Explained with ayahs 8–9
انسان کا وجود
پہلے اپنی توحید پر مضبوطی کے ساتھ کاربند رہنے کا حکم فرما کر اب ماں باپ کے سلوک واحسان کا حکم دیتا ہے۔ کیونکہ انہی سے انسان کا وجود ہوتا ہے۔ باپ خرچ کرتا ہے اور پرورش کرتا ہے ماں محبت رکھتی ہے اور پالتی ہے۔ دوسری آیت میں فرمان ہے آیت (وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا 23) 17۔ الإسراء :23) اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماچکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کی پوری اطاعت کرو۔ ان دونوں یا ان میں سے ایک کا بڑھاپے کا زمانہ آجائے تو انہیں اف بھی نہ کہنا ڈانٹ ڈپٹ تو کہاں کی ؟ بلکہ ان کے ساتھ ادب سے کلام کرنا اور رحم کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
سورة العنکبوت 11
اس آیت کے متعلق مسلم، ترمذی، احمد، ابوداؤد اور نسائی کی روایت ہے کہ یہ حضرت سعد بن ابی وقاص کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ وہ 18۔ 19 سال کے تھے جب انہوں نے اسلام قبول کیا، ان کی ماں حمنہ بنت سفیان بن امیہ (ابو سفیان کی بھتیجی) کو جب معلوم ہوا کہ بیٹا مسلمان ہوگیا ہے تو اس نے کہا کہ جب تک تو محمد کا انکار نہ کرے گا میں نہ کھاؤں گی نہ پیوں گی، نہ سائے میں بیٹھوں گی، ماں کا حق ادا کرنا تو اللہ کا حکم ہے، تو میری بات نہ مانے گا تو اللہ کی بھی نافرمانی کرے گا۔ حضرت سعد اس پر سخت پریشان ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر ماجرا عرض کیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ممکن ہے کہ ایسے ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اور (اس کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا ہے کہ) اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا زور ڈالیں کہ تو ایسی چیز کو میرا شریک ٹھہرائے جس (کے معبود ہونے) کی کوئی (صحیح) دلیل تیرے پاس نہیں ہے، (اور ہر چیز ایسی ہی ہے کہ کل اشیاء کے ناقابل عبادت ہونے پر دلائل قائم ہیں) تو (اس باب میں) ان کا کہنا نہ ماننا، تم سب کو میرے پاس لوٹ کر آنا ہے سو میں تم کو تمہارے سب کام (نیک ہوں یا بد) جتلا دوں گا اور (تم میں) جو لوگ ایمان لائے ہوں گے ہم ان کو نیک بندوں (کے درجہ) میں (جو کہ بہشت ہے داخل کردیں گے (ور اسی طرح اعمال بد پر ان کے مناسب سزا دیں گے،…
Read the full tafseer →ووصینا الانسان بوالدیۃ حسناء وان جاھدک لتشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعھما ط الی مرجعکم فانبئکم بما کنتم تعملون (8)
اوپر کی آیات میں جس آزمائش کا ذکر ہوا ہے اس میں ایک بڑا حصہ اس آزمائش کا بھی تھا جو اسلام لانے والے نوجوانوں کو اپنے کافر باپوں اور سرپرستوں کے ہاتھوں پیش آئی۔ باپ ماں کے حقوق چونکہ ہر دین میں مسلم رہے ہیں اس وجہ سے اس حق سے باپوں نے بسا اوقات بہت غلط فائدہ اٹھایا ہے کہ اپنے حق کے نام پر انہوں نے اپنی اولاد کو خدا کے حقوق سے روکنے کی کوشش کی ہے اور اس کوشش میں انہوں نے ظلم و ستم سے بھی دریغ نہیں کیا ہے۔ اس کی مثلالیں ہر دعوت حق کی تاریخ میں موجود ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ پر جو کچھ ان…
Read the full tafseer →8-1قرآن کریم کے متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید و عبادت کا حکم دینے کے ساتھ والدین کے ساتھ جس سلوک کی تاکید کی ہے۔ جس سے اس امر کی وضاحت ہوتی ہے کہ ربوبیت (اللہ واحد) کے تقاضوں کو صحیح طریقہ سے وہی سمجھ سکتا ہے اور انھیں ادا کرسکتا ہے جو والدین کی اطاعت و خدمت کے تقاضوں کو سمجھتا اور ادا کرتا ہے۔ جو شخص یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ دنیا میں اس کا وجود والدین کی باہمی قربت کا نتیجہ اور ان کی تربیت و پرداخت، ان کی نہایت مہربانی اور شفقت کا ثمرہ ہے۔ اس لئے مجھے ان کی خدمت میں کوئی کوتاہی اور ان کی اطاعت سے سرتابی نہیں کرنی چاہیے اور یقینا خالق کائنات کو سمجھنے اور اس کی توحید و عبادت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
