Ayahs 29:3–41 سنت ابتلاء و آزمائش کی تذکیر و یاددہانی : سو اس سے ابتلاء و آزمائش کی سنت خداوندی کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ کو ضرور دیکھنا ہے ان کو جو سچے ہیں اور اس نے ان کو بھی ضرور دیکھنا ہے جو جھوٹے ہیں "۔ سو علم سے یہاں پر علم ظہور یعنی دیکھنا مراد ہے کہ اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کے علم ازلی سے تو کوئی بھی چیز پوشیدہ نہیں۔ مگر وہ فیصلہ صرف اپنے اسی ازلی اور ذاتی علم پر نہیں فرماتا بلکہ ہر فعل کے ظہور اور وقوع کے مطابق فرماتا ہے۔ اسی لئے وہ لوگوں کو اس دنیا میں ابتلا و آزمائش میں ڈالتا ہے تاکہ کھرے کھوٹے کا فرق خود سامنے آجائے ورنہ جہاں تک اس کے علم محیط کا تعلق ہے وہ سب کچھ جانتا ہے اور ہر ایک کے ظاہر و باطن سے ایک برابر اور پوری طرح واقف و آگاہ ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس کو پوری طرح معلوم ہے کہ کون مخلص ہے اور کون منافق۔ مگر وہ لوگوں کے ساتھ جزا و سزا کا معاملہ محض اپنے ذاتی علم کی بنا پر نہیں فرماتا بلکہ لوگوں کے عمل کی بنا پر فرماتا ہے۔ اس لیے وہ ہر ایک کو امتحان میں ڈال کر دیکھتا اور پرکھتا ہے کہ اسی سے کھرا کھوٹا سامنے آجاتا ہے اور ہر ایک کے درجات متعین ہوتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس آیت کریمہ میں اس سنت ابتلاء و آزمائش کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی ہے جس سے اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ ان لوگوں کو آزماتا ہے جو ایمان و اسلام کا دعویٰ لیکر اٹھتے ہیں۔ تاکہ کھرا اور کھوٹا نکھر کر سب کے سامنے آجائے اور اس طور پر اور اس حد تک کہ کسی کے لیے کسی انکار یا قیل و قال کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 29:53 مخلصین کے لیے سامان تسلیہ و تسکین : سو اس میں سچے ایمان والوں اور مظلوموں کیلئے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو کوئی اللہ سے یہ توقع رکھتا ہو وہ اس کے لیے تیاری کرتا رہے کہ بیشک اللہ کے مقرر کردہ وقت نے بہرحال پہنچ کر رہنا ہے "۔ اور پتہ نہیں وہ کب اور کس حال میں آجائے اور انسان کو اس دنیائے دوں سے رخت سفر باندھنا پڑے۔ لہذا ہر وقت اس کیلئے تیاری کی فکر میں رہنا چاہیئے کہ دار آخرت کی اس حقیقی منزل اور ابدی زندگی کی تیاری کے لئے پھر کوئی موقع اس دنیاوی زندگی کے ختم ہوجانے کے بعد میسر نہیں آسکے گا۔ سو اس ارشاد ربانی میں ایک طرف تو سچے مسلمانوں کو یوم حساب اور اس کے لیے تذکیر و یاددہانی ہے کہ اس کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھو اور دوسرے اس میں ان مظلوموں کیلئے تسکین وتسلیہ کا سامان بھی ہے جو اپنے ایمان و عقیدے کی بنا پر ظالموں کے ظلم کا شکار بنتے ہیں کہ تمہیں اس سب کا اجر و صلہ بہرحال ملے گا۔ اور ظالموں کو اپنے ظلم وعدوان کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا۔ اپنے رب کے حضور حاضری کے موقعہ پر تم ہر اس محنت اور رحمت کا صلہ پاؤ گے جو تم نے اس کی خاطر جھیلی ہوگی۔ اللہ سمیع وبصیر ہے۔ کوئی بھی چیز اس کے احاطہ علم وقدرت سے باہر نہیں ہوسکتی۔ راہ حق میں اور حق کی خاطر تمہاری سرفروشیاں بھی اس کے سامنے ہیں اور تمہارے دشمنوں کی ستم رسانیاں بھی۔ تب ہر کسی کو اس کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ وبدلہ ملے گا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ -
Ayah 29:64 ہر کسی کا عمل اس کے اپنے ہی لیے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جس نے محنت و مشقت کی تو اس نے خود اپنے ہی بھلے کا سامان کیا "۔ کہ اس کا صلہ و بدلہ خود اسی کو ملے گا اور اس کا فائدہ براہ راست اسی کو پہنچے گا ورنہ اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ تو اس سے ہر لحاظ سے غنی اور بےنیاز ہے۔ اس کو نہ کسی کی اطاعت و عبادت سے کسی طرح کا کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے اور نہ کسی کی معصیت و نافرمانی سے اس کے کسی ضرر و نقصان کا کوئی سوال پیدا ہوتا ہے۔ وہ ہر کسی سے، ہر طرح سے اور ہر اعتبار سے غنی و بےنیاز ہے۔ یہ سب کچھ ہر انسان اپنے ہی لئے کرتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہ وَمَنْ أسَائَ فَعَلَیْہَا } ۔ نیز فرمایا گیا ۔ { اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لاَنْفُسٍکُمْ وَاِنْ اَسَأتُمْ فَلَہَا } ۔ پس اپنے بھلے اور فائدے کے لئے جس قدر محنت و مشقت کرسکتے ہو کرو کہ پھر اس کا موقعہ ملنے کا نہیں کہ اس سب کا صلہ و بدلہ خود تمہی لوگوں کو ملے گا۔ اور اس راہ میں محنت کرکے تم لوگ اپنی آخرت سنوارتے اور اپنے ہی گھر کو بناتے ہو۔ کسی پر کوئی احسان نہیں کرتے۔ اس لیے اس کو غنیمت سمجھو ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو جس طرح ایک کسان اپنے کھیت میں محنت مشقت کرتا ہے تو اس کا پھل وہی خود پائے گا اور اپنی بیجی ہوئی فصل خود کاٹے گا اور ایک دانے کے بدلے سو دانے حاصل کرے گا اسی طرح جو شخص راہ حق میں مشقتیں اٹھاتا ہے وہ اپنی ہی منزلیں طے کرتا اور خود اپنی ہی آخری اور ابدی منزل کی آبادی کا سامان کرتا ہے۔ خداوند قدوس کے لیے اس سے کسی فائدے کا کوئی سوال نہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ -
Ayah 29:75 اہل ایمان کیلئے کرم و احسان کا وعدہ و خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کیے تو ہم ضرور مٹا دیں گے ان سے ان کی برائیاں اور ان کو نہایت عمدہ بدلہ دیں گے ان کے ان کاموں کا جو وہ کرتے رہے تھے اپنی دنیاوی زندگی میں "۔ یعنی اصل نظر ان کے اعمال کے نقائص پر نہیں ہوگی کہ ان کی کمزوریاں چھانٹی جائیں بلکہ معاملہ اس اکرم الاکرمین کے کرم کے مطابق فرمایا جائے گا جس کے انعام و اکرام اور فضل و احسان کی نہ کوئی حد ہے نہ انتہائ۔ سو اس کے لئے اس کی طرف سے کرم کا معاملہ فرماتے ہوئے اعمال صالحہ کا بدلہ بہترین شکل میں دیا جائے گا۔ ایک نیکی کا بدلہ دس گنا، سو گنا، سات سو گنا اور اس سے بھی زیادہ کی صورت میں عمل کرنے والے کے صدق و اخلاص اور قوت ایمان و یقین کی بنیاد پر۔ پس جس قدر ممکن ہو سکے اس کی رحمت و رضا کے لئے صدق و اخلاص سے کام کرتے جاؤ ۔ اللہ توفیق نصیب فرمائے ۔ آمین۔ سو اس ارشاد ربانی میں ان خوش نصیبوں کیلئے بڑا عمدہ وعدہ اور عظیم الشان خوشخبری ہے جو ایمان اور عمل صالح کی دولت سے سرفراز ومالا مال ہوتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید فی کل موقف من المواقف -
