Explained with ayahs 5–7
نیکیوں کی کوشش
جنہیں آخرت کے بدلوں کی امید ہے اور اسے سامنے رکھ کر وہ نیکیاں کرتے ہیں۔ ان کی امیدیں پوری ہونگی اور انہیں نہ ختم ہونے والے ثواب ملیں گے۔ اللہ دعاؤں کا سننے والا اور کل کائنات کا جاننے والا ہے اللہ کا ٹھہرایا ہوا وقت ٹلتا نہیں۔ پھر فرماتا ہے ہر نیک عمل کرنے والا اپنا ہی نفع کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بندوں کے اعمال سے بےپرواہ ہے۔ اگر سارے انسان متقی بن جائیں تو اللہ کی سلطنت میں کوئی اضافہ نہیں ہوسکتا۔ حضرت حسن فرماتے ہیں جہاد تلوار چلانے کا ہی نام نہیں۔ انسان نیکیوں کی کوشش میں لگا ہے یہ بھی ایک طرح کا جہاد ہے۔ اس میں شک نہیں کہ تمہاری نیکیاں اللہ کے کسی کام نہیں آتیں لیکن بہر حال اس…
Read the full tafseer →سورة العنکبوت 10
ایمان سے مراد ان تمام چیزوں کو سچے دل سے ماننا ہے جنہیں تسلیم کرنے کی دعوت اللہ کے رسول اور اس کی کتاب نے دی ہے۔ اور عمل صالح سے مراد اللہ اور اس کے رسول کی ہدایت کے مطابق عمل کرنا ہے۔ دل و دماغ کا عمل صالح یہ ہے کہ آدمی کی فکر اور اس کے خیالات اور ارادے درست اور پاکیزہ ہوں۔ زبان کا عمل صالح یہ ہے کہ آدمی برائی پر زبان کھولنے سے بچے اور جو بات بھی کرے حق و انصاف اور راستی کے مطابق کرے۔ اور اعضا وجوارح کا عمل صالح یہ ہے کہ آدمی کی پوری زندگی اللہ کی اطاعت و بندگی میں اور اس کے احکام و قوانین کی پابندی میں بسر ہوں، اس ایمان و عمل صالح کے دو نتیجے بیان کیے گئے ہیں
ایک یہ کہ آدمی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
فَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا، یعنی ان امتحانات اور شدائد کے ذریعہ مخلص اور غیر مخلص اور نیک و بد میں ضرور امتیاز کریں گے۔ کیونکہ مخلصین کے ساتھ منافقین کا خلط ملط بعض اوقات بڑے نقصانات پہنچا دیتا ہے مقصد اس آیت کا نیک و بد اور مخلص و غیر مخلص کا امتیاز واضح کردینا ہے، جس کو اس طرح تعبیر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جان لے گا صادقین کو اور کا ذبین کو، اللہ تعالیٰ کو تو ہر انسان کا صادق یا کاذب ہونا اس کے پیدا ہونے سے پہلے بھی معلوم ہے، امتحانات اور آزمائشوں کے جان لینے کے معنی یہ ہیں کہ اس امتیاز کو دوسروں پر بھی ظاہر فرما دیں گے۔
اور حضرت سیدی حکیم الامت تھانوی نے اپنے شیخ مولانا…
Read the full tafseer →والذین امنوا وعملوا الصلحت لتکفرن عنھم سیاتھم ولنجزینھم احسن الذی کانو ایعملون (7)
قرینہ دلیل ہے کہ لفظ سیات یہاں صنائر یعنی چھوٹے گناہوں کے مفہوم میں ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر صاحب ایمان و عمل کے ساتھ یہ معاملہ کرنے والا ہے کہ اس کی لغزشوں اور کوتاہیوں سے وہ درگزر فرمائے گا اور اس نے جو نیک اعمال کیے ہوں گے ان کا وہ ان سے کہیں بڑھ کر صلہ دے گا۔ مطلب یہ ہے کہ جب بندوں کے ساتھ خدا کا معاملہ یہ ہے کہ ہر ایک اپنے ہر چھوٹے بڑے عمل کا صلہ پانے والا ہے تو پھر اس کے دل میں یہ وسوسہ کیوں پیدا ہو کر اس نے خدا کی راہ میں کوئی تکلیف جھیلی تو یہ اس نے اللہ اور اس کے دین پر کوئی احسان کیا۔
Read the full tafseer →7-1یعنی باوجود اس بات کے کہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوق سے بےنیاز ہے، وہ محض اپنے فضل و کرم سے اہل ایمان کو ان کے عملوں کی بہترین جزا عطا فرمائے گا۔ اور ایک ایک نیکی پر کئی کئی گنا اجر ثواب دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
