29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 29:1
(1۔ 2) اللہ تعالیٰ ہی سب سے زیادہ جاننے والا ہے کیا رسول اکرم ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے یہ خیال کر رکھا ہے کہ آپ ﷺ کے بعد ان کی نجات اتنا کہنے پر ہوجائے گی کہ ہم ایمان لے آئے اور ان کو خواہشات اور بدعات اور ہتک محارم کے ذریعے آزمایا نہ جائے گا۔
Ayah 29:2

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ Open ayah 29:2 in the Quran reader

کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ (صرف) یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے چھوڑ دئیے جائیں گے اور انکی آزمائش نہیں کی جائے گی ؟

شان نزول : (آیت) ”۔ احسب الناس“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ اور شعبی ؒ سے روایت نقل کی گئی ہے کہ یہ آیت چند لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو مکہ مکرمہ میں مقیم تھے اور انہوں نے اسلام کا اقرار کرلیا تھا تو ان کی طرف اصحاب رسول اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ سے لکھا کہ تم سے کچھ قبول نہیں کیا جائے گا جب تک کہ ہجرت نہ کرو چناچہ یہ لوگ مدینہ منورہ کے ارادہ سے نکلے تو مشرکین نے ان کا تعاقب کیا اور پھر ان کو واپس لے گئے تو اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے ان کو پھر لکھا کہ تمہارے بارے میں ایسا حکم نازل ہوا ہے تو ان لوگوں نے کہا کہ ہم ضرور ہجرت کے لیے نکلیں گے اگر ہمارا کوئی تعاقب کرے گا تو ہم اس سے لڑیں گے چناچہ یہ لوگ مکہ مکرمہ سے نکلے، مشرکین مکہ نے ان کا پیچھا کیا انہوں نے ان سے قتال کیا بعض لوگ ان میں سے مارے گئے اور بعض بچ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی۔ ”۔ ثم ان ربک للذین ھاجروا“۔ (الخ) اور قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ (آیت) ”الم، احسب الناس“۔ (الخ) کچھ لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو مکہ مکرمہ میں مقیم تھے اور وہاں سے رسول اکرم ﷺ کے پاس آنے کے ارادہ سے چلے، مشرکین نے ان کا سامنا کیا تو یہ واپس ہوگئے، ان کے مسلمان بھائیوں نے جو ان کے بارے میں آیت نازل ہوئی تھی وہ ان کو لکھ بھیجی، چناچہ یہ وہاں سے پھر چلے تو جن کے حق میں قتل ہونا لکھا ہوا تھا وہ قتل ہوگئے اور جن کو بچنا تھا وہ بچ گئے، اس پر قرآن حکیم کی یہ آیت نازل ہوئی ”۔ والذین جاھدوا فینا“۔ (الخ) اور ابن سعد ؓ نے بواسطہ عبداللہ بن عبید ابن عمیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ (آیت) ”الم، احسب الناس“۔ (الخ) یہ آیت حضرت عمار بن یاسر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی جب کہ وہ اللہ کی راہ میں تکالیف اٹھا رہے تھے۔
Ayah 29:3

وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 29:3 in the Quran reader

اور جو لوگ ان سے پہلے ہوچکے ہیں ہم نے انکو بھی آزمایا تھا (اور انکو بھی آزمائیں گے) سو خدا ان کو ضرور معلوم کرے گا جو (اپنے ایمان میں) سچے ہیں اور ان کو بھی جو جھوٹے ہیں

(3) اور ہم تو انبیاء کرام ؑ کے بعد ان چیزوں کے ذریعے سے ان لوگوں کو بھی آزما چکے ہیں جو اصحاب محمد ﷺ سے پہلے گزرے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ممتاز کردے جو اپنے دعوے ایمانی میں سچے ہیں کہ وہ خواہشات اور بدعات سے بچ رہے ہیں اور جھوٹوں کو بھی دکھا جو ان چیزوں میں مبتلا ہو کر اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں۔
Ayah 29:4

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 29:4 in the Quran reader

کیا وہ لوگ جو برے کام کرتے ہیں یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ ہمارے قابو سے نکل جائیں گے ؟ جو یہ خیال کرتے ہیں برا ہے

