29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsانوار البیان

Ayahs 29:1–2

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ Open ayah 29:2 in the Quran reader

کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ (صرف) یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے چھوڑ دئیے جائیں گے اور انکی آزمائش نہیں کی جائے گی ؟

(29:1) احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا وھم لایفتنون۔ ہمزہ استفہام انکاری ہے حسب (ماضی بمعنی حال) حسبان مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب حسب یحسب (سمع) وحسب یحسب (حسب) سے بمعنی گمان کرنا۔ خیال کرنا۔ حسب افعال قلوب میں سے ہے افعال قلوب متعدی بدو مفعول استعمال ہوئے ہیں ۔ الناس اسم جمع۔ قافل۔ (کیا لوگ خیال کرتے ہیں) ۔ ان یترکوا میں ان مصدریہ ہے یترکوا مضارع مجہول جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور ضمیر مفعول مالم یسم فاعلہ کا مرجع الناس ہے (کہ وہ چھوڑ دئیے جائیں گے۔ اور یہ جملہ حسب کا مفعول اول ہے۔ ان یقولوا۔ میں بھی ان مصدریہ ہے بتقدیر لام یہ حسب کا مفعول ثانی ہے۔ امنا۔ ایمان سے باب افعال۔ ماضی کا صیغہ جمع متکلم ۔ ہم ایمان لائے۔ وہم لایفتنون ۔ ضمیر یترکوا سے حال ہے۔ گویا تقدیر کلام ہے احسبوا ترکہم غیر مفتونین لقولہم امنا کیا وہ خیال کرتے ہیں کہ ان کا چھٹکارا بغیر کسی آزمائش کے (محض) بوجہ ان کے قول کے کہ ” ہم ایمان لے آئے “ ہوجائے گا۔ یعنی کسی کا صرف یہ کہنا کہ میں مومن ہوں کافی نہیں جب تک کہ اس کو آزمائش کی کسوٹی پر نہ پرکھا جائے۔ اسی مضمون میں ارشاد الٰہی ہے :۔ ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ ولما یؤتکم مثل الذین خلوا من قبلکم مستھم البأساء والضراء وزلزلوا حتی یقول الرسول والذین امنوا معہ متی نصر اللہ الا ان نصر اللہ قریب (2:214) کیا تم یہ گمان رکھتے ہو کہ جنت میں داخل ہوجاؤ گے درآں حالیکہ (ابھی ) تم پر ان لوگوں کے حالات پیش نہیں آئے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں انہیں تنگی اور سختی پیش آئی اور انہیں ہلا ڈالا گیا یہاں تک کہ پیغمبر اور جو لوگ ان کے ہمراہ ایمان لائے تھے بول اٹھے کہ اللہ کی امداد ( آخر) کب آئے گی۔
Ayah 29:3

وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 29:3 in the Quran reader

اور جو لوگ ان سے پہلے ہوچکے ہیں ہم نے انکو بھی آزمایا تھا (اور انکو بھی آزمائیں گے) سو خدا ان کو ضرور معلوم کرے گا جو (اپنے ایمان میں) سچے ہیں اور ان کو بھی جو جھوٹے ہیں

(29:3) ولقد فتنا الذین من قبلہم۔ یہ جملہ حال ہے الناس سے یا ضمیر یفتعنون سے۔ واؤ حالیہ ہے لام تاکید کے لئے اور قد یہاں تحقیق کے معنوں میں آیا ہے۔ فتنا ماضی کا صیغہ جمع متکلم ہے فتن یفتن (ضرب) فتنۃ مصدر۔ بیشک ہم نے آزمائش میں ڈالا۔ یا آزمایا تھا ان لوگوں کو جو ان سے پہلے گزرے۔ فلیعلمن میںترتیب کا لام تاکید کا یعلمن مضارع تاکید بانون ثقیلہ ۔ واحد مذکر غائب سو (اللہ تعالیٰ ) ان کو ضرور جان کر رہے گا۔ اس کے بعد ولیعلمن کو مکرر تاکید مزید کے لئے لایا گیا ہے۔ فائدہ : اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ازل سے ابد تک کا ہے اسے آزما کر معلوم کرنے کی ضرورت نہیں ہے آزمائش محض اتمام حجت اور استحقاق جزا و سزا پر قائل کرنے کے لئے ہے۔ ولیعلمن۔ اس کو دوبارہ مزید تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔
Ayah 29:4

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 29:4 in the Quran reader

کیا وہ لوگ جو برے کام کرتے ہیں یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ ہمارے قابو سے نکل جائیں گے ؟ جو یہ خیال کرتے ہیں برا ہے

(29:4) ام۔ یہاں ہمزہ کے معادل کے طور پر آیا ہے جیسے احسب الناس میں اور استفہام انکاری کے معنی دیتا ہے گویا حق سبحانہ و تعالیٰ مومنوں کو یہ منوانا چاہتا ہے کہ وہ آزمائش اور امتحان سے ضرور گزارے جائیں گے۔ اور کافرین کو یہ ذہن نشین کرانا چاہتا ہے کہ ارتکاب سیئات کے بعد وہ اللہ کے انتقام سے بچ کر نہیں کل سکیں گے۔ یسبقونا مضارع منصوب بوجہ عمل ان جمع مذکر غائب سبق یسبق (ضرب) سبق مصدر۔ سبقت لے جانا ۔ آگے نکل جانا۔ نا ضمیر جمع متکلم ان یسبقونا کہ وہ ہم سے آگے نکل جائیں گے۔ ہم سے (بچ کر) نکل جائیں گے۔ ساء برا ہے۔ ساء یسوء سوء (نصر) سے ۔ فعل ذم سے بھی بئس۔ ما یحکمون ۔ میں ھا موصولہ ہے۔ اور یحکمون صلۃ عائد محذوف ای حکمھم ھذا۔ ہے جو ساء کا فاعل ہے۔ بڑا غلط ہے وہ فیصلہ جو وہ کر رہے ہیں۔
Ayah 29:5

مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:5 in the Quran reader

جو شخص خدا کی ملاقات کی امید رکھتا ہو تو خدا کا (مقرر کیا ہوا) وقت ضرور آنے والا ہے اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے

(29:5) من کان یرجوا لقاء اللہ۔ شرط۔ فان اجل اللہ لات۔ جواب شرط ۔ یرجوا مضارع واحد مذکر غائب رجاء مصدر (باب نصر) ر ج و مادہ۔ امید رکھتا ہے توقع رکھتا ہے۔ اجل اللہ مضاف مضاف الیہ۔ اللہ کا مقررہ کردو وقت۔ اجل منصوب بوجہ عمل ان ہے۔ لات۔ لام تاکید کے لئے ہے۔ ات اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے ۔ اتیان مصدر ا ت ی مادہ۔ آنے والا۔
Ayah 29:6

وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:6 in the Quran reader

اور جو شخص محنت کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے محنت کرتا ہے اور خدا تو سارے جہان سے بےپروا ہے

(29:6) جاھد ماضی واحد مذکر غائب۔ مجاھدۃ مفاعلۃ مصدر اس نے جہاد کیا اس نے کوشش کی۔ الجھد والجھد کے معنی وسعت و طاقت اور تکلیف و مشقت کے ہیں۔ مجاہدہ باب مفاعلہ سے ہے باب مفاعلہ میں مقابلہ کا مفہوم پایا جاتا ہے یہ مقابلہ اپنے نفس سے بھی ہوسکتا ہے اور شیطان یا دیگر شیطانی قوتوں سے بھی۔ پھر مفاعلہ میں مبالغہ کا بھی مفہوم پایا جاتا ہے چناچہ اس کے معنی انتہائی کوشش کے بھی ہوسکتے ہیں اور باب افتعال سے الاجتہاد کے معنی کسی کام پر پوری طاقت صرف کرنے اور اسمیں انتہائی مشقت اٹھانے پر طبیعت کو مجبور کرنے کے ہیں۔ یہاں جاھد سے مراد۔ جاھد فی طاعۃ اللہ یا فی لقاء اللہ ہے یعنی اللہ عزوجل کی اطاعت میں کوشش کرتا ہے یا لقاء الٰہی کے لئے مجاہدہ کرتا ہے۔ یجاھد لنفسہ تو وہ اپنے فائدے کے لئے مجاہدہ کرتا ہے۔
Ayah 29:7

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:7 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ہم ان کے گناہوں کو ان سے دور کردیں گے اور ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے

(29:7) لنکفرن میں لام تاکید کا ہے نکفرن مضارع بانون ثقیلہ ۔ جمع متکلم ۔ کفر یکفر تکفیر (تفعل) گناہ کو چھپانا اور اس طرح مٹانا جیسا کہ اس کا ارتکاب ہی نہیں ہوا۔ باب تفعیل کے خواص میں سے سلب مادہ (کسی چیز سے ماخذ کو دور کرنا) بھی ہے یہاں اس ہی معنی میں آیا ہے کفرلہ وعنہ ذنبہ (خدا کا) کسی کا گناہ معاف کردینا یا اس سے گناہ کو محو کردینا گویا کہ اس کا ارتکاب ہوا ہی نہ تھا۔ پس ترجمہ ہوگا :۔ لنکفرن عنھم سیئاتھم۔ تو ہم ان سے ان کے گناہ محو کردیں گے ۔ انہی معنی میں اور جگہ ارشاد ہے لکفرنا عنہم سیئاتھم (5: 65) تو ہم ان سے ان کے گناہ محو کردیتے اور نکفر عنکم سیئاتکم (4:31) تو ہم تمہارے (چھوٹے چھوٹے) گناہ معاف کردیں گے۔ لنجزینھم لام تاکید کا ہے نجزین مضارع تاکید بانون ثقیلہ صیغہ جمع متکلم۔ ہم بدلہ دیں گے ۔ احسن الذی کانوا یعملون ۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) اگر احسن (جو افعل التفضیل کا صیغہ ہے) جزاء کی تعریف میں ہے ای یا حسن جزاء اعمالہم تو ترجمہ ہوگا ۔ ہم انہیں ان کے اعمال کا بہترین بدلہ دیں گے۔ (92 اگر یہ افعال کی تعریف ہے ای بجزاء احسن اعمالہم۔ تو ترجمہ ہوگا :۔ ہم ان کے بہترین اعمال کے مطابق بدلہ دیں گے۔
Ayah 29:8

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:8 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے (اے مخاطب) اگر تیرے ماں باپ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک بنائے جس کی حقیقت سے تجھے واقفیت نہیں تو ان کا کہنا نہ مانیو تم (سب) کو میری طرف لوٹ کر آنا ہے پھر جو کچھ تم کرتے ہو میں تم کو بتلاؤں گا

(29:8) وصینا۔ ماضی جمع متکلم۔ وصی یوصی توصیۃ (تفعیل) حکم دینا۔ وصینا ای امرنا ہم نے حکم دیا۔ ہم نے ہدایت کی۔ الوصیۃ کے اصل معنی ہیں کہ واقعہ پیش آنے سے قبل کسی کو ناصحانہ انداز میں ہدایت کرنا۔ وصی ب ۔ کسی کام کا عہد لینا کسی کام کا اشارہ کرنا۔ وصی الی فلان کسی کو اپنے مال اور بال بچوں پر اپنے مرنے کے بعد وصی بنانا اور وصی فلان بولدہ مہربان بنانا۔ پس وصینا الانسان بوالدیہ حسنا ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ مہربان رہنے کا حکم دیا۔ والدیہ اسم فاعل تثنیہ۔ مضاف ہ ضمیر واحد مذکر غائب مضاف الیہ۔ اصل میں والدین تھا نون بوجہ اضافت کے ساقط ہوگیا۔ اس کے ماں باپ۔ جاھداک۔ جاھدا ماضی تثنیہ مذکر غائب۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر (اگر) وہ دونوں تجھ پر زور ڈالیں۔ مجاھدۃ (مفاعلۃ) سے۔ نیز ملاحظہ ہو 29:6 فانبئکم۔ انبی مضارع واحد متکلم۔ نبا ینبی تنبئۃ (تفعیل سے) خبردار کرنا۔ اطلاع دینا۔ آگاہ کرنا۔ خبر دینا۔ ن ب ء مادہ۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ پھر میں آگاہ کروں گا تمہیں۔
Ayah 29:9