3: اس آیت نے یہ اصول بتادیا ہے کہ اگر والدین کافر ہوں، تب بھی ان کے ساتھ عام برتاؤ میں نیک سلوک کرنا چاہیے اور ان کی توہین یا ان کو تکلیف پہنچانا مسلمان کا کام نہیں ہے لیکن اگر وہ کفر و شرک پر مجبور کریں تو ان کا کہا ماننا جائز نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ووصینا الانسان بوالدیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ فی الصلحین (8 – 9)
والدین ، تمام اقرباء میں سے قریب تر اور زیادہ قابل احترام ہوتے ہیں ، ان کے حوالے سے اولاد کو مجسم شفقت بن جانا چاہئے اور ازروئے شریعت ان پر رحم اور ان کا احترام فرض کیا گیا ہے۔ ان کے ساتھ محبت کا طریقہ یہ ہے کہ ان کا احترام کیا جائے ، اور ان کی اچھی طرح کفالت اور دیکھ بھال کی جائے ، لیکن ان کو یہ حق نہیں دیا گیا کہ اللہ کے حقوق مار کر ان کو دئیے جائیں اور ان کی اطاعت اس طرح کی جائے کہ اللہ کی نافرمانی لازم آتی ہو یہ ہے صحیح راستہ۔
ووصینا الانسان ۔۔۔۔۔۔ فلا تطعھما (29: 8) ” ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک
سلوک کرے لیکن اگر…
Read the full tafseer →5 یعنی تمام کائنات میں ایسی کوئی چیز ہے ہی نہیں جو خدا کی شریک ہو سکے۔ پھر اس کی خبر کسی کو کہاں سے ہوئی۔ جو لوگ شرکاء ٹھہراتے ہیں محض جاہلانہ اوہام اور بےسند خیالات کی پیروی کر رہے ہیں۔ واقعہ کی خبر انھیں کچھ بھی نہیں۔
6 دنیا میں ماں باپ سے زیادہ حق کسی کا نہیں۔ پر اللہ کا حق ان سے زیادہ ہے۔ ان کی خاطر دین نہ چھوڑے۔ (موضح) حدیث میں ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص کی والدہ نے جو مشرکہ تھی بیٹے کے اسلام کی خبر سن کر عہد کیا کہ دانہ پانی کچھ نہ چکھوں گی نہ چھت کے نیچے آرام کروں گی، تاوقتیکہ سعد (معاذ اللہ) اسلام سے نہ پھرجائے چناچہ کھانا پینا ترک کردیا اور بالکل نڈھال ہوگئی۔ لوگ زبردستی منہ چیر کر…
Read the full tafseer →آیت 8 وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حُسْنًا ط ”
مکہ کے مذکورہ حالات میں اسلام قبول کرنے والے بہت سے نوجوانوں کے لیے اپنے والدین کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بھی ایک بہت سنجیدہ مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔ ایک طرف قرآن کی یہ ہدایت تھی کہ انسان اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرے اور ان کی نافرمانی نہ کرے۔ دوسری طرف ایمان لانے والے بہت سے نوجوان عملی طور پر اپنے والدین سے بغاوت کے مرتکب ہو رہے تھے۔ چناچہ ایسے تمام نوجوان اخلاقی اور جذباتی طور پر شدید دباؤ کا شکار تھے۔ مشرک والدین کا ان سے تقاضا تھا کہ تم ہماری اولاد ہو ‘ ہم نے پال پوس کر تمہیں بڑا کیا ہے ‘ لہٰذا تم پر لازم ہے کہ ہمارا…
Read the full tafseer →10 اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر اپنے حقوق کے بعد متصلا " والدین کے حقوق اور ان سے بہتر سلوک کا ذکر فرمایا ہے۔ جس سے اس مسئلہ کی اہمیت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ تفصیل کے لئے سورة بنی اسرائیل کی آیت نمبر 23 کا حاشیہ 25
11 یعنی تمام کائنات میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو اللہ کی شریک ہوسکے۔ اور اللہ کی اپنی شہادت بھی یہی ہے کہ وہ اللہ جو کائنات کا ایک ایک چیز کا ذرہ ذرہ بھر تک علم رکھتا ہے۔ اس کے علم میں بھی کوئی چیز نہیں جو اس کی شریک ہو۔ تو پھر تجھے یا کسی دوسرے کو کیا علم ہوسکتا ہے اور اس آیت میں لَکَ کا لفظ محض تاکید مزید کے طور پر ہے اور جو لوگ بعض اشیاء یا ہستیوں کو اللہ کا شریک قرار دیتے ہیں تو…
Read the full tafseer →9۔ والدین کی اطاعت کا حکم تو قرآن میں عام ہے، بار بار آیا ہے۔ اس خاص آیت سے متعلق واقعہ نزول صحیح مسلم وجامع ترمذی دونوں میں یہ منقول ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص جب ایمان لے آئے تو ان کی مشرک والدہ بہت ہی ناخوش ہوئیں اور قسم کھا کر کہا کہ میں کھانا چھوڑتی ہوں اور چھوڑے رہوں گی جب تک تو اسلام ترک نہ کرے گا۔ یہ گویا تاریخ میں پہلی مثال بھوک ہڑتال (بلکہ بھوک اور پیاس ہڑتال) کی تھی۔ اس پر آیت نازل ہوئی اور ارشاد ہوا کہ ایسی باتوں میں والدین کی اطاعت نہیں۔ (آیت) ” لیس لک بہ علم “۔ علم سے مراد دلیل، شہادت یا ثبوت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 13
