29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsسراج البیان

Ayahs 29:1–2

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ Open ayah 29:2 in the Quran reader

کیا لوگوں نے یہ خیال کر رکھا ہے کہ صرف اتنا کہنے پر کہ ہم ایمان لائے وہ چھوٹ جائینگے اور آزمائے نہیں جائیں گے

انبیاء منصب نبوت کے امیدوار نہیں ہوتے 1: انبیاء (علیہم السلام) کو جو منصب نبوت سے نوازا جاتا ہے ۔ تو اس طرح نہیں ۔ کہ وہ نبوت و رسالت کے امیدوار ہوتے ہیں اور بتدریج نبوت کے درجہ علیا تک ترقی کرلیتے ہیں ۔ بلکہ اس طریق سے نبوت عطا کی جاتی ہے کہ ان کو پہلے سے مطلقاً معلوم نہیں ہوتا ۔ اور یکایک قدرت حق ان کو منتخب کرلیتی ہے ۔ اور وہ معارف ونکات کا دریا بہانے لگتے ہیں ۔ ہاں یہ درست ہے ۔ کہ نبوت کی استعداد کا ہونا انبیاء میں ضروری ہے ۔ تاکہ ان میں اور دوسرے لوگوں میں ایک قسم کا امتیاز ہو ۔ ارشاد ہے کہ آپ کو پہلے سے توقع نہیں تھی ۔ کہ نبوت کی گرانبار ذمہ داریاں آپ کے کندھوں پر ڈال دی جائیں گی ۔ یہ تو آپ کے رب کا فضل اور اس کی مہربانی ہے ۔ کہ اس نے آپ کو ان خدمات پر مامور فرمایا ہے یہ واضح رہے کہ قرآن میں بعض دفعہ حضور ﷺ کی سیرت کو بعینہ امر بیان کیا جاتا ہے ۔ جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مسلمان آپ کے اسوہ کی پیروی کریں ۔ اور اپنے لئے حضور ﷺ کی زندگی کو مشعل راہ بنائیں ۔ مگر جو لوگ قرآن کے اسلوب بیان سے آگاہ نہیں ۔ غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ اور سمجھتے ہیں ۔ کہ شاید یہ باتیں حضور ﷺ میں موجود نہیں ہیں ۔ یا خطرہ تھا کہ ان باتوں کی آپ مخالفت کریں گے ! اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو بصورت اوامروا احکام پیش کیا ہے مثال کے طور پر ان آیات پر غور کیجئے ۔ ان میں چار باتیں بیان کی گئی ہیں (1) آپ کافروں اور مجرموں کی تائید نہ فرمائیے (2) اللہ کے احکام کی پیروی سے یہ لوگ آپ کو روک نہ دیں (3) ایک اللہ کی دعوت دیتے رہیے ! اور شرک نہ کیجئے (4) اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو سا بھی سمجھ کر نہ پکارا کیجئے ظاہر ہے کہ یہ اسوہ ہے احکام نہیں ہیں آپ نے ساری زندگی میں کبھی جرم اور گناہ کی تائید نہیں فرمائی ۔ کبھی احکام کی پیروی میں تغافل نہیں فرمایا ۔ ہمیشہ ایک اللہ کی دعوت دیتے رہے ۔ اور کبھی ایسا نہیں ہوا ۔ کہ آپ نے اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرایا ہو ان حالات میں بعض بدباطن مشنریوں کا ان آیات سے غلط استفادہ کرنا ۔ اور کہنا ۔ کہ معاذ اللہ حضور ﷺ سے ان گناہوں کے صدور کا احتمال تھا ۔ اس لئے ان سے روکا گیا ہے ۔ محض نادانی اور علوم قرآن سے ناواقفیت ہے
Ayahs 29:3–6

وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 29:3 in the Quran reader

اور جو لوگ ان سے (ف 1) پہلے تھے ہم نے انہیں بھی آزمایا تھا ۔ سو البتہ اللہ ان لوگوں کو معلوم کریگا ۔ جو سچے ہیں اور ان لوگوں کو بھی معلوم کریگا جو جھوٹے ہیں

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 29:4 in the Quran reader

کیا وہ لوگ جو برائیاں کرتے ہیں یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ وہ ہم سے بچ جائیں گے ؟ یہ لوگ کیا بڑا فیصلہ کرتے ہیں

مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:5 in the Quran reader

جو کوئی اللہ کی ملاقات کا امیدوار ہے ، تو بیشک اللہ کا وعدہ آنے والا ہے ۔ اور وہ سنتاجانتا ہے

وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:6 in the Quran reader

اور جو کوئی خدا کے کام میں محنت کرتا ہے تو وہ اپنی ہی ذات کے نفع کے لئے محنت کرتا ہے اللہ کو جہانوں کے لوگوں کی پرواہ نہیں

ف 1: مکہ کی زندگی میں مسلمانوں کو جب تکلیفیں پہنچتیں ۔ تو بعض ضعیف ال ایمان مسلمان گھبرا اٹھتے ۔ اس پر ان آیات کا نزول ہوا ۔ کہ صرف امنا کہہ دینا کافی نہیں بلکہ آزمائش شرط ہے ۔ اللہ تعالیٰ واقعات کے رنگ میں دیکھنا چاہتے ہیں ۔ کہ ان لوگ قول وعمل کے لحاظ سے صادق ہیں اور کون لوگ قول وعمل کے لحاظ سے کاذب ہیں ۔ کن لوگوں کے دلوں میں ایمان مضبوط ہوچکا ہے ۔ اور کون لوگ ہنوز ضعیف ال ایمان ہیں ۔ حل لغات :۔ لیعلمن ۔ اللہ کا علم ازلی ہے ۔ اس میں واقعات و حوادث سے کوئی تغیر پیدا نہیں ہوتا ۔ اس لئے اس سے مراد علم مستانف نہیں ہے ۔ بلکہ وہ علم ہے جو حالات کے بروئے کار آنے سے ہوتا ہے ۔
Ayah 29:7

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:7 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ہم ان سے ان کے ۔ گناہ (ف 1) دور کریں گے اور جو کام وہ کرتے تھے ان کاموں سے بہتر ہم انہیں بدلہ دیں گے

نجات کا سچا اور سادہ نظریہ 1: اگر انسان یہ چاہے کہ گناہوں اور لغزشوں سے وہ بالکل پاک رہے اور قطعاً اس سے کسی نوع کی غلطی کا صدور نہ ہو ۔ تو یہ ایک ایسی آرزو ہے جو کبھی پوری نہیں ہوسکتی ۔ انسان فطرت اور ساخت کے لحاظ سے مجبور ہے ۔ کہ کبھی کبھی خواہشات سے نفس کی رو میں بہہ جائے ۔ اس لئے وہ مذہب جو انسان سے سو فی صدی نیک رہنے کا مطالبہ کرتا ہے ۔ غلط ہے اور اسکا پیش کرنے والا انسان نفسیات سے محض آشنا اور ناواقف ہے دیکھئے اللہ تعالیٰ نے جب آدم کو پیدا کرنا چاہا ۔ تو فرشتوں نے کہا ۔ کیا آپ ایسے شخص کو نیابت سے سرفراز کرنا چاہتے ہیں جو سنگین گناہوں کا ارتکاب کریگا ۔ لیعذاک الدعائ۔ تو اللہ نے کہا کے جواب میں یہ نہیں فرمایا ۔ کہ نہیں بنی آدم بڑے پاک اور پارسا ہونگے اور تزہد وتورع میں وہ تم سے بھی آگے ہوں گے ۔ بلکہ اللہ نے فرمایا کہ انی اعلم ما لا تعلمون ۔ یعنی میں تمہاری پاک بازی کو دیکھ چکا ۔ اب بنی آدم کے گناہ اور لغزشیں دیکھنا چاہتا ہوں ۔ تم میرے اسرار ومصالح سے آگاہ نہیں ۔ اس لئے خاموش رہو معلوم ہوا کہ لغزشیں کرتا ہیں ۔ اور بعض حالات میں گناہوں کا صدور انسان سے ممکن ہے سوال پیدا ہوتا ہے ۔ پھر نجات کے کیا معنی یا اور گناہوں سے مخلصی کسے کہتے ہیں جواب یہ ہے کہ قرآن کہتا ہے ۔ تم اللہ پر ایمان رکھو اس کے پروگرام کو حتے الامکان پورا کرنے کی کوشش کرو ۔ اس کے بعد جو غلطیاں بتقاضائے بشریت تم سے سرزد ہوجائیں گی ۔ ان کو اللہ تعالیٰ بخش دینگے اور پھر تمہارے اعمال حسنہ کا ثواب کئی گنا کرکے اپنی طرف بڑھادینگے ! اور تم کو جنت ونعیم کے انداز سے بہرہ ادوز ہونے کے لئے آزاد چھوڑ دینگے ۔ یہی اسلامی نجات اور طریق مخلصی ہے ۔ ملاحظہ فرمائیے ۔ اس میں کس درجہ فطرت کے ساتھ توافق ہے اور نجات کا کس قدر صحیح اور سچانظریہ ہے جس میں نہ تناسخ کا چکر ہے نہ صلیب کی الجھن ہے سیدھی سادی بات ہے کہ بالعموم خدا کی فرمانبرداری کرو اور آقا کے احکام بجا لاؤ۔ وہ تمہیں اجر دیگا انعام دے گا ! اور تمہاری لغزشوں اور کوتاہیوں کو صاف بھی کردے گا ۔
Ayahs 29:8–9

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:8 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ (ف 2) نیکی کرنے کا تاکیدی حکم دیا ہے ۔ اور اگر والدین تجھ سے ضد کریں تو اس چیز کو جس کا تجھے علم نہیں میرا شریک مان پس تو والدین کی اطاعت نہ کر ۔ تم کو میری طرف پھر آنا ہے سو میں تمہیں جتاؤں گا جو تم کرتے تھے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:9 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ۔ انہیں ہم نیکوں میں داخل کریں گے

ف 2: یعنی والدین کی اطاعت مذہب اور دین کا اہم جزو ہے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے اور ہر حالت میں انکا احترام کرے بجز اس صورت کے کہ وہ شرک ، بدعت کی باتوں پر آمادہ کریں ۔ حل لغات : وصینا ۔ توصیہ کے معنی تاکید کے ساتھ کسی بات کو کہنا ہے ۔
Ayahs 29:10–11

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:10 in the Quran reader

اور لوگوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ۔ پھر جب اسے اللہ کی راہ میں تکلیف ہے ۔ تو لوگوں کے ستانے کو اللہ کے عذاب کی برابر ٹھہراتا ہے اور اللہ تیرے رب کی طرف سے مدد آئے تو ضرور کہیں گے کہ ہم تمہارے ساتھ تھے ۔ بھلا کیا بات نہیں ہے کہ جو اہل جہان کے (ف 1) دلوں میں ہے اللہ اسے خوب جانتا ہے

وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ Open ayah 29:11 in the Quran reader

اور اللہ ضرور اہل ایمان کو معلوم کریگا ۔ اور منافقوں کو بھی معلوم کرے گا

ف 1: اس آیت میں منافقین کا ذکر ہے ۔ کہ زبان سے تو ایمان کا دعویٰ ہے ۔ مگر جب مصائب و تکالیف کا سامنا ہوتا تو گھبراٹھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں ۔ کہ یہ بھی اللہ کا عذاب ہے ۔ اور جب یسر اور آسانی کے لمحات میسر ہوتے ہیں ۔ اس وقت پھر جذبہ ایمان ان میں عود کر آتا ہے ۔ حل لغات :۔ فتنۃ الناس ۔ لوگوں کی ایذا دہی کو صدور ۔ صدر کی جمع ہے بمعنی سینہ
Ayah 29:12

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 29:12 in the Quran reader

اور کافروں نے مومنوں سے کہا کہ تم ہماری راہ کی پیروی کرو اور ہم تمہارے (ف 2) گناہ اٹھالیں گے ۔ حالانکہ وہ ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی نہ اٹھائیں گے یہ بالکل جھوٹ بک رہے ہیں

لا تزروازرۃ وزرا اخریٰ 2: بات یہ ہے کہ جب منکرین اسلام مسلمانوں کو کہتے ۔ کہ تم باجود افلاس وغربت اور تکالیف ومصائب کے اسلام کی امانت عزیز کو کیوں سینوں سے چمٹائے ہوئے ہو ۔ اور کیا وجہ ہے ۔ کہ تم ہمارے ساتھ نہ مل کر مادی لذائذ سے محروم رہو : تو مسلمان کہتے کہ یہ تمہارا کہنا درست ہے ۔ کہ اسلام کو ترک کرکے ایک گونہ دنیا کی مسرتیں حاصل ہوجاتی ہیں ۔ مگر آخرت اور عقلی میں کیا ہوگا ۔ وہاں کون شخص اللہ کے عذاب سے چھڑائیگا ۔ اور کون ہے جو وہاں کی کفالت لیتا ہے اور عذاب سے رہائی کا ٹھیکہ دار بنتا ہے ۔ تو اس پر وہ نہایت دیدہ دلیری مگر بیوقوفی سے کہتے کچھ بڑا نہیں ۔ تم ہمارے مسلک کفر وگمراہی کو قبول کرلو ۔ ہم تمہارے گناہوں کا ذمہ لیتے ہیں ۔ ارشاد ہے کہ یہ بالکل جھوٹ ہے یہ لوگ ان مسلمانوں کو گناہوں کے بارے تو کیا مخلصی عطا کریں گے البتہ خود اپنی پیٹھ پر اپنے گناہوں کے علاوہ ان کے گناہ بھی لاد دینگے اور دگنے عذاب کے مستحق ہوں گے ۔ معلوم ہوا کہ اسلامی نقطہ نگاہ سے گناہوں کی ذمہ داری کوئی شخص نہیں اٹھاسکتا ! اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میں اپنے عقیدت مندوں اور مریدوں کے گناہوں کو بخشوا دونگا ۔ کیونکہ گناہ کا تعلق براہ راست ہر فرد سے ہے ۔ اور ہر فرد اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے اعمال کا جوابدہ ہے حل لغات :۔ وما ھم بحاملین سے مراد یہ ہے کہ وہ گناہگاروں کے بوجھ کو ہلکا نہیں کرسکیں گے
Ayah 29:13

وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١٘ وَ لَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 29:13 in the Quran reader

اور البتہ اٹھادیں گے بوجھ اپنے اور بوجھ ساتھ بوجھوں اپنے کے اور قیامت کے دن ان باتوں کی نسبت جو وہ جھوٹ بتاتے تھے باز پرس ہوگی

حل لغات : و لیحملن اثقالھم سے مقصود یہ ہے کہ وہ اپنے گناہ اور ان لوگوں کے گناہوں کی سزا بھگتیں گے جن کو انہوں نے گمراہ کیا ۔ اس لئے دونوں میں معنا کوئی تضاد نہیں
Ayah 29:14

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 29:14 in the Quran reader

اور نوح کہ ہم نے اس کی قوم کی طرف بھیجا ۔ پھر وہ ان میں پچاس برس کم ہزار برس رہا ۔ پھر انہیں طوفان نے آپکڑا اور وہ ظالم تھے

حل لغات : الا خمسین عاما ۔ ہزار سال کہہ کر پچاس کم کرنے کے طریق کے بیان اور طرز استثناء کے اختیار کرنے میں تین فائدے مدنظر ہیں ۔ (1) اس سے تقریب وتخمین کی نفی ہوتی ہے (2) عدداکبر اس بات پر دال ہے کہ حضرت نوح نے بہت زیادہ صبر اور استقلال کا اظہار کیا ۔ اور چونکہ اسی مقام میں حضور کو کفار کی ایذا دہی پر تسلی دینا مقصود ہے ۔ اس لئے یہی انداز بیان مناسب اور زیادہ مفید تھا ۔ کہ پہلے مدداکبر ہو اور اس کے بعد استثناء (3) یہ نہایت موثر اور دلکش و ادبی طرز بیان ہے ۔ تسعمائۃ وخمسین سنۃ میں وہ موسیقی موجود نہیں جو الف سنۃ الا حسین میں ہے ۔
Ayah 29:15

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:15 in the Quran reader

پھر ہم نے اسے اور سب کشتی (ف 1) والوں کو بچا لیا ۔ اور ہم نے کشتی کو اہل جہان کے لئے ایک نشانی ٹھہرایا

ف 1: اخیار امم سے اس سات پر استشہاد ہے کہ نہ ماننے والے کیونکر تباہ ہوتے ہیں ۔ اور آخر کار حق کس طرح کامیاب وکامران رہتا ہے ۔ ارشاد ہے کہ حضرت نوح نے پچاس کم ہزار برس تک تبلیغ کی اور قوم کو گمراہی کی ظلمتوں سے نکالنے اور ہدایت کی روشنی میں لانے کی انتہائی جدوجہد فرمائی ۔ مگر انہوں نے بہرحال انکار کیا ۔ اور ان کے پیغام سے روگردانی کی ۔ نتیجہ یہ ہوا ۔ کہ بادوباران کے طوفان نے ان کو آلیا ۔ اور بجز حضرت نوح اور اہل سفینہ کے سب لوگ ڈوب گئے ۔
Ayah 29:16

وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:16 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم (ف 2) کو بھیجا ۔ جب اس نے اپنی پوم سے کہا ۔ کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو

ف 2: حضرت نوح کے بعد جب ارض بابل میں شرک پھیل گیا ۔ اور ساری قوم خدا کی نافرمان ہوگئی تو حضرت ابراہیم مبعوث ہوئے ۔ انہوں نے بڑی حکمت وہ دانائی اور جرات وجسارت سے لوگوں کو ایک اللہ کی چوکھٹ پر جھکنے کی دعوت دی ۔ اور اللہ کے عذاب سے ڈرایا ۔
Ayah 29:17

اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:17 in the Quran reader

تم تو اللہ کے سوا صرف بتوں کو پوجتے ہو وہ تمہاری روزی کے مالک نہیں سو تم اللہ سے (ف 1) رزق طلب کرو ۔ اور اسکو پوجو اور اس کا شکر کرو اسی کی طرف تم کو پھیرے جاؤ گے

ابراہیم کے مواعظ توحید 1: ان آیتوں میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وعظ مذکور ہے ۔ کہ کیونکر انہوں نے قوم کے بت پر ستانہ خیالات کی تردید فرمائی ارشاد ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو پوج رہے ہو ۔ جن میں کوئی حقیقت نہیں ۔ اور جن کی تم پرستش کرتے ہو ۔ یقینا وہ رزق کے مالک نہیں ۔ اگر رزق حاصل کرنا ہے ۔ تو اللہ کے پاس آؤ۔ اور اس کا شکر ادا کرو ۔ یعنی کشائش رزق کی تمام راہیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔ اور اسی کے قبضہ اختیار میں ہے ۔ کہ جس کو چاہے فراوانی کے ساتھ دے اور جس کو چاہے تان شبیہ تک محتاج کردے ۔ اس کے بعد فرمایا ۔ اگر تم اس پیغام کونہ مانو ۔ تو میں تم کو مجبور نہیں کرتا ۔ تم سے پہلے بھی قوموں نے اپنے پیغمبروں کی تکذیب کی ۔ اور تکذیب کی سزا پائی ۔ میرا فرض تو صرف یہ ہے ۔ کہ اللہ کے احکام بلا کم وکاست تم تک پہنچادوں لایسلکون لکم رزقا میں لفظ رزق کو تنکیر کے ساتھ بیان کیا ہے ۔ اور جب اس رزق کو اللہ کی طرف منسوب کیا ہے تو الرزق کہا ہے ۔ یعنی بصورت معرفہ ۔ اس میں نکتہ یہ ہے کہ نکرہ جب معرض نفی میں ہو ۔ تو عموماً نفی کا فائدہ دیتا ہے معنے یہ ہوں گے ۔ کہ تمہارے معبودوں کے پاس تو کسی نفع کا رزق موجود نہیں ۔ اور معرفہ ہونے کی شکل میں استغراق مدنظر ہے ۔ یعنی ہر قسم کا رزق اللہ کے اختیار میں ہے ۔
Ayah 29:18

وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 29:18 in the Quran reader

اور اگر تم جھٹلاؤ گے تو تم سے پہلے بہت امتوں نے جھٹلایا ہے اور رسول کا ذمہ صرف کھول کر پہنچادیتا ہے

حل لغات :۔ امم ۔ امۃ کی جمع ہے ۔ بمعنے قومیں ۔
Ayah 29:19

اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 29:19 in the Quran reader

کیا نہیں دیکھتے کہ اللہ کس طرح مخلوق کو اول بار پیدا کرتا ہے پھر اسے دہرائے (ف 2) گا بیشک یہ اللہ پر آسان ہے

امکان حشر پر ایک منطقی دلیل 2: توحید اور نبوت کی تشریح کے بعد اب تیسرے اصل کے اثبات میں دلائل پیش فرمائے ہیں ۔ اور یہ تیسرا اصل نشاۃ اخری یعنی عالم حشر ہے ارشاد ہے ۔ کہ یہ لوگ اس حقیقت پر غور کریں ۔ کہ سب سے پہلی مخلوق کو کس نے وجود بخشا ۔ اس کے دو ہی جواب ہوسکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ یہ مخلوق کسی دوسری علت مخلوقہ کا نتیجہ ہے ۔ دوسرے یہ کہ اس کو منصہ شہود پر لانے والی ذات اللہ کی ذات ہے ۔ پہلا جواب خلاف مقروض ہے ۔ اور تسلسل کا متقاضی ہے ۔ جو عقلاً نا تسلی بخش ، اور ناممکن ہے ۔ اس لئے منطقی طور پر دوسرا جواب درست ہوگا ۔ اس صورت اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب پہلی دفعہ میں نے کائنات کو پیدا کیا ہے تو پھر اس کے دوبارہ پیدا کرنے میں کون چیز مانع ہوسکتی ہے
Ayahs 29:20–23

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ Open ayah 29:20 in the Quran reader

تو کہہ تم زمین میں سیر کرو ۔ پھر دیکھو کہ کیونکر اللہ نے پیدائش کو شروع کیا ۔ پھر اللہ پچھلا (ف 1) اٹھان اٹھائے گا ۔ بیشک اللہ ہر شئے پر پادر ہے

یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ Open ayah 29:21 in the Quran reader

وہ جسے چاہے عذاب کرے جس پر چاہے رحم کرے اور تم اسی کی طرف پھر جاؤ گے

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ١٘ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠ Open ayah 29:22 in the Quran reader

اور تم زمین میں اور آسمان میں اللہ کو عاجز نہ کرسکو گے ۔ اور سوائے اللہ کے تمہارا کوئی دوست اور مددگار نہیں

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآئِهٖۤ اُولٰٓئِكَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 29:23 in the Quran reader

اور جو اللہ کی آیتوں اور اس کی ملاقات کے منکر ہوئے وہی میری رحمت سے ناامید ہیں اور انہیں کے لئے دکھ دینے والا عذاب ہے

ف 1: غرض یہ ہے کہ غور وفکر بھی عالم حشر کے امکانات پر روشنی ڈالتا ہے ۔ اور تجربہ وآزمائش بھی ۔ ارشاد ہے کہ تم زمین میں چل کر دنیا پر نظر دوڑاؤ۔ اور دیکھو ۔ کہ کیا کائنات کی ہر چیز یہ نہیں بتارہی ہے کہ اس کو پیدا کرنے والا اللہ ہے ۔ اور نشاۃ آخری کے تسلیم کرلینے میں کیا تاتل ہوسکتا ہے بات یہ ہے کہ اس قسم کے اعتراضات اور شکوک اس وقت پیدا ہوتے ہیں ۔ جب اللہ کی قدرتوں پر ایمان نہ ہو ۔ اور جب اس کو تسلیم کرلیا جائے ۔ تو پھر تمام اعتراضات اٹھ جاتے ہیں ۔ حل لغات :۔ ینشئی ۔ انشاء سے ہے ، پیدا کرنا یعذب من یشائ۔ جس کو چاہے گا عذاب میں مبتلا کریگا ۔ یعنی اس کے اختیارات میں دنیا کی کوئی قوت حائل نہیں ۔ ورنہ درحقیقت اس کی مشیت عذاب میں وہ لوگ داخل ہیں جو اس کا اپنے کو مستحق قرار دیں گے
Ayah 29:24

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 29:24 in the Quran reader

پھر اس (ابراہیم (علیہ السلام) ) کی قوم کا بجز اس کے اور کچھ جواب نہ تھا ۔ کہ انہوں نے کہا کہ اسے قتل کردو یا جلا دو ۔ پھر اسے خدا نے آگ (ف 1) سے بچایا ۔ بیشک ان میں ایمانداروں کے لئے نشانیاں ہیں

نار نمرود میں تحویل و تبدیل 1: یہاں سے پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ کا بیان فرمایا ہے کہ جب انہوں نے اللہ کے پیغام کو بابل کے کونے کونے میں پہنچادیا ۔ اور بتوں کی بےچارگی اور عجز کو سختی کے ساتھ بیان کیا ۔ اور توجہ کی تائید میں ایسے دلائل قاہرہ ارشاد فرمائے کہ منکرین سے کوئی جواب نہ بن پڑا ۔ تو انہوں نے کہا ۔ کہ اس کو زندگی سے محروم کردو ۔ مارڈالو ۔ اور آگ میں جھونک دو ۔ یہ ہمارے مذہب اور دین کے لئے زبردست خطرہ ہے ۔ چناچہ آگ کا ایک بڑا الاؤ تیار کیا گیا ۔ اور ابراہیم (علیہ السلام) کے ایمان کا امتحان ہونے لگا ۔ منکرین اور کفار کی جماعت خوش تھی ۔ کہ ہمارے بتوں کی توہین کرنے والا چشم زون میں آگ میں چل کر بھسم ہوجائیگا ۔ اور ہم اپنے دشمن کو اپنے سامنے فنا ہوتا اور مٹتا دیکھیں گے ۔ ان کا خیال تھا ۔ کہ اس قربانی سے ان کے دیوتا بھی مسرور ہوں گے ۔ کہ ہمارے عقیدت مندوں نے ہمارے ایک نہ ماننے والے سے خوب انتقام لیا ۔ مگر اللہ کی تدبیر ان کی اس قساوت قلبی اور محرومی پرستش رہی تھی ہوا یہ کہ وہ آگ کا الاؤ جو کہ انہوں نے بڑی محنت سے تیار کیا تھا ۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے اس میں کود پڑنے سے بالکل سرد ہوگیا ۔ اور سل امتی سے تبدیل ہوگیا ۔ کیونکہ یہ اللہ کا فیصلہ ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں کو ذلیل اور رسوا نہیں کرتا اب یہ سوال کہ ایسا کیونکر ہوگیا ۔ کیا آگ اپنی فطرت کو بھول گئی ۔ یا ابراہیم (علیہ السلام) کی سوزش پنہانی نے اس کو مغلوب کرلیا فی الحقیقت یہ سوال ہی مہمل ہے کیونکہ کسی کی عقل تسلیم کرے یا نہ کرے ۔ واقعہ یہی ہے کہ آگ بجھ گئی اور ابراہیم ان کے مکر او سوء تدبیر سے بچ گئے ہم جب خدا کو اس کی قدرت واعظمت کے ساتھ مانتے ہیں تو اس کے بعد اس نوع کے اعتراضات اور شکوک کی گنجائش نہیں رہتی ۔ وہ چاہے تو جہنم کی آگ کو جنت کی نہروں میں تبدیل کردے ۔ اور کرہ آفتاب سے حرارت چھین کر اس کی بجائے برف کی سی برددت رکھ دے ۔ یہ سب چیزیں ممکن ہیں ۔ اور اس سے بھی زیادہ محالات عقلی ہیں جو اس کے سامنے صف بستہ کھڑے حکم کے منتظر ہیں ۔ ہاں اپنی تسلی کے لئے اتنا سمجھ لیجئے کہ جل جاتا یا سوزش کا احساس اصل میں آگ سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ اپنے احساس یقینی سے متعلق ہے آگ چونکہ اس قسم کے احساس کر پیدا کرنے کا موجب ہے ۔ اس لئے سمجھا جاتا ہے کہ آگ جلاتی ہے اور سوزش پیدا کرتی ہے ۔ لہٰذا وہ شخص جو یہ یقین رکھے کہ آگ مجھ کو جلائے گی ۔ وہ آگ میں نہیں جلے گا ۔ بشرطیکہ یہ یقین بدرجہ حق الیقین ہو ۔ چناچہ اب ایسے لوگ نظر آرہے ہیں ۔ کہ وہ دھکتے ہوئے انگاروں پر سے با اطمینان گزر جاتے ہیں ۔ اور دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں ۔ جب ان سے پوچھا گیا ۔ کہ آپ کیونکر آگ کی بھری کھائی پر سے گزر گئے ۔ تو انہوں نے یہی جواب دیا ۔ کہ قوت ارادی کی مضبوطی سے ۔ حل لغات :۔ اوحرقوہ ۔ او یہاں بل کے معنوں میں ہے ۔ یا استدراک کے لئے ہے ۔ جیسے ارشاد ہے ۔ فم اللیل الا قلیلا نصفہ اوالنقص منہ قلیلا اوزدعلیہ
Ayah 29:25

وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١٘ وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗۙ Open ayah 29:25 in the Quran reader

اور کہا کہ تم اللہ کے سوا بتوں کو مانتے ہو تو صرف تمہاری آپس کی دوستی کا سبب ہے جو دنیا کی زندگی تک ہے ۔ پھر قیامت کے دن تم میں ایک کا ایک منکر ہوگا ۔ اور ایک پر (ف 2) ایک لعنت کریگا اور تمہارا مددگار نہیں

ف 2 یعنی پیر اور مرید کے مشرکانہ تعلقات بس یہیں تک ہیں ۔ قیامت کے دن یہ لوگ ایک دوسرے سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کریں گے ۔ حل لغات : اوثانا ۔ وثن کی جمع ہے ۔ یعنی بت ۔
Ayah 29:26

فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:26 in the Quran reader

پھر لوط اس پر ایمان لایا اور کہا میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں ۔ بیشک (ف 3) وہی زبردست حکمت والا ہے

ف 3: حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کو حضرت لوط نے قبول کیا ۔ اور ارض بابل سے ہجرت کرکے سدوم میں پہنچ گئے ۔ تاکہ وہاں کے لوگوں تک خدا کا پیغام پہنچائیں ۔
Ayahs 29:27–28

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:27 in the Quran reader

اور ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب بخشا اور اس کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی اور ہم نے اس کا اجر اسے دنیا میں دیا اور بیشک آخرت میں وہ البتہ نیکوں (ف 1) میں ہے

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ١٘ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:28 in the Quran reader

اور لوط کو بھیجا جب اس نے اپنی قوم سے کہا کہ تم بےحیائی کرتے ہو دنیا میں تم سے پہلے کسی نے ایسی بےحیائی نہیں کی

ف 1: مقصد یہ ہے کہ جو شخص اللہ کے دین کی خدمت کرتا ہے ۔ اللہ اس کو ضرور برکات دین ودنیا سے بہرہ ور کرتا ہے ۔
Ayahs 29:29–30

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ١ۙ۬ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَ١ؕ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 29:29 in the Quran reader

البتہ تحقیق مردوں پر گرتے ہو اور راہ مارتے ہو (نسل کی) اور اپنی جھلس میں برے کام کرتے ہو ۔ سو اس کی قوم کا

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 29:30 in the Quran reader

اس کے سوا اور کچھ جواب نہ تھا ۔ بولے اگر تو سچا ہے تو ہم پر اللہ کا عذاب لے آ

حل لغات :۔ نادیکم ۔ مجلس نادی کے معنے اصل میں اس بزم کے ہیں ۔ جو رات کو منعقد کی جائے ۔
Ayah 29:31

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 29:31 in the Quran reader

لوط نے کہا ۔ کہ اے رب میرے مفسد لوگوں پر میری مدد کرو اور جب ہمارے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بشارت دینے آئے ۔ تو کہا ہم اس بستی کے لوگوں کو ہلاک کریں گے ۔ بیشک اس کے باشندے ظالم (ف 1) ہیں

لواطت کے نقصانات 1: حضرت لوط کا پیغام خصوصی یہی تھا ۔ کہ وہ سدومیوں کو اس لعنت سے بچائیں ۔ اور ان کو بتائیں کہ تمہاری یہ حرکات نوع انسانی کے لئے نہایت شرمناک اور مضر ہیں ۔ چناچہ ارشاد ہے کہ تم عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں سے جذبات شہوت کی تسکین کا سامان بہم پہنچاتے ہو ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ نسل انسانی منقطع ہوجائے گی ۔ وتقطعون السبیل سے یہی مقصود ہے ۔ کہ تمہارے ان افعال سے افزائش نسل کی راہیں مسدور ہوجائیں گی سوال یہ ہے کہ یہ فعل عنداللہ اس درجہ مبغوض کیوں ہے ۔ کہ اللہ نے اس کے انسداد کے لئے حضرت لوط کو رسول بنا کر بھیجا ۔ اور آخر میں انکار کی وجہ سے ان کو ہلاک کردیا گیا ۔ بعض یونانی اخلاقیئن نے اس کو بےضرر کلچر کے نام سے موسوم کیا ہے لیکن انہوں نے اس کی بہت سی خرابوں پر گہری نظر نہیں ڈالی ۔ جن میں سے کچھ ذیل میں درج کی جاتی ہیں (1) طبی اور عضویاتی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے ۔ تو اس مرض کے لوگ جنسی اعتبار سے بالکل بےکار اور عنین ہوجاتے ہیں (2) اخلاقی لحاظ سے قوم میں بزدلی ۔ بددلی ۔ یاس اور قنوط کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں (3) اجتماعی نقصانات یہ ہیں کہ سماج میں فواحش کا رواج اور غلبہ ہوجاتا ہے (4) دماغی پستی اس کا لازمی اور فوری نتیجہ ہے (5) جو نسل پیدا ہوتی ہے ۔ وہ کمزور ۔ بیمار ۔ اور موت کا جلد لقمہ ہوتی ہے (6) عورتیں مردوں کی فطری رفاقت سے عموماً محروم ہوجاتی ہیں ۔ سب سے بڑا جامع نقصان وہی ہے ۔ جو قرآن نے بیان کیا ہے ۔ کہ باہمت ۔ شاندار اور مضبوط نسل کا انقطاع ہوجاتا ہے بقیہ حاشیہ الغرض حضرت لوط نے جب ان لوگوں کو پاکبازی کی تلقین کی ۔ اور بتایا ۔ کہ تمہارے یہ افعال نہایت برے ہیں اور اس لائق ہیں کہ اللہ کا عذاب تم پر آئے ۔ اور تم کو ہلاک کردے ۔ تو انہوں نے ازراہ بدبختی اور محرومی بجائے توبہ و استغفار کے عذاب طلب کیا چناچہ اللہ کے فرشتے پہلے حضرت ابراہیم کے پاس آئے ۔ ان کو بیٹے کی خوشخبری دی ۔ اور پھر کہا ۔ کہ ہم آگے بڑھ رہے ہیں ۔ اور سدومیوں کو ہلاک کردینے کا قصد ہے ابراہیم نے کہا ۔ اس بستی میں تو لوط بھی رہتے ہیں ۔ فرشتوں نے کہا ۔ ہم جانتے ہیں ۔ اس کو اور اس کے ماننے والوں کو بچا اس کی منکر بیوی کے ہم نجات دیں گے ۔ اور عذاب سے بچالیں گے اور باقی بدکرداروں کے لئے ہلاکت مقدر ہے ۔ اس کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے ۔ وہ ان کو دیکھ کر خوف زدہ اور رنجیدہ ہوئے کہ تباہی کا وقت آگیا فرشتوں نے تسلی دی اور کہا ۔ کہ آپ کو اور آپ کے عقیدتمندوں کو بچا لیا جائے گا ۔ البتہ آپ کی بیوی معذبین میں سے ہے کیونکہ اس نے پرانی بد رسموں کا ساتھ دیا ۔ اور توحید و پاکیزگی کے پروگرام پر کان نہ دھرا ۔
Ayah 29:32

قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا١ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا١٘ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:32 in the Quran reader

بولے وہاں لوط رہتا ہے ۔ بولے ہم خوب جانتے ہیں جو کوئی اس میں رہتا ہے ۔ ہم اس کو اور اس کے اہل کو نجات دینگے مگر اس کی عورت کہ رہے گی رہ جانے والوں میں

حل لغات :۔ الغابرین ۔ پیچھے رہنے والوں میں ضاق بھم زرعا ۔
Ayah 29:33

وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:33 in the Quran reader

اور جب ہمارے رسول (بھیجے ہوئے یعنی فرشتے) لوط کے پاس آئے تو وہ ان کو دیکھ کر مغموم ہوا ۔ اور ان کے سبب سے دل تنگ ہوا اور رسول بولے خوف نہ کر غم نہ کھا ۔ ہم تجھے اور تیرے اہل کو نجات دینگے ۔ مگر تیری عورت رہے گی پیچھے رہنے والوں میں

حل لغات :۔ (رنجیدہ اور تنگ دل ہوئے) محاورہ ہے ۔ یعنی لوط (علیہ السلام) نے فرشتوں کے آنے سے ایک قسم کی تکلیف اور الجھن محسوس کی ۔
Ayahs 29:34–35

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 29:34 in the Quran reader

ہمیں اس بستی والوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنا ہے ۔ کیونکہ وہ لوگ نافرمان ہیں

وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 29:35 in the Quran reader

اور ہم نے اس بستی سے ایک ظاہر نشان اہل عقل کے لئے چھوڑ رکھا (یعنی الٹ دیا) کہ سب دیکھ رہے ہیں

حل لغات :۔ رجز ۔ عذاب سختی ۔ تکلیف وارجوالیوم الاخر رجا کے معنے خوف اور امید دونوں کے ہیں
Ayah 29:36

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ۙ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 29:36 in the Quran reader

اور مدین (ف 1) کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا ۔ پھر بولا اے قول اللہ کی عبادت کرو اور آخری دن کی امید رکھو اور زمین میں فسادنہ کرتے پھرو

ایام اللہ 1: ان آیات میں تذکیر ایام اللہ کے تحت ہلاک شدہ قوموں کا ذکر ہے ۔ کہ کیونکر انہوں نے حق وصداقت کو ٹھکرایا ۔ اور کیونکر عذاب کے مستحق ٹھہرے ۔ ارشاد ہے کہ مدین والوں کے پاس ہم نے حضرت شعیب کو بھیجا ۔ انہوں نے کہا ۔ اے قوم ! ایک اللہ کی عبادت کرو ۔ توحید اصل دین ہے ۔ فطرت کا تقاضا ہے ۔ دل کی آواز ہے معقول اور صحیح حقیقت ہے ۔ اور یوم آخرت کے محاسبہ سے ڈرو ۔ کہ ایمان بالآخرت سے دلوں میں نیکی کی تحریص پیدا ہوتی ہے اور کفر اختیار کرکے زمین میں فساد نہ مچاؤ اس سے معلوم ہوتا ہے ۔ کفر بجائے خود تخریب ہے ۔ تباہی ہے اور ہلاکت ہے ۔ اور جو لوگ انبیاء کے پیش کردہ نظام کو نہیں مانتے وہ عالم کون ومکان کو غارت کردیئے میں براہ راست ممدومعان ہوتے ہیں ان لوگوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی آواز پر کان نہ دھرا ۔ اور روائتی بدبختی سے کام لیتے ہوئے ان کی تکذیب کی ۔ اور کفروشرک پر مصر رہے ۔ نتیجہ یہ ہوا ۔ کہ قیامت آخرین زلزلہ آیا اور عبرت بنا گیا ۔ پھر دیکھو ۔ کہ عاد اور ثمود کی بستیاں کس طرح الٹ گئیں شیطان نے ان کے اعمال کو سنوار کر پیش کیا ۔ اور راہ ہدایت سے روکا ۔ اور باوجود ہوشیار اور سمجھ دار ہونے کے اس کے اداؤں میں آگئے قارون کے حالات سنو ۔ کہ سرمایہ داری نے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی ۔ وہ دولت کے نشہ میں اس درجہ سرشعار ہوا کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو بالکل بھول گیا اور کہنے لگا کہ میرے مال میں ان کا کوئی حصہ نہیں ۔ میں نے اپنے خزائن دولت کو اپنی عقل و فراست سے پیدا کیا ہے ۔ اس میں اللہ کے فضل اور اس کی بخشش کو کوئی دخل نہیں ۔ اس لئے میں نہ تو اس کی راہ میں کچھ دینے کو تیار ہوں ۔ اور نہ اس کے دین کو مانتا ہو اسی طرح فرعون اور ہامان علوہ اقتدار کی خواہش میں اندھے ہوگئے اور ہرچند حضرت موسیٰ نے ان کے سامنے دلائل رکھے ان کو حق اور سچائی کی دعوت دی ۔ مگر انہوں نے تکبر و غرور کو نہ چھوڑا اور کسی طرح بھی بنی اسرائیل کو آزادی نہ دی
Ayahs 29:37–39

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘ Open ayah 29:37 in the Quran reader

سو انہوں نے اسے جھٹلایا ۔ پھر ان کو بھونچال نے آپکڑا پھر صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ Open ayah 29:38 in the Quran reader

اور عاد اور ثمود کو ہلاک کیا ، اور (اے اہل مکہ) ان کے بعض گھر (یعنی کھنڈرات) تمہارے سامنے ظاہر ہیں ۔ اور ان کے اعمال شیطان نے ان کے لئے مزین کئے تھے ۔ پھر انہیں راہ سے روکا تھا اور حالانکہ اپنے گمان میں وہ دانشمند تھے

وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ١۫ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚۖ Open ayah 29:39 in the Quran reader

اور قارون اور فرعون اور ہامان کو (ہلاک کیا) اور موسیٰ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آیا ۔ سو وہ زمین میں غرور کرنے لگے ۔ اور ہم سے جیت جانے والے نہ تھے

حل لغات الرجفتہ زلزلہ ۔ کپکپی
Ayah 29:40

فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا١ۚ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 29:40 in the Quran reader

پھر ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ میں پکڑا ۔ سو ان میں بعض پر ہم نے پتھر برسا نے والی ہوا بھیجی اور کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور کسی کو ہم نے غرق کیا ۔ اور خدا ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم (ف 1) کرے ۔ لیکن وہ اپنی جانوں پر آپ ظلم کرتے (ف 2) تھے

ف 1: اس لئے ان حالات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا انتقام بھڑکا ۔ اور ان سب کو فنا کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ بعض پر پتھر برسے اور بعض کو چیخ اور شدید آواز نے موت کی نیند سلادیا ۔ بعض زمین میں دھنس گئے ۔ اور بعض پانی میں ڈوب گئے ۔ اللہ عذاب کو پسند نہیں کرتا 1: وماکان اللہ یطبھم سے مقصود یہ ہے کہ اللہ کا عذاب اس طرح نہیں آتا ۔ کہ وہ یونہی بلا کسی عذر اور وجہ کے غیض وغضب سے بےتاب ہوجائے ۔ اور اپنے بندوں کو ہلاک کردے ۔ بلکہ ہوتا یہ ہے ۔ کہ جب بندے اس کی مہربانیوں کو ٹھکرادیتے ہیں ۔ اس کے پیغام محبت و شفقت کو نہیں مانتے ۔ جب وہ بلاتا ہے ۔ اور یہ اکڑتے ہیں ۔ جب وہ فضل وکرم سے نوازنا چاہتا ہے ۔ تو یہ اپنے لئے غضب اور ناراضگی کو پسند کرتے ہیں جب وہ جنت کے دروازوں کو دا کرتا ہے ۔ اور یہ جہنم کی طرف دوڑتے ہیں ۔ وہ انہیں باقی رکھنا چاہتا ہے ۔ اور یہ فنا کی طرف لپکتے ہیں ۔ اور جب وہ انہیں دنیا کی سرداری بخشنا چاہتا ہے ۔ تو یہ ذلت ورسوائی اختیار کرتے ہیں ۔ تو اس وقت اس کا قاعدہ ہے ۔ کہ ایسے ناشکروں اور نااہلوں سے زمین کو پاک کردیا جائے ۔ ورنہ اس سے زیادہ رحیم اور کون ہوسکتا ہے ؟ جس نے کہ ان کو پیدا کیا خلعت وجود بخشا ۔ زندگی عنایت کی ۔ اور کائنات کو ان کی خدمت پر مامور کردیا ۔ کیا یہ سارے انتظامات اس نے محض اس لئے کئے ہیں کہ اپنے بندوں کو یونہی غصہ میں آکر ہلاک کردیے ۔ نہیں وہ قطعاً نہیں چاہتا ۔ کہ اس کے بندے فنا اور عذاب کی آغوش میں جائیں ۔ اسی لئے وہ پیغمبر بھیجتا ہے ۔ کتابیں نازل کرتا ہے ۔ معجزات اور خوارق سے ان کو ہوش میں لانے کی کوشش کرتا ہے ۔ تاکہ وہ سمجھیں ۔ اور اللہ کے پیغام کو عقیدت سے سنیں ۔ اور دنیا وعقبے کی نعمتوں سے بہرہ وار ہوں ۔ مگر جب یہ لوگ باوجود ان خواز اشہائے بیحد کی گمراہی پر قائم ہوں ۔ تو پھر سوائے ہلاکت کے اور کیا طرز عمل موزوں ہوسکتا ہے ۔ حل لغات :۔ حاصباً ۔ حصباء سے ہے یعنی پتھروں کی بارش ۔