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:9 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے انکو ہم نیک لوگوں میں داخل کریں گے

(29:9) لندخلنھم مضارع مجہول بلام تاکید و نون ثقیلہ۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ہم ان کو ضرور داخل کریں گے۔
Ayah 29:10

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:10 in the Quran reader

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا پر ایمان لائے جب ان کو خدا (کے راستے) میں کوئی ایذا پہنچتی ہے تو لوگوں کی ایذا کو (یوں) سمجھتے ہیں جیسے خدا کا عذاب اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے مدد پہنچے تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں کیا جو اہل عالم کے سینوں میں ہے خدا اس سے واقف نہیں ؟

(29:10) اوذی۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب وہ ستایا گیا۔ اسے ایذا دی گئی۔ ایذاء (افعال) مصدر اذی یؤذی۔ اذی مادہ۔ فی اللہ : لاجل عزوجل اللہ تعالیٰ کی وجہ سے۔ او فی سبیل اللہ۔ اللہ کے راستہ میں ۔ جعل فتنۃ الناس کعذاب اللہ۔ (تو) اس نے لوگوں کی آزمائش کو۔ لوگوں کی ایذاء رسانی کو اللہ کے عذاب کے برابر سمجھا۔ یعنی اس نے دونوں کو ایک سی حیثیت دیدی۔
Ayah 29:11

وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ Open ayah 29:11 in the Quran reader

اور خدا ان کو ضرور معلوم کرے گا جو (سچے) مومن ہیں اور منافقوں کو بھی معلوم کر کے رہے گا

(29:11) ملاحظہ ہو 29:3 ۔
Ayah 29:12

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 29:12 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے طریق کی پیروی کرو ہم تمہارے گناہ اٹھا لیں گے حالانکہ وہ ان کے گناہوں کا کچھ بھی بوجھ اٹھانے والے نہیں کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں

(29:12) سبیلنا ۔ طریقتنا ۔ دیننا۔ ہمارا طریقہ۔ ہمارا دین۔ ہمارا مذہب۔ ولنحمل۔ لام۔ لام امر ہے۔ اگرچہ اس کی ذاتی حرکت کسرہ ہوتی ہے لیکن واؤ اور فاء کے بعد متحرک ہونے کے بہ نسبت ساکن زیادہ آیا کرتا ہے ۔ نحمل مضارع مجزوم (بوجہ لام امر) جمع متکلم اور ہم (تمہارے گناہوں کے بوجھ کو) اٹھالیں گے۔
Ayah 29:13

وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١٘ وَ لَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 29:13 in the Quran reader

اور یہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور (لوگوں کے) بوجھ بھی اور جو بہتان یہ باندھتے رہے قیامت کے دن ان کی ان سے ضرور پرسش ہوگی

(29:13) لیحملن اصل میں یحملون تھا۔ نون ثقیلہ کے آنے سے واؤ اور نون اعرابی ساقط ہوگئے۔ وہ ضرور اٹھائیں گے۔ لام جواب قسم کا بھی ہوسکتا ہے قسم محذوف ہے۔ ای واللہ لیحملن۔ اثقالا : ثقل کی جمع بحالت نصب۔ بوجھ (گناہوں کے) مراد یہاں ان لوگوں کے گناہوں کے بوجھ ہیں جن کو انہوں نے گمراہ کیا تھا۔ کانوا یفترون۔ ماضی استمراری جمع مذکر غائب (جو جھوٹ) وہ گھڑا جرتے تھے جو دروغ بافی وہ کیا کرتے تھے۔ افتراء (افتعال) مصدر۔
Ayahs 29:14–15

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 29:14 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس برس کم ہزار برس رہے پھر ان کو طوفان (کے عذاب) نے آپکڑا اور وہ ظالم تھے

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:15 in the Quran reader

پھر ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کو نجات دی اور کشتی کو اہل عالم کے لئے نشانی بنادیا

(29:14) وھم ظلمون۔ جملہ حالیہ ہے۔ درآں حالیکہ وہ ظالم تھے۔ یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت اور وعظ کا کوئی اثر قبول نہ کیا اور اپنے کفر اور معاصی کی حالت پر وہ اڑے رہے۔
Ayah 29:16

وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:16 in the Quran reader

اور ابراہیم کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے

(29ـ:16) و ابراہیم۔ منصوب بوجہ مفعول فعل مضمر ای اذکر ابراہیم۔
Ayah 29:17

اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:17 in the Quran reader

تو تم خدا کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے ہو اور طوفان باندھتے ہو تو جن لوگوں کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو وہ تم کو رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے پس خدا ہی کے ہاں سے رزق طلب کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکر کرو اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جاؤ گے

(29:17) اوثانا۔ وثن کی جمع منصوب بوجہ مفعول ہر وہ چیز جس کی خدا کے سوائے پرستش کی جائے وثن ہے مورتی ہو یا پتھر، قبر ہو یا جھنڈا افکا۔ منصوب بوجہ مفعول۔ جھوٹ۔ بہتان۔ الافک ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو اپنے صحیح رخ سے پھیر دی گئی ہو۔ اسی بناء پر ان ہواؤں کو جو اپنا اصلی رخ چھوڑ دیں مؤتفکہ کہا جاتا ہے۔ جیسے ارشاد باری ہے والمؤتفکت بالخاطئۃ (29:9) اور الٹی ہوئی بستیوں نے (یعنی ان کے باسیوں نے) گناہ کے بڑے بڑے) کام کئے تھے۔ جھوٹ اور بہتان میں چونکہ یہ صفت بدرجہ اتم موجود ہے اس لئے ان کو بھی افک کہا گیا۔ افک یافک افک یافک (ضرب سمع) افک مصدر کسی شے کا اپنے اصلی رخ سے پھرنا۔ تخلقون افکا۔ تم جھوٹ تراشتے ہو۔ فابتغوا۔ (الرزق) ابتغوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ ابتغاء مصدر (باب افتعال) تم تلاش کرو۔ تم چاہو۔ الرزق میں الف لام استغراق کے لئے ہے یعنی ہر قسم کا رزق ۔
Ayah 29:18

وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 29:18 in the Quran reader

اور اگر تم (میری) تکذیب کرو تو تم سے پہلے بھی امتیں (اپنے پیغمبروں کی) تکذیب کرچکی ہیں اور پیغمبر کے ذمے کھول کر سنا دینے کے سوا اور کچھ نہیں

(29:18) تکذبوا۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ بوجہ ان شرطیہ ساقط ہوگیا۔ تکذیب (باب تفضیل) (اگر) تم لوگ (مجھے) جھٹلاتے ہو۔ اس کے بعد جملہ محذوف ہے۔ فلا تضروننی بتکذیبکم (اپنی تکذیب سے تم مجھے کوئی ضرر نہیں پہنچاتے ہو۔ کیونکہ تم سے قبل بھی امتوں نے اپنے رسل کی تکذیب کی۔ (اور وہ ان رسولوں کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے) ۔ امم : امۃ کی جمع۔ امتیں۔ فرقے۔ جماعتیں۔ البلغ المبین۔ موصوف وصفت۔ واضح پیغام رسانی۔ پیغام الٰہی کو صاف صاف اور کھول کر واضح طور پر پہنچا دینا۔ فائدہ : اعبدوا اللہ (آیت 16) سے لے کر البلح المبین آیت 18 تک کا کلام حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زبانی ہے۔
Ayah 29:19

اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 29:19 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا کس طرح خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا پھر (کس طرح) اسکو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے یہ خدا کو آسان ہے

(29:19) اولم یروا آیت 19 سے لے کر لہم عذاب الیم آیت 23 تک ایک جملہ معترضہ ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ کا سلسلہ توڑ کر اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا :۔ اولم یروا میں ہمزہ استفہام انکاری ہے اور واؤ عاطفہ ہے اس کا عطف مقدرہ پر ہے ای الم ینظروا ولم یعلموا۔ لم یروا مضارع نفی جحد بلم ۔ صیغہ جمع مذکر غائب۔ کیا انہوں نے نہیں دیکھا۔ یبدی۔ مضارع واحد مذکر غائب ابدء یبدی ابداء (افعال) وہ پیدا کرتا ہے۔ ایجاد کرتا ہے۔ تخلیق اول کرتا ہے اسی سے باب افتعال سے ابتداء شروع۔ یعیدہ : اعاد یعید (افعال) اعادۃ سے مضارع واحد مذکر غائب وہ دوبارہ بار بار پیدا کرتا ہے یا کرے گا۔ اعادۃ بمعنی دہرانا۔ بار بار کرنا ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ یسیر۔ صفت مشبہ واحد مذکر۔ یسر مادہ۔ آسان ۔ سہل۔
Ayahs 29:20–22

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ Open ayah 29:20 in the Quran reader

کہہ دا کہ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلقت کو پہلی دفعہ پیدا کیا پھر خدا ہی پچھلی پیدائش کرے گا بیشک خدا ہر چیز پر قادر ہے

یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ Open ayah 29:21 in the Quran reader

وہ جسے چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم کرے اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ١٘ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠ Open ayah 29:22 in the Quran reader

اور تم (اسکو) نہ زمین میں عاجز کرسکتے ہو اور نہ آسمان میں اور نہ خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ مددگار

(29:20) بدا ماضی واحد مذکر غائب بدأ یبدأ (فتح) بدء اس نے شروع کیا اس نے پیدا کیا۔ ینشی مضارع واحد مذکر غائب انشاء (افعال) مصدر وہ پیدا کرتا ہے۔ النشاۃ الاخرۃ موصوف و صفت، دوسری (بار) پیدائش آخری یا بعد کی پیدائش۔ ثم اللہ ینشی النشاۃ الاخرۃ۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک بعد کی پیدائش عمل میں لائے گا۔ تقلبون ۔ مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ قلب (باب ضرب) سے تم پھیرے جاؤ گے۔
Ayah 29:23

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآئِهٖۤ اُولٰٓئِكَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 29:23 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے خدا کی آیتوں سے اور اسکے ملنے سے انکار کیا وہ میری رحمت سے ناامید ہوگئے ہیں اور ان کو درد دینے والا عذاب ہوگا

(29:23) یئسوا۔ ماضی جمع مذکر غائب یاس مصدر (باب سمع) وہ ناامید ہوگئے ۔ وہ مایوس ہوگیت۔
Ayah 29:24

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 29:24 in the Quran reader

تو انکی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اسے مار ڈالو یا جلا دو مگر خدا نے ان کو آگ (کی سوزش) سے بچا لیا جو لوگ ایمان رکھتے ہیں ان کے لئے اس میں نشانیاں ہیں

(29:24) فما کان جواب قومہ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے کلام جو آیۃ 18 کے ساتھ ختم ہوا ۔ یہاں ان کی قوم کی طرف سے جواب بیان ہوتا ہے۔ فانجہ میںفصیحت کا ہے یعنی فالقوہ فی النار فانجہ اللہ منھا۔ یعنی انہوں نے اس کو آگ میں ڈالا۔ سو اللہ تعالیٰ نے اس کو آگ سے بچا لیا۔ (نیز ملاحظہ ہو ( آیات 21:68 تا 70) سورة الانبیائ)
Ayah 29:25

وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١٘ وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗۙ Open ayah 29:25 in the Quran reader

اور (ابراہیم) نے کہا کہ تم جو خدا کو چھوڑ کر بتوں کو لے بیٹھے ہو تو دنیا کی زندگی میں باہم دوستی کے لئے (مگر) پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے (کی دوستی) سے انکار کردو گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور کوئی تمہارا مددگار نہ ہوگا

