Ayah 29:2احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا وھم یا یفتنون۔ کیا لوگوں نے یہ خیال کر رکھا ہے
کہ صرف اتنا کہہ دینے سے کہ ہم ایمان لے آئے ان کو چھوڑ دیا جائے گا اور ان کی جانچ نہیں کی جائے گی۔ مدنی صحابہ نے مکی مسلمانوں کو یہ آیت لکھ کر بھیج دی ‘ مکی مسلمانوں نے کہا : اب تو ہم یہاں سے نکل ہی چلیں گے۔ اگر کسی نے ہمارا پیچھا کیا تو ہم اس سے لڑیں گے۔ چناچہ یہ حضرات نکل کھڑے ہوئے ‘ مشرکوں نے ان کا تعاقب کیا۔ راستہ میں دونوں گروہوں کی جنگ ہوئی۔ کچھ مسلمان شہید ہوگئے اور کچھ مسلمان بچ کر نکل گئے۔ ان کے متعلق اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا مِنْم بَعْدِ مَا فُتِنُوْا الخ۔
ابن ابی حاتم نے قتادہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ یہ آیت کچھ مکی لوگوں (یعنی مکی مسلمانوں) کے حق میں نازل ہوئی تھی۔ یہ لوگ رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے مکہ سے چل پڑے تھے ‘ مشرکوں نے ان کو روکا تو وہ لوٹ گئے (مدنی) بھائیوں نے ان کو وہ آیت لکھ کر بھیجی جو ان کے بارے میں نازل ہوئی تھی ‘ جدید آیت پڑھ کر وہ نکل کھڑے ہوئے۔ شہید ہونے والے شہید ہوگئے اور بچنے والے بچ گئے۔ انہی کے متعلق اللہ نے یہ آیت نازل ہوئی : ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا الخ۔
بغوی نے حضرت ابن عباس کے حوالہ سے لکھا ہے کہ آیت میں الناس سے مراد ہیں مکہ میں رہ جانے والے مسلمان سلمہ بن ہشام ‘ عیاش بن ربیعہ ‘ ولید بن ولید ‘ عمار بن یاسر وغیرہ۔
ابن سعید ‘ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت عبیدا اللہ بن عمیر کے حوالہ سے بیان کیا کہ آیت ذیل کا نزول حضرت عمار بن یاسر کے متعلق ہوا ‘ آپ کو اللہ کی راہ میں سخت دکھ دئیے جاتے تھے۔ اللہ نے فرمایا : اَحَسِبَ النَّاس الخ بغوی نے ان جریج کا بھی یہی قول نقل کیا ہے۔ مقاتل نے کہا کہ حضرت عمر کے آزاد کردہ غلام حضرت مہجع بن عبد اللہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی ‘ اس امت میں آپ پہلے شخض ہوں گے جن کو جنت کے دروازہ کی طرف بلایا جائے گا۔
میں کہتا ہوں : حضرت مہجع ہی جنگ بدر کے دن مسلمانوں کی طرف سے سب سے پہلے کافروں کے مقابلہ کے لئے قطار سے باہر نکل آئے تھے۔ عامر بن حضری نے آپ کو تیر مار کر شہید کردیا۔ راہ خدا میں سب سے پہلے شہید ہونے والے آپ ہی ہوئے۔ جب آپ کے والدین اور بی بی بےتابی کے ساتھ گریہ وزاری کرنے لگے تو ان کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔
اَآم کے بعد ہمزہ استفہام کا ذکر کرنا دلالت کر رہا ہے کہ ا آم الگ مستقل جملہ ہے (کیونکہ ہمزہ استفہام کا تقاضا ہے کہ آغاز کلام میں آئے ‘ اگر ا آم سے بعد والے جملہ کا ارتباط ہوتا تو ہمزۂ استفہام ا آم سے پہلے آتی ‘ مترجم) ۔
حسبان سے مراد ہے گمان کرنا اور استفہام انکاری ہے یا زجری ‘ مطلب یہ ہے کہ کیا لوگ اپنے کو یونہی متروک بےامتحانی سمجھ بیٹھے ہیں کہ آمَنَّا کہہ دینے سے چھوٹ جائیں گے ‘ ایسا نہیں ہوگا بلکہ اللہ ان کو مصائب اور دشواریوں میں مبتلا کر کے ان کا امتحان لے گا۔ مثلاً وطن سے ہجرت کرنا ‘ جہاد کرنا اور طرح طرح کے مالی ‘ جانی اور اولاد کے دکھ ان کو اٹھانے ہوں گے تاکہ مخلص اور منافق کے درمیان امتیاز ہوجائے اور دین پر ثابت قدم رہنے والا تردد و شک کرنے والے سے الگ ہوجائے اور صبر کرنے والوں کو اونچے مراتب ملیں۔
بغوی نے ذکر کیا ہے کہ شروع میں اللہ نے صرف ایمان کا حکم دیا تھا پھر نماز ‘ زکوٰۃ اور دوسرے قوانین فرض کئے۔ بعض لوگوں کو اس کی تعمیل میں دشواری ہوگئی اور ان پر یہ حکم شاق ہوا ‘ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اس شان نزول پر آیت کا یہ مطلب ہوگا : کیا لوگوں کو یہ خیال ہے کہ صرف ایمان لانے سے (بغیر شرائع کے) ان کو چھوڑ دیا جائے گا اور دوسرے اوامرو نواہی بھیج کر ان کی آزمائش نہیں کی جائے گی ؟ صرف ایمان لانا اگرچہ دوامی جہنمی ہونے سے روکتا ہے اور جنت میں (کبھی نہ کبھی) داخل ہونے کا مستحق بنا دیتا ہے لیکن حصول درجات تو اداء طاعات اور ترک خواہشات سے وابستہ ہیں۔
Ayah 29:3ولقد فتنا الذین من قبلھم . ہم ان سے پہلے لوگوں کی (سخت) آزمائشیں کرچکے ہیں۔ یعنی انبیاء اور مؤمنین
کی سخت آزمائش کرچکے ہیں۔ بعض انبیاء کو آروں سے چیرا گیا ‘ بعض کو قتل کردیا گیا ‘ بنی اسرائیل کو فرعون بدترین عذاب دیتا رہا۔ مراد یہ ہے کہ اللہ کا یہ پرانا دستور ہے کہ نیک لوگوں کو سخت مصائب میں مبتلا کر کے پرکھا جاتا ہے۔ تمام امتیں اسی آزمائشی دور سے گزری ہیں ‘ تو کیا اس زمانہ میں اس سنت قدیمہ کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے۔
فلیعلمن اللہ الذین صدقوا ولیعلمن الکذبین . سو اللہ ان لوگوں کو (ظاہری علم سے) جان کر رہے گا جو (ایمان کے دعویٰ میں) سچے ہیں اور جھوٹوں کو بھی جان کر رہے گا۔
ا اللہ تو ہمیشہ سے جانتا ہے سچوں کو بھی اور جھوٹوں کو بھی اس لئے حصول علم مقصود نہیں ہے بلکہ اس کے علم ازلی کا سچوں کی سچائی اور کاذبوں کے جھوٹ سے بالفعل (بعد العمل) تعلق پیدا کرنا مقصود ہے تاکہ سچے ایمان والے جھوٹے منافقوں سے ممتاز ہو کر الگ ہوجائیں اور ان سے ثواب یا عذاب کا تعلق ہوجائے۔ بعض کے نزدیک آیت کا مطلب اس طرح ہے کہ اللہ سچوں کو جھوٹوں سے الگ کر کے ظاہر کر دے تاکہ اللہ کے ازلی علم کا فعلی ظہور ہوجائے۔ مقاتل نے علم کا ترجمہ دکھانا کیا ہے ‘ اللہ دکھادے گا۔ بعض نے اس طرح معنی بیان کئے کہ اللہ ناپاک کو پاک سے الگ کر دے گا۔
Ayah 29:4ام حسب الذین یعلمون السیات ان یسبقونا . کیا بدکاریاں کرنے والے یہ خیال کرتے ہیں کہ ہماری
گرفت سے وہ نکل جائیں گے۔ بدکاریوں سے مراد ہے کفر اور معاصی کیونکہ عمل کا لفظ جس طرح اعضاء کے افعال کو شامل ہے اسی طرح دلوں کے فعل کو بھی شامل ہے۔
اَنْ یَّسْبِقُوْنَا کہ وہ ہم سے آگے بڑھ جائیں گے اور ہم ان سے انتقام نہ لے سکیں گے۔ ام منقطعہ ہے اور اول کلام سے اضراب (اعراض) کو ظاہر کر رہا ہے۔ اول حسب کا مفہوم ہے ایمان کا امتحان نہ ہونے کا گمان اور دوسرے حسب کا مفہوم ہے گناہوں کی سزا نہ پانے کا گمان۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اول گمان کرنے والے مؤمن تھے اور دوسرا خیال کافروں کا تھا۔
میں کہتا ہوں : ام متصلہ بھی ہوسکتا ہے ‘ اس سے مقصود ہے دونوں گمانوں کا ابطال۔ مطلب اس طرح ہوگا : اے اہل ایمان ! تم یہ خیال نہ کرنا کہ تمہاری آزمائش نہیں کی جائے گی۔ مصائب میں مبتلا کر کے تمہارا امتحان ضرور لیا جائے گا تاکہ تم کو اونچے مراتب تک پہنچایا جائے اور تمہارے دشمنوں کو بھی یہ خیال نہ کرنا چاہئے کہ اللہ ان کو دنیا اور آخرت میں عذاب نہیں دے گا۔ ان کو ضرور عذاب دیا جائے گا ‘ دنیا میں مسلمانوں کے ہاتھوں (قتل و قید کی صورت میں) اور آخرت میں براہ راست خدا کی طرف سے (دوزخ کی صورت میں) ۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مسلمانوں کو مصائب میں مبتلا کر کے آزمائش ضرور کی جائے گی اور نتیجہ میں ان کو غلبہ حاصل ہوگا۔
سآء ما یحکمون . برا ہے وہ فیصلہ جو یہ لوگ کر رہے ہیں (کہ ہمارے ہاتھ سے چھوٹ کر نکل جائیں گے اور ہم ان سے انتقام نہ لے سکیں گے ‘ مترجم) ۔
Ayah 29:5ما کان یرجوا لقاء اللہ فان اجل اللہ لات وھو السمیع العلیم . جو شخص اللہ سے ملنے کی امید رکھتا
ہو سو اللہ تعالیٰ (سے ملنے) کا وہ معین وقت ضرور آنے والا ہے اور وہی سب کچھ جاننے والا ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس جگہ رجاء کا معنی ہے خوف یعنی جو شخص حشرنشر ‘ حساب فہمی اور عذاب خدا سے ڈرتا ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : رجاء بمعنی طمع ہے یعنی جو شخص ثواب کا خواہشمند ہے۔
میں کہتا ہوں : یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جو شخض (دنیا میں) اللہ کے دیدار کا خواہشمند ہے۔ اس مطلب پر آیت سے استدلال کیا جاسکے گا کہ دنیا میں اللہ کا دیدار نہیں ہوسکتا۔ ہاں بعض روایات میں آیا ہے کہ معراج میں رسول اللہ نے اللہ کو دیکھا تھا ‘ مگر یہ دنیا میں دیدار نہ تھا (اس مادی دنیا سے برزخی دنیا الگ ہے۔ اگر حضور ﷺ نے باری تعالیٰ کو دیکھا تو برزخی عالم میں دیکھا تھا ‘ مترجم) اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ دنیا میں چہرہ کی آنکھوں سے خدا کو دیکھنے کا جو شخص مدعی ہو وہ جھوٹا ہے۔
اَجَلَ اللہ یعنی اللہ سے ملنے کا مقرر وقت ضرور آنے والا ہے۔ مقاتل نے کہا : اس سے مراد ہے قیامت کا دن۔ یعنی قیامت کا دن ضرور آئے گا اس لئے آدمی پر لازم ہے کہ ایسے کاموں کی طرف پیش بندی کرے جن سے ثواب کا حصول ہو جس کی اس کو خواہش ہے اور عذاب سے نجات مل جائے جس کا اس کو ڈر ہے۔ دوسری آیت میں اس مفہوم کو اس طرح ادا کیا ہے : فَمَنْ کَانَ یَرجُوْا لقآءَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلاً صَالِحًا وَّلاَ یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖ اَحَدًا۔
وَھُوَ السَّمِیْعُ اور وہی اپنے بندوں کے اقوال سننے والا ہے اور ان کے عقائد و اعمال کو جاننے والا ہے۔
Ayah 29:6ومن جاھد فانما یجاھد لنفسہ ان اللہ لغنی عن العلمین . اور جو جہاد کرے گا وہ اپنے فائدہ کے
لئے جہاد کرے گا۔ اللہ کو تو دنیا جہان میں سے کسی بات کی ضرورت نہیں (وہ سب سے بےنیاز ہے) یعنی جو میدان جنگ میں اللہ کے دشمنوں سے لڑے گا یا اپنے نفس سے جہاد کرے ‘ ممنوعہ خواہشات سے اپنے آپ کو روکے گا ‘ شیطان کا مقابلہ کرے گا ‘ طاعت خداوندی پر جمع رہے گا ‘ شیطانی وسوسوں کو دفع کرے گا۔
لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ لوگوں کی عبادت وطاعت کی اللہ کو حاجت نہیں ‘ اس نے اپنے بندوں کو اپنی عبادت کا حکم محض اپنی رحمت سے دیا اور انہی کے فائدوں کے لئے دیا۔
Ayah 29:7والذین امنوا وعملوا الصلحت لنکفرین عنھم سیاتھم . اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام
کئے ہم ان کے برے کام ان سے ساقط کردیں گے۔ یعنی نیکیوں کے ذریعہ سے برائیوں کو دور کردیں گے (برائیوں کو معاف کردیں گے ‘ مترجم) ۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : پانچوں نمازیں (باہم ایک وقت سے دوسرے وقت تک ( اور جمہ کی نماز (آئندہ) جمعہ تک اور رمضان (کے روزے آئندہ رمضان تک) درمیانی گناہوں کو اتار دینے والے ہیں بشرطیکہ بندہ کبیرہ گناہوں سے بچا رہے ‘ رواہ مسلم۔ یہ بحث آیت اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبَآءِرَ مَا تُنْھَوْنَ عَنْہُ نُکْفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ کی تفصیل کے ذیل میں گزر چکی ہے۔
ولنجزینھم احسن الذی کانوا یعلمون . اور ہم ان کو (سب سے اچھے) اعمال کا بدلہ دیں گے۔ سب سے اچھا عمل ہے طاعت یعنی ہم ان کی اطاعت کو ضائع نہیں کریں گے۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے : اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان کے اعمال سے زیادہ جزا ان کو دیں گے ‘ دس گنے سے سات سو گنے تک اور اس سے زائد جتنا اللہ چاہے۔ بعض نے کہا : اَحْسَنَ اس جگہ اسم تفضیل کے معنی میں نہیں ہے بلکہ) حسن اچھا کے معنی میں ہے (یعنی بمعنی صفت مشبہ ہے) ۔
Ayah 29:8ووصینا الانسان بوالولدیہ حسنا . اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کی نصیحت
کی (حکم دیا) ۔
وصیت کا معنی ہے کسی سے نصیحت آمیز بات کہنا۔ وَصَّیْنَا یعنی ہم نے حکم دیا۔ حُسْن سے مراد ہے ایسا کام جس میں بھلائی ہو۔ حسن مصدر ہے (اگر کسی عمل میں انتہائی خوبی ہو اتنی کہ گویا وہ مجسم حسن ہوجائے اس پر حسن کا اطلاق مبالغتہ کردیا جاتا ہے) اسی جگہ بطور مبالغہ ہی حسن کو حسن فرمایا ہے۔ مراد ہے فرمانبردار ‘ اطاعت ‘ مہربانی۔ مسلم ‘ ترمذی ‘ بغوی ‘ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص کی روایت سے بیان کیا ہے (حضرت سعد بن ابی وقاص عشرہ مبشرہ میں سے تھے ‘ سابقین اولین میں تھے ‘ اپنی ماں کے بڑے فرمانبردار اور اطاعت گزر تھے۔ آپ کے باپ کا نام مالک تھا اور قبیلہ بنی زہرہ کے ایک ممتاز شخص تھے) حضرت سعد سے ان کی ماں حمنہ بنت ابی سفیان بن عبدالشمس نے کہا : تو نے یہ کیا نئی بات نکال رکھی ہے ؟ جب تک تو اس کا انکار نہیں کرے گا اس وقت تک بخدا میں نہ کھانا کھاؤں گی ‘ نہ پانی پیوں گی یہاں تک کہ یونہی مرجاؤں گی۔ دوسری روایت کے یہ الفاظ ہیں : جب تک اس مذہب سے جس پر تو قائم ہے لوٹ نہیں جائے گا میں کچھ کھاؤں گی ‘ نہ پیوں گی یونہی مرجاؤں گی۔ پھر ہمیشہ تجھے لوگ اس کی عار دلاتے رہیں گے کہ یہ ماں کا قاتل ہے۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
وان جاھدک لتشرک بی مالیس لک بہ عل فلا تطعھما . اور اگر وہ دونوں تم سے زور دے
کر کہیں کہ میرے ساتھ ان چیزوں کو شریک قرار دو جن (کی الوہیت) کا تم کو کچھ علم نہیں ہے تو ان کا کہنا نہ ماننا۔ یعنی جن چیزوں کے خدا ہونے نہ ہونے کا تم کو کچھ علم نہیں ‘ ان کی الوہیت کا صحیح ہونا تم کو معلوم نہیں تو ایسی حالت میں بھی تم والدین کا کہنا نہ ماننا چہ جائیکہ تم کو اللہ کی الوہیت کی وحدانیت اور دوسروں کی الوہیت کی نفی قطعی دلائل سے معلوم ہو تو اس صورت میں اطاعت والدین نہ کرنا تو بدرجۂ اولیٰ ضروری ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی فرمانبرداری (جائز) نییں۔ رواہ احمد و الحاکم وصححہ عن عمران۔ صحیحین اور سنن ابو داؤد اور نسائی میں حضرت علی کی روایت سے آیا ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی کی فرمانبرداری (جائز) نہیں (والدین کی) اطاعت تو اچھے کاموں میں (لازم) ہے۔
بغوی نے لکھا ہے : اس آیت کے نزول کے بعد حضرت سعد کی اں نے ایک دن رات یا تین دن بغیر کھائے پئے گزار دئیے۔ سعد ماں کے پاس گئے اور کہاں : اماں ! اگر تیری سو جانیں ہوں اور ایک ایک جان نکل جائے تب بھی میں اپنا مذہب نہیں چھوڑوں گا۔ تیرا دل چاہے کھا ‘ نہ چاہے نہ کھا۔ جب ماں ناامید ہوگئی تو اس نے کھانا پینا شروع کردیا۔
الی مرجعکم فانبئکم بما کنتم تعلمون . میری ہی طرف تم سب کو واپس آنا ہے پھر میں ہی تم کو بتاؤں گا جو کچھ تم کرتے رہے۔ یعنی تمہارے اعمال کی سزا جزا دوں گا۔ حضرت سعد نے قصہ کے زمانہ میں ہی وہ آیت بھی نازل ہوئی جو سورة لقمان میں آئی ہے اور وہ آیت بھی جو سورة احقاف میں ہے۔
Ayah 29:9والذین امنو وعملوا الصلحت لندخلنھم فی الصلحین . اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے
نیکیاں کیں ہم ضرور ہی ان کو صالحین میں شامل کردیں گے۔
اَلصَّالِحِیْنَ سے مراد ہیں انبیاء ‘ اولیاء ‘ شہداء۔ یعنی ہم نیکوکار مؤمنوں کو انبیاء ‘ اولیاء وغیرہ کے ساتھ شامل کردیں گے یا ان کا حشر ان لوگوں کے ساتھ کریں گے یا جنت میں ان کے ساتھ ان کو داخل کریں گے ‘ جنت میں سب ساتھ ہوجائیں گے۔
صلاح اور نیکی میں کمال مؤمنوں کے درجات کی انتہا ہے اور انبیاء مرسلین کی تمنا کا بھی یہ ہی آخری نقطہ ہے کیونکہ کمال صلاح کا معنی یہ ہے کہ کسی طرح کا بگاڑ اور خرابی نہ ہو ‘ نہ عقیدہ میں ‘ نہ عمل میں ‘ نہ اخلاق و مشاغل زندگی میں۔
ابن جریر اور ابن المنذر نے بروایت عکرمہ حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ مکہ کے کچھ لوگ تو مسلمان ہوگئے تھے مگر وہ اپنے ایمان پوشیدہ رکھتے تھے۔ بدر کی لرائی میں مشرک ان کو اپنے ساتھ (مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے) لے گئے۔ ان میں سے کوئی مارا گیا تو مسلمانوں نے رسول اللہ سے عرض کیا کہ یہ لوگ تو مسلمان تھے ‘ مجبور ابنا گواری خاطر مشرکوں کے ساتھ آئے۔ جو لوگ مارے گئے ان کے لئے آپ دعاء مغفرت فرما دیجئے۔ اس پر سورة نساء کی آیت اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰھُمُ الْمَلَآءِکَۃُ ظَالَمِی اَنْفُسَھُمْ الخ نازل ہوئی۔ مدینہ کے مسلمانوں نے یہ آیت لکھ کر مکہ میں رہ جانے والے مسلمانوں کو بھیج دی اور یہ بھی لکھا دیا کہ اب تمہارے لئے عذر کا کوئی موقع باقی نہیں رہا۔ یہ خط پڑھ کر مکہ کے مسلمان نکل کھڑے ہوئے۔ مشرکوں نے ان کا تعاقب کیا اور زبردستی واپس لے گئے۔ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔
Ayah 29:10ومن الناس من یقول امنا باللہ فاذآ اوذی فی اللہ جعل فتنۃ الناس کعذاب اللہ . اور بعض
لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے لیکن جب اللہ کی راہ میں ان کو کچھ دکھ پہنچتا ہے تو آدمیوں کی طرف سے پہنچنے والے دکھ کو وہ اللہ کے عذاب کی طرح قرار دیتے ہیں۔
یہ منافقوں کی حالت بیان کی گئی ہے۔ فِی اللہ اللہ کی راہ میں یعنی مسلمان ہونے کی بنیاد پر جو دکھ ان کو کافروں کی طرف سے پہنچتا ہے۔ کَعَذَابِ اللہ یعنی آخرت کے عذاب کی طرح۔ مطلب یہ ہے کہ کچھ لوگ کافروں کی طرف سے پہنچنے والے دکھ پر صبر نہیں رکھتے اور بےتاب ہو کر کافروں کا کہا مان لیتے ہیں اور اسلام چھوڑ دیتے ہیں جس طرح کہ مسلمان اللہ کے عذاب آخرت کے خوف سے کفر و معصیت کو ترک کردیتے ہیں۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس آیت کے نزول کی جب مکہ کے مسلمانوں کو اطلاع ملی تو وہ گروہ بند ہوگئے اور اپنی جماعت قائم کر کے انہوں نے کہا : اب ہم یہاں سے ضرور نکل کر (مدینہ کو) جائیں گے ‘ اگر کوئی ہمارا تعاقب کرے گا تو ہم اس سے لڑیں گے۔ اس پر آیت ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا مِنْم بَعْدِ ملا فُتِنُوْا الخ نازل ہوئی اور مدینہ والوں نے ان کو یہ آیت لکھ بھیجی۔ خط پڑھتے ہی سب لوگ نکل کھڑے ہوئے۔ کافروں نے تعاقب کیا اور راستہ میں ان کو جا لیا۔ آخر لڑائی ہوئی ‘ کچھ لوگ بچ کر نکل گئے اور جو شہید ہونے والے تھے ‘ شہید ہوگئے۔ قتادہ نے کہا کہ اس آیت کا نزول ان لوگوں کے متعلق ہوا جن کو مشرک لوٹا کرلے گئے تھے۔
ولئن جآء نصر من ربک لیقولن انا کنا معکم او لیس اللہ باعلم بما فی صدور العلمین
اور اگر آپ کے رب کی طرف سے (مسلمانوں کے لئے) کوئی مدد آجائے (یعنی مسلمان فتح یاب ہوجائیں اور مال غنیمت ان کو حاصل ہوجائے) تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ تھے۔ کیا اللہ لوگوں کے دلوں کی باتوں سے واقف نہیں ہے ؟
نَصْرٌ یعنی مسلمانوں کی فتح اور مال غنیمت کا حصول۔
بعض اہل روایت کا کہنا ہے کہ آیت وَلَءِنْ جَآءَ نَصْرٌ کا نزول منافقوں کے متعلق ہوا ‘ اس قول کی تائید آیت اَوْلَیْسَ اللہ سے ہوتی ہے۔
اَوَلَیْسَ میں ہمزہ استفہام انکار حال کے لئے ہے یعنی ایسی حالت نہیں ہے کہ اللہ ان کے سینوں کے اندر کی باتیں نہ جانتا ہو ‘ وہ سب کے دلوں کی باتوں سے واقف ہے۔ اخلاص ہو یا نفاق ‘ وہ سب کو جانتا ہے اور منافقوں کو ان کے نفاق کی سزا دے گا۔
Ayah 29:11ولیعلمن اللہ الذین امنوا ولیعلمن المنفقین . اور اللہ ضرور جان کر رہے گا ان کو جو (سچے دل سے) ایمان لائے اور منافقوں کو بھی ضرور جان کررہے گا۔ یعنی ہر شخص کو اس کے پوشیدہ ضمیر کے مطابق بدلہ دے گا۔ شعبی کا قول ہے کہ آغاز سورت سے یہاں تک دس آیات مدنی ہیں اور اس کے آگے آخر سورت تک ساری آیات مکی ہیں۔
Ayah 29:12وقال الذین کفروا للذین امنوا تبعوا سبیلنا ولنعمل خطیکم . اور کافروں نے مؤمنوں سے
کہا : ہماری راہ پر چلو (اگر قیامت راہ اور ہماری راہ پر چلنا غلط ہوگا) تو ہم کو تمہارے جرائم بھی اپنے اوپر اٹھا لیناضرور ہے۔ مجاہد نے کہا کہ کفار مکہ نے یہ بات کہی تھی۔ کلبی اور مقاتل نے کہا : ابو سفیان نے مؤمنوں سے کہا تھا کہ ہمارے دین پر اور ہمارے باپ دادا کے مذہب پر چلو۔ کفر کو اختیار کرنے کی جرأت پیدا کرنے کے لئے انہوں نے ایسا کہا تھا۔
فراء نے کہا : وَلْنَحْمِلْ لفظ کے اعتبار سے امر کا صیغہ ہے لیکن معنی کے لحاظ سے (شرط محذوف کی) جزا ہے یعنی اگر ہماری راہ پر چلو گے تو ہم تمہارے گناہ (قیامت کے دن بشرطیکہ وہ دن آیا) اپنے اوپر اٹھا لیں گے (امر بمعنی جزا) دوسری آیت میں بھی اسی طرح آیا ہے ‘ فرمایا ہے : فَلْیُلْقِہِ الْیْمَّ بالسَّاحِلِ پھر دریا کو چاہئے کہ اس کو ساحل پر پھینک دے یعنی دریا اس کی لاش کو ساحل پر پھینک دے گا۔
وماھم بحملین من خطیھم من شیء انھم لکذبون . اور وہ ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی (اپنے
اوپر) نہیں اٹھائیں گے ‘ واقع میں وہ جھوٹے ہیں۔ یعنی جو دوسروں کے گناہ اپنے اوپر اٹھانے کی خبر دے رہے ہیں ‘ یہ جھوٹ کہہ رہے ہیں (کذب اور صدق خبر کے اوصاف ہیں اور کافروں نے وَلْنَحْمَلْ کہا تھا جو امر کا صیغہ ہے اور امر انشاء کی ایک قسم ہے اور انشاء سے کذب کا تعلق نہیں ہوسکتا اس لئے مفسر کو بالا تاویل کرنی پڑی ‘ مترجم) ۔
Ayah 29:13ولیحملن اثقالھم واثقالا مع اثقالھم . اور یہ لوگ (خود کئے ہوئے گناہوں کے) بوجھ اٹھائیں گے اور
اپنے اعمال کے بوجھ کے ساتھ کچھ اور بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ یعنی دوسروں کو گمراہ کرنے کا بار مگر اس سے گمراہ ہونے والوں کا بار ہلکا نہ ہوسکے گا۔
ولیسئلن یوم القیمۃ عما کانوا یفترون . اور قیامت کے دن ان سے ان کی افتراء پردازیوں کی بازپرس
ضرور ہوگی۔ یعنی وہ جھوٹی باتیں جن سے دوسروں کو گمراہ کرتے تھے ان سے ان باتوں کی ضرور بازپرس ہوگی۔
Ayah 29:14ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ فلبث فیھم الف سنۃ الا خمسین عاما فاخذھم الطوفان وھم
ظلمون . اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف (ہدایت کرنے کے لئے) بھیجا سو وہ ان کے اندر پچاس سال کم ایک ہزار برس (ہدایت میں مشغول) رہے۔ آخر ان کو طوفان نے آپکڑا ‘ اس لئے کہ وہ ظالم تھے۔
فَلَبِثَ (کاف تعقیبیہ) دلالت کر رہا ہے کہ حضرت نوح پیغمبر بنائے جانے کے بعد اپنی قوم میں نو سو پچاس برس رہے۔ طوفان (بہت گھومنے والا ‘ بہت چکر والا۔ مبالغہ کا صیغہ ہے ‘ مترجم) جو چیز حد سے زیادہ گردش کرے خواہ ہوا ہو یا پانی یا اور کچھ ‘ اس کو طوفان کہتے ہیں۔ عظیم سیلاب ‘ طوفان ہے۔ زیادہ تند تیز آندھی ‘ طوفان ہے۔ اس جگہ طوفان آبی مراد ہے۔ طوفان نے قوم نوح کو آپکڑا جس میں سب ڈوب گئے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : چایس سال کی عمر میں حضرت نوح کو نبوت ملی پھر ساڑھے نو سو برس قوم کو ہدایت کرتے رہے اور طوفان کے بعد ساٹھ برس زندہ رہے۔ جب لوگوں کی نسلیں بڑھ گئیں اور پھیل گئیں اور آپ کی عمر ایک ہزار پچاس برس کی ہوگئی تو آپ کی وفات ہوگئی۔ حضرت ابن عباس کا یہ قول ابن ابی شیبہ نے ‘ عبد بن حمید نے ‘ ابن المنذر نے ‘ ابن ابی حتم نے ‘ ابوالشیخ نے اور حامنے نقل کیا ہے اور حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے ‘ ابن مردویہ نے بھی اس کو نقل کیا ہے اور بغوی نے اس کا ذکر کیا ہے۔
وہب کا بیان ہے کہ حضرت نوح کی عمر ایک ہزار چار سو برس ہوئی۔ آخر موت کے فرشتے نے آپ سے پوچھا : اے دراز ترین عمر والے پیغمبر ! آپ نے دنیا کو کیسا پایا ؟ فرمایا : ایسا جیسے کسی نے ایک مکان بنایا ہو جس کے دو دروازے رکھے ہوں۔ میں ایک دروازہ سے داخل ہوا دوسرے سے باہر نکل گیا۔
آیت میں نو سو پچاس برس کا لفظ نہیں فرمایا کیونکہ ہزار کے لفظ میں ایک طرح کی شان اور عظمت ہے۔ دکھانا یہ ہے کہ ایک عظیم الشان طویل مدت تک حضرت نوح قوم کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف پر صبر کرتے رہے اور اتنی طویل مدت تک قوم کی پرفریب تدبیروں کا مقابلہ کرتے رہے ‘ پھر لفظ الف میں اختصار کہا ہے۔
Ayah 29:15فانجینہ واصحٰب السفینۃ . پھر ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کو (طوفان سے) بچا لیا۔ کشتی والوں سے مراد ہے حضرت نوح کی اولاد اور وہ لوگ جو آپ پر ایمان لے آئے تھے اور آپ کے ساتھ کشتی میں سوار تھے۔ ان کی کل تعداد اسی (80) تھی ‘ بعض نے 78 بتائی ہے ‘ ایک قول میں دس آئی ہے۔ کشتی والوں میں آدمی تعداد مردوں کی تھی ‘ آدمی عورتوں کی۔ حضرت نوح کے قصہ کی پوری تفصیل سورة ھود اور سورة اعراف میں گزر چکی ہے۔
وجعلنھا اٰیۃ للعلمین . اور (اس کشتی کو یا واقعہ کو) ہم نے تمام لوگوں کے لئے (باعث عبرت اور قدرت خداوندی پر دلیل) بنا دیا۔ تاکہ وہ نصیحت پذیر ہوں اور اللہ کی ہمہ گیر قدرت پر اس سے استدلال کریں۔
Ayah 29:16وابرٰھیم اذ قال لقوم اعبدوا اللہ واتقوا ذلکم خیرلکم . اور ہم نے ابراہیم کو پیغمبر بنایا۔ یاد کرو
(اس واقعہ کو کہ) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ یعنی جب ابراہیم کمال عقلی کے درجہ پر پہنچ گئے اور غور و فکر کی طاقت کامل ہوگئی اور حق کی معرفت ان کو حاصل ہوگئی اور دوسروں کو بھی انہوں نے حق کو قبول کرنے اور اس پر چلنے کا حکم دیا تو ہم نے ان کو پیغمبر بنا دیا تو انہوں نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو ‘ اس سے ڈرو (یا اس کے عذاب سے خوف کرو) ۔
ان کنتم تعلمون . اگر تم اہل علم میں سے ہو تو ایسا کرو۔ یعنی اگر تم خیر و شر کو جانتے ہو اور حق کو باطل سے امتیاز کرتے
ہو یا یہ مطلب ہے کہ اگر تم علمی نظر رکھتے ہو اور تعصب و ضد سے تمہاری نظر پاک ہے یا یہ مطلب ہے کہ اگر تم ان لوگوں میں سے ہو جو اہل علم وتمیز ہیں تو تم سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہوگی کہ اللہ کی عبادت اور اس کے عذاب کا خوف اس مذہب سے بہتر ہے جس پر تم چل رہے ہو۔
Ayah 29:17انما تعبدون من دون اللہ او ثانا وتخلقون افکا . کوئی شبہ نہیں کہ اللہ کو چھوڑ کر تم محض بتوں کو پوجتے
ہو (جو نہ ضرر پہنچا سکتے ہیں نہ نفع) اور تم جھوٹ گھڑتے ہو (کہ بتوں کو تم معبود کہتے ہو) اور ان کو اپنا سفارشی قرار دیتے ہو۔ اس صورت میں اِفْکًا مفعول مطلق ہوگا۔ ممکن ہے کہ یہ مفعول لہ ہو اور فعل سابق کی علت ہو یعنی محض جھوٹ کی وجہ سے تم ان کو تراشتے ہو۔
ان الذین تعبدون من دون اللہ لا یملکون لکم رزقا . یہ حقیقت ہے کہ اللہ کے سوا تم جن کی پوجا
کرتے ہو (بت ہوں یا کوئی اور کچھ) وہ تم کو رزق دینے کے مالک نہیں ہیں۔ یعنی ان کی عبادت بےسود ہے ‘ ان کے قبضہ میں تمہارا رزق نہیں ہے۔ یہ غیر اللہ کی پرستش کے قبیح ہونے کی دوسری دلیل ہے۔ رِزْق مصدر ہے (رزق دینا) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مصدر بمعنی اسم مفعول ہو یعنی وہ چیز جو دی جاتی ہے۔ اس صورت میں رِزْقًا کی تنوین عموم اور تحقیر کے لئے ہوگی۔ یعنی کسی ادنی مر رزق کے بھی مالک نہیں ہیں۔
فابتغوا عند اللہ الرزق . سو (سارا) رزق اللہ ہی کے پاس تلاش کرو کیونکہ وہی ہر رزق کا مالک ہے ‘ اس کے سوا کوئی اور مالک نہیں۔
واعبدوہ واشکروا لہ . اور اس کی عبادت کرو اور اس کا شکر بجا لاؤ۔ یعنی عبادت اور شکر نعمت کو حصول مقاصد کا ذریعہ بناؤ اور انہی دونوں کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنے کے لئے تیار ہوجاؤ ‘ کیونکہ الیہ ترجعون . تم سب کو اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔
Ayah 29:18وان تکذبو فقد کذب امم من قبلکم . پھر اگر تم میری تکذیب کرتے ہو تو تم سے پہلے بہت امتیں (اپنے
اپنے پیغمبروں کی) تکذیب کرچکی ہیں۔
لیکن ان کی تکذیب سے پیغمبروں کو کوئی ضرر نہیں پہنچا ‘ تکذیب کرنے والوں نے خود اپنا نقصان کیا کیونکہ تکذیب کی وجہ سے ان پر عذاب آیا۔ اسی طرح تمہاری تکذیب بھی مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی ‘ خود تم مصیبت میں مبتلا ہو گے۔
وما علی الرسول الا البلغ المبین . اور رسول پر تو سوائے اس کے کہ کھول کر (ا اللہ کا پیام) پہنچا دے ‘ اور
کوئی ذمہ اری نہیں ہے۔ یعنی رسول کے ذمہ تو ایسی تبلیغ ہے جو شک کو دور کر دے۔ مطلب یہ ہے کہ کسی کی تکذیب سے پیغمبر کو کچھ نقصان نہیں ہوتا۔ مخلوق کو راستہ دکھا دینا اس کا فرض ہے ‘ کسی کو ہدایت یاب کردینا اس پر لازم نہیں ‘ یہ بات اس کی قدرت سے باہر ہے۔ یہ آیت فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖ تک حضرت ابراہیم کا کلام بھی ہوسکتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ بطور جملہ معترضہ حضرت ابراہیم کے قصہ کے درمیان ذکر کردی گئی ہو جس میں رسول اللہ اور قریش کی حالت بیان کردی گئی ہو اور رسول اللہ سے جو قریشی بدسلوکی کرتے تھے ‘ اس پر عذاب کی وعید کا اظہار کردیا گیا ہو۔ حضرت ابراہیم کے قصہ کے درمیان اس کو اس لئے ذکر کیا کہ آیت کی رفتار بتارہی ہے کہ رسول اللہ کو تسلی دینا مقصود ہے ‘ یہ بیان کر کے کہ آپ کے والد حضرت خلیل اللہ کی حالت بھی آپ کی حالت کی طرح ہوئی تھی۔ ان کی بھی مخالفت قوم کی طرف سے ہوئی تھی اور قوم نے ان کی تکذیب کی تھی۔
Ayah 29:19اولم یروا کیف یبدی اللہ الخلق ثم یعیدہ . کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ اللہ مخلوق کو کس طرح اول بار پیدا کرتا ہے پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ استفہام انکاری ہے یعنی تکذیب کے وقت کوئی ایسی حالت ہی نہیں ہے کہ انہوں نے ابتدائی تخلیق کو نہ دیکھا ہو۔
کَیْفَ یُبْدِئُ یعنی کیا انہوں نے اپنی ابتدائی تخلیق کی کیفیت کو نہیں دیکھا۔ ضرور دیکھا ہے لیکن عبرت حاصل نہیں کی۔ اللہ ان کو نطفہ سے ‘ پھر بستہ خون سے ‘ پھر گوشت کی بوٹی سے بناتا ‘ پھر بچہ بنا کر باہر لے آتا ہے ‘ پھر وقت موت تک اس کے حالات نو بہ نو بدلتے رہتے ہیں یہاں تک کہ موت آجاتی ہے۔
ثُمَّ یُعِیْدُہٗ ، اِعادَہ سے مراد ہے مرنے کے بعد دوبارہ زندگی عطا کرنا۔ یہ بھی اعادہ کا مطلب ہوسکتا ہے کہ سبزہ اور پھل وغیرہ اللہ دوبارہ ویسے ہی پیدا کردیتا ہے جیسے گزشتہ سال پیدا کئے تھے۔
ان ذلک علی اللہ یسیر . یہ (اعادہ یا فعل مذکور) اللہ کے لئے آسان ہے کیونکہ اللہ ایسا کرنے میں کسی چیز کا محتاج نہیں ہے ‘ نہ ایسا کرنے سے اللہ کو تھکان ہوتی ہے۔
Ayah 29:20قل سیروا فی الارض فانظروا کیف بدا الخلق . آپ کہہ دیجئے کہ ملک میں چل پھر کر دیکھو کہ اللہ
نے کس طرح ابتدائی تخلیق کی ہے۔ یعنی مخلوق کی اجناس اور احوال کو دیکھو۔ یہ کلام یا تو اس قول کی نقل ہے جو اللہ نے حضرت ابراہیم سے فرمایا تھا ‘ اس صورت میں فعل محذوف ماننا پڑے گا یعنی ہم نے ابراہیم سے کہا کہ لوگوں سے کہہ دو ‘ یا خطاب رسول اللہ کو ہے۔
ثم اللہ ینشیء النشاۃ الاخرۃ . پھر اللہ پچھلی بار بھی پیدا کرے گا۔
قیاس کا تقاضا ہے کہ عبارت اس طرح ہوتی کَیْفَ بَدَہَ اللہ الْخَلْقَ ثُمَّ یُنْشِئُ النَّشْأَۃَ الْاٰخِرَۃَ (یعنی بدء کے ساتھ اس کا فاعل ذکر کیا جاتا پھر یُنْشِئُ کی ضمیر مستتر اس کی طرف راجع کردی جاتی اور دوسرے جملہ کو بھی فعلیہ بنا دیا جاتا ‘ اسمیہ نہ بنایا جاتا) طرز عبارت بدلنے کی وجہ یہ ہے کہ اعادہ کا جواز ثابت کرنا مقصود ہے۔ جب ابتدائی جملہ میں ثابت کردیا کہ ابتدائی تخلیق اللہ کی طرف سے ہے تو یہ ثبوت ہوگیا کہ اعادہ بھی اللہ کرسکتا ہے کیونکہ دوبارہ تخلیق ‘ اول تخلیق کی طرح ہے (اس سے مشکل نہیں ہے) جو ابتدائی تخلیق پر قادر ہے ‘ وہ ثانوی تخلیق پر بھی قادر ہوگا۔ گویا مطلب اس طرح ہوا کہ جس نے تخلیق اول کی ‘ وہی دوبارہ تخلیق بھی کرے گا۔
ان اللہ علی کل شیءٍ قدیر . بیشک اللہ ہر چیز پر قابو رکھتا ہے۔ کیونکہ اس کی قدرت ذاتی کی نسبت تمام ممکنات کی طرف برابر ہے پس وہ دوسری تخلیق پر بھی ایسی ہی قدرت رکھتا ہے جیسی پہلی تخلیق پر۔
Ayah 29:21یعذب من یشاء ویرحم من یشاء . وہ جس کو چاہے عذاب دے اور جس پر رحم کرنا چاہے رحم کرے۔ یعنی
آخرت میں دوزخ کا عذاب دے کر اور دنیا میں بےمدد چھوڑ کر ‘ یا دنیا کا حریص بنا کر ‘ یا بداخلاق بنا کر ‘ یا اللہ کی طرف سے روگرداں بنا کر ‘ یا بدعات کا مرتکب بنا کر۔ یہ سب صورتیں عذاب کی ہیں۔ اسی کے مقابل اللہ جس پر رحم کرنا چاہے ‘ رحم کرے آخرت میں جنت میں داخل فرما کر اور دنیا میں مدد دے کر اور قناعت عطا فرما کر اور خوش اخلاق بنا کر اور اللہ کی طرف متوجہ بنا کر اور اتباع سنت کی توفیق دے کر۔
والیہ تقلبون . اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
Ayah 29:22وما انتم بمعجزین . اور تم (اپنے رب کو) عاجز بنا دینے والے نہیں (کہ اس کی گرفت سے تم آزاد ہو سکو) ۔
فی الارض ولا فی السمآء . زمین میں اور نہ آسمان میں۔ یعنی تم بھاگ کر زمین میں چھپ جاؤ یا زمین کے
غاروں میں گھس جاؤ تب بھی اللہ کے حکم سے نکل نہیں سکتے۔ اسی طرح اگر (بالفرض) آسمان میں اور فلک بوس قلعوں میں پناہ گیر ہوجاؤ تب بھی قضاء خداوندی سے باہر نہیں ہوسکتے۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ولا فِی السَّمَآءِ کا مطلب ہو ولا مِنْ فِی السَّمَآء یعنی اللہ کے ان ملائکہ کو بھی عاجز نہیں بنا سکتے جو آسمان میں ہیں ‘ جیسے حضرت حسان کا شعر ہے :
فَمَن یَّھُجُوْ رَسُوْلَ اللہ منکُمْ وَیَمَدْحُہ وَیَنصُرُہٗ سَوَاءٌ
تم میں سے جو لوگ رسول اللہ کی ہجو کریں اور وہ لوگ جو رسول اللہ کی مدح اور مدد کریں ‘ دونوں فریق رسول اللہ کے لئے برابر ہیں (یعنی آپ کو نہ کوئی ضرر پہنچا سکتا ہے ‘ نہ نفع۔ کسی کی ہجاء سے آپ کا کوئی نقصان نہیں اور کسی کی تعریف سے آپ کو کوئی فائدہ نہیں) ۔
وما لکم من دون اللہ من ولی ولا نصیر . اور اللہ کے علاوہ نہ کوئی تمہارا رفیق ہے ‘ نہ مددگار۔ یعنی وہی زمین و آسمان کی مصیبتوں سے حفاظت کرتا ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی حفاظت کرنے والا ہے اور نہ بچانے والا۔
Ayah 29:23والذین کفروا بایت اللہ . اور جنہوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا۔ یعنی اللہ کی وحدانیت کے دلائل اور ان
آیات کا انکار کیا جو اللہ نے اپنی کتابوں میں نازل فرمائی ہیں۔
ولقآۂ . اور اللہ سے ملنے کا ‘ یعنی قیامت کا۔
اولئک یئسوا من رحمتی . وہ (قیامت کے دن) میری رحمت سے ناامید ہوں گے۔ یا رحمت سے مراد
ہے جنت ‘ یعنی کافر دنیا میں ہی جنت سے ناامید ہیں کیونکہ قیامت کے ہی منکر ہیں۔
واولئک لھم عذاب الیم . اور انہی لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہوگا۔ اگر یہ حضرت ابراہیم کے کلام کا حصہ ہے تو لفظ قال اللہ محذوف ہوگا ‘ یعنی اللہ نے یہ فرمایا ہے کہ جنہوں نے کفر کیا اور اگر حضرت ابراہیم کے کلام کا جز اس کو نہ قرار دیا جائے تو جملہ معترضہ ہوگا جو حضرت ابراہیم کے کلام کے درمیان ذکر کردیا گیا اور اس کے بعد پھر حضرت ابراہیم کے قصہ کی طرف رجوع کیا۔
Ayah 29:24فما کان جواب قومی الا ان قالو اقتلوہ او حرقوہ . سو ان کی قوم کے پاس سوائے اس بات کے
اور کوئی جواب نہ تھا کہ اس کو مار ڈالو یا اس کو جلا دو ۔
یعنی یہ بات ان میں سے بعض نے بعض سے کہی یا کسی ایک نے کہی اور چونکہ سب اس بات پر راضی تھے اس لئے سب کی طرف قول کی نسبت کردی گئی۔
فانجہ اللہ من النار . پھر اللہ نے ان کو آگ سے نجات دی۔ اس جملہ کا عطف محذوف کلام پر ہے ‘ پورا کلام اس طرح تھا کہ قوم ابراہیم نے ابراہیم کو جلا ڈالنے کے فیصلہ پر اتفاق کرلیا ‘ پھر ان کو آگ میں پھینک دیا ‘ پھر اللہ نے ان کو آگ میں جلنے نہ دیا ‘ بچا لیا کہ آگ کو سرد کردیا اور باعث سلامتی بنا دیا۔
ان فی ذلک لایت لقوم یؤمنون . اس (نجات دینے اور محفوظ رکھنے) میں (قدرت خدا اور حکومت خدا کی) بہت نشانیاں ہیں (لیکن) ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں۔ کیونکہ وہی ان آیات سے سبق حاصل کرتے ہیں۔
Ayah 29:25وقال انما اتخذتم من دون اللہ او ثنا مودۃ بینکم فی الحیوۃ الدنیا ثم یوم القیمۃ یکفر
بعضکم ببعض ویلعن بعضکم بعضا . اور (ابراہیم نے اپنی قوم سے) کہا کہ تم نے خدا کو چھوڑ کر بتوں کو (معبود) آپس کے دنیوی تعلقات کی وجہ سے بنا رکھا ہے ‘ پھر قیامت کے دن تم میں ایک دوسرے کا مخالف ہوجائے گا اور ایک دوسرے پر لعنت کرے گا۔ یعنی باہم ایک دوسرے کا انکار اور ہر ایک دوسرے پر لعنت کرے گا یا بتوں کا انکار کریں گے اور ان پر لعنت بھیجیں گے۔
وما ولکم النار . اور تم سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ یعنی بت پرستوں کا بھی اور بتوں کا بھی۔
وما لکم من نصرین . اور تمہارا کوئی حمایتی نہ ہوگا کہ تم کو دوزخ سے رہائی دلا سکے۔
Ayah 29:26فامن لہ لوط وقال انی مھاجر الی ربی . پس لوط نے ابراہیم کی تصدیق کی اور ابراہیم نے کہا : میں اپنے
رب (کی بتائی ہوئی جگہ) کی طرف (وطن) چھوڑ کر چلا جاؤں گا۔
حضرت لوط تکذیب انبیاء سے (فطری طور پر من جانب اللہ) معصوم تھے۔ آپ حضرت ابراہیم کے بھائی ہاران کے بیٹے تھے۔
اِلٰی رَبِّیْ یعنی اللہ نے مجھے جہاں چلے جانے کا حکم دیا ہے وہاں چلا جاؤں گا ‘ یا جہاں میرے لئے اپنے رب کی عبادت کی سہولت ہوگی وہاں چلا جاؤں گا ‘ یا یہ مطلب ہے کہ میں اپنی قوم سے منہ پھیر لوں گا ‘ ان سے کوئی (دینی) تعلق نہیں رکھوں گا اور اپنا رخ اپنے رب کی طرف کرلوں گا (سب سے کٹ کر اللہ سے جڑ جاؤں گا باہمہ بےہمہ) صوفیہ کی اصطلاح میں اسی کو وطن میں سفر کہتے ہیں۔ اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم نے کو ثی علاقۂ کوفہ سے حران کی طرف ہجرت کی ‘ پھر حران سے شام کو چلے گئے۔ حضرت لوط اور آپ کی بیوی حضرت سارہ دونوں آپ کے ساتھ تھے۔ حضرت ابراہیم ہی سب سے پہلے شخص تھے جنہوں نے راہ خدا میں ترک وطن کیا ‘ پھر حضرت ابراہیم نے فلسطین میں اور حضرت لوط نے سدوم میں قیام کیا۔ مفسرین نے کہا ہے ہجرت کے وقت حضرت ابراہیم کی عمر پچھتر سال تھی۔ 1
انہ ھو العزیز الحکیم . بلاشبہ وہی غالب ہے (جو دشمنوں سے میری حفاظت کرتا ہے) اور وہی مصلحت والا ہے (جو مجھے اس کام کی توفیق دیتا ہے جس میں میری بہتری ہوتی ہے) ۔
Ayah 29:27ووھبنا لہ اسحٰق . اور ہم نے ابراہیم کو (ایک بیٹا) اسحاق عطا کیا۔ یعنی اسماعیل کے بعد جب کہ ابراہیم اپنے
بڑھاپے اور اپنی بیوی کی پیری اور بانجھ ہونے کی وجہ سے اولاد سے ناامید ہوگئے ‘ اس وقت اسحاق نام کا بیٹا ہم نے ان کو عنایت کیا۔
اور یعقوب . اور یعقوب بھی۔ یعنی پوتا یعقوب مزید عنایت کیا۔
وجعلنا فی ذریتہ النبوۃ والکتب واٰتینہ اجرہ فی الدنیا وانہ فی الآخرۃ لمن الصلحین
اور ہم نے ابراہیم کی نسل میں نبوت اور کتاب (کے سلسلہ) کو قائم کیا اور ہم نے ان کو ان کا صلہ دنیا میں بھی دیا اور آخرت میں بھی (کامل) نیک بندوں میں شامل ہوں گے۔
اَلْکِتَابَ سے مراد ہیں توریت ‘ انجیل ‘ زبور اور قرآن۔
اَجْرَہٗ یعنی ترک وطن کرنے اور ہجرت کرنے کا دنیوی بدلہ۔
فِی الدُّنْیَا دنیوی اجر بڑھاپے میں جب کہ اولاد ہونے کا زمانہ گزر چکا تھا ‘ اولاد دی اور پاکیزہ نسل عطا فرمائی۔
سدی نے یہی تفسیر کی ہے۔ دوسرے اہل تفسیر نے کہا : دنیوی اجر سے مراد ہے حضرت ابراہیم کی نسل میں مسلسل نبوت کا ہونا۔ تمام مذاہب (یہودیوں ‘ عیسائیوں اور مسلمانوں کا آپ کی طرف انتساب کہ ہر مذہب والے اپنے مذہب کو دینی ابراہیمی قرار دیتے ہیں) حضرت ابراہیم پر ہمیشہ قیامت تک درود وسلام بھیجا جانا۔
میں کہتا ہوں : شاید اجر دنیوی سے یہ مراد ہے کہ جس طرح دنیا والے حسی چیزوں سے لذت اندوز ہوتے ہیں اس سے زائد حضرت ابراہیم کو ذکر ‘ فکر اور عبادت میں لذت حاصل ہوتی تھی ‘ یہی ان کا دنیا میں اجر تھا۔
ا اللہ نے فرمایا : لَھُمْ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ ۔
اَلصّٰلِحِیْنَ سے مراد ہیں کامل اہل صلاح یعنی آخرت میں حضرت ابراہیم کا شمول کامل اہل صلاح میں ہوگا۔
Ayah 29:28ولوطا اذ قال لقومہ انکم لتاتون الفاحشۃ ماسبقکم بھا من احد من العٰلمین . اور ہم نے
لوط کو پیغمبر بنا کر بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو جو تم سے پہلے کسی نے دنیا جہاں والوں میں نہیں کیا۔
اَلْفَاحِشَۃَ حد سے بڑھی ہوئی حرکت۔
Ayah 29:29ائنکم لتاتون الرجال وتقطعون السبیل . کیا تم مردوں سے بدکاری کرتے ہو اور رہزنی کرتے ہو۔
مسافروں کا راستہ کاٹنے کی وجہ یہ تھی کہ آتے جاتے مسافروں کو راستہ سے پکڑ کر وہ لے جاتے تھے اور ان سے بدفعلی کرتے تھے ‘ اسی وجہ سے لوگوں نے ان کی طرف سے نکلنا چھوڑ دیا تھا۔ بعض لوگوں نے کہا : قطع راہ سے مراد ہے عورتوں کا راستہ کاٹ دینا۔ وہ عورتوں پر مردوں کو ترجیح دیتے تھے ‘ اس وجہ سے عورت کا مرد سے راستہ کٹ گیا تھا۔
وتاتون فی نادیکم المنکر . اور اپنی مجلسوں میں بری حرکتیں کرتے ہو۔ نادی اس مجلس کو کہتے ہیں جس میں اہل مجلس موجود ہوں۔
بغوی نے بروایت ابوصالح حضرت ام ہانی کا قول نقل کیا ہے ‘ حضرت ام ہانی نے فرمایا : میں نے رسول اللہ سے آیت وَتَاْتُوْنَ فِی نَادِیْکُمْ الْمُنْکَرَ کے متعلق دریافت کیا اور عرض کیا : وہ بری بات کون سی تھی جو قوم لوط والے اپنی مجلسوں میں کرتے تھے ؟ فرمایا : وہ لوگ (اپنی مجلسوں میں سرراہ بیٹھ کر) آنے جانے والوں کے غلے مارتے اور ان کا مذاق بناتے تھے۔ رواہ احمد والترمذی۔
بغوی نے لکھا ہے : روایت میں آیا ہے کہ قوم لوط والے اپنی مجلسوں میں بیٹھے ہوتے ‘ ہر شخص کے پاس ایک پیالہ میں کچھ پتھریاں ہوتی تھیں۔ کوئی مسافر ادھر سے گزرتا تو وہ آپس میں کہتے تھے (اپنے شکار کو) لو ‘ چناچہ ہر شخص مسافر کو نشانہ بنا کر کنکری مارتا تھا۔ جس کی کنکری مسافر کے لگ جاتی ‘ وہی مسافر کا مستحق قرار پاتا تھا۔ اول اس کا سب سامان چھین لیتا پھر اس کے ساتھ بدفعلی کرتا تھا۔ اور تین درہم اس کو دے کر چلتا کردیتا تھا ‘ ان کا سرپنچ تین درہم دینے کا فیصلہ کرتا تھا۔
قاسم بن محمد نے کہا : وہ جلسوں میں بیٹھ کر آواز کے ساتھ ریاح خارج کرتے تھے۔ حضرت عبد اللہ بن سلام نے فرمایا : ایک دوسرے پر تھوکتا تھا۔ مکحول نے کہا : قوم لوط کی بری حرکتوں میں سے یہ باتیں تھیں کہ وہ علک چباتے ‘ مہندی سے انگلیاں رنگتے ‘ لنگیاں کھول دیتے ‘ سیٹیاں بجاتے ‘ کنکریاں مارے اور بدفعلیاں کرتے تھے۔
فما کان جواب قومہ الَّآ ان قالوا ائتنا بعذاب اللہ ان کنت من الصدقین . لوط کی بات قوم
والوں کے پاس وائے اس کے کوئی جواب نہ تھا کہ (بطور استہزاء) انہوں نے کہا کہ اگر تو سچا ہے تو اللہ کا عذاب ہم پر لے آ۔ یعنی اگر اپنی عذاب کی دھمکی میں سچا ہے ‘ یا ہمارے ان افعال کو برا کہنے میں سچا ہے ‘ یا نبوت کے دعویٰ میں سچا ہے تو ہم پر اللہ کا عذاب لے آ۔
Ayah 29:30قال رب انصرنی علی القوم المفسدین . لوط نے کہا : اے میرے رب ! (عذاب نازل فرما کر) ان
تباہ کار لوگوں پر مجھے فتح عنایت کر۔
الْمُفْسِدِیْنَ یعنی یہ مفسد لوگ ہیں ‘ انہوں نے لواطت کی ایجاد کی اور آئندہ لوگوں کے لئے اس کی بنیاد ڈال دی۔ الْمُفْسِدِیْنَ کا لفظ ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ عذاب کے مستحق ہیں ‘ ان پر فوری عذاب نازل ہونا ضروری ہے۔ الْمُفْسِدِیْنَ کہنے سے نزول عذاب کی درخواست میں قوت پیدا ہوگئی۔
Ayah 29:31ولما جآءت رسلنا ابراھیم بالبشری . اور جب ہمارے فرستادے (ملائکہ) ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر آئے۔ یعنی اسحاق اور اسحاق کے بعد یعقوب کی پیدائش کی بشارت لے کر پہنچے۔
قالوا انا مھلکوا اھل ھذہ القریۃ . تو انہوں نے (ابراہیم سے) کہا کہ ہم اس بستی والوں کو ضرور ہلاک کرنے والے ہیں۔ یعنی سدوم کی بستی کو ضرور تباہ کریں گے ‘ کیونکہ
ان اھلھا کانوا الظلمین . اس کے باشندے بلاشبہ ظالم ہیں۔ یعنی کفر و معاصی پر اڑے ہوئے ہیں ‘ ایک طویل مدت سے کفر اور بیجا حرکتوں پر جمے ہوئے ہیں۔
Ayah 29:32قال ان فیھا لوطًا . ابراہیم نے کہا : اس میں تو لوط بھی ہیں۔ یعنی ایسے لوگ بھی وہاں موجود ہیں جو ظالم نہیں ہیں۔
یہ ملائکہ کے قول پر ابراہیم نے اعتراض کیا ‘ یا یہ بطور معارضہ فرمایا (کہ کافروں اور بدکاروں کا وہاں ہونا ضرور موجب عذاب ہے لیکن) ان کا پیغمبر لوط وہاں موجود ہے جس کی موجودگی مانع عذاب ہے۔
قالوا نحن اعلم بمن فیھا . فرشتوں نے کہا : جو لوگ اسی بستی کے اندر ہیں ہم ان کو (آپ سے) زیادہ جانتے ہیں۔
لننجینہ واھلہ . ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو ضرور بچا لیں گے۔ ملائکہ کی طرف سے یہ قول حضرت ابراہیم کے
اعتراض کو تسلیم کرنے پر دلالت کر رہا ہے لیکن اسی کے ساتھ حضرت ابراہیم کے علم سے زیادہ علم کا اظہار بھی ہے (کہ آپ نہیں جانتے کہ ہم ان کو بچا لیں گے) اور ابراہیم کی بات کا پورا جواب بھی اس سے ہوگیا کہ (آپ فکر نہ کریں) ہم لوط اور لوط کے گھر والوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کو غارت کریں گے۔ یا یوں کہا جائے کہ بستی والوں کی تباہی کا وقت مقرر کردیا کہ جب لوط اور ان کے ساتھیوں کو ہم وہاں سے نکال لیں گے اس وقت بستی کو غارت کریں گے (فرشتوں نے پہلے کہا تھا کہ ہم اس بستی کے باشندوں کو ہلاک کردیں گے ‘ اس قول میں حضرت لوط کا استثناء نہیں کیا تھا لیکن جب حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ وہاں تو لوط بھی ہیں تو فرشتوں نے کہا کہ ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے۔ یہ استثناء یا تخصیص اول کلام سے بعد کو کی) یہ وقت خطاب سے تاخیر بیان ہے جو ناجائز نہیں ہے ‘ ہاں وقت حاجت سے بیان کو مؤخر کرنا جائز نہیں ہے۔
الا امراتہ کانت من الغٰبرین . مگر لوط کی بیوی کو (ضرور ہلاک کریں گے) کیونکہ وہ (ا اللہ کے علم میں ہے کہ)
پیچھے رہ جانے ولوں میں شامل ہوگئی۔ یعنی عذاب میں یا بستی میں رہ جائے گی۔ کَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ استثناء کی علت ہے۔
Ayah 29:33ولمت ان جاءت رسلنا لوط سیء بھم وضاق بھم ذرعا . اور جب ہمارے قاصد (ملائکہ)
لوط کے پاس پہنچے تو لوط کو ان کی وجہ سے دکھ (یعنی غم و فکر) ہوا۔
ذَرْعٌ طاقت طویل الذراع ‘ بہت قوی لمبے ہاتھوں والا ‘ ہاتھ بڑھا کر وہ چیز لے لیتا ہے جو کوتاہ دست نہیں لے پاتا۔ مطلب یہ کہ ملائکہ کی حفاظت کیسے کریں ‘ اس کی تدبیر کیا ہو ‘ اس سے لوط کی طاقت عاجز تھی۔
وقالوا لا تخف ولا تحزن انا منجوک وھلک الا امراتک کانت من الغٰبرین . اور ملائکہ
نے کہا : تم نہ کچھ خوف کرو ‘ نہ غم کرو ‘ ہم تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو ضرور بچا لیں گے سوائے تمہاری بیوی کے کیونکہ وہ (ا اللہ کے علم میں ہے کہ) پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہوگی (اور انہی کے ساتھ ہلاک کردی جائے گی) یعنی اس بات کا کوئی اندیشہ اور غم نہ کرو کہ وہ لوگ ہم پر قابو پاسکیں گے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ تم اس کا اندیشہ نہ کرو کہ ہوہ ہم پر قابو پاسکیں گے اور اس بات کا غم نہ کرو کہ ہم ان کو غارت کردیں گے۔
Ayah 29:34انا منزلون علی اھل ھذہ القریۃ رجزًا من السماء بما کانوا یفسقون . ہم اس بستی والوں پر
اوپر سے ایک عذاب ان کی بدکاریوں کی وجہ سے نازل کریں گے۔
بقول مقاتل رِجْزٌ سے مراد ہے زمین میں دھنسانے (یعنی زمین الٹ دینے) اور اوپر سے پتھر برسانے کا عذاب۔
رِجْزٌ کا معنی ہے بےچینی ‘ اضطراب۔ اِرْتَجَزَ وہ بےقرار اور بےچین ہوگیا۔ عذاب بھی موجب اضطراب ہوتا ہے اس لئے عذاب کو رجز فرمایا۔
Ayah 29:35ولقد ترکنا منھا ایۃ بینۃ لقوم یعقلون . اور ہم نے ان کے (یعنی قوم لوط کی بستیوں کے) کھلے ہوئے
نشانات ان لوگوں کے (عبرت اندوز ہونے کے) لئے چھوڑ دئیے جو سمجھیں۔ یعنی ان لوگوں کے لئے نشانات چھوڑ دئیے جو آیات قدرت پر غور کرتے ہیں اور ان سے عبرت اندوز ہوتے ہیں۔
حضرت ابن عباس کے نزدیک آیَۃًٍم بَیِّنَۃً سے مراد ہیں قوم لوط کی بستیوں کے ویران کھنڈر۔ قتادہ نے کہا کہ اس سے مراد وہ پتھر ہیں جو ان پر برسائے گئے تھے ‘ اللہ نے وہ پتھر باقی رکھے۔ اس امت کے ابتدائی دور تک وہ پتھر موجود تھے اور اگلے لوگوں نے ان کو دیکھا تھا۔
مجاہد نے کہا کہ زمین کے اندر سے سیاہ پانی برآمد کرنا آیَۃًٍم بَیِّنَۃً سے مراد ہے۔ بعض نے کہا کہ ان کے قصہ کی شہرت مراد ہے یعنی ہم نے قوم لوط کی تباہی کے قصہ کو ایک نشانی کر کے چھوڑ دیا۔
Ayah 29:36والی مدین اخاھم شعیب فقال یقوم اعبدوا اللہ وارجوا الیوم الاخر ولا تعثوا فی الأرض
مفسدین . اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو (پیغمبر بناکر) بھیجا۔ شعیب نے کہا : اے میری قوم والو ! اللہ کی عبادت کرو اور روز آخرت سے ڈرو اور ملک میں تباہی کی غرض سے بگاڑ نہ پیدا کرو۔
بعض اہل علم نے کہا : اس جگہ رجاء سے مراد ہے خوف یعنی روز آخرت کے عذاب سے ڈرو ‘ یا رجاء کا معنی اس جگہ بھی امید ہی ہے ‘ اس صورت میں مطلب اس طرح ہوگا کہ ایسے کام کرو جن سے روز آخرت کے ثواب کے تم امیدوار ہو سکو۔ سبب کو مسبب کے قائم مقام ذکر کردیا۔
تَعْثَوْا کا معنی بھی لاَ تُفْسِدُوْا ہے پھر مُفْسِدِیْنَ کا لفظ اس غرض سے ذکر کیا گیا کہ کبھی تخریب اصلاح کی غرض سے ہوتی ہے جیسے کافروں سے جنگ کرنے کی صورت میں ان کو قتل کرنا ‘ زخمی کرنا ‘ آبادیوں کو اجاڑنا اور درختوں کا کاٹ ڈالنا اور کبھی بگاڑ برائے بگاڑ ہوتا ہے (اصلاح مقصود نہیں ہوتی) پس مطلب یہ ہے کہ محض فساد کی نیت سے تم ملک میں تباہی نہ پھیلاؤ۔
Ayah 29:37فکذبوہ فاخذتھم الرجفۃ فاصبحوا فی دارھم جثمین . پھر قوم نے شعیب (کی نبوت) کی تکذیب
کی ‘ آخر ان کو ایک سخت زلزلہ نے پکڑ لیا اور وہ اپنے اپنے گھر میں زانو کے بل بیٹھے کے بیٹھے رہ گئے (سب مر کر رہ گئے) ۔
رَجْفَۃٌ سخت بھونچال۔ بعض نے کہا کہ جبرئیل کی چیخ مراد ہے جس سے دل لرز گئے تھے۔
جٰثِمِیْنَ گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوئے۔ دار سے مراد یا تو شہر ہے یا دار سے مراد ہیں بہت سے مکان ‘ یہ شبہ تو ہوسکتا ہے ہی نہیں کہ سب ایک مکان میں ہوں اس لئے جمع کی بجائے واحد کا صیغہ استعمال کیا۔