(4) اگلی آیت ابوجہل، ولید بن مغیرہ، عتبہ شیبہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ لوگ بدر کے دن حضرت علی ؓ ، حضرت حمزہ ؓ ، اور حضرت عبیدہ بن الحارث ؓ کے مقابلہ کے لیے نکلے تھے اور ایک دوسرے پر فخر کیا تھا، چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کیا جو لوگ کفر و شرک میں مست ہیں وہ کہیں ہمارے عذاب سے چھوٹ جائیں گے ان کا اپنے بارے میں یہ خیال اور اپنے متعلق ان کی یہ تجویز نہایت ہی بری ہے۔
Ayah 29:5

مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:5 in the Quran reader

جو شخص خدا کی ملاقات کی امید رکھتا ہو تو خدا کا (مقرر کیا ہوا) وقت ضرور آنے والا ہے اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے

(5) جو شخص بعث بعد الموت سے ڈرتا ہے تو بعث بعد الموت ضرور ہو کر رہے گی وہ بدر کے دن کی ان دونوں جماعتوں کی سب باتوں کو سننے والا اور جو کچھ ان کو پیش آئے گا سب کا جاننے والا ہے۔
Ayah 29:6

وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:6 in the Quran reader

اور جو شخص محنت کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے محنت کرتا ہے اور خدا تو سارے جہان سے بےپروا ہے

(6) اب یہ آیت خاص حضرت علی ؓ اور ان کے دونوں ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی کہ بدر کے دن جو اللہ کے رستہ میں جہاد کر رہا ہے اس کا ثواب اسی کو ملے گا اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں کے جہاد سے غنی ہے۔
Ayah 29:7

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:7 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ہم ان کے گناہوں کو ان سے دور کردیں گے اور ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے

(7) اور جو لوگ ایمان لائے یعنی حضرت علی ؓ اور ان کے ساتھی تو ہم ان کے چھوٹے گناہوں کو معاف کردیں گے اور ہم ان کو ان کے جہاد سے اچھا بدلہ دیں گے۔
Ayah 29:8

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:8 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے (اے مخاطب) اگر تیرے ماں باپ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک بنائے جس کی حقیقت سے تجھے واقفیت نہیں تو ان کا کہنا نہ مانیو تم (سب) کو میری طرف لوٹ کر آنا ہے پھر جو کچھ تم کرتے ہو میں تم کو بتلاؤں گا

(8) اور ہم نے انسان یعنی حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کو اپنے والدین یعنی مالک اور حمنۃ بنت ابی سفیان کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا زور ڈالیں کہ تو ایسی چیز کو میرا شریک ٹھہرا کہ جس کے شریک ہونے کے بارے میں تیرے پاس کوئی دلیل نہیں اور تجھے معلوم ہے کہ میرا کوئی شریک نہیں تو اس شرک میں ان کا کہنا نہ مان، انکے والدین مشرک تھے۔ تم سب کو میرے پاس لوٹ کر آنا ہے میں تمہارے سب کام بتا دوں گا کفر و ایمان نیکی اور برائی۔
Ayah 29:9

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:9 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے انکو ہم نیک لوگوں میں داخل کریں گے

(9) البتہ تم میں سے جو ایمان لائے ہوں گے اور نیک کام کیے ہوں گے ان کو جنت میں نیک بندوں کے ساتھ داخل کردیں گے یعنی حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت عمر فاروق ؓ حضرت عثمان غنی ؓ حضرت علی رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین شان نزول : (آیت) ”۔ ووصینا الانسان بوالدیہ“۔ (الخ) مسلم ؒ اور ترمذی ؒ نے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت سعد ؓ کی والدہ نے ان سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ بھلائی کا حکم نہیں دیا اللہ کی قسم میں نہ کوئی چیز کھاؤں گی اور نہ پیوں گی جب تک میں مرجاؤں یا تو کفر کرے اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔
Ayah 29:10

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:10 in the Quran reader

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا پر ایمان لائے جب ان کو خدا (کے راستے) میں کوئی ایذا پہنچتی ہے تو لوگوں کی ایذا کو (یوں) سمجھتے ہیں جیسے خدا کا عذاب اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے مدد پہنچے تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں کیا جو اہل عالم کے سینوں میں ہے خدا اس سے واقف نہیں ؟

(10) اور بعض آدمی ایسے بھی ہیں یعنی عیاش ابن ابی ربیعہ جو کہہ دیتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے پھر جب ان کو اللہ کی راہ میں کوئی تکلیف پہنچائی جاتی ہے تو لوگوں کی اس تکلیف کو ایسا سمجھ لیتے ہیں کہ اللہ کا دوزخ میں ہمیشہ کے لیے عذاب نازل ہوگیا ہو اور پھر ایمان کو چھوڑ کر کفر اختیار کرلیتے ہیں۔ اور اگر مکہ مکرمہ فتح ہونے لگتا ہے تو اس وقت یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم دین میں تمہارے ساتھ ہیں کیا للہ تعالیٰ کو دنیا جہاں والوں کے دلوں کا حال معلوم نہیں۔ شان نزول : (آیت) ”۔ ومن الناس من یقول امنا“۔ (الخ) اس آیت کا شان نزول سورة نساء میں گزر چکا ہے۔
Ayah 29:11

وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ Open ayah 29:11 in the Quran reader

اور خدا ان کو ضرور معلوم کرے گا جو (سچے) مومن ہیں اور منافقوں کو بھی معلوم کر کے رہے گا

(11) اس کے بعد حضرت عیاش ؓ اور ان کے ساتھی مشرف بااسلام ہوگئے اور ان کا اسلام بھی اچھا ہوا اور اللہ تعالیٰ بدر کے دن ایمان والوں کو بھی ظاہری وباطنی طور پر ممتاز کرکے رہے گا اور منافقین کو بھی۔
Ayah 29:12

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 29:12 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے طریق کی پیروی کرو ہم تمہارے گناہ اٹھا لیں گے حالانکہ وہ ان کے گناہوں کا کچھ بھی بوجھ اٹھانے والے نہیں کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں

(12) اور ابوجہل اور اس کے ساتھی حضرت علی ؓ اور حضرت سلمان ؓ سے کہتے ہیں کہ ہمارا دین اختیار کرلو قیامت کے دن تمہارے گناہوں کا بوجھ ہمارے ذمہ ہے حالانکہ یہ لوگ قیامت کے دن ان کے گناہوں میں سے ذرا بھی نہیں لے سکتے یہ بالکل جھوٹ بک رہے ہیں۔
Ayah 29:13

وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١٘ وَ لَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 29:13 in the Quran reader

اور یہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور (لوگوں کے) بوجھ بھی اور جو بہتان یہ باندھتے رہے قیامت کے دن ان کی ان سے ضرور پرسش ہوگی

(13) اور یہ لوگ قیامت کے دن اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں گے اور ان کے ساتھ ہی ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ بھی جن کو انہوں نے گمراہ کیا ہے اور قیامت کے دن ان سے یہ لوگ جو جھوٹی باتیں بناتے تھے اس کی باز پرس ہوگی
Ayah 29:14

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 29:14 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس برس کم ہزار برس رہے پھر ان کو طوفان (کے عذاب) نے آپکڑا اور وہ ظالم تھے

(14) ہم نے حضرت نوح ؑ کو ان کی قوم کی طرف رسول بناکر بھیجا سو وہ اپنی قوم کو ساڑھے نو سو سال تک توحید کی طرف بلاتے رہے مگر اس کے باوجود بھی وہ لوگ ایمان نہیں لائے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو طوفان کے ذریعے سے ہلاک کردیا وہ بڑے کافر تھے۔
Ayah 29:15

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:15 in the Quran reader

پھر ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کو نجات دی اور کشتی کو اہل عالم کے لئے نشانی بنادیا

(15) اور ہم نے حضرت نوح ؑ اور جو کشتی میں انکے ساتھ اہل ایمان تھے ان سب کو بچا لیا اور ہم نے اس کشتی کے واقعہ کو تمام جہان والوں کے لیے موجب عبرت بنایا۔
Ayah 29:16

وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:16 in the Quran reader

اور ابراہیم کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے

(16) اور ہم نے حضرت ابراہیم ؑ کو بھی ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا جب کہ انھون نے اپنی قوم سے فرمایا توحید خداوندی کا اقرار کرلو اور اسی سے ڈر اور کفر وشرک اور بتوں کی پوجا سے توبہ کر کے اسی کی اطاعت کرو یہ توبہ اور توحید جس طریقہ پر تم قائم ہو اس سے بہتر ہے اگر تم اس کو سمجھتے ہو اور تصدیق کرتے ہو نہ تم سمجھتے ہو اور نہ ہی تصدیق کرتے ہو۔
Ayah 29:17

اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:17 in the Quran reader

تو تم خدا کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے ہو اور طوفان باندھتے ہو تو جن لوگوں کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو وہ تم کو رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے پس خدا ہی کے ہاں سے رزق طلب کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکر کرو اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جاؤ گے

(17) تم اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے ہو اور ان کے متعلق جھوٹی باتیں بناتے ہو اور اللہ کے علاوہ جن کو پوجتے ہو ان کو خود اپنے ہاتھوں سے بناتے ہو جن بتوں کی عبادت کرو اور توحید کے ذریعے سے اسی کا شکر کرو مرنے کے بعد تم سب کو اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے وہ تمہارے اعمال کا تمہیں بدلہ دے گا۔
Ayah 29:18

وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 29:18 in the Quran reader

اور اگر تم (میری) تکذیب کرو تو تم سے پہلے بھی امتیں (اپنے پیغمبروں کی) تکذیب کرچکی ہیں اور پیغمبر کے ذمے کھول کر سنا دینے کے سوا اور کچھ نہیں

(18) اور اے جماعت قریش اگر تم رسول اکرم ﷺ کی رسالت کو جھٹلاتے ہو سو تم سے پہلے بہت سی امتیں اپنے رسولوں کو جھٹلا چکی ہیں ہم نے ان کو ہلاک کردیا اور رسول کی ذمہ داری تو ایسی زبان میں جس کو تم سمجھو احکام خداوندی کا پہنچا دینا ہے۔
Ayah 29:19

اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 29:19 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا کس طرح خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا پھر (کس طرح) اسکو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے یہ خدا کو آسان ہے

(19) کیا کفار مکہ کو بذریعہ قرآن کریم یہ بات معلوم نہیں ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کس طرح مخلوق کو پہلی بار نطفہ سے پیدا کرتا ہے پھر وہی قیامت کے دن اس کو دوبارہ پیدا کرے گا یہ پہلی بار اور دوبارہ پیدا کرنا اللہ تعالیٰ پر بہت آسان بات ہے۔
Ayah 29:20

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ Open ayah 29:20 in the Quran reader

کہہ دا کہ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلقت کو پہلی دفعہ پیدا کیا پھر خدا ہی پچھلی پیدائش کرے گا بیشک خدا ہر چیز پر قادر ہے

(20) اے محمد ﷺ آپ ان سے فرمائیے کہ تم زمین پر چلو پھرو اور غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پہلی بار نطفہ سے کس طرح پر پیدا کیا پھر اس کے بعد ان کو ہلاک کردیا پھر اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بھی مخلوق کو دوبارہ پیدا کرے گا بیشک اللہ تعالیٰ پیدا کرنے اور پھر قیامت کے دن زندہ کرنے اور ایسے ہی موت وحیات سب پر قادر ہے۔
Ayah 29:21

یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ Open ayah 29:21 in the Quran reader

وہ جسے چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم کرے اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے

(21) اللہ تعالیٰ جس کو چاہے کفر پر موت آنے کی وجہ سے عذاب دے گا اور جس پر چاہے گا ایمان پر انتقال کرنے کی بنا پر رحمت فرما دے گا اور پھر مرنے کے بعد تم سب اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے وہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا۔
Ayah 29:22

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ١٘ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠ Open ayah 29:22 in the Quran reader

اور تم (اسکو) نہ زمین میں عاجز کرسکتے ہو اور نہ آسمان میں اور نہ خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ مددگار

(22) اے مکہ والو ! نہ تم زمین والوں میں سے کسی کو عذاب الہی سے بچا سکتے ہو اور نہ آسمان والوں میں سے اور عذاب الہی کے مقابلہ مٰن نہ تمہارا کوئی کارساز ہے جو تمہیں فائدہ پہنچائے اور نہ تمہارا کوئی مددگار ہے جو تم سے عذاب الہی کو روک سکے۔
Ayah 29:23

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآئِهٖۤ اُولٰٓئِكَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 29:23 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے خدا کی آیتوں سے اور اسکے ملنے سے انکار کیا وہ میری رحمت سے ناامید ہوگئے ہیں اور ان کو درد دینے والا عذاب ہوگا

(23) اور جو لوگ یعنی یہود و نصاری اور تمام مشرکین رسول اکرم ﷺ اور بعث بعد الموت کے منکر ہیں تو یہ لوگ میری جنت سے ناامید ہوں گے اور ان کو درد ناک عذاب ہوگا۔
Ayah 29:24

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 29:24 in the Quran reader

تو انکی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اسے مار ڈالو یا جلا دو مگر خدا نے ان کو آگ (کی سوزش) سے بچا لیا جو لوگ ایمان رکھتے ہیں ان کے لئے اس میں نشانیاں ہیں

(24) اور حضرت ابراہیم ؑ کی توحید خداوندی کی دعوت کے بعد ان کی قوم کا بھی یہی جواب تھا کہ ان کو یا تو قتل کر ڈالویا ان کو آگ میں جلا دو لہذا اللہ تعالیٰ نے صحیح وسالم ان کو اس آگ سے بچا لیا۔ حضرت ابراہیم ؑ کی قوم کے ساتھ جو ہم نے معاملہ کیا اس میں ان حضرات کے لیے جو کہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں بڑی نشانیاں ہیں۔
Ayah 29:25

وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١٘ وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗۙ Open ayah 29:25 in the Quran reader

اور (ابراہیم) نے کہا کہ تم جو خدا کو چھوڑ کر بتوں کو لے بیٹھے ہو تو دنیا کی زندگی میں باہم دوستی کے لئے (مگر) پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے (کی دوستی) سے انکار کردو گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور کوئی تمہارا مددگار نہ ہوگا

(25) حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے یہ بھی فرمایا کہ یہ جو تم نے بتوں کو معبود بنارکھا ہے یہ تو تمہارے آپسی تعلقات کی بنا پر ہے جو باقی نہیں رہیں گے۔ اور پھر قیامت میں تم سب ایک دوسرے سے بیزار ہوجاؤ گے اور تم سب بچاریوں اور معبودوں کا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور عذاب خداوندی کے مقابلہ میں تمہارا کوئی حمایتی نہ ہوگا۔
Ayah 29:26

فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:26 in the Quran reader

پس ان پر (ایک) لوط ایمان لائے اور (ابراہیم) کہنے لگے میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں بیشک وہ غالب حکمت والا ہے

(26) چناچہ حضرت ابراہیم ؑ کی صرف حضرت لوط ؑ نے تصدیق کی اور حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا کہ میں تو اپنے پروردگار کی اطاعت کے لیے علیحدہ چلا جاؤں گا چناچہ وہ حران سے فلسطین کی طرف ہجرت کر گئے بیشک وہ ان کو سزا دینے میں زبردست ہے اور حکمت والا ہے کہ اس نے ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف دین کی حفاظت کی خاطر ہجرت کرنے کے کا حکم دیا۔
Ayah 29:27

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:27 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب بخشے اور انکی اولاد میں پیغمبری اور کتاب (مقرر) کردی اور انکو دنیا میں بھی اس کا صلہ عنایت کیا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے

(27) اور پھر ہم نے ان کو حضرت اسحاق ؑ (بیٹا) اور یعقوب ؑ (پوتا) عنایت فرمایا اور ہم نے ان کی نسل کو نبوت و کتاب اور اولاد صالح کے ساتھ معزز فرمایا کہ ان کی نسل میں انبیاء کرام ؑ بھی ہوئے اور کتابیں بھی نازل ہوئیں اور ہم نے ان کا صلہ دنیا میں بھی اس طریقہ پر دیا اور آخرت میں بھی وہ بڑے درجے کے انبیاء کرام ؑ کے ساتھ ہوں گے۔
Ayah 29:28

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ١٘ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:28 in the Quran reader

اور لوط (کو یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم (عجب) بےحیائی کے مرتکب ہوتے ہو تم سے پہلے اہل عالم میں سے کسی نے ایسا کام نہیں کیا

(28) اور ہم نے لوط ؑ کو بھی ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا، انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسا ناپاک کام یعنی لواطت کرتے ہو کہ تم سے پہلے ایسا کام کسی نے دنیا میں جہان والوں میں نہیں کیا۔
Ayah 29:29

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ١ۙ۬ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَ١ؕ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 29:29 in the Quran reader

کیا تم (لذت کے ارادے سے) مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو اور (مسافروں کی) راہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں ناپسندیدہ کام کرتے ہو ؟ تو ان کی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر خدا کا عذاب لے آؤ

(29) تم مردوں سے ایسا فعل کرتے ہو اور نسل انسانی کو ختم کرتے ہو یا یہ کہ تم راستوں پر ڈاکے ڈالتے ہو اور بھری مجلس میں بری باتیں کرتے ہو اس قوم میں دس بری باتیں زیادہ مشہور تھیں جیسا کہ ٹھیکرے بازی، اور اس قسم کی بےحیائی وغیرہ۔ تو لوط ؑ کی قوم کا آخری جواب بس یہی تھا کہ اگر تم اپنی بات یعنی نزول عذاب میں سچے ہو تو ہم تم پر ایمان نہیں لاتے ہم پر عذاب الہی لے آؤ۔
Ayah 29:30

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 29:30 in the Quran reader

لوط نے کہا اے میرے پروردگار (ان) مفسد لوگوں کے مقابلے میں مجھے نصرت عنایت فرما

(30) لوط ؑ نے دعا فرمائی اے میرے پروردگار ان مشرکین پر عذاب نازل کر کے میری مدد فرما۔
Ayah 29:31

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 29:31 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشی کی خبر لے کر آئے تو کہنے لگے کہ ہم اس بستی کے لوگوں کو ہلاک کردینے والے ہیں کہ یہاں کے رہنے والے نافرمان ہیں

(31) اور جب حضرت جبریل ؑ اور ان کے ساتھ دوسرے فرشتے حضرت ابراہیم ؑ کے پاس حضرت اسحاق ؑ بیٹے کی خوشخبری لے کر آئے تو انہوں نے حضرت ابراہیم ؑ سے کہا کہ ہم قوم لوط کی بستی والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں کیوں کہ وہاں کے باشندے مشرک ہیں اور انہوں نے بےحیائی کے کام کر کے اپنے اوپر عذاب کو اجب کرلیا۔
Ayah 29:32

قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا١ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا١٘ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:32 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا کہ اس میں تو لوط بھی ہیں وہ کہنے لگے کہ جو لوگ یہاں (رہتے) ہیں ہمیں سب معلوم ہیں ہم انکو اور انکے گھر والوں کو بچا لیں گے بجز ان کی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی

(32) حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا وہاں لوط بھی تو ہیں پھر وہاں والوں کو اے جبریل تم کیسے ہلاک کرو گے ان فرشتوں نے عرض کیا کہ ہمیں کو سب معلوم ہے ہم ان کو اور ان کے خاص متعلقین جن میں ان کی دونوں صاحبزادیاں زاعورا اور ریثاء بھی ہیں بچالیں گے سوائے ان کی واعلہ نامی منافقہ بیوی کے کہ وہ عذاب میں رہنے والوں میں سے ہوگی۔
Ayah 29:33

وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:33 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ ان (کی وجہ) سے ناخوش اور تنگ دل ہوئے (فرشتوں نے کہا) کچھ خوف نہ کیجئے اور نہ رنج کیجئے ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو بچا لیں گے مگر آپ کی بیوی کہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی

(33) چناچہ جب ہمارے فرشتے لوط ؑ کے پاس پہنچے وہ ان کے آنے کی اس وجہ سے مغموم اور غمزدہ ہوئے، یہ دیکھ کر جبریل امین ؑ اور ان کے ساتھ جو فرشتے تھے وہ حضرت لوط ؑ سے کہنے لگے کہ آپ ہمارے بارے میں کسی بات کا اندیشہ نہ کریں اور نہ آپ پریشان ہوں ہم آپ کو اور آپ کے خاص متعلقین کو بچا لیں گے سوائے آپ کی بیوی کے وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں ہوگی۔
Ayah 29:34

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 29:34 in the Quran reader

ہم اس بستی کے رہنے والوں پر اس سبب سے کہ یہ بدکرداری کرتے رہے ہیں آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں

(34) ہم اس بستی کے باشندوں پر پتھروں کا عذاب ان کی بدکاریوں اور کفر کی سزا میں نازل کرنے والے ہیں ،
Ayah 29:35

وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 29:35 in the Quran reader

اور ہم نے سمجھنے والوں کے لئے اس بستی سے ایک کھلی نشانی چھوڑ دی

(35) اور ہم نے لوط ؑ کی قوم کی بستیوں کے کچھ ظاہر نشان اب تک رہنے دیے ہیں ان لوگوں کی عبرت کے لیے جو اس چیز کو جانتے اور تصدیق کرتے ہیں کہ ان بدکاریوں کی وجہ سے ان لوگوں کیا انجام ہوا اور ایسے لوگوں کی وہ پیروی نہیں کرتے۔
Ayah 29:36

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ۙ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 29:36 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو انہوں نے کہا اے قوم ! خدا کی عبادت کرو اور پچھلے دن (کے آنے) کی امید رکھو اور ملک میں فساد نہ مچاؤ

(36) اور ہم نے مدین والوں کے پاس شعیب ؑ کو نبی بناکر بھیجا سو انھوں نے فرمایا توحید خداوندی کا اقرار کرو اور قیامت کے دن سے ڈرو اور سر زمین میں فساد اور بدکاریاں مت کرو۔
Ayah 29:37

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘ Open ayah 29:37 in the Quran reader

مگر انہوں نے انکو جھوٹا سمجھا سو ان کو زلزلے (کے عذاب) نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

(37) سو ان لوگوں نے شعیب ؑ کو جھٹلایا نتیجہ یہ ہوا کہ زلزلے کے عذاب نے ان کو آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ گر کر رہ گئے۔
Ayah 29:38

وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ Open ayah 29:38 in the Quran reader

اور عاد اور ثمود کو بھی (ہم نے ہلاک کردیا) چناچہ ان کے (ویران گھر) تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کو آراستہ کر دکھائے اور انکو (سیدھے) راستے سے روک دیا حالانکہ وہ دیکھنے والے (لوگ) تھے

(38) اور ہم نے قوم ہود اور قوم صالح کو بھی ہلاک کیا اور اے مکہ والو ! ان کی یہ ہلاکت تمہیں کو ان کے ویران مکانات سے نظر آرہی ہے اور شیطان نے ان کے شرک اور ان کی تنگی وفراخی کی حالت کو ان کی نظر میں مستحسن کر رکھا تھا اور اس وجہ سے ان کو رہ حق اور ہدایت سے روک رکھا تھا اور وہ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ چیز حق ہے مگر خود حق پر قائم نہ تھے۔
Ayah 29:39

وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ١۫ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚۖ Open ayah 29:39 in the Quran reader

اور قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی (ہلاک کردیا) اور انکے پاس موسیٰ کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ ملک میں مغرور ہوگئے اور وہ (ہمارے) قابو سے نکل جانے والے نہ تھے

(39) اور ہم نے قارون اور فرعون اور اس کے وزیر ہامان کو بھی ہلاک کیا اس صورت میں کہ موسیٰ ؑ ان کے پاس اوامرو نواہی اور حق کی کھلی نشانیاں لے کر آئے تھے تو انہوں نے ایمان لانے سے انکار کیا اور ان واضح دلیلوں اور نشانیوں پر ایمان نہ لائے مگر وہ ہمارے عذاب سے بھاگ نہ سکے۔
Ayah 29:40

فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا١ۚ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 29:40 in the Quran reader

تو ہم نے سب کو ان کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا ان میں کچھ تو ایسے تھے جن پر ہم نے پتھروں کا مینہ برسایا اور کچھ ایسے تھے جن کو چنگھاڑ نے آپکڑا اور کچھ ایسے تھے جن کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور کچھ ایسے تھے جن کو غرق کردیا اور خدا ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے

(40) چناچہ ہم نے ہر ایک قوم کو اس کے شرک کے جرم میں پکڑ لیا سو ہم نے ان میں سے بعضوں پر تو پتھر برسا دیے اور وہ لوط ؑ کی قوم ہے اور ان میں سے بعضوں کو سخت عذاب نے آدبایا اور وہ شعیب ؑ و صالح ؑ کی قومیں ہیں بعضوں کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا یعنی قارون اور بعضوں کو پانی میں ڈبو دیا یعنی فرعون وہامان اور ان پر جو عذاب نازل ہو اتو اللہ تعالیٰ ایسا نہیں تھا کہ ان کو ہلاک کرتا لیکن یہی لوگ کفر وشرک اور انبیاء کرام کی تکذیب کرکے اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