(29:25) مودۃ۔ محبت۔ دوستی۔ مصدر ہے ۔ اور مصادر بھی اسی مادہ (ودد) سے آئے ہیں۔ ود، ود، ود وداد، ودادۃ، مودۃ، موددۃ، مودودۃ۔ محبت کرنا۔ ودود بہت محبت کرنے والا۔ دوست۔ تواد (تفاعل) باہم دوستی رکھنا۔ انما اتخذتم من دون اللہ اوثانا مودۃ بینکم فی الحیوۃ الدنیا۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں۔ (1) مودۃ : اتخذتم کا مفعول لہ ہے ۔ اور ترجمہ ہوگا ! تم اللہ کے سوا بتوں کو معبود اپنی آپس کی دنیوی دوستی کے لئے ٹھہرا لیا ہے۔ (یعنی اس ہم اعتقادی سے تمہاری باہمی محبت بڑھے) (2) یا ان کی آپس کی محبت ان کے بت پرستی کا سبب ٹھہری۔ ترجمہ ہوگا :۔ تم نے آپس کی دنیوی محبت کی خاطر اللہ کے سوا بتوں کو معبود ٹھہرالیا۔ (تم نے اپنے باپ دادا کو بر پرستی پر پایا اور ان کی محبت کی وجہ سے ان کے غلط طریقہ پر چلتے رہے۔ برادری کی محبت کی خاطر غلط بات کو ترک نہ کیا۔ یکفر۔ مضارع واحد مذکر غائب وہ انکار کریگا۔ (یہاں جمع کے معنی میں آیا ہے۔ وہ انکار کریں گے) کفرمصدر سے (باب نصر) بعضکم من بعض۔ تم میں بعض بعض سے (انکار کریں گے) یعنی تم آپس میں ایک دوسرے کی پہچان سے ایک دوسرے کی بات سے منکر ہوجاؤ گے۔ ماوکم۔ مضاف مضاف الیہ۔ تمہارا ٹھکانہ۔ ماوی۔ اسم ظرف ہے قیام کی جگہ، ٹھیرنے کا مقام قرآن مجید میں جہاں بھی ماوی بصورت اضافت استعمال ہوا ہے وہاں ظرفی معنی میں استعمال ہوا ہے اور جہاں بغیر اضافت کے مستعمل ہے وہاں مصدری معنی میں آیا ہے۔ اوی یاوی ماوی (باب ضرب)
Ayah 29:26

فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:26 in the Quran reader

پس ان پر (ایک) لوط ایمان لائے اور (ابراہیم) کہنے لگے میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں بیشک وہ غالب حکمت والا ہے

(29:26) فامن لہ لوط۔ پس لوط ان پر ایمان لائے۔ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر، حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔
Ayah 29:27

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:27 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب بخشے اور انکی اولاد میں پیغمبری اور کتاب (مقرر) کردی اور انکو دنیا میں بھی اس کا صلہ عنایت کیا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے

(29:27) وھبنالہ : وھنبا ماضی جمع متکلم۔ وھب وھبۃ۔ مصدر۔ وھب یھب (فتح) ہم نے بخشا۔ لہ میں ضمیر واحد مذکر غائب حضرت ابراہیم کی طرف راجع ہے۔ ذریتہ۔ مضاف مضاف الیہ اس کی اولاد۔ اصل میں چھوٹے چھوٹے بچوں کا نام ذریت ہے مگر عرف عام میں چھوٹی اور بڑی اولاد سب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اگرچہ اصل میں یہ جمع ہے لیکن واحد اور جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
Ayah 29:28

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ١٘ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:28 in the Quran reader

اور لوط (کو یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم (عجب) بےحیائی کے مرتکب ہوتے ہو تم سے پہلے اہل عالم میں سے کسی نے ایسا کام نہیں کیا

(29:28) ولوطا واؤ عطف کی ہے لوطا کا عطف یا تو ابراہیم آیت 16 یا نوحا آیت 14 پر ہے ای وارسلنا لوطا۔ تاتون۔ مضارع جمع مذکر حاضر اتیان مصدر اتی یاتی (باب ضرب) اتیمادہ۔ تم کرتے ہو، تم آتے ہو، یا تم کروگے یا آؤ گے الفاحشۃ۔ اسم ۔ حد سے بڑھی ہوئی بدی۔ ایسی بےحیائی جس کا اثر دوسروں پر پڑے۔ ہر وہ چیز جس کی اللہ نے ممانعت کردی ہو ماسبقکم بھا : ما نافیہ ہے۔ سبق اس نے سبقت کی۔ اس نے پہلی کی۔ وہ آگے بڑھا۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ بھا اس کے ساتھ ۔ یعنی اس فحش فعل کی طرف (کسی قوم نے) تم سے پہل نہیں کی۔ یعنی تم سے پہلے کسی قوم نے اس فعل بد کا ارتکاب نہیں کیا۔ ب حرف جار ہے اور ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الفاحشۃ کی طرف راجع ہے۔
Ayah 29:29

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ١ۙ۬ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَ١ؕ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 29:29 in the Quran reader

کیا تم (لذت کے ارادے سے) مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو اور (مسافروں کی) راہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں ناپسندیدہ کام کرتے ہو ؟ تو ان کی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر خدا کا عذاب لے آؤ

