکِنْ“ ہے اور استثنا منقطع ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ میں تم سے اس دعوت پر اس شخص کے سوا کوئی مزدوری نہیں مانگتا جو اپنے رب کے قرب کا راستہ اختیار کرنا چاہے۔ میری مزدوری بس ایسے لوگوں کا حصول ہے، اس کے سوا اللہ تم سے کسی مال یا جاہ یا کسی بھی مزدوری کا مطالبہ نہیں کرتا۔ ہاں، ایسے لوگوں کا حصول میرے لیے بہت بڑی مزدوری اور اجرت ہے، کیونکہ ایک شخص بھی ایمان لے آئے تو وہ میرے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے، پھر میری دعوت پر ایمان لانے والے جو بھی صالح عمل کریں گے سب کا اجر ان کے ساتھ ساتھ مجھے بھی ملے گا، میرے لیے یہی اجرت بہت ہے۔ اس صورت میں استثنا متصل ہے۔
Ayah 25:58وَتَوَكَّلْ عَلَي الْـحَيِّ الَّذِيْ لَا يَمُوْتُ : یہ بتانے کے بعد کہ تمام کفار آپ کی دشمنی میں یک جان اور ایک دوسرے کے مددگار ہیں، ان کی دشمنی اور ایذا سے بچنے کا طریقہ بتایا کہ آپ ان کی دشمنی پر صبر کریں، نہ کسی کا خوف رکھیں نہ کسی سے امید، اپنے ہر کام میں اس پر بھروسا رکھیں جو ہمیشہ زندہ ہے، کبھی نہیں مرے گا، وہی آپ کی ہر طرح سے حفاظت فرمائے گا، جیسا کہ فرمایا : (يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۭوَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ ۭوَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ) [ المائدۃ : 67 ] ”اے رسول ! پہنچا دے جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور اگر تو نے نہ کیا تو تو نے اس کا پیغام نہیں پہنچایا اور اللہ تجھے لوگوں سے بچائے گا۔“ بعض اہل علم نے فرمایا، اس کے بعد کسی عاقل کو زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی بھی مخلوق پر بھروسا کرے، کیونکہ مخلوق کو مرنا ہے۔ یاد رہے، توکل کا معنی یہ نہیں کہ اسباب کو ترک کردیا جائے، بلکہ توکل کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حسب استطاعت تمام اسباب اختیار کرنے کے بعد بھروسا صرف اللہ پر رکھا جائے۔
3 اس جملے میں اللہ تعالیٰ کی دو صفات ”الْـحَيِّ“ اور ”لَا يَمُوْتُ“ کے ساتھ مشرکین پر چوٹ بھی ہے کہ وہ ان ہستیوں کی عبادت کرتے اور انھیں اپنا داتا و دستگیر مانتے ہیں جو نہ زندہ ہیں اور نہ موت سے محفوظ، جیسا کہ فرمایا : (وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَيْـــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَاۗءٍ ۚ وَمَا يَشْعُرُوْنَ ۙ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ) [ النحل : 20، 21 ] ”اور وہ لوگ جنھیں وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، وہ کچھ بھی پیدا نہیں کرتے اور وہ خودپیدا کیے جاتے ہیں۔ مردے ہیں، زندہ نہیں ہیں اور وہ نہیں جانتے کب اٹھائے جائیں گے۔“
وَسَبِّحْ بِحَمْدِهٖ : تسبیح سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہر ایسی چیز کی نفی ہے جو اس کی شان کے لائق نہ ہو، جس میں سب سے پہلی چیز اس کا کوئی شریک ہونا ہے اور حمد سے مراد اس کے لیے ہر خوبی ثابت کرنا ہے جو اس کی شان کے لائق ہے۔ یعنی اللہ پر توکل کے ساتھ اس کی تسبیح و تحمید آپ کو ہر دشمن سے محفوظ رکھے گی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جو بھی حکم دیا ہے وہ آپ کے ساتھ پوری امت کے لیے بھی ہے، جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ وہ آپ کے ساتھ خاص ہے۔
