Ayah 28:45وَلٰكِنَّآ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ : یعنی آپ اس وقت موجود نہیں تھے، لیکن ہم نے موسیٰ ؑ سے لے کر آپ تک بہت سی نسلیں اور قومیں پیدا کیں، جن پر سیکڑوں ہزاروں سال کی لمبی مدت گزر گئی۔ جس سے اصل واقعات اور دین کے صحیح احکام اپنی اصل صورت پر باقی نہ رہے، لہٰذا ضرورت تھی کہ نئے پیغمبر کے ذریعے سے دین اور شریعت کو صحیح، مکمل اور آخری صورت میں پیش کیا جائے، اس لیے ہم نے آپ کو نبوت سے سرفراز فرمایا اور یہ تمام واقعات وحی کے ذریعے سے آپ کو بتائے۔ یا یہ مطلب ہے کہ لمبی مدتیں گزرنے کی وجہ سے اہل عرب نبوت و رسالت کو بالکل ہی بھلا بیٹھے تھے، اس لیے انھیں آپ کی نبوت پر تعجب ہو رہا ہے اور وہ اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
وَمَا كُنْتَ ثَاوِيًا فِيْٓ اَهْلِ مَدْيَنَ۔۔ : یعنی موسیٰ ؑ کو ”مدین“ جا کر جو واقعات پیش آئے، ان کے اتنی صحت اور خوبی کے ساتھ بیان کرنے سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت آپ وہاں رہائش رکھتے تھے، سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے، یا ان سے سیکھ رہے تھے اور انھیں اس طرح ہماری آیات پڑھ کر سنا رہے تھے جیسے اب اہل مکہ کو سناتے ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ آپ اس وقت اہل مدین میں مقیم نہیں تھے کہ انھیں ہماری آیات پڑھ کر سنا رہے ہوں۔ بعض مفسرین نے ”تَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِنَا“ کو حال بنایا ہے اور ”علیھم“ سے مراد اہل مکہ لیے ہیں۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ اہل مکہ کے سامنے موسیٰ ؑ اور اس بزرگ کے متعلق ہماری آیات کی تلاوت کرتے وقت تو اہل مدین میں مقیم نہیں تھا کہ سب کچھ دیکھ کر انھیں سنا رہا ہو، بلکہ یہ سب کچھ ہماری وحی کے ذریعے سے ہوا۔
وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِيْنَ : لیکن بات یہ ہے کہ ہم ہمیشہ سے پیغمبر بھیجتے رہے ہیں، جو لوگوں کو غفلت سے بیدار کرتے اور ہمارے احکام سے آگاہ کرتے رہے۔ اب اسی عادت کے مطابق ہم نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا اور آپ پر یہ آخری کتاب نازل فرمائی، تاکہ لمبی مدتیں گزرنے کے بعد لوگ پھر صحیح دین اور اصل واقعات سے آگاہ ہوجائیں۔
Ayah 28:46وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ : ان تینوں آیات میں ”وما کنت“ (اور تو وہاں موجود نہ تھا) کی تکرار سے رسول اللہ ﷺ کے حق اور صدق پر ہونے کو واضح فرمایا گیا ہے کہ جب آپ ان مقامات میں سے کہیں بھی موجود نہیں تھے، پھر بھی ان کے بارے میں اصل حقائق کو صحیح طور پر اور بالکل واقعہ کے مطابق بیان کرتے ہیں تو یہ اس بات کی کھلی دلیل اور واضح ثبوت ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اس کی وحی آپ کے پاس آتی ہے جس کے ذریعے سے آپ یہ سب کچھ اتنی صحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔
”وَمَا كُنْتَ“ (اور تو وہاں موجود نہ تھا) کی تکرار کے ساتھ یہ اہم حقیقت بھی واضح فرما دی گئی ہے کہ پیغمبر حاضر و ناظر اور ہر جگہ موجود نہیں ہوتے، نہ وہ عالم الغیب ہوتے ہیں۔ انھیں جو علم ہوتا ہے وحی کے ذریعے سے ہوتا ہے اور وہ بھی اتنا جتنی وحی کی جائے۔
وَلٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ : یعنی آپ کو یہ واقعات اس لیے معلوم نہیں ہوئے کہ آپ ان مواقع پر موجود تھے، یا انھیں دیکھ رہے تھے، بلکہ یہ آپ کے رب کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو نبوت عطا فرمائی اور وحی سے نوازا۔
لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِيْرٍ۔۔ : اس قوم سے مراد اہل مکہ اور عرب ہیں۔ ان میں ابراہیم، اسماعیل اور شعیب ؑ کے بعد کوئی نبی نہیں آیا تھا۔ ہزاروں برس کی اس طویل مدت میں باہر کے انبیاء کی دعوتیں تو ضرور وہاں پہنچتی رہیں، مثلاً موسیٰ اور عیسیٰ ؑ کی دعوت، کیونکہ اس کے بغیر ان کا کفر و شرک پر جمے رہنے کا عذر موجود رہتا، جب کہ اللہ تعالیٰ نے یہ عذر کسی کے لیے باقی نہیں چھوڑا، مگر خاص اس سر زمین میں کسی نبی کی بعثت نہیں ہوئی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے وہاں آخری پیغمبر کو مبعوث فرمایا۔ اس مضمون کی آیات کے لیے دیکھیے سورة سجدہ (3) اور یٰس (1 تا 6)۔
Ayah 28:47وَلَوْلَآ اَنْ تُصِيْبَهُمْ مُّصِيْبَةٌۢ۔۔ : یعنی عرب کے لوگوں کا کفرو شرک اور ان کی سرکشی اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ کوئی پیغمبر بھیجے بغیر بھی ان پر عذاب بھیجتا تو ظلم نہ ہوتا، کیونکہ ان پر جو مصیبت آتی ان کے ہاتھوں کی کمائی ہوتی، مگر اس نے احسان فرمایا اور ان کے لیے عذر کا کوئی موقع نہیں چھوڑا کہ وہ کہہ سکیں کہ پروردگار ! تو نے ہماری طرف کوئی پیغام پہنچانے والا کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور ایمان لانے والوں میں شامل ہوجاتے۔ یہ مضمون کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء اس لیے بھیجے کہ لوگوں کے پاس کفرو شرک کا کوئی عذر باقی نہ رہے، قرآن میں کئی جگہ بیان ہوا ہے۔ دیکھیے سورة نساء (165) ، انعام (156، 157) ، مائدہ (19) اور سورة فاطر (24) وغیرہ۔
”وَلَوْلَآ اَنْ تُصِيْبَهُمْ مُّصِيْبَةٌۢ“ کا جواب محذوف ہے، جو سلسلہ کلام سے خود بخود سمجھ میں آ رہا ہے، یعنی اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اپنے اعمالِ بد کی وجہ سے عذاب آنے پر یہ لوگ کہیں گے کہ پروردگار ! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا، ”لَعَجَّلْنَا لَھُمُ الْعَذَابَ“ (تو ہم ان پر جلدی عذاب بھیج دیتے) ، یا ”لَمَا أَرْسَلْنَا رَسُوْلًا“ (تو ہم کوئی رسول نہ بھیجتے)۔
Ayah 28:48فَلَمَّا جَاۗءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا۔۔ : یعنی رسول نہ بھیجتے تو بہانہ ہوتا کہ رسول کیوں نہ بھیجا، اب ہماری طرف سے رسول آیا تو ضد اور عناد سے کہنے لگے کہ اسے اس قسم کے معجزات کیوں نہیں دیے جو موسیٰ کو دیے گئے تھے، مثلاً عصا، یدِبیضا، سمندر کا پھٹنا، بادلوں کا سایہ کرنا، پتھر سے بارہ چشمے پھوٹنا، من وسلویٰ کا اترنا، اللہ تعالیٰ کا کلام کرنا اور تورات کا الواح کی شکل میں نازل ہونا وغیرہ۔ معلوم ہوا نہ ماننا ہو تو بہانے ختم نہیں ہوتے۔
3 مفسر رازی فرماتے ہیں : ”ان لوگوں نے جو مطالبہ کیا ضروری نہیں تھا کہ اسی طرح ہوتا، کیونکہ نہ تمام انبیاء کے معجزات کا ایک ہونا لازم ہے اور نہ یہ ضروری ہے کہ ان پر اترنے والی کتاب ایک ہی طرح نازل ہو، کیونکہ کبھی کتاب کا اکھٹا نازل ہونا بہتر ہوتا ہے جیسے تورات اور کبھی جدا جدا کر کے نازل کرنا بہتر ہوتا ہے، جیسے قرآن۔“