(29:29) ائنکم۔ ہمزہ استفہام کے لئے ہے ان حرف مشبہ بالفعل کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ کیا تم ؟ لتاتون الرجال۔ تم مردوں کے پاس جاتے ہو (شہوت رانی کے لئے) جیسا کہ اور جگہ آیا ہے انکم لتاتون الرجال شھوۃ من دون النساء (7:81) تم خواہش نفس پوری کرنے کے لئے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس جاتے ہو۔ تقطعون السبیل۔ تقطعون مضارع جمع مذکر حاضر قطع مصدر (باب فتح سے) القطع کے معنی کسی چیز کو علیحدہ کردینے کے ہیں خواہ اس کا تعلق حاسہ بصر سے ہو۔ جیسے اجسام وغیرہ۔ لاقطعن ایدیکم (7:124) میں ضرور تمہارے ہاتھ کٹوا دوں گا۔ یا اس کا تعلق بصیرت سے ہو۔ مثلاً الا ان تقطع قلوبھم (9:110) مگر یہ کہ ان کے دل پاش پاش ہوجائیں۔ قطع السبیل۔ راستہ کاٹنا۔ یہ ایک جامع کلمہ ہے جس کے مختلف معانی ہیں مثلاً (1) راہزنی کرنا۔ یا مسافروں سے ایسا سلوک کرنا کہ وہ اپنا سیدھا راستہ اختیار کرکے سفر نہ کرسکیں۔ (2) سبیل سے مراد سبیل اللہ بھہ ہوسکتا ہے اور قطع السبیل بمعنی صد السبیل کسی کو اللہ کے راستہ سے بھٹکانا۔ (3) قطع النسل باتیان مالیس بحرث یعنی ایسی عورت کے پاس جانا جو مرد کی اپنی کھیتی نہیں۔ یعنی زنا کاری کرنا کہ اس سے بھی افزائش نسل میں کئی رکاوٹیں آجاتی ہیں۔ (4) مجہول النسل بچوں کا پیدا کرنا۔ بھی قطع السبیل ہے کہ ان کی تربیت قدرت راستہ سے ہٹ جاتی ہے۔ تقطعون السبیل۔ تم راہزنی کرتے ہو۔ تاتون المنکر۔ تم منکرات کا ارتکاب کرتے ہو۔ نادیکم۔ مضاف مضاف الیہ۔ تمہاری دن کی مجلس مشاورت۔ ن د ی مادہ۔ النداء کے معنی آواز بلند کرنے کے ہیں۔ اور کبھی نفس آواز پر بھی بولا جاتا ہے۔ مثلا لا یسمع الا دعاء ونداء (2:171) نہیں سنتا سوائے پکار اور آواز کے۔ یہاں نداء سے مراد آواز اور پکار ہے۔ نداء ندی سے ہے جس کے معنی رطوبت یا نمی کے ہیں اور آواز کے لئے نداء کا استعارہ اس بنا پر ہے کہ جس کے منہ میں رطوبت زیادہ آگئی ہو اس کی آواز بھی بلند اور حسین ہوگی۔ پھر اسی مادہ سے ندی کے معنی مجلس کے بھی آتے ہیں (شاید کہ مجلس میں بھی آواز سے زیادہ کا لیا جاتا ہے) اس معنی میں ندی کی جمع انداء واندیۃ آتی ہے کبھی نداء سے مراد مجالست بھی ہوتی ہے اس لئے مجلس کو النادی والندی کہا جاتا ہے اور نادی کے معنی ہم مجلس کے بھی آیا ہے۔ مثلاً فلیدع نادیہ (96:17) تو وہ اپنے یاران مجلس کو بلالے۔ اسے سے دار الندوۃ ہے اکٹھے ہوکر مشورہ کرنے کی جگہ۔
Ayah 29:30

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 29:30 in the Quran reader

لوط نے کہا اے میرے پروردگار (ان) مفسد لوگوں کے مقابلے میں مجھے نصرت عنایت فرما

(29:30) رب ای یا ربی۔ انصرنی فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم ۔ تو میری مدد کر۔
Ayah 29:31

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 29:31 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشی کی خبر لے کر آئے تو کہنے لگے کہ ہم اس بستی کے لوگوں کو ہلاک کردینے والے ہیں کہ یہاں کے رہنے والے نافرمان ہیں

(29:31) انا مہلکوا اہل ھذہ القریۃ۔ انا۔ ان حرف مشبہ بالفعل اور نا ضمیر جمع متکلم سے مرکب ہے۔ مھلکوا اسم فاعل جمع مذکر اصل میں مھلکون تھا۔ اضافت کی وجہ سے نون ساقط ہوگیا۔ ھذہ اشارہ القریۃ مشار الیہ دونوں مل کر مضاف الیہ اہل مضاف مضاف الیہ اور مضاف مل کر مضاف الیہ مہلکوا اسم فاعل جمع مذکر اصل میں مھلکون تھا۔ اجافت کی وجہ سے نون ساقط ہوگیا۔
Ayah 29:32

قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا١ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا١٘ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:32 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا کہ اس میں تو لوط بھی ہیں وہ کہنے لگے کہ جو لوگ یہاں (رہتے) ہیں ہمیں سب معلوم ہیں ہم انکو اور انکے گھر والوں کو بچا لیں گے بجز ان کی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی

(29:32) لننجینہ۔ مضارع تاکید بلام تاکید ونون ثقیلہ جمع متکلم۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب ہم ضرور اسے بچالیں گے۔ نجی ینجی تنجیۃ (تفعیل) بچانا۔ ناج بچانے والا۔ نجی مادہ۔ کانت ماضی بمعنی مستقبل مستعمل ہے۔ وہ ہوگی واحد مؤنث غائب کا صیغہ۔ غبرین اسم فاعل جمع مذکر۔ اصل چیز کے گزر جانے کے بعد جو چیز باقی رہ جاتی ہے اسے لغت میں غابر کہتے ہیں اس لئے غبار اس خاک کو کہتے ہیں جو کہ قافلہ کے گزرنے کے بعد اذ کر پیچھے وہ جاتی ہے۔ کانت من الغبرین وہ پیچھے وہ جانے والوں میں ہوگی (جو عذاب میں گرفتار ہوئے اور ہلاک ہوگئے)
Ayah 29:33

وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:33 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ ان (کی وجہ) سے ناخوش اور تنگ دل ہوئے (فرشتوں نے کہا) کچھ خوف نہ کیجئے اور نہ رنج کیجئے ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو بچا لیں گے مگر آپ کی بیوی کہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی

(29:33) سیئ۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ سوء مصدر (باب نصر) ساء یسوء سوء (برا ہونا) رنجیدہ ہوا۔ غمگین ہوا۔ اسے برا معلوم ہوا ربھم ان کے (آنے) سے ان کی وجہ سے ۔ ان کے بارے میں۔ اور جگہ آیا ہے فلما راوہ زلفۃ سیئت وجوہ الذین کفروا (67:27) پھر جب وہ اس عذاب کو پاس آتا دیکھ لیں گے تو کافروں کے چہرے بڑے ہوجائیں گے۔ بگڑ جائیں گے۔ ضاق ماضی واحد مذکر غائب وہ تنگ ہوا۔ ضاق یضیق ضیق (ضرب) ضیق وضیق : سعۃ (وسعت و کشادگی) کی ضد ہے۔ ضیقۃ اک استعمال فقر، بخل، تنگی۔ غم اور اسی قسم کے معنوں میں آتا ہے۔ ضاق بھم ذرعا۔ یعنی وہ ان کے بارے میں عاجز ہوگیا۔ دل تنگ ہوا۔ اور جگہ ارشاد ہے ضاقت علیہم الارض (9:118) زمین ان پر تنگ ہوگئی اور ولاتک فی ضیق مما یمکرون ۔ (6:127) اور جو چالیں یہ چلتے ہیں ان سے تنگدل نہ ہوجئے۔ ذرعا۔ طاقت ، گنجائش۔ ہاتھ کی کشادگی۔ ضیق ذرع سے مراد طاقت کا ختم ہوجانا۔ یا گنجائش نہ رہنا۔ ضاق بھم ذرعا۔ اس نے ان کی (رہائی یا بچاؤ) کی کوئی گنجائش نہ پائی۔ مولانا عبد الماجد دریا بادی رقمطراز ہیں :۔ ضاق بھم ذرعا۔ عربی محاورہ میں یہ ایسے موقعہ پر بولتے ہیں۔ جب شدت ناگواری برداشت سے باہر ہوتی جا رہی ہو اور انسان عاجز آیا جا رہا ہو۔ منجوک۔ مضاف مضاف الیہ۔ منجوا اسم فاعل جمع مذکر منجی واحد تنجیۃ (تفعیل) مصدر اصل میں منجیون تھا نون اضافت کی وجہ سے گرگیا۔ اور ی ثقل کی وجہ سے گرگئی۔ ترجمہ : بچانے والے۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ تیرے بچانے والے۔ تجھے بچا لینے والے۔
Ayah 29:34

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 29:34 in the Quran reader

ہم اس بستی کے رہنے والوں پر اس سبب سے کہ یہ بدکرداری کرتے رہے ہیں آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں

(29:34) منزلون۔ اسم فاعل جمع مذکر انزال (افعال) مصدر۔ اتارنے والے ۔ برسانے والے۔ رجزا۔ عقوبت، بلا، عذاب۔ منصوب بوجہ مفعول ۔ الرجز کے معنی اضطراب کے ہیں۔ (خوب ہلنا اور جنبش کرنا۔ اور اسی سے رجز البعیر ہے جس کے معنی ضعف کے سبب چلتے وقت اونٹ کی ٹانگوں کے کپکپانے اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانے کے ہیں ایسے اونٹ کو ارجز اور اونٹنی کو رجزاء کہا جاتا ہے کنایۃ عذاب مراد ہے۔ آیت ہذا میں معنی ہوں گے :۔ ہم اس بستی کے باشندوں پر ایک عذاب آسمانی ان کی بدکاریوں کی پاداش میں نازل کرنے والے ہیں۔ اسی مادہ سے الرجز پلیدی کے معنی میں جیسے والرجز فاھجر (76:5) اور نجاست سے الگ رہو۔
Ayah 29:35

وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 29:35 in the Quran reader

اور ہم نے سمجھنے والوں کے لئے اس بستی سے ایک کھلی نشانی چھوڑ دی

(29:35) منھا : ای من القریۃ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب القریۃ کی طرف راجع ہے۔
Ayah 29:36

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ۙ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 29:36 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو انہوں نے کہا اے قوم ! خدا کی عبادت کرو اور پچھلے دن (کے آنے) کی امید رکھو اور ملک میں فساد نہ مچاؤ

(29:36) والی مدین اخاہم شعیبا : ای وارسلنا الی مدین اخاہم شعیبا۔ اور (ہم نے بھیجا) اہل مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو ۔ ارجوا۔ فعل امر۔ جمع مذکر حاضر۔ رجاء مصدر (باب نصر) تم امید رکھو۔ لاتعثوا۔ فعل نہی جا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم فساد مت کرو۔ عثی اور عثی مصدر (باب سمع) سے جس کے معنی فساد کرنے کے ہیں باب نصر سے عیث وعثو مصدر ہیں جو اس فساد کے لئے آتے ہیں جس کا ادراک حسی ہو یعنی دنگہ فساد۔ مارکٹائی۔ عثی مادہ۔
Ayah 29:37

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘ Open ayah 29:37 in the Quran reader

مگر انہوں نے انکو جھوٹا سمجھا سو ان کو زلزلے (کے عذاب) نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

(29:37) الرجفۃ۔ بھونچال۔ زلزلہ۔ لرزش۔ صدمہ۔ رجف یرجف (باب نصر) رجف رجوف ورجیف۔ روز سے حرکت دینا۔ الرجل سخت بےچین ہونا۔ الارض زمین کا زلزلہ میں آنا۔ قرآن مجید میں ہے یوم ترجف الارض والجبال (73:14) جس دن زمین اور پہاڑ کانپنے لگیں گے۔ فاصبحوا۔تعقیب کا ہے اصبحوا ماضی جمع مذکر غائب ۔ وہ ہوگئے۔ انہوں نے صبح کی۔ اصبح افعال ناقصہ میں سے ہے جثمین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ جاثم واحد۔ اوندھے پڑنے والے۔ زانو کے بل گرنے والے۔ جثم یجثم (ضرب) وجثم یجثم (نصر) جثم وجثوم۔ مصدر۔ پرندہ کا زمین پر سینہ کے بل بیٹھنا۔ اور اس کے ساتھ چمٹ جانا۔ استعارہ کے طور پر انسان کا سینہ کے بل گرنا۔ یا اوندھے پڑنا ہے۔ فاصبحوا فی دارہم جثمین۔ پس وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے یا پس صبح ہوئی تو وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل کرے پڑے تھے۔
Ayah 29:38

وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ Open ayah 29:38 in the Quran reader

اور عاد اور ثمود کو بھی (ہم نے ہلاک کردیا) چناچہ ان کے (ویران گھر) تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کو آراستہ کر دکھائے اور انکو (سیدھے) راستے سے روک دیا حالانکہ وہ دیکھنے والے (لوگ) تھے