وَكَفٰى بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِيْرَۨا : اس میں دو عموم ہیں، تمام بندے اور ان کے تمام گناہ اور ”خبِیْراً“ میں مبالغے کی وجہ سے ”علم“ کا بھی عموم ہے اور ”كَفٰى“ کے فاعل کی تاکید ”باء“ کے ساتھ کرنے میں کفایت میں بھی عموم ہے، یعنی وہ اپنے تمام بندوں کے تمام گناہوں کی پوری پوری خبر رکھنے والا ہونے کے لحاظ سے ہر طرح کافی ہے، کیونکہ اس سے کوئی چیز مخفی نہیں۔ دیکھیے سورة انعام (59) اور سورة سبا (3)۔
3 اس جملے میں کفار کے لیے وعید اور دھمکی بھی ہے، جیسے کوئی بڑا اپنے ماتحت کو کہے کہ تم جو کچھ کر رہے ہو میں دیکھ رہا ہوں۔
Ayah 25:59الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا۔۔ : اس کی تفسیر سورة یونس، ہود اور طٰہٰ میں گزر چکی ہے۔ یہاں ان صفات کا ذکر اللہ تعالیٰ پر توکل کی تلقین کے لیے بھی ہے اور اس میں نزول قرآن میں تدریج پر اعتراض کے جواب کی طرف اشارہ بھی ہے۔
فَسْـَٔــلْ بِهٖ خَبِيْرًا :”پورے باخبر“ سے مراد خود اللہ تبارک و تعالیٰ ہے اور ”بِهٖ“ سے مراد ”عَنْہُ“ (اس کے متعلق) ہے۔ اس آیت میں مزید وہ افعال و اوصاف ذکر فرمائے ہیں جن کی وجہ سے اللہ پر توکل کرنا چاہیے، یعنی اس پر توکل کر جو ہمیشہ زندہ ہے، جس پر کبھی موت نہیں آئے گی، جس نے آسمان و زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر عرش پر مستوی ہوگیا، جو بیحد رحم والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آسمان و زمین کی پیدائش، استواء علی العرش اور اس کی لا محدود رحمت کے بارے میں اہل کتاب یا مشرکین کیا جانیں، ان کی تفصیلات کا صحیح علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، لہٰذا اسی سے دریافت کیجیے۔ دوسری جگہ فرمایا : (وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْرٍ) [ فاطر : 14 ] ”اور تجھے ایک پوری خبر رکھنے والے کی طرح کوئی خبر نہیں دے گا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ جیسا پورا باخبر۔
Ayah 25:60وَاِذَا قِيْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا للرَّحْمٰنِ۔۔ : اس آیت کی دو تفسیریں ہیں، ایک یہ کہ مشرکین مکہ زمین و آسمان کے خالق کے لیے ”اللہ“ کا لفظ تو مانتے تھے، لیکن وہ اس کے نام ”رحمان“ سے مانوس نہ تھے، اس لیے اسے سنتے ہی چڑ جاتے تھے۔ دیکھیے سورة رعد (30) اور بنی اسرائیل (110) دوسری تفسیر اس کی یہ ہے کہ وہ لوگ یہ بات کہ ”رحمان چیز کیا ہے“ محض کافرانہ شوخی اور سراسر ہٹ دھرمی کی بنا پر کہتے تھے، جس طرح فرعون نے موسیٰ ؑ سے کہا تھا : (وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ) [ الشعراء : 23 ] ”اور رب العالمین کیا چیز ہے ؟“ حالانکہ نہ کفار مکہ اس بیحد رحم والی ہستی سے بیخبر تھے اور نہ فرعون رب العالمین سے ناواقف تھا، جیسا کہ موسیٰ ؑ نے اسے برملا کہا تھا : (قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ اَنْزَلَ هٰٓؤُلَاۗءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ بَصَاۗىِٕرَ) [ بنی إسرائیل : 102 ] ”بلاشبہ یقیناً تو جان چکا ہے کہ انھیں آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا کسی نے نہیں اتارا، اس حال میں کہ واضح دلائل ہیں۔“
Ayah 25:61تَبٰرَكَ الَّذِيْ جَعَلَ فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا۔۔ : اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة حجر (16) اور بروج (1)۔