3: اس آیت نے یہ اصول بتادیا ہے کہ اگر والدین کافر ہوں، تب بھی ان کے ساتھ عام برتاؤ میں نیک سلوک کرنا چاہیے اور ان کی توہین یا ان کو تکلیف پہنچانا مسلمان کا کام نہیں ہے لیکن اگر وہ کفر و شرک پر مجبور کریں تو ان کا کہا ماننا جائز نہیں۔
Read the full tafseer →والذین امنوا اعملوا ۔۔۔۔۔ کانوا یعملون (7)
لہٰذا اللہ کی راہ میں کام کرنے والے مزدور اس بات پر مطمئن ہوجائیں کہ انہیں بہت کچھ ملنے والا ہے ، ان کی تقصیرات بھی معاف ہوں گی ، ان کو اچھی جزاء ملے گی ، لہٰذا ان کو جہاد کی تکلیفوں پر صبر کرنا چاہئے۔ مشکلات اور مصائب کو برداشت کرنا چاہئے کیونکہ ان کی امید روشن ہے اور جزاء پاکیزہ ہے۔ اللہ کے ہاں ان کا انتظار ہو رہا ہے۔ یہ اس قدر عظیم اجر ہے کہ اگر انہیں اس دنیا کی پوری زندگی میں انصاف نہ ملے تو بھی وہ کافی ہے۔
سورت کے آغاز میں ہم نے جن آزمائشوں کا ذکر کیا اس کا ایک رنگ اور پہلو اہل و عیال ، محبوبوں اور دوستوں کا فتنہ ہے۔ ان آزمائشوں میں اللہ ایک…
Read the full tafseer →4 یعنی جہاں سے بےپروا اور بےنیاز ہونے کے باجود اپنی رحمت و شفقت سے تمہاری محنت کو ٹھکانے لگاتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی ایمان کی برکت سے نیکیاں ملیں گی اور برائیاں معاف ہوں گی۔ " (موضح القرآن)
Read the full tafseer →آیت 7 وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُکَفِّرَنَّ عَنْہُمْ سَیِّاٰتِہِمْ ”
جو لوگ ایمان لانے کے بعد ایمان کے تقاضوں کو پوراکریں گے اور اس رستے میں آنے والی مصیبتوں اور تکلیفوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کریں گے ہم ان کے دامن پر سے گناہوں کے چھوٹے موٹے داغ دھبے دور کردیں گے۔
وَلَنَجْزِیَنَّہُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ”
زیر مطالعہ رکوع کے مضمون کی اہمیت کا اندازہ اس پہلو سے بھی لگائیں کہ ان آیات میں لام مفتوح اور نونّ مشدد کی تکرار ہے۔ یعنی جابجا انتہائی تاکید کا انداز اختیار کیا گیا ہے۔ آیت 3 میں دو مرتبہ یہی تاکید کا صیغہ آیا ہے : فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ…
Read the full tafseer →8 اس کی تین صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ جو شخص اسلام لائے اس کے سابقہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح نیک اعمال بجا لانے سے چھوٹی موٹی برائیاں معاف کردی جاتی ہیں۔ دوسرے یہ کہ جو شخص نیک کام بجا لانا شروع کردے۔ اس کو از خود برائیوں سے نفرت ہوجاتی ہے۔ تیسرے یہ کہ جس معاشرہ میں نیکیاں رواج پانے لگیں۔ برائیاں از خود مٹتی چلی جاتی ہیں۔ کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ایک چیز آئے گی تو لامحالہ دوسری کو رخصت ہونا پڑے گا۔ بالکل ایسا ہی معاملہ سنت اور بدعت کا ہے۔ جس کے متعلق واضح الفاظ میں رسول اللہ نے فرمادیا کہ : جہاں ایک بدعت رواج پاتی ہے تو وہاں سے ایک سنت اٹھا لی جاتی ہے ۔ گویا بدعت کے رواج پانے کا…
Read the full tafseer →7۔ چناچہ مومنین صالحین کے بعض گناہ محض توبہ سے کہ وہ بھی ایک فرد ہے عمل صالح کی معاف ہوجائیں گے اور بعض دوسرے حسنات سے اور بعض محض فضل خداوندی سے۔
8۔ یعنی ان کے اعمال حسنہ کی جزا ان کے اصل استحقاق سے کہیں بڑھ کر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 13
ترجمہ : الم اس کی مراد تو اللہ ہی کو معلوم ہے کیا ان لوگوں نے یہ گمان کررکھا ہے کہ ان کے صرف یہ کہنے پر کہ ہم ایمان لائے ہم انہیں آزمائے بغیر چھوڑدیں گے ان کو ایسی چیزوں سے آزمایا جائے گا کہ جن سے ان کے ایمان کی حقیقت ظاہر ہوجائے، یہ ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جب وہ ایمان لائے تو مشرکین نے اذیت پہنچائی اللہ تعالیٰ ان سے پہلے والوں کو بھی آزما چکا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بھی جانچے گا جو اپنے ایمان میں سچے تھے مشاہدہ کے طور جانچنا اور ایمان کے بارے میں جھوٹوں کو بھی معلوم کے گا، کیا جو لوگ برائیاں یعنی شرک اور معاصی کررہے ہیں یہ سمجھتے ہیں…
