Ayahs 29:1–3آیت 1
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمت کاملہ کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بیان فرماتا ہے کہ یہ اس کی حکمت کا تقاضا نہیں کہ جس کسی نے کہہ دیا کہ “ وہ مومن ہے “ اور وہ ایمان کا دعویٰ کرے .... اسے ایسی حالت میں باقی رکھا جائے کہ جس میں وہ آزمائش وابتلا سے سلامت رہے گا اور اسے کوئی ایسا امر پیش نہیں آئے گا جو اس کے ایمان اور اس کی فروع کو مضطرب کرے اور اگر معاملہ اسی طرح ہو تو سچے اور جھوٹے حق اور بطل میں امتیاز نہیں ہوسکتا لیکن اس کی عادت یہ رہی ہے کہ وہ اہل ایمان کو خوشحالی اور تنگدستی راحت اور مشقت بشاشت اور نا گواری فراخی اور محتاجی بعض اوقات دشمنوں کی فتح و غلبہ اور دشمنوں کے خلاف قول وفعل کے ساتھ جہاد وغیرہ جیسی آزمائشوں کے ذریچے سے آزماتا ہے جو تمام تر شبہات کے فتنے کی طرف لوٹتی ہیں جو عقیدے کی معارض ہیں اور شہوات (کے فتنے) کی طرف لوٹتی ہیں جو ارادے کی معارض ہیں۔
شبہات کے وارد ہونے کے وقت جس کسی کا ایمان مضبوط رہتا ہے اور متزلزل نہیں ہوتا اور وہ اس حق کے ذریعے سے شبہات کو دور کردیتا ہے جو اس کے پاس ہے اور شہوات کے وارد ہونے کے وقت ..... جو گناہ اور معاصی کے موجب اور داعی ہیں یا وہ اسے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم سے روگرداں کرتے ہیں ..... وہ ایمان کے تقاضوں پر عمل کرتا ہے اپنی شہوات کے خلاف جدوجہد کرتا ہے تو یہ چیز اس کے ایمان کی صداقت اور صحت پر دلالت کرتی ہے۔ شبہات کے دارد ہونے کے وقت جس کسی کے دل میں شک وریب جڑ پکڑ لیتا ہے اور شہوات کے پیش آنے پر شہوات اسے گناہوں کی طرف موڑ دیتی یا واجبات کی ادائیگی سے روک دیتی ہیں تو یہ چیز اس کے ایمان کی عدم صحت اور عدم صداقت پر دلالت کرتی ہے۔
اس مقام پر لوگ بہت سے درجات میں منقسم ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی شمار نہیں کرسکتا کچھ لوگوں کے پاس بہت قلیل ایمان اور کچھ لوگ اس سے بہت زیادہ سے بہرہ ور ہیں۔ پس ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں دنیا و آخرت کی زندگی میں قول ثابت کے ذریعے سے ثابت قدمی عطا کرے اور ہمیں اپنے دین پر ثبات سے سرفراز کرے۔ ابتلاء اور امتحان نفوس انسانی کے لئے ایک بھٹی کی مانند ہے جو اچھی چیز میں سے گندگی اور میل کچیل کو نکال باہر کرتی کرتی ہے۔
Ayah 29:4آیت 4
یعنی کیا ان لوگوں نے ‘ جن کے ارادوں پر جرائم کا ارتکاب اور برے افعال غالب ہیں یہ سمجھ رکھا ہے کہ ان کے اعمال کو یونہی چھوڑ دیا جائے گا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں عن قریب غافل ہوجائے گا یا وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے نکل بھاگیں گے۔ اسی لئے وہ گناہوں کا ارتکاب کر رہے ہیں اور ان کے لیے ان گناہوں پر عمل کرنا بہت آسان اور سہل ہے ؟ (ساء ما یحکمون) یعنی ان کا فیصلہ بہت برا ہے یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کے انکار کو متضمن ہے نیز ان کے اس دعوے کو متضمن ہے کہ ان میں اتنی طاقت اور قدرت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ سکیں حالانکہ وہ سب سے کمزور اور سب سے عاجز مخلوق ہیں۔
Ayahs 29:5–6آیت 5
اے اپنے رب کے ساتھ محبت کرنے والے ! اس کے قرب اور اس کی ملاقات کا اشتیاق رکھنے والے ! اور اس کی رضا کے حصول کی خاطر بھاگ دوڑ کرنے والے ! اپنے محبوب کی ملاقات کے وقت کے قریب آنے پر خوش ہوجا کیونکہ وہ وقت آنے والا ہے اور ہر آنے والا وقت قریب ہوتا ہے۔ اپنے محبوب کی ملاقات کے لئے زاد راہ لے کر، امید کو اپنا ساتھی بنا کر اور محبوب کے وصل کی آرزو کرتے ہوئے اس کی طرف رواں دواں ہوجا۔ مگر ہر شخص کو، اس کے دعویٰ کرنے پر عطا نہیں کردیا جاتا اور نہ اس کی ہر تمنا پوری کردی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آوازوں کو سننے والا اور نیتوں کو جاننے والا ہے اس لئے جو کوئی اپنے دعوے اور تمناؤں میں سچا ہے اللہ تعالیٰ اس کی امیدوں کو پورا کردیتا ہے اور جو کوئی اپنے دعوے میں جھوٹا ہے اس کا دعویٰ اسے کوئی فائدہ نہیں دیتا وہ خوب جانتا ہے کہ کون اس کی محبت کا اہل ہے اور کون اس کا اہل نہیں۔
جس نے اپنے نفس، شیطان اور کافر دشمن کے خلاف جہاد کیا۔
” تو وہ اپنے ہی فائدے کے لئے جہاد کرتا ہے “ کیونکہ اس جہاد کا فائدہ اور اس کا ثمرہ اسی کی طرف لوٹتا ہے اور اللہ تو تمام جہانوں سے بےنیاز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاد کا حکم دیا ہے اس کا مقصد یہ نہیں کہ اس سے اسے کوئی فائدہ حاصل ہوگا اور نہ اللہ تعالیٰ نے بخل کی بنا پر بعض چیزوں سے روک رکھا ہے۔ یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ اوامرونواہی میں، مکلف جدوجہد کا محتاج ہے کیونکہ اس کا نفس طبعاٰ نیکی کرنے میں سستی کرتا ہے، اس کا شیطان اسے نیکی کی راہ سے روکتا ہے اور اس کا کافر دشمن اسے اقامت دین سے منع کرتا ہے ان تمام معارضات کو دور کرنے کے لئے مجاہدے اور سخت کوشش کی ضرورت ہے۔