Ayah 25:62وَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً : اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی قدرت کا کمال اور نعمتوں کی یاد دہانی تینوں چیزیں موجود ہیں۔ یعنی رات اور دن ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں، رات جاتی ہے تو دن آجاتا ہے اور دن جاتا ہے تو رات آجاتی ہے۔ اگر ہمیشہ دن رہتا یا ہمیشہ رات رہتی تو زندگی اور اس کی مصروفیات کا سلسلہ باقی نہ رہ سکتا۔ (دیکھیے قصص : 71 تا 73) دن رات کے اس بدلنے میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ (دیکھیے بقرہ : 164۔ آل عمران : 190) ایک مطلب اس کا یہ ہے کہ دن اور رات گھٹتے بڑھتے اور ایک دوسرے کی جگہ آتے جاتے رہتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُوْلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ وَاَنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ) [ الحج : 61 ] ”یہ اس لیے کہ اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“ طبری نے معتبر سند کے ساتھ علی بن ابی طلحہ سے ابن عباس ؓ کی تفسیر نقل فرمائی ہے : ”جس کا کوئی کام رات کو رہ جائے تو وہ دن کو پورا کرلیتا ہے اور دن کو رہ جائے تو رات کو پورا کرلیتا ہے۔“ (طبری : 26660) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَبْسُطُ یَدَہُ باللَّیْلِ ، لِیَتُوْبَ مُسِيْءُ النَّھَارِ ، وَیَبْسُطُ یَدَہُ بالنَّھَارِ ، لِیَتُوْبَ مُسِيْءُ اللَّیْلِ ، حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِھَا) [ مسلم، التوبۃ، باب قبول التوبۃ من الذنوب۔۔ : 2759 ] ”اللہ تعالیٰ رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے، تاکہ دن کو برائی کرنے والا شخص توبہ کرلے اور دن کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے، تاکہ رات کو برائی کرنے والا توبہ کرلے، یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہوجائے۔“ نبی ﷺ نے فرمایا : (مَنْ نَسِيَ صَلَاۃً أَوْ نَامَ عَنْھَا، فَکَفَّارَتُھَا أَنْ یُصَلِّیَھَا إِذَا ذَکَرَھَا) [ مسلم، المساجد، باب قضاء الصلاۃ الفائتۃ۔۔ : 315؍684 ]”جو شخص کسی نماز سے سویا رہ جائے یا بھول جائے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب اسے وہ یاد آئے پڑھ لے۔“ امیر المومنین عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِہِ أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْہُ فَقَرَأَہُ فِیْمَا بَیْنَ صَلَاۃِ الْفَجْرِ وَ صَلَاۃِ الظُّھْرِ ، کُتِبَ لَہُ کَأَنَّمَا قَرَأَہُ مِنَ اللَّیْلِ) [ مسلم، صلاۃ المسافرین، باب جامع صلاۃ اللیل : 747 ] ”جو شخص اپنے مقرر کردہ وظیفے سے یا اس کے کچھ حصے سے سویا رہ جائے، پھر اسے فجر کی نماز اور ظہر کی نماز کے درمیان پڑھ لے تو گویا اس نے اسے رات ہی میں پڑھا ہے۔“
”خِلْفَهً“ کا ایک معنی ”مختلف“ بھی ہے، قاموس میں ہے : ”اَلْخِلْفُ وَالْخِلْفَۃُ بالْکَسْرِ الْمُخْتَلِفُ“ اس کے مطابق معنی یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کو روشنی اور اندھیرے میں، گرمی اور سردی میں، کام اور آرام میں ایک دوسرے سے مختلف بنایا ہے۔
لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ يَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا : یعنی کہ اگر کوئی کفر یا فسق کی وجہ سے غفلت میں مبتلا ہے اور چاہتا ہے کہ اسے کسی طرح نصیحت ہو تو دن رات کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے میں اس کے لیے بہت بڑی نصیحت ہے کہ اتنی بڑی تبدیلی وہی کرسکتا ہے جو لا محدود قدرت والا اور ہر طرح صاحب اختیار ہے، اور اگر کوئی مومن اور صالح ہے اور اللہ کا شکر ادا کرنا چاہتا ہے تو دن رات کی یہ تبدیلی بہت بڑی نعمت ہے، جس پر اسے شکر ادا کرنا لازم ہے۔ رات دن کے سلسلے میں ایک نصیحت ابن العربی نے ذکر فرمائی ہے کہ ایک آدمی جس کی عمر ساٹھ (60) برس ہے، وہ رات سو کر گزار دیتا ہے، تو اس کی آدھی عمر بےکار گئی، پھر دن کا تقریباً چھٹا حصہ آرام میں گزر جاتا ہے، یوں کل دو تہائی چلا گیا۔ اس کے پاس ساٹھ (60) سال کی عمر میں سے بیس (20) برس رہ گئے۔ کتنی بڑی جہالت اور بےوقوفی ہے کہ آدمی اپنی عمر کا دو تہائی حصہ فانی لذت میں گزار دے اور عمر عزیز کو اس دائمی لذت کے حصول کے لیے خرچ نہ کرے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس اس کے لیے تیار کر رکھی ہے۔
Ayah 25:63وَعِبَاد الرَّحْمٰنِ الَّذِيْنَ يَمْشُوْنَ۔۔ : اللہ تعالیٰ کا عبد (بندہ) ہونے کی دو حیثیتیں ہیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ رب ہے اور یہ اس کا بندہ ہے، اس بندگی میں ساری مخلوق شریک ہے، مسلم ہوں یا کافر، نیک ہوں یا بد، سب اللہ کے عبد (بندے) ہیں، وہ سب کا رب ہے، فرمایا : (اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا)[ مریم : 93 ] ”آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے وہ رحمٰن کے پاس غلام بن کر آنے والا ہے۔“ دوسری حیثیت عبد ہونے کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ معبود ہے اور یہ اس کی عبادت اور بندگی کرنے والا ہے۔ اس معنی میں عباد الرحمن (رحمان کے بندے) صرف انبیاء، اولیاء اور اس کے نیک بندے ہیں۔ اس لحاظ سے جب کسی کو عبداللہ (اللہ کا بندہ) کہا جاتا ہے، تو اسے مخلوق کے مرتبوں میں سے سب سے اونچے مرتبے پر فائز کیا جاتا ہے۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (1) اور سورة جن (19)۔
3 رحمٰن کی عبادت کے لحاظ سے بندوں کی ایک قسم کا ذکر پچھلی آیات میں گزرا ہے کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رحمٰن کو سجدہ کرو تو وہ جانتے بوجھتے ہوئے شوخی و شرارت اور سرکشی و تکبر کے ساتھ رحمٰن کو جاننے ہی سے انکار کردیتے ہیں اور کہتے ہیں رحمٰن ہے کیا چیز ؟ اور مزید بدک جاتے ہیں، حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ رحمٰن کون ہے۔ اب رحمٰن کے ان بندوں کا ذکر ہے جو واقعی رحمٰن کی بندگی کرتے ہیں اور رات دن کے یکے بعد دیگرے آنے جانے سے اور کائنات کی ہر چیز سے نصیحت حاصل کرتے اور مالک کا شکر ادا کرتے ہیں، فرمایا : (لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ يَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا) [ الفرقان : 62 ] ”اس کے لیے جو چاہے کہ نصیحت حاصل کرے، یا کچھ شکر کرنا چاہے۔“ اور ان کی ان صفات کا ذکر ہے جو رحمٰن کی بندگی سے پیدا ہوتی ہیں، جن سے وہ لوگ سراسر محروم رہتے ہیں جو رحمٰن کو سجدہ کرنے کے حکم پر سرکشی اور نفرت کا اظہار کرتے ہیں اور نہ نصیحت حاصل کرتے ہیں، نہ شکر ادا کرتے ہیں۔
وَعِبَاد الرَّحْمٰنِ کے لفظ میں اشارہ ہے کہ ان کی یہ صفات ان پر رحمٰن کی رحمت کا نتیجہ ہیں۔
”عباد الرحمان“ کے سب سے پہلے مصداق صحابہ کرام ؓ ہیں جو ان آیات میں ذکر کردہ تمام صفات کے ساتھ متصف تھے۔ (دیکھیے فتح : 29) اس کے بعد قیامت تک آنے والے تمام متقی مومن اس کے مصداق ہیں۔ اسی طرح ”عباد الشیطان“ کے سب سے پہلے مصداق ابو لہب، ابوجہل اور ان کے ساتھی ہیں، ان کے بعد قیامت تک آنے والے تمام کفار و فجار۔
3 عباد الرحمان کی صفات جو اس مقام پر بیان ہوئی ہیں، چار قسم کی ہیں، پہلی قسم ان کا دینی کمالات کے ساتھ آراستہ ہونا ہے، ان کی ابتدا ”الَّذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَي الْاَرْضِ هَوْنًا“ سے ہوتی ہے۔ دوسری قسم ان کا ہر طرح کے رذائل اور کمینگیوں سے پاک ہونا ہے، یہ ”وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ“ سے شروع ہوتی ہے۔ تیسری قسم ان کا اسلام کے احکام پر کار بند ہونا ہے، ان صفات کا ذکر آیت (64) : (وَالَّذِيْنَ يَبِيْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّقِيَامًا) اور آیت (67) : (وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا۔۔) اور آیت (68) : (وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ) سے لے کر آیت (72) : (وَالَّذِيْنَ لَا يَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ) تک میں ہے اور چوتھی قسم ان کی طرف سے اس بات کی مسلسل کوشش اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ان کی دینی حالت بہتر سے بہتر ہوتی چلی جائے، اس کا ذکر آیت (74) : (وَالَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْيُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا) میں ہے۔ (ابن عاشور)
يَمْشُوْنَ عَلَي الْاَرْضِ هَوْنًا : ”هَوْنًا“ نرمی، مصدر بمعنی اسم فاعل برائے مبالغہ ہے : ”أَيْ مَشْیًا ذَا ھَوْنٍ“ یعنی بہت نرمی والی چال چلتے ہیں۔ یعنی رحمٰن کے محبوب بندے وہ ہیں جو تواضع اور عاجزی اختیار کرتے ہیں اور جب زمین پر چلتے ہیں تو نرمی کے ساتھ چلتے ہیں نہ کہ فساد برپا کرنے والوں اور ظلم و جبر کرنے والوں کی طرح اینٹھتے اور اکڑتے ہوئے۔ لقمان حکیم نے اپنے بیٹے کو وصیت فرمائی : (وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْـتَالٍ فَخُــوْر) [ لقمان : 18 ] ”اور زمین میں اکڑ کر نہ چل، بیشک اللہ کسی اکڑنے والے، فخر کرنے والے سے محبت نہیں کرتا۔“ نرمی کی چال سے مراد سکون اور وقار کی چال ہے نہ کہ دکھاوے کے لیے بناوٹ کے ساتھ مریضوں کی طرح چلنا۔ خود رسول اللہ ﷺ مضبوط قدم رکھتے ہوئے چلتے تھے، چناچہ علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اس طرح چلتے تھے : ”کَأَنَّمَا یَنْحَطُّ عَنْ صَبَبٍ“ (گویا ڈھلوان کی طرف اتر رہے ہوں۔) [ مسند أحمد : 1؍96، ح : 749، قال المحقق سندہ قوي ] ابو طفیل ؓ آپ ﷺ کے بارے میں بیان کرتے ہیں : (کَانَ أَبْیَضَ مَلِیْحًا، إِذَا مَشَی کَأَنَّمَا یَھْوِیْ فِيْ صَبُوْبٍ) [ أبوداوٗد، الأدب، باب في ھدی الرجل : 4864، وقال الألبانی صحیح ] ”آپ سفید رنگ اور انتہائی خوبصورت تھے، جب چلتے تو گویا ڈھلوان میں اتر رہے ہوں۔“ زمین پر نرمی کے ساتھ چلنے میں عام زندگی کا چال چلن بھی شامل ہے، کیونکہ آدمی کی چال اس کے چلن ہی کے مطابق ہوتی ہے۔ رحمٰن کے بندوں کی چال اور ان کا چلن دونوں سے تواضع اور نرمی کا اظہار ہوتا ہے، ان میں نہ تکبر ہوتا ہے نہ شدت، ہاں، کفار کے مقابلے میں وہ اکڑ کر بھی چلتے ہیں اور ان میں شدت بھی ہوتی ہے، جیسا کہ طواف کے اندر رمل کے حکم سے ظاہر ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ ۭ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗٓ اَشِدَّاۗءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاۗءُ بَيْنَهُمْ) [ الفتح : 29 ] ”محمد اللہ کا رسول ہے اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر بہت سخت ہیں، آپس میں نہایت رحم دل ہیں۔“ اور فرمایا : (اَذِلَّةٍ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ) [ المائدۃ : 54 ] ”مومنوں پر بہت نرم ہوں گے، کافروں پر بہت سخت۔“
وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا : ”جَھْل“ کا لفظ یہاں ”علم“ کے مقابلے میں نہیں بلکہ ”حلم“ کے مقابلے میں ہے۔”الْجٰهِلُوْنَ“ کے لفظ سے یہ بات سمجھ میں آرہی ہے کہ عباد الرحمن لوگوں سے ہمیشہ علیحدگی اور ترک کلام اختیار نہیں کرتے، بلکہ صرف ان کی جہالت اور اکھڑ پن کے رویے پر انھیں ترکی بہ ترکی جواب دینے اور جھگڑنے کے بجائے سلام کہہ کر گزر جاتے ہیں۔ دوسری جگہ فرمایا : (وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ) [ القصص : 55 ] ”اور جب وہ لغو بات سنتے ہیں تو اس سے کنارہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال۔ سلام ہے تم پر، ہم جاہلوں کو نہیں چاہتے۔“ ابوامامہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أَنَا زَعِیْمٌ بِبَیْتٍ فِيْ رَبَضِ الْجَنَّۃِ لِمَنْ تَرَکَ الْمِرَاءَ وَإِنْ کَانَ مُحِقًّا، وَ بِبَیْتٍ فِيْ وَسَطِ الْجَنَّۃِ لِمَنْ تَرَکَ الْکَذِبَ وَإِنْ کَانَ مَازِحًا، وَ بِبَیْتٍ فِيْ أَعْلَی الْجَنَّۃِ لِمَنْ حَسَّنَ خُلُقَہُ) [ أبوداوٗد، الأدب، باب في حسن الخلق : 4800، و حسنہ الألباني ] ”میں جنت کے اطراف میں مکان کا ضامن ہوں، اس شخص کے لیے جو جھگڑا چھوڑ دے خواہ حق دار ہو اور جنت کے وسط میں مکان کا ضامن ہوں اس شخص کے لیے جو جھوٹ چھوڑ دے خواہ مذاق سے ہو اور جنت کے سب سے بلند مقام پر مکان کا ضامن ہوں اس شخص کے لیے جو اپنا خلق (اخلاق) اچھا بنا لے۔“
Ayah 25:64وَالَّذِيْنَ يَبِيْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ۔۔ : پچھلی آیت میں لوگوں کے ساتھ ان کے معاملے کا ذکر تھا، اس آیت میں اپنے رب کے ساتھ ان کے معاملے کا ذکر ہے۔ حسن بصری نے فرمایا : ”پچھلی آیت میں ان کے دن کا ذکر ہے اور اس آیت میں ان کی رات کا۔“ اس آیت سے قیام اللیل کی اہمیت ثابت ہوتی ہے۔ مزید دیکھیے آیت : (تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ) [ السجدۃ : 16 ] اور آیت : (كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَ) [ الذاریات : 17 ] امیر المومنین عثمان بن عفان ؓ نے فرمایا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا : (مَنْ صَلَّی الْعِشَاءَ فِيْ جَمَاعَۃٍ فَکَأَنَّمَا قَامَ نِصْفَ اللَّیْلِ وَ مَنْ صَلَّی الصُّبْحَ فِيْ جَمَاعَۃٍ فَکَأَنَّمَا صَلَّی اللَّیْلَ کُلَّہُ) [ مسلم، المساجد و مواضع الصلاۃ، باب فضل صلاۃ العشاء والصبح في جماعۃ : 656 ] ”جو شخص عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھے تو گویا اس نے نصف رات قیام کیا اور جو صبح کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھے تو گویا اس نے ساری رات نماز پڑھی۔“ اس حدیث سے عشاء اور فجر جماعت کے ساتھ پڑھنے پر قیام اللیل کا اجر حاصل ہونا ثابت ہوتا ہے، اس کے باوجود کوئی شک نہیں کہ جو لوگ اس کے علاوہ بھی قیام اللیل کی پابندی کرتے ہیں ان کے درجے کو وہ لوگ نہیں پہنچ سکتے جو صرف فرائض پر اکتفا کرتے ہیں۔
Ayah 25:65وَالَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا۔۔ : مخلوق اور خالق کے ساتھ اپنا معاملہ درست کرنے کے باوجود ان میں غرور یا خود پسندی کا شائبہ تک نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے اپنے آپ کو عذاب کا مستحق سمجھتے ہوئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے اس کی رحمت اور عفو کے طلب گار اور عذاب جہنم سے بچنے کے خواست گار رہتے ہیں۔ سورة مومنون کی آیت (60) : (وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ) (اور وہ کہ انھوں نے جو کچھ دیا اس حال میں دیتے ہیں کہ ان کے دل ڈرنے والے ہوتے ہیں) میں ان کی یہی کیفیت بیان ہوئی ہے اور سورة ذاریات کی آیت (17، 18) : (كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَ وَبِالْاَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ) (وہ رات کے بہت تھوڑے حصے میں سوتے تھے اور رات کی آخری گھڑیوں میں وہ بخشش مانگتے تھے) میں مذکور ساری رات قیام کے بعد سحریوں کے وقت استغفار کا باعث بھی ان کا یہی احساس ہوتا ہے۔
اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا : ”غَرَامًا“ ”چمٹ جانے والا“ جس طرح مقروض جب تک قرض ادا نہ کرے غریم (قرض خواہ) اس کی جان نہیں چھوڑتا۔ جیسے شاعر نے کہا ہے
سَتَعْلَمُ لَیْلٰی أَيَّ دَیْنٍ تَدَانَیَتْ
وَ أَيَّ غَرِیْمٍ فِي التَّقَاضِيْ غَرِیْمُھَا
”لیلیٰ جان لے گی کہ اس نے کون سا قرض اٹھا لیا ہے اور تقاضا کرنے میں اس کا قرض خواہ کیسا قرض خواہ ہے ؟“
یہ جملہ عباد الرحمان کا قول بھی ہوسکتا ہے اور رب رحمٰن کا فرمان بھی۔
Ayah 25:66اِنَّهَا سَاۗءَتْ مُسْتَــقَرًّا وَّمُقَامًا ”مُسْتَــقَرًّا“ کچھ مدت ٹھہرنے کی جگہ گناہ گار مسلمانوں کے لیے اور ”مُقَامًا“ ہمیشہ اقامت کی جگہ کفار کے لیے۔ یہ جملہ بھی رب رحمٰن اور عباد الرحمان دونوں کا ہوسکتا ہے۔
Ayah 25:67وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَلَمْ يَـقْتُرُوْا۔۔ : لوگوں کے ساتھ اور اپنے رب کے ساتھ رویے کے بعد ان کے مالی معاملے کا ذکر ہے۔ اسراف کا اطلاق کسی کام میں ضرورت سے زیادہ خرچ کرنے پر ہوتا ہے، مثلاً کھانے پینے یا لباس یا مکان یا شادی بیاہ وغیرہ پر بےدریغ خرچ کردینا (ایک بلب کی ضرورت ہو تو زیادہ بلب لگا دینا، تھوڑے پانی سے کام چلتا ہو تو بےدریغ پانی بہا دینا) یا اپنی ہمت اور مقدور سے زیادہ خرچ کردینا (پھر قرض اتارتے رہنا یا مانگنا شروع کردینا) ایسی فضول خرچیوں سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ پھر اسراف کی ایک قسم تبذیر ہے، جس کا معنی ہے بلاضرورت خرچ کرنا، مثلاً دن کو بھی گلی میں بلب جلائے رکھنا، یا پانی کی ٹونٹی کھلی چھوڑ دینا۔ اسی طرح ناجائز کاموں میں خرچ کرنا بھی تبذیر ہے، جیسے شراب، زنا، جوئے، گانے بجانے یا آتش بازی وغیرہ ایسے کاموں میں ایک پیسہ بھی خرچ کرنا حرام ہے۔ اسراف کی ضد ”قتور“ ہے، جو ”قَتَرَ یَقْتُرُ (ن، ض) قَتْرًا وَ قُتُوْرًا“ سے ہے۔ باب ”افعال“ اور ”تفعیل“ سے ”إِقْتَارٌ“ اور ”تَقْتِیْرٌ“ بھی اسی معنی میں آتا ہے، یعنی خرچ میں تنگی کرنا، شدید بخل کہ مقدور ہوتے ہوئے بھی ضرورت سے کم خرچ کرنا اور مال کو جوڑ جوڑ کر رکھنا، اپنی ذات اور اہل و عیال کی جائز ضروریات میں بھی بخل کرنا۔ اسراف اور تقتیر کے درمیان کی صفت کا نام اقتصاد (میانہ روی) ہے، یعنی اتنا خرچ کرنا جتنی ضرورت ہے اور جتنی ہمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ”بَيْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا“ کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ ”قَوَامٌ“ دو چیزوں کے عین درمیان کو کہتے ہیں۔ مزید دیکھیے سورة انعام (142) ، اعراف (31) اور بنی اسرائیل (26، 29)۔
