28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 28:25

فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِیْ عَلَى اسْتِحْیَآءٍ١٘ قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْكَ لِیَجْزِیَكَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا١ؕ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَیْهِ الْقَصَصَ١ۙ قَالَ لَا تَخَفْ١۫ٙ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:25 in the Quran reader

تو ان دونوں میں سے ایک بہت حیا کے ساتھ چلتی ہوئی اس کے پاس آئی، اس نے کہا بیشک میرا والد تجھے بلا رہا ہے، تاکہ تجھے اس کا بدلہ دے جو تو نے ہمارے لیے پانی پلایا ہے۔ تو جب وہ اس کے پاس آیا اور اس کے سامنے حال بیان کیا تو اس نے کہا خوف نہ کر، تو ان ظالم لوگوں سے بچ نکلا ہے۔

فَجَاۗءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِيْ عَلَي اسْـتِحْيَاۗءٍ : ”عَلٰی حَیَاءٍ“ کا معنی ہے حیا کے ساتھ، ”عَلَي اسْـتِحْيَاۗءٍ“ میں حروف زیادہ ہونے سے معنی میں اضافہ ہوگیا، یعنی بہت حیا کے ساتھ۔ 3 شاہ عبد القادر لکھتے ہیں : ”عورتوں نے پہچانا کہ چھاؤں پکڑتا ہے مسافر ہے، دور سے آیا ہوا تھکا، بھوکا، جا کر اپنے باپ سے کہا۔“ ابن کثیر لکھتے ہیں : ”جب وہ دونوں باپ کے پاس جلدی واپس پہنچ گئیں تو اسے تعجب ہوا اور اس نے ان سے اس کے متعلق پوچھا، انھوں نے موسیٰ ؑ کے احسان کا ذکر کیا، تو اس نے ان میں سے ایک کو انھیں بلانے کے لیے بھیجا۔“ ”تو ان دونوں میں سے ایک بہت حیا کے ساتھ چلتی ہوئی موسیٰ کے پاس آئی۔“ سبحان اللہ ! وہ خاتون کس قدر باحیا ہوگی جس کے بہت حیا کی شہادت رب العالمین نے دی ہے۔ ”تَمْشِيْ باسْتِحْیَاءٍ“ کے بجائے ”تَمْشِيْ عَلَي اسْـتِحْيَاۗءٍ“ اس لیے فرمایا گویا وہ حیا کی سواری پر سوار ہو کر چلی آرہی تھی، حیا کی ہر صورت اس کی دسترس میں تھی۔ ابن ابی حاتم نے عمر ؓ سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا : (فَجَاۗءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِيْ عَلَي اسْـتِحْيَاۗءٍ) قَاءِلَۃٌ بِثَوْبِھَا عَلٰی وَجْھِھَا لَیْسَتْ بِسَلْفَعِ مِنَ النِّسَاءِ وَلَّاجَۃً ، خَرَّاجَۃً) [ طبري : 27585۔ ابن أبي حاتم : 16832] ”وہ نہایت حیا کے ساتھ اپنا کپڑا چہرے پر ڈالے ہوئے آئی، بےباک عورتوں کی طرح نہیں جو بےدھڑک اور بےخوف چلی آتی ہوں، ہر جگہ جا گھستی ہر طرف نکل جاتی ہوں۔“ ابن کثیر نے فرمایا : ”ھٰذَا إِسْنَادٌ صَحِیْحٌ“ اور تفسیر ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے فرمایا : ”وَ سَنَدُہُ صَحِیْحٌ۔“ ظاہر یہی ہے کہ یہ اسرائیلی روایت ہے، مگر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام ؓ کے ہاں حیا کا مطلب کیا تھا۔ جو لوگ چہرے کے پردے کے قائل نہیں انھیں غور کرنا چاہیے کہ امیر المومنین چہرہ ڈھانکنے کو حیا قرار دے رہے ہیں۔ قَالَتْ اِنَّ اَبِيْ يَدْعُوْكَ : اس خاتون کے بلانے کے انداز سے بھی اس کی کمال دانائی اور حیا ظاہر ہو رہی ہے۔ اس نے اپنی طرف سے ساتھ چلنے کو نہیں کہا، بلکہ باپ کی طرف سے پیغام دیا، کیونکہ ایک باحیا خاتون کو زیب ہی نہیں دیتا کہ کسی اجنبی مرد کو ساتھ چلنے کے لیے کہے۔ لِيَجْزِيَكَ اَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا : یہ بات بھی اس نے حیا ہی کی وجہ سے کہی، کیونکہ ایک غیر مرد کو ساتھ لے جانے کی کوئی معقول وجہ ہونی چاہیے، اس کے بغیر شبہات پیدا ہوسکتے تھے، جن کا اس نے پہلے ہی سدباب کردیا۔ 3 یہاں مفسرین نے ایک سوال اٹھایا ہے کہ انبیاء تو احسان کا بدلا نہیں لیتے، پھر موسیٰ ؑ پانی پلانے کی اجرت لینے کے لیے کیوں چل پڑے ؟ جواب اس کا ایک تو یہ ہے کہ یہ معروف معنوں میں اجرت نہیں، بلکہ احسان کا بدلا ہے، احسان کے بدلے میں کوئی احسان کرے تو اسے قبول کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، جیسا کہ فرمایا : (هَلْ جَزَاۗءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ) [ الرحمٰن : 60 ]”نیکی کا بدلا نیکی کے سوا کیا ہے۔“ اور نبی ﷺ ہدیہ قبول کرتے تھے اور اس کا بدلا بھی دیتے تھے، حدیث کے الفاظ ہیں : (کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقْبَلُ الْھَدِیَّۃَ وَ یُثِیْبُ عَلَیْھَا) [ بخاري، الھبۃ، باب المکافأۃ في الھبۃ : 2585 ] پھر موسیٰ ؑ اس وقت سخت اضطرار کی حالت میں تھے، انھوں نے اس دعوت کو اپنی دعا کی قبولیت کا نتیجہ سمجھا اور خواہ مخواہ کی خود داری سے اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ اس موقع کو ضائع نہیں کیا۔ دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ اگر کسی کو اصرار ہو کر یہ اجرت ہی تھی تو محنت کے بدلے میں مزدوری لینا موسیٰ ؑ منع نہیں سمجھتے تھے، نہ ہی یہ منع ہے، خصوصاً جب کوئی بلا طلب مزدوری دے دے، جیسا کہ خضر ؑ کے واقعہ میں ہے کہ جب انھوں نے گرتی ہوئی دیوار سیدھی کردی تو موسیٰ ؑ نے ان سے کہا : (لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ اَجْرً) [ الکہف : 77 ] ”اگر تو چاہتا تو ضرور اس پر کچھ اجرت لے لیتا۔“ فَلَمَّا جَاۗءَهٗ وَقَصَّ عَلَيْهِ الْقَصَصَ : جب موسیٰ ؑ اس بزرگ کے پاس آئے تو ظاہر ہے سب سے پہلی بات تعارف تھا، چناچہ موسیٰ ؑ نے اپنا نام و نسب، اپنی قوم پر فرعون کا ظلم و ستم، اپنی پیدائش اور پرورش کا قصہ اور ایک نادانستہ قتل پر فرعون کے ان کی جان کے درپے ہونے کا حال بیان کیا۔ قَالَ لَا تَخَفْ۔۔ : اس بزرگ نے کھانا وغیرہ پیش کرنے سے پہلے موسیٰ ؑ کا خوف دور کیا، کیونکہ خوف میں مبتلا شخص بھوک کے مارے کھانا کھائے بھی تو اس میں اسے لذت نہیں ملتی، اس لیے سب سے پہلے اس نے کہا ڈرو مت، اس جگہ فرعون کی حکومت نہیں، تم ان ظالموں سے نجات پاچکے ہو۔ اس کے بعد نہایت عزت و احترام سے ان کی مہمان نوازی کی۔
Ayah 28:26

قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ١٘ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ Open ayah 28:26 in the Quran reader

دونوں میں سے ایک نے کہا اے میرے باپ ! اسے اجرت پر رکھ لے، کیونکہ سب سے بہتر شخص جسے تو اجرت پر رکھے طاقتور، امانت دار ہی ہے۔

قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا يٰٓاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ : ان دونوں میں سے ایک نے کہا، ابا جان ! آپ اسے مزدور رکھ لیں، تاکہ ہم عورتوں کو بکریاں چرانے کی مشقت سے رہائی مل جائے۔ ضروری نہیں کہ اس نے یہ بات موسیٰ ؑ کی اس کے باپ سے پہلی ملاقات کے وقت ہی کہہ دی ہو۔ تین دن مہمان نوازی تو حق ہے، اس لیے غالب یہی ہے کہ اس دوران ان لڑکیوں اور ان کے والد نے موسیٰ ؑ کے اوصاف حمیدہ کا اچھی طرح سے مشاہدہ کرلیا تو لڑکی نے اپنے باپ سے یہ بات کہی۔ اِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْـتَاْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْاَمِيْنُ : تفسیر ابن کثیر میں ہے : ”عمر، ابن عباس، شریح قاضی، ابو مالک، قتادہ، محمد بن اسحاق اور کئی ایک نے فرمایا کہ اس کے والد نے پوچھا، تمہیں یہ بات کیسے معلوم ہوئی ؟ اس نے کہا، اس نے وہ پتھر اٹھا لیا جو دس آدمیوں سے کم اٹھا نہیں سکتے اور جب میں اس کے ساتھ آئی تو اس کے آگے چل رہی تھی، اس نے مجھ سے کہا، میرے پیچھے چلی آؤ اور جہاں راستہ بدلنا ہو مجھے کنکری کے ساتھ اشارہ کر دو ، میں سمجھ جاؤں گا کس طرف جانا ہے۔“ تفسیر ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے فرمایا، عمر اور ابن عباس ؓ کا قول ابن ابی حاتم نے صحیح سند کے ساتھ بیان کیا ہے۔ [ ابن أبي حاتم : 16843 ] دوسرے ائمہ کے اقوال بھی طبری (27609) یا ابن ابی حاتم نے صحیح سند کے ساتھ بیان کیے ہیں، مگر یہ رسول اللہ ﷺ سے مروی نہیں، اس لیے اس کا ماخذ اسرائیلی روایات ہی ہے۔ 3 سب سے بہتر شخص جسے تم اجرت پر رکھو وہ ہے جو قوت والا اور امانت دار ہو۔ یہ ہے وہ قاعدہ جو کسی شخص کو ذمہ داری دیتے وقت ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک وقت میں یہ دونوں صفات بہت کم لوگوں میں پائی جاتی ہیں۔ کوئی شخص اگر کام کی اہلیت اور قوت رکھتا ہے تو امانت میں کمزور ہے اور اگر امین ہے تو قوت و اہلیت نہیں رکھتا۔ آج کل حکومتیں کسی عہدے پر مقرر کرنے سے پہلے امتحانات اور انٹرویو کے ذریعے سے اہلیت کا اندازہ تو کرتی ہیں مگر امانت کا نہیں، نتیجہ بےحساب بددیانتی اور خیانت ہے، جس نے مسلمان ملکوں کی معیشت اور معاشرت دونوں کا بیڑا غرق کردیا ہے۔ 3 اس بات سے اس لڑکی کی کمال فراست اور آدمیوں کی پہچان کا اندازہ ہوتا ہے۔ ابن ابی حاتم نے صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا : ”لوگوں میں سب سے زیادہ فراست والے تین ہیں، ابوبکر ؓ کی فراست عمر ؓ کے بارے میں، عزیز مصر کی یوسف ؑ کے متعلق فراست، جب اس نے بیوی سے کہا : (اَکْرِمِیْ مَثْواہ) [ یوسف : 21 ] ”اس کی رہائش باعزت رکھ۔“ اور موسیٰ ؑ کے واقعہ والی خاتون کی فراست کہ جس نے کہا : (يٰٓاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ ۡ اِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْـتَاْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْاَمِيْنُ) [ القصص : 26 ] ”اے میرے باپ ! اسے اجرت پر رکھ لے، کیونکہ سب سے بہتر شخص جسے تو اجرت پر رکھے طاقت ور، امانت دار ہی ہے۔“ [ ابن أبي حاتم : 16838 ]
Ayah 28:27

قَالَ اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَیَّ هٰتَیْنِ عَلٰۤى اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ١ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ١ۚ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْكَ١ؕ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 28:27 in the Quran reader

اس نے کہا بیشک میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تجھ سے کردوں، اس (شرط) پر کہ تو آٹھ سال میری مزدوری کرے گا، پھر اگر تو دس پورے کردے تو وہ تیری طرف سے ہے اور میں نہیں چاہتا کہ تجھ پر مشقت ڈالوں، اگر اللہ نے چاہا تو یقینا تو مجھے نیک لوگوں سے پائے گا۔

قَالَ اِنِّىْٓ اُرِيْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَـتَيَّ هٰتَيْنِ۔۔ : باپ نے بیٹی کی رائے سے اتفاق کرلیا، مگر جوان بیٹیوں کی موجودگی میں ایک غیر محرم مرد کو گھر میں رکھنا مناسب نہیں تھا، اس لیے اس مرد دانا نے فیصلہ کیا کہ ایک بیٹی کا اس صالح جوان کے ساتھ نکاح کر کے اسے مزدور کے طور پر گھر میں رکھ لے۔ چناچہ اس نے موسیٰ ؑ سے کہا : (اِنِّیْ اُرِیْدُ) ”یقیناً میں ارادہ رکھتا ہوں۔“ اہل علم فرماتے ہیں، اس بزرگ نے ”إِنَّ“ کے ساتھ تاکید اس لیے کی کہ عام طور پر لوگ کسی اجنبی جوان کو جو مالی لحاظ سے بھی فقیر ہو، رشتہ دینے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ اس لیے اس نے کہا، یقیناً میں ارادہ رکھتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تجھ سے کر دوں، اس شرط پر کہ تو آٹھ سال میری مزدوری کرے گا۔۔ 3 اس سے معلوم ہوا کہ کسی صالح آدمی کو اپنی بیٹی کے رشتے کی پیش کش خود کردینے میں کوئی مضائقہ نہیں، بلکہ ایسا ہونا چاہیے۔ بیشمار لڑکیاں اس لیے نکاح سے محروم بیٹھی ہیں کہ ان کے والد انتظار میں ہیں کہ کوئی ہم سے رشتہ پوچھے، جبکہ لڑکوں کے والدین انکار کے خوف سے رشتہ مانگنے کی جرأت نہیں کرتے۔ نتیجہ اس کا لڑکے لڑکیوں دونوں کا نکاح سے محروم رہنا ہے۔ صحابہ کرام میں سے عمر ؓ کا عمل اس کا بہترین نمونہ ہے۔ ان کی بیٹی حفصہ ؓ خنیس بن حذافہ ؓ کے فوت ہونے سے بیوہ ہوگئی، جو نبی ﷺ کے بدری صحابہ میں سے تھے۔ عمر ؓ نے فرمایا : ”میں عثمان بن عفان ؓ کے پاس گیا اور انھیں حفصہ کا رشتہ پیش کیا، انھوں نے کہا، میں اس بارے میں سوچوں گا، کچھ راتیں گزریں تو مجھے ملے اور کہنے لگے : ”میری رائے یہی ٹھہری ہے کہ میں ان دنوں نکاح نہ کروں۔“ عمر ؓ فرماتے ہیں : ”پھر میں ابوبکر صدیق ؓ سے ملا اور ان سے کہا : ”اگر آپ چاہیں تو میں حفصہ بنت عمر کا نکاح آپ سے کر دوں۔“ ابوبکر خاموش رہے، مجھے کچھ جواب نہیں دیا، میں دل میں ان پر عثمان سے بھی زیادہ ناراض ہوا۔ چند راتیں گزریں تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے نکاح کا پیغام بھیج دیا، تو میں نے حفصہ کا نکاح آپ ﷺ سے کردیا۔“ [ بخاري، النکاح، باب عرض الإنسان ابنتہ أو أختہ علی أھل الخیر : 5122 ] دیکھیے عمر بن خطاب ؓ سے بڑھ کر غیرت مند کون ہوگا، مگر اپنی بیٹی کے رشتے کی پیش کش خود کر رہے ہیں۔ 3 بعض لوگ اس واقعہ سے استدلال کرتے ہیں کہ نکاح میں لڑکی کا مہر یہ ہوسکتا ہے کہ خاوند اس کے والد کی مزدوری کرے، مگر یہ استدلال درست نہیں، کیونکہ مہر عورت کا حق ہے نہ کہ اس کے باپ کا۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کے بیان میں صرف نکاح کے ارادے اور اس کی شرط کا ذکر ہے کہ موسیٰ ؑ کم از کم آٹھ سال اپنے سسر کے ساتھ رہیں گے، اس سے پہلے اپنی بیوی کو لے کر نہیں جائیں گے۔ اگر یہ عقد نکاح ہوتا تو اس میں دو لڑکیوں میں سے ایک لڑکی کی تعیین ہوتی اور ارادے کے الفاظ کے بجائے یہ الفاظ ہوتے کہ میں نے اپنی فلاں لڑکی کا نکاح اتنے مہر میں تمہارے ساتھ کیا۔ قرآن نے نکاح کے لیے ابتدائی گفتگو اور والد کی شرط کا ذکر کیا ہے، عقد نکاح اور مہر وغیرہ کی تفصیل کا ذکر چھوڑ دیا ہے، کیونکہ اس کے بیان کی یہاں ضرورت نہیں تھی۔ 3 اس واقعہ سے مزدوری کرنے کا جواز بلکہ اس کا استحباب ثابت ہوتا ہے اور اس کے ضمن میں بکریاں رکھنے اور انھیں چرانے کی فضیلت بھی معلوم ہوتی ہے۔ ہمارے پیغمبر ﷺ نے بھی اجرت پر بکریاں چرائی ہیں۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : (مَا بَعَثَ اللّٰہُ نَبِیًّا إِلَّا رَعَی الْغَنَمَ) ”اللہ تعالیٰ نے جو بھی نبی بھیجا اس نے بکریاں چرائی ہیں۔“ آپ ﷺ کے اصحاب نے پوچھا : ”تو کیا آپ نے بھی (چرائی ہیں) ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : (نَعَمْ کُنْتُ أَرْعَاھَا عَلٰی قَرَارِیْطَ لِأَھْلِ مَکَّۃَ) [ بخاري، الإجارۃ، باب رعي الغنم علی قراریط : 2262 ] ”ہاں، میں اہل مکہ کے لیے چند قیراطوں پر بکریاں چرایا کرتا تھا۔“ 3 یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنی لمبی مدت تک بکریاں چرانے کی اجرت کیا تھی۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مزدوری صرف کھانا اور کپڑا ہی تھی، جیسا کہ عتبہ بن ندر السلمی ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے، آپ ﷺ نے ”طسم“ کی تلاوت کی، یہاں تک کہ موسیٰ ؑ کے قصے پر پہنچے، تو فرمایا : ”موسیٰ ؑ نے اپنی شرم گاہ کی عفت اور پیٹ کے کھانے پر آٹھ سال یا دس سال اپنے آپ کو مزدور بنائے رکھا۔“ [ ابن ماجہ، الرھون، باب إجارۃ الأجیر علی طعام بطنہ : 2444 ] ابن کثیر ؓ نے اس پر فرمایا : ”اس طریق سے یہ حدیث ضعیف ہے، کیونکہ مسلمہ بن علی (خُشنی، دمشقی اور ہلالی) ائمہ کے نزدیک روایت میں ضعیف ہے۔ ایک اور سند سے بھی یہ حدیث آئی ہے مگر اس میں بھی نظر ہے۔“ ابن کثیر ؓ نے بعض روایات نقل کی ہیں کہ جس سال موسیٰ ؑ نے رخصت ہونا تھا اس سال ان کے سسر نے ان سے کہا کہ اس سال جو بکری اپنے رنگ سے مختلف بچہ دے وہ تمہارا ہوگا، مگر رسول اللہ ﷺ سے مروی ایسی کسی روایت کی سند صحیح نہیں۔ بعض صحابہ کے اقوال موجود ہیں، مگر ظاہر ہے کہ وہ اسرائیلیات سے ہیں، کیونکہ وہ صحابہ اس واقعہ کے وقت موجود نہیں تھے، نہ وہ رسول اللہ ﷺ سے یہ بات روایت کرتے ہیں۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ یہ بات اسی طرح چھوڑ دی جائے جس طرح قرآن نے تفصیل کے بغیر چھوڑ دی ہے، اگر یہ بات ہدایت کے لیے ضروری ہوتی تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور بیان فرما دیتے۔
Ayah 28:28

قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ١ؕ اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ۠ Open ayah 28:28 in the Quran reader

کہا یہ بات میرے درمیان اور تیرے درمیان (طے) ہے، ان دونوں میں سے جو مدت میں پوری کردوں تو مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہوگی اور ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اس پر اللہ گواہ ہے۔

قَالَ ذٰلِكَ بَيْنِيْ وَبَيْنَكَ۔۔ : موسیٰ ؑ نے اپنے سسر سے کہا، آپ نے جو کہا کہ میں آٹھ سال آپ کی مزدوری کروں گا، یہ میرے اور آپ کے درمیان طے ہوگیا، اب یہ میری مرضی کی بات ہے کہ آٹھ برس کے بعد دو برس اور خدمت کروں یا آٹھ ہی برس بعد اپنی بیوی کو لے کر چلا جاؤں۔ دونوں صورتوں میں آپ مجھے مجبور نہیں کریں گے کہ ابھی اور خدمت کرو۔ وَاللّٰهُ عَلٰي مَا نَقُوْلُ وَكِيْلٌ : یہ کلمہ عہد کو پختہ کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے بعد اس بزرگ نے اپنی ایک بیٹی کا نکاح موسیٰ ؑ سے کردیا اور اللہ تعالیٰ نے ”خیر“ کی تمام چیزیں ان کے لیے مہیا کردیں، جن کی انھیں ضرورت تھی۔ 3 سعید بن جبیر ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے اہل حیرہ کے ایک یہودی نے پوچھا کہ موسیٰ ؑ نے دو مدتوں میں سے کون سی مدت پوری کی تھی ؟ میں نے کہا، مجھے معلوم نہیں جب تک میں عرب کے عالم کے پاس جا کر پوچھ نہ لوں۔ چناچہ میں ابن عباس ؓ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا تو انھوں نے فرمایا : ”انھوں نے وہ مدت پوری کی جو دونوں میں زیادہ اور بہتر تھی (یعنی دس سال)۔ اللہ کا رسول جب بات کرتا ہے تو اسے پورا کرتا ہے (یعنی ایسا شخص جو آئندہ رسول بننے والا ہے، وہی مدت پوری کرے گا جو زیادہ کامل ہے)۔“ [ بخاري، الشہادات، باب : 2684 ] یہ ابن عباس ؓ کا قول ہے اور بظاہر یہ ان کا اجتہاد ہے۔ ابن کثیر ؓ نے اس مفہوم کی متعدد روایات نبی کریم ﷺ سے بھی نقل کی ہیں، مگر سند کے لحاظ سے سب میں کلام ہے، اگرچہ ان سے ابن عباس ؓ کے قول کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔ حافظ ابن کثیر نے فرمایا :”فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ“ سے بھی یہ بات نکلتی ہے کہ موسیٰ ؑ نے وہ مدت پوری کی تھی جو زیادہ کامل تھی اور جس میں ان کے سسر کے ساتھ زیادہ حسن سلوک پایا جاتا تھا، کیونکہ ”الاجل“ میں الف لام کا معنی کامل مدت ہے اور وہ مدت دس سال ہی ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَاذْكُرُوا اللّٰهَ فِيْٓ اَ يَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ ۭ فَمَنْ تَعَـجَّلَ فِيْ يَوْمَيْنِ فَلَآ اِثْمَ عَلَيْهِ ۚ وَمَنْ تَاَخَّرَ فَلَآ اِثْمَ عَلَيْهِ ۙ لِمَنِ اتَّقٰى) [ البقرۃ : 203 ] ”پھر جو دو دنوں میں جلد چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو تاخیر کرے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں، اس شخص کے لیے جو ڈرے۔“ ظاہر ہے جو شخص ایام تشریق کا تیسرا دن بھی پورا کرے وہ زیادہ کامل ہے۔ 3 شاہ عبدالقادر فرماتے ہیں : ”ہمارے حضرت ﷺ بھی وطن سے نکلے، سو آٹھ برس پیچھے آکر مکہ فتح کیا، اگر چاہتے اسی وقت شہر خالی کرواتے کافروں سے۔ دس برس پیچھے پاک کیا۔“ (موضح)
Ayah 28:29

فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَهْلِهٖۤ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 28:29 in the Quran reader

پھر جب موسیٰ نے وہ مدت پوری کردی اور اپنے گھر والوں کو لے کر چلا تو اس نے پہاڑ کی طرف سے ایک آگ دیکھی، اپنے گھر والوں سے کہا تم ٹھہرو، بیشک میں نے ایک آگ دیکھی ہے، ہوسکتا ہے کہ میں تمہارے لیے اس سے کوئی خبر لے آؤں، یا آگ کا کوئی انگارا، تاکہ تم تاپ لو۔

فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَسَارَ بِاَهْلِهٖٓ : اہل کتاب اور اکثر مسلمان مفسرین کا کہنا ہے کہ ان دس سالوں کے دوران وہ فرعون فوت ہوگیا جس نے موسیٰ ؑ کی پرورش کی تھی اور اب اس کی جگہ اور فرعون حکمران تھا۔ (واللہ اعلم) موسیٰ ؑ نے جب وہ مدت پوری کرلی تو بیوی کو لے کر اپنے وطن جانے کے ارادے سے مدین سے روانہ ہوگئے۔ اس ارادے کی دلیل یہ ہے کہ طور اس راستے پر واقع ہے جو مدین سے مصر کی طرف جاتا ہے۔ ایک تو اپنے والدین اور بہن بھائیوں سے ملنے کا شوق تھا، دوسرے ہوسکتا ہے یہ خیال بھی ہو کہ لوگ اب تک اس واقعہ کو بھول چکے ہوں گے اور وہاں رہنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا۔۔ : ”جَذْوَةٍ“ لکڑی کا ٹکڑا جس کے سرے پر آگ ہو۔ یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ سورة طٰہٰ اور سورة نمل میں گزر چکا ہے۔
Ayah 28:30

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 28:30 in the Quran reader

تو جب وہ اس کے پاس آیا تو اسے اس بابرکت قطعہ میں وادی کے دائیں کنارے سے ایک درخت سے آواز دی گئی کہ اے موسیٰ ! بلاشبہ میں ہی اللہ ہوں، جو سارے جہانوں کا رب ہے۔

فَلَمَّآ اَتٰىهَا نُوْدِيَ۔۔ :”شَاطی الْوَادِ الْاَيْمَنِ“ کی تفسیر کے لیے دیکھے سورة مریم (52) اور طٰہٰ (80) ”مِنَ الشَّجَرۃِ“ جب موسیٰ ؑ اس آگ کے پاس آئے تو دیکھا کہ سرسبز درخت میں آگ لگی ہوئی ہے، جس سے جلنے کے بجائے درخت مزید سرسبز اور خوب صورت دکھائی دے رہا ہے۔ موسیٰ ؑ حیرت سے یہ منظر دیکھ ہی رہے تھے کہ درخت میں سے آواز آئی : ”اے موسیٰ ! بلاشبہ میں ہی اللہ ہوں جو رب العالمین ہے۔“ اِنِّىْٓ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ : دیکھیے سورة طٰہٰ (14) اللہ تعالیٰ نے یہاں موسیٰ ؑ کو دو ناموں کے ساتھ اپنا تعارف کروانے کا ذکر فرمایا ہے، ایک ”اللّٰهُ“ جو ذاتی نام ہے، جس میں اس کی ساری صفات آجاتی ہیں اور دوسرا ”رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ“ جو اللہ کے اسماء میں سے ایسا اسم ہے جس میں اس کی وہ تمام صفات آجاتی ہیں جن کے آثار آدمی کے مشاہدے میں آتے ہیں۔ سورة طٰہٰ میں بھی انھی دو اسماء کا ذکر ہے، جیسے فرمایا : (اِنِّىْٓ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ) [ طٰہٰ : 12 ] اور (اِنَّنِيْٓ اَنَا اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا) [ طٰہٰ : 14 ] یہاں بات مختصر کی ہے، سورة طٰہٰ میں ان اسماء کے تقاضے پر عمل کا بھی حکم دیا ہے، فرمایا : (اِنَّنِيْٓ اَنَا اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ اَكَادُ اُخْفِيْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا تَسْعٰي فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا يُؤْمِنُ بِهَا وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى) [ طٰہٰ : 14 تا 16 ] ”سو میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔ یقیناً قیامت آنے والی ہے، میں قریب ہوں کہ اسے چھپا کر رکھوں، تاکہ ہر شخص کو اس کا بدلا دیا جائے جو وہ کوشش کرتا ہے۔ سو تجھے اس سے وہ شخص کہیں روک نہ دے جو اس پر یقین نہیں رکھتا اور اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہے، پس تو ہلاک ہوجائے گا۔“ سورة نمل میں دو مزید صفات کا بھی ذکر ہے، فرمایا : (يٰمُوْسٰٓي اِنَّهٗٓ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ) [ النمل : 9 ] ”اے موسیٰ ! بیشک حقیقت یہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں، جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔“ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر ان تمام صفات کا ذکر فرمایا تھا، پھر ہر سورت میں اس کے مضمون کے مطابق ان میں سے چند صفات کا ذکر فرما دیا۔
Ayah 28:31

وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ١۫ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ Open ayah 28:31 in the Quran reader

اور یہ کہ اپنی لاٹھی پھینک۔ تو جب اس نے اسے دیکھا کہ حرکت کر رہی ہے، جیسے وہ ایک سانپ ہے تو پیٹھ پھیر کر چل دیا اور پیچھے نہیں مڑا۔ اے موسیٰ ! آگے آ اور خوف نہ کر، یقینا تو امن والوں سے ہے۔

وَاَنْ اَلْقِ عَصَاكَ : یہاں کچھ عبارت محذوف ہے کہ جب انھوں نے اپنی لاٹھی پھینکی تو وہ یکلخت سانپ بن گئی۔ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ۔۔ : تو جب اس نے اسے دیکھا کہ حرکت کر رہی ہے۔۔ ”جَانٌّ“ اور ”ثُعْبَانٌ“ کی تطبیق کے لیے دیکھیے سورة نمل (10)۔ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّلَمْ يُعَقِّبْ : یعنی اتنے خوف زدہ ہوئے کہ ایک جانب کو نہیں بلکہ پیٹھ دے کر بھاگ کھڑے ہوئے اور مڑ کر بھی نہیں دیکھا کہ کہیں وہ سانپ پیچھے نہ پہنچ جائے۔ يٰمُوْسٰٓي اَقْبِلْ وَلَا تَخَفْ : اللہ تعالیٰ نے آواز دی، اے موسیٰ ! مڑ کر بھاگنے کے بجائے آگے آ، کیونکہ تو امن والوں سے ہے۔ ”إِنَّ“ علت بیان کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ سورة طٰہٰ (21) میں بتایا : ”اسے پکڑ اور ڈر نہیں، ہم اسے پھر اس کی پہلی حالت میں لوٹا دیں گے۔“ مزید فوائد کے لیے سورة طٰہٰ (21) دیکھیے۔
Ayah 28:32

اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١٘ وَّ اضْمُمْ اِلَیْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 28:32 in the Quran reader

اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں داخل کر، وہ کسی عیب کے بغیر سفید (چمکدار) نکلے گا اور خوف سے (بچنے کے لیے) اپنا بازو اپنی جانب ملالے، سو یہ دونوں تیرے رب کی جانب سے فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف دو دلیلیں ہیں۔ بلاشبہ وہ ہمیشہ سے نافرمان لوگ ہیں۔

اُسْلُكْ يَدَكَ فِيْ جَيْبِكَ۔۔ : دوسری جگہ فرمایا : (اَدْخِلْ يَدَكَ فِيْ جَيْبِكَ) ”سِلْکٌ“ اس دھاگے کو کہتے ہیں جس میں موتی پروئے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے ان میں دھاگا مہارت اور احتیاط سے داخل کیا جاتا ہے، یعنی کسی گھبراہٹ کے بغیر اطمینان کے ساتھ اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو۔ دیکھیے سورة طٰہٰ (22)۔rnۡ وَّاضْمُمْ اِلَيْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ : موسیٰ ؑ کو جس مقصد کے لیے بھیجا جا رہا تھا، اس میں کئی مقامات ایسے آنے والے تھے جن میں آدمی شدید خوف کا شکار ہوجاتا ہے، بلکہ اسے اپنی جان کا خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔ دو عظیم الشان معجزوں کے ساتھ اس خوف کا علاج بھی بتادیا کہ جب بھی تمہیں کوئی خوف محسوس ہو اپنا بازو پہلو کے ساتھ اچھی طرح ملا لو، اس سے تمہارا دل مضبوط ہوجائے گا اور خوف دور ہوجائے گا۔ اہل علم فرماتے ہیں کہ خوف کے وقت کوئی شخص موسیٰ ؑ کی اقتدا میں یہ عمل کرے تو اس کا خوف ختم ہوجائے گا یا کم ہوجائے گا۔ (ان شاء اللہ) فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ۔۔ : یعنی لاٹھی کا سانپ بننا اور ہاتھ کا سفید چمک دار ہو کر نکلنا صرف آج اسی موقع کے لیے نہیں بلکہ یہ دونوں معجزے فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجتے ہوئے تمہیں نبوت کی دلیل اور سند کے طور پر عطا کیے گئے ہیں، کیونکہ وہ ہمیشہ سے نافرمان لوگ ہیں۔ انھیں دعوت دینے اور ان پر حجت تمام کرنے کے لیے ایسے ہی زبردست معجزوں کی ضرورت ہے۔ ”إِنَّ“ تعلیل کے لیے ہوتا ہے اور ”کَانَ“ میں ہمیشگی کا معنی پایا جاتا ہے۔
Ayah 28:33

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ Open ayah 28:33 in the Quran reader

کہا اے میرے رب ! بیشک میں نے ان میں سے ایک شخص کو قتل کیا ہے، اس لیے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔

قَالَ رَبِّ اِنِّىْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا۔۔ : موسیٰ ؑ نے یہ بات ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کے لیے نہیں کہی، بلکہ اس سلسلے میں پیش آنے والی مشکلات میں مدد کی درخواست کے لیے کہی۔ چناچہ ان خطرات کا ذکر کیا جو انھیں اس سلسلے میں نظر آرہے تھے اور اللہ تعالیٰ سے ان خطرات میں مدد کی ضمانت حاصل کرلی۔ (تفسیر بقاعی میں ہے کہ یہ پیش بینی اس جلیل القدر پیغمبر کی عادت مبارکہ تھی، دیکھیے انھوں نے کس طرح ہماری بھلائی کے لیے بار بار نبی کریم ﷺ کو تخفیف کی درخواست کے لیے اللہ تعالیٰ کی جناب میں واپس جانے کو کہا) ان میں سے پہلا خطرہ یہ بیان کیا کہ میں نے ان کا ایک آدمی قتل کیا ہے، اس لیے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے دعوت پیش کرنے سے پہلے ہی قتل کردیں گے۔
Ayah 28:34

وَ اَخِیْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِیَ رِدْاً یُّصَدِّقُنِیْۤ١٘ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِ Open ayah 28:34 in the Quran reader

اور میرا بھائی ہارون، وہ زبان میں مجھ سے زیادہ فصیح ہے، تو اسے میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج کہ میری تصدیق کرے، بیشک میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔

وَاَخِيْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّيْ لِسَانًا۔۔ : ”رِدْاً“ مددگار، دیوار کا پشتہ جو اسے مضبوط کرنے کے لیے لگایا جائے۔ بعض روایات میں ہے کہ ایک دفعہ بچپن میں موسیٰ ؑ نے فرعون کی ڈاڑھی پکڑ لی تو اس نے کہا، یہ وہی ہے جس کے ہاتھوں میری سلطنت کے زوال کی پیش گوئی کی گئی ہے، اس وجہ سے اس نے موسیٰ ؑ کو قتل کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا۔ آسیہ[ نے کہا، یہ بچہ ہے، اسے ان باتوں کی کیا خبر ؟ اس کے سامنے انگارا اور ہیرا رکھ کر دیکھ لو، جب موسیٰ ؑ کے سامنے انگارا اور ہیرا رکھ کر ان کی آزمائش کی جانے لگی اور موسیٰ ؑ ہیرے کی طرف ہاتھ بڑھانے لگے، تو جبریل ؑ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر انگارے کی طرف کردیا اور انھوں نے اسے اٹھا کر منہ میں ڈال لیا، جس سے ان کی زبان جل گئی اور لکنت پیدا ہوگئی۔ مگر یہ حکایت کسی معتبر ذریعے سے ثابت نہیں۔ البتہ سورة طٰہٰ (25 تا 28) میں مذکور موسیٰ ؑ کی دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی زبان میں کچھ گرہ تھی جس کی وجہ سے انھیں بات سمجھانے میں دقت پیش آتی تھی اور انھوں نے اسے دور کرنے کی دعا کی تھی۔ فرعون نے بھی انھیں اس بات کا طعن دیا تھا : (اَمْ اَنَا خَيْرٌ مِّنْ ھٰذَا الَّذِيْ هُوَ مَهِيْنٌ ڏ وَّلَا يَكَادُ يُبِيْنُ) [ الزخرف : 52 ] ”بلکہ میں اس شخص سے بہتر ہوں، وہ جو حقیر ہے اور قریب نہیں کہ وہ بات واضح کرے۔“ یہاں دوسرا خطرہ انھوں نے یہ ذکر کیا ہے کہ بات پوری طرح واضح نہ کرسکنے کی وجہ سے میں ڈرتا ہوں کہ فرعون اور اس کے سردار مجھے جھٹلا دیں گے، ہارون کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے، اگر بحث کی نوبت آگئی تو وہ میرے مددگار ثابت ہوں گے، اس لیے انھیں میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج کہ میری تصدیق کریں، یعنی حق کو خوب کھول کر بیان کریں، کفار کے اعتراضات کا ایسا جواب دیں کہ انھیں جھٹلانے کی جرأت نہ ہو۔ سورة طٰہٰ (29 تا 36) میں یہ بات زیادہ تفصیل سے مذکور ہے۔ ان آیات سے ظاہر ہے کہ موسیٰ ؑ رسالت کی ذمہ داری بہترین طریقے سے ادا کرنے میں کس قدر مٰخلص اور اس کے لیے کتنے فکر مند تھے۔
Ayah 28:35

قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِیْكَ وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْكُمَا١ۛۚ بِاٰیٰتِنَاۤ١ۛۚ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 28:35 in the Quran reader

کہا ہم تیرے بھائی کے ساتھ تیرا بازو ضرور مضبوط کریں گے اور تم دونوں کے لیے غلبہ رکھیں گے، سو وہ تم تک نہیں پہنچیں گے، ہماری نشانیوں کے ساتھ تم دونوں اور جنھوں نے تمہاری پیروی کی، غالب آنے والے ہو۔

قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيْكَ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کی دعا قبول فرمائی اور تین باتوں کا وعدہ فرمایا، پہلا یہ کہ ہم ہارون کو نبی بنا کر تمہارا بازو ضرور مضبوط کریں گے (سین تاکید کے لیے ہے) ، وہ تمہارے ساتھ فرعون کے دربار میں جائیں گے۔ بعض سلف نے فرمایا، کسی بھائی پر اس کے بھائی کا اتنا بڑا احسان نہیں جتنا بڑا احسان موسیٰ ؑ کا ہارون ؑ پر ہے کہ ان کی شفاعت سے انھیں نبوت مل گئی، اس سے اللہ تعالیٰ کے ہاں موسیٰ ؑ کا مرتبہ بھی معلوم ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَكَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِيْهًا) [ الأحزاب : 69 ] ”اور وہ (یعنی موسیٰ ؑ اللہ کے ہاں بہت مرتبے والا تھا۔“ فَلَا يَصِلُوْنَ اِلَيْكُمَا ڔبِاٰيٰتِنَآ : دوسرا وعدہ یہ کہ فرعونیوں کے مقابلے میں تم دونوں کو ہم ایسا غلبہ اور دبدبہ عطا کریں گے کہ ہمارے معجزے تمہارے ساتھ ہونے کی وجہ سے وہ تم تک پہنچ نہیں پائیں گے اور نہ کسی قسم کی دست درازی کرسکیں گے۔ چناچہ بعد میں ایسے ہی ہوا کہ فرعون اور اس کے سرداروں کو تمام تر اسباب و وسائل اور اسلحہ و افواج کے باوجود کبھی اس بات کی جرأت و ہمت نہ ہوسکی کہ ان پر کسی طرح ہاتھ اٹھا سکیں۔ یہ تفسیر ”بایتنا“ کو ”فلا یصلون“ کے متعلق کرنے کی صورت میں ہے۔ بِاٰيٰتِنَآ ڔ اَنْتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ : یہ تیسرا وعدہ ہے کہ تم دونوں اور تمہارے پیروکار ہی آخر کار غالب ہوں گے۔ ”بِاٰيٰتِنَآ“ کو ”الْغٰلِبُوْنَ“ کے متعلق کرنے سے معنی یہ ہوگا کہ تم دونوں اور تمہارے پیروکار ہی ہمارے معجزات کی بدولت غالب رہو گے۔ یہ مضمون کہ رسول اور ان کے پیروکار ہی آخر غالب ہوں گے، قرآن میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے۔ دیکھیے سورة مومن (51) اور مجادلہ (21)۔
Ayah 28:36

فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 28:36 in the Quran reader

تو جب موسیٰ ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آیا تو انھوں نے کہا یہ تو ایک گھڑے ہوئے جادو کے سوا کچھ نہیں اور ہم نے یہ اپنے پہلے باپ دادا میں نہیں سنا۔

فَلَمَّا جَاۗءَهُمْ مُّوْسٰي بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ۔۔ : موسیٰ ؑ یہ ذمہ داری لے کر وادی طویٰ سے واپس لوٹے۔ درمیان کی بات قرآن نے یہاں چھوڑ دی ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ اپنے گھر آئے۔ والدین اور بھائی بہنوں سے ملاقات کی، ہارون ؑ کو نبوت عطا ہونے کا ماجرا سنایا، پھر دونوں بھائی فرعون اور اس کے سرداروں کو دعوت دینے کے لیے ان کے دربار میں پہنچے اور انھیں توحید الٰہی کی دعوت دی اور انھیں اللہ کی طرف سے اپنی رسالت کا اور بنی اسرائیل کو آزادی دینے کا حکم سنایا۔ موسیٰ ؑ کی یہ دعوت سورة طٰہٰ (47 تا 54) اور شعراء (16 تا 33) میں تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔ جب فرعون نے ان کی دعوت قبول کرنے سے انکار کیا تو انھوں نے اپنی رسالت کی دلیل کے طور پر عصا اور ید بیضا کا معجزہ پیش کیا۔ فرعون کے پاس ان معجزوں کا کوئی جواب نہیں تھا، وہ دل سے موسیٰ ؑ کے سچا نبی ہونے کو مان چکا تھا۔ دیکھیے بنی اسرائیل (102) اور نمل (14) مگر اس نے اپنی قوم کو بیوقوف بنانے کے لیے دو باتیں کہیں، ایک یہ کہ تمہارا عصا اور ید بیضا سحر مفتری ہے، یعنی تمہارا گھڑا ہوا اور بنایا ہوا جادو ہے، حقیقت اس کی کچھ نہیں۔ سورة اعراف (109 تا 126) ، طٰہٰ (55 تا 76) اور شعراء (34 تا 51) میں اس کے جادوگر جمع کر کے ان معجزات کے مقابلے کا اور جادوگروں کے ناکام ہو کر مسلمان ہوجانے کا ذکر گزر چکا ہے۔ دوسری بات اس نے یہ کہی کہ ہم نے توحید کی یہ دعوت اپنے پہلے آبا و اجداد میں نہیں سنی۔ فرعون کی اس بات کی بنیاد محض آبا و اجداد کی تقلید تھی، جو ان لوگوں کی دلیل ہوتی ہے جن کے پاس کوئی دلیل نہ ہو اور وہ محض ہٹ دھرمی سے کسی غلط بات پر ڈٹ جائیں۔ بھلا یہ بھی کوئی دلیل ہے کہ میں نے خسارے کا سودا کرنا ہی کرنا ہے، کیونکہ میرے باپ نے خسارے کا سودا کیا تھا۔ فرعون ہی نہیں تمام باطل پرستوں کے پاس حق کے انکار کا یہی بہانہ ہوتا ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (170)۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ فرعون کا یہ کہنا جھوٹ تھا کہ ہم نے اپنے پہلے آباء میں یہ بات نہیں سنی، کیونکہ اس سے پہلے مصر میں یوسف ؑ گزر چکے تھے جو قید خانے میں بھی توحید کی دعوت کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے، جیسا کہ قریش مکہ کا یہ کہنا جھوٹ تھا کہ ہم نے اپنے آباء میں یہ بات نہیں سنی، حالانکہ ان کے آبا و اجداد میں ابراہیم اور اسماعیل ؑ تھے جو بتوں کو توڑنے والے تھے اور توحید الٰہی کے زبردست علمبردار تھے، مگر فرعون اور قریش مکہ نے صرف ان آباء کو دلیل بنایا جو عقل و ہدایت دونوں سے خالی تھے، فرمایا : (اَوَلَوْ كَانَ اٰبَاۗؤُھُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ شَـيْــــًٔـا وَّلَا يَهْتَدُوْنَ) [ البقرۃ : 170 ]”کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے ہوں اور نہ ہدایت پاتے ہوں۔“
Ayah 28:37

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى مِنْ عِنْدِهٖ وَ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 28:37 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا میرا رب اسے زیادہ جاننے والا ہے جو اس کے پاس سے ہدایت لے کر آیا اور اس کو بھی جس کے لیے اس گھر کا اچھا انجام ہوگا، بیشک حقیقت یہ ہے کہ ظالم کامیاب نہیں ہوتے۔

وَقَالَ مُوْسٰي رَبِّيْٓ اَعْلَمُ بِمَنْ جَاۗءَ بالْهُدٰى۔۔ : مفسرین کہتے ہیں کہ بظاہر فرعون کی بات نقل کرنے کے بعد موسیٰ ؑ کی بات نقل کرنے کے لیے ”قال“ ہی کافی تھا، ”واؤ“ کی ضرورت نہ تھی، مگر دونوں کی بات کا موازنہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ”واؤ“ کا ذکر کیا کہ فرعون نے یہ کہا اور موسیٰ ؑ نے یہ کہا۔ 3 موسیٰ ؑ کا یہ کلام اللہ تعالیٰ کی اس تلقین پر عمل کا ایک خوب صورت نمونہ ہے، جو اللہ تعالیٰ نے انھیں فرعون کی طرف بھیجتے ہوئے کی تھی، فرمایا : (فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى) [ طٰہٰ : 44 ] ”پس اس سے بات کرو، نرم بات، اس امید پر کہ وہ نصیحت حاصل کرلے، یا ڈر جائے۔“ فرعون کی ہٹ دھرمی کے جواب میں انھوں نے اسے جھوٹا کہنے یا کوئی سخت بات کرنے کے بجائے نرم لہجہ اختیار کرتے ہوئے فرمایا کہ میرا رب زیادہ جاننے والا ہے کہ اس کے پاس سے ہدایت لے کر کون آیا ہے اور اس گھر کا اچھا انجام کس کا ہوتا ہے ؟ ہاں ! اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ظالم لوگ کبھی فلاح نہیں پاتے۔ یہ اس طرح کی بات ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ قُلِ اللّٰهُ ۙ وَاِنَّآ اَوْ اِيَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ قُلْ لَّا تُسْـَٔــلُوْنَ عَمَّآ اَجْرَمْنَا وَلَا نُسْـَٔــلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ قُلْ يَجْمَعُ بَيْـنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَـحُ بَيْـنَنَا بالْحَقِّ ۭ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِـيْمُ) [ سبا : 24 تا 26 ]”کہہ تمہیں آسمانوں اور زمین سے رزق کون دیتا ہے ؟ کہہ دے اللہ۔ اور بیشک ہم یا تم ضرور ہدایت پر ہیں، یا کھلی گمراہی میں ہیں۔ کہہ دے نہ تم سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا جو ہم نے جرم کیا اور نہ ہم سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا جو تم کرتے ہو۔ کہہ ہم سب کو ہمارا رب جمع کرے گا، پھر ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور وہی خوب فیصلہ کرنے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔“ عَاقِبَةُ الدَّارِ : آلوسی نے فرمایا : ”الدار“ (اس گھر) سے مراد دنیا ہے، اس کا اچھا انجام ایسا خاتمہ ہے جو انسان کو اللہ کے فضل و کرم کے ساتھ جنت میں لے جائے۔“
Ayah 28:38

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرِیْ١ۚ فَاَوْقِدْ لِیْ یٰهَامٰنُ عَلَى الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى١ۙ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 28:38 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا اے سردارو ! میں نے اپنے سوا تمہارے لیے کوئی معبود نہیں جانا، تو اے ہامان ! میرے لیے مٹی پر آگ جلا، پھر میرے لیے ایک اونچی عمارت بنا، تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانکوں اور بیشک میں یقینا اسے جھوٹوں میں سے گمان کرتا ہوں۔

وَقَالَ فِرْعَوْنُ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ : سرکش اور مغرور فرعون پر موسیٰ ؑ کی اتنی نرم اور حلم والی بات کا کچھ اثر نہیں ہوا، بلکہ اس نے اپنے سرداروں کو مخاطب کر کے لاف زنی شروع کردی، کہ ”اے سردارو ! میں نے اپنے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں جانا۔“ اس سے فرعون کے تکبر کا اور اس کی حماقت کا اندازہ ہوتا ہے۔ گویا وہ انھیں کہہ رہا تھا کہ مجھے معلوم نہیں کہ میرے سوا تمہارا کوئی معبود ہو اور جو مجھے معلوم نہیں وہ ہے ہی نہیں۔ بتائیے اس سے بڑی بےوقوفی کیا ہوگی۔ تمہیں تو یہ تک معلوم نہ ہوسکا کہ تمہارے گھر میں کس کی پرورش ہو رہی ہے ؟ اس کی قوم کے سرداروں نے بھی اس کی اس یا وہ گوئی پر خاموش رہ کر اس کی تائید کی، جو ان کی جہالت اور بزدلی کی انتہا تھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِيْنَ) [ الزخرف : 54 ] ”غرض اس نے اپنی قوم کو ہلکا (بےوزن) کردیا تو انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقیناً وہ نافرمان لوگ تھے۔“ 3 استاذ محمد عبدہ ؓ لکھتے ہیں : ”شاہ صاحب ؓ نے یہاں ”الٰہ“ (خدا) کا ترجمہ حاکم کیا ہے اور یہی بات صحیح معلوم ہوتی ہے، کیونکہ فرعون اپنے آپ کو ارض و سماء کا خالق اور معبود نہیں سمجھتا تھا، بلکہ وہ خود بہت سے دیوتاؤں کی پرستش کرتا تھا۔ پس فرعون کا مطلب یہ تھا کہ میں ہی تمہارا مطاع اور حاکم مطلق ہوں، میرے سوا کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا، جس کی فرماں برداری کی جائے۔“ (اشرف الحواشی) فرعون کے رب اعلیٰ ہونے کے دعوے کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (127) کی تفسیر۔ فَاَوْقِدْ لِيْ يٰهَامٰنُ عَلَي الطِّيْنِ۔۔ : اپنے اس دعوے کے ساتھ کہ مجھے اپنے سوا تمہارا کوئی الٰہ معلوم نہیں، فرعون نے یہ دکھانے کے لیے کہ واقعی اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اپنے وزیر ہامان کو حکم دیا کہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ یہاں قرآن مجید کے الفاظ کے انتخاب پر توجہ فرمائیں، عربی زبان میں پکی اینٹ کے لیے ”آجُرٌّ، طُوْبٌ“ اور ”قَرْمَدٌ“ وغیرہ الفاظ استعمال ہوتے ہیں، مگر ان سب کی ادائیگی میں ایک قسم کا ثقل پایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بجائے فرمایا : (فَاَوْقِدْ لِيْ يٰهَامٰنُ عَلَي الطِّيْنِ) ”تو اے ہامان ! میرے لیے مٹی پر آگ جلا“ اس جملے میں پختہ اینٹ بنانے کا طریقہ بھی بیان ہوگیا، ہامان کو اس کی تیاری کا حکم بھی اور اس جملے کے کسی لفظ میں کسی قسم کا کوئی ثقل بھی نہیں آیا، سب حروف متناسب اور سلیس ہیں۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ پختہ اینٹ بنانے کی ابتدا ہامان نے فرعون کے حکم سے کی، مگر اس کی کوئی پختہ دلیل نہیں کہ اس سے پہلے پختہ اینٹیں نہیں بنتی تھیں۔ فَاجْعَلْ لِّيْ صَرْحًا۔۔ : لوگوں کو بیوقوف بنانے کے لیے اس نے یہ حکم دیا کہ پختہ اینٹیں تیار کر کے میرے لیے ایک بلند و بالا محل بنا، تاکہ میں اس پر چڑھ کر موسیٰ کے رب کو دیکھوں، کیونکہ میں تو اسے جھوٹا ہی گمان کرتا ہوں۔ فرعون کی یہ بات سورة مومن (36، 37) میں بھی بیان ہوئی ہے۔ قرآن مجید یا حدیث میں یہ ذکر نہیں کہ اس نے وہ محل بنایا یا نہیں۔ بغوی نے ذکر کیا ہے کہ ہامان نے کاریگر اور مزدور جمع کیے، حتیٰ کہ پچاس ہزار مستری جمع ہوگئے۔ مزدور اور کارکن اس کے علاوہ تھے۔ اسی طرح اینٹیں پکانے والے، چونا بنانے والے، لکڑی اور لوہے کا کام کرنے والے بھی ان کے علاوہ تھے۔ ان سب نے وہ عمارت بنائی جو اتنی بلند تھی کہ مخلوق میں سے کسی نے اتنی بلند عمارت نہیں بنائی۔ جب وہ فارغ ہوئے تو فرعون اس کے اوپر چڑھا اور اس نے آسمان کی طرف تیر پھینکنے کا حکم دیا، وہ واپس آیا تو خون سے لت پت تھا۔ کہنے لگا، میں نے موسیٰ کے معبود کو قتل کردیا۔ فرعون گھوڑے کے ساتھ اس پر چڑھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے سورج غروب ہونے کے قریب جبریل ؑ کو بھیجا، انھوں نے اس عمارت پر اپنا پر مارا اور اسے تین ٹکڑوں میں کاٹ دیا۔ ایک ٹکڑا فرعون کے لشکر پر گرا، جس نے ان میں سے دس لاکھ آدمیوں کو ہلاک کردیا، ایک ٹکڑا سمندر میں گرا اور ایک ٹکڑا مغرب میں جا گرا اور اس عمارت کے بنانے میں جس نے کچھ بھی کام کیا تھا، کوئی باقی نہ رہا۔ طبری نے اسے اختصار کے ساتھ سدی سے بیان کیا ہے۔ قرطبی نے اسے ذکر کر کے اس کے کمزور ہونے کی طرف یہ کہہ کر اشارہ کیا ہے : ”وَاللّٰہُ أَعْلَمُ بِصِحَّۃِ ذٰلِکَ“ کہ اس روایت کی صحت کے بارے میں اللہ ہی بہتر جانتے ہیں۔ اسرائیلی روایات کی یہی مصیبت ہے کہ ان کی کوئی سند ہوتی ہے نہ ان کا سرا کہیں جا کر ملتا ہے۔ اس زمانے میں صرف مصر کے اندر دس لاکھ کے لشکر کی بات بھی قابل توجہ ہے۔ حقیقت یہی معلوم ہوتی ہے اور اکثر مفسرین نے اسی کو اختیار کیا ہے کہ یہ فرعون کی محض گیدڑ بھبکی تھی، جس کے ساتھ وہ اپنی قوم کو بیوقوف بنا رہا تھا۔ اینٹیں بنانے کا حکم بھی اس نے معاملے کو لٹکانے کے لیے دیا، ورنہ مصری لوگوں کو اینٹوں کی ضرورت ہی نہ تھی، جو لوگ اہرام مصر اتنے بڑے بڑے پتھروں سے بنا سکتے ہیں، جن میں سے ہر پتھر کا حجم عام کمرے کے مکمل حجم کے برابر ہے، انھیں اینٹیں پکانے کی ضرورت کیا تھی۔ یہ صرف وقت گزاری کی کارروائی تھی، ویسے بلند و بالا پہاڑوں کے ہوتے ہوئے اینٹوں سے عمارت بنانے کا حکم دینا، جو کسی طرح بھی پہاڑوں جتنی بلند نہیں ہوسکتی، محض دھوکا تھا۔ جیسا کہ اس نے اپنے سرداروں سے کہا تھا : (ذَرُوْنِيْٓ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَلْيَدْعُ رَبَّهٗ) [ المؤمن : 26 ] ”(اور فرعون نے کہا) مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کر دوں اور وہ اپنے رب کو پکارے۔“ بندہ پوچھے تمہیں کس نے پکڑا ہوا ہے، جسے چھوڑنے کے لیے کہہ رہے ہو ! ہمت ہے تو ہاتھ بڑھا کر تو دیکھو۔ 3 مفسر عبدالرحمان کیلانی ؓ لکھتے ہیں : ”یہ بات دراصل اس نے اپنی رعایا کو اُلّو بنانے اور ان سے دعوت حق کے اثر کو زائل کرنے کے لیے کہی تھی اور یہ بالکل ایسی ہی بات تھی جیسی چند برس پیشتر روس نے، جو ایک کمیونسٹ اور دہریت پسند ملک ہے، کہی تھی۔ اس نے اپنا ایک سپوتنک طیارہ چھوڑا جو چند لاکھ میل بلندی تک پہنچا تو واپسی پر ان لوگوں نے یہ دعویٰ کردیا کہ ہم اتنے لاکھ میل کی بلندی تک ہو آئے ہیں، مگر ہمیں مسلمانوں کا خدا کہیں نہیں ملا۔ یعنی ان احمقوں کا یہ خیال تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی ہستی موجود ہے تو یہی چند لاکھ میلوں کی بلندی پر ہی ہوسکتی ہے اور اس واقعہ کو بھی انھوں نے لوگوں کو اُلّو بنانے کے لیے ہی سائنٹفک دلیل کے طور پر پیش کیا، حالانکہ یہی لوگ جب کائنات کی وسعت کا حال بتاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ سورج ہماری زمین سے 9 کروڑ 30 لاکھ میل دور ہے اور زمین اس کے گرد گردش کر رہی ہے۔ یہ اس سورج کا تیسرا سیارہ ہے اور سورج کے گرد نواں سیارہ پلوٹو گردش کرتا ہے، جو سورج سے 3 ارب 68 کروڑ میل کے فاصلے پر ہے۔ نیز یہ کہ اس کائنات میں نظام شمسی میں سورج ایک ستارہ یا ثابت ہے اور کائنات میں ایسے ہزاروں ستارے یا ثوابت مشاہدہ کیے جا چکے ہیں اور یہ ستارے یا سورج ہمارے سورج سے جسامت کے لحاظ سے بہت بڑے ہیں۔ ہمارے سورج سے بہت دور تقریباً 400 کھرب کلومیٹر کے فاصلے پر ایک سورج موجود ہے، جو ہمیں محض روشنی کا ایک چھوٹا سا نقطہ معلوم ہوتا ہے۔ اس کا نام قلب عقرب ہے۔ اگر اسے اٹھا کر ہمارے نظام شمسی میں رکھا جائے تو سورج سے مریخ تک کا تمام علاقہ اس میں پوری طرح سما جائے گا، جبکہ مریخ کا سورج سے فاصلہ 14 کروڑ 15 لاکھ میل ہے، گویا قلب عقرب کا قطر 28 کروڑ 30 لاکھ میل کے لگ بھگ ہے۔ پھر جب کائنات میں ہر سو بکھرے سیاروں کے فاصلے کھربوں میل کے عدد سے بھی تجاوز کر گئے تو ہیئت دانوں نے نوری سال کی اصطلاح ایجاد کی، جس کا مطلب یہ ہے کہ روشنی ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہے۔ اس لحاظ سے ہماری زمین سے سورج کا فاصلہ جو حقیقتاً 9 کروڑ 30 لاکھ میل ہے، روشنی کا یہ سفر آٹھ منٹ کا سفر ہے، گویا سورج ہم سے آٹھ نوری منٹ کے فاصلے پر ہے۔ اب کائنات میں ایسے سیارے بھی موجود ہیں جو ایک دوسرے سے ہزارہا بلکہ لاکھوں نوری سالوں کے فاصلے پر ہیں۔ یہ تو ہے کائنات کی وسعت کا وہ مطالعہ جو انسان کرچکا ہے اور جو ابھی انسان کے علم میں نہیں آسکا، وہ اللہ بہتر جانتا ہے۔ اب کیا وہ ہستی جو ان ساری چیزوں کی خالق اور ان سب سے اوپر ہے، کیا یہ احمق اسے چند لاکھ میلوں کی بلندی پر پالیں گے ؟ نیز وہ سمجھ رہے ہیں جیسے وہ کوئی مادی جسم ہے، جو ان کی گرفت میں آسکتا ہے۔ [ قٰتَلَھُمُ اللہ انی یوفکون ] اس سے بڑی حماقت ان روسی داناؤں نے یہ کی کہ اپنی سائنٹفک تحقیق کو اپنے سکولوں میں پڑھانا شروع کردیا، تو ایک لڑکی کے منہ سے بےساختہ یہ جملہ نکل گیا کہ جہاں تک سپوتنک میزائل پہنچا تھا اللہ تعالیٰ اس سے بہت اوپر تھا۔ فرعون نے بھی ہامان سے ایسی ہی بات کہی تھی، جس سے لوگوں کو اللہ کی ہستی کے بارے میں شک میں مبتلا کر دے، ورنہ عملاً نہ ہامان نے کوئی ایسا اونچا محل یا مینار بنایا تھا اور نہ ہی فرعون کا یہ مقصد تھا۔“ وَاِنِّىْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ : یعنی موسیٰ جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ آسمانوں پر رب ہے جو ساری کائنات کو پالنے والا ہے، میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔
Ayah 28:39

وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:39 in the Quran reader

اور وہ اور اس کے لشکر کسی حق کے بغیر زمین میں بڑے بن بیٹھے اور انھوں نے گمان کیا کہ بیشک وہ ہماری طرف واپس نہیں لائے جائیں گے۔

وَاسْـتَكْبَرَ هُوَ وَجُنُوْدُهٗ فِي الْاَرْضِ : ”الْاَرْضِ“ سے مراد زمین مصر ہے۔ یعنی بڑائی کا حق تو صرف اللہ رب العالمین کو ہے، مگر یہ لوگ ایک ذرا سے ملک میں اقتدار پا کر یہ سمجھ بیٹھے کہ بس ہم ہی بڑے ہیں۔ وَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ اِلَيْنَا لَا يُرْجَعُوْنَ : یعنی چند روزہ اقتدار پاکر وہ سمجھ بیٹھے کہ ان کے اوپر کوئی ہستی نہیں، جس کے سامنے مر کر انھیں پیش ہونا ہے، لہٰذا کھلی چھٹی ہے جو چاہیں کریں اور ملک میں جو فساد پھیلانا چاہیں پھیلاتے رہیں۔
Ayah 28:40

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:40 in the Quran reader

تو ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا، پھر انھیں سمندر میں پھینک دیا۔ سو دیکھ ظالموں کا انجام کیسا تھا۔

فَاَخَذْنٰهُ وَجُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِي الْيَمّ : ”نَبَذَ یَنْبِذُ“ پھینک مارنا۔ اس مقام پر درمیان کے بہت سے واقعات چھوڑ دیے گئے ہیں، جو دوسرے مقامات پر مذکور ہیں، یہاں صرف ان کے انجام کی خبر دی گئی ہے۔ ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے جھوٹے تکبر کے مقابلے میں ان کے بےحقیقت ہونے کی تصویر کھینچ دی ہے کہ وہ جو اپنے آپ کو بہت بڑی چیز سمجھ بیٹھے تھے، جب وہ مہلت ختم ہوگئی جو اللہ تعالیٰ نے انھیں راہ راست پر آنے کے لیے دی تھی تو انھیں کوڑے کرکٹ کی طرح سمندر میں پھینک دیا گیا۔ فَانْــظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيْنَ : اس میں ہر عبرت حاصل کرنے والے شخص کو ان کے انجام سے عبرت حاصل کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جو انجام ان کا ہوا وہی انجام ان لوگوں کا ہوگا جو رسول اللہ ﷺ کو جھٹلائیں گے۔
Ayah 28:41

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 28:41 in the Quran reader

اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو آگ کی طرف بلاتے تھے اور قیامت کے دن ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔

وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ : ”اَىِٕمَّةً“ ”إِمَامٌ“ کی جمع ہے، جس کی پیروی کی جائے، جیسا کہ نماز میں مقتدی امام کی پیروی کرتا ہے۔ امامت نیکی میں بھی ہوتی ہے اور برائی میں بھی، جیسا کہ ابراہیم، اسحاق اور یعقوب ؑ کے متعلق فرمایا : (وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا) [ الأنبیاء : 73 ] ”اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو ہمارے حکم کے ساتھ رہنمائی کرتے تھے۔“ برائی میں امامت کی مثال فرعون اور اس کے لشکر تھے۔ فرمایا، ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو آگ کی طرف بلاتے تھے، یعنی جب تک زندہ رہے کفر میں لوگوں کے پیشوا رہے اور اپنے قول و فعل سے انھیں کفر کی دعوت دیتے رہے، جس کا نتیجہ آگ ہے۔ اسی طرح یہ قیامت کے دن بھی امام اور پیشوا ہوں گے، مگر آگ کی طرف، فرمایا : (يَـقْدُمُ قَوْمَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ ۭ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ) [ ھود : 98 ] ”وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے ہوگا، پس انھیں پینے کے لیے آگ پر لے آئے گا اور وہ پینے کی بری جگہ ہے، جس پر پینے کے لیے آیا جائے۔“ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَا يُنْصَرُوْنَ : یعنی یہاں کے لشکر وہاں کام نہ دیں گے، نہ کسی طرف سے کوئی مدد پہنچ سکے گی۔
Ayah 28:42

وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ۠ Open ayah 28:42 in the Quran reader

اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگادی اور قیامت کے دن وہ دور دفع کیے گئے لوگوں سے ہوں گے۔

وَاَتْبَعْنٰهُمْ فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً : یعنی دنیا میں جو بھی ان کا ذکر کرتا ہے ان پر لعنت بھیجتا ہے۔ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِيْنَ : ”الْمَقْبُوْحِيْنَ“ ”أَيْ مَطْرُوْدِیْنَ“ یعنی دور دفع کیے ہوئے، قبیح بنائے گئے۔ یعنی صرف دنیا ہی میں ان پر لعنت نہیں پڑے گی بلکہ قیامت کے دن بھی وہ اللہ کی رحمت سے دور کیے ہوئے ہوں گے، ان کی شکلیں قبیح ہوں گی اور چہرے بگڑے ہوئے ہوں گے۔
Ayah 28:43

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:43 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، اس کے بعد کہ ہم نے پہلی نسلوں کو ہلاک کردیا، جو لوگوں کے لیے دلائل اور ہدایت اور رحمت تھی، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَآ اَهْلَكْنَا۔۔ : یہاں سے رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے دلائل اور اس پر اعتراضات کا جواب شروع ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک اعتراض یہ تھا کہ ہم نے یہ بات پہلے آبا و اجداد میں نہیں سنی، جیسا کہ فرمایا : (مَا سَمِعْنَا بِھٰذَا فِي الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ ښ اِنْ ھٰذَآ اِلَّا اخْتِلَاقٌ) [ ص : 7 ] ”ہم نے یہ بات آخری ملت میں نہیں سنی، یہ تو محض بنائی ہوئی بات ہے۔“ زیر تفسیر آیت سے پہلے آیت (36) میں گزرا ہے کہ یہی اعتراض فرعون اور اس کے سرداروں نے موسیٰ ؑ پر کیا تھا : (وَّمَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِيْٓ اٰبَاۗىِٕنَا الْاَوَّلِيْنَ) ”اور ہم نے یہ بات اپنے پہلے باپ دادا میں نہیں سنی۔“ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کی پیدائش سے لے کر فرعون کی ہلاکت تک کا واقعہ بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ ہم نے پہلی نسلوں قوم نوح، عاد، ثمود اور قوم لوط وغیرہ کو ہلاک کرنے کے بعد جب ہر طرف گمراہی اور ظلمت کا دور دورہ تھا، موسیٰ ؑ کو کتاب دی جو اس وقت کے لوگوں کے لیے ایسے دلائل لیے ہوئے تھی جن سے دل کی آنکھ روشن ہوتی ہے اور جو گمراہی سے نکال کر ہدایت میں لانے والی اور عذاب سے بچا کر رحمت کا مستحق بنانے والی تھی۔ اور یہ اعتراض بےکار تھا کہ ہم نے اپنے پہلے باپ دادا میں یہ بات نہیں سنی، کیونکہ اسی لیے تو موسیٰ ؑ کو مبعوث کیا گیا تھا کہ مدت دراز تک رسول نہ آنے کی وجہ سے لوگوں کو ہدایت اور روشنی کی ضرورت تھی۔ اسی طرح بنی اسماعیل میں ابراہیم اور اسماعیل ؑ کے بعد ہزاروں سال کا وقفہ واقع ہوجانے کی وجہ سے ان کی طرف رسول بھیجنے کی ضرورت تھی۔ بنی اسرائیل کی طرف آنے والے آخری رسول عیسیٰ ؑ کو بھی ایک عرصہ گزر چکا تھا۔ اس لیے نبی کریم ﷺ کو مبعوث کیا گیا، تاکہ بنی اسماعیل اور بنی اسرائیل میں سے کسی کے پاس یہ عذر نہ رہے کہ ہمارے پاس کوئی آگاہ کرنے والا نہیں آیا۔ یہی بات آگے آیت (47) میں آرہی ہے اور اس سے پہلے سورة مائدہ میں بھی گزر چکی ہے، فرمایا : (يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰي فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَاۗءَنَا مِنْۢ بَشِيْرٍ وَّلَا نَذِيْرٍ ۡ فَقَدْ جَاۗءَكُمْ بَشِيْرٌ وَّنَذِيْرٌ ۭ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ) [ المائدۃ : 19 ]”اے اہل کتاب ! بیشک تمہارے پاس ہمارا رسول آیا ہے، جو تمہارے لیے کھول کر بیان کرتا ہے، رسولوں کے ایک وقفے کے بعد، تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس نہ کوئی خوش خبری دینے والا آیا اور نہ ڈرانے والا، تو یقیناً تمہارے پاس ایک خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا آچکا ہے اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔“
Ayah 28:44

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَ مَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِیْنَۙ Open ayah 28:44 in the Quran reader

اور اس وقت تو مغربی جانب میں نہیں تھا جب ہم نے موسیٰ کی طرف حکم کی وحی کی اور نہ تو حاضر ہونے والوں سے تھا۔

وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ۔۔ : ”بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ“ میں ”جَانِبٌ“ موصوف ہے جو اپنی صفت کی طرف مضاف ہے اور یہ کلام عرب میں عام ہے، جیسے ”مَسْجِدُ الْجَامِعِ ، دِیْنُ الْقَیِّمِ ، حَقُّ الْیَقِیْنِ“ اور ”دَارُ الْآخِرَۃِ۔“ بعض نحوی حضرات جو موصوف کو صفت کی طرف مضاف کرنا جائز نہیں سمجھتے، وہ ان سب مقامات میں کوئی نہ کوئی لفظ محذوف مانتے ہیں، مثلاً ”بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ“ کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ یہ اصل میں ”بِجَانِبِ الْمَکَانِ الْغَرْبِيِّ“ ہے۔ مگر اس تکلف کی ضرورت نہیں۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مغربی جانب سے کس مقام کی مغربی جانب مراد ہے ؟ کیونکہ ہر جگہ ہی کسی نہ کسی لحاظ سے مغربی ہوتی ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ عرب کے ہاں سمتوں کے تعین کے لیے بیت اللہ کو اصل قرار دیا گیا ہے۔ بیت اللہ کو سامنے رکھ کر مشرق کی طرف منہ کریں تو دائیں طرف کے علاقے کو یمن (دایاں) کہتے ہیں، بائیں طرف کو شام (بایاں) اور سامنے کے علاقے کو جانب شرقی کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے مشرق کی طرف منہ کر کے فرمایا : (أَلَا إِنَّ الْفِتْنَۃَ ھٰھُنَا مِنْ حیْثُ یَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ) [ مسلم، الفتن و أشراط الساعۃ، باب الفتنۃ من المشرق۔۔ : 2905۔ بخاري : 3511 ] ”آگاہ ہوجاؤ ! اس (یعنی مشرق کی) طرف سے فساد پھوٹے گا، جدھر سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔“ اور بیت اللہ سے مغرب کی جانب والے علاقوں کو ”جانب غربی“ کہا جاتا ہے۔ امرء القیس نے ایک بادل کا محل وقوع بیان کرتے ہوئے کہا ہے ؂؂ عَلٰی قَطَنٍ بالشَّیْمِ أَیْمَنُ صَوْبِہِ وَ أَیْسَرُہُ عَلَی السِّتَارِ فَیَذْبُلِ ”غور سے دیکھنے پر اس کی بارش کا دایاں حصہ قطن مقام پر تھا اور اس کا بایاں حصہ ستار پھر یذبل نامی مقام پر تھا۔“ یہاں دائیں اور بائیں جانب سے مراد مشرق کی طرف منہ کرنے کے بعد دائیں اور بائیں جانب مراد ہے۔ واضح رہے کہ موسیٰ ؑ کو جب طور سے ندا آئی تو اس وقت وہ طور سے اس جانب میں تھے جو کعبہ کی طرف رخ کرنے سے اس کی غربی جانب بنتی ہے اور اس وقت وہ جس وادی میں تھے وہ موسیٰ ؑ کے کعبہ کی طرف رخ کرنے کی صورت میں پہاڑ کی دائیں طرف تھی، جسے اللہ تعالیٰ نے ”الواد الایمن“ اور ”بالواد المقدس طوی“ فرمایا ہے۔ 3 ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کی نبوت اور قرآن کے حق ہونے کی دلیل بیان فرمائی ہے کہ جب ہم نے موسیٰ ؑ کی طرف وحی کی اور انھیں نبوت عطا فرمائی، اس وقت اے محمد ! نہ تو طور کی غربی جانب میں موجود تھا، نہ یہ منظر دیکھنے والوں میں سے تھا اور نہ تو اس سے پہلے پڑھنا لکھنا جانتا تھا (دیکھیے عنکبوت : 48) بلکہ یہ غیب کی وہ باتیں ہیں جو ہم نے تجھے وحی کے ذریعے سے بتلائی ہیں، جو اس بات کی دلیل ہیں کہ تو اللہ کا سچا رسول ہے، کیونکہ تو نے نہ خود ان باتوں کا مشاہدہ کیا، نہ یہ کسی سے سیکھیں۔ یہ مضمون قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے، سورة آل عمران میں ہے : (ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ ۭ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَھُمْ) [ آل عمران : 44 ] ”یہ غیب کی کچھ خبریں ہیں، ہم اسے تیری طرف وحی کرتے ہیں اور تو اس وقت ان کے پاس نہ تھا جب وہ اپنے قلم پھینک رہے تھے۔“ اور دیکھیے سورة ہود (49 اور 100) ، یوسف (102) اور طٰہٰ (99)۔