ترجمہ : الم اس کی مراد تو اللہ ہی کو معلوم ہے کیا ان لوگوں نے یہ گمان کررکھا ہے کہ ان کے صرف یہ کہنے پر کہ ہم ایمان لائے ہم انہیں آزمائے بغیر چھوڑدیں گے ان کو ایسی چیزوں سے آزمایا جائے گا کہ جن سے ان کے ایمان کی حقیقت ظاہر ہوجائے، یہ ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جب وہ ایمان لائے تو مشرکین نے اذیت پہنچائی اللہ تعالیٰ ان سے پہلے والوں کو بھی آزما چکا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بھی جانچے گا جو اپنے ایمان میں سچے تھے مشاہدہ کے طور جانچنا اور ایمان کے بارے میں جھوٹوں کو بھی معلوم کے گا، کیا جو لوگ برائیاں یعنی شرک اور معاصی کررہے ہیں یہ سمجھتے ہیں…
Read the full tafseer →ووصینا الانسان بوالولدیہ حسنا . اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کی نصیحت
کی (حکم دیا) ۔
وصیت کا معنی ہے کسی سے نصیحت آمیز بات کہنا۔ وَصَّیْنَا یعنی ہم نے حکم دیا۔ حُسْن سے مراد ہے ایسا کام جس میں بھلائی ہو۔ حسن مصدر ہے (اگر کسی عمل میں انتہائی خوبی ہو اتنی کہ گویا وہ مجسم حسن ہوجائے اس پر حسن کا اطلاق مبالغتہ کردیا جاتا ہے) اسی جگہ بطور مبالغہ ہی حسن کو حسن فرمایا ہے۔ مراد ہے فرمانبردار ‘ اطاعت ‘ مہربانی۔ مسلم ‘ ترمذی ‘ بغوی ‘ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص کی روایت سے بیان کیا ہے (حضرت سعد بن ابی وقاص عشرہ مبشرہ میں سے تھے ‘ سابقین اولین میں تھے ‘ اپنی…
Read the full tafseer →(8) اور ہم نے انسان یعنی حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کو اپنے والدین یعنی مالک اور حمنۃ بنت ابی سفیان کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا زور ڈالیں کہ تو ایسی چیز کو میرا شریک ٹھہرا کہ جس کے شریک ہونے کے بارے میں تیرے پاس کوئی دلیل نہیں اور تجھے معلوم ہے کہ میرا کوئی شریک نہیں تو اس شرک میں ان کا کہنا نہ مان، انکے والدین مشرک تھے۔ تم سب کو میرے پاس لوٹ کر آنا ہے میں تمہارے سب کام بتا دوں گا کفر و ایمان نیکی اور برائی۔
Read the full tafseer →وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْـنًا : اللہ پر ایمان اور عمل صالح کی تلقین اور اس کی فضیلت بیان کرنے کے بعد ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا، کیونکہ انھی سے انسان کا وجود ہوتا ہے، باپ خرچ کرتا اور پرورش کرتا ہے، جبکہ ماں دودھ پلاتی اور پالتی ہے۔ قرآن مجید میں عموماً اللہ کے حق کے بعد والدین کا حق بیان ہوا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا ۭ اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَآ اَوْ كِلٰـهُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّهُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا) [ بني إسرائیل : 23 ]…
Read the full tafseer →یہ آیت حضرت سعد بن ابی وقاص کے بارے میں نازل ہوئی (1) ۔ امام ترمذی نے اس بارے میں روایت کی ہے : فرمایا : میرے بارے میں چار آیات نازل ہوئیں۔ اور واقعہ ذکر کیا حضرت سعد کی والدہ نے کہا : کیا اللہ تعالیٰ نے نیکی کا حکم نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ کی قسم : میں کھانا نہیں کھائوں گی اور میں پانی نہیں پیوں گی یہاں تک کہ میں مر جائو یا تو کفر کرے۔ کہا : جب لوگ اس کو کھانا کھلانے کا ارادہ کرتے تو اس کے منہ میں لکڑی دیتے تو یہ آیت نازل ہوئی۔
ابو عیسیٰ نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے (2) حضرت سعد سے مروی ہے کہ میں اپنی ماں کے ساتھ بڑی نیکی کرتا میں اسلام لایا تو اس نے کہا : تو اپنے دین کو چھوڑے گا یا میں نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید
1۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ میری ماں نے کہا کہ میں اس وقت تک نہ کھاؤں گی نہ پیوں گی یہاں تک کہ تو محمد ﷺ کا انکار کردے چناچہ وہ کھانے پینے سے رک گئی یہاں تک کہ لوگوں نے اس کے منہ کو لاٹھی سے بھرنا شروع کردیا تو یہ آیک آیت نازل ہوئی آیت ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا وان جاہداک لتشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعہما اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساستھ بھلائی کرنے کی نصیحت کی اور اگر وہ دونوں تم پر زور دے کر کہیں کہ تو میرے ساتھ ان چیزوں کو شریک قرار دو کہ جن کا تمہیں کوئی علم نہیں تو ان کا کہنا نہ ماننا۔