Ayah 25:68وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ : یہ عباد الرحمن کی صفات کی ایک اور قسم ہے، یعنی ان برائیوں اور کمینگیوں سے پاک ہونا جو مشرکین میں پائی جاتی ہیں اور عباد الرحمان ایمان کی وجہ سے ان سے محفوظ رہتے ہیں۔ یہاں ان کے تین بڑی برائیوں سے بچے رہنے کا ذکر فرمایا، یعنی شرک، قتل ناحق اور زنا۔ اگرچہ کبیرہ گناہ اور بھی بہت سے ہیں، مگر عرب کے معاشرے میں اس وقت زیادہ تسلط انھی تین گناہوں کا تھا، اس لیے مسلمانوں کی اس خصوصیت کو نمایاں کیا گیا، اس سے مشرکین پر چوٹ بھی مقصود ہے کہ وہ اتنی نمایاں برائیوں میں مبتلا ہیں جن کی برائی ہر عقل سلیم پر واضح ہے۔
وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ : مراد ہر انسانی جان ہے، کیونکہ کسی بھی انسانی جان کا قتل اللہ نے حرام کیا ہے۔
اِلَّا بالْحَقِّ : جیسے جان کے بدلے جان، شادی شدہ زانی کا رجم، مرتد کو قتل کرنا، جنگ میں کافر کو قتل کرنا اور مسلم یا غیر مسلم محارب کو قتل کرنا، یہ سب صورتیں ”اِلَّا بالْحَقِّ“ کے تحت آتی ہیں۔ یہ تینوں گناہ اسی ترتیب کے ساتھ ایک حدیث میں بھی مذکور ہیں، عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے پوچھا گیا : ”کون سا گناہ سب بڑا ہے ؟“ فرمایا : ”یہ کہ تم کسی کو اللہ کا شریک قرار دو ، حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا فرمایا۔“ سائل نے کہا : ”پھر کون سا ؟“ فرمایا : ”یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس اندیشے سے قتل کر دو کہ وہ تمہارے ساتھ کھانے میں شریک ہوگی۔“ اس نے کہا : ”پھر کون سا ؟“ فرمایا : ”یہ کہ تم اپنے ہمسائے کی بیوی کی رضا سے اس کے ساتھ زنا کرو۔“ تو اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت اتار دی : (وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ) [ الفرقان : 68 ] [ بخاری، الأدب، باب قتل الولد۔۔ : 6001 ]
وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا : ”اَثَامًا“ ”إِثْمٌ“ میں الف کے اضافے سے معنی میں اضافہ ہوگیا، ”سخت گناہ۔“ اس کا معنی گناہ کی جزا بھی آتا ہے، یعنی سخت گناہ کی سزا پائے گا۔ ابن کثیر میں ہے کہ عبداللہ بن عمرو ؓ نے فرمایا : ”اثام جہنم میں ایک وادی ہے۔“ دکتور حکمت بن بشیر نے فرمایا : ”اسے طبری نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔“
Ayah 25:69يُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ۔۔ : ”فِيْهٖ“ میں ہائے ضمیر کے کسرہ کے ساتھ یاء ملا دی گئی ہے، اسے اشباع کہتے ہیں۔ ان تینوں برائیوں کو ایک ہی ”اَلَّذِیْنَ“ کے صلے کے طور پر ذکر کیا ہے، گویا ان کے مجموعے کو ایک برائی قرار دیا ہے۔ ”ذٰلِكَ“ کا اشارہ بھی اس مجموعے کی طرف ہے۔ مراد اس سے کفار ہیں، کیونکہ مومن نہ غیر اللہ کو پکارتا ہے، نہ وہ ابدی جہنمی ہے، جبکہ ان تینوں کے مرتکب کے لیے دگنے عذاب کی اور اس میں ذلیل ہو کر ہمیشہ رہنے کی وعید ہے۔