Ayah 29:7(7)
یعنی وہ لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان اور عمل صالح سے نوازا، وہ ان کے گناہوں کو ختم کر دے گا کیونکہ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں ” اور ہم ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا صلہ دیں گے۔ “ اس سے مراد اعمال خیر ہیں، مثلا واجبات و مستحباب وغیرہ اور یہ بندے کے بہترین اعمال ہیں کیونکہ بندہ مباح کام بھی کرتا ہے۔
Ayah 29:8(8)
یعنی ہم نے انسان کو حکم دیا اور اس کو وصیت کی ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے یعنی وہ اپنے قول و فعل میں والدین کی نافرمانی کرے نہ ان کے ساتھ برا سلوک کرے (وان جاہدک یتشرک بی مالیس لک بہ علم) اور اگر وہ (والدین) دونوں تیرے در پے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک بنائے جب کہ حقیقت سے تجھے واقفیت نہیں۔ “ اور کسی کے پاس شرک کی صحت پر کوئی دلیل نہیں۔ اس آیت کریمہ میں شرک کے معاملے کی اہمیت کی بنا پر یہ اسلوب اختیار کیا ہے۔ (فلا تطعھما الی مرجعکم فانبکم بما کنتھ تعملون) تو ان کا کہنا نہ ماننا، تم سب کو میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے، پھر جو کچھ تم کرتے تھے میں تم کو بتاؤں گا۔ پس میں تمہارے اعمال کو جزا دوں گا۔ اس لئے تم اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو ان کی اطاعت کو ہر شخص کی اطاعت پر مقدم رکھو، سوائے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت ہر چیز پر مقدم ہے۔
Ayah 29:9آیت 9
جو کوئی اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، اس نے نیک عمل کئے اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ اسے اپنے نیک بندوں کے ساتھ جنت میں داخل کرے گا، یعنی انبیاء صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ، اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر ایک کا اپنا اپنا درجہ اور اپنا اپنا مرتبہ ہے۔ ایمان صحیح اور عمل صالح، بندے کی سعادت کا عنوان ہے اور بیشک وہ اہل رحمان میں سے اور اللہ کے نیک بندوں میں سے ہے۔
Ayahs 29:10–1110
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ اس شخص کی آزمائش ہونا لازمی ہے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے تاکہ سچے اور جھوٹے کے درمیان فرق ظاہر ہوجائے، تو یہ بھی واضح کردیا کہ لوگوں میں سے ایک گروہ محن و ابتلاء پر صبر نہیں کرسکتا بعض تکلیفوں اور مصیبتوں پر ثابت قدم نہیں رہ سکتا چناچہ فرمایا (ومن الناس من یقول امنا باللہ فاذا اوذی فی اللہ) اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے اور جب ان کو اللہ (کے راستے) میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے۔ مار کر مال چھین کر اور عاردلا کر اسے اذیت دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے دین کو چھوڑ کر باطل کی طرف لوٹ آئے (جعل فتنۃ الناس کعذاب اللہ) تو لوگوں کی تکلیف (یوں) سمجھتے ہیں جیسے اللہ کا عذاب لوگوں کی اذا رسانی انہیں متزلزل کر کے ایمان سے روک دیتی ہے جیسے عذاب انہیں اس چیز سے روک دیتا ہے جو اس عذاب کی باعث بنتی ہے۔
(ولین جاء نصر من ربک لیقولن انا کنا معکم) اور اگر تمہارے رب کی طرف سے مدد پہنچے تو کہتے ہیں ہم تو تمہارے ساتھ تھے۔ کیونکہ یہ ان کی خواہشات نفس کے موافق ہے۔ یہ لوگوں کی اس صنف سے تعلق رکھتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (ومن الناس من یعبد اللہ علی حرف فان اصابہ خیر اطمان بہ و ان اصابتہ فتنہ انقلب علی وجھہ خسر الدنیا و الاخرۃ ذالک ہو الخسران المبین) (الحج 11/22) اور لوگوں میں وہ شخص بھی ہے جو کنارے پر رہ کر اللہ کی عبادت کرتا ہے اگر بھلائی پہنچے تو مطمئن ہوجاتا ہے اور کوئی مصیبت آجائے تو الٹے پاؤں پھرجاتا ہے۔ وہ دنیا و آخرت میں خسارے میں ہے اور یہ واضح خسارہ ہے۔ “
(اولیس اللہ باعلم بما فی صدور العلمین) کیا جو جہان والوں کے سینوں میں ہے اللہ اس سے واقف نہیں ؟ “ اس نے تمہیں اس فریق کے بارے میں آگاہ فرمایا جن کا حال وہی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وصف بیان فرمایا ہے پس تم اس بات سے اس کے کامل علم اور بےپایاں حکمت کو جان سکتے ہو۔
(ولیعلمن اللہ الذین آمنو ولیعلمن المنفقین) اور اللہ ان کو ضرور معلوم کرلے گا جو (سچے) مومن ہیں اور منافقوں کو بھی معلوم کرلے گا “ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے آزمائش و ابتلاء مقرر کی ہے تاکہ ان کے بارے میں اپنا علم ظاہر کرے اور ان سے جو اعمال ظاہر ہوتے ہیں ان کے مطابق ان کو جزا دے اور مجرد اپنے عمل ہی پر ان کو جزا و سزا نہ دے کیونکہ اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے حجت پیش کریں گے کہ اگر ان کو آزمایا گیا ہوتا تو وہ بھی ثابت قدم رہتے۔
Ayahs 29:12–1312
اللہ تبارک و تعالیٰ کفار کی بہتان طرازی اور اہل امیان کو اپنے دین کی طرف ان کی دعوت کا ذکر کرتا ہے۔ اس ضمن میں اہل ایمان کو آگاہ کیا ہے کہ وہ کفار سے دھوکہ کھائیں نہ ان کی چالوں میں آئیں۔ چناچہ فرمایا (وقال الذین کفرو للذین آمنو تبعو سبلنا) اور جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے طریق کی پیروی کرو۔ “ یعنی اپنے دین یا دین کے کچھ حصے کو ترک کردو اور ہمارے دین میں ہماری پیروی کرو ہم تمام معاملے کی ذمہ داری لیتے ہیں (والنحمل خطیکم) اور ہم تمہاری خطاؤں کو اپنے اوپر لے لیں گے حالانکہ یہ معاملہ ان کے ہاتھ میں نہیں ہے لہٰذا فرمایا (وما ھم بجملین من خطیھم من شیً ) حالانکہ وہ ان کے گناہوں کا کچھ بھی بوجھ اٹھانے والے نہیں۔ یعنی وہ کم یا زیادہ، کچھ بھی خطائیں اپنے اوپر نہیں لے سکتے۔ خطاؤں کو اپنے ذمے لینے والا خواہ راضی ہی کیوں نہ ہو، وہ کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور اللہ تعالیٰ بندے کو اپنے حکم کے بغیر اپنے حق میں تصرف کی اجازت نہیں دیتا اور اس کا حکم (الا یزروازرۃ وزر اخری) (النجم 38/03) ” کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں ٹاھائے گا۔ “ کے اصول پر مبنی ہے۔
چونکہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد (وما ھم بجملین من خطیھم من شی) سے یہ وہم بھی ہوسکتا ہے کہ اہل ایمان کو کفر وغیرہ کی طرف دعوت دینے کا کفار کو صرف وہی گناہ ہوگا جس کا انہوں نے ارتکاب کیا دوسروں کے گناہوں میں ان کا کوئی حصہ نہیں خواہ وہ دوسروں کے گناہوں کا سبب ہی کیوں نہ بنے ہوں۔۔۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس وہم کو دور کرتے ہوئے فرمایا (ولیجملن اثقالھم) ” اور وہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ “ یعنی اپنے ان گناہوں کا بوجھ جن کا انہوں نے ارتکاب کیا (واثقالا مع اثقالھم) اور اپنے بوجھ کے ساتھ اور بوجھ بھی (اٹھائیں گے) اس سے مراد وہ گناہ ہیں جو ان کے سبب سے اور ان کی جسارت کی بنا پر ان کے اعمال نامے میں لکھے گئے۔
وہ گناہ جس کا ارتکاب کوئی تابع شخص کرتا ہے اس میں تابع اور متبوع دونوں کا حصہ ہوتا ہے تابع کا حصہ اس لئے ہے کہ اس نے اس گناہ کا ارتکاب کیا اور متبوع کا حصہ اس لئے کہ وہ اس گناہ کا سبب بنا اور اس نے اس گناہ کی طرف دعوت دی۔ بالکل اسی طرح جب کوئی تابع شخص نیکی کرتا ہے تو نیکی کرنے والے کو اس کا ثواب ملتا ہے اور وہ شخص بھی اس ثواب سے بہرہ ور ہوتا ہے جس نے اسے نیکی کی دعوت دی اور نیکی کا سبب بنا۔
(ولیسئلن یوم القیمۃ عما گانوا یفترون) اور جو بہتان یہ باندھتے رہے قیامت کے دن ان کی ان سے ضرور پرس ہوگی۔ “ یعنی انہوں نے جو بری بات گھڑی ہے پھر اس کو آراستہ کیا ہے نیز ان سے ان کے اس قول (والنحمل خطیکم) ” ہم تمہاری خطاؤں کو اپنے اوپر لے لیں گے۔ “ کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا۔
Ayahs 29:14–15(14-15)
اللہ تعالیٰ گزشتہ امتوں کے عذاب کی بابت اپنے حکم اور اپنی حکمت بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول حضرت نوح ( علیہ السلام) کو ان کی قیوم میں مبعوث فرمایا، جو ان کو توحید کی دعوت دیتے تھے، ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیتے، بتوں اور ان کے خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے روکتے تھے۔ (فلبث فیھم الف سنۃ الا حمسین عاما) ” پس وہ پچاس برس کم ایک ہزار سال ان کے درمیان رہے “ وہ نبی کی حیثیت سے ان کو دعوت دینے سے اکتائے نہ ان کی خیر خواہی سے باز آئے وہ رات دن اور کھلے چھپے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے رہے، مگر وہ رشد و ہدایت کی راہ پر نہ آئے۔ بلکہ اس کے برعکس وہ اپنے کفر اور سرکشی پر جمے رہے۔ یہاں تک کہ ان کے نبی حضرت نوح ( علیہ السلام) نے اپنے بےانتہا صبر، حلم اور تحمل کے باوجود ان کے لئے ان الفاظ میں بد دعا کی (رب الا تذر علی الارض من الکفرین دیاراً ) (نوح : 26/81) اے میرے رب ! روئے زمین پر کسی کافر کو بتانہ چھوڑ۔ “
(فاخذ ھم الطوفان) پس ان کو طوفان نے آپکڑا “ یعنی ان کو اس پانی نے (طوفان کی صورت میں) آگیا جو بہت کثرت سے آسمان سے برسا تھا اور نہایت شدت سے زمین سے پھوٹا تھا (وھم ظلمون) اور وہ ظالم تھے اور اس عذاب کے مستحق تھے (فانجینہ و اصحاب السفینۃ) ” پس ہم نے ان کو اور کشتی والوں کو نجات دی۔ “ یعنی وہ لوگ جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار ہوئے تھے یعنی ان کے گھر والے اور ان پر ایمان لانے والے دیگر لوگ (وجعلنھا) اور ہم نے اس کو بنایا ” یعنی کشتی کو یا قصہ نوح کو (آیۃ للعالمین) ” تمام جہانوں کے لئے نشانی “ جس سے لوگ عبرت پکڑتے ہیں کہ جو کوئی اپنے رسولوں کی تکذیب کرتا ہے اس کا انجام ہلاکت ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ہر غم سے نجات دیتا اور ہر تنگی سے نکلنے کی راہ دکھاتا ہے، نیز اللہ تبارک و تعالیٰ نے کشتی کو۔۔۔ یعنی کشتی کی جنس کو تمام جہانوں کے لئے نشانی بنادیا جسے وہ اپنے رب کی رحمت سے تعبیر کرتے ہیں، جس نے ان کے لئے اس کے اسباب مہیا کئے اور اس کے معاملے کو ان کے لئے آسان بنایا اور وہ انہیں اور ان کے مال و اسباب کو ایک گوشے سے دوسرے گوشے تک اٹھائے پھرتی ہے۔
Ayahs 29:16–22(16-22)
اللہ تبارک و تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل ابراہیم ( علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے تھے، چناچہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا (عبدو اللہ) یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک مانو صرف اسی کی عبادت کرو اور جو کچھ وہ تمہیں حکم دیتا ہے اس کی اطاعت کرو ” اور اس سے ڈرو “ کہ وہ تم پر ناراض ہو کر تمہیں عذاب دے اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ تم ان امور کو چھوڑ دو جو اس کی ناراضی کا بارعث ہیں ” یہ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تقویٰ ” تمہارے لیے بہتر ہے۔ “ یعنی عبادت اور تقویٰ کو اختیار کرنا ان کو ترک کرنے سے بہتر ہے۔ یہ اسم تفصیل کے ایسے باب میں سے ہے جس کے دوسری طرف کچھ نہیں ہوتا ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کا تقویٰ ترک کرنے میں کسی طرح بھی کوئی بھلائی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تقویٰ صرف اس لئے لوگوں کیلئے بہتر ہے کہ دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے تقویٰ کی وجہ سے ہے۔ ” اگر تم اس کا علم رکھتے ہو۔ “ پس تمام امور میں خوب غور کرو اور دیکھو کہ ان میں سے کون سا امر ترجیح کے لائق ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور تقویٰ کا حکم دیا ہے اس لئے ان کو بتوں کی عبادت سے روکا ہے اور ان کے تقص اور عبودیت کے لئے ان کے عدم استحقاق کو بیان کرتے ہوئے فرمایا :” تم اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے ہو اور جھوٹ گھڑتے ہو۔ “ تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑ کر ان بتوں کو تخلیق کرتے ہو پھر تم ان کے معبودوں والے نام رکھتے ہو اور پھر تم ان کی عبادت اور تمسک کے لئے جھوٹے احکام گھڑتے ہو ” بیشک جن کو تم اللہ کے سواپوجتے ہو۔ وہ ناقص ہیں ان میں کوئی بھی اسی صفت نہیں ہے جو ان کی عبادت کی متقتضی ہو۔ ” وہ تمہیں رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔ “ گویا یوں کہا گیا ہے کہ ہم پر واضح ہوچکا ہے کہ یہ بت گھڑے ہوئے اور ناقص ہیں جو کسی نفع و نقصان کے مالک ہیں نہ موت وحیات کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ دوبارہ اٹھانے ہی کا پس جس ذات کے یہ اوصاف ہوں وہ ذرہ بھر عبادت کی مستحق نہیں۔ قلوب ایسے معبود کے طالب ہوتے ہیں جن کی وہ عبادت کریں اور ان سے اپنی حوائج کا سوال کریں پس ان کے جواب میں اس ہستی کی عبادت کی ترغیب دی گئی ہے جو عبادت کی مستحق ہے پس اللہ ہی کے ہاں رزق طلب کرو۔ کیونکہ وہی رزق میسر اور مقدر کرتا ہے اور وہی اس شخص کی دعا قبول کرتا ہے جو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح کے لئے اس سے دعا کرتا ہے۔” اور اسی کی عبادت کرو “ جس کا کوئی شریک نہیں کیونکہ وہ کامل نفع و نقصان دینے والا اور تدبیر کائنات میں متفرد ہے ” اور اسی کا شکر کرو “۔ کیونکہ جتنی بھی تمہیں نعمتیں حاصل ہوئی ہیں یا تمام مخلوق کو حاصل ہو رہی ہیں صرف اللہ تعالٰٰی کی طرف سے ہیں اور جو بھی مصیبت ان سے دورہوتی ہے ان کو دور کرنے والا وہی ہے ” تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ “ تب وہ تمہیں تمہارے اعمال کی جزادے گا اور جو کچھ تم چھپاتے اور ظاہر کرتے رہے ہو اس کے بارے میں تمہیں آگاہ کرے گا پس تم شرک کی حالت میں اس کی خدمت میں حاضر ہونے سے بچو اور ان امور میں رغبت رکھو جو تمہیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں اور جب تم اس کے پاس حاضر ہوگے تو وہ تمہیں ان پر ثواب عطا کرے گا۔
” کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ کس طرح خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ یعنی قیامت کے روز اس کا اعادہ کرے گا۔ ” بیشک مخلوق کا اعادہ کرنا تو اللہ تعالیٰ کے لئے بہت آسان ہے یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔
وہی ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا ہے پھر وہ اس کا اعادہ کرے گا اور ایسا کرنا اس کے لئے زیادہ آسان ہے۔ “
آپ زمین میں چلو پھرو “ اپنے قلب وبدن کے ساتھ ” پھر غور کرو کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے کا ئنات کی ابتدا کی “ تم دیکھو گے کہ انسانوں کے گروہ تھوڑا تھوڑا کر کے وجود میں آتا رہے ہیں تم دیکھو گے کہ درخت اور نباتات وقتا فوقتا جنم لے رہے ہیں تم بادلوں اور ہواؤں کو باؤ گے کہ وہ لگاتار اپنی تجدید کے مراحل میں رہتے ہیں بلکہ تمام مخلوق دائمی طور پر ابتدائے تخلیق اور اعادۂ تخلیق کے دائرے میں گردش کر رہی ہے ان کی موت صغریٰ یعنی نیند کے وقت ان پر غور کرو کہ رات اپنی تاریکیوں کے ساتھ ان کو ڈھانپ لیتی ہے تب تمام حرکات ساکن اور تمام آوازیں منقطع ہوجاتی ہیں۔ اپنے پستروں اور ٹھکانوں میں تمام مخلوق کی حالت یوں ہوتی ہے جسیے وہ مردہ ہوں۔ رات بھر وہ اس حالت میں رہتے ہیں حتٰی کہ جب صبح نمودار ہوتی ہے تو وہ اپنی نیند سے بیدار اور اپنی اس عارضی موت کے بعد دوبارہ زندہ کئے جاتے ہیں اور وہ یہ کہتے ہوئے اٹھتے ہیں ” تعریف ہے اللہ کی جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف قبر سے اٹھ کر جانا ہے۔ “
بنا بریں اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا : ” پھر اللہ ہی ‘ یعنی اس اعادہ تخلیق کے بعد دوسری نئی پیدا کرے گا۔ “ یہ اسی زندگی ہے جس میں موت ہے نہ نیند اس زندگی کو جنت یا جہنم میں خلود اور دوام حاصل ہوگا۔ ” بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ “ اللہ تعالیٰ کی قدرت کسی چیز میں عاجز نہیں جس طرح وہ تخلیق کی ابتدا پر قادر ہے اسی طرح تخلیق کے اعادہ پر اس کا قادر ہونا زیادہ اولیٰ اور زیادہ لائق ہے۔” وہ جسے چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم کرے۔ “ یعنی حکم جزائی میں وہ متفرد ہے۔ یعنی وہ اکیلا ہے جو اطاعت کرنے والوں کو ثواب عطا کرتا ہے انہیں اپنی وسیع رحمت کے سائے میں لیتا ہے اور نافرمانوں کو عذاب دیتا ہے۔ ” اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ “ یعنی تم اس گھر کی طرف لوٹو گے جہاں تم پر اس کے عذاب یا رحمت کے احکام جاری ہوں گے۔ اس لئے اس دنیا میں نیکیوں کا اکتساب کرلو جو اس کی رحمت کا سبب ہیں اور اس کی نافرمانیوں سے دور ہو جو اس کے عذاب کا باعث ہیں۔” اور تم اس کو زمین میں عاجز کرسکتے ہو نہ آسمان میں۔ “ یعنی اے جھٹلانے والے لوگو جو گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کرتے ہو ! یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ تم سے غافل ہے یا تم زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کو عاجز کرسکوگے۔ تمہاری قدرت واختیار تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے۔ تمہارے نفس نے جن امورکومزین کر کے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات کے بارے میں تمہیں فریب میں مبتلا کر رکھا ہے وہ تمہیں دھوکے میں نہ رکھیں۔ کائنات کے تمام گوشوں میں تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہ کرسکو گے۔” اور نہ اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارا کوئی دوست ہے۔ “ جو تمہارے سرپرستی کرے اور تمہیں تمہارے دینی اور دنیاوی مصالح حاصل ہوں۔” اور نہ کوئی مددگار “ جو تمہاری مدد کرے اور تمہاری تکالیف کو دور کرے۔
Ayahs 29:23–24آیت نمبر (23)
اللہ تبارک وتعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس سے بھلائی زائل ہوگئی اور ان کو شر حاصل ہوا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ اس کے رسولوں اور ان کی لائی ہوئی کتابوں کا انکار کیا اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو جھٹلایا ان کے پاس دنیا کے سوا کچھ نہیں اسی لئے انہوں نے شرک اور معاصی کا ارتکاب کیا کیونکہ ان کے دلوں میں کوئی ایس چیز نہیں جو انہیں ان گناہوں کے انجام سے ڈرائے اس لئے فرمایا :” یہ لوگ میرے رحمت سے ناامید ہوگئے۔ “ یعنی ان کے پاس کوئی ایسا سبب نہ ہوگا جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بہرہ ورہوں ورنہ اگر انہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید ہوتی تو اس رحمت کے حصول کے لئے عمل کرتے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا بڑے بڑے ممنوعات میں سے ہے اور اس کی دو اقسام ہیں :
(1) کفار کا اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہو کر ان تمام اسباب کو ترک کردینا جو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں۔
(2) گناہ گاروں کا اپنے گناہوں اور جرائم کی کثرت کے سبب اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا جو انہیں وحشت میں مبتلا کرکے ان کے قلوب پر حاوی ہوجاتے ہیں اور یوں ان کے قلوب میں مایوسی جنم لیتی ہے۔ ” اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ “ یعنی تکلیف دہ اور دل دوز گویا کہ یہ آیات حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے اپنی قوم کے ساتھ کلام اور ان کی قوم کا آپ کی بات رد کرنے کے درمیان بطور جملہء معترضہ آئی ہیں۔ واللہ اعلم۔
Ayah 29:25آیت نمبر (25)
یعنی جب ابراہیم علیہ اسلام نے اپنی قوم کو اپنے رب کی طرف بلایا تو آپ کی قوم نے آپ کی دعوت پر لبیک کہی نہ آپ کی خیر خواہی کی اور نہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی بعثت کی نعمت کی رؤیت کو اپنا راہمنا ہی بنایا۔ ان کا جواب تو بدترین جواب تھا۔” انہوں نے کہا اسے مارڈالو یا جلا دو ۔ “ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو۔ وہ قدرت رکھنے والے اصحاب اقتدار لوگ تھے چناچہ انہوں نے ابراہیم علیہ اسلام کو آگ میں ڈال دیا ” پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچا لیا آگ سے ” بیشک اس میں ایمان دار لوگوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔ پس وہ اہل ایمان اور انبیاء ورسل کی تعلیمات کی صحت ان کی نیکی اور ان کی خیر خواہی اور انبیاء ورسل کے مخالفین و معارضین کے موقف کے بطلان کو خوب جانتے تھے۔ گویا رسولوں کے مخالفین ان کی تکذیب کی ایک دوسرے کو وصیت کیا کرتے اور ایک دوسرے کو ترغیب دیا کرتے تھے۔ ابرہیم علیہ اسلام نے ان کے ساتھ خیر خواہی کی وجہ سے فرمایا :” تم جو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو لے بیٹھے ہو صرف دنیا میں باہم دوستی کے لیئے۔ “ اس کی غایت و انتہا بس دنیا میں دوستی اور محبت ہے جو عنقریب ختم ہوجائے گی۔ ” پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے کی دوستی کا انکار کرو گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے۔ “ تمام عابد اور معبود ایک دوسرے سے برائت کا اظہار کریں گے۔ (واذا حشر الناس کانوا لھم اعداء و کانوا بعبادتھم کفرین) (الاحقاف : 64؍6) ” اور جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو یہ ان کے دشمن ہوجائیں گے اور ان کی پرستش سے صاف انکار کر جائیں گے۔ “ تب تم ایسی ہستیوں سے کیونکر تعلق رکھتے ہو جو عتقریب اپنے عبادت گزاروں سے بیزاری کا اظہار کریں گی۔ (و) ” اور “ بیشک یعنی عابدوں اور معبودں اور عفبودوں سب کا ٹھکانا (النار) ” جہنم ہوگا “ اور کوئی انہیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے گا نہ ان سے اس کے عقاب کو دور کرسکے گا۔
Ayahs 29:26–27آیت 26
ابراہیم ( علیہ السلام) اپنی قوم کو دعوت دیتے رہے اور ان کی قوم اپنے عناد پر جمی رہی۔ سوائے لوط ( علیہ السلام) کے جو ابراہیم ( علیہ السلام) کی دعوت پر ایمان لے آئے اللہ تعالیٰ نے لوط ( علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز فرما کر ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ جس کا ذکر عنقریب آئے گا۔ (وقال) جب ابراہیم ( علیہ السلام) نے دیکھا کہ ان کی دعوت کچھ فائدہ نہیں دے رہی تو کہنے لگے (انی مھاجر الی ربی) ” میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں۔” یعنی وہ برے خطہء ارض کو چھوڑ کر بابرکت سر زمین کی طرف نکل گئے .... اس سے مراد ملک شام ہے (انہ ھوالعزیز) ” بیشک وہ بڑاہی غالب ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ جو غوت کا مالک ہے تمہیں ہدایت دینے پر قادر ہے لیکن وہ حکمت والا ہے اور اس کی حکمت ایسا کرنے متقضی نہیں۔
جب ارا ہوم ( علیہ السلام) اپنی قوم کو اسی حال میں چھوڑ کر چلے گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے ان کو ہلاک کردیا تھا بلکہ صرف یہ ذکر فرمایا کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ( علیہ السلام) کی قوم پر مچھروں کا دروازہ کھول دیا۔ وہ ان کا خون پی گئے ‘ گوشت کھا گئے اور ان کے آضری آدمی تک کو ہلاک کر ڈالا اس بارے میں حتمی رائے قائم کرنے کے لئے دلیل پر توقف کرتا چاہیے جو کہ موجود نہیں ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذریعے سے ان کو تہس نہس کیا ہوتا تو ضرور اس کا ذکر فرماتا جیسے دیگر جھٹلانے دولی امتوں کی ہلاکت کا ذکر فرمایا ہے۔
مگر کیا اس قصہ کا یہ راز تو نہیں کہ حضرت خلیل ( علیہ السلام) مخلوق میں سب سے زیادہ رحیم و شفیق ‘ سب سے زیادہ افضل ‘ سب سے زیادہ حلیم اور سب سے زیادہ جلیل القدر لوگوں میں سے تھے۔ آپ نے کبھی اپنی قوم کے لئے بد دعا نہیں کی جیسے دیگر بعض انبیائے کرام نے بد دعا کی اور نہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے سبب آپ کی قوم پر عذاب نازل فرمایا .... اس موقف پر یہ واقعہ بھی دلالت کرتا ہے کہ جب فرشتے قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لئے آپ کے پاس آئے تو آپ نے قوم لوط کی مدافعت کے لئے ان فرشتوں سے کھگڑا کیا حالانہ وہ آپ کی قوم نہ تھی۔ اصل صورت حال کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
(ووھبنا لہ اسحاق و یعقوب) ” اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب ( علیہ السلام) دیے۔ “ یعنی آپ کے ملک شام کی طرف ہجرت کر جانے کے بعد (وجعلن فی ذریتہ النبوۃ والکتب) ” اور کردی ہم نے ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب۔ “ آپ کے بعد جو بھی نبی مبعوث ہوا وہ آپ کی اولاد سے تھا اور جو بھی کتاب نازل ہوئی وہ آپ کی اولاد پر نازل ہوئی حتٰی کہ انبیاء کا سلسلہ نبی کریم حضرت محمد مصطفٰی ﷺ کے ذریعے سے ختم کردیا گیا۔ یہ اعلٰی ترین مناقب و مفاخر ہیں کہ ہدایت و رحمت ‘ سعادت و فلاح اور کامیابی کا مواد آپ کی ذریت میں ہو ‘ نیز لہل ایمان اور صالحین آپ کی اولاد کے ہاتھوں پر ایمان لائے اور انہوں نے آپ کی ذریت کے ذریعے سے ہدایت پائی
(واتینہ اجرہ فی الدنیا) ” اور ہم نے ان کو دنیا میں بھی ان کا صلہ عنایت کیا۔ “ یعنی ہم نے آپ کو نہایت خوبصورت بیوی عطا کی جو حسن و جمال میں تمام عورتوں پر فوقیت رکھتی تھی ‘ ہم نے آپ کو وسیع رزق اور اولاد سیسرفراز کیا جن سے آپ کی آنکھیں ٹھنڑی ہوئیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی نیک لوگوں میں ہوں گے۔ “ بلکہ آپ اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ علی الاطلاق تمام مخلوق میں سب زیادہ صالح اور سب سے زیادہ بلند منزلت تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے دنیا و آخرت کی سعادت کو جمع کردیا تھا۔
Ayahs 29:28–35آیت 28
گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ حضرت لوط ( علیہ السلام) حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) پر ایمان لا کر ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل ہوئے۔ مفسرین بیان کرتے ہیں کہ حضرت لوط ( علیہ السلام) حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی ذریت میں سے نہیں بلکہ وہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بھتیجے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد : ( وجعلنا فی ذریتہ النبوۃ والکتب) گرچہ عام ہے مگر حضرت لوط ( علیہ السلام) کا نبی ہونا حالانکہ وہ آپ کی اولاد میں سے نہ تھے اس آیت کے حلاف نہیں ہے کیونکہ آیت کریمہ حضرت خلیل ( علیہ السلام) کی مدح و ثنا کے سیاق میں آئی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے لوط ( علیہ السلام) ابراہیم ( علیہ السلام) کے ہاتھ پر ایمان لائے تھے اور جس شخص نے آپ کے ہاتھ پر ہدایت پائی وہ ہادی کی فضیلت کی طرف نسبت کی بنا پر آپ کی اولاد میں سے ہدایت پانے والے سے زیادہ کامل ہے۔ واللہ اعلم۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوط ( علیہ السلام) کو ان کی قوم میں مبعوث فرمایا ان میں شرک کی بیماری کے ساتھ ساتھ مردوں کے ساتھ بدکاری راہ زنی اور مجالس میں فواحش و منکرات کے ارتکاب جیسے برے کام بھی جمع تھے۔
لوط ( علیہ السلام) نے ان کو ان فواحش سے روکا اور ان پر ان فواحش کی قباحتیں واضح کیں اور ان کی پاداش میں نازل ہونے والے عذاب کے بارے میں آگاہ فرمایا مگر انہوں نے اس بات کی طرف کوئی توجہ دی نہ نصیحت پکڑی۔ ( فما کان جواب قومہ الا ان قالوا لئتنا بعذاب اللہ ان کنت من الصدقین) ” پس ان کی قوم کا اس کے سوا کوئی جواب نہ تھا کہ لے آ اللہ کا عذاب اگر تو سچوں میں سے ہے۔ “ ان کا نبی ان سے مایوس ہوگیا اور اسے یقین ہوگیا کہ اس کی قوم عذاب کی مستحق ہے ان کے بہت زیادہ کھٹلانے کی وجہ سے حضرت لوب بےقرار ہوگئے آپ نے ان کے لئیبد دعا کی (قال رب انصرنی علی القوم المفسدین) ” انھوں (لوط ( علیہ السلام) نے کہا ‘ اے میرے رب ! ان مفسد لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرما۔ “ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرلی اور ان قوم کو ہلاک کرنے کے لئے فرشتے بھیجے۔
لوط ( علیہ السلام) کے پاس جانے سے قبل یہ فرشتے ابراہیم ( علیہ السلام) کے پاس سے گزرے انہوں نے آپ کو اسحاق کی اور اس کے معد یعقوب کی خوشخبری دی۔ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے ان سے پوچھا کہ ان کا کہاں کا ارادہ ہے انہوں نے کہا کہ وہ قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لئے آئے ہیں۔ فرشتوں نے جواب دیا ( لننجینہ و اھلہ الا امراتہ کانت من الغبرین) “ ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے بجزان کی بیوی کے وہ پیچھے ہنے والوں میں ہوگی۔ “ پھر وہ وہاں سے چلیگئے اور لوط ( علیہ السلام) کے پاس آئے۔ ان کا آنا لوط ( علیہ السلام) کو بہت ناگوار گزرا اور بہت تنگدل ہوئے کیونکہ آپ ان کو پہچان نہ پائے تھے وہ سمجھتے تھے کہ وہ مہمان اور مسافر ہیں اس لئے وہ ان کے بارے میں اپنی قوم کے رویے سے خائف تھے تو فرشتوں نے آپ سیکہا۔ (لا تخف وال تحزن) ” خوف کیجئے نہ رنج کیجئے۔ “ اور انہوں لوط ( علیہ السلام) کو بتایا کہ وہ اللہ لعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں ( انا منجوک واھلک الا امراتک کانت من الغبرین۔ انا منزلون علی اھل ھذہ القریۃ رجزامن السماء بماکانوا یفسقون) ” ہم آپ کو اور ٓپکیگھر والوں کو بچا لیں گے بجز آپ کی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی۔ بیشک ہم اس بستی کے رہنے والوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں کیونکہ یہ بدکاری کر رہے تھے۔ “ فرشتوں نے لوط ( علیہ السلام) سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکلج جائیں۔ پس جب صبح ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں کو ان پر الٹ دیا اور اوپر والا حصہ نیچے کردیا اور ان پر پے درپے کھنگر کے پتھر برسائے جنہوں نے ان کو ہلاک کر کے تیست ونا بود کردیا ‘ لہٰذا وہ کہانیاں اور عبرت کا نشان بن کر رہ گئے۔
(ولقد ترکنا منھا ایۃ م بینۃ لقوم یعقلون) یعنی ہم نے دیا قوم لوط کو عقل مند لوگوں کے لئے واضح آثار اور ان کے دلوں کے لئے عبرت بنادیا پس وہ ان آثار سے مثفع ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
(وانکم لتمرون علیھم مصبحین۔ وبالیل افلا تعقلون) (الصفت : 73؍731۔ 831) ” تم دن رات ان کے اجڑے ہوئے گھروں پر گزرتے ہو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟ “
Ayahs 29:36–37آیت 36
” و “ اور یعنی ہم نے مبعوث کیا : (الی مدین) ” اہل مدین کی طرف “ جو ایک مشہور و معروف قبیلہ تھا (اخاھم شعیبا) ” ان کے نسہی بھائی شعیب کو “ جنہوں نے ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے ‘ آخرت پر ایمان رکھنے اللہ تعالیٰ پر امیدیں رکھنے اور صرف اسی کے لئے عمل کرنے کا حکم دیا اور ان کو زمین میں فساد پھیلانے ناپ تول میں کمی کرنے اور ڈاکہ زنی سے روکا مگر انہوں نے ان کو جھوٹا سمجھا تو اللہ تعالیٰ کے عذاب نے ان کو آلیا (فاصبحوا فی دارھم جثمین) ” پس وہ اپنے گھر میں پڑے کے پڑے رہ گئے۔ “
Ayahs 29:38–40آیت 38
اور ہم نے عاد وثمود کے ساتھ بھی یہی کچھ کیا آپ کو ان کا قصہ معلوم ہے۔ اگر تم ان کے گھروں اور ان کے آثار کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرو جن کو وہ چھوڑ گئے ہیں تو تم پر کچھ حقیقت واضح ہوجائے گی۔ ان کے رسول ان کے پاس واضح دالائل لے کر آئے جو بصیرت کے لئے مفید تھے مگر انہوں نے ان کو جھٹلایا اور ان کے ساتھ جھگڑا کیا۔
(وزین لھم الشیطن اعمالھم) ” اور شیطان انبیاء لے کر آئے ہیں۔ قارون ‘ فرعون اور ہامان کا یہی رویہ تھا جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ بن عمران ( علیہ السلام) کو واضح دالائل اور روشن براہین کے ساتھ مبعوث کیا تو انہوں نے ان دلائل کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا بلکہ وہ زمین پر اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آئے اور انہیں ذلیل کیا اور حق کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا مگر جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو وہ اس سے بچنے پر قادر نہ تھے۔ (وما کانوا سبقین) وہ اللہ سے بھاگ کر کہیں جا نہ سکے اور انہیں اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا پڑا۔ (فکلا) ” پس سب کو۔ “ یعنی انبیاء کی تکذیب کرنے والی ان تمام قوموں کو ( اخذنا بذنبہ) ہم نے ان کے گناہ کی مقدار اور اس گنہ سے منسبت والی سزا کے ذریعے سے پکڑ لیا۔ ( فمنھم من ارسلنا علیہ حاصبا) ” پس ان ان میں کچھ تو ایسے تھے جن پر ہم نے پتھروں کا مینہ برسایا۔ “ یعنی ہم نے ان پر ایسا عذاب نازل کیا جس میں ان کو پتھر مار کر ہلاک کیا جیسے قوم عاد اللہ تعالیٰ نے اس پر تباہ کن آندھی بھیجی اور (سخرھا علیھم سبع لیال وثمنیۃ ایام حسوبا فتری القوم فیھا صرعی کانھم اعجاز نخل خاویۃ) (الحاقۃ : 96؍7) ” اس ہوا کو سات رات اور آٹھ دن تک لگاتا چلائے رکھا تو تو ان نافرمان لوگوں کو اس میں اس طرح مرے پڑے ہوئے دیکھتا ہے جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہوں۔ “
(ومنھم من اخذتہ الصیحۃ) ” اور کچھ ایسے تھے جن کو چنگھاڑنے آپکڑا جیسے صالح ﷺ کی قوم (ومنھم من خسفنا بہ الرض) ” اور کچھ ایسے تھے جن کو ہم نے زمین میں دھنسادیا۔ جیسے قارون (ومنھم اغرقنا) ” اور کچھ ایسے تھے جن کو ہم نے غرق کردیا۔ “ جیسے فرعون ‘ ہامان اور ان کے لشکر ( وماکان اللہ) یعنی اللہ تعالیٰ کے لئے مناسب اور اس کے لائق نہیں کہ وہ اپنے کمال عدل اور مخلوق سے کامل بےنیازی کی بنا پر بندوں پر ظلم کرتا ( والکن کانوا انفسھم یظلمون) ” لیکن وہ اپنے ہی نفوس پر ظلم کرتے تھے۔ “ انہوں نے اپنے نفوس کو ان کے حقوق سے محروم کردیا۔ کیونکہ نفوس اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔ ان مشرکین نے ان کو ایسے کاموں میں میں استعمال کیا جن کے لئے وہ پیدا نہیں کئے گئے انہوں نے ان کو شہوات میں مشغول کر کے سخت تقصان پہنچایا جبکہ وہ اں گمان باطل میں مبتلا رہے کہ وہ ان کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