Ayahs 29:8–96 خالق کی اطاعت سب سے مقدم اور سب پر فائق : سو والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم و تلقین کے سلسلے میں اس بات کی بھی تصریح فرما دی گئی کہ اگر وہ تمہیں میرے ساتھ شرک پر مجبور کریں تو ان کی یہ بات کبھی نہیں ماننی۔ سو اس سے اس اصول کو واضح فرما دیا گیا کہ خالق کی نافرمانی کرکے مخلوق کی اطاعت و فرمانبرداری جائز نہیں۔ اور ظاہر ہے کہ پوری کائنات میں ایسی کوئی چیز ہے ہی نہیں جو اس کی شریک ہو سکے۔ تو پھر اس کے بارے میں علم کا کیا سوال ؟ سو یہ تعلیق بالمحال کے قبیل سے ہے۔ پس مطلب یہ ہوا کہ میرے ساتھ کسی بھی چیز کو کسی بھی حال میں شریک ٹھہرانا جائز نہیں۔ سو ماں باپ کی ہر بات مانی جائے مگر ان کے کہنے پر کسی ناجائز بات کا ارتکاب نہ کیا جائے کہ اصول اور بنیاد بہرحال یہی ہے کہ خالق کی نافرمانی کرتے ہوئے کسی بھی مخلوق کی بات ماننا جائز نہیں۔ جیسا کہ حضرت نبی معصوم ۔ علیہ الصلٰوۃ والسلام ۔ نے اپنی اس اہم اور بنیادی تعلیم میں ارشاد فرمایا ہے ۔ " لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ معْصِیۃ الخَالق " ۔ کہ خالق کی اطاعت و فرمانبرداری سب سے مقدم اور سب پر فائق ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔
7 مخلوق کی اطاعت مشروط و محدود : سو ماں باپ کی اطاعت و فرمانبرداری مشروط و محدود ہے۔ اور جب اس بارے ماں باپ کی بات بھی نہیں مانی جاسکتی تو پھر اور کسی کی کیونکر مانی جاسکتی ہے ؟۔ جیسا کہ ۔ " لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق " ۔ کے ارشاد نبوی ﷺ میں بھی بتایا گیا ہے۔ روایات کے مطابق یہ آیت کریمہ حضرت سعد ابن ابی وقاص ؓ کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنے والدین کے بڑے ہی خدمت گزار اور فرمانبردار بیٹے تھے۔ جب اللہ پاک نے آپ ؓ کے دل کو ایمان کے نور سے منور فرمایا اور آپ ؓ ایمان لے آئے تو آپ کی مشرکہ والدہ نے کہا کہ جب تک تم اس دین سے واپس نہیں آؤ گے میں نہ کچھ کھاؤں گی نہ پیؤں گی نہ سائے میں بیٹھوں گی یہاں تک کہ میں مرجاؤں گی۔ اور اس کے بعد لوگ تمہیں " وَا قَاتِلَ اُمَّاہُ " ۔ " اے اپنی ماں کے قاتل ! " کہہ کر پکاریں گے اور تمہیں ہمیشہ اس پر طعنے دیں گے۔ چناچہ اس نے دو یا تین روز اسی حالت میں گزار دئیے۔ اور بعض روایات کے مطابق لوگ زبردستی اس کا منہ کھول کر اس کو کچھ کھلانے پلانے لگے۔ حضرت سعد ؓ جیسے ایک فرمانبردار اور وفا شعار بیٹے کے لئے یہ ایک بڑی سخت اور کڑی آزمائش تھی مگر ایمان و یقین کی جس لذت و قوت سے وہ سرشار ہوگئے تھے اس نے ان کے دل کو مضبوط رکھا اور اس مشکل کو ان کیلئے آسان بنادیا اور انہوں نے اپنی ماں کو صاف صاف کہہ دیا ۔ " لَوْ اَنَّ لَکِ مِائَۃَ نَفْسٍ تَمُوْتَیِنِ نَفْسًا نَفْسًا مَّا تَرْکْتُ ہَذَا الدِّیْنَ " ۔ کہ " اگر تمہاری ایک چھوڑ کر سو جانیں بھی ہوں اور سب ایک ایک کرکے میرے سامنے نکلتی چلی جائیں تو بھی میں اس دین کو چھوڑنے والا نہیں ہوں "۔ حضرت سعد ؓ کی والدہ نے جب اپنے بیٹے کا لذت و قوت ایمان سے بھرپور و لبریز یہ جواب سنا تو اس نے اپنا ارادہ بدل دیا۔ اپنی قسم توڑ دی اور کھانا پینا شروع کردیا۔ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس سے حضرت سعد ؓ کے عمل کی تصویب ہوگئی لیکن اس کا حکم بہرحال عام ہے اور ایسے ہر موقعہ اور ہر صورت کو شامل ہے۔
Ayahs 29:10–118 منافقوں اور کمزور ایمان والوں کا حال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسے لوگوں کا حال یہ ہے کہ اپنے اسلام و ایمان کے بلند بانگ دعو وں کے باوجود جب ان کو راہ حق میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ایسے لوگ لوگوں کی ایذا رسانی کو اللہ کے عذاب کے برابر قرار دینے لگتے ہیں "۔ اور دنیاوی تکلیف کے مقابلے میں آخرت کے عذاب کو قبول کرلیتے ہیں حالانکہ آخرت کے عذاب کے مقابلے میں دنیا کی ان تکلیفوں اور عذابوں کی کوئی حقیقت اور حیثیت ہی نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ دنیاوی تکلیف و پریشانی ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرحال فانی اور چند روزہ ہے جبکہ آخرت کا عذاب دائمی اور بڑا ہی ہولناک ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس میں ان منافقوں اور کمزور لوگوں کے ایمان کا حال بیان فرمایا گیا ہے جن کو ایمان میں رسوخ حاصل نہیں ہوتا کہ وہ اس طرح کی کسی ابتلاء و آزمائش سے فوری گھبرا اٹھتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ حالانکہ دنیاوی عذاب کی حیثیت و نوعیت اخروی عذاب کے مقابلے میں ایک ابتلاء و آزمائش سے زیادہ نہیں ہوتی۔ اسی لیے یہاں پر اس کو عذاب کی بجائے فتنہ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ جبکہ آخرت کا عذاب بہرحال عذاب ہوگا۔ اس لیے اس کو عذاب کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
9 اللہ سے کچھ چھپانا ممکن نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر مسلمانوں کو آپ کے رب کی طرف سے کوئی مدد پہنچ جائے تو ایسے لوگ بڑے زور و شور سے دعوے کرتے ہیں کہ صاحب ہم بھی تو آپ کے ساتھ تھے۔ تو اس کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا اللہ وہ سب کچھ نہیں جانتا جو لوگوں کے سینوں کے اندر ہے ؟ "۔ یعنی دنیا والوں سے تمہارا دھوکہ اگر چل بھی جائے تو اللہ کے یہاں کیونکر چل سکتا ہے جو کہ دلوں کی باتوں اور چھپے رازوں کو جاننے والا ہے۔ سو استفہام یہاں پر تقریری ہے۔ یعنی ہاں اللہ وہ سب کچھ جانتا ہے اور پوری طرح جانتا ہے جو ان کے سینوں کے اندر ہے کہ اس سے کسی کے قلب و باطن کی کوئی حالت اور کیفیت کسی بھی طرح اور کسی بھی درجے میں چھپ نہیں سکتی۔ تو پھر عقل و خرد کا تقاضا یہ تھا اور ہے کہ دکھلاوے اور ظاہر داری کی بجائے ہمیشہ اور ہر حال میں اس کی کوشش کی جائے کہ اس " علیم بذات الصدور " سے ہمارا معاملہ صحیح رہے جس سے کوئی بات مخفی نہیں رہ سکتی اور جسکے حضور حاضر ہو کر ہمیں زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا صلہ اور پھل پانا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا اور خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 29:1210 نور ایمان سے محروم لوگوں کی لاپرواہی کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کافر لوگ ایمان والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہمارے پیچھے چلو ہم تمہاری خطائیں اپنے اوپر لے لیں گے "۔ یعنی قیامت اور حساب کتاب کی باتیں یونہی ہیں اور اگر ایسی کوئی بات ہوئی بھی تو تمہارے گناہوں کا بوجھ ہم اٹھائیں گے۔ پس تمہیں اس بارے فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ تم بس آنکھیں بند کر کے ہمارے پیچھے چلتے رہو اور جو کچھ ہم کہیں، کریں، تم بھی وہی کہتے اور کرتے رہے رہو۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آخرت کے ایمان و یقین سے محروم ہونے کے بعد انسان کس قدر غیر ذمہ دار اور کتنا لاپرواہ اور غلط کار ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ نور ایمان و یقین کی دولت سے محروم لوگوں کی لاپرواہی اور حرمان نصیبی کا ایک نمونہ و مظہر ہے جس کے نتیجے میں وہ محروم سے محروم تر ہوتے چلے جاتے ہیں اور راہ حق و ہدایت انکو سوجھ کے نہیں دیتی ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگ ہولناک غلط فہمی میں مبتلا ہیں اور یہ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں۔ اور اس طرح یہ اپنی ہلاکت و تباہی کے سامان میں اضافہ کر رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ غفلت و لاپرواہی کی ہر شکل سے محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 29:13–1411 محروم الایمان لوگوں کیلئے محرومی پر محرومی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کو اپنے گناہوں کے بوجھ بھی اٹھانا ہوں گے اور کچھ اور بوجھ بھی اپنے بوجھوں کے ساتھ "۔ یعنی ان ماتحتوں کو تو یہ لوگ ان کے بوجھوں سے سبکدوش نہیں کرا سکیں گے البتہ یہ بات ضرور ہوگی کہ ایسے گمراہ لوگوں کو ضلال کے ساتھ اضلال یعنی اپنی گمراہی کے ساتھ ساتھ دوسروں کو گمراہی میں ڈالنے کے بوجھ بھی اپنے کندھوں پر اٹھانے ہوں گے۔ اور یہ محرومی پر محرومی کا شکار ہوں گے اور خسارے پر خسارہ اٹھائیں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور ان سے ان کی ان تمام افتراپردازیوں کے بارے میں پوچھ ہوگی جو یہ دنیا میں کرتے رہے تھے اور جن کے لیے یہ دوسروں کو بھی مجبور کیا کرتے تھے اور ان کے عقاب و عذاب کو اپنے سر لینے کے دعوے کیا کرتے تھے۔ سو ان کی ایسی تمام باتوں کے بارے میں قیامت کے روز پرسش ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 29:1513 حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آخرکار عذاب آنے پر ہم نے بچا لیا نوح کو بھی اور کشتی والوں کو بھی "۔ " ہم نے بچا لیا " سے واضح فرما دیا گیا ہے کہ نجات دھندہ اور حاجت روا و مشکل کشا سب کے ہم ہی ہیں۔ حضرات انبیاء و رسل بھی ہماری ہی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے محتاج ہیں۔ اور جب حضرت نوح جیسے اولوالعزم رسول اور ان کے جلیل القدر ساتھیوں کو نجات دینا اور ان کو اس طوفان سے بچا نکالنا بھی ہمارا ہی کام ہے۔ اور جب ان عظیم الشان اور جلیل القدر ہستیوں کے نجات دھندہ اور مشکل کشا و حاجت روا اور دستگیر بھی ہم ہی ہیں تو پھر اور کون ایسا ہوسکتا ہے جو ان صفات کا حامل اور مالک ہو سکے ؟ پس اللہ پاک کے سوا کسی اور کو حاجت روا و مشکل کشا اور دستگیر ماننا شرک ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ اس لیے دل کا بھروسہ ہمیشہ اسی پر ہو اور رجوع بھی اسی کی طرف کہ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے اور خالق ومالک اور حاکم و متصرف وہی وحدہ لا شریک ہے۔
14 قصہ نوح سے متعلق عظیم الشان نشان عبرت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے اس کو بنادیا ایک عظیم الشان نشانی "۔ یعنی حضرت نوح کی اسی کشتی کو جو ایک عرصہ تک " جودی " پہاڑی پر دنیا کیلئے سامان عبرت بنی رہی اور صدیوں تک بعد میں آنے والی نسلوں کو اپنی زبان حال سے یہ بتلاتی رہی کہ یہاں کوئی ایسا طوفان آیا تھا جس نے اس کشتی کو اس پہاڑی کی چوٹی پر پہنچا دیا تھا۔ اور سورة قمر کی آیت نمبر 13، 14 میں بھی اس کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ ابن جریر نے اپنی تفسیر میں حضرت قتادہ سے نقل کیا ہے کہ جب مسلمان الجزیرہ کے علاقے میں گئے تو انہوں نے اس کشتی کو خود دیکھا اور موجودہ زمانے میں بھی گاہے گاہے اس طرح کی خبریں آتی رہتی ہیں کہ کشتی نوح کی تلاش کے لئے مہمات بھیجی جا رہی ہیں۔ اور وجہ اس کی یہ بیان کی جاتی ہے کہ بعض اوقات جب ہوائی جہاز کوہ اراراط کے اوپر سے گزرتے ہیں تو ان لوگوں کو اس پہاڑ کی چوٹی پر اس کشتی کے مشابہ ایک چیز دکھائی دیتی ہے۔ نیز { جعلنا ھا } کی اس ضمیر کا مرجع قصہ نوح بھی ہوسکتا ۔ " اَیِ السَّفِیْنَۃُ اَوِ الْقِصَّۃُ " ۔ (جامع البیان، روح، قرطبی، فتح القدیر وغیرہ) ۔ سو حضرت نوح کا یہ قصہ بھی ایک بڑی عظیم الشان نشانی تھی جو اپنے اندر کئی درسہائے عبرت و بصیرت کو سمیٹے ہوئے تھی۔ مثلاً یہ کہ انکار اور تکذیبِ حق کا لازمی نتیجہ اور آخری انجام بہرحال ہولناک تباہی ہے اگرچہ اس کیلئے کسی قوم کو صدیوں اور قرنوں تک مہلت بھی کیوں نہ مل جائے اور نجات انہی کو نصیب ہوگی جنہوں نے اللہ کے رسول کے دامن میں پناہ کو پکڑا ہوگا اور صدق دل سے ان پر ایمان لاکر ان کی اتباع و پیروی کی ہوگی۔ ایسوں کو ہی اللہ تعالیٰ اپنی خاص عنایات سے نوازتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف کشتی نوح بھی ایک عظیم الشان نشان عبرت تھی اور پورا قصہ نوح بھی۔ اس لیے اس کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی تاکہ جس نے عبرت پکڑنا ہو پکڑ لے اور اس کی روشنی میں اپنی اصلاح کرلے۔ قبل اس سے کہ فرصت حیات ہی ہاتھ سے نکل جائے اور اس کو ہمیشہ بچھتانا پڑے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 29:1615 قصہ ابراہیم کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ابراہیم کو بھی ہم نے رسول بنا کر بھیجا۔ یاد کرو جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم لوگ صرف اللہ ہی کی بندگی کرو اور اسی سے ڈرو۔ سو پیغمبر کی زندگی میں اصل چیز ان کی دعوت ہوتی ہے نہ کہ مولود و میلاد کے جشن منانا۔ اس لیے ذکر ان کی دعوت کا فرمایا گیا ہے میلاد اور پیدائش کے قصے کا نہیں۔ سو ارشاد ہوا کہ حضرت ابراہیم کے اس مشن اور دعوت کو یاد اور بیان کرو جس کو دے کر انہیں مبعوث فرمایا گیا تھا۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ اصل مسئلہ میلاد خوانی اور جشن و جلوس میلاد کا نہیں۔ جس طرح کہ آج کل کے عام کلمہ گو مسلمان نے سمجھ رکھا ہے۔ بلکہ اصل مقصد پیغمبروں کی دعوت اور ان کے مشن کو اپنانا اور آگے پہنچانا ہوتا ہے۔ اس لئے ہمارے اسلاف و اَکابر نے دین حق کی اس دعوت کو عام کرنے کے لئے ہر قسم کی کوشش تو ہمیشہ کی اور ہر طرح سے کی لیکن میلاد منانے اور اس طرح کے جلوس نکالنے کا اہتمام کبھی نہیں کیا۔ اور پورے قرآن پاک میں جہاں بھی کہیں کسی پیغمبر کا ذکر آیا وہاں ان کی دعوت و تبلیغ ہی کا ذکر فرمایا گیا۔ کسی کے بھی مولود یا میلاد کا ذکر نہیں فرمایا گیا سوائے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے کہ ان کی ولادت عام اسباب کے خلاف معجزانہ طور پر ہوئی تھی۔ یا پھر حضرت آدم کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ انکو خالق نے بغیر ماں باپ کے مٹی سے پیدا فرمایا اور پھر اپنے کلمہ { کن } سے انکو زندہ فرما دیا اور بس۔ اس کے سوا کسی بھی پیغمبر کی ولادت اور پیدائش کا کوئی ذکر پورے قرآن میں کہیں نہیں فرمایا گیا بلکہ ان کی دعوت اور تبلیغ کا ذکر فرمایا گیا۔ سو اصل چیز ان کی دعوت اور تبلیغ ہے نہ کہ ان کے مولود و میلاد کے جشن منانا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
16 تقویٰ و عبادت فوز و فلاح کی اصل اساس و بنیاد ہے : اس لیے حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کو دعوت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ " تم لوگ اللہ ہی کی بندگی کرو اور اسی سے ڈرو۔ یہ بہتر ہے تم لوگوں کے لیے اگر تم جانو "۔ سو " اللہ ہی کی بندگی اور اس کا تقویٰ ہی سب سے بہتر ہے اگر تم لوگ جانو "۔ اس حق اور حقیقت کو۔ کہ معبود برحق بہرحال وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور ہر طرح کی عبادت و بندگی اسی کا اور صرف اسی کا حق ہے۔ اس کے سوا نہ کسی کے لئے سجدہ جائز، نہ رکوع، نہ قیام، نہ نذر، نہ نیاز اور نہ طواف۔ پس عبادت کی یہ تمام شکلیں تم اسی وحدہ لاشریک کے لئے بجا لاؤ کہ تمہاری کامیابی اور سلامتی کی راہ یہی اور صرف یہی ہے۔ اور اس کی بجائے اگر تم نے کسی اور کی بندگی و پوجا کی تو یہ تمہارے لئے سراسر ہلاکت اور تباہی کا سامان ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت و بندگی اور اس کا تقویٰ و خوف ہی وہ دولت ہے جو زندگی کا اصل مقصد بنائے جانے کے لائق ہے کہ اسی میں انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان ہے۔ بہرکیف حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کو حق کی دعوت دیتے ہوئے ان سے کہا کہ تم سب اللہ وحدہ لا شریک ہی کی عبادت و بندگی کرو کہ معبود برحق وہی اور صرف وہی ہے۔ تم اس کی گرفت اور اس کے عذاب سے ڈرو اور اس کے حقِّ عبادت و بندگی میں دوسروں کو شریک کر کے اس کے غضب کو دعوت نہ دو ۔ یہ سب سے بہتر نصیحت اور عمدہ موعظت ہے جو میں تم لوگوں کو ٹھیک وقت پر پہنچا رہا ہوں بشرطیہ تم اس کو سمجھو اور اس کی صحیح طور پر قدر کرو ۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید -
Ayahs 29:17–1817 معبودان باطلہ کی بےحقیقتی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ابراہیم نے ان سے کہا کہ " جن کی پوجا تم لوگ کر رہے ہو اللہ کے سوا وہ محض بت ہیں "۔ جن کو تم لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے گھڑ لیا ہے اور بس۔ بھلا تم ذرا سوچو تو سہی کہ بےحس اور بےجان پتھروں سے اپنے ہاتھوں کے گھڑے ہوئے یہ بت اور خود ساختہ و بےحقیقت یہ مورتیاں تم کو آخر کیا دیں گی ؟ اور کیا دے سکتی ہیں ؟ کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ؟ اور اتنی واضح حقیقت اور اس قدر موٹی بات بھی سمجھنے سے تم قاصر ہو ؟ مگر جب کسی کی مت مار دی جاتی ہے تو اس کا حال یہی ہوجاتا ہے اور اس کو اس قدر واضح حقائق بھی سمجھ نہیں آسکتے۔ جیسا کہ آج بہت سے کلمہ گو مشرکوں کا حال ہے کہ کوئی کسی قبر کی پوجا کرتا ہے کوئی کسی گھوڑے کی اور کوئی کسی آستانے کی وغیرہ وغیرہ۔ اور ان کو یہ بات سمجھنے کی توفیق ہی نہیں ہوتی کہ میرا دین مجھ کو کیا سکھلاتا اور بتلاتا ہے اور میں کدھر جارہا ہوں اور کیا کر رہا ہوں ۔ والعیاذ باللہ جل و علا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر مستقیم و ثابت قدم رہنے کی توفیق بخشے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
18 شرک و بت پرستی نرا جھوٹ اور افتراء ۔ والعیاذ باللہ : سو حضرت ابراہیم نے اپنی مشرک قوم سے فرمایا کہ تم لوگ تو محض من گھڑت بتوں کی پوجا کرتے ہو۔ اور تم لوگ نرا جھوٹ گھڑتے ہو۔ جو ان خود تراشیدہ بتوں کو خدا مانتے اور ان کی پوجا پاٹ کرتے ہو اور ان میں جھوٹ موٹ کی خدائی صفات و اختیارات تسلیم کرتے ہو۔ حالانکہ ان کی سرے سے کوئی حقیقت اور حیثیت ہی نہیں۔ سوائے اس کے کہ کچھ نام ہیں جو تم لوگوں نے اور تم سے پہلے تمہارے بڑوں نے ازخود رکھ دئیے ہیں اور بس ۔ { اِنْ ہِیَ اِلَّا اَسْمَآئٌ سَمَّیْتُمُوْہَآ اَنْتُمْ وَآٰبَآئُکُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنْ سُلْطَانٍ } ۔ سو تمہارا یہ دعویٰ کہ خدا نے ان کو اپنی خدائی میں شریک ٹھہرایا ہے محض ایک جھوٹ اور نرا بہتان ہے جو تم لوگ اس وحدہ لاشریک معبود برحق پر لگا رہے ہو۔ نہ اس نے کبھی ایسا فرمایا ہے اور نہ ہی تمہارے پاس اس کی سند اور دلیل ہے اور نہ ہی اس کی کوئی سند اور دلیل ہوسکتی ہے۔
