Al-Ankaboot 29:6

Al-Ankaboot · from ayah 6

29:6

وَمَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ ۟وَمَنۡ جَاهَدَ فَاِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفۡسِهٖؕ اِنَّ اللّٰهَ لَـغَنِىٌّ عَنِ الۡعٰلَمِيۡنَ

اور جو شخص محنت کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے محنت کرتا ہے۔ اور خدا تو سارے جہان سے بےپروا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And whoever strives only strives for [the benefit of] himself. Indeed, Allah is free from need of the worlds.

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ankaboot

All translations of 29:6

جو شخص بھی مجاہدہ کریگا اپنے ہی بھلے کے لیے کرے گا، اللہ یقیناً دنیا جہان والوں سے بے نیاز ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو شخص محنت کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے محنت کرتا ہے۔ اور خدا تو سارے جہان سے بےپروا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہر ایک کوشش کرنے واﻻ اپنے ہی بھلے کی کوشش کرتا ہے۔ ویسے تو اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے بےنیاز ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو شخص بھی ہمارے راستے میں محنت اٹھاتا ہے، وہ اپنے ہی فائدے کے لیے محنت اٹھاتا ہے۔ یقینا اللہ تمام دنیا جہان کے لوگوں سے بےنیاز ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جو اللہ کی راہ میں کوشش کرے تو اپنے ہی بھلے کو کوشش کرتا ہے بیشک اللہ بے پرواہ ہے سارے جہان سے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو شخص (راہِ حق میں) جد و جہد کرتا ہے وہ اپنے ہی (نفع کے) لئے تگ و دو کرتا ہے، بیشک اللہ تمام جہانوں (کی طاعتوں، کوششوں اور مجاہدوں) سے بے نیاز ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جو جہاد کرتا ہے تو وہ اپنے ہی لیے جہاد کرتا ہے، یقینا اللہ تو سارے جہانوں سے بہت بےپروا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو شخص جہاد کرے تو وہ اپنے ہی فائدے کے لئے جہاد کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ یقینا اہل عالم سے بےنیاز ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو ہماری راہ میں جدوجہد کر رہا ہے تو وہ اپنے ہی فائدے کے لئے جدوجہد کر رہا ہے۔ اللہ عالم والوں سے بےنیاز ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور واضح رہے کہ جس نے محنت ومشقت کی تو سوائے اس کے نہیں کہ وہ محنت ومشقت اپنے ہی لئے کرتا ہے ورنہ اللہ تو قطعی طور پر اور ہر لحاظ سے بےنیاز ہے سب جہانوں سے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو کوئی محنت کرتا ہے وہ اپنے ہی لئے محنت کرتا ہے۔ بیشک اللہ سارے عالم سے بےنیاز ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جو کوئی بھی جہاد کرتا ہے تو وہ اپنے (ہی فائدے کے) لیے جہاد کرتا ہے۔ یقیناً اللہ تمام جہانوں سے بےنیاز ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو شخص محنت کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے محنت کرتا ہے اور اللہ تو تمام جہان سے بےپرواہ ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Whosoever strives (in the cause of Allah) does so to his own good. Surely Allah stands in no need of anyone in the whole Universe.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Whoever strives, strives for his own benefit. Surely Allah is independent of all the worlds.

— Muhammad Taqi Usmani

Whoever strives, strives for his own benefit. Surely Allah is independent of all the worlds.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And whosoever strives, he strives only for himself. Verily, Allah stands not in need of any of the creatures.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And whosoever striveth, striveth only for himself, for lo! Allah is altogether Independent of (His) creatures.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And whoever strives only strives for [the benefit of] himself. Indeed, Allah is free from need of the worlds.

— Saheeh International

Whoever strives hard should know that it is for his own good. God is independent of the whole world.

— Muhammad Sarwar

And whoever strives hard, he strives only for his own soul; most surely Allah is Self-sufficient, above (need of) the worlds.

— Muhammad Habib Shakir

And whosoever strive, striveth only for himself: verily Allah is Independent of the worlds.

— Abdul Majid Daryabadi

And if any strive (with might and main), they do so for their own souls: for Allah is free of all needs from all creation.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 29:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 5–7

نیکیوں کی کوشش جنہیں آخرت کے بدلوں کی امید ہے اور اسے سامنے رکھ کر وہ نیکیاں کرتے ہیں۔ ان کی امیدیں پوری ہونگی اور انہیں نہ ختم ہونے والے ثواب ملیں گے۔ اللہ دعاؤں کا سننے والا اور کل کائنات کا جاننے والا ہے اللہ کا ٹھہرایا ہوا وقت ٹلتا نہیں۔ پھر فرماتا ہے ہر نیک عمل کرنے والا اپنا ہی نفع کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بندوں کے اعمال سے بےپرواہ ہے۔ اگر سارے انسان متقی بن جائیں تو اللہ کی سلطنت میں کوئی اضافہ نہیں ہوسکتا۔ حضرت حسن فرماتے ہیں جہاد تلوار چلانے کا ہی نام نہیں۔ انسان نیکیوں کی کوشش میں لگا ہے یہ بھی ایک طرح کا جہاد ہے۔ اس میں شک نہیں کہ تمہاری نیکیاں اللہ کے کسی کام نہیں آتیں لیکن بہر حال اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة العنکبوت 8 " مجاہدہ " کے معنی کسی مخالف طاقت کے مقابلہ میں کش مکش اور جدوجہد کرنے کے ہیں، اور جب کسی خاص مخالف طاقت کی نشان دہی نہ کی جائے بلکہ مطلقا مجاہدہ کا لفظ استعمال کیا جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ ایک ہمہ گیر اور ہر جہتی کش مکش ہے، مومن کو اس دنیا میں جو کش مکش کرنی ہے اس کی نوعیت یہی کچھ ہے۔ اسے شیطان سے بھی لڑنا ہے جو اس کو ہر آن نیکی کے نقصانات سے ڈراتا اور بدی کے فائدوں اور لذتوں کا لالچ دلاتا رہتا ہے۔ اپنے نفس سے بھی لڑنا ہے جو اسے ہر وقت اپنی خواہشات کا غلام بنانے کے لیے زور لگاتا رہتا ہے۔ اپنے گھر سے لے کر آفاق تک کے ان تمام انسانوں سے بھی لڑنا ہے جن کے نظریات، رجحانات،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–7

فَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا، یعنی ان امتحانات اور شدائد کے ذریعہ مخلص اور غیر مخلص اور نیک و بد میں ضرور امتیاز کریں گے۔ کیونکہ مخلصین کے ساتھ منافقین کا خلط ملط بعض اوقات بڑے نقصانات پہنچا دیتا ہے مقصد اس آیت کا نیک و بد اور مخلص و غیر مخلص کا امتیاز واضح کردینا ہے، جس کو اس طرح تعبیر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جان لے گا صادقین کو اور کا ذبین کو، اللہ تعالیٰ کو تو ہر انسان کا صادق یا کاذب ہونا اس کے پیدا ہونے سے پہلے بھی معلوم ہے، امتحانات اور آزمائشوں کے جان لینے کے معنی یہ ہیں کہ اس امتیاز کو دوسروں پر بھی ظاہر فرما دیں گے۔ اور حضرت سیدی حکیم الامت تھانوی نے اپنے شیخ مولانا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ومن جاھدنا نما یجاھد لنفسہ ط ان اللہ لغنی عن العلمین (6) یہ متنبہ فرمایا ہے کہ جو شخص ایمان لاتا اور اس راہ میإ مشقتیں اٹھاتا ہے وہ یاد رکھے کہ وہ اپنا ہی مستبقل سنوارتا اور اپنا ہی گھر بھرتا ہے، وہ خدا اور اس کے دین پر کوئی احسان نہیں کرتا۔ اس وجہ سے اسے اس بات سے دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے کہ اسے کوئی مصیبت پیش آئی۔ اگر اسے کوئی مصیبٹ پیش آئی تو خدا کسی کا محتاج نہیں ہے۔ وہ تمام عالم سے مستننی ہے۔ البتہ لوگ اس کے محتاج ہیں اس وجہ سے خدا کی راہ میں بڑی سے بڑی قربانی بھی جو کوئی دیتا ہے وہ درحقیقت اپنے ہی نفع کے لئے دیتا ہے، اس سے خدا کو کوئی نفع نہیں پہنچتا۔ یہاں یہ حقیقت اچھی طرح ملحوظ رہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

6-1یعنی جو نیک عمل کرے گا، اس کا فائدہ اسی کو ہوگا۔ ورنہ اللہ تعالیٰ تو اپنے بندوں کے افعال سے بےنیاز ہے۔ اگر سارے کے سارے متقی بن جائیں تو اس سے اس کی سلطنت میں قوت و اضافہ نہیں ہوگا اور سب نافرمان ہوجائیں تو اس سے اس کی بادشاہی میں کمی نہیں ہوگی۔ الفاظ کی مناسبت سے اس میں جہاد مع الکفار بھی شامل ہے کہ وہ بھی من جملہ اعمال صالحہ ہی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–6

2: اس میں دین کے راستے میں کی ہوئی ہر محنت داخل ہے، چاہے وہ نفس اور شیطان کا مقابلہ کرنے کی محنت ہو یا تبلیغ و دعوت کی محنت یا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے کی محنت۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ومن جاھد ۔۔۔۔۔ عن العلمین (6) ” “۔ جب اللہ مومنین کے لیے آزمائشیں مقرر کرتا ہے اور ان کو حکم دیتا ہے کہ وہ یہ مشتقیں برداشت کریں تاکہ ان کے نفوس جنگاہ حیات میں مشکلات برداشت کرنے کے اہل بن جائیں ، تو یہ احکام بھی خود اہل ایمان کی اصلاح کے لیے ہیں۔ یہ ان کو مکمل بناتے ہیں اور دنیا اور آخرت دونوں میں اہل ایمان کے لیے خیر کا باعث بنتے ہیں۔ جہاد کی وجہ سے خود ایک مومن کا نفس اور اس کا قلب پاک ہوتا ہے۔ ان کے تصورات میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور اس کے پیش نظر دنیا کے آفاق وسیع ہوتے ہیں۔ یہ حسب مال اور حب نفس سے بھی بلند ہوجاتا ہے ، اب اس کی شخصیت کے اعلیٰ جو ہر کھلتے ہیں اور اس کی صلاحیت سامنے آتی ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی اللہ تعالیٰ کو کسی کی اطاعت سے کیا نفع اور معصیت سے کیا نقصان۔ وہ تو کلی طور پر بےنیاز ہے۔ ہاں بندہ اپنے پروردگار کی طاعت میں جس قدر محنت اٹھائے گا اس کا پھل دنیا و آخرت میں اسی کو ملے گا، پس مجاہدے کرنے والے یہ خیال کبھی نہ آنے دیں کہ ہم خدا کے راستہ میں اتنی محنت کر کے کچھ اس پر احسان کر رہے ہیں ؟ (العیاذ باللہ) اس کا احسان ہے کہ خود تمہارے فائدہ کے لیے طاعت و ریاضت کی توفیق بخشے۔ من نہ کردم خلق تاسودے کنم بلکہ تا بربندگاں جو دے کنم

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 6 وَمَنْ جَاہَدَ فَاِنَّمَا یُجَاہِدُ لِنَفْسِہٖط اِنَّ اللّٰہَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ ” دیکھو ! تم میں سے جو کوئی اللہ کی راہ میں جدوجہد کر رہا ہے ‘ اس کے لیے تکلیفیں اٹھا رہا ہے اور ایثار کر رہا ہے تو یہ سب کچھ وہ اپنے لیے کر رہا ہے ‘ اس کا فائدہ بھی اسی کو ملنے والا ہے۔ وہ اپنے ان اعمال کا اللہ پر احسان نہ دھرے۔ اللہ کو ان چیزوں کی کوئی احتیاج نہیں۔ وہ ان چیزوں سے بہت بلند اور بےنیاز ہے۔ سورة الحجرات میں اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : یَمُنُّوْنَ عَلَیْکَ اَنْ اَسْلَمُوْاط قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَکُمْج بَلِ اللّٰہُ یَمُنُّ عَلَیْکُمْ اَنْ ہَدٰٹکُمْ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

6 جہاد بمعنی کسی انسان کی مقدور بھر کوشش جو اسلام کے نفاذ اور اس کی سربلندی کے لئے کی جائے۔ پھر اس جہاد کی اقسام بھی متعدد ہیں اور محاذ بھی متعدد ہیں۔ اقسام سے مراد مثلاً زبان سے جہاد ایک دوسرے کو سمجھانا اور تلقین کرنا یا تقریروں کے ذریعہ تبلیغ کرنا اور قلم سے جہاد یعنی اسلامی تعلیمات کی اشاعت اور اسلام پر وارد ہونے والے اعتراضات اور حملوں کا جواب لکھنا اور پھر اس کے بعد اجتماعی جہاد یا جہاد بالسیف یا قتال فی سبیل اللہ ہے۔ اور جہاد کا سب سے پہلا محاذ انسان کا اپنا نفس ہے۔ پھر اس کے بعد عزیزواقارب پھر اس کے بعد پورا معاشرہ ہے۔ اور آخری محاذ قتال فی سبیل اللہ یعنی ان کافروں نے جنگ کرنا ہے جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

5۔ (نہ یہ کہ اس سے اس کے معبود کو کوئی نفع پہنچے) (آیت) ” لنفسہ “۔ یعنی اپنے ہی نفع و راحت کے لیے۔۔ اپنے نفع کا علم ہوجانے کے بعدقدرۃ ہر مشقت آسان ہوجاتی ہے۔ مشرک جاہلی قوموں کا فلسفہ یہ تھا کہ بندے جس طرح خدا کے محتاج ہیں، خدا بھی اسی طرح ان کا محتاج ہے اور جس طرح وہ انکی نگرانی کرتا رہتا ہے یہ بھی تو برابر اس کی خدا مت میں لگے رہتے ہیں ! 6۔ (آیت) ” غنی عن العلمین “۔ ” بےنیاز “ یہاں اردو کے ” بےپروا “ کے معنی میں نہیں، غیر محتاج کے معنی میں ہے۔ ؛ یعنی تم جو خدا کو بھی کسی معنی میں اپنا محتاج دوست نگر سمجھ رہے ہو یہ تمامتر جہل ہے، وہ تو مخلوق میں سے کسی کا، کسی معنی میں بھی دست نگر نہیں، مرشد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–13

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 13 ترجمہ : الم اس کی مراد تو اللہ ہی کو معلوم ہے کیا ان لوگوں نے یہ گمان کررکھا ہے کہ ان کے صرف یہ کہنے پر کہ ہم ایمان لائے ہم انہیں آزمائے بغیر چھوڑدیں گے ان کو ایسی چیزوں سے آزمایا جائے گا کہ جن سے ان کے ایمان کی حقیقت ظاہر ہوجائے، یہ ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جب وہ ایمان لائے تو مشرکین نے اذیت پہنچائی اللہ تعالیٰ ان سے پہلے والوں کو بھی آزما چکا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بھی جانچے گا جو اپنے ایمان میں سچے تھے مشاہدہ کے طور جانچنا اور ایمان کے بارے میں جھوٹوں کو بھی معلوم کے گا، کیا جو لوگ برائیاں یعنی شرک اور معاصی کررہے ہیں یہ سمجھتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ومن جاھد فانما یجاھد لنفسہ ان اللہ لغنی عن العلمین . اور جو جہاد کرے گا وہ اپنے فائدہ کے لئے جہاد کرے گا۔ اللہ کو تو دنیا جہان میں سے کسی بات کی ضرورت نہیں (وہ سب سے بےنیاز ہے) یعنی جو میدان جنگ میں اللہ کے دشمنوں سے لڑے گا یا اپنے نفس سے جہاد کرے ‘ ممنوعہ خواہشات سے اپنے آپ کو روکے گا ‘ شیطان کا مقابلہ کرے گا ‘ طاعت خداوندی پر جمع رہے گا ‘ شیطانی وسوسوں کو دفع کرے گا۔ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ لوگوں کی عبادت وطاعت کی اللہ کو حاجت نہیں ‘ اس نے اپنے بندوں کو اپنی عبادت کا حکم محض اپنی رحمت سے دیا اور انہی کے فائدوں کے لئے دیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(6) اب یہ آیت خاص حضرت علی ؓ اور ان کے دونوں ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی کہ بدر کے دن جو اللہ کے رستہ میں جہاد کر رہا ہے اس کا ثواب اسی کو ملے گا اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں کے جہاد سے غنی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ : ”جَھَدَ یَجْھَدُ“ کا معنی کوشش کرنا ہے اور ”جاھد“ (مفاعلہ) میں مقابلے کا مفہوم بھی ہے اور مبالغے کا بھی، یعنی کسی کے مقابلے میں پوری کوشش لگا دینا۔ مومن کو اللہ تعالیٰ کے احکام پر کاربند رہنے کے لیے بہت سی چیزوں کے مقابلے میں جدوجہد کرنا پڑتی ہے، اسے اپنے نفس کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے جو ہر وقت اسے اپنی خواہش کا غلام بنانے کے لیے زور لگاتا رہتا ہے، شیطان کا بھی جس نے اس کی دشمنی کی قسم کھا رکھی ہے اور اپنے گھر سے لے کر تمام دنیا کے ان انسانوں کا بھی جو اسے راہ حق سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں، حتیٰ کہ اسے اس کوشش میں لڑائی بھی کرنا پڑتی ہے، جس میں وہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 4–7

ام احسب الذین یعلمون۔۔۔۔۔۔۔ اس سے مراد وہ شرک ہے آن یسبقونا وہ ہماری گرفت سے نکل سکتے ہیں اور ہمیں عاجز کرسکتے ہیں قبل اس کے کہ ہم ان کا مواخذہ کریں ان اعمال کا جو وہ کرتے رہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : الذین سے مراد ولید بن مغیرہ، ابو جہل، اسود، عاص بن ہشام، شبہ، عتبہ، ولید بن عتبہ، عقبہ بن ابی معیط، حنظلہ بن ابی سفیان اور عاص بن وائل ہیں۔ انہوں نے اپنے رب کی صفات میں جو یہ فیصلہ کیا وہ کتنا برا فیصلہ ہے کہ اس پر سبقت لی جاسکتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے۔ مامحل نصب میں ہے یہ ساء شیاء او حکم یحکمون کے معنی میں ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ مامحل رفع میں ہو معنی ہوگا یہ زجاج کا قول ہے۔ ابن…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 5–7

1۔ ابن ابی حاتم عن سعید بن جبیر وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت من کان یرجوا لقاء اللہ سے مراد ہے کہ جو شخص آخرت میں دوبارہ اٹھائے جانے سے ڈرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمَنْ جَاهَدَ [اور جو جدوجہد کرتا ہے ] فَاِنَّمَا [تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يُجَاهِدُ [وہ جدوجہد کرتا ہے ] لِنَفْسِهٖ ۭ [اپنے نفس کے (بھلے کے) لئے ] اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ ] لَغَنِيٌّ [یقینا بےنیاز ہے ] عَنِ الْعٰلَمِيْنَ [تمام جہانوں سے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 5–6

ہر شخص کا مجاہدہ اس کے اپنے نفس کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ سارے جہانوں سے بےنیاز ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کی امید رکھتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ اسے ثواب ملے تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ملاقات اور ثواب عطا فرمانے کے لیے ایک وقت مقرر فرمایا ہے اور وہ وقت ضرور آئے گا اور جو عمل ثواب کے لائق ہوگا اس پر ضرور ثواب ملے گا، اللہ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے وہ سب کی دعائیں سنتا ہے، آرزوئیں جانتا ہے، سب کے اعمال سے باخبر ہے وہ تمام مخلصین کو بہترین بدلہ عطا فرمائے گا۔ اہل ایمان کو جو ایمان قبول کرنے پر بعض مرتبہ تکلیفیں ہوتی ہیں اور دشمنان دین سے اذیت پہنچتی ہے یہ ایک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–13

تنبیہ اہل ایمان برحکمت اہل شدائد وآفات زمان کہ آں تمیز مخلص ومنافق است وتشجیع اہل ہدایت بر صبرواستقامت وتشنیع اہل ضلالت وغوایت قال اللہ تعالیٰ الم احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا۔۔۔ الی۔۔۔ ولیسئلن یوم القیمۃ عما کانوا یفترون۔ (شان نزول) ایک دن آنحضرت ﷺ کعبہ کی دیوار سے تکیہ لگائے سایہ میں بیٹھے تھے تو بعض صحابہ نے مشرکین کی شکایت کی کہ وہ ہمیں طرح طرح سے ایذائیں پہنچا رہے ہیں آپ ﷺ ہمارے لئے دعا کریں کہ کافروں کا یہ ظلم وستم ہم سے ٹل جائے یہ سن کر آپ ﷺ ناراض ہوئے اور فرمایا کہ تم سے پہلے گزشتہ دینداروں کے سر آروں سے چیرے گئے اور ان کے دو ٹکڑے کئے گئے مگر وہ اپنے دین سے نہیں ہٹے اور بعضوں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–7

5:۔ یہ ان مومنوں کے لیے بشارت اخروی ہے جنہوں نے توحید کی خاطر مصائب و آلام پر صبر کیا۔ اٰمنوا، اللہ کی توحید پر ایمان لائے۔ وعملوا الصلحت، اور توحید کی راہ میں مصائب برداشت کیے۔ ولنجزینہم احسن الخ، ان کے اعمال کی ہم ان کو احسن (سب سے بہتر) جزاء دیں گے یعنی ایک نیکی کے بدلے دس گنا یا اس سے زیادہ ثواب جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالہا ای احسن جزاء اعمالھم والجزاء الحسن ان یجازی بحسنۃ حسنۃ واحسن الجزاء ان تجازی الحسنۃ الواحدۃ بالعشر وزیادۃ (روح ج 20 ص 138) ۔ حضرت شیخ (رح) نے فرمایا، یا مطلب یہ ہے کہ ہم ان کو احسن اعمال یعنی ہجرت کی جزاء دیں گے کیونکہ ہجرت کا ذکر اشارۃً…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–7

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام اس کی آیت 014 میں آمدہ لفظ عنکبوت سے مآخوذ سورة العنکبوت ہے۔ اللہ نے اس آیت میں شرک کے بودہ پن کو مکڑی کے جالے کے کے ساتھ تشبیہ دے کر بات سمجھائی ہے کہ اللہ کے علاوہ دوسرے کو معبود ٹھہرانے کی مثال مکڑی کے جالے کی طرح ہے جو کہ کمزور ترین گھر ہوتا ہے۔ ترتیب نزول کے اعتبار سے یہ سورة الروم کے بعد نازل ہوئی مگر ترتیب تلاوت میں اس کو مقدمہ رکھا گیا ہے۔ یہ سورة مکی دور کے اس زمانہ میں نازل ہوئی جب کہ اہل ایمان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے ، چناچہ اللہ نے ابتدائی آیات میں ہی مسلمانوں کو تسلی دی ہے کہ ایمان قبول کرنے کے بعد آزمائش سے گزرنا پڑے گا ، اور جو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَنْ جَاہَدَ فَاِنَّمَا يُجَاہِدُ لِنَفْسِہٖ۝ 0ۭ اِنَّ اللہَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ۝ 6 جهد الجَهْدُ والجُهْد : الطاقة