2۔ عبد بن…
Read the full tafseer →وَوَصَّيْنَا [اور ہم نے تاکید کی ] الْاِنْسَانَ [انسان کو ] بِوَالِدَيْهِ [اس کے والدین کے بارے میں ] حُسْـنًا ۭ [بھلائی کی ] وَاِنْ [اور اگر ] جَاهَدٰكَ [د دونوں کشمکش کریں تجھ سے ] لِتُشْرِكَ [کہ تو شریک کرے ] بِيْ [میرے ساتھ ] مَا [اس کو ] لَيْسَ [نہیں ہے ] لَكَ [تیرے لئے ] بِهٖ [جس کے بارے میں ] عِلْمٌ [کوئی علم ] فَلَا تُطِعْهُمَا ۭ [تو کہنا مت مان ان دونوں کا ] اِلَيَّ [میری طرف ہی ] مَرْجِعُكُمْ [تم لوگوں کو لوٹنا ہے ] فَاُنَبِّئُكُمْ [پھر میں جتا دوں گا تم لوگوں کو ] بِمَا [وہ جو ] كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ [تم لوگ کیا کرتے تھے ] ۔
نوٹ۔ 1: ماں باپ کے حقوق چونکہ ہر دین میں مسلم ع ہے ہیں…
Read the full tafseer →والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم
یہ دو آیتوں کا ترجمہ ہے، پہلی آیت میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے انسان کو وصیت کی کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے، حسن سلوک کے ساتھ پیش آئے، سورة بنی اسرائیل رکوع 3 میں اس کا طریقہ کار بھی بیان فرمایا ہے، وہاں ارشاد فرمایا : (وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِیَّاہُ وَ بالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُھُمَآ اَوْ کِلٰھُمَا فَلَا تَقُلْ لَّھُمَآ اُفٍّ وَّ لَا تَنْھَرْ ھُمَا وَ قُلْ لَّھُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا وَ اخْفِضْ لَھُمَا جَنَاح الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا اَبَّیٰنِیْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
تنبیہ اہل ایمان برحکمت اہل شدائد وآفات زمان کہ آں تمیز مخلص
ومنافق است وتشجیع اہل ہدایت بر صبرواستقامت وتشنیع اہل ضلالت وغوایت
قال اللہ تعالیٰ الم احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا۔۔۔ الی۔۔۔ ولیسئلن یوم القیمۃ عما کانوا یفترون۔
(شان نزول) ایک دن آنحضرت ﷺ کعبہ کی دیوار سے تکیہ لگائے سایہ میں بیٹھے تھے تو بعض صحابہ نے مشرکین کی شکایت کی کہ وہ ہمیں طرح طرح سے ایذائیں پہنچا رہے ہیں آپ ﷺ ہمارے لئے دعا کریں کہ کافروں کا یہ ظلم وستم ہم سے ٹل جائے یہ سن کر آپ ﷺ ناراض ہوئے اور فرمایا کہ تم سے پہلے گزشتہ دینداروں کے سر آروں سے چیرے گئے اور ان کے دو ٹکڑے کئے گئے مگر وہ اپنے دین سے نہیں ہٹے اور بعضوں…
Read the full tafseer →6:۔ اے ایمان والو ! مسئلہ توحید کی وجہ سے تم پر کئی آزمائشیں آئیں گی۔ یہ ایک نہایت اہم اور عظیم الشان دعوی ہے یہی وجہ ہے کہ ایک طرف تو ہم نے تمہیں حکم دیا کہ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ اور ساتھ ہی حکم دیا ہے کہ توحید پر قائم رہو۔ لیکن اگر تمہارے ماں باپ مشرک ہوں اور تمہیں شرک کرنے پر مجبور کریں اور تمہارے انکار پر تمہیں تکلیف و اذیت پہنچائیں تو اس معاملے میں ان کی اطاعت ہرگز نہ کرنا اور ہر قسم کی تکلیف و اذیت کو استقلال سے برداشت کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
ربط آیات
اس سورة کا ایک خصوصی موضوع ابتلاباایمان ہے ، یعنی جہاں ایمان ہوگا وہاں آزمائش بھی آئیگی ، چناچہ ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اسی بات کی وضاحت کی ہے کہ لوگوں کو صرف ایمان کا اقرار کرنے کی بناء پر چھوڑ نہیں دیا جائے گا بلکہ ان کی آزمائش بھی ہوگی ، اور اس امتحان میں کامیابی ہی ان کا اصل کامیابی کی بنیاد ہوگی ، پھر اللہ نے ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کا ذکر فرمایا اور اس کے بہتر اجر کی نوید سنائی۔ اس ضمن میں اللہ نے صبر و استقامت اور برداشت کی تلقین فرمائی ہے کہ ان چیزوں کے بغیر کامیابی ممکن نہیں ہے۔
والدین سے حسن سلوک
اس اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید…
Read the full tafseer →وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْہِ حُسْـنًا 0ۭ وَاِنْ جَاہَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِيْ مَا لَيْسَ لَكَ بِہٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْہُمَا 0ۭ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 8
وصی
الوَصِيَّةُ : التّقدّمُ إلى الغیر بما يعمل به مقترنا بوعظ من قولهم : أرض وَاصِيَةٌ: متّصلة النّبات، ويقال : أَوْصَاهُ ووَصَّاهُ. قال تعالی: وَوَصَّى بِها إِبْراهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ [ البقرة/ 132] وقرئ :
وأَوْصَى «2» قال اللہ عزّ وجلّ : وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتابَ [ النساء/ 131] ، وَوَصَّيْنَا الْإِنْسانَ [ العنکبوت/ 8] ، يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ […
Read the full tafseer →ترکیب : حسنا منصوب بوصیتنا وقیل محمول علی المعنی و التقدیر الزمناہ حسنا۔ والذین اٰمنوا مبتداء لندخلنہم خبر من یقول مبتداء من الناس خبر۔
تفسیر : ان اللہ لغنی عن العلمین میں فی الجملہ ایک تہدید سی تھی جس سے کم سمجھ لوگوں کے دل پر شبہ ہوتا تھا کہ پھر نیک کام کیا ہے ؟ اس لیے اس خیال کو رد کر کے فرمایا۔ والذین آمنوا و عملو الصٰلحت جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے۔ ہم بارہا بیان کر آئے ہیں کہ ایمان شروع میں جو کچھ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے، اس کو سچا جاننا اور ماننا ہے، جن میں سے اللہ کی ذات پاک اور اس کی صفات اور ملائکہ اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان…
Read the full tafseer →وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہٖ حُسْنًّا ط وَاِنْ جَاھَدٰ کَ لِتُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَـکَ بِہٖ عِلمٌ فَلاَ تُطِعْھُمَا ط اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاُنَبِّئُـکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (العنکبوت : 8)
(اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کی ہدایت کی ہے اور اگر وہ تجھ پر دبائو ڈالیں کہ تو کسی کو میرا شریک ٹھہرا جس کے بارے میں تجھے کوئی علم نہیں تو ان کی اطاعت نہ کر، میری ہی طرف تم سب کو پلٹ کر آنا ہے پھر میں تم کو بتادوں گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔ )
اللہ تعالیٰ اور والدین کے حقوق میں کلمۃ الفصل
گزشتہ آیات میں مسلمانوں کی جن آزمائشوں کا ذکر ہوا ہے اور جس میں ثبات و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں نیک اعمال کا ذکر ہوا۔ یہاں یہ بتلایا کہ اچھے اعمال میں بہترین عمل والدین کے ساتھ بھلائی کرنا اور شرک سے اجتناب کرنا ہے۔
صالح اعمال میں سب سے بڑا عمل۔ اللہ تعالیٰ کو ہر اعتبار سے وحدہٗ لاشریک سمجھنا اور اس کی خالص عبادت کرنا ہے۔ اس کے بعد دوسرا صالح عمل والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہے۔ قرآن مجید کے کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے بعد انسان کو جو حکم دیا کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتے ہوئے ” احسان “ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ یہ لفظ عبادت کے بارے میں استعمال ہو تو اس کا معنی ہے کہ کامل توجہ کے ساتھ اللہ…
Read the full tafseer →8: وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حُسْنًا (اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کی نصیحت کی) وصّی اس نے حکم دیا۔ امر کا معنی اور استعمال بھی اسی معنی میں ہوتا ہے۔ جیسے کہتے ہیں۔ وصیت زیدًا بان یفعل خیرا۔ جیسا کہ کہتے ہیں امرت زیدًا بان یفعل خیرًا۔ اس ارشاد میں بھی یہی معنی ہے۔ ووصی بہا ابراہیم بنیہ۔ ] البقرہ۔ 132[ ہم نے ان کو کلمہ توحید کی وصیت کی اور اس کا حکم دیا۔
باقی اس مقولہ کا مطلب وصیت زیدا بعمرو۔ میں نے اس کو وصیت کی کہ عمرو کا خیال و دھیان رکھے اور اس کی نگرانی کرے وغیرہ اور اسی طرح کا معنی اس ارشاد میں ہے۔ ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا اور ہم نے اس کو وصیت کی کہ…
Read the full tafseer →8۔ ووصیناالانسان بوالدیہ حسنا، ، ان دونوں کے ساتھ نیکی کرنے کی وصیت فرمائی۔ معنی یہ ہوگا کہ ہم نے انسان کو یہ وصیت کی ہے کہ وہ والدین کے ساتھ وہی سلوک کرے جیسا کہ اس ک والدین نے اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا۔
آیت ووصیناالانسان بوالدیہ، کا شان نزول۔
اس آیت کا نزول اور سو رہ لقمان کی آیت کا نزول اور احزاب کی آیت کا نزول سعد بن ابی وقاص سے بیان کیا گیا کہ سعد بن مالک اور ان کی ماں حمنہ بنت ابی سفیان بن عبدالشمس، نے کہا تونے یہ کیا نئی بات نکال رکھی ہے جب تک تو اس کا انکار نہیں کرے گا، اس وقت بخدا میں نہ کھانا کھاؤں گی اور نہ پانی پیوں گی، یہاں تک کہ یونہی مرجاؤں گی۔ دوسری روایت میں آتا ہے کہ جب تک اس…
Read the full tafseer →8۔ صحیح مسلم ترمذی وغیرہ میں حضرت سعد بنابی وقاص ؓ کی روایت 1 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب حضرت سعد ؓ نے اسلام قبول کیا تو انکی ماں نے ان کو اسلام سے باز رکھنے کے ارادہ سے کھانا پینا چھوڑ دیا کئی روز تک کھانا نہیں کھایا اور یہی کہتی تھیں کہ جب تک سعد تم اپنا قدیمی دین اختیار نہ کرو گے میں کھانا نہ کھاؤں گی حضرت سعد ؓ نے جواب دیا کہ میری ماں اگر ہزار دفعہ بھی مر کر جیوے گی اور پھر مرے گی جب بھی میں اسلام سے ہزگز نہ پھروں گا ان ماں بیٹوں کے جھگڑے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرما دیا کہ اگرچہ ماں باپ کا حق بہت بڑا ہے لیکن جس اللہ نے ماں باپ اور…
Read the full tafseer →(8)
یعنی ہم نے انسان کو حکم دیا اور اس کو وصیت کی ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے یعنی وہ اپنے قول و فعل میں والدین کی نافرمانی کرے نہ ان کے ساتھ برا سلوک کرے (وان جاہدک یتشرک بی مالیس لک بہ علم) اور اگر وہ (والدین) دونوں تیرے در پے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک بنائے جب کہ حقیقت سے تجھے واقفیت نہیں۔ “ اور کسی کے پاس شرک کی صحت پر کوئی دلیل نہیں۔ اس آیت کریمہ میں شرک کے معاملے کی اہمیت کی بنا پر یہ اسلوب اختیار کیا ہے۔ (فلا تطعھما الی مرجعکم فانبکم بما کنتھ تعملون) تو ان کا کہنا نہ ماننا، تم سب کو میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے، پھر جو کچھ تم کرتے تھے میں تم کو بتاؤں گا۔ پس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–44
سورة العنکبوت
مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو
قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
6 خالق کی اطاعت سب سے مقدم اور سب پر فائق : سو والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم و تلقین کے سلسلے میں اس بات کی بھی تصریح فرما دی گئی کہ اگر وہ تمہیں میرے ساتھ شرک پر مجبور کریں تو ان کی یہ بات کبھی نہیں ماننی۔ سو اس سے اس اصول کو واضح فرما دیا گیا کہ خالق کی نافرمانی کرکے مخلوق کی اطاعت و فرمانبرداری جائز نہیں۔ اور ظاہر ہے کہ پوری کائنات میں ایسی کوئی چیز ہے ہی نہیں جو اس کی شریک ہو سکے۔ تو پھر اس کے بارے میں علم کا کیا سوال ؟ سو یہ تعلیق بالمحال کے قبیل سے ہے۔ پس مطلب یہ ہوا کہ میرے ساتھ کسی بھی چیز کو کسی بھی حال میں شریک ٹھہرانا جائز نہیں۔ سو ماں باپ کی ہر بات مانی جائے مگر ان کے کہنے پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
اچھے لوگوں کی صفات اور اللہ کے احکامات
تشریح : یہاں والدین کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا ہے مگر ساتھ ہی وضاحت کردی گئی کہ اللہ کو وحدہ ‘ لا شریک ماننا اتنا ضروری ہے کہ والدین اگر ایمان باللہ سے منع کریں اور شرک کا حکم دیں تو ان کی بات مت مانو۔ اور پھر یقین رکھو اللہ پر اتنا مضبوط کہ منافقین اور کفار کی کوئی بات کوئی لالچ تمہیں اس سے پھیر نہ سکے یاد رکھو اللہ ہر بات جانتا ہے۔ ہر شخص کے اعمال کی اسے خبر ہے اور قیامت کے دن سب معاملات بڑے انصاف سے نمٹا دیے جائیں گے۔ اور دنیا میں بھی برے لوگ عذاب سے بچ نہیں سکتے جیسا کہ پچھلی قوموں کا انجام سب کے سامنے ہے۔ مثلاً سب سے پہلے تاریخی واقعہ سیدنا نوح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
آیات 1 تا 13
اسرارو معارف
راہ حق میں آزمائش :
راہ حق میں مصیبت سے گھبرانا درست نہیں کیا لوگوں کا یہ گمان ہے کہ صرف یہ کہ دینے سے کہ ہم مومن ہیں وہ چھوٹ جائیں گے اور ان پر کوئی آزمائش نہ آئے گی یقینا آزمائش ضرور آئے گی بلکہ ان سے پہلی ساری امتوں کو آزمایا گیا اور اللہ نے کھرے اور کھوٹے سچے اور جھوٹے کو الگ الگ ثابت کردیا۔ آج کے مسلمان کا جو خیال ہے کہ کوئی ایسا راستہ ہو کہ اسلام پر بھی کاربند رہا جائے اور کافر بھی ناراض نہ ہوں اور کوئی مصیبت بھی کھڑی نہ کردیں یہ خیال خام ہے جو بھی حق پر عمل پیرا ہوگا اس کی آزمائش ضرور ہوگی ہاں کفار یہ نہ جان لیں کہ وہ برای کر کے اللہ کی گرفت سے بچ جائیں گے ان…
Read the full tafseer →3 ۔ یعنی ان کی خدمت کرے اور ان سے عاجزی سے پیش آئے۔ (دیکھئے سورة اسرا آیت 23 ۔ 24) 4 ۔” یعنی جس کے شریک ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ “ بھلا شرک پر دلیل کیسے ہوسکتی ہے۔ یہ تو وہم پرستی اور اندھی تقلید سے وجود میں آیا ہے۔ 5 ۔ اس لئے کہ خالق کی معصیت میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں ہے۔ ماں باپ ہوں یا کوئی اور سب کی اطاعت اس صورت میں ہے جب ان کا حکم اللہ و رسول ﷺ کے حکم کے مطابق ہو یا کم از کم اس کے خلاف نہ ہو۔ مروی ہے کہ یہ آیت حضرت سعد ؓ بن ابی وقاص کے بارے میں نازل ہوئی۔ جب وہ اسلام لائے تو ان کی والدہ نے کہا : ” کیا اللہ نے تمہیں ماں سے نیک سلوک کرنے کا حکم نہیں دیا ؟ اللہ کی قسم جب تک تم محمد (ﷺ)…
Read the full tafseer →(29:8) وصینا۔ ماضی جمع متکلم۔ وصی یوصی توصیۃ (تفعیل) حکم دینا۔ وصینا ای امرنا ہم نے حکم دیا۔ ہم نے ہدایت کی۔ الوصیۃ کے اصل معنی ہیں کہ واقعہ پیش آنے سے قبل کسی کو ناصحانہ انداز میں ہدایت کرنا۔ وصی ب ۔ کسی کام کا عہد لینا کسی کام کا اشارہ کرنا۔ وصی الی فلان کسی کو اپنے مال اور بال بچوں پر اپنے مرنے کے بعد وصی بنانا اور وصی فلان بولدہ مہربان بنانا۔ پس وصینا الانسان بوالدیہ حسنا ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ مہربان رہنے کا حکم دیا۔
والدیہ اسم فاعل تثنیہ۔ مضاف ہ ضمیر واحد مذکر غائب مضاف الیہ۔ اصل میں والدین تھا نون بوجہ اضافت کے ساقط ہوگیا۔ اس کے ماں باپ۔
جاھداک۔ جاھدا ماضی تثنیہ مذکر غائب۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
لغات القرآن : آیت نمبر 8 تا 13 :
وصینا ( ہم نے وصیت کی۔ ہم نے حکم دیا) جاھدا (دونوں نے کوشش کی) ‘ لاتطع ( کہنا مت مان۔ اطاعت نہ کر) انبی ( میں بتاؤں گا) اوذی ( تکلیف دی گئی) صدور (صدر) سینے ‘ نحمل ( ہم اٹھائیں گے) اثقال (ثقل) بوجھ ‘ یسئلن ( وہ ضرور سوال کئے جائیں گے) ۔
تشریح : آیت نمبر 8 تا 13 :
کفر ‘ شرک اور منافقت اور بدترین خصلتیں اور عادتیں ہیں جن کی بدترین سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ اللہ کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک کرنے والا مشرک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ ” بیشک اللہ اس بات کو معافر نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے۔ اور اس کے علاوہ وہ جس گناہ کو چاہے معاف…
Read the full tafseer →ماں باپ کی فرمانبرداری کا ذکر۔
(ف 1) شان نزول : جب حضرت سعد نے اسلام قبول کیا تو ان کی ماں نے کہا کہ تو نے کیا یہ نیاکام کیا جو محمد ﷺ کے دین کو اختیار کیا، خدا کی قسم اگر تو اس سے باز نہ آیا تو نہ میں کھاؤں نہ پیوں، یہاں تک کہ مرجاؤں، اور تیری ہمیشہ کے لیے بدنامی ہو اور تجھے ماں کا قاتل کہا جائے گا، پھر ان کی ماں نے فاقہ کیا اور شبانہ روز نہ کھایا اور نہ پیا، نہ سایہ میں بیٹھی، اس سے ضعیف ہوگئی پھر ایک دن اواسی طرح رہیں تب حضرت سعد اس کے پاس آئے اور آپ نے اس سے فرمایا کہ اے ماں اگر تیری سوجانیں ہوں اور ایک ایک کرکے سب ہی نکل جائیں تو بھی اپنا دین اسلام چھوڑنے والا نہیں۔ تو چاہے کھا چاہے مت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
[3] مکہ میں جو نوجوان ایمان لائے تھے ان کے والدین ایمان سے باز رہنے کے لئے ان پر زور ڈال رہے تھے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ گویا بتلا دیا کہ والدین کا خلاف حق پر مجبور کرنا یہ بھی ایک آزمائش ہے اور مومن کو چاہئے کہ ان کی خاطر دین کو نہ چھوڑے۔ دنیا میں ماں باپ سے زیادہ کسی کا حق نہیں لیکن اللہ کا حق ان سے زیادہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ف 2: یعنی والدین کی اطاعت مذہب اور دین کا اہم جزو ہے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے اور ہر حالت میں انکا احترام کرے بجز اس صورت کے کہ وہ شرک ، بدعت کی باتوں پر آمادہ کریں ۔
حل لغات : وصینا ۔ توصیہ کے معنی تاکید کے ساتھ کسی بات کو کہنا ہے ۔
Read the full tafseer →8۔ اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اور اگر وہ دونوں ماں باپ تجھ پر اس بات کا زور ڈالیں کہ کسی ایسی چیز کو میرا شرک بنا اور شریک ٹھہراجس کے معبود ہو نیکی کوئی صحیح دلیل تیرے پاس نہیں ہے تو تو ان دونوں کا کہنا نہ مان اور شرک کرنے میں ان کی اطاعت نہ کر تم سب کو میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے اور تم سب کی بازگشت میری ہی طرف ہے پھر میں تم کو ان سب کاموں کی حقیقت سے آگاہ کر دوں گا اور بتلا دوں گا جو تم کیا کرتے تھے۔
حمنہ بنت ابی سفیان کے صاحبزادے سعد بن ابی وقاص کا واقعہ ہے کہ ان کے مسلمانہونے پر ان کی والدہ نے دھوپ میں بیٹھنا اختیار کیا اور کھانا پینا چھوڑ دیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ف 2۔ حاصل یہ ہوا کہ واقعہ بالا میں ماں کی عصیان سے وسوسہ گناہ کا نہ کیا جاوے۔
Read the full tafseer →والدین کے ساتھ نیک سلوک کی ہدایت اور شرک سے دور رہنے کا حکم :
8۔ رب کریم نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے ۔ ان کی خدمت اور دلجوئی میں کوشاں رہے ۔ اسی حسن سلوک کا ذکر قرآن کریم میں بار بار کیا گیا اور ہر بار حکم دے کر ارشاد فرمایا حکم دینے اور بات کرنے میں جو فرق ہے سب کو معلوم ہے ، پھر اس جگہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تائید کرنے کے بعد یہ بات بھی واضح کردی اگر والدین بھی اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ساتھ شرک کرنے کا حکم دیں تو یہ حکم ان کا نہیں مانا جاسکتا ۔ یہ بات صحیح ہے کہ والدین کے بڑے حقوق ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کا حق دنیا کے سارے حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
Commentary
وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ (And We have instructed man - 29:8). Wasiyyah (وَصِیَّۃ) means to call someone for some action, when the call is based on advice and well wishing. (Mazhari)
بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا (to do good to his parents - 29:8). The Word Husn (حُسن) is an infinitive which means ' to be good'. at is meant here is to adopt good behavior. The meaning of the sentence is quite clear that Allah Ta’ ala has advised man to treat his parents kindly.
وَإِن جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي (And if they insist upon you that you should ascribe partners to Me - 29:8). It should be taken…
Read the full tafseer →11 According to Muslim, Tirmidhi, Ahmad, Abu Da'ud and Nasa`i, this verse was Sent down in respect of Hadrat Sa`d bin Abi Waqqas. He was 18 or 19 years old when he embraced Islam. When his mother, Hamnah, daughter of Sufyan bin Umayyah (neice of Abu Sufyan), came to know that her son had become a Muslim, she said, "I will neither eat nor drink nor sit in shade unless you disown Muhammad. The rights of the mother are supermost even according to Allah's Command. Therefore if you disobey me, you will be disobeying Allah too." Hadrat Sa'd was perplexed and came before the Holy Prophet and told…
Read the full tafseer →