(29:38) وعادا وثمودا۔ منصوب بوجہ فعل مضمر ای واھلکنا عادا وثمودا اور ہم نے ہلاک کیا عاد اور ثمود کو۔ (ثمود بوجہ عجمہ اور معرفہ غیر منصرف ہے) زین۔ ماضی واحد مذکر غائب ۔ اس نے سنوارا۔ اس نے زینت دی۔ اس نے بھلا کرکے دکھایا۔ تزیین (تفعیل) مصدر۔ جس کے معنی آراستہ کرنے اور زینت دینے کے ہیں ۔ مستبصرین۔ اسم فاعل جمع مذکر منصوب بوجہ خبر کانوا ۔ استبصار (استفعال) مصدر۔ دیکھنے والے۔ عقل مند۔ ھق و باطل میں تمیز رکھنے والے ۔ دور اندیش (دنیاوی امور میں) یعنی باوجود یکہ واضح اور روشن دلائل کی وجہ سے انہوں نے حق کو خوب پہچان لیا تھا۔ لیکن شیطان نے ان کے دنیاوی اعمال کو آراستہ پیراستہ کرکے دکھایا اور راہ راست سے ان کو روکے رکھا ۔ وکانوا مستبصرین جملہ حالیہ ہے۔
Ayah 29:39

وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ١۫ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚۖ Open ayah 29:39 in the Quran reader

اور قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی (ہلاک کردیا) اور انکے پاس موسیٰ کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ ملک میں مغرور ہوگئے اور وہ (ہمارے) قابو سے نکل جانے والے نہ تھے

(29:39) وقارون و فرعون وھامان معطوف علی عادا وثمودا۔ ای واھلکنا قارون و فرعون وھامان۔ قارون کو فرعون اور ہامان سے قبل لانے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں :۔ (1) وہ ان سے قبل ہلاک ہوا۔ (2) وہ بظاہر حضرت موسیٰ پر ایمان لایا تھا اور تورات کا علم ان سے زیادہ رکھتا تھا۔ (3) وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا رشتہ دار ہونے کی وجہ سے زیادہ نزدیک تھا۔ جاء ہم میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب قارون و فرعون و ہامان کی طرف راجع ہے ۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس واضح دلائل لائے۔ البینت : روشن دلائل۔ کھلی نشانیاں۔ فاستکبروا۔تعقیب کا ہے استکبروا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے استکبار (استفعال) مصدر انہوں نے گھمنڈ کیا۔ انہوں نے غرور کیا۔ الکبر و التکبر والاستکبار قریب قریب ایک ہی معنی رکھتے ہیں۔ کبر وہ حالت ہے جس کے سبب انسان اپنے آپ کو دوسروں سے بڑا خیال کرے۔ اور سب سے بڑا تکبر قبول حق سے انکار اور عبادت سے انحراف کرکے اللہ تعالیٰ پر تکبر کرنا ہے حدیث شریف میں ہے کہ الکبران تسفہ الحق وتغمص الناس۔ تکبر یہ ہے کہ تو حق کو جہالت تصور کرے اور لوگوں کو حقیر سمجھنے۔ فی الارض۔ زمین میں یا زمین پر۔ حالانکہ زمین پر رہنے والوں کو زیب نہیں دیتا یا ان کو سزاوار نہیں کہ حقیر شے سے پیدا ہونے والی حقیر شے حق سے اور عبادت خالق سماوات والارض سے انکار کرے۔ انہی معنوں میں اور جگہ بھی فی الارض مستعمل ہے۔ مثلاً تستکبرون فی الارض بغیر الحق (46:120) کہ تم زمین میں ناحق غرور کیا کرتے تھے۔ وما کانوا سابقین : ما کانوا فعل ناقص۔ سابقین خبر۔ سابقین : سابق کی جمع۔ سبق سے اسم فاعل جمع مذکر۔ آگے بڑھنے والے۔ سبقت لیجانے والے۔ یہاں وما کانوا سابقین کا مطلب ہے کہ وہ ہم سے بھاگ کر نہ نکل سکے۔ ہماری سزا سے بچ نہ سکے۔ یہاں ضمیر جمع مذکر غائب فرعون و ہامان و قارون کی طرف راجع ہے۔
Ayah 29:40

فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا١ۚ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 29:40 in the Quran reader

تو ہم نے سب کو ان کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا ان میں کچھ تو ایسے تھے جن پر ہم نے پتھروں کا مینہ برسایا اور کچھ ایسے تھے جن کو چنگھاڑ نے آپکڑا اور کچھ ایسے تھے جن کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور کچھ ایسے تھے جن کو غرق کردیا اور خدا ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے

(29:40) فلا اخذنا بذنبہ۔ پس ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ کی پاداش میں پکڑ لیا۔ حاصب بادسنگ بار۔ پتھروں کا مینہ۔ ہواؤں کا پتھر۔ سخت آندھی جس میں کنکریاں ہوں وہ پتھراؤ جس میں تند ہوا ہو۔ حصباء سے مشتق ہے بمعنی کنکریاں (قوم لوط کی سزا) ۔ الصیحۃ۔ چیخ، کڑک، ہولناک آواز۔ صاح یصیح کا مصدر ہے اور بمعنی حاصل مصدر بھی استعمال ہوتا ہے۔ چونکہ زور کی آواز سے آدمی گھبرا اٹھتا ہے اس لئے بمعنی گھبراہٹ اور عذاب کے بھی استعمال ہوتا ہے۔ آیت 37 مذکورہ بالا میں اس عذاب کے واسطے لفظ الرجفۃ استعمال ہوا ہے (اہل مدین۔ عاد وثمود کی سزا) خسقنا بہ۔ ہم نے دھنسا دیا (زمین میں) (قارون کی سزا) اغرقنا۔ ماضی جمع متکلم ہم نے غرق کردیا۔ (فرعون و ہامان کی سزا) فائدہ : جس ترتیب سے آیات 33 تا 39 میں مختلف سرکش قوموں یا افراد کا ذکر آیا ہے مثلاً قوم لوط۔ آیات 33 تا 35 اہل مدین عاد وثمود آیات 36 تا 38 قارون آیت 39 فرعون و ہامان۔ اسی ترتیب سے ان پر آنے والے عذاب کا ذکر آیا ہے۔ باد سنگ بار، قوم لوط۔ سخت ہولناک کڑک کا عذاب ۔ اہل مدین عاد وثمود۔ زمین میں دھنسا دینا۔ قارون۔ غرق کردینا۔ فرعون و ہامان۔ اس کو علم البدیع کی اصطلاح میں لف و نشر مرتب کہتے ہیں۔