28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 28:87

وَ لَا یَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْكَ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 28:87 in the Quran reader

اور یہ لوگ تجھے اللہ کی آیات سے کسی صورت روکنے نہ پائیں، اس کے بعد کہ وہ تیری طرف اتاری گئیں اور اپنے رب کی طرف بلا اور ہرگز مشرکوں سے نہ ہو۔

وَلَا يَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَيْكَ : ”لَا يَصُدُّنَّكَ“ صاد اور دال کے ضمہ کے ساتھ یہ لفظ پورے قرآن میں اسی مقام پر ہے، دوسری تمام جگہوں میں دال کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ یہ نہی غائب جمع مذکر بانون تاکید ثقیلہ کا صیغہ ہے کہ تجھے ہرگز نہ روکیں۔ یہ دوسرا حکم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات نازل ہونے کے بعد کفار خواہ کتنی کوشش کریں، کتنی ایذا پہنچائیں، یا کتنا لالچ دیں، ان آیات پر عمل سے اور ان کی تبلیغ سے کسی صورت آپ کو روکنے نہ پائیں۔ یہی بات دوسری جگہ فرمائی : (يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۭوَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ) [ المائدۃ : 67 ] ”اے رسول ! پہنچا دے جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور اگر تو نے نہ کیا تو تو نے اس کا پیغام نہیں پہنچایا۔“ وَادْعُ اِلٰى رَبِّكَ : یہ تیسرا حکم ہے کہ اپنے رب کی طرف دعوت دیں، یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے دین کی دعوت پورے زور و شور سے دیتے رہیں، جس میں کوئی کمی یا کوتاہی نہ ہو، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : (قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَى اللّٰهِ 7 عَلٰي بَصِيْرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ ۭ وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ) [ یوسف : 108 ] ”کہہ دے یہی میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت پر، میں اور وہ بھی جنھوں نے میری پیروی کی ہے اور اللہ پاک ہے اور میں شریک بنانے والوں سے نہیں ہوں۔“ وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ : یہ چوتھا حکم ہے کہ مشرکین سے ہرگز نہ ہوں۔
Ayah 28:88

وَ لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١۫ كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ١ؕ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 28:88 in the Quran reader

اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو مت پکار، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے، مگر اس کا چہرہ، اسی کے لیے حکم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔

وَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ : یہ پانچواں حکم ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو مت پکار۔ یہ پانچوں حکم ہر انسان کے لیے ہیں، مگر آپ کو مخاطب کرنے سے ایک تو آپ کے لیے ان احکام کی تاکید مراد ہے اور ایک یہ کہ سنایا آپ کو جا رہا ہے مگر خبردار دوسرے تمام لوگوں کو کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ تو ان احکام پر عمل کر ہی رہے تھے اور اللہ تعالیٰ کے آپ کو رسالت کے لیے چن لینے کے بعد آپ سے شرک کا امکان ہی نہیں تھا، جیسا کہ دوسری جگہ یہی بات بہت سخت لہجے میں کہی گئی ہے : (قُلْ اَفَغَيْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْۗنِّىْٓ اَعْبُدُ اَيُّهَا الْجٰهِلُوْنَ وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ) [ الزمر : 64، 65 ] ”کہہ دے پھر کیا تم مجھے غیر اللہ کے بارے میں حکم دیتے ہو کہ میں (ان کی) عبادت کروں اے جاہلو ! اور بلاشبہ یقیناً تیری طرف وحی کی گئی اور ان لوگوں کی طرف بھی جو تجھ سے پہلے تھے کہ بلاشبہ اگر تو نے شریک ٹھہرایا تو یقیناً تیرا عمل ضرور ضائع ہوجائے گا اور تو ضرور بالضرور خسارہ اٹھانے والوں سے ہوجائے گا۔“ مقصد یہ ہے کہ جب اس مسئلے میں کسی پیغمبر کے لیے کوئی رعایت نہیں تو کسی اور کے لیے کیا ہوگی۔ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ : یہ وہ جملہ ہے جو اسلام کی دعوت کا خلاصہ ہے۔ قرآن مجید کی اکثر سورتوں کا آغاز بھی شرک کی تردید اور توحید کی دعوت سے ہوتا ہے اور اختتام بھی۔ یہاں اس دعوے کی تین دلیلیں بیان فرمائی ہیں۔ كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ : یہ اس بات کی پہلی دلیل ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، کیونکہ وہی ہے جو دائم، باقی اور حی قیوم ہے۔ اس کے سوا سب کو مرنا ہے، سب فانی ہیں۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کہا کرتے تھے : (أَعُوْذُ بِعِزَّتِکَ الَّذِيْ لاَ إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ الَّذِيْ لاَ یَمُوْتُ ، وَالْجِنُّ وَالإِِْنْسُ یَمُوْتُوْنَ) [ بخاري، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ : (و ھو العزیز الحکیم)۔۔ : 7383 ]”میں تیری عزت کی پناہ چاہتا ہوں، تُو وہ ہے کہ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور تو کبھی نہیں مرتا، جبکہ جن اور انسان مرجاتے ہیں۔“ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا : (كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَّيَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذو الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ) [ الرحمٰن : 26، 27 ] ”ہر ایک جو اس (زمین) پر ہے، فنا ہونے والا ہے اور تیرے رب کا چہرہ باقی رہے گا، جو بڑی شان اور عزت والا ہے۔“ اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أَصْدَقُ کَلِمَۃٍ قَالَہَا الشَّاعِرُ کَلِمَۃُ لَبِیْدٍ : أَلاَ کُلُّ شَيْءٍ مَا خَلا اللّٰہَ بَاطِلٌ) [ بخاري، مناقب الأنصار، باب أیام الجاہلیۃ : 3841 ] ”سب سے سچی بات جو کسی شاعر نے کہی لبید کی بات ہے کہ سن لو ! اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔“ لَهُ الْحُكْمُ : یہ اللہ تعالیٰ کے معبود واحد ہونے کی دوسری دلیل ہے کہ کائنات میں اسی کا حکم جاری و ساری ہے، اس کے سوا ”کُنْ“ کا اختیار کسی کے پاس نہیں۔ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ : یہ توحید کی تیسری دلیل ہے کہ تمام لوگوں کو اسی کے پاس واپس جانا اور اسی کے سامنے پیش ہونا ہے۔ دوسرے سب تو خود پیش ہونے والے ہیں، پھر وہ معبود کیسے بن گئے۔