19 معبودان باطلہ کے اختیار میں کچھ بھی نہیں : سو حضرت ابراہیم نے ان سے فرمایا کہ " جنکی پوجا تم لوگ کرتے ہو وہ تمہارے لیے کسی بھی طرح کی روزی کا کوئی اختیار نہیں رکھتے "۔ یعنی روزی جس کی وجہ سے انسان بسا اوقات اپنا ضمیر و ایمان بھی بیچ ڈالتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور جو انسان کی ایک اہم اور بنیادی ضرورت ہے اس کا بھی انہیں کوئی اختیار نہیں۔ تو پھر تم ان کی پوجا پاٹ آخر کیوں اور کس لئے کرتے ہو ؟ تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا اور تمہاری مت آخر کہاں اور کیوں مار دی گئی ؟ اور تم ان کے آگے جھک کر اس طرح ذلیل و خوار کیوں ہو رہے ہو ؟ اور اگر تم لوگوں کا یہ گمان ہے کہ تمہارے ان خودساختہ معبودوں کا تمہاری روزی پر کسی طرح کا کوئی اختیار ہے۔ تو یہ محض تمہارا وہم ہے۔ ان کو تمہارے رزق و فضل پر کسی طرح کا کوئی اختیار نہیں۔ بلکہ یہ سب کچھ اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے جو کہ خالق کل، مالک مطلق اور معبود برحق ہے۔ پس تم لوگ اگر رزق و فضل چاہتے ہو تو اللہ ہی سے مانگو جو کہ خالق ومالک حقیقی ہے اور جس کے قبضہ قدرت و اختیار میں آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات کے تمام خزانے ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ ہمیشہ اپنا ہی بنائے رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
20 سب کا رجوع بہرحال اللہ ہی کی طرف : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی کی طرف لوٹایا جائے گا تم سب لوگوں کو "۔ پس مانگو بھی تم اسی سے کہ دینے والا وہی ہے جو سب کو دیتا ہے اور سب کچھ دیتا ہے۔ ہر وقت دیتا ہے اور ہمیشہ اور مسلسل و لگاتار دیتا ہے۔ بےحد و حساب دیتا ہے اور ضرورت کی نعمتیں وہ بغیر کسی سوال و درخواست کے دیتا ہے۔ اور عبادت و بندگی بھی اسی کی کرو کہ معبود حقیقی بھی وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور شکر بھی اسی کا بجا لایا کرو کہ شکر کا حق دار بھی دراصل وہی ہے۔ اور اس حقیقت کو ہمیشہ پیش نظر رکھو کہ تم نے خواہی نخواہی آخرکار اسی کے حضور حاضر ہونا ہے اور اس کے حضور حاضر ہو کر تم نے اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا حساب دینا اور بھرپور صلہ و بدلہ پانا ہے۔ پھر سوچ لو کہ تم اس کے حضور کیا لے کر حاضر ہو رہے ہو ؟ اور اس کی بارگاہ اقدس و اعلیٰ میں کیا جواب دو گے ؟ اور فیصلہ اور جزاء کے اس ہولناک دن میں تمہارے یہ خودساختہ معبود تمہارے کچھ بھی کام نہیں آسکیں گے جن کی پوجا تم لوگ آج کرتے ہو۔ اور { ترجعون } کے صیغہ مجہول سے واضح فرمایا دیا گیا کہ تم سب کو بہرحال اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ تم چاہو یا نہ چاہو ایسا بہرحال ہو کر رہے گا۔ تمہارے بس اور اختیار کا اس میں کوئی دخل نہیں۔
Ayah 29:1922 وجود خلق اعادئہ خلق کی دلیل و ثبوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا ان لوگوں نے کبھی اس بارے دیکھا اور غور نہیں کیا کہ اللہ نے کس طرح مخلوق کو پہلی مرتبہ پیدا فرمایا پھر وہی اس کو دربارہ زندہ کرے گا "۔ بیشک یہ اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔ یعنی اس کی قدرت لامتناہی کے اعتبار سے تو اگرچہ خلق اور اعادئہ خلق دونوں ایک برابر ہیں کہ وہاں کسی سبب کی ضرورت نہیں ہوتی۔ محض ارادے کی ضرورت اور اشارے کی دیر ہوتی ہے۔ مگر تمہارے نزدیک چونکہ یہ بڑی چیز ہے اسی لئے تم سے یوں کہا جارہا ہے۔ سو یہ فرق خود تمہارے اپنے تجربے اور عادت کے اعتبار سے ہے جس کے مطابق دوبارہ بنانا پہلی مرتبہ بنانے کی بہ نسبت زیادہ آسان ہوتا ہے۔ اور اس کی پہلی مرتبہ کی آفرنیش اور اس کے طرح طرح کے مظاہر جب چاروں طرف تمہاری آنکھوں کے سامنے پھیلے بکھرے موجود ہیں تو پھر اس کے دوبارہ پیدا کرنے کے بارے میں تم لوگوں کو اس قدر تعجب اور اس کا انکار آخر کیوں ہے ؟ سو جس نے ہر چیز کو عدم سے نکال کر خلعت وجود سے نوازا اور جو اپنی اس قدرت کا مشاہدہ کائنات میں برابر کرا رہا ہے اس کیلئے دوبارہ پیدا کرنا کیونکر مشکل ہوسکتا ہے ؟ بہرکیف اس ارشاد سے بعث بعد الموت کے امکان اور اس کے وقوع کے یقین کے لیے کائنات کے مشاہدے اور اس میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے کہ دیکھو اللہ کس طرح چیزوں کو پیدا کرتا ہے اور پھر ان کو فنا کر کے پھر لوٹا دیتا ہے۔ سو مردہ پڑی زمین کو اس کے خشک اور بےآب وگیاہ ہوجانے کے بعد اس کو دوبارہ زندہ کر کے از سرنو سرسبز و شاداب اور گل و گلزار کردیا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ سو اس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ وجود خلق بذات خود اعادئہ خلق کی دلیل ہے ۔ والحمد للہ جل وعلا -
Ayah 29:2023 اللہ ہر چیز پر قادر ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ یعنی ایسا کرنا اگر تمہیں اپنی عاجزی اور درماندگی کے اعتبار سے مشکل لگتا ہے تو بجا ہے کہ یہ تمہارے بس میں واقعی نہیں۔ مگر اللہ پاک کے لئے تو یہ کچھ بھی مشکل نہیں۔ وہ جو چاہے، جب چاہے اور جیسے چاہے کرسکتا ہے کہ وہ قادر مطلق ہر چیز پر، ہر وقت اور ہر طرح سے پوری قدرت رکھتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو توحید، قیامت، بعث بعد الموت اور جزاء و سزا جیسے غیبی حقائق کو ماننے اور ان پر یقین کرنے اور دلیل لانے کیلئے تم لوگوں کو کہیں باہر اور دور جانے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ تمہارے آگے پیچھے، دائیں بائیں، اوپر نیچے، ہر چہار سو پھیلی بکھری اس حکمتوں بھری کائنات میں طرح طرح کے کھلے کھلے اور واضح اور روشن دلائل ہر طرف موجود ہیں۔ سو تم ذرا ان میں نگاہ عبرت و بصیرت دوڑا کر دیکھو تو سہی۔ اس سے تمہیں تمہارے دل و دماغ کو روشن ومنور کرنے والے عظیم الشان دلائل ملیں گے۔ سو ذرا دیکھو تو سہی کس طرح وہ قادر مطلق اس کائنات کی ایک ایک چیز کو پیدا کرتا، اس کو وجود بخشتا اور پھر اس کو معدوم کرکے پھر موجود کردیتا ہے۔ دن چڑھتا ہے پھر ڈوب جاتا ہے۔ اور پھر کچھ ہی گھنٹوں کے بعد وہ اپنی اسی آب و تاب کے ساتھ دوبارہ آموجود ہوتا ہے۔ رات آتی ہے پھر چلی جاتی ہے اور پھر کچھ ہی گھنٹوں کے بعد دوبارہ اپنی اسی شان کے ساتھ اور تاریکی کی اسی چادر اور خاموشی کے سناٹے کے ساتھ پھر آموجود ہوتی ہے۔ خزاں آتی ہے پھر اس کے کچھ ہی بعد اس کی جگہ بہار آجاتی ہے۔ اور اسی طرح اس کے برعکس ہوتا ہے۔ ایک قوم کو وہ قادر مطلق ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ وجود بخشتا ہے پھر اس کو ایک وقت میں مٹا کر اس کی جگہ دوسری قوم لے آتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ تو کیا ان تمام عظیم الشان حقائق کے مشاہدے سے تمہاری آنکھیں نہیں کھلتیں کہ وہی پیدا کرتا اور مٹاتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 29:2124 عذاب کا معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کی مشیئت پر ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ جسکو چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم فرمائے "۔ کہ وہی وحدہ لاشریک جانتا ہے کہ کون عذاب کے لائق ہے اور کون اس کی رحمت کا مستحق کہ اس سے کسی کی بھی کوئی حالت اور کیفیت مخفی اور پوشیدہ نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس کے قانون عدل و حکمت کے سوا کوئی بھی چیز اس کی مشیت اور قدرت پر اثر انداز نہیں ہوسکتی۔ قوموں کی تاریخ اس حقیقت کا ایک واضح اور ناقابل تردید ثبوت ہے۔ سو عبرتوں بھری اس دنیا اور چہار سو پھیلی اس کائنات کے ان طرح طرح کے حوادث و واقعات اور اس کی تاریخ کے مطالعے سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ اپنی رحمت و عنایت اور اپنے عدل و حکمت کے تقاضوں کے مطابق جس کو چاہتا ہے سزا دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اپنی رحمتوں اور عنایتوں سے نوازتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور اسی سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ آخرت میں ثواب و عذاب کا تمام تر معاملہ اسی کے اختیار میں ہوگا۔ کسی دوسری ہستی کے اس میں مداخلت کا کوئی امکان نہیں ہوگا۔ وہی اپنے عدل و حکمت سے جس کو چاہے گا عذاب دے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور جس کو چاہے گا اپنی مغفرت و بخشش اور رحمت و عنایت سے نوازے گا ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 29:2225 اللہ کے مقابلے میں کوئی مددگار ممکن نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تمہاری یہ جان نہیں کہ تم اللہ کے قابو سے نکل جاؤ نہ کہیں آسمان میں چڑھ کر اور نہ کہیں زمین میں چھپ کر۔ اور تمہارے لیے اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی یار ہوگا نہ مددگار "۔ جو تمہیں اللہ کے عذاب اور اس کی پکڑ سے چھڑا سکے۔ یا کم از کم زبانی کلامی طور پر ہی اظہار ہمدردی کرسکے۔ اس لئے اس ربِّ عزیز و حکیم کی ناراضگی اور اس کی گرفت و پکڑ سے بےفکری اور لاپرواہی برتنا سب سے بڑا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یاد رکھو کہ تم لوگ اس بل بوتے کے مالک نہیں ہو کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت و پکڑ سے کہیں نکل بھاگو۔ زمین میں کہیں چھپ کر یا کہیں آسمان میں چڑھ کر کہ زمین و آسمان کی یہ ساری کائنات اسی وحدہ لاشریک کی مخلوق اور اسی کی ملکیت ہے۔ پھر بھی اس کی گرفت و پکڑ سے بےفکری و لاپرواہی بڑی حماقت اور انتہائی خسارے کا سودا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور نہ ہی منکروں کا آخرت میں کوئی حمایتی اور سفارشی ممکن ہوگا۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 29:2326 کفر و باطل کا نتیجہ وانجام نہایت دردناک عذاب ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اہل ِ کفر و باطل کیلئے ایک بڑا ہی دردناک عذاب مقرر ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ کی آیتوں اور اس کے حضور حاضری و پیشی کے منکروں کے لیے اس کی رحمت سے مایوسی اور دردناک عذاب ہے۔ سو اہل کفر وباطل کے لیے اللہ کی رحمت سے کامل محرومی اور ان کے لیے بڑا ہی دردناک عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ اللہ پاک کی رحمت کا اصل کامل اور ابدی ظہور تو جنت اور عالم آخرت ہی میں ہوگا۔ جیسا کہ حدیث پاک میں فرمایا گیا کہ اس دنیا میں جہاں بھی کہیں رحمت کا کوئی مظہر موجود ہے یہ اللہ پاک کی رحمت کے اس سوویں حصے میں سے ہے جو اس نے اس دنیا کے لئے مقرر فرما رکھا ہے۔ بقیہ ننانوے حصے تو آخرت کے لئے مختص ہیں۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آخرت کی ان رحمتوں کا کیا عالم ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ جو لوگ آخرت کا عقیدہ نہیں رکھتے اور اس کو نہیں مانتے تو وہ اس رحمت سے یقینا مایوس اور محروم ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے اس مادہ پرست دور کا انسان ایک انتہاء درجے کے نفسیاتی خوف میں مبتلا ہے کہ یہ مادی سہولتیں اور آسائشیں ہمیں بیشک حاصل ہیں اور بدرجہ تمام و کمال حاصل ہیں لیکن اس کے بعد کیا ہوگا ؟ اور ہم کس انجام سے دو چار ہوں گے ؟ اور اس بنا پر وہ ہمیشہ سے خوف میں مبتلا ہے۔ اس کے برعکس ایک مومن صادق جو عقیدئہ آخرت کے ایمان سے سرشار ہے وہ ہر حال میں شاداں وفرحاں اور مطمئن البال رہتا ہے کہ وہ یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ مجھے اپنے ایمان کی بدولت اپنے رب کے فضل و کرم سے آخرت کی وہ ابدی و دائمی نعمتیں ملنے والی ہیں جن کا یہاں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ بہرحال اہل کفر و باطل کیلئے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کامل محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 29:2427 حضرت ابراہیم کو اپنی قوم کی طرف سے نہایت ہولناک دھمکی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت ابراہیم کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا کہ قتل کردو اس کو یا جلا ڈالو اسے۔ سو اس طرح ان اہل کفر و شرک کی طرف سے حضرت ابراہیم کو قتل کی انتہائی ہولناک دھمکی دی گئی اور باطل پرستوں کی ہمیشہ یہی روش اور یہی تکنیک رہی ہے کہ وہ حجت و دلیل کے میدان میں عاجز آنے کے بعد اس طرح کی دھمکیوں پر اتر آتے ہیں۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ چناچہ آج کے قبر پرستوں، تعزیہ پرستوں اور دوسرے سب باطل پرستوں میں بھی یہ چیز قدر مشترک کے طور پر آپ کو ہر جگہ نظر آئے گی۔ بہرکیف حضرت ابراہیم کی دردمندانہ دعوت کا جواب آپ کی قوم نے آپ کو اس دھمکی کی صورت میں دیا کہ اس شخص کو قتل کردو یا اس کو جلا ڈالو اور بالآخر انہوں نے انکو جلا ڈالنے کی بات پر اتفاق کیا اور اپنے طے شدہ پروگرام اور ظالمانہ سکیم کے مطابق ان کو آگ میں ڈال بھی دیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان اشرار سے بچا لیا۔ آگ آپ کیلئے گلزار بن گئی اور اشرار خائب و خاسر ہوئے۔ سو اس قصے میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو ایمان رکھتے ہیں اور جو ایمان لانا چاہتے ہیں جن میں سے ایک بڑی نشانی اور درس عبرت یہ ہے کہ ایمان والوں کو راہ حق و ہدایت میں سخت امتحانات اور کڑی آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ چناچہ حضرت ابراہیم جیسی جلیل القدر ہستی اور عظیم الشان پیغمبر کو بھی اس کے لیے آگ کے الاؤ سے گزرنا پڑا۔ دوسری نشانی اور درس عبرت اس میں یہ ہے کہ حق کے مقابلے میں قوم قبیلے اور نسب و نسل وغیرہ کے سب رشتے ہیچ اور بےحقیقت ہیں۔ سو حضرت ابراہیم نے اس کی خاطر اپنے باپ اور اپنی قوم وغیرہ کے تمام رشتوں پر حق کے مقابلے میں لات مار دی اور اس کے لیے ہر قربانی پیش فرمائی۔ اور تیسری بڑی نشانی اور اہم درس عبرت اس میں یہ ہے کہ جو لوگ حق کو پسپا کرنے اور اس کو نیچا دکھانے کے لیے اپنا زور صرف کرتے ہیں اور اپنے اختیار و اقتدار کی طاقت اس کے خلاف استعمال کرتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ کے قانون امہال و ابتلاء کے مطابق ایک حد تک ڈھیل اگرچہ ملتی ہے لیکن بالآخر ان کو دنیا و آخرت دونوں کی ہولناک رسوائی سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 29:2528 اہل کفر و باطل کی روشنی وتعلق محض دنیا کے لیے : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ اہل کفر وباطل کی تمام دوستیاں اور تعلقات صرف اسی دنیاوی زندگی تک ہیں اور بس۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت ابراہیم نے ان لوگوں سے فرمایا کہ تم لوگوں نے اپنے ان من گھڑت اور خود ساختہ بتوں کو جن کو تم نے اپنے طور پر اپنا معبود بنا رکھا ہے اپنے درمیان دوستی اور تعلق کا ذریعہ بنایا ہوا ہے لیکن کل قیامت میں تم ایک دوسرے کا انکار کرو گے اور ایک دوسرے پر لعنت برساؤ گے۔ سو گمراہ لیڈروں اور انکے گمراہ پیروؤں اور تمام اہل باطل کی دوستیاں اسی دنیاوی زندگی تک ہیں اور بس۔ سو فرمایا کہ اس بت پرستی کو تم لوگوں نے اپنے اجتماع اور اپنی سوسائٹی کی اساس و بنیاد بنا رکھا ہے۔ مگر کل قیامت کے دن کام دینے کی بجائے یہ رشتے اور تعلق الٹا تمہارے لئے وبال ہوں گے کہ وہاں پر ایک ہی تعلق اور ایک ہی رشتہ کام آئے گا جو کہ ایمان و تقوے کی اساس پر قائم ہوگا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اَلاَخِلَّآئُ یَوْمَئِذٍ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ الَّا الْمُتَّقِیْنَ } ۔ سو آج کے اہل باطل کو بھی آپ دیکھیں گے کہ وہ قبر پرستی، تعزیہ پرستی اور پیر پرستی وغیرہ وغیرہ جیسے مختلف امور کی بنیاد پر اپنے اپنے کاروبار چلاتے، انجمن سازی کرتے، جماعتیں بناتے، سوسائٹیاں قائم کرتے اور اجتماعات منعقد کرتے ہیں ۔ اللہ پاک اہل حق کو صرف اور صرف حق اور تقویٰ کی بنیاد پر آپس میں ملنے کی توفیق وسعادت بخشے ۔ آمین۔ بہرکیف حضرت ابراہیم نے ان سے فرمایا کہ تمہاری یہ دوستیاں بس اسی دنیاوی زندگی میں ہیں اور بس۔ کل قیامت کے روز جب اصل حقائق سامنے آئیں گے تو تم ایک دوسرے کا انکار کرو گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس روز چیلے چانٹے اور اتباع و اَذناب اپنے بڑوں اور لیڈروں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارا بیڑا غرق کیا۔ اگر تم نہ ہوتے تو ہم گمراہ نہ ہوتے۔ اس پر ان کے وہ لیڈر اور گرو ان سے کہیں گے کہ نہیں قصور خود تمہارا اپنا ہے۔ تم ہمارے پیچھے لگے کیوں تھے۔ ہم تو جیسے خود تھے ایسے ہی تم کو بنایا کہ ہم خود گمراہ تھے اس لیے تم کو بھی گمراہی کے ہاویے میں ڈالا۔ جیسا کہ دوسرے مختلف مقامات پر اس کی تصریح اور تفصیل بیان فرمائی گئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ و ضلال سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 29:2629 حضرت ابراہیم کا اعلان ہجرت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " حضرت ابراہیم نے کہا کہ میں ہجرت کرتا ہوں اپنے رب کی طرف۔ بیشک وہی ہے سب پر غالب نہایت حکمت والا "۔ سو یہ حضرت ابراہیم کا اپنے رب کی طرف ہجرت کا اعلان تھا۔ سو انہوں نے فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں یعنی میں وہاں جا رہا ہوں جہاں اپنے رب کے حکم کے مطابق خود بھی زندگی گزار سکوں اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دے سکوں یعنی جہاں اس دعوت کا خاص اثر اور فائدہ ظاہر ہو سکے۔ چناچہ آپ نے اس کے مطابق عراق سے فلسطین و شام کی طرف ہجرت فرمائی جو اس زمانے میں ایک ہی علاقہ شمار ہوتا تھا۔ سو حضرت ابراہیم نے جب دیکھا کہ یہ لوگ اب ماننے والے نہیں بلکہ ماننے اور قبول کرنے کی بجائے الٹا یہ ان کی جان لینے کی کوشش میں لگ گئے ہیں تو آپ نے ہجرت کا اعلان فرما دیا۔ بہرکیف آپ نے جب دیکھا کہ یہ ظالم اور بدبخت قوم حق کو ماننے اور قبول کرنے والی نہیں بلکہ یہ لوگ میرے قتل اور تحریق کے درپے ہیں۔ اس لیے اب ان کے انذار کا کوئی فائدہ نہیں۔ لہذا آپ نے اس بات کا عزم اور ارادہ فرمایا کہ اب میں ان کو چھوڑ کر اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں۔
Ayahs 29:27–2830 اللہ کی راہ میں قربانیوں پر عظیم الشان انعامات کی نوازش : سو حضرت ابراہیم نے جب اللہ کی راہ میں ہجرت کی تھی تو اس وقت حضرت لوط کے سوا کوئی آپ کی ہمنوائی کرنے والا نہ تھا۔ لیکن ہجرت کے بعد اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانیوں کے نتیجے میں آپ کو حضرت اسحاق جیسے عظیم الشان بیٹے اور حضرت یعقوب جیسے عظیم الشان پوتے کی نعمت سے نوازا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب سے نوازا "۔ معلوم ہوا کہ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کے لئے کسی سوسائٹی کو خیر باد کہتا ہے اللہ پاک اس کو سوسائٹی کے لئے اس سے بہتر افراد عطا اور مہیا فرماتا ہے کہ اس کی تو شان ہی نوازنا اور عطا فرمانا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نیز اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ بیٹوں اور پوتوں سے نوازنا اللہ ۔ وحدہ لاشریک۔ ہی کی شان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت اور اس کی رضا و خوشنودی کے لیے عظیم الشان قربانیوں پر حضرت ابراہیم کو عظیم الشان اور بےمثال انعامات سے نوازا گیا کہ آپ کو حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب جیسی عظیم الشان اولاد کی نعمت سے بھی نوازا گیا۔ اور دوسری طرف عظیم الشان نعمتوں سے بھی سرفراز فرمایا گیا۔ سو اللہ تعالیٰ انتہائی قدردان اور بڑا ہی مہربان ہے ۔ فایاہ نسأل التوفیق لما یحب ویرضی وعلی ما یحب ویرضیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔
31 حضرت ابراہیم کے ایک خاص انعام کا ذکر : سو اس سے حضرت ابراہیم اور آپ کی اولاد کے لیے ایک عظیم الشان انعام کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ آئندہ کے لیے نبوت اور کتاب کو آپ کی اولاد ہی میں رکھ دیا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے نبوت اور کتاب کو انہی کی اولاد میں رکھ دیا "۔ چناچہ آپ کے بعد جتنے اور جو بھی انبیائے کرام تشریف لائے وہ سب کے سب آپ (علیہ السلام) ہی کی نسل میں سے تھے۔ اسی لئے آپ کو ابو الانبیاء کہا جاتا ہے ۔ علی نبینا (علیہ الصلوۃ والسلام) ۔ اور آپ کے بعد جملہ اہل ادیان آپ کی امامت اور پیشوائی پر متفق ہیں۔ اور یہ وہ منفرد خصوصیت ہے جو حضرت ابراہیم کے سوا اور کسی کو نہیں ملی۔ سو حضرت ابراہیم کو ان کے بےمثال صدق و اخلاص اور عظیم الشان و بےمثال قربانیوں پر ان عظیم الشان انعامات سے نوازا گیا۔
32 حضرت ابراہیم کے لیے دنیا و آخرت کی سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے انکو انکا صلہ دنیا میں بھی دیا اور آخرت میں وہ ہمارے قرب خاص کے سزاواروں میں سے ہوں گے "۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ انسان کو اپنے کئے کرائے کا صلہ و بدلہ آخرت سے پہلے اس دنیا میں بھی ملتا ہے۔ اچھائی اور نیکی کا اچھا اور برائی کا برا ۔ والعیاذ باللہ ۔ مگر پورا اور کامل طور پر بدلہ آخرت ہی میں ملے گا جو کہ دارالجزاء ہے اور جس کی جزا اور اس کا بدلہ کامل اور ابدی ہے۔ جبکہ دنیا اصل میں دارالجزاء نہیں بلکہ دارالعمل ہے۔ مگر انسان کو اپنے اعمال کا کچھ نہ کچھ بدلہ اس دنیا میں بھی ملتا ہے۔ بہرکیف حضرت ابراہیم کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو ہم نے ان کا اجر دنیا میں بھی دیا۔ سو کہاں وہ دور تھا کہ آپ کو آپ کی بدبخت قوم نے قتل کرنے اور جلا دینے کی دھمکی دی اور بالفعل آپ کو آگ کے ایک ہولناک الاؤ میں جھونک بھی دیا اور کہاں آج کا یہ دور ہے کہ یہود و نصاریٰ اور مشرکین مکہ تک آپ کو اپنا مقتدا و پیشوا مانتے ہیں اور آپ سے اپنے انتساب پر فخر کرتے ہیں اور مسلمان قومیں ہی ملت ابراہیمی پر ہیں۔ اور آج چار ہزار برس سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود آپ کا نام زندئہ و تابندہ ہے اور تا قیام قیامت اسی طرح زندہ رہے گا۔ اور جو اجر وثواب آپ کو آخرت میں ملے گا اس کا اندازہ ہی کون کرسکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 29:29–3034 قطع سبیل سے مقصود و مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت لوط نے ان سے مزید فرمایا کہ " تم لوگ راستے کاٹتے ہو "۔ یعنی ڈاکہ زنی کرتے ہو کہ یہ مرض بھی اس خبیث قوم کے اندر موجود تھا۔ اور دوسرا مطلب قطع سبیل ۔ راستہ کاٹنے ۔ کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم لوگ قضائے شہوت کے جائز اور فطری طریقے کو چھوڑ کر اس غیر فطری فعل کو اپناتے ہو۔ اور اس طرح تم لوگ قطع نسل کا ارتکاب کرتے ہو۔ (ابن کثیر، مراغی، خازن، فتح، معارف وغیرہ) ۔ سو امرد پرستی دراصل فطرت کا راستہ کاٹنا ہے کہ اس فعلِ بد کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ایسے انسان کی عورتوں سے رغبت ختم ہوجاتی ہے۔ اور اس طرح ایسی قوم اہلاک نسل کی راہ پر چل پڑتی ہے جو خالق کی منشا کے خلاف اور ہلاکت و تباہی کی راہ ہے۔ سو حضرت لوط نے اس ممسوخ الفطرت قوم کے قلب و ضمیر پر دستک دیتے ہوئے ان سے کہا کہ بدبختو تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو اور فطرت کی راہ مارتے ہو مگر جن کی مت مار دی جائے ان پر ایسی کسی بات کا اثر تھوڑا ہی ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
35 فسادِ اَخلاق کی حد اور انتہاء : سو حضرت لوط نے ان بدبختوں کے اس فساد اخلاق پر ضرب لگاتے ہوئے ان سے فرمایا " اور تم لوگ اپنی بھری مجلسوں میں اس بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو "۔ یعنی ستم بالائے ستم یہ کہ تم لوگ اس شرمناک اور خلاف وضع فطری فعل کے ارتکاب پر شرمندہ ہونے کی بجائے الٹا اس کا ارتکاب اعلانیہ اور فخریہ طور پر کرتے ہو ۔ " اتیان الرجال فی مجالسہم یری بعضہم بعضا قالہ منصور و مجاھد و القاسم بن محمد و ابن زید ۔ (البحر : ج 7 ص 150) ۔ اور اس کے علاوہ روایت میں ان کی اور بھی کئی خباثتوں کا ذکر آتا ہے۔ مثلاً راہ چلتے لوگوں پر سنگ باری کرنا۔ ان کا مذاق اڑانا اور آوازے کسنا وغیرہ۔ اور ظاہر ہے کہ جو لوگ اتنی بڑی برائی و بےہودگی تک کا ارتکاب اپنی بھری مجلسوں میں کرسکتے ہیں ان سے اور کیا بعید ہوسکتا ہے ؟ اور ان کو ایسے کام کرنے میں کیا باک ہوسکتا ہے ؟ سو برائی کا ارتکاب اعلانیہ طور پر اور سب کے سامنے کرنا اور بھی زیادہ برا ہے۔ اسی لئے اللہ پاک نے اس کی یہاں پر بطور خاص تصریح فرمائی ہے۔ مگر آج خود ہمارے دور میں اور ہمارے اسلامی ملکوں میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ سینماؤں، تھیٹروں اور کلبوں وغیرہ میں برہنہ اور نیم برہنہ ڈانس، گندی ننگی فلمیں، بےہودہ و فحش گانے وغیرہ کیا کچھ نہیں ہو رہا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ واضح رہے کہ " نادی " کا جو لفظ اس آیت کریمہ میں وارد ہوا ہے آج کی عربی میں یہ لفظ بعینہ اسی معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے یعنی " کلب "۔ جیسے عرب لوگ کہتے ہیں " نادی النصر " اور " النادی الاھلی " وغیرہ۔ بہرکیف آج کتنی ہی برائیاں ایسی ہیں جو اس طرح اعلانیہ طور پر اور کھلم کھلا کی جاتی ہیں۔ لیکن ان پر نہ کوئی روک ہے نہ ٹوک بلکہ الٹا ان کی روک ٹوک کرنے والوں پر طعن وتشنیع کے تیر چاروں طرف سے اور نت نئے انداز میں برسائے جاتے ہیں ۔ فَاِلَی اللّٰہِ الْمُشْتَکٰی ۔ سو یہ فساد اخلاق کی حد اور انتہاء ہے جس کے بعد انسان کہلانے والے لوگ حیوانوں سے بھی بدتر ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -