Ayah 28:68وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ وَيَخْتَارُ : قیامت کے دن مشرکین کی رسوائی اور ان کے شرکاء کی بےبسی کے اظہار کے بعد اللہ تعالیٰ کی توحید کا اور اس کے چند دلائل کا ذکر فرمایا۔ چناچہ فرمایا : ”تیرا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جس چیز کو یا جس شخص کو چاہتا ہے چن لیتا ہے۔“ ظاہر ہے جس نے پیدا کیا وہی چنے گا۔ جس کا پیدا کرنے میں کوئی حصہ ہی نہیں، کسی چیز یا شخص کے انتخاب میں اس کا کیا دخل ہوسکتا ہے۔ پھر کسی چیز یا شخص کو چننا صرف اسی کی مشیت پر موقوف ہے، نہ اس میں کسی کا مشورہ چلتا ہے، نہ کسی چیز یا شخص کی خوبی کی وجہ سے اسے چننا اس پر لازم ہے، کیونکہ : (لَا يُسْــَٔـلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْــَٔــلُوْنَ) [ الأنبیاء : 23 ] ”اس سے نہیں پوچھا جاتا اس کے متعلق جو وہ کرے اور ان سے پوچھا جاتا ہے۔“ اس نے چاہا تو عرش کو برتری بخشی، کعبہ کو قبلہ بنایا، انبیاء کو نبوت بخشی، محمد ﷺ کو سید ولد آدم بنایا، مہاجرین و انصار کو محمد ﷺ کی صحبت کے لیے چنا، خلفائے اربعہ کو تمام صحابہ پر برتری بخشی، کوئی کہہ نہیں سکتا کہ نبوت فلاں کو کیوں نہیں ملی، جیسے کفار نے کہا تھا : (وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ) [ الزخرف : 31 ] ”یہ قرآن ان دو بستیوں (مکہ اور طائف) میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا ؟“ جواب میں فرمایا : (اَهُمْ يَــقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ) [ الزخرف : 32 ] ”کیا تیرے رب کی رحمت وہ تقسیم کرتے ہیں۔“
مَا كَانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ : بندوں کے پاس یہ اختیار کبھی بھی نہ تھا، نہ ہے کہ وہ اپنی مرضی سے جسے چاہیں چن لیں، (کَان میں نفی کا استمرار ہے) پھر ان مشرکین کو یہ اختیار کہاں سے مل گیا کہ رب تعالیٰ کے بندوں کو رب تعالیٰ کے اختیارات کا مالک بنادیں، جو اس نے کسی کو دیے ہی نہیں، نہ ان اختیارات کا مالک اس کے سوا کوئی ہوسکتا ہے۔ آخر انھیں کس نے یہ اختیار دیا کہ اس کے بندوں میں سے جسے چاہیں مشکل کشا بنالیں، جسے چاہیں داتا (رزاق) ، گنج بخش، فریاد رس یا دستگیر قرار دے دیں۔ اولاد، رزق، فتح و شکست، عزت و ذلت، شفا و مرض، زندگی اور موت کے محکمے، جو اس نے کسی کو دیے ہی نہیں، اپنے بنائے ہوئے شریکوں میں تقسیم کرتے پھریں۔
3 اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض لوگ جو کہتے ہیں کہ انبیاء یا اولیاء کو یہاں تک اختیار حاصل ہوجاتا ہے کہ وہ کمان سے نکلا ہوا تیر بھی واپس لے آتے ہیں اور تقدیر کا لکھا تک مٹا دیتے ہیں، یا بدل دیتے ہیں، جسے چاہتے ہیں نواز دیتے ہیں، جسے چاہتے ہیں راندۂ درگاہ بنا دیتے ہیں، یہ سب کفریہ باتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کسی کے پاس یہ اختیار ذاتی طور پر ہے، نہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو یہ اختیار دیا ہے، فرمایا : (مَا كَانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ) ”ان کے لیے کبھی بھی اختیار نہیں۔“
سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ : یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کے پاس اختیار ہونا اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے عیب ہے کہ وہ اکیلا سب کچھ کرنے پر قادر نہیں اور اس کی شان کو گرا دینے والی بات ہے، اس لیے فرمایا : ”اللہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ شریک بناتے ہیں۔“ ”عَلَا یَعْلُوْ عُلْوًا“ (بلند ہونا) اور ”تَعَالٰی یَتَعَالٰی تَعَالِیًا“ (بہت بلند ہونا)۔ معلوم ہوا کہ اس کارخانۂ قدرت میں کسی بندے کو، چاہے وہ ولی یا پیغمبر ہی کیوں نہ ہو، کوئی اختیار نہیں ہے۔ تمام اختیارات صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ ”سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ“ کے الفاظ اکٹھے قرآن میں صرف اسی ایک مقام پر آئے ہیں۔
3 دنیا میں بندے کو عمل کرنے یا نہ کرنے کا جو اختیار دیا گیا ہے، جس پر اسے ثواب یا عذاب ہوگا، اس کے اوپر بھی اللہ تعالیٰ ہی کا اختیار ہے۔ اس لیے یہ کہنا حق ہے کہ مخلوق کو کوئی اختیار نہیں۔ قرآن و حدیث کے مطابق یہ دو باتیں ماننا ضروری ہیں، ایک یہ کہ بندے کو اسباب کے تحت بعض اشیاء میں اختیار دیا گیا ہے، چاہے تو کفر کا راستہ اختیار کرے اور چاہے تو شکر کا۔ وہ مجبور محض نہیں کہ کسی عمل میں اسے کسی طرح کا اختیار بھی نہ ہو، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا) [ الدھر : 3 ] ”بلاشبہ ہم نے اسے راستہ دکھایا، خواہ وہ شکر کرنے والا بنے اور خواہ ناشکرا۔“ دوسری بات یہ کہ بندے کو یہ اختیار بھی اللہ تعالیٰ کے اختیار کے تحت ہے، وہ نہ چاہے تو بندہ نہ کوئی ارادہ کرسکتا ہے نہ عمل۔ جیسا کہ سورة دہر میں فرمایا : (وَمَا تَشَاۗءُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا) [ الدھر : 30 ] ”اور تم نہیں چاہتے مگر یہ کہ اللہ چاہے، یقیناً اللہ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔“ یہ اللہ کی تقدیر ہے، جس پر ایمان رکھنا لازم ہے، جو اس پر ایمان نہ رکھے مومن نہیں۔ رہی یہ بات کہ ایسا کیوں ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ مالک ہے جو چاہے کرے، نہ کسی کو اس سے پوچھنے کا حق ہے نہ اختیار، جیسا کہ فرمایا : (لَا يُسْــَٔـلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْــَٔــلُوْنَ) [ الأنبیاء : 23 ] ”اس سے نہیں پوچھا جاتا اس کے متعلق جو وہ کرے اور ان سے پوچھا جاتا ہے۔“ مگر یہ بات یقینی ہے کہ اس کا ہر کام علم و حکمت پر مبنی ہے۔ مخلوق کو اس کے علم اور حکمت تک رسائی نہ ہے نہ ہوسکتی ہے، اس لیے اسے اپنی اوقات میں رہنا لازم ہے۔
Ayah 28:69وَرَبُّكَ يَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ۔۔ : ”أَکَنَّ یُکِنُّ إِکْنَانًا“ چھپانا۔ پچھلی آیت میں مذکور اختیار اور قدرت علم کے بغیر ممکن ہی نہیں، اس لیے فرمایا : ”تیرا رب جانتا ہے جو ان کے سینے چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں۔“ یعنی قدرت و اختیار کا مالک بھی وہی ہے اور پوشیدہ اور ظاہر کا علم بھی اسی کے پاس ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ سینوں کی چھپی ہوئی بات جاننا تو واقعی اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے، مخلوق کو اس کی خبر نہیں ہوسکتی، مگر جو کچھ لوگ علانیہ کرتے یا کہتے ہیں اسے جاننا تو آدمی کے لیے بھی کچھ مشکل نہیں۔ جواب اس کا یہ ہے کہ سینوں کی چھپی ہوئی بات تو پھر بھی بعض اوقات کسی اشارے کنائے سے کچھ نہ کچھ معلوم ہوجاتی ہے، مگر ایک ہی وقت میں سب لوگ جو کر رہے ہیں یا کہہ رہے ہیں، اسے رب العالمین کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔ اگر کوئی سنے گا تو اسے ایک شور کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ دوسری جگہ فرمایا : (سَوَاۗءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ) [ الرعد : 10 ] ”برابر ہے تم میں سے جو بات چھپا کر کرے اور جو اسے بلند آواز سے کرے اور وہ جو رات کو بالکل چھپا ہوا ہے اور (جو) دن کو ظاہر پھرنے والا ہے۔“
Ayah 28:70وَهُوَ اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ : اور وہ جس نے جو چاہا پیدا کیا اور پیدا کرتا ہے اور جو چاہے اختیار کرتا ہے، جو سینوں کی چھپائی ہوئی باتوں کو اور علانیہ کیے جانے والے کاموں کو جانتا ہے وہی اللہ ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ کیونکہ یہ صفات کسی اور میں ہیں ہی نہیں، پھر کوئی اس کا شریک کیسے بن گیا ؟ !
لَهُ الْحَمْدُ فِي الْاُوْلٰى وَالْاٰخِرَةِ : دنیا اور آخرت میں تعریف جو بھی ہے اور جس کی بھی ہے سب اس اکیلے کی ہے، کیونکہ جو تعریف ہوگی کسی نہ کسی خوبی پر ہوگی اور خوبی جو بھی ہے اور جس میں ہے سب اس کی عطا کردہ ہے۔ سو تعریف جس کی بھی کی جائے اصل میں اسی کی ہوگی۔ اس کے علاوہ دنیا اور آخرت میں اس نے جو کچھ کیا یا کر رہا ہے یا کرے گا سب محمود ہی محمود ہے۔ اس کی بات یا اس کا کام ایک بھی ایسا نہیں جس کی مذمت کی جاسکے۔ اس لیے مومن دنیا میں بھی اسی کی حمد کرتے ہیں۔ اور آخرت میں بھی اسی کی حمد کریں گے۔ دیکھیے سورة زمر (74، 75)۔
وَلَهُ الْحُكْمُ : حکم کی دو قسمیں ہیں، ایک تکوینی حکم اور ایک تشریعی۔ تکوینی حکم کا مطلب ”کُنْ“ کہنا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّمَآ اَمْرُهٗٓ اِذَآ اَرَادَ شَـيْـــــًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ) [ یٰس : 82 ] ”اس کا حکم تو، جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے، اس کے سوا نہیں ہوتا کہ اسے کہتا ہے ”ہوجا“ تو وہ ہوجاتی ہے۔“ یہ حکم صرف اس کا ہے، کسی اور میں یہ قدرت ہے نہ اختیار، فرمایا : (وَاللّٰهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ ۭ وَهُوَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ) [ الرعد : 41 ] ”اور اللہ فیصلہ فرماتا ہے، اس کے فیصلے پر کوئی نظر ثانی کرنے والا نہیں اور وہ جلد حساب لینے والا ہے۔“ دوسرا حکم تشریعی ہے، یعنی اس نے اپنے بندوں کو جو کچھ کرنے یا نہ کرنے کا حکم دیا ہے یہ بھی صرف اس کا حق ہے، کسی دوسرے کو یہ حق دینا اسے اللہ کا شریک بنانا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اَمْ لَهُمْ شُرَكٰۗؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ ۭ) [ الشورٰی : 21 ] ”یا ان کے لیے کچھ ایسے شریک ہیں جنھوں نے ان کے لیے دین کا وہ طریقہ مقرر کیا ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی۔“
وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ : یعنی مرنے کے بعد تم اپنے بنائے ہوئے کسی مشکل کشا، حاجت روا، داتا، دستگیر، گنج بخش یا غریب نواز کی طرف نہیں بلکہ اس اکیلے کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور وہی تمہارا حساب کر کے نیک کو نیکی کا اور بد کو بدی کا بدلا دے گا، اس لیے اس کے ساتھ کسی کو شریک بنا کر اپنی جان پر ظلم مت کرو۔
Ayahs 28:71–72قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَيْكُمُ الَّيْلَ۔۔ :”اَرَءَيْتُمْ“ کا لفظی معنی ہے ”کیا تم نے دیکھا۔“ عرب اسے ”أَخْبِرُوْنِيْ“ (مجھے بتاؤ) کے معنی میں استعمال کرتے ہیں، یعنی تم نے دیکھا ہے تو بتاؤ۔ اللہ تعالیٰ کی توحید کی ایک اور دلیل اور اس کی نعمتوں میں سے ایک اور نعمت، جس پر وہ حمد کا مستحق ہے، رات دن کا بدلنا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ) [ آل عمران : 190 ] ”بیشک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے بدلنے میں عقلوں والوں کے لیے یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں۔“ فرمایا : ”یہ بتاؤ کہ اگر اللہ تعالیٰ تم پر قیامت کے دن تک ہمیشہ رات کر دے تو اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو تمہارے پاس کوئی روشنی لے آئے، خواہ کسی قسم کی ہو یا کتنی معمولی ہو۔“ (بِضِيَاۗءٍ کی تنوین تنکیر و تقلیل کے لیے ہے) یہاں اللہ تعالیٰ نے ”اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ“ (تو کیا تم سنتے نہیں) ذکر فرمایا، جب کہ اگلی آیت میں ”ۭ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ“ (تو کیا تم نہیں دیکھتے) فرمایا۔ ابن ہبیرہ نے فرمایا : ”اس کی حکمت یہ ہے کہ سمع کی سلطنت رات کو ہوتی ہے اور بصر کی دن کو (رات کی تاریکی میں کان سنتے ہیں، آنکھ نہیں دیکھتی اور دن کی روشنی کے ذریعے سے آنکھ دیکھتی ہے، کان نہیں سنتے)۔“ (بقاعی) یعنی رات کی اس تاریکی میں، جو ہمیشہ کے لیے قیامت تک مسلط ہو، یہ بات تمہارے کان سن سکتے ہیں کہ اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو تمہارے پاس کسی بھی طرح کی تھوڑی سے تھوڑی روشنی ہی لے آئے ؟ تو کیا تم سنتے نہیں کہ سن کر سمجھو اور سمجھ کر اللہ کی توحید پر ایمان لے آؤ۔ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ تم پر قیامت کے دن تک ہمیشہ کے لیے دن کر دے تو اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو تمہارے پاس کوئی رات لے آئے جس میں تم راحت اور سکون پاسکو۔
3 ان آیات میں رات کا ذکر دن سے پہلے فرمایا، کیونکہ رات کے بعد دن آنے کی نعمت بہت بڑی نعمت ہے۔ انسان کی معیشت کا سارا سلسلہ اسی پر موقوف ہے۔ علاوہ ازیں رات ایک طرح کا عدم ہے اور ضیاء وجود اور ظاہر ہے کہ عدم وجود سے پہلے ہے۔
Ayah 28:73وَمِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ۔۔ : یعنی اسی نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات دن کی صورت میں راحت و سکون اور معیشت کے اسباب و وسائل مہیا کیے، تاکہ تم اس کی نعمتوں کا شکر بجا لاؤ، مگر تم نے شکر ادا کرنے کے بجائے اس کے لیے شریک بنانے شروع کردیے۔ معلوم ہوا کہ فطری طریق یہی ہے کہ انسان دن کو کام کرے اور رات کو آرام اور عموماً ہوتا بھی ایسا ہی ہے، پھر دونوں وقت دونوں کام ہوتے ہیں۔
Ayah 28:74وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ۔۔ : توحید کے مزید دلائل ذکر کرنے کے بعد وہی مضمون دہرایا جو اوپر گزرا ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرکین کو آواز دے کر کہے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک جنھیں تم گمان کرتے تھے ! ؟ بار بار یہ کہنے کا مقصد انھیں ڈانٹنا، ذلیل و رسوا کرنا اور ان کی اور ان کے شرکاء کی بےبسی کا اور شرک کے باطل ہونے کا اظہار ہوگا۔ پھر کبھی وہ اس بات سے انکار کریں گے کہ وہ کسی شریک کی عبادت کرتے تھے (دیکھیے انعام : 22 تا 24) ، کبھی اپنے جھوٹے معبودوں کو پکاریں گے اور کوئی جواب نہ پائیں گے اور کبھی مایوس ہو کر خاموش ہو رہیں گے۔
Ayah 28:75وَنَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًا : اس گواہ سے مراد وہ نبی ہے جس نے کسی امت کو حق کا پیغام پہنچایا اور اس کی امت کے وہ لوگ بھی جنھوں نے پیغمبر کے بعد لوگوں کو دین کی تبلیغ کی۔ اسی طرح ہر وہ ذریعہ بھی جس سے کسی قوم یا شخص تک حق کا پیغام پہنچا۔ وہ گواہ گواہی دے گا کہ میں نے ان لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچایا تھا۔ دوسری جگہ فرمایا : (وَجِايْۗءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ) [ الزمر : 69 ] ”اور نبیوں اور گواہوں کو لایا جائے گا اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔“
فَقُلْنَا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ۔۔ : اس گواہی کے بعد مجرموں کو موقع دیا جائے گا کہ وہ اس کے خلاف کوئی عذر پیش کرسکتے ہیں تو کریں اور جب وہ کوئی عذر پیش نہیں کرسکیں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ تم اللہ کا پیغام پہنچنے کے بعد جو شرک ہی پر قائم رہے، اس کی تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو پیش کرو۔ تو اس وقت انھیں معلوم ہوجائے گا کہ سچی بات اللہ کی ہے، عبادت اسی کا حق ہے، کوئی اس کا شریک نہیں اور انھوں نے جو شریک بنائے تھے اور دنیا میں جو حجت بازی کرتے تھے، سب کچھ ان سے گم ہوجائے گا، نہ کوئی شریک ہاتھ آئے گا نہ اسے شریک بنانے کی کوئی دلیل پیش کرسکیں گے۔
Ayah 28:76اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰي۔۔ : کفار مکہ کے ایمان قبول نہ کرنے کا بہت بڑا باعث ان کے مالی اور دنیوی مفادات تھے، جس کا اظہار انھوں نے یہ کہہ کر کیا : (اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا) [ القصص : 57 ] ”اگر ہم تیرے ہمراہ اس ہدایت کی پیروی کریں تو ہم اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے۔“ یہ لوگ بہت بڑے سیٹھ، ساہو کار اور سرمایہ دار تھے، جنھیں بین الاقوامی تجارت نے قارون وقت بنادیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس بہانے کو کئی طرح سے دور فرمایا، جس میں انھیں حرم کی بدولت حاصل نعمتوں کا تذکرہ بھی ہے، اپنی معیشت پر متکبر قوموں کی ہلاکت کا بھی اور اس بات کا بھی کہ دنیا میں تمہیں جو کچھ دیا گیا ہے وہ صرف دنیا کی زندگی کا سامان اور اس کی زینت ہے۔ اس کی وجہ سے آخرت کا نقصان نہ کرو، جو اس سے کہیں بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ درمیان میں قیامت کے دن مشرکوں کا حال اور توحید کے کچھ دلائل ذکر فرمائے۔ آخر میں قارون، اس کے مال و دولت، اس کے کفر و تکبر اور اس کے انجام بد کا ذکر فرمایا کہ دنیا کی دولت ایسی چیز نہیں کہ اس کی خاطر آدمی ایمان کی دولت اور ہمیشہ کی سعادت سے محروم رہے۔
اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰي : قرآن مجید نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ قارون موسیٰ ؑ کی قوم سے تھا اور اپنی قوم کے خلاف فرعون کا ساتھی بنا ہوا تھا، جیسے تمام ظالم بادشاہ کسی قوم پر ظلم و ستم کے لیے اسی قوم کے کسی آدمی کو مال و دولت اور عہدہ و مرتبہ دے کر اپنا آلۂ کار بناتے ہیں۔ بعض تفسیروں میں لکھا ہے کہ یہ تورات کا حافظ تھا اور بہت خوب صورت آواز سے تورات پڑھتا تھا، مگر اندر سے منافق تھا۔ لیکن قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کفر میں اتنا پکا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو جھٹلانے والوں میں فرعون کے ساتھ جن دو آدمیوں کا نام لیا ہے ان میں سے ایک قارون تھا، جیسا کہ فرمایا : (وَلَـقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ وَقَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ) [ المؤمن : 23، 24 ] ”اور بلاشبہ یقیناً ہم نے موسیٰ کو اپنی آیات اور واضح دلیل کے ساتھ بھیجا۔ فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف تو انھوں نے کہا، جادوگر ہے، بہت جھوٹا ہے۔“ (مزید دیکھیے عنکبوت : 39) اس کے مطابق اس کے تورات کا عالم یا منافق ہونے کی بات درست نہیں۔
فَبَغٰى عَلَيْهِمْ ۠ : اس سے بڑی سرکشی کیا ہوگی کہ وہ اپنی ہی قوم کے خلاف ایسے شخص کا دست و بازو بن گیا جو ان کے لڑکے ذبح کرتا تھا، ان کی عورتوں کو زندہ رکھتا اور انھیں بدترین سزائیں دیتا تھا۔
وَاٰتَيْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ۔۔ : اس سے معلوم ہوا کہ ظالموں کو جو مال ملتا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی عطا کرتا ہے، جس میں ان کی آزمائش اور ان پر حجت پوری کرنے کی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔ ”اَلْعُصْبَۃُ“ غیر معین آدمیوں کی جماعت۔ اسے ”عُصْبَۃٌ“ اس لیے کہتے ہیں کہ ان کا ہر فرد دوسرے کے لیے قوت کا باعث ہوتا ہے۔ عرف میں دس سے لے کر چالیس آدمیوں کی جماعت کو کہتے ہیں۔ ”مَفَاتِحُ“ ”مِفْتَحٌ“ کی جمع ہے، چابیاں۔ یعنی ہم نے قارون کو اتنے خزانے دیے تھے جن سے بھرے ہوئے کمروں کے تالوں کی چابیاں ایک قوت والی جماعت پر اٹھانے میں بھاری تھیں۔ تفاسیر میں ان خزانوں کی عجیب و غریب تفصیل مذکور ہے، جس کی تصدیق کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں۔ صاحب کشّاف نے فرمایا : ”اس کے اموال کی کثرت کے بیان میں مبالغے کے کئی الفاظ استعمال ہوئے ہیں، یعنی ”اَلْکُنُوْزُ ، اَلْمَفَاتِحُ ، اَلنَّوْءُ (بھاری ہونا) اَلْعُصْبَۃُ ، أُوْلِی الْقُوَّۃِ“ اس سے ان اموال کا بہت زیادہ ہونا ثابت ہو رہا ہے۔“
اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ۔۔ : انسان کو اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں سے نوازے تو وہ ان پر پھول جاتا ہے، اس کی گفتگو، اس کا لباس، اس کی چال ڈھال، اس کے رنگ ڈھنگ، غرض اس کی ایک ایک ادا سے کبر و غرور ٹپکنے لگتا ہے۔ یہی حال قارون کا ہوا، بنی اسرائیل کے نیک بزرگ اور عالم لوگوں نے اسے سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے دولت دی ہے تو اپنے آپ میں رہ، اسے اللہ کی نافرمانی میں خرچ مت کر اور پھول مت جا، اللہ تعالیٰ پھول جانے والوں سے محبت نہیں کرتا۔
Ayah 28:77وَابْتَغِ فِيْمَآ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ : اور اللہ تعالیٰ نے تجھے جو کچھ عطا فرمایا ہے اس کے ذریعے سے آخری گھر یعنی جنت حاصل کرنے کی کوشش کر۔
وَلَا تَنْسَ نَصِيْبَكَ مِنَ الدُّنْيَا : یعنی مت بھول کہ دنیا جو تجھے عطا کی گئی ہے، اس میں تیرا حصہ کیا ہے۔ اس کی بہترین تفسیر وہ حدیث ہے جو ابوہریرہ ؓ نے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (یَقُوْلُ الْعَبْدُ مَالِيْ مَالِيْ إِنَّمَا لَہُ مِنْ مَّالِہِ ثَلَاثٌ، مَا أَکَلَ فَأَفْنٰی أَوْ لَبِسَ فَأَبْلٰی أَوْ أَعْطٰی فَاقْتَنٰی وَمَا سِوَی ذٰلِکَ فَہُوَ ذَاہِبٌ وَ تَارِکُہُ للنَّاسِ) [ مسلم، الزھد، باب ”الدنیا سجن للمؤمن و جنۃ للکافر“ : 2959 ] ”بندہ کہتا ہے میرا مال، میرا مال، حالانکہ اس کے مال میں اس کی تو صرف تین چیزیں ہیں، جو اس نے کھایا اور فنا کردیا، یا پہنا اور پرانا کردیا، یا (اللہ کی راہ میں) دیا اور ذخیرہ بنا لیا اور جو اس کے سوا ہے تو یہ اسے لوگوں کے لیے چھوڑ کر (دنیا سے) جانے والا ہے۔“ بعض مفسرین نے فرمایا، کسی چیز میں آدمی کا حصہ وہ نہیں ہوتا جو اس سے جدا ہوجائے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو اس کے ساتھ رہے۔ اس کے مطابق دنیا میں سے آدمی کا حصہ وہ نیکی ہے جو آخرت میں اس کے ساتھ جائے۔ اور بعض مفسرین نے فرمایا، دنیا میں سے آدمی کے حصے سے مراد اس کا کفن ہے، کیونکہ اس کے سوا وہ کوئی چیز ساتھ لے کر نہیں جاتا
نَصِیْبُکَ مِمَّا تَجْمَعُ الدَّھْرَ کُلَّہُ
رِدَاءَانِ تُلْوٰی فِیْھِمَا وَ حَنُوْطُ
”ساری عمر تو جو کچھ جمع کرے گا اس میں سے تیرا حصہ دو چادریں ہیں، جن میں تجھے لپیٹا جائے گا اور مردے کو لگائی جانے والی خوشبو ہے۔“
ایک تفسیر جو اکثر مفسرین نے بیان فرمائی ہے، یہ ہے کہ مال کا حریص بعض اوقات بخل کی اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ اپنی جان پر بھی خرچ کرنے سے گریز کرتا ہے، اپنے کھانے، پہننے اور دوسری ضروریات میں بھی بخل سے کام لیتا ہے۔ قارون کو بزرگوں نے نصیحت کی کہ دنیا میں اپنے حصے کو مت بھول، اپنی جان پر بھی ضرورت کے مطابق خرچ کر۔ یہ چاروں تفسیریں درست ہیں اور ایک دوسرے کی تائید کرتی ہیں۔
وَاَحْسِنْ كَمَآ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَيْكَ : یعنی جیسے اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ احسان (بہترین سلوک) کیا ہے، یہ مال و دولت اور شان و شوکت تجھے کسی بدلے کے بغیر عطا کی ہے، اسی طرح تو بھی اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کر، یعنی ان سے کسی صلے کی خواہش کے بغیر بہترین سلوک کر۔ احسان کی یہ تفسیر اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندے کو جو کچھ دیا ہے کسی بدلے کے بغیر دیا ہے۔ والدین کے ساتھ بھی اسی احسان کا حکم ہے، فرمایا : (وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا) [ بني إسرائیل : 23 ] ”اور ماں باپ کے ساتھ بہت اچھا سلوک کر۔“ کیونکہ بڑھاپے میں ان سے کسی صلے کی توقع نہیں ہوتی۔ احسان کی تفسیر حدیث میں یہ بھی آئی ہے : (أَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ فَإِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَإِنَّہُ یَرَاکَ) [ بخاري، الإیمان، باب سؤال جبریل النبي ﷺ۔۔ : 50 ] ”اللہ کی عبادت اس طرح کرے جیسے تو اسے دیکھ رہا ہے، پھر اگر تو اسے نہیں دیکھتا تو وہ تجھے دیکھتا ہے۔“ اس تفسیر کے مطابق مطلب یہ ہوگا کہ جیسے اللہ نے تیرے ساتھ بہترین سلوک کیا ہے تو بھی اس کے ساتھ بہترین معاملہ رکھ کہ ہر وقت اور ہر کام میں اسے پیش نظر رکھ اور اپنے ہر حال پر اس کی نگرانی کو اس طرح مدنظر رکھ کہ تیرا ہر کام اور تیری ہر حرکت اس کی رضا کے مطابق ہو، یہ احسان ہے۔
وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْاَرْضِ۔۔ : زمین میں ہر خرابی اور ہر فساد اللہ کے ساتھ شرک اور اس کی اور اس کے رسول کی نافرمانی سے پیدا ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ) [ الروم : 41 ] ”خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہوگیا، اس کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا۔“ قوم کے دانش مند لوگوں نے قارون کو زمین میں فساد کی کوشش سے منع کیا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ مفسدوں سے محبت نہیں رکھتا۔
Ayah 28:78قَالَ اِنَّمَآ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰي عِلْمٍ عِنْدِيْ : اس نے کہا اللہ کا مجھ پر کوئی احسان نہیں، یہ سب کچھ تو مجھے صرف اس علم کی وجہ سے دیا گیا ہے جو میرے پاس ہے۔ یہ اس طرح کی بات ہے جیسے آج کل کے دہر یہ سائنس دان کہتے ہیں کہ ہماری تمام تر ترقی ہمارے علوم کی وجہ سے ہے، اللہ تعالیٰ کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ یہ عقل، ذہانت اور مہارت عطا کرنے والا کون ہے ؟ دوسری تفسیر یہ ہے کہ ”عندی“ کو ”علم“ کے متعلق ماننے کے بجائے ”اُوْتِيْتُهٗ“ کے متعلق مانا جائے، اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ ”میرے نزدیک یہ سب کچھ مجھے اللہ تعالیٰ کے میرے اعمال و اوصاف کو جاننے کی بنا پر ملا ہے۔“ یعنی اسے معلوم تھا کہ میں اس قابل ہوں، اگر میں اس کی نگاہ میں ناپسندیدہ ہوتا تو وہ مجھے یہ مال کیوں دیتا۔
3 وہ علم جو قارون کو دیا گیا تھا، کیا تھا ؟ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ علم کیمیا تھا، جس کے ساتھ وہ سونا بنا لیتا تھا، مگر اس کی کوئی دلیل نہیں۔ اللہ تعالیٰ بندے کو تجارت، صنعت، زراعت، غرض جس ذریعے سے بھی رزق دے وہ اس ذریعے کو رزق کا باعث قرار دے لیتا ہے اور اس مالک کو بھول جاتا ہے جس نے اس کے لیے اس علم و ہنر کو ذریعہ بنایا۔
اَوَلَمْ يَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ۔۔ : یعنی یہ شخص جو اپنے علم و ہنر پر اس قدر مغرور تھا، کیا اسے معلوم نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے اس سے زیادہ قوت اور زیادہ جمع شدہ مال اور زیادہ جماعتوں والے لوگوں کو ہلاک کردیا ؟ ان کا علم و ہنر انھیں ہلاک ہونے سے نہ روک سکا، تو اس کا وہ علم جس پر اسے ناز ہے اسے ہلاک ہونے سے کیسے بچا سکے گا ؟ اور اگر دنیا میں زیادہ مال و دولت اور زیادہ طرف داروں کا ہونا اللہ تعالیٰ کے خوش ہونے کی دلیل ہے تو پھر ان لوگوں پر عذاب کیوں آیا جو اس سے زیادہ قوت والے اور زیادہ تعداد والے تھے ؟
وَلَا يُسْـَٔــلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ : یعنی مجرم تو یہی دعویٰ کیا کرتے ہیں کہ ہم بہت اچھے لوگ ہیں، مگر جب ان پر جرم ثابت ہوجاتا ہے اور اللہ کا عذاب آتا ہے تو ان سے پوچھ کر انھیں نہیں پکڑا جاتا کہ تمہارے گناہ کیا ہیں۔
3 دوسرے مقام پر جو فرمایا ہے : (فَوَرَبِّكَ لَنَسْــَٔـلَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ) [ الحجر : 92، 93 ] (سو تیرے رب کی قسم ہے ! یقیناً ہم ان سب سے ضرور سوال کریں گے، اس کے بارے میں جو وہ کیا کرتے تھے) تو وہ اس آیت کے منافی نہیں، کیونکہ قیامت کا دن بہت لمبا ہے۔ مجرموں کو ہلاک کرنے کے وقت ان سے ان کے گناہوں کے بارے میں نہیں پوچھا جاتا، ہاں دوسرے مقامات اور مواقع پر ان سے سوال کیا جاتا ہے۔
Ayah 28:79فَخَـــرَجَ عَلٰي قَوْمِهٖ فِيْ زِيْنَتِهٖ : قارون نے مال و دولت پر اپنے کبرو غرور کے زبانی اظہار کو کافی نہیں سمجھا، بلکہ اس نے لوگوں کے سامنے اس کی نمائش کا بھی اہتمام کیا۔ ”فِيْ زِيْنَتِهٖ“ (اپنی زینت میں) کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ اس نے اس موقع پر اپنی دولت و حشمت کا کیا کچھ اہتمام کیا ہوگا۔ اس طرح وہ موسیٰ ؑ اور ان کے ساتھیوں کو مرعوب کرنا چاہتا تھا، تاکہ ان میں سے کچھ لوگ ٹوٹ کر اس سے آ ملیں، کیونکہ عوام کی اکثریت ایسے مظاہروں سے متاثر ہوتی ہے۔ تفاسیر میں اس کی زینت کی کچھ تفصیل بیان ہوئی ہے، مگر اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس کا تانا بانا اسرائیلی روایات ہیں، مثلاً تفسیر طبری میں ہے کہ قتادہ نے فرمایا : ”ہمیں بتایا گیا ہے کہ وہ لوگ چار ہزار سواریوں پر نکلے، ان پر اور ان کی سواریوں پر ارغوانی (شوخ گلابی) رنگ تھا۔“ ابن زید نے کہا : ”میرے والد ذکر کیا کرتے تھے کہ وہ ستر ہزار کے جلوس کے ساتھ نکلا۔“ مراغی نے مقاتل کا قول نقل کیا ہے کہ وہ چتکبرے خچر پر سوار تھا، جس کی زین سونے کی تھی، ساتھ چار ہزار گھڑ سوار تھے، جنھوں نے ارغوانی لباس پہنے ہوئے تھے۔ اس کے ساتھ تین سو گورے رنگ کی لڑکیاں تھیں، جو زیور اور سرخ لباس پہن کر چتکبرے خچروں پر سوار تھیں وغیرہ وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ قتادہ وہاں موجود تھے، نہ زید، نہ مقاتل اور نہ ان کے پاس وحی کے ذریعے سے یہ تفصیل آئی۔ ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ جس شخص کے خزانوں کی چابیاں ایک قوت والی جماعت پر بھاری ہوتی تھیں اس نے اپنی دولت اور شان و شوکت کے اظہار میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہوگی۔ چناچہ اس نے ایسا متکبرانہ انداز اختیار کیا جو اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند تھا۔
قَالَ الَّذِيْنَ يُرِيْدُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا۔۔ : وہ لوگ جن کی زندگی کا مقصد ہی دنیا اور اس کی زیب و زینت کا حصول ہے، قارون کی شان و شوکت دیکھ کر کہنے لگے، کاش ! ہمیں بھی یہ سب کچھ ملا ہوتا جو قارون کو دیا گیا ہے، یقیناً وہ بہت بڑے نصیب والا ہے۔ یہ لوگ بنی اسرائیل کے عوام بھی ہوسکتے ہیں، کیونکہ دنیوی خوش حالی کی خواہش ہر دل میں موجود ہے اور فرعون کی قوم کے لوگ بھی۔ ان لوگوں کی اس تمنا کی مثالیں اب بھی ہمیں ہر جگہ نظر آتی ہیں۔ مردوں کو دیکھو یا عورتوں کو، جوانوں کو دیکھو یا بوڑھوں کو، ہر ایک دنیوی ترقی کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ ہر ایک نے کوئی نہ کوئی تمنا پال رکھی ہے کہ کاش ! میرا مکان فلاں جیسا ہو، میری سواری فلاں جیسی ہو، میرا کاروبار فلاں جیسا ہو، پھر اس تمنا کے حصول کے لیے نہ اسے حلال کی پروا ہے نہ حرام کی۔ قرآن نے یہ مثالیں صرف داستان طرازی کے لیے بیان نہیں فرمائیں، بلکہ یہ سب کچھ ہمیں ایسے رویے کے بد انجام سے آگاہ کرنے کے لیے بیان فرمایا ہے۔
Ayah 28:80وَقَالَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ۔۔ : وہ لوگ جنھیں علم دیا گیا تھا، کہنے لگے، افسوس تم پر ! اللہ کی نافرمانی کے ساتھ حاصل ہونے والی اس زیب و زینت اور شان و شوکت کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ بدلا کہیں بہتر ہے جو وہ ایمان اور عمل صالح والوں کو عطا کرتا ہے۔ اس آیت میں اللہ کے ثواب سے مراد وہ رزق کریم ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام پر قائم رہ کر محنت و کوشش کے نتیجے میں دنیا اور آخرت میں حاصل ہوتا ہے۔
وَلَا يُلَقّٰىهَآ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ : صبر کی تین قسمیں ہیں، اللہ کے احکام پر صبر یعنی ان کا پابند رہنا، اس کی نافرمانی سے صبر یعنی اس سے بچتے رہنا اور مصیبتوں پر صبر۔ یعنی اللہ کا یہ ثواب صرف انھی لوگوں کو عطا کیا جاتا ہے جن میں اتنا صبر اور ثابت قدمی ہو کہ حلال طریقے اختیار کرنے پر مضبوطی کے ساتھ جمے رہیں، خواہ تھوڑا رزق ملے یا زیادہ، حرام سے قطعاً اجتناب کریں، خواہ اس سے کتنے فائدے مل رہے ہوں اور اس صدق و دیانت کی وجہ سے پیش آنے والی ہر مشکل اور مصیبت پر صبر کریں۔ دنیا کی تکالیف کو عارضی اور چند روزہ سمجھ کر کسی نہ کسی طرح گزار دیں اور اللہ تعالیٰ سے شکوہ شکایت کا کوئی لفظ زبان پر نہ لائیں۔ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب، جو مومن کو دنیا میں ملتا ہے، تھوڑا ہو یا زیادہ، کافر کے مال و منال سے خواہ وہ کتنا زیادہ ہو، اس لیے بہتر ہے کہ مومن کو اللہ کی فرماں برداری کی خوشی کا احساس، اس کے عطا کردہ رزق پر صبرو قناعت اور اس کی وجہ سے ملنے والی سکون و اطمینان کی دولت کے مقابلے میں کافر کے اموال و اولاد اور زیب و زینت کی کوئی حقیقت ہی نہیں، جو اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ان کے لیے بیشمار رنج و غم اور عذاب کا باعث ہیں، جیسا کہ فرمایا : (فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَلَآ اَوْلَادُهُمْ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ) [ التوبۃ : 55 ] ”سو تجھے نہ ان کے اموال بھلے معلوم ہوں اور نہ ان کی اولاد، اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ انھیں ان کے ذریعے دنیا کی زندگی میں عذاب دے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں۔“ اور آخرت میں اللہ کا ثواب کفار کی دنیوی زینت و مال سے اس لیے کہیں بہتر ہے کہ یہ عارضی ہے اور وہ باقی، اس میں بیشمار پریشانیوں اور رنج و غم کی آمیزش ہے اور وہ ہر قسم کے رنج و غم کی آمیزش سے پاک ہے۔
Ayah 28:81فَخَسَفْنَا بِهٖ وَبِدَارِهِ الْاَرْضَ : اللہ تعالیٰ کو اس کے تکبر کے اس مظاہرے پر ایسی غیرت آئی کہ اس نے اسے اور اس کے گھر کو جس میں اس کے اہل و عیال، نوکر چاکر اور خزانے تھے، سب کو زمین میں دھنسا دیا۔ قارون کی اس حالت پر وہ حدیث منطبق ہوتی ہے جو ابن عمر ؓ نے بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (بَیْنَمَا رَجُلٌ یَجُرُّ إِزَارَہُ مِنَ الْخُیَلاَءِ خُسِفَ بِہِ ، فَہُوَ یَتَجَلْجَلُ فِي الْأَرْضِ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ) [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب : 3485 ] ”ایک آدمی اپنی چادر تکبر سے گھسیٹتا جا رہا تھا، تو اسی حالت میں اسے زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ قیامت کے دن تک زمین میں دھنستا چلا جا رہا ہے۔“ علمائے تفسیر کا رجحان یہ ہے کہ اس سے مراد قارون ہے۔
3 اس آیت اور حدیث سے معلوم ہوا کہ تکبر سے چادر لٹکانا بھی اللہ تعالیٰ کو اس قدر ناپسند ہے کہ اگر اس کی رحمت نہ ہو تو ایسے آدمی کو زمین میں دھنسا دیا جائے۔ اس میں شک نہیں کہ کپڑا خود بخود ڈھلک جائے تو وہ تکبر نہیں، جیسا کہ ابوبکر صدیق ؓ کا کپڑا ڈھلک جاتا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ تم تکبر سے ایسا نہیں کرتے، مگر بعض لوگ جان بوجھ کر کپڑا لٹکاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تکبر سے ایسا نہیں کرتے۔ ان کے متعلق رسول اللہ ﷺ کا فرمان سنیے، جابر بن سلیم ؓ نے ایک لمبی حدیث میں بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انھیں فرمایا : (وَارْفَعْ إِزَارَکَ إِلٰی نِصْفِ السَّاقِ فَإِنْ أَبَیْتَ فَإِلَی الْکَعْبَیْنِ وَ إِیَّاکَ وَ إِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّہَا مِنَ الْمَخِیْلَۃِ وَ إِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبُّ الْمَخِیْلَۃَ) [ أبو داوٗد، اللباس، باب ما جاء في إسبال الإزار : 4084، و صححہ الألباني ] ”اپنی چادر نصف پنڈلی تک اٹھاؤ، اگر نہیں مانتے تو ٹخنوں تک اٹھاؤ، اور چادر لٹکانے سے بچو، کیونکہ یہ تکبر سے ہے اور یقیناً اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔“ اس سے ثابت ہوا کہ جان بوجھ کر کپڑا لٹکانا ہی تکبر ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان سننے کے بعد اسے نہ ماننا اور جان بوجھ کر کپڑا لٹکانا صاف تکبر ہے۔ جان بوجھ کر چادر لٹکانا اتنا بڑا گناہ ہے کہ ابوذر ؓ نے نبی کریم ﷺ سے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا : (ثَلَاثَۃٌ لَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا یَنْظُرُ إِلَیْہِمْ وَلَا یُزَکِّیْہِمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ، قَالَ فَقَرَأَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ أَبُوْ ذَرٍّ خَابُوْا وَخَسِرُوْا مَنْ ہُمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! ؟ قَالَ الْمُسْبِلُ إِزَارَہُ وَالْمَنَّانُ وَ الْمُنَفِّقُ سِلْعَتَہُ بالْحَلِفِ الْکَاذِبِ) [ مسلم، الإیمان، باب بیان غلظ تحریم إسبال الإزار۔۔ : 106]”تین آدمی ایسے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نہ ان سے کلام کرے گا، نہ ان کی طرف نگاہ کرے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔“ تین دفعہ فرمایا تو ابوذر ؓ نے کہا : ”وہ تو ناکام اور نامراد ہوگئے، یا رسول اللہ ! وہ کون ہیں ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اپنی چادر (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانے والا اور احسان جتلانے والا اور اپنا سامان جھوٹی قسم کے ساتھ بیچنے والا۔“
3 قرآن مجید کے بیان سے ظاہر ہے کہ اسے زمین میں دھنسانے کا باعث اس کا تکبر اور اس کے اظہار کے لیے اس کا اپنی زینت اور شان و شوکت کے ساتھ نکلنا تھا۔ مگر بعض مفسرین نے اس کی بغاوت اور سرکشی کے اور واقعات بھی بیان کیے ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ قارون نے ایک فاحشہ عورت کو اس شرط پر کچھ مال دیا کہ وہ موسیٰ ؑ پر بدکاری کی تہمت لگائے، جب وہ بنی اسرائیل میں کھڑے ہو کر کتاب اللہ کی تلاوت کر رہے ہوں تو یہ عورت کہے کہ موسیٰ ! تم نے میرے ساتھ ایسے ایسے کیا ہے۔ لہٰذا جب اس نے مجلس میں موسیٰ ؑ کو یہ بات کہی تو وہ ڈر کر کانپ اٹھے اور دو رکعتیں پڑھ کر اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ”میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے سمندر کو پھاڑا اور تمہیں فرعون سے نجات دی اور فلاں فلاں احسانات کیے کہ تم ہر صورت وہ شخص بتاؤ جس نے تمہیں اس بات پر آمادہ کیا ہے جو تم نے کہی۔“ اس نے کہا، جب آپ نے مجھ سے قسم دے کر پوچھا ہے تو قارون نے مجھے اتنا مال دیا ہے، اس شرط پر کہ میں آپ کو اس اس طرح کہوں اور میں اللہ سے معافی مانگتی ہوں اور توبہ کرتی ہوں۔ اس پر موسیٰ ؑ سجدے میں گرگئے اور قارون کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں وحی کی کہ میں نے زمین کو حکم دے دیا ہے کہ اس کے متعلق تمہارا حکم مانے تو موسیٰ ؑ نے زمین کو حکم دیا کہ اسے نگل جائے، تو ایسا ہی ہوا۔ ابن کثیر نے یہ واقعہ ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے۔ سند اس کی اچھی بھی ہو تو یہ ان کا قول ہے، انھوں نے اسے رسول اللہ ﷺ سے نقل نہیں فرمایا اور ظاہر ہے کہ اس واقعہ کے وقت ابن عباس ؓ موجود نہیں تھے، بلکہ درمیان میں سیکڑوں ہزاروں سال کا فاصلہ ہے۔ اس لیے اس کے اسرائیلی روایت ہونے میں کوئی شک نہیں، جس پر یقین ممکن نہیں۔ خصوصاً اس لیے کہ اس میں قارون کا سمندر سے پار ہونا بھی مذکور ہے، جب کہ سورة مومن میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو فرعون، ہامان اور قارون کی طرف بھیجنے اور ان تینوں کے آپ کو جھٹلانے کا ذکر فرمایا ہے، پھر فرعون اور اس کے ساتھیوں کے متعلق فرمایا : (فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَحَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْۗءُ الْعَذَابِ اَلنَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَّعَشِـيًّا) [ المؤمن : 45، 46 ] ”اور آل فرعون کو برے عذاب نے گھیر لیا۔ جو آگ ہے، وہ اس پر صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں۔“ اسی طرح سورة عنکبوت (39، 40) میں ان تینوں کے تکبر کی وجہ سے ایمان نہ لانے اور اپنے گناہوں میں پکڑے جانے کا ذکر ہے۔ غرض قرآن مجید سے قارون کے ایمان لانے یا سمندر سے پار جانے کا کوئی اشارہ نہیں ملتا، بلکہ اس کے مسلسل جھٹلانے، تکبر کرنے اور اس کی پاداش میں زمین کے اندر دھنس جانے کا ذکر ہی ملتا ہے۔ ابن کثیر نے فرمایا : ”یہاں بہت سی اسرائیلیات ذکر کی گئی ہیں جن سے ہم نے پہلو تہی کی ہے۔“ کاش ! ابن کثیر یہ اسرائیلیات بھی ذکر نہ کرتے جو انھوں نے ذکر کی ہیں۔
فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ يَّنْصُرُوْنَهٗ۔۔ : یعنی اس وقت نہ کوئی جماعت تھی جو اس کی مدد کو پہنچتی، نہ وہ خود اپنے آپ کو بچا سکا۔ اس کے نوکر چاکر، ساتھی اور دوست اس کے کسی کام نہ آسکے۔
Ayah 28:82وَاَصْبَحَ الَّذِيْنَ تَمَـــنَّوْا مَكَانَهٗ بالْاَمْسِ۔۔ : ”وَيْكَاَنَّ“ کی تفسیر میں کئی اقوال ہیں، بعض نے فرمایا، اس کا معنی ”أَلَمْ تَرَ أَنَّ“ (کیا تو نے نہیں دیکھا کہ) ہے۔ بعض نے فرمایا، یہ ”وَيْ“ ، ”کَ“ اور ”أَنَّ“ کا مجموعہ ہے۔ ”وَيْ“ تعجب کا کلمہ ہے، کاف تعلیل کے لیے ہے (اس لیے) اور ”أَنَّ“ حرف تحقیق ہے۔ یعنی تعجب ہے، اس لیے کہ بیشک اللہ تعالیٰ۔۔ اور بعض نے فرمایا ”وَيْ“ کلمہ تَنَدُّم ہے، یعنی ندامت اور افسوس کے اظہار کے لیے آتا ہے اور کاف حرف تشبیہ ہے (بمعنی گویا کہ)۔ میں نے اسی کے مطابق ترجمہ کیا ہے : ”افسوس ! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ۔“
3 یعنی کل جو لوگ مال و دولت اور جاہ و حشمت میں قارون کو حاصل مرتبے کی تمنا کر رہے تھے، صبح ہوئی تو وہی کہہ رہے تھے کہ افسوس ! معلوم یہی ہوتا ہے کہ رزق کا زیادہ ہونا یا کم ہونا کسی کے علم یا محنت پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور مرضی پر موقوف ہے۔ وہ جس کا رزق چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ کسی کو رزق زیادہ دینے کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے پاس مال کمانے کا ہنر زیادہ ہے اور کسی کا رزق تنگ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے پاس مال کمانے کا ہنر نہیں، نہ ہی مال کا زیادہ ہونا اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی یا کم ہونا اس کے ناراض ہونے کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی علامت صرف اور صرف یہ ہے کہ وہ کسی کو ایمان کی دولت عطا فرما دے، جیسا کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا : (إِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَسَمَ بَیْنَکُمْ أَخْلاَقَکُمْ ، کَمَا قَسَمَ بَیْنَکُمْ أَرْزَاقَکُمْ ، وَإِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی یُعْطِی الْمَالَ مَنْ أَحَبَّ وَمَنْ لاَ یُحِبُّ ، وَلاَ یُعْطِي الْإِیْمَانَ إِلاَّ مَنْ یُحِبُّ) [ الأدب المفرد : 275، قال الألباني صحیح، موقوف في حکم المرفوع، وانظر سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : 2714 ]”اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان تمہارے اخلاق اسی طرح تقسیم کیے ہیں جس طرح اس نے تمہارے رزق تقسیم کیے ہیں اور اللہ مال اسے بھی دیتا ہے جس سے محبت کرتا ہے اور اسے بھی جس سے محبت نہیں کرتا، مگر ایمان اس کے سوا کسی کو نہیں دیتا جس سے وہ محبت کرتا ہو۔“
لَوْلَآ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا لَخَسَفَ بِنَا۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں قارون کی طرح نہیں بنایا، ورنہ ہماری بھی یہی حالت ہوتی۔ ہم تو حرص کی وجہ سے ”يٰلَيْتَ لَنَا مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ قَارُوْنُ“ (کاش ! ہمارے لیے اس جیسا ہوتا جو قارون کو دیا گیا ہے) کہہ کر اس جیسے عذاب کے حق دار بن چکے تھے۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہماری آرزو پوری نہ کی، بلکہ قارون کا انجام آنکھوں سے دکھا کر رجوع کی توفیق فرمائی۔ اب معلوم ہوا کہ مال و دولت جتنا بھی جمع کرلیں کافر کبھی فلاح نہیں پاسکتے۔
3 ابو کبشہ الانماری ؓ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ لمبی حدیث ہے، اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّمَا الدُّنْیَا لِأَرْبَعَۃِ نَفَرٍ : عَبْدٍ رَزَقَہُ اللّٰہُ مَالاً وَعِلْمًا فَہُوَ یَتَّقِيْ رَبَّہُ فِیْہِ وَیَصِلُ فِیْہِ رَحِمَہُ وَیَعْلَمُ لِلّٰہِ فِیْہِ حَقًّا فَہٰذَا بِأَفْضَلِ الْمَنَازِلِ وَعَبْدٍ رَزَقَہُ اللّٰہُ عِلْمًا وَلَمْ یَرْزُقْہُ مَالاً فَہُوَ صَادِقُ النِّیَّۃِ یَقُوْلُ لَوْ أَنَّ لِيْ مَالاً لَعَمِلْتُ فِیْہِ بِعَمَلِ فُلاَنٍ فَہُوَ بِنِیَّتِہِ فَأَجْرُہُمَا سَوَاءٌ، وَعَبْدٍ رَزَقَہُ اللّٰہُ مَالاً وَلَمْ یَرْزُقْہُ عِلْمًا فَہُوَ یُخْبَطُ فِيْ مَالِہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ لاَ یَتَّقِيْ فیہِ رَبَّہُ وَلاَ یَصِلُ فِیْہِ رَحِمَہُ وَلاَ یَعْلَمُ لِلّٰہِ فِیْہِ حَقًّا فَہٰذَا بِأَخْبَثِ الْمَنَازِلِ وَعَبْدٍ لَمْ یَرْزُقْہُ اللّٰہُ مَالاً وَلاَ عِلْمًا فَہُوَ یَقُوْلُ لَوْ أَنَّ لِيْ مَالاً لَعَمِلْتُ فِیْہِ بِعَمَلِ فُلاَنٍ فَہُوَ بِنِیَّتِہِ فَوِزْرُہُمَا سَوَاءٌ) [ ترمذي، الزھد، باب ما جاء مثل الدنیا مثل أربعۃ نفر : 2325 ] ”دنیا صرف چار آدمیوں کے لیے ہے، ایک وہ بندہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال اور علم عطا فرمایا، چناچہ وہ اس کے بارے میں اپنے رب سے ڈرتا ہے اور صلہ رحمی کرتا ہے اور اس میں اللہ کا حق جانتا ہے، یہ سب سے افضل مرتبے میں ہے اور ایک وہ بندہ جسے اللہ تعالیٰ نے علم دیا، مگر مال نہیں دیا، چناچہ وہ سچی نیت والا ہے۔ کہتا ہے، اگر میرے پاس مال ہو تو میں فلاں شخص جیسا عمل کروں۔ سو یہ اس کی نیت ہے اور دونوں کا اجر برابر ہے۔ اور ایک وہ بندہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا، مگر علم نہیں دیا۔ چناچہ وہ اس میں علم کے بغیر ٹامک ٹوئیاں مارتا پھرتا ہے۔ نہ اس میں اپنے رب سے ڈرتا ہے، نہ اس میں صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ اس میں اللہ کا کوئی حق جانتا ہے۔ سو وہ بدترین مرتبے میں ہے اور ایک وہ بندہ جسے اللہ نے نہ مال دیا ہے نہ علم۔ چناچہ وہ کہتا ہے، اگر میرے پاس مال ہو تو میں فلاں شخص جیسا عمل کروں تو یہ اس کی نیت ہے اور ان دونوں کا گناہ برابر ہے۔“ جو لوگ کل قارون کے مرتبے کی تمنا کر رہے تھے اس حدیث کی رو سے قارون اور وہ دونوں گناہ میں برابر تھے، اس لیے انھوں نے اللہ کا احسان مانا کہ اس نے ہمیں قارون کی طرح زمین میں دھنسا نہیں دیا۔
Ayah 28:83تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ۔۔ : ”عُلُوًّا“ کا لفظی معنی اونچا ہونا ہے، مراد اپنے آپ کو دوسروں سے اونچا سمجھنا اور دوسروں کو حقیر جاننا ہے۔ ”َا فَسَادًا“ کا لفظی معنی خرابی ہے، عام طور پر یہ لفظ چوری، ڈاکے، غصب، لوٹ مار، قتل و غارت اور لوگوں کا حق مارنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ مراد اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی ہے، خواہ کوئی بھی ہو، کیونکہ اسی سے زمین میں خرابی پیدا ہوتی ہے اور سب سے بڑا فساد اللہ کے ساتھ شرک ہے۔
3 آخرت کی عظمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ آخری گھر جس کا ذکر تم سنتے رہتے ہو، ہم ان لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو صرف یہ نہیں کہ تکبر اور سرکشی اختیار نہیں کرتے اور فساد فی الارض کا ارتکاب نہیں کرتے، بلکہ ان دونوں کاموں کا ارادہ بھی نہیں کرتے۔ مطلب یہ کہ دار آخرت میں فرعون، قارون اور ان جیسے لوگوں کا کوئی حصہ نہیں، جن کی زندگی سراسر علو اور فساد ہو۔
3 عیاض بن حمار ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن خطبہ دینے کے لیے ہم میں کھڑے ہوئے۔ آپ ﷺ نے کئی باتیں بیان فرمائیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : (وَ إِنَّ اللّٰہَ أَوْحٰی إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوْا حَتّٰی لَا یَفْخَرَ أَحَدٌ عَلٰی أَحَدٍ وَلَا یَبْغِيْ أَحَدٌ عَلٰی أَحَدٍ) [ مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمھا، باب الصفات التي یعرف بھا في الدنیا أھل الجنۃ و أھل النار : 64؍2865 ] ”اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی کہ عاجزی اختیار کرو، حتیٰ کہ کوئی شخص کسی پر فخر نہ کرے اور کوئی شخص کسی پر سرکشی نہ کرے۔“ عبداللہ بن مسعود ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِيْ قَلْبِہِ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ ، قَالَ رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ یُحِبُّ أَنْ یَکُوْنَ ثَوْبُہُ حَسَنًا وَ نَعْلُہُ حَسَنَۃً ، قَالَ إِنَّ اللّٰہَ جَمِیْلٌ یُحِبُّ الْجَمَالَ الْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ) [ مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ : 91 ] ”وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہوگا۔“ ایک آدمی نے کہا : ”آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو، اس کا جوتا اچھا ہو (تو کیا یہ بھی تکبر ہے) ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”یقیناً اللہ جمیل ہے اور جمال سے محبت رکھتا ہے، تکبر تو حق کا انکار اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔“
وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ : اور اچھا انجام ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور ہر قسم کے کبر اور فساد سے بچ کر رہتے ہیں۔
Ayah 28:84مَنْ جَاۗءَ بالْحَـسَـنَةِ فَلَهٗ خَيْرٌ مِّنْهَا۔۔ : اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة انعام (160) اور سورة نمل (89) کی تفسیر۔
Ayah 28:85اِنَّ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ۔۔ : ”مَعَادٍ“ میں تنوین تعظیم کی ہے، اس لیے ترجمہ عظیم الشان لوٹنے کی جگہ کیا گیا ہے۔ قرآن فرض کرنے سے مراد اس پر عمل اور اسے تمام دنیا کے لوگوں تک پہنچانے اور اس کے لیے جہاد کرنے کا فریضہ عائد کرنا ہے۔
لَرَاۗدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ : پہلے فرمایا تھا : ”وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ“ اب رسول اللہ ﷺ کے لیے اس اچھے انجام کا ذکر فرمایا اور سورت کا اختتام عظیم الشان خوش خبری کے ساتھ فرمایا، یعنی جس اللہ نے آپ پر قرآن پر عمل کا اور اس کی دعوت کا فریضہ عائد کیا ہے وہ آپ کی محنت و مشقت اور ادائیگی فرض کے نتیجہ میں آپ کو ایک عظیم الشان انجام تک پہنچانے والا ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ دنیا میں اس طرح کہ آپ اس شہر مکہ سے ہجرت کریں گے اور دوبارہ پھر اس میں واپس آئیں گے اور اس شاندار طریقے سے آئیں گے کہ پورا جزیرۂ عرب آپ کے زیرنگین ہوگا۔ جیسا کہ صحیح بخاری (4773) میں ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس ”مَعَادٍ“ سے مراد مکہ مکرمہ ہے۔ چناچہ ہجرت کے آٹھویں سال اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوگیا اور آپ فاتحانہ شان سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، اور آخرت میں عظیم الشان مقام محمود پر پہنچانے والا ہے، جس کی وجہ سے پہلے اور پچھلے سب آپ پر رشک کریں گے۔ اسے ”معاد“ اس لیے فرمایا کہ قرآن مجید میں آخرت کو سب کے لیے لوٹنے کی جگہ قرار دیا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَاتَّقُوْا يَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِيْهِ اِلَى اللّٰهِ) [ البقرۃ : 281 ] ”اور اس دن سے ڈرو جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔“ اور فرمایا : (ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ) [ البقرۃ : 28 ] ”پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔“ اور فرمایا : (اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ) [ المائدۃ : 48 ] ”اللہ ہی کی طرف تم سب کا لوٹ کر جانا ہے۔“ مفسرین میں سے بعض نے ”مَعَادٍ“ سے مراد مکہ اور بعض نے جنت لی ہے، دونوں اقوال اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔
قُلْ رَّبِّيْٓ اَعْلَمُ مَنْ جَاۗءَ بالْهُدٰى۔۔ : یہ پیش گوئی کہ آپ کا رب آپ کو اسی مکہ میں فاتحانہ شان سے واپس لائے گا، کفار کے نزدیک ایسی بات تھی جو کوئی گمراہ شخص ہی کرسکتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف سے آنے والی بات کا جواب پہلے ہی بتادیا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ میرا رب بہتر جانتا ہے کہ ہدایت لے کر کون آیا ہے اور کون ہے جو کھلی گمراہی میں مبتلا ہے اور بہت جلد یہ حقیقت تم پر واضح ہوجائے گی۔
Ayah 28:86وَمَا كُنْتَ تَرْجُوْٓا اَنْ يُّلْقٰٓى اِلَيْكَ الْكِتٰبُ۔۔ : رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ میں جن حالات سے گزر رہے تھے اور جس طرح کفار نے آپ کا اور آپ کے ساتھیوں کا جینا دو بھر کر رکھا تھا، ان حالات میں یہ پیش گوئی کہ آپ کا رب آپ کو یہاں سے ہجرت کے بعد اسی عظیم الشان مقام میں لانے والا ہے، بظاہر ایک ناممکن کام کی پیش گوئی تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطمینان دلانے کے لیے اس احسان کا ذکر فرمایا جو اس سے کہیں بڑا احسان تھا۔ فرمایا، آپ کو تعجب ہوتا ہے اور یہ بات بہت بعید نظر آتی ہے کہ آپ نہایت باعزت طریقے سے اپنے شہر میں واپس آئیں گے تو ذرا اپنی رسالت پر تو غور کریں، کبھی آپ نے سوچا بھی تھا یا دل میں یہ خیال یا آرزو بھی پیدا ہوئی تھی کہ آپ اللہ کے رسول بن جائیں گے، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ نعمت عطا فرمائی اور رسالت کے لیے چن لیا جو آپ کے خیال تک میں نہ تھی، تو وہ ایسی خبر سے آپ کو کیسے محروم رکھے گا جو آپ کی خواہش ہے اور جس کا آپ شوق رکھتے ہیں۔
3 یہ آیت رسول اللہ ﷺ کے اللہ کا سچا رسول ہونے کی بھی زبردست دلیل ہے۔ اس میں بتایا ہے کہ رسالت اور نبوت محض اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہے، وہ جنھیں چنتا ہے انھیں بھی خبر نہیں ہوتی کہ ہمیں اتنی بڑی نعمت ملے گی۔ یہ نبوت کے جھوٹے دعوے داروں کا طریقہ ہوتا ہے کہ وہ پہلے ہی اپنی نبوت کا اشتہار شروع کردیتے ہیں۔ اس سورت میں اس سے پہلے موسیٰ ؑ کو نبوت ملنے کا ذکر ہے، وہ معاملہ بھی اچانک ہوا۔ موسیٰ ؑ کو اس کا وہم و گمان تک نہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس بھی جبریل ؑ غار حرا میں اچانک آئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو رسول اللہ ﷺ کے سچا رسول ہونے کی دلیل کے طور پر کئی جگہ بیان فرمایا ہے کہ ایک اُمّی شخص، جس کی عمر کے چالیس سال سب کے سامنے گزرے، جو نہ لکھنا جانتا تھا نہ پڑھنا، اگرچہ صدق و امانت اور اخلاق حمیدہ سے پہلے بھی متصف تھا، مگر نہ کسی کے خیال میں یہ بات تھی نہ خود اس کے دل میں یہ امید تک پیدا ہوئی تھی کہ اسے ایسی کتاب عطا کی جائے گی جس کی ایک سورت کی مثل اللہ کے سوا پوری کائنات جمع ہو کر بھی نہیں لاسکے گی۔ چناچہ دوسری جگہ فرمایا : (وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا ۭ مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَلَا الْاِيْمَانُ وَلٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِيْ بِهٖ مَنْ نَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِنَا ۭ وَاِنَّكَ لَـــتَهْدِيْٓ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ) [ الشورٰی : 52 ] ”اور اسی طرح ہم نے تیری طرف اپنے حکم سے ایک روح کی وحی کی، تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا ہے اور لیکن ہم نے اسے ایک ایسی روشنی بنادیا ہے جس کے ساتھ ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں راہ دکھا تے ہیں اور بلاشبہ تو یقیناً سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔“ ایک جگہ یہ صراحت فرمائی کہ یہ غیب کی خبریں، جو ہم آپ کو وحی کر رہے ہیں، اس سے پہلے نہ آپ جانتے تھے نہ آپ کی قوم، فرمایا : (تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهَآ اِلَيْكَ ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَآ اَنْتَ وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ ھٰذَا) [ ھود : 49 ] ”یہ غیب کی خبروں سے ہے جنھیں ہم تیری طرف وحی کرتے ہیں، اس سے پہلے نہ تو انھیں جانتا تھا اور نہ تیری قوم۔“
فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِيْرًا لِّـلْكٰفِرِيْنَ : اللہ تعالیٰ نے کتاب و نبوت عطا کرنے کی نعمت یاد دلانے کے بعد پانچ حکم دیے، پہلا یہ کہ آپ کی قوم قریش اور آپ کے بھائی بندوں اور رشتہ داروں میں سے جو لوگ دین کے معاملہ میں آپ کا ساتھ نہیں دے رہے، بلکہ مخالفت پر اتر آئے ہیں، آپ کسی صورت نہ ان کا ساتھ دیں نہ ان کی حمایت کریں۔