Read the full tafseer →والذین امنوا وعملوا الصلحت لنکفرین عنھم سیاتھم . اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام
کئے ہم ان کے برے کام ان سے ساقط کردیں گے۔ یعنی نیکیوں کے ذریعہ سے برائیوں کو دور کردیں گے (برائیوں کو معاف کردیں گے ‘ مترجم) ۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : پانچوں نمازیں (باہم ایک وقت سے دوسرے وقت تک ( اور جمہ کی نماز (آئندہ) جمعہ تک اور رمضان (کے روزے آئندہ رمضان تک) درمیانی گناہوں کو اتار دینے والے ہیں بشرطیکہ بندہ کبیرہ گناہوں سے بچا رہے ‘ رواہ مسلم۔ یہ بحث آیت اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبَآءِرَ مَا تُنْھَوْنَ عَنْہُ نُکْفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ کی تفصیل کے ذیل میں گزر چکی ہے۔
ولنجزینھم…
Read the full tafseer →(7) اور جو لوگ ایمان لائے یعنی حضرت علی ؓ اور ان کے ساتھی تو ہم ان کے چھوٹے گناہوں کو معاف کردیں گے اور ہم ان کو ان کے جہاد سے اچھا بدلہ دیں گے۔
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَـيِّاٰتِهِمْ : یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، آزمائش پر ثابت قدم رہے، مشرکین کی ایذا سے متزلزل نہیں ہوئے، پھر صالح اعمال کرتے رہے، اپنے اور اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے جہاد کرتے رہے تو ہم ان کی برائیاں ضرور دور کردیں گے، ایمان لانے کی برکت سے پچھلے تمام گناہ معاف کردیں گے، پھر اعمال میں سے ہجرت سے پہلے کے تمام گناہ معاف کردیں گے اور حج سے پہلے کے تمام گناہ معاف کردیں گے۔ عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام داخل کیا تو میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا : ”اپنا دایاں ہاتھ پھیلائیں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
ام احسب الذین یعلمون۔۔۔۔۔۔۔ اس سے مراد وہ شرک ہے آن یسبقونا وہ ہماری گرفت سے نکل سکتے ہیں اور ہمیں عاجز کرسکتے ہیں قبل اس کے کہ ہم ان کا مواخذہ کریں ان اعمال کا جو وہ کرتے رہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : الذین سے مراد ولید بن مغیرہ، ابو جہل، اسود، عاص بن ہشام، شبہ، عتبہ، ولید بن عتبہ، عقبہ بن ابی معیط، حنظلہ بن ابی سفیان اور عاص بن وائل ہیں۔ انہوں نے اپنے رب کی صفات میں جو یہ فیصلہ کیا وہ کتنا برا فیصلہ ہے کہ اس پر سبقت لی جاسکتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے۔ مامحل نصب میں ہے یہ ساء شیاء او حکم یحکمون کے معنی میں ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ مامحل رفع میں ہو معنی ہوگا یہ زجاج کا قول ہے۔ ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
1۔ ابن ابی حاتم عن سعید بن جبیر وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت من کان یرجوا لقاء اللہ سے مراد ہے کہ جو شخص آخرت میں دوبارہ اٹھائے جانے سے ڈرتا ہے۔
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ [اور وہ لوگ جو ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] وَعَمِلُوا [اور انھوں نے عمل کئے ] الصّٰلِحٰتِ [نیکیوں کے ] لَنُكَفِّرَنَّ [تو ہم لازما دور کریں گے ] عَنْهُمْ [ان سے ] سَـيِّاٰتِهِمْ [ان کی برائیوں کو ] وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ [اور ہم لازما بدلہ دیں گے ان کو ] اَحْسَنَ الَّذِيْ [اس کے بہترین سے جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [وہ عمل کیا کرتے تھے ] ۔
Read the full tafseer →اس کے بعد ایک عمومی قانون بتایا : (وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ) (الآیۃ) اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے ہم ان کی برائیوں کا کفارہ کردیں گے یعنی ان کی برائیوں کو اپنی مغفرت سے ڈھانپ دیں گے، توبہ کے ذریعہ اور نیکیوں کے ذریعہ اور اپنے فضل و کرم سے انہیں معاف کردیں گے، کفر اور شرک کا ایمان سے کفارہ ہوجاتا ہے اور اسلام قبول کرنے کے بعد جو گناہ کیے ہوں ان کا کفارہ ہوتا رہتا ہے اسلام پر باقی رہتے ہوئے اخلاص کے ساتھ جو اعمال صالحہ اختیار کیے جائیں ان کا اچھے سے اچھا بدلہ ملے گا جو ان کے اعمال سے بہت زیادہ اچھا اور عمدہ ہوگا، تھوڑے سے کام پر بہت زیادہ نعمتیں ملیں گی اور ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
تنبیہ اہل ایمان برحکمت اہل شدائد وآفات زمان کہ آں تمیز مخلص
ومنافق است وتشجیع اہل ہدایت بر صبرواستقامت وتشنیع اہل ضلالت وغوایت
قال اللہ تعالیٰ الم احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا۔۔۔ الی۔۔۔ ولیسئلن یوم القیمۃ عما کانوا یفترون۔
(شان نزول) ایک دن آنحضرت ﷺ کعبہ کی دیوار سے تکیہ لگائے سایہ میں بیٹھے تھے تو بعض صحابہ نے مشرکین کی شکایت کی کہ وہ ہمیں طرح طرح سے ایذائیں پہنچا رہے ہیں آپ ﷺ ہمارے لئے دعا کریں کہ کافروں کا یہ ظلم وستم ہم سے ٹل جائے یہ سن کر آپ ﷺ ناراض ہوئے اور فرمایا کہ تم سے پہلے گزشتہ دینداروں کے سر آروں سے چیرے گئے اور ان کے دو ٹکڑے کئے گئے مگر وہ اپنے دین سے نہیں ہٹے اور بعضوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
5:۔ یہ ان مومنوں کے لیے بشارت اخروی ہے جنہوں نے توحید کی خاطر مصائب و آلام پر صبر کیا۔ اٰمنوا، اللہ کی توحید پر ایمان لائے۔ وعملوا الصلحت، اور توحید کی راہ میں مصائب برداشت کیے۔ ولنجزینہم احسن الخ، ان کے اعمال کی ہم ان کو احسن (سب سے بہتر) جزاء دیں گے یعنی ایک نیکی کے بدلے دس گنا یا اس سے زیادہ ثواب جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالہا ای احسن جزاء اعمالھم والجزاء الحسن ان یجازی بحسنۃ حسنۃ واحسن الجزاء ان تجازی الحسنۃ الواحدۃ بالعشر وزیادۃ (روح ج 20 ص 138) ۔ حضرت شیخ (رح) نے فرمایا، یا مطلب یہ ہے کہ ہم ان کو احسن اعمال یعنی ہجرت کی جزاء دیں گے کیونکہ ہجرت کا ذکر اشارۃً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام اس کی آیت 014 میں آمدہ لفظ عنکبوت سے مآخوذ سورة العنکبوت ہے۔ اللہ نے اس آیت میں شرک کے بودہ پن کو مکڑی کے جالے کے کے ساتھ تشبیہ دے کر بات سمجھائی ہے کہ اللہ کے علاوہ دوسرے کو معبود ٹھہرانے کی مثال مکڑی کے جالے کی طرح ہے جو کہ کمزور ترین گھر ہوتا ہے۔ ترتیب نزول کے اعتبار سے یہ سورة الروم کے بعد نازل ہوئی مگر ترتیب تلاوت میں اس کو مقدمہ رکھا گیا ہے۔ یہ سورة مکی دور کے اس زمانہ میں نازل ہوئی جب کہ اہل ایمان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے ، چناچہ اللہ نے ابتدائی آیات میں ہی مسلمانوں کو تسلی دی ہے کہ ایمان قبول کرنے کے بعد آزمائش سے گزرنا پڑے گا ، اور جو…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْہُمْ سَـيِّاٰتِہِمْ وَلَنَجْزِيَنَّہُمْ اَحْسَنَ الَّذِيْ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 7
عمل
العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ
[ البقرة/ 277]
( ع م ل ) العمل
ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ومن جاھد فانما یجاھد لنفسہٖ الخ اور یہ بھی یاد رہے کہ جو کوئی نیکی میں کوشش اور سرگرمی کرتا ہے تو اپنے فائدہ کے لیے کیونکہ اللہ کو کسی کی کچھ بھی حاجت نہیں۔ اصول دین تین ہیں، مبداء کا پہچاننا اس کی طرف امنا میں اشارہ کیا اور وسط کا جاننا وہ رسولوں کا بھیجنا اور شریعت کا قائم کرنا اسی کی طرف وھم لایفتنون میں اشارہ کیا۔ معاد سے واقف ہونا اس کی طرف من کان یرجوا میں اشارہ کیا۔ اس میں یہ بھی بتلادیا کہ مرنے کے بعد روح جاتی رہتی ہے۔
Read the full tafseer →وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُکَفِّرَنَّ عَنْھُمْ سَیِّاٰ تِہِمْ وَلَنَجْزِیَنَّھُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (العنکبوت : 7)
(جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے تو ہم ان کی برائیاں ان پر سے جھاڑ دیں گے اور ان کو ان کے عمل کا بہترین بدلہ دینگے۔ )
اہلِ ایمان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت
ایمان و عمل کی راہ میں اٹھائی جانے والی تکلیفیں اور اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے کی جانے والی جدوجہد اگرچہ انسان کی اپنی ضرورت ہے اسی سے اسے آسودہ زندگی میسر آسکتی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت کا کیا کہنا، پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا جارہا ہے کہ جو بھی ایمان لائیں گے یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
فہم القرآن
ربط کلام : انسان دنیا میں رہ کر جو کچھ بھی کرے گا اس کا نفع و نقصان اسی کو پہنچے گا۔
اس فرمان میں بھی ظالموں کو ایک طرح کا انتباہ کیا گیا ہے کہ ہر شخص اچھا ہو یا برا، جو بھی کام کرتا ہے اس کا نفع و نقصان اسی کو ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کی نیکی کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا اور اگر کوئی زندگی بھر گناہ کرتا رہے تو رب کی ذات اور اس کی بادشاہی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ وہ ہر کمزوری سے مبرّا اور ہر قسم کی ضرورت سے بےنیاز ہے۔ یہ بات موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اِ ن الفاظ میں سمجھائی تھی۔ اے میری قوم ! تم اور جو کوئی زمین میں بسنے والا ہے سب کے سب کفر پر جم جاؤ پھر بھی اللہ…
Read the full tafseer →7: وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُکَفِّرَنَّ عَنْہُمْ سَیِّاٰتِہِمْ (اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالحہ کئے) ۔ ہم ضرور بضرور ان کی سیئات کو مٹا دیں گے۔ ایمان و توبہ کی برکت سے شرک و معاصی کو مٹا دیا جائے گا۔ وَلَنَجْزِیَنَّہُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (اور ضرور بضرور ہم ان کو بہترین بدلہ ان اعمال کا دیں گے جو وہ کرتے تھے) ۔ یعنی اسلام میں کیے جانے والے اعمال کا بہترین بدلہ دیں گے۔
Read the full tafseer →7۔ والذین آمنواوعملوالصالحات لنکفرن عنھم سیاتھم، ، نیکیوں کے ذریعے سے برائیون کو دور کردیں گے گویا کہ اس نے برائی کی ہی نہیں ہوگی تکفیر کہاجاتا ہے برائی کو نیکی کے ذریعے سے مٹانا۔
” ولنجزینھم احسن الذی کانوایعملون، ،، احسن اعمالھم، سے مراد طاعت ہے۔ بعض نے کہا کہ ہم ان کے اعمال سے زیادہ جزاء ان کو دیں گے دس گنا سے سات سو گنا تک اور اس سے زائد جتنا اللہ چاہے۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے ، من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
5 تا 7۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جس کو آخرت میں خدا تعالیٰ سے ملنے کی امید اور اپنے اچھے کاموں کے ثواب پانے کا بھروسہ ہے اللہ تعالیٰ اس کے امید کو پورا کرے گا اس واسطے کہ وہ دعا کا سننے والا اور تمام عملوں کا دیکھنے والا ہے پھر فرمایا جو محنت کر کے اچھے عمل کرے وہ اپنے ہی واسطے کرتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ بندوں کے نیک عملوں سے بےپرواہ کسی کا نیک اور پرہیز گار ہونا خدا کی بادشاہت میں کچھ رونق نہیں بڑھاتا اس پر بھی وہ ایمان والوں کو عمدہ جزادے گا اور ان کو برائیوں کو ان کے ایمان اور نیک عمل کی برکت سے دور کر دے گا اور اچھے سے اچھا ان کے عملوں کا بدلہ دے گا ایک نیکی کا دس گنا…
Read the full tafseer →(7)
یعنی وہ لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان اور عمل صالح سے نوازا، وہ ان کے گناہوں کو ختم کر دے گا کیونکہ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں ” اور ہم ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا صلہ دیں گے۔ “ اس سے مراد اعمال خیر ہیں، مثلا واجبات و مستحباب وغیرہ اور یہ بندے کے بہترین اعمال ہیں کیونکہ بندہ مباح کام بھی کرتا ہے۔
Read the full tafseer →5 اہل ایمان کیلئے کرم و احسان کا وعدہ و خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کیے تو ہم ضرور مٹا دیں گے ان سے ان کی برائیاں اور ان کو نہایت عمدہ بدلہ دیں گے ان کے ان کاموں کا جو وہ کرتے رہے تھے اپنی دنیاوی زندگی میں "۔ یعنی اصل نظر ان کے اعمال کے نقائص پر نہیں ہوگی کہ ان کی کمزوریاں چھانٹی جائیں بلکہ معاملہ اس اکرم الاکرمین کے کرم کے مطابق فرمایا جائے گا جس کے انعام و اکرام اور فضل و احسان کی نہ کوئی حد ہے نہ انتہائ۔ سو اس کے لئے اس کی طرف سے کرم کا معاملہ فرماتے ہوئے اعمال صالحہ کا بدلہ بہترین شکل میں دیا جائے گا۔ ایک نیکی کا بدلہ دس گنا، سو گنا، سات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
برے لوگوں کے لیے خبر اور ایمان والوں کا انجام
تشریح : اللہ کا وعدہ ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اور نیک و بد کو اس کا بدلہ ضرور ملے گا۔ بلکہ برے کو صرف برائی کا بدلہ ملے گا جب کہ نیک کے چھوٹے موٹے گناہ اللہ ویسے ہی معاف کر دے گا اور نیکی کا بدلہ کئی گنا زیادہ دیا جائے گا۔ کیونکہ وہ سب کچھ دیکھتا ہے ‘ سنتا ہے اور جانتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
آیات 1 تا 13
اسرارو معارف
راہ حق میں آزمائش :
راہ حق میں مصیبت سے گھبرانا درست نہیں کیا لوگوں کا یہ گمان ہے کہ صرف یہ کہ دینے سے کہ ہم مومن ہیں وہ چھوٹ جائیں گے اور ان پر کوئی آزمائش نہ آئے گی یقینا آزمائش ضرور آئے گی بلکہ ان سے پہلی ساری امتوں کو آزمایا گیا اور اللہ نے کھرے اور کھوٹے سچے اور جھوٹے کو الگ الگ ثابت کردیا۔ آج کے مسلمان کا جو خیال ہے کہ کوئی ایسا راستہ ہو کہ اسلام پر بھی کاربند رہا جائے اور کافر بھی ناراض نہ ہوں اور کوئی مصیبت بھی کھڑی نہ کردیں یہ خیال خام ہے جو بھی حق پر عمل پیرا ہوگا اس کی آزمائش ضرور ہوگی ہاں کفار یہ نہ جان لیں کہ وہ برای کر کے اللہ کی گرفت سے بچ جائیں گے ان…
Read the full tafseer →2 ۔ حتیٰ کہ بعض کے نزدیک کفر کی حالت میں جو نیک عمل کئے تھے ان کی جزا بھی مل جائے گی اور پھر ایمان لانے کے بعد ایک نیکی کا دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ بدلہ ملے گا (قرطبی) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں : یعنی ایمان کی برکت سے نیکیاں ملیں گی اور برائیاں معاف ہوجائیں گی۔ (موضح)
Read the full tafseer →(29:7) لنکفرن میں لام تاکید کا ہے نکفرن مضارع بانون ثقیلہ ۔ جمع متکلم ۔ کفر یکفر تکفیر (تفعل) گناہ کو چھپانا اور اس طرح مٹانا جیسا کہ اس کا ارتکاب ہی نہیں ہوا۔
باب تفعیل کے خواص میں سے سلب مادہ (کسی چیز سے ماخذ کو دور کرنا) بھی ہے یہاں اس ہی معنی میں آیا ہے کفرلہ وعنہ ذنبہ (خدا کا) کسی کا گناہ معاف کردینا یا اس سے گناہ کو محو کردینا گویا کہ اس کا ارتکاب ہوا ہی نہ تھا۔ پس ترجمہ ہوگا :۔ لنکفرن عنھم سیئاتھم۔ تو ہم ان سے ان کے گناہ محو کردیں گے ۔ انہی معنی میں اور جگہ ارشاد ہے لکفرنا عنہم سیئاتھم (5: 65) تو ہم ان سے ان کے گناہ محو کردیتے اور نکفر عنکم سیئاتکم (4:31) تو ہم تمہارے (چھوٹے چھوٹے)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 7 :
حسب (گمان کیا۔ خیال کیا) ‘ لایفتنون (وہ آزمائے نہ جائیں گے) ‘ ساء (برا ہے) ‘ یرجوا ( امید رکھتا ہے) یجاھد ( وہ جدوجہد۔ کوشش کرتا ہے) ‘ غنی (بےنیاز) نکفرن ( ہم ضرور اتاردیں گے) نجزین ( ہم ضرور بدلہ دیں گے) احسن ( زیادہ بہتر) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 7 :
اس سورت کا آغاز بھی حروف مقطعات سے کیا گیا ہے یعنی جن حروف کے معنی کا علم اللہ کو ہے۔
جب انسان حق و صداقت یعنی ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کرتا ہے تو اس کو باطل نظام زندگی اور ظالموں کی قوت و طاقت سے ٹکرانا پڑتا ہے۔ یہ اتنی بڑی آزمائش اور امتحان ہے کہ حالات کے سامنے اگر وہ ڈٹ کر اور جم کر کھڑا ہوجائے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
مسلمانوں کا ذکر۔
(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جس کو آخرت میں اللہ سے ملنے کی امید اور اپنے اچھے کاموں کے ثواب پانے کا بھروسہ ہے اللہ تعالیٰ اس کی امید کو پورا کرے گا کہ وہ دعا کا سننے والا اور تمام عملوں کا دیکھنے والا ہے، پھر فرمایا جو محنت کرکے اچھے عمل کرے وہ اپنے ہی واسطے کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ بندوں کے نیک عملوں سے بےنیاز ہے کسی کا نیک اور پرہیزگار ہوناخدا کی بادشاہت میں کچھ رونق نہیں بڑھاتا، اس پر بھی ایمان والوں کو عمدہ جزا دے گا اور ان کی برائیون کو ان کے ایمان اور نیک عمل کی برکت سے دور کردے گا اور اچھے ان کے کے عملوں کا بدلہ دے گا اور برائی کی سزابقدر برائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
[3] مکہ میں جو نوجوان ایمان لائے تھے ان کے والدین ایمان سے باز رہنے کے لئے ان پر زور ڈال رہے تھے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ گویا بتلا دیا کہ والدین کا خلاف حق پر مجبور کرنا یہ بھی ایک آزمائش ہے اور مومن کو چاہئے کہ ان کی خاطر دین کو نہ چھوڑے۔ دنیا میں ماں باپ سے زیادہ کسی کا حق نہیں لیکن اللہ کا حق ان سے زیادہ ہے۔
Read the full tafseer →نجات کا سچا اور سادہ نظریہ
1: اگر انسان یہ چاہے کہ گناہوں اور لغزشوں سے وہ بالکل پاک رہے اور قطعاً اس سے کسی نوع کی غلطی کا صدور نہ ہو ۔ تو یہ ایک ایسی آرزو ہے جو کبھی پوری نہیں ہوسکتی ۔ انسان فطرت اور ساخت کے لحاظ سے مجبور ہے ۔ کہ کبھی کبھی خواہشات سے نفس کی رو میں بہہ جائے ۔ اس لئے وہ مذہب جو انسان سے سو فی صدی نیک رہنے کا مطالبہ کرتا ہے ۔ غلط ہے اور اسکا پیش کرنے والا انسان نفسیات سے محض آشنا اور ناواقف ہے دیکھئے اللہ تعالیٰ نے جب آدم کو پیدا کرنا چاہا ۔ تو فرشتوں نے کہا ۔ کیا آپ ایسے شخص کو نیابت سے سرفراز کرنا چاہتے ہیں جو سنگین گناہوں کا ارتکاب کریگا ۔ لیعذاک الدعائ۔ تو اللہ نے کہا کے…
Read the full tafseer →7۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور اعمال صالحہ کے پابند رہے تو ہم ان کے گناہ یقینا ان سے دور کردیں گے اور ان سے زائل کردیں گے اور ہم ان کے ان کاموں کو جو وہ کیا کرتے تھے بہترین بدلا عنایت کریں گے۔ یعنی ایمان اور اعمال صالحہ کے پابند رہے تو ان کے گناہ ان سے دور کردیئے جائیں گے اور ان کے ایمانو اعمال صالحہ کا اجر ان کو ان کے حق سے بھی بہتر اور زیادہ دیا جائیگا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے یعنی ایمان کی برکت سے نیکیاں ملیں گی اور برائیاں معاف ہوں گی ۔ 12
Read the full tafseer →ف 1۔ کفار طرح طرح سے مسلمانوں کو اسلام سے ہٹانے کی فکریں کرتے تھے، بعضے جسمانی ایذائیں پہنچایا کرتے تھے، اور بعضے دوسرے طریقوں سے مجبور کرتے۔ چناچہ سعد بن ابی وقاص کی والدہ نے ان سے کہا کہ اللہ کا حکم ہے والدین کی اطاعت کا، سو میں قسم کھاتی ہوں کہ کھانا پینا نہ چکھوں گی جب تک کہ تو اسلام کو نہ چھوڑے گا، اگرچہ میری جان نکل جاوے، اس پر اگلی آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →ایمان لانے کے بعد نیک عمل کرنے والوں کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا :
7۔ بلاشبہ جو لوگ صدق دل سے ان ساری چیزوں پر ایمان لائے جن کی دعوت اللہ کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ نے اور اللہ کی کتاب قرآن کریم نے دی ہے اور پنی زندگیوں کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی ہدایت کے مطابق ڈھال لیا ایسے لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم ان کی برائیاں اور خطائیں جو ان سے سرزد ہوئیں دور کردیں گے اور انہوں نے جو نیک کام کئے ہوں گے ان کی بہتر سے بہتر جزا دیں گے ، اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے دعا کرنی چاہئے کہ وہ ہم کو صدق دل سے ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائے اور بلاشبہ اس کا پتہ ہم کو دنیا ہی میں لگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
Commentary
وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ (And We have instructed man - 29:8). Wasiyyah (وَصِیَّۃ) means to call someone for some action, when the call is based on advice and well wishing. (Mazhari)
بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا (to do good to his parents - 29:8). The Word Husn (حُسن) is an infinitive which means ' to be good'. at is meant here is to adopt good behavior. The meaning of the sentence is quite clear that Allah Ta’ ala has advised man to treat his parents kindly.
وَإِن جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي (And if they insist upon you that you should ascribe partners to Me - 29:8). It should be taken…
Read the full tafseer →10 Iman means to believe in and accept sincerely all those things to which the Messenger of Allah and this Book invite; and "good works" are those which are performed in accordance with the guidance of Allah and His Messenger. The good work of the heart and mind is that man's thinking and his ideas and his intentions should be right and pure. The good work of the tongue is that man should refrain from talking evil things, and whatever he says should be just and right and true; and the good work of the limbs is that man's entire life should be spent in Allah's worship and in obedience to His…
Read the full tafseer →