اَوَلَمْ يَكْفُرُوْا بِمَآ اُوْتِيَ مُوْسٰي مِنْ قَبْلُ : یعنی ان کے طلب کردہ معجزات اگر دکھا بھی دیے جائیں تو کیا فائدہ ؟ جنھوں نے طے کرلیا ہے کہ ایمان نہیں لانا، وہ ہر طرح کی نشانیاں دیکھنے کے باوجود ایمان نہیں لائیں گے۔ کیا ان کے ہم جنس لوگوں نے جو ان جیسا مذہب اور ان جیسا عناد رکھنے والے تھے، یعنی موسیٰ ؑ کے زمانے کے کافر، انھوں نے ان معجزات کا انکار نہیں کیا تھا جو موسیٰ کو دیے گئے تھے ؟ انھوں نے موسیٰ اور ہارون ؑ کے متعلق کہا تھا کہ یہ (اتنے بڑے جادوگر ہیں کہ) مجسم جادو ہیں، جو ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں اور انھوں نے کہا تھا کہ ہم تو ان سب سے منکر ہیں۔
یہ معنی درست ہے، مگر اس سے زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ ”اَوَلَمْ يَكْفُرُوْا۔۔“ (کیا انھوں نے ان چیزوں کا انکار نہیں کیا جو موسیٰ کو دی گئیں) میں انکار کرنے والوں سے مراد قریش ہی ہیں جنھوں نے رسول اللہ ﷺ سے وہ معجزے لانے کا مطالبہ کیا جو موسیٰ ؑ کو دیے گئے۔ اس معنی کے زیادہ صحیح ہونے کی دلیل یہ ہے کہ ”فَلَمَّا جَاۗءَهُمُ الْحَقُّ“ سے لے کر ”وَقَالُوْٓا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ“ تک سب باتیں کہنے والے وہی لوگ ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں فرمایا : (قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَآ) ”کہہ پھر اللہ کے پاس سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ ہدایت والی ہو۔“ ظاہر ہے رسول اللہ ﷺ کو یہ بات کہنے کا حکم ان لوگوں کے لیے تھا جو آپ کے مخاطب تھے اور وہ قریش تھے، یا آپ کے زمانے کے دوسرے کفار، کیونکہ وہ صرف رسول اللہ ﷺ کی نبوت ہی کے منکر نہ تھے بلکہ اس سے پہلی نبوتوں کے بھی منکر تھے، وہ نہ موسیٰ ؑ پر ایمان لا کر ان کے تابع دار بنے، نہ عیسیٰ ؑ پر۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے زمانے کے کفار کا قول نقل فرمایا : (وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَلَا بالَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ) [ سبا : 31 ] ”اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، ہم ہرگز نہ اس قرآن پر ایمان لائیں گے اور نہ اس پر جو اس سے پہلے ہے۔“ مطلب یہ کہ موسیٰ ؑ کے جن معجزوں کا یہ مطالبہ کر رہے ہیں ان معجزوں کے باوجود موسیٰ ؑ پر بھی یہ کب ایمان لائے تھے جو اب محمد ﷺ سے ان کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ خود کہتے ہیں کہ موسیٰ ؑ کو یہ معجزے دیے گئے تھے، مگر پھر بھی انھوں نے ان کو نبی مان کر ان کی پیروی کبھی قبول نہیں کی۔
قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَ : یعنی قرآن اور تورات دونوں جادو ہیں، جو ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں۔ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے یہی نقل فرمایا ہے۔ آسمانی کتابوں میں قرآن کے بعد سب سے عظیم الشان کتاب تورات ہے، موسیٰ ؑ کے بعد تمام انبیاء بشمول عیسیٰ ؑ اسی پر عمل پیرا رہے، اس لیے قرآن میں عموماً تورات اور قرآن کا ذکر ایک ساتھ آیا ہے، جیسا کہ فرمایا : (قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِيْ جَاۗءَ بِهٖ مُوْسٰي نُوْرًا وَّهُدًى لِّلنَّاسِ) [ الأنعام : 91 ] ”کہہ وہ کتاب کس نے اتاری جو موسیٰ لے کر آیا ؟ جو لوگوں کے لیے روشنی اور ہدایت تھی۔“ یہاں تورات کے
نور اور ہدایت ہونے کا ذکر فرمایا، پھر قرآن کے متعلق فرمایا : (وَهٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ) [ الأنعام : 92] ”اور یہ ایک کتاب ہے، ہم نے اسے نازل کیا، بڑی برکت والی ہے، اس کی تصدیق کرنے والی جو اس سے پہلے ہے۔“ اسی سورة انعام کے آخر میں فرمایا : (ثُمَّ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَي الَّذِيْٓ اَحْسَنَ) [ الأنعام : 154 ] ”پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اس شخص پر (نعمت) پوری کرنے کے لیے جس نے نیکی کی۔“ اور اس سے اگلی آیت میں قرآن کا ذکر فرمایا : (وَھٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَاتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ) [ الأنعام : 155 ] ”اور یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے، بڑی برکت والی، پس اس کی پیروی کرو اور بچ جاؤ، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔“
Ayah 28:49قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ۔۔ : یعنی ان سے کہہ دیجیے کہ اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ میں اور موسیٰ جادو گر ہیں اور تورات اور قرآن جادو ہیں، تو تم کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو من گھڑت نہ ہو، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو اور ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت والی ہو، تو میں بلا تامل اس کی پیروی کروں گا، کیونکہ مجھے تو ہدایت سے سروکار ہے۔
Ayah 28:50فَاِنْ لَّمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ۔۔ : پھر اگر وہ تمہارا یہ مطالبہ قبول نہ کریں تو جان لو کہ ان کے پاس کوئی دلیل یا حجت نہیں، بلکہ وہ صرف اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ یہ مطالبہ قبول کرسکتے ہیں، بلکہ یہ بات ان کے عجز کے اظہار کے لیے کہی جا رہی ہے، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ ایسی کتاب کہاں سے آسکتی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے فرمایا : فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِىْ وَقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ) [ البقرۃ : 24 ] ”پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا اور نہ کبھی کرو گے تو اس آگ سے بچ جاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔“
وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ :”اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کی پیروی کرے۔“ اس آیت میں تقلید کا زبردست رد ہے، کیونکہ تقلید کی تعریف ہے : ”أَخْذُ قَوْلِ الْغَیْرِ بلاَ دَلِیْلٍ“ کہ اللہ اور اس کے رسول کے غیر کی بات کو بلا دلیل لے لینا۔ اللہ کی طرف سے آنے والی ہدایت دلیل ہے، جو قرآن اور سنت ہے۔ اس کو چھوڑ کر جس کی بھی بات مانی جائے وہ خواہش کی پیروی ہے، جس سے بڑی گمراہی کوئی نہیں۔ رازی نے بھی اس آیت کو تقلید کے رد کی دلیل قرار دیا ہے۔
اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ : یہ کہنے کے بجائے کہ اللہ ایسے لوگوں کو جو خواہش کی پیروی کریں، ہدایت نہیں دیتا، فرمایا، اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا، یعنی اللہ کی ہدایت کے بجائے اپنی خواہش کی پیروی کرنے والے ظالم ہیں اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا، کیونکہ وہ ظلمت میں رہنا پسند کرتے ہیں اور جو چیز جہاں رکھنی چاہیے وہاں رکھنے کے بجائے دوسری جگہ رکھتے ہیں (ظلم کا یہی معنی ہے) اور جو اندھیرے میں رہنے پر اصرار کرے اسے ہدایت کی روشنی کیسے نصیب ہوسکتی ہے۔
Ayah 28:51ۧوَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَـهُمُ الْقَوْلَ۔۔ :”وَصَّلَ الْقَوْلَ تَوْصِیْلاً“ بات کے ساتھ بات ملانا، پے در پے بات پہنچانا۔ قرآن اور تورات کو جادو قرار دے کر دونوں کے انکار کے اعلان کا مطلب یہ ہوا کہ ان کے مطابق اللہ کی طرف سے ان کے پاس کوئی ہدایت آئی ہی نہیں اور بلاغت کا قاعدہ ہے کہ انکار جتنا شدید ہو اتنی ہی تاکید کے ساتھ بات کی جاتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ”لام“ اور ”قَدْ“ کی دوہری تاکید کے ساتھ، جو قسم کا مفہوم رکھتی ہے، فرمایا : ”اور بلاشبہ یقیناً ہم نے انھیں پے در پے بات پہنچائی، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔“ اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں اور دونوں ہی مراد ہیں، ایک یہ کہ ہم ایک رسول کے بعد دوسرا رسول اور ایک کتاب کے بعد دوسری کتاب بھیجتے رہے اور اس طرح مسلسل اپنی بات لوگوں تک پہنچاتے رہے، ان سب کی تعلیمات ان تک بھی پہنچتی رہیں، تاکہ یہ خواب غفلت سے بیدار ہوں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید ایک ہی دفعہ نازل کردینے کے بجائے ہم انھیں اس کی آیات یکے بعد دیگرے پے در پے پہنچا رہے ہیں، کبھی وعدہ و وعید کی صورت میں، کبھی وعظ و نصیحت کی صورت میں، کبھی قصوں اور عبرتوں کے بیان کی صورت میں اور کبھی امر و نہی کی صورت میں کہ کسی طور پر نصیحت حاصل کریں۔
Ayah 28:52اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ۔۔ : یعنی درحقیقت یہ لوگ ضد اور عناد میں گرفتار ہیں، ہدایت کے طالب ہی نہیں، کیونکہ اگر یہ فی الواقع ہدایت کے طلب گار ہوتے تو ہمارے پے در پے نصیحت کرنے سے ہدایت پا جاتے، جیسا کہ کئی لوگ جنھیں ہم نے اس سے پہلے کتاب دی، وہ اس قرآن پر ایمان لاتے ہیں، جیسا کہ عبداللہ بن سلام، سلمان فارسی، تمیم داری، جارود عبدی اور رفاعہ قرظی ؓ وغیرہ اور وہ عیسائی جو نجاشی کے پاس تھے اور قرآن سن کر رونے لگے تھے، جن کا ذکر سورة اعراف (159) میں گزر چکا ہے۔
Ayah 28:53وَاِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖٓ : یعنی جب ان کے سامنے قرآن کی تلاوت ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں، ہم اس پر ایمان لے آئے۔
اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَآ : ”إِنَّ“ علت بیان کرنے کے لیے ہوتا ہے، مطلب یہ کہ ہم اس پر ایمان لے آئے، کیونکہ یہ ہمارے رب کی طرف سے حق ہے۔
اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ : یہ بھی ایمان لانے کی ایک علت ہے، یعنی ہم سنتے ہی اس پر اس لیے ایمان لے آئے کہ ہم اس سے پہلے ہی مسلم تھے۔ تورات و انجیل کی بنیادی تعلیم وہی تھی جو قرآن کی ہے، جب ہم نے دیکھا کہ یہ تو وہی ہے تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ پہلی امتوں کا دین اسلام تھا اور وہ بھی مسلم تھے، جیسا کہ فرمایا : (مِلَّـةَ اَبِيْكُمْ اِبْرٰهِيْمَ ۭهُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِـمِيْنَ ڏ مِنْ قَبْلُ وَفِيْ ھٰذَا) [ الحج : 78 ] ”اپنے باپ ابراہیم کی ملت کے مطابق، اسی نے تمہارا نام مسلمین رکھا، اس سے پہلے اور اس (کتاب) میں بھی۔“ یہ کہنا کہ ”مسلمین“ صرف امت محمد ﷺ کا نام ہے، درست نہیں۔ ”اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ“ کا معنی یہ بھی ہے کہ تورات و انجیل میں اس نبی اور اس کتاب کی پیش گوئیاں پڑھ کر ہم تو اس سے پہلے ہی اس پر ایمان رکھتے تھے اور دل و جان سے مسلم یعنی اس کے تابع فرمان تھے۔
Ayah 28:54اُولٰۗىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَيْنِ : یعنی اہل کتاب میں سے جو لوگ نبی کریم ﷺ پر ایمان لائے انھیں دوہرا اجر ملے گا، کیونکہ یہ لوگ پہلے رسول پر ایمان لائے، پھر آپ ﷺ پر بھی ایمان لائے۔ ابو موسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (ثَلَاثَۃٌ لَھُمْ أَجْرَانِ : رَجُلٌ مِنْ أَھْلِ الْکِتَابِ آمَنَ بِنَبِیِّہِ وَ آمَنَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَالْعَبْدُ الْمَمْلُوْکُ إِذَا أَدّٰی حَقَّ اللّٰہِ وَ حَقَّ مَوَالِیْہِ وَ رَجُلٌ کَانَتْ عِنْدَہُ أَمَۃٌ [ یَطَؤُھَا ] فَأَدَّبَھَا فَأَحْسَنَ تَأْدِیْبَھَا وَ عَلَّمَھَا فَأَحْسَنَ تَعْلِیْمَھَا ثُمَّ أَعْتَقَھَا فَتَزَوَّجَھَا فَلَہُ أَجْرَانِ) [ بخاري، العلم، باب تعلیم الرجل أمتہ و أھلہ : 97 ]”تین آدمیوں کے لیے دو اجر ہیں، ایک اہل کتاب میں سے کوئی آدمی جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور محمد ﷺ پر ایمان لایا اور ایک وہ غلام جو کسی کی ملکیت میں ہے، جب اللہ کا حق ادا کرے اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرے اور ایک وہ آدمی جس کے پاس کوئی لونڈی تھی، جس سے وہ جماع کرتا تھا، اسے اس نے ادب سکھایا اور اچھا ادب سکھایا اور تعلیم دی اور اچھی تعلیم دی، پھر آزاد کر کے اس سے نکاح کرلیا، تو اس کے لیے دو اجر ہیں۔“
بِمَا صَبَرُوْا : صبر تین طرح کا ہے، طاعت پر صبر، معصیت سے صبر اور مصیبت پر صبر۔ یعنی پہلے ایک رسول ؑ پر ایمان لا کر صابر اور ثابت قدم رہے، پھر دوسرے رسول ﷺ پر ایمان لا کر اس پر ثابت قدم رہے۔ اسی طرح خواہشات نفس کے مقابلے میں ثابت قدم رہے اور ان آزمائشوں اور مصیبتوں پر صبر کرتے رہے جو قبول اسلام کے بعد ان پر آئیں۔
وَيَدْرَءُوْنَ بالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ : ”دَرَأَ یَدْرَأُ“ کا معنی دفع کرنا، دور کرنا، یا پرے ہٹانا ہے۔ اس آیت کے دو مطلب ہیں، ایک یہ کہ اگر کوئی شخص ان سے برا سلوک کرے تو اس کا جواب برائی سے نہیں بلکہ اچھے سے اچھے طریقے سے دیتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۭ اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَبَيْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ) [ حٰم السجدۃ : 34 ] ”اور نہ نیکی برابر ہوتی ہے اور نہ برائی۔ (برائی کو) اس (طریقے) کے ساتھ ہٹا جو سب سے اچھا ہے، تو اچانک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہوگا جیسے وہ دلی دوست ہے۔“ اور دیکھیے سورة رعد (22) اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر ان سے کوئی برائی ہوجائے تو بعد میں نیک اعمال کر کے اس کا اثر ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ ۭ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّـيِّاٰتِ) [ ھود : 114 ]”اور دن کے دونوں کناروں میں نماز قائم کر اور رات کی کچھ گھڑیوں میں بھی، بیشک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔“
وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ : برائی کا جواب اچھائی سے دینا، یا نیکی کے ساتھ برائی کو مٹانا بعض اوقات ممکن ہی نہیں ہوتا جب تک خرچ نہ کیا جائے، اس لیے ان کی یہ صفت بیان فرمائی کہ ہم نے انھیں جو کچھ دیا اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اس میں حقوق واجبہ و مستحبہ، فرض زکاۃ اور نفلی صدقات سبھی آگئے۔ ”رَزَقْنٰهُمْ“ میں اپنے احسان کا احساس بھی دلایا ہے اور یہ بھی کہ اگر وہ خرچ کرتے ہیں تو اپنا کچھ خرچ نہیں کرتے، بلکہ اللہ کا دیا ہوا ہی خرچ کرتے ہیں، لہٰذا انھیں خرچ کرنے میں دریغ نہیں ہونا چاہیے۔
Ayah 28:55وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ : یعنی جب کوئی لغو بات سنتے ہیں تو اس سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (وَاِذَا مَرُّوْا باللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا) [ الفرقان : 72 ] ”جب بےہودہ کام کے پاس سے گزرتے ہیں تو باعزت گزر جاتے ہیں۔“
وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ : یعنی جب کوئی جاہل بےوقوفی کی کوئی حرکت کرے یا نامناسب بات کرے تو جواب میں ایسی بات یا حرکت نہیں کرتے، بلکہ کہتے ہیں، ہمارے لیے ہمارے عمل ہیں اور تمہارے لیے تمہارے عمل، تم جہالت کرو گے ہم صبر ہی کریں گے۔ مزید دیکھیے سورة شوریٰ (15) اور سبا (25، 26)۔
سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ : دوسری جگہ فرمایا : (وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا) [ الفرقان : 63 ] ”اور جب جاہل لوگ ان سے بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں سلام ہے۔“ جاہلوں کو سلام محبت اور دعا کا سلام نہیں، بلکہ جدائی اور قطع تعلق کا سلام ہے۔ بعض اہل علم نے فرمایا کہ سلام ایمان والوں کے درمیان ایک دوسرے کے لیے دعا ہے اور جاہلوں کا جہل برداشت کرنے کی علامت ہے۔
3 اس سے معلوم ہوا کہ جس جاہل سے توقع نہ ہو کہ سمجھانے سے سمجھے گا تو اس سے کنارا ہی بہتر ہے۔
لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ : یعنی ہم نہ دوستی اور مجلس کے لیے جاہلوں کو چاہتے ہیں، نہ جہالت میں مقابلے یا گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑے کے لیے انھیں چاہتے ہیں، بلکہ دور ہی سے سلام کہہ کر ان سے کنارا کرتے ہیں۔ یہ بات دل میں کہتے ہیں، کیونکہ اونچی کہنے سے تو خواہ مخواہ جھگڑا ہوسکتا ہے۔
Ayah 28:56اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ۔۔ : رسول اللہ ﷺ تمام لوگوں کے بیحد خیر خواہ تھے اور ان کے ایمان لانے کی شدید خواہش رکھتے تھے۔ خصوصاً آپ کے دل میں اپنے قرابت داروں کے متعلق صلہ رحمی کے جذبے کی وجہ سے یہ خواہش اور بھی زیادہ تھی۔ اس مقام پر اہل کتاب کے ان لوگوں کا ذکر آیا جو کتاب اللہ کی تلاوت سنتے ہی ایمان لے آئے، تو قدرتی طور پر آپ ﷺ کی طبیعت کا اس بات سے متاثر ہونا لازمی تھا کہ نسبتاً دور والے ایمان لانے میں بازی لے گئے اور میرے قرابت دار حتیٰ کہ عزیز چچا ابو طالب اس نعمت سے محروم رہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تسلی دی کہ اس معاملے میں آپ کی دعوت یا خیر خواہی میں کوئی کمی نہیں، بلکہ بات یہ ہے کہ ہدایت آپ کے اختیار میں نہیں، اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور وہی زیادہ جانتا ہے کہ ہدایت پانے والے کون ہیں، اہل کتاب ہیں یا عرب، اقارب ہیں یا دور کے رشتہ دار۔ (بقاعی) کسی اور کو علم ہی نہیں کہ ہدایت کسے دینی ہے، تو وہ ہدایت کیا دے گا ؟ تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ آیت رسول اللہ ﷺ کے چچا ابو طالب کے بارے میں اتری۔
3 سعید بن مسیب کے والد بیان کرتے ہیں : (لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاۃُ جَاءَ ہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ فَوَجَدَ عِنْدَہُ أَبَا جَہْلٍ وَعَبْدَ اللّٰہِ بْنَ أَبِيْ أُمَیَّۃَ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ ، فَقَالَ أَيْ عَمِّ ! قُلْ لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، کَلِمَۃً أُحَاجُّ لَکَ بِہَا عِنْدَ اللّٰہِ ، فَقَالَ أَبُوْ جَہْلٍ وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أَبِيْ أُمَیَّۃَ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّۃِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ؟ فَلَمْ یَزَلْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَعْرِضُہَا عَلَیْہِ ، وَیُعِیْدَانِہِ بِتِلْکَ الْمَقَالَۃِ حَتّٰی قَالَ أَبُوْ طَالِبٍ آخِرَ مَا کَلَّمَہُمْ عَلٰی مِلَّۃِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَأَبٰی أَنْ یَّقُوْلَ لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، قَالَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاللّٰہِ ! لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَکَ مَا لَمْ أُنْہَ عَنْکَ ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ : (مَا كَان للنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْٓا اُولِيْ قُرْبٰى) وَ أَنْزَلَ اللّٰہُ فِيْ أَبِيْ طَالِبٍ ، فَقَالَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ : (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ) [ بخاري، التفسیر، باب قولہ : (إنک لا تھدی من أحببت۔۔) 4772 ] ”جب ابو طالب کی وفات کا وقت آیا تو رسول اللہ ﷺ اس کے پاس آئے اور اس کے پاس ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ کو پایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اے چچا ! تو ”لا الٰہ الا اللہ“ کہہ دے، یہ ایسا کلمہ ہے جس کے ذریعے سے میں تیرے لیے اللہ کے پاس جھگڑا کروں گا۔“ تو ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ نے کہا : ”کیا تو عبدالمطلب کی ملت سے بےرغبتی کرتا ہے۔“ چناچہ رسول اللہ ﷺ اس کے سامنے یہی بات پیش کرتے رہے اور وہ دونوں اپنی وہی بات دہراتے رہے، حتیٰ کہ ابوطالب نے ان سے آخری بات جو کی وہ یہ تھی : ”عبد المطلب کی ملت پر (مر رہا ہوں)۔“ اور اس نے ”لا الٰہ الا اللہ“ کہنے سے انکار کردیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ کی قسم ! میں ہر صورت تیرے لیے استغفار کروں گا، جب تک مجھے منع نہ کردیا گیا۔“ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی : (مَا كَان للنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْٓا اُولِيْ قُرْبٰى) [ التوبۃ : 113 ] ”اس نبی اور ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، کبھی جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کریں، خواہ وہ قرابت دار ہوں۔“ اور اللہ عزوجل نے ابوطالب کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی اور رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا : (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ) ”بیشک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔“
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا سے کہا : ”تو ”لا الٰہ الا اللہ“ کہہ دے، میں قیامت کے دن تیرے لیے اس کی شہادت دوں گا۔“ اس نے کہا : ”اگر یہ نہ ہوتا کہ قریش کے لوگ مجھے عار دلائیں گے کہ اسے اس پر (موت کی) گھبراہٹ نے آمادہ کیا تو میں اس کے ساتھ تیری آنکھ ٹھنڈی کردیتا۔“ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ) [ مسلم، الإیمان، باب الدلیل علٰی صحۃ إسلام۔۔ : 42؍25 ]
3 بعض لوگوں کو اصرار ہے کہ ابوطالب اسلام پر فوت ہوا، ان کا کہنا یہ ہے کہ عبدالمطلب ملت ابراہیم پر تھے اور ”عَلٰی مِلَّۃِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ“ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ”میں ملت ابراہیم پر فوت ہو رہا ہوں“ لہٰذا وہ مسلمان تھا۔ مگر حدیث کے الفاظ ”اور اس نے لا الٰہ الا اللہ کہنے سے انکار کردیا“ کے بعد اس تاویل کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
3 ابو طالب کو رسول اللہ ﷺ سے بیحد محبت تھی، اس نے ہر طرح سے آپ کی حفاظت اور آپ کا دفاع کیا، مگر اس کی محبت طبعی یعنی قرابت اور نسب کی وجہ سے تھی، ایمانی محبت نہ تھی، اس لیے ہدایت نصیب نہ ہوسکی۔
3 اگرچہ یہ آیت ابوطالب کے بارے میں اتری مگر اصولی طور پر اس کا حکم عام ہے اور اس میں ہر وہ شخص شامل ہے جس کے متعلق رسول اللہ ﷺ کی خواہش تھی کہ وہ ایمان لے آئے، مگر اس نے کفر پر مرنے کو ترجیح دی۔ مزید دیکھیے سورة توبہ (113)۔
3 یہاں فرمایا : (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ) اور دوسری جگہ فرمایا : (وَاِنَّكَ لَـــتَهْدِيْٓ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ) [ الشورٰی : 52 ]”اور بلاشبہ تو یقیناً سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔“ پہلی آیت میں ہدایت سے مراد منزل مقصود پر پہنچا دینا ہے۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے، یہ کسی اور کا کام نہیں۔ دوسری آیت میں ہدایت سے مراد راستہ دکھانا ہے، یہ کام رسول اللہ ﷺ بھی سر انجام دیتے تھے۔
Ayah 28:57وَقَالُوْٓا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا۔۔ : رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ لانے کا ایک بہانہ اور اس کا جواب اوپر گزر چکا ہے : (فَلَمَّا جَاۗءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْلَآ اُوْتِيَ مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ مُوْسٰي ۭ اَوَلَمْ يَكْفُرُوْا بِمَآ اُوْتِيَ مُوْسٰي مِنْ قَبْلُ) [ القصص : 48 ] ”پھر جب ان کے پاس ہمارے ہاں سے حق آگیا تو انھوں نے کہا اسے اس جیسی چیزیں کیوں نہ دی گئیں جو موسیٰ کو دی گئیں ؟ تو کیا انھوں نے اس سے پہلے ان چیزوں کا انکار نہیں کیا جو موسیٰ کو دی گئی تھیں۔“ اب اس آیت میں ان کے ایمان نہ لانے کا ایک اور بہانہ ذکر فرمایا۔ ”وَقَالُوْٓا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا۔۔“ کا عطف گزشتہ آیت (48) ”ۭ اَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا“ پر ہے، یعنی بعض مشرکین نے یہ کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ حق پر ہیں، لیکن ہم ڈرتے ہیں کہ اگر ہم نے آپ کے ہمراہ ہدایت کی پیروی اختیار کرلی اور سارے عرب کی مخالفت مول لے لی تو وہ ہمیں ہماری سر زمین سے اچک لیں گے اور ایسی خاموشی سے یکلخت اٹھا لے جائیں گے کہ کسی کو خبر بھی نہ ہوگی۔
اَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا۔۔ : یہ ان کے عذر کا جواب ہے کہ جب پورے عرب میں ہر طرف بدامنی کا دور دورہ ہے، کسی کی جان محفوظ ہے نہ مال، دن دہاڑے لوگوں کو اٹھا کر لونڈی و غلام بنا لیا جاتا ہے، قبائل غربت و فقر کی وجہ سے ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں، تو کیا اس وقت ہم نے انھیں اس حرم میں جگہ نہیں دی جس کے امن و امان کی یہ حالت ہے کہ اس کے جانوروں تک کو کوئی نہیں ستاتا اور جسے وادی غیر ذی زرع ہونے کے باوجود اس قدر مرکزی حیثیت حاصل ہے کہ دنیا بھر کے پھل اور اموال تجارت اس کی طرف کھچے چلے آرہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اسے یہ حیثیت ہم نے بخشی ہے، تو جب ہم نے کفرو شرک کے باوجود انھیں اس قدر امن و امان دیا اور اپنی نعمتوں سے نوازا تو کیا جب وہ ہمارا دین اختیار کریں گے تو ہم انھیں پناہ نہیں دیں گے ؟ اور لوگوں کی دست درازی سے ان کی حفاظت نہیں کریں گے۔ نہیں، ایسا ہرگز نہیں ہوگا، لیکن اکثر لوگ نادان ہیں، جانتے نہیں۔ مزید دیکھیے سورة عنکبوت (67)۔
Ayah 28:58وَكَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍۢ بَطِرَتْ مَعِيْشَتَهَا۔۔ :”بَطَرٌ“ کا معنی ہے نعمت پر سرکشی اختیار کرنا، پھول جانا۔ اس کا معنی ناشکری اور انکار بھی آتا ہے۔ پہلا معنی ہو تو یہاں ”فِیْ“ محذوف ہوگا : ”أَيْ بَطِرَتْ فِيْ مَعِیْشَتِھَا۔“ حرف جار حذف ہونے سے ”مَعِیْشَتَھَا“ پر نصب آگئی۔ جیسا کہ سورة اعراف (155) میں ہے : (وَاخْتَارَ مُوْسٰي قَوْمَهٗ سَبْعِيْنَ رَجُلًا) ”أَيْ مِنْ قَوْمِہِ“۔ یہ ان کے عذر کا دوسرا جواب ہے، یعنی تم نے گمان کر رکھا ہے کہ ایمان لانے کی صورت میں تم تباہ و برباد ہوجاؤ گے اور ایمان نہ لائے تو تمہاری شان و شوکت، سیادت و عزت، مال و دولت اور اعلیٰ درجے کی ترقی یافتہ معیشت محفوظ رہے گی۔ سو تمہارا یہ گمان غلط ہے، تم سے پہلے کتنی ہی اقوام، جو اپنی معیشت پر اترا گئی تھیں اور ان کے رہنے والے اپنی خوش حالی اور فارغ البالی کی بدولت بدمست ہوگئے تھے، مثلاً عاد، ثمود، قوم لوط اور قوم شعیب وغیرہ، ہم نے انھیں ایسا ہلاک اور برباد کیا کہ ان کی بستیاں یہ تمہارے سامنے ہیں، ان میں ایسی نحوست ہے کہ ان کے بعد کوئی ان میں آباد ہی نہیں ہوا، مگر بہت کم کہ راہ چلتے ہوئے تھوڑی دیر کے لیے کوئی مسافر اترا اور پھر چل دیا۔ تمہیں ان کے انجام سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔
وَكُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِيْنَ : یعنی ان میں سے کوئی باقی ہی نہیں رہا جو ان کے گھروں اور مال و دولت کا وارث بنے، فرمایا : (فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِيَةٍ) [ الحآقۃ : 8 ] ”تو کیا تو ان کا کوئی بھی باقی رہنے والا دیکھتا ہے ؟“ ان کے وارث ہم بنے اور ہر چیز کے وارث ہمیشہ ہم ہی ہوا کرتے ہیں۔ ”کُنَّا“ میں ”کَانَ“ استمرار اور ہمیشگی کے لیے ہے۔
Ayah 28:59وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى۔۔ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نافرمان بستیوں کو ہلاک کرنے کا اصول بیان فرمایا اور اس سوال کا جواب دیا کہ ان اقوام کی ہلاکت کے بعد کتنی مدت گزری، کفار کا کفرو شرک اور ان کی سرکشی اور ظلم و زیادتی انتہا کو پہنچ چکی، انھیں کیوں ہلاک نہیں کیا گیا ؟ فرمایا یہ تیرے رب کی ربوبیت اور اس کی رحمت ہے کہ وہ کبھی بستیوں کو ہلاک نہیں کرتا، جب تک ان کی مرکزی بستی میں کوئی پیغام پہنچانے والا (رسول) نہ بھیجے، جو ان کے سامنے ہماری آیات کی تلاوت کر کے ان کا یہ عذر ختم نہ کر دے کہ ہمیں عذاب سے پہلے آگاہ کیوں نہیں کیا گیا۔ ”ما کان“ میں نفی کا استمرار ہے، یعنی ایسا کبھی ہوا ہی نہیں، نہ ہونے والا ہے۔ جیسے دیکھیے سورة آل عمران (79) اور یونس (36)۔
وَمَا كُنَّا مُهْلِــكِي الْقُرٰٓى۔۔ : یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اب رسول اللہ ﷺ کی آمد کے بعد ایمان نہ لانے والوں پر عذاب کیوں نہیں آتا۔ فرمایا، ہماری یہ بھی عادت ہے کہ ہم بستیوں کو کبھی ہلاک نہیں کرتے، جب تک ان کے رہنے والے ظلم پر اس طرح نہ ڈٹ جائیں کہ ظالم کے لقب کے حق دار بن جائیں۔ اب اس نبی کی آمد پر تمہیں مہلت دی جا رہی ہے کہ تم کفرو شرک اور ظلم پر اصرار کر کے ظالم ٹھہرتے اور عذاب کے مستحق بنتے ہو یا ایمان لا کر رحمت کے حق دار بنتے ہو۔
3 ابن کثیر نے فرمایا : ”یہ آیت دلیل ہے کہ نبی ﷺ جو اُمّ القریٰ (مکہ) میں مبعوث ہوئے، وہ عرب و عجم کی تمام بستیوں کی طرف مبعوث تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَمَنْ حَوْلَهَا) [ الشورٰی : 7 ] ”اور اسی طرح ہم نے تیری طرف عربی قرآن وحی کیا، تاکہ تو بستیوں کے مرکز (مکہ) کو ڈرائے اور ان لوگوں کو بھی جو اس کے ارد گرد ہیں۔“ اور فرمایا : (قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا) [ الأعراف : 158 ] ”کہہ دے اے لوگو ! بیشک میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔“ (ابن کثیر) اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی کو عطا نہیں کی گئیں۔“ ان میں سے ایک یہ بیان فرمائی : (وَکَان النَّبِيُّ یُبْعَثُ إِلٰی قَوْمِہِ خَاصَّۃً وَ بُعِثْتُ إِلَی النَّاسِ عَامَّۃً) [ بخاري، التیمم، باب : 335 ] ”اور ہر نبی خاص اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور مجھے تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہے۔“
Ayah 28:60وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا۔۔ : یہ کفار مکہ کے شبہ کا تیسرا جواب ہے، کیونکہ ان کے شبہ کا اصل یہ تھا کہ ہم یہ دین اس لیے قبول نہیں کر رہے کہ ہمیں اپنی دنیا کے نقصان کا خطرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ یہ تمہاری بہت بڑی غلطی ہے، کیونکہ دنیا میں تمہیں جو کچھ بھی دے دیا جائے سب دنیا کی زندگی کا تھوڑے سے وقت کے لیے فائدہ اٹھانے کا سامان ہے، جس نے آخر ختم ہونا ہے اور آخرت میں جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ اس سے کہیں بہتر بھی ہے اور باقی رہنے والا بھی ہے اور کوئی بھی عقل مند بہتر اور باقی کو چھوڑ کر کمتر اور فانی کو ترجیح نہیں دیتا، تو کیا تمہیں عقل نہیں کہ فانی کو ترجیح دے کر ہمیشہ کی زندگی برباد کر رہے ہو۔
3 جو کچھ اللہ کے ہاں ہے اسے بہت بہتر اس لیے فرمایا کہ دنیا کا ساز و سامان اس کے مقابلے میں نہ مقدار میں کچھ حیثیت رکھتا ہے نہ خوبی میں۔ مقدار میں اتنا ہوگا کہ عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ آخِرَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ دُخُوْلاً الْجَنَّۃَ ، وَآخِرَ أَہْلِ النَّارِ خُرُوْجًا مِنَ النَّارِ رَجُلٌ یَخْرُجُ حَبْوًا فَیَقُوْلُ لَہُ رَبُّہُ ادْخُلِ الْجَنَّۃَ فَیَقُوْلُ رَبِّ ! الْجَنَّۃُ مَلْأَی فَیَقُوْلُ لَہُ ذٰلِکَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَکُلُّ ذٰلِکَ یُعِیْدُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃُ مَلأَی فَیَقُوْلُ إِنَّ لَکَ مِثْلَ الدُّنْیَا عَشْرَ مِرَارٍ) [ بخاري، التوحید، باب کلام الرب عزوجل یوم القیامۃ۔۔ : 7511 ] ”جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والا، جو جہنم سے نکلنے والوں میں سب سے آخری ہوگا، گھسٹتا ہوا آگ سے نکلے گا تو اسے اس کا رب فرمائے گا : ”جنت میں داخل ہوجا۔“ وہ کہے گا : ”اے میرے رب ! جنت بھری ہوئی ہے۔“ اللہ تعالیٰ اسے تین دفعہ فرمائے گا، ہر بار وہ یہی جواب دے گا کہ جنت بھری ہوئی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ”تمہیں دنیا سے دس گنا زیادہ (جنت) عطا کی جاتی ہے۔“ مستورد بن شداد ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (وَاللّٰہِ ! مَا الدُّنْیَا فِي الْآخِرَۃِ إِلَّا مِثْلُ مَا یَجْعَلُ أَحَدُکُمْ إِصْبَعَہُ (وَ أَشَارَ یَحْیٰی بالسَّبَّابَۃِ) ہٰذِہِ فِي الْیَمِّ فَلْیَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ ؟) [ مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمھا، باب فناء الدنیا و بیان الحشر یوم القیامۃ : 2858 ] ”اللہ کی قسم ! آخرت کے مقابلے میں دنیا اس کے سوا کچھ نہیں، جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنی یہ (شہادت کی) انگلی سمندر میں ڈالے، پھر دیکھے وہ کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے ؟“ اور خوبی میں آخرت اس لیے کہیں بہتر ہے کہ اس کی ہر نعمت کسی بھی قسم کے غم یا فکر سے پاک ہے، جب کہ دنیا کی کوئی نعمت ایسی نہیں اور وہ اتنی بہتر ہے کہ کوئی شخص نہ اس کی خوبی بیان کرسکتا ہے، نہ وہ کسی کے تصور میں آسکتی ہے۔ ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : (أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِیْنَ مَا لَا عَیْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ فَاقْرَؤُوْا إِنْ شِءْتُمْ : (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ) [ السجدۃ : 17] [ بخاري، بدء الخلق، باب ما جاء في صفۃ الجنۃ و أنھا مخلوقۃ : 3244 ] ”میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی بشر کے دل میں اس کا خیال تک آیا ہے۔“ اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو : ”کوئی جان نہیں جانتی کہ اس کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا کچھ سامان چھپا کر رکھا گیا ہے۔“
Ayah 28:61ۧ اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَـنًا۔۔ : اس آیت میں مومن و کافر کی زندگیوں کا موازنہ کیا گیا ہے اور سوال کی صورت میں سوچنے کی دعوت دی گئی ہے کہ آیا یہ دونوں زندگیاں کسی صورت برابر ہوسکتی ہیں ؟ جب یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتیں تو تم دنیا کے فائدے کے لیے رسول کی پیروی کیوں چھوڑتے ہو ؟ دنیا کی نعمتیں مومن و کافر دونوں کو ملتی ہیں، مگر مومن اللہ تعالیٰ کے حکم کا پابند رہ کر ان سے فائدہ اٹھاتا ہے، جس کی وجہ سے آخرت کی نعمتیں صرف اس کے لیے خاص ہوجاتی ہیں۔ (دیکھیے اعراف : 32) اور ایمان اور عمل صالح والوں سے اللہ تعالیٰ کا یہی وعدۂ حسنہ ہے، جو ہر حال میں مومن کو مل کر رہے گا، کیونکہ اللہ کا وعدہ کبھی خلاف نہیں ہوتا، جیسا کہ فرمایا : (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً ۚ وَلَـنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ) [ النحل : 97 ] ”جو بھی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو یقیناً ہم اسے ضرور زندگی بخشیں گے، پاکیزہ زندگی اور یقیناً ہم انھیں ان کا اجر ضرور بدلے میں دیں گے، ان بہترین اعمال کے مطابق جو وہ کیا کرتے تھے۔“ اس کے مقابلے میں کافر ہے، مومن کے متعلق جو فرمایا کہ وہ ہمارے اچھے وعدے کو ملنے والا ہے، تو یہ اشارہ ہے کہ کافر کو بھی شیطان اور اس کے بنائے ہوئے شریک وعدے دلاتے رہتے ہیں، مگر ان کے دلائے ہوئے وعدے اسے کبھی حاصل نہیں ہوں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورة ابراہیم میں ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن شیطان کہے گا : (اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ) [ إبراہیم : 22 ] ”بیشک اللہ نے تم سے وعدہ کیا، سچا وعدہ اور میں نے تم سے وعدہ کیا تو میں نے تم سے خلاف ورزی کی۔“ کافر کو دنیا کی زندگی کا کچھ سامان دیا گیا، ملنا اسے بھی اتنا ہی ہے جتنا اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے، مگر اس نے اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کے بجائے اپنی خواہش نفس کے مطابق اس سے فائدہ اٹھایا، جس کے نتیجے میں وہ ان لوگوں میں شامل ہونے والا ہے جو قیامت کے دن حاضر کیے جانے والے ہیں۔ قرآن کی اصطلاح میں ”الْمُحْضَرِيْنَ“ (حاضر کیے جانے والے) کا لفظ عذاب میں حاضر کیے جانے والوں کے متعلق ہی استعمال ہوا ہے۔ دیکھیے سورة صافات (57 اور 127) اس لفظ میں بھی یہ مفہوم موجود ہے، کیونکہ حاضر اسی کو کیا جاتا ہے جو حاضر نہ ہونا چاہے، جنت میں تو ہر شخص شوق سے جائے گا۔
ابن کثیر ؓ نے فرمایا : ”تو کیا وہ شخص جو مومن ہے، اس وعدے کو سچا جاننے والا ہے جو اللہ نے اس کے صالح اعمال پر اس سے ثواب کی صورت میں کیا ہے، جو لا محالہ اسے ملنے والا ہے، اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو کافر ہے، اللہ کی ملاقات اور اس کے وعدہ و وعید کو جھٹلانے والا ہے۔ سو اسے دنیا کی زندگی میں تھوڑے سے دن کچھ سامان ملنے والا ہے، پھر قیامت کے دن وہ حاضر کیے جانے والوں میں سے ہے۔ مجاہد نے فرمایا، یعنی عذاب دیے جانے والوں میں سے ہے۔“ (ابن کثیر)
Ayah 28:62وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ۔۔ : یہ آیات بھی مشرکین مکہ ہی سے متعلق ہیں جو دنیوی مفادات کی خاطر شرک اور شرک کے عَلَم برداروں سے چمٹے ہوئے تھے، انھیں ان کے اس عمل بد کے انجام سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ الفاظ عام ہونے کی وجہ سے ان کا تعلق تمام کفار سے بھی ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انھیں آواز دے کر دو سوال کریں گے، دونوں سوالوں سے مقصود پوچھنا نہیں بلکہ انھیں ذلیل کرنا اور ان کے شرکاء کے بےبس اور بےاختیار ہونے کا اظہار ہے۔
فَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَاۗءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ : یہ پہلا سوال ہے جو اللہ تعالیٰ مشرکین کو آواز دے کر ان سے کریں گے کہ بتاؤ کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کے متعلق تم سمجھ بیٹھے تھے کہ وہ تمہارے نفع یا نقصان کے مالک ہیں اور دنیوی مفادات ان کی بدولت حاصل ہو رہے ہیں، یا وہ تمہیں سفارش کر کے چھڑوا لیں گے ؟ دیکھیے سورة انعام (94)۔
Ayah 28:63قَالَ الَّذِيْنَ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ :”بات ثابت ہوچکی“ سے مراد ہے ”عذاب کی بات ثابت ہوچکی“ جیسا کہ فرمایا : (وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ) [ السجدۃ : 13 ] ”اور لیکن میری طرف سے بات پکی ہوچکی کہ یقیناً میں جہنم کو جنوں اور انسانوں، سب سے ضرور بھروں گا۔“ اور ”جن پر عذاب کی بات ثابت ہوچکی“ سے مراد شیاطین یا وہ بڑے بڑے پیشوا، سردار، لیڈر اور پیرفقیر قسم کے لوگ ہیں جن کو لوگوں نے دنیا میں ”اربابا من دون اللہ“ بنا لیا تھا اور جن کی بات کے مقابلے میں وہ اللہ اور اس کے رسولوں کی بات کو رد کردیا کرتے تھے۔ وہ کسی چیز کو حلال کہہ دیتے تو حلال سمجھتے، حرام کہہ دیتے تو حرام سمجھتے، یہ ان کو اللہ کے سوا رب اور اللہ کے شریک بنانا تھا۔ جن پیشواؤں نے لوگوں کو اپنی بندگی پر لگایا تھا اور جن پر عذاب کا فیصلہ ہوچکا ہوگا وہ کہیں گے اے ہمارے رب !۔۔
رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ اَغْوَيْنَا۔۔ : یعنی جنھیں اللہ کے شریک بنایا گیا تھا، وہ کہیں گے، اے ہمارے رب ! یہ ہیں وہ لوگ جنھیں ہم نے گمراہ کیا۔ ہم نے انھیں ویسے ہی گمراہ کیا جیسے ہم خود گمراہ ہوئے، یعنی گمراہی کی دعوت دینے والوں کی دعوت پر جس طرح ہم اپنی مرضی سے گمراہ ہوئے اسی طرح ہم نے ان کے سامنے گمراہی پیش کی تو یہ اپنی مرضی سے گمراہ ہوئے، نہ ہم پر کسی نے جبر کیا تھا اور نہ ہم نے ان پر کوئی زبردستی کی۔
مَا كَانُوْٓا اِيَّانَا يَعْبُدُوْنَ : ہم ان کی گمراہی کی ذمہ داری سے بری ہیں۔ اللہ کے سوا جن کی بھی عبادت کی گئی، وہ نیک تھے یا بد، قیامت کے دن اپنی عبادت کرنے والوں سے بری ہوجائیں گے، بلکہ ان کے دشمن ہوں گے۔ دیکھیے سورة مریم (81، 82) ، احقاف (5، 6) ، عنکبوت (25) اور سورة بقرہ (166، 167)۔
: کیونکہ اللہ کے سوا کسی بھی شریک کی پیروی کرنے والے یا اسے پکارنے والے درحقیقت نہ کسی موجود چیز کو پکار رہے ہیں، نہ اس کی پیروی کر رہے ہیں، کیونکہ اللہ کے کسی شریک کا وجود ہے ہی نہیں، وہ محض اپنے خیال اور گمان کی پیروی کر رہے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (ااَلَآ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ ۭ وَمَا يَتَّبِعُ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَاۗءَ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ ھُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ) [ یونس : 66 ] ”سن لو ! بیشک اللہ ہی کے لیے ہے جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے اور جو لوگ اللہ کے غیر کو پکارتے ہیں وہ کسی بھی قسم کے شریکوں کی پیروی نہیں کر رہے۔ وہ پیروی نہیں کرتے مگر گمان کی اور وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اٹکلیں دوڑاتے ہیں۔“ اس لیے جنھیں شریک بنایا گیا تھا وہ صاف کہہ دیں گے کہ یہ ہماری پرستش نہیں کرتے تھے، بلکہ محض اپنے گمان کی پرستش کیا کرتے تھے اور ہمارے بندے نہیں بلکہ اپنے نفس کے بندے بنے ہوئے تھے۔
3 اس آیت میں یہ بات قابل غور ہے کہ سوال تو ان لوگوں سے ہوگا جنھوں نے شریک بنائے تھے، مگر بول وہ اٹھیں گے جنھیں شریک بنایا گیا تھا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ جب عام مشرکین سے سوال ہوگا تو پیشوا اور سردار سمجھ لیں گے کہ اب ہماری شامت آنے والی ہے، ہمارے یہ مرید اور پیروکار ضرور اپنی گمراہی کا ذمہ دار ہمیں ٹھہرائیں گے، اس لیے وہ پہلے ہی اپنی صفائی پیش کرنے لگیں گے۔
Ayah 28:64وَقِيْلَ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ۔۔ : یعنی پہلے ان سے کہا جائے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جو تم گمان کرتے تھے ؟ ابھی وہ اس کا کوئی جواب نہیں دے پائے ہوں گے کہ ان سے کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو مدد کے لیے بلاؤ۔ وہ انھیں پکاریں گے تو وہ انھیں جواب نہیں دیں گے۔ اس وقت مایوس ہو کر تمنا کریں گے، کاش ! وہ دنیا میں ہدایت قبول کرتے ہوتے۔ بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان فرمایا کہ شیاطین اور مشرکین جب اپنے شریکوں کے طور پر اللہ کے نیک بندوں کا نام لیں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو پکارو، وہ کچھ جواب نہ دیں گے، کیونکہ وہ ان کی مشرکانہ حرکتوں سے واقف تھے نہ ہی ان پر خوش تھے۔ عین اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے جہنم سامنے لا کر کھڑی کردی جائے گی، تو انھیں یقین ہوجائے گا کہ ہم اس میں گرائے جانے والے ہیں۔ دیکھیے سورة کہف (52، 53)۔
Ayah 28:65وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِيْنَ : یہ دوسرا سوال ہے جو نبوت کے متعلق ہے کہ جب میرے رسولوں نے تمہیں میرا پیغام پہنچایا اور اس پر چلنے کی ہدایت کی تو تم نے انھیں کیا جواب دیا۔ پہلا سوال توحید کے متعلق تھا، یہی دو سوال قبر میں ہوں گے، یعنی ”مَنْ رَبُّکَ ؟“ ”تیرا رب کون ہے ؟“ اور ”مَنْ نَبِیُّکَ ؟“ تیرا نبی کون ہے ؟“ اور تیسرا سوال یہ کہ ”مَا دِیْنُکَ ؟“ ”تیرا دین کیا ہے ؟“ مومن کا جواب ہوگا : ”رَبِّيَ اللّٰہُ وَ نَبِیِّيْ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَ دِیْنِيَ الإِْسْلَامُ“ ”میرا رب اللہ ہے، میر انبی محمد ﷺ ہے اور میرا دین اسلام ہے۔“ [ دیکھیے مسند البزار :
17؍154، ح : 9760۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : 6؍127، ح : 2628 ]
Ayah 28:66فَعَمِيَتْ عَلَيْهِمُ الْاَنْۢبَاۗءُ يَوْمَىِٕذٍ۔۔ :”عَمِيَ یَعْمٰی عَمًی“ (ع) کا معنی اندھا ہونا ہے۔ کہنا یہ تھا کہ ”فَعَمُوْا عَنِ الْأَنْبَاءِ یَوْمَءِذٍ“ کہ ”وہ اس دن خبروں سے اندھے ہوجائیں گے۔“ مبالغے کے لیے الٹ فرمایا کہ اس دن ان پر تمام خبریں تاریک ہوجائیں گی، یعنی یہ بات ان کی سمجھ ہی میں نہیں آئے گی کہ وہ اس سوال کا کیا جواب دیں، نہ ہی یہ ہو سکے گا کہ ایک دوسرے سے پوچھ کر اس سوال کا جواب دے دیں۔ اس وقت کی دہشت ہی اتنی زیادہ ہوگی کہ وہ ایک دوسرے سے کوئی بات پوچھ ہی نہیں سکیں گے۔
3 اس سوال سے پہلے قبر میں منکر نکیر کے سوالات کے جواب میں بھی کافر اور منافق یہی کہیں گے : (ھَاہْ ھَاہْ لَا أَدْرِيْ) ”ہائے ہائے، میں نہیں جانتا۔“ [ دیکھیے أبوداوٗد، السنۃ، باب المسألۃ في القبر۔۔ : 4753، عن البراء بن عازب۔ ، و صححہ الألباني ] یہ بھی خبروں کے تاریک ہوجانے ہی کا نتیجہ ہوگا۔
یہاں فرمایا : (فَهُمْ لَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ) ”وہ ایک دوسرے سے (بھی) نہیں پوچھیں گے۔“ دوسری جگہ فرمایا : (وَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ يَّتَسَاۗءَلُوْنَ) [ الصافات : 27 ] ”اور ان کے بعض بعض کی طرف متوجہ ہوں گے، ایک دوسرے سے سوال کریں گے۔“ اسی طرح یہاں فرمایا : ”وہ کچھ جواب نہ دیں سکیں گے۔“ دوسری جگہ فرمایا، وہ کہیں گے : (وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ) [ الأنعام : 23 ] ”اللہ کی قسم ! جو ہمارا رب ہے، ہم شریک بنانے والے نہ تھے۔“ اس ظاہری اختلاف کی حقیقت یہ ہے کہ قیامت کا دن بہت لمبا ہے۔ اس میں کفار پر کئی مرحلے آئیں گے، جن میں کبھی وہ خاموش رہیں گے، کبھی جرم سے انکار کریں گے، کبھی اقرار کریں گے اور کہیں گے ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی۔ کبھی ایک دوسرے سے سوال کریں گے اور کبھی ایک دوسرے سے سوال نہیں کرسکیں گے، اس لیے مقامات مختلف ہونے کی وجہ سے ان آیات میں کوئی حقیقی اختلاف نہیں ہے۔ مزید دیکھیے سورة انعام (22، 23)۔
Ayah 28:67فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ۔۔ : قرآن مجید میں کافر و مومن اور عذاب و ثواب دونوں کے بیان کا سلسلہ ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ یہاں کفر پر مرنے والوں کے ذکر کے بعد توبہ کر کے ایمان اور عمل صالح والوں کا ذکر فرمایا کہ امید ہے کہ یہ لوگ فلاح پانے والوں سے ہوں گے۔
3 یہاں مشہور سوال ہے کہ توبہ، ایمان اور عمل صالح والوں کے لیے فلاح کا وعدہ موجود ہے، جیسا کہ سورة بقرہ کے شروع میں مومنوں کی چند صفات ذکر کرنے کے بعد فرمایا : (اُولٰۗىِٕكَ عَلٰي ھُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ ۤ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ) [ البقرۃ : 5 ] ”یہ لوگ اپنے رب کی طرف سے بڑی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ پورے کامیاب ہیں۔“ پھر یقین کے بجائے ”فعسی“ (سو امید ہے) کا کیا مطلب ہے ؟ اس کے دو جواب ہیں، ایک یہ کہ یہ شاہانہ انداز بیان ہے۔ عام بادشاہ کسی چیز کی امید دلا دیں تو اسے پورا کرتے ہیں، تو شاہوں کا شاہ ملک الملوک امید دلائے تو کیسے ہوسکتا ہے کہ پوری نہ کرے، یہ اس کی شان ہی کے خلاف ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ ”فعسی“ (سو امید ہے) اس توبہ، ایمان اور عمل صالح والے شخص کے اعتبار سے ہے کہ اسے یہ امید رکھنی چاہیے، کیونکہ یقین تو تب ہو جب اسے قبولیت کی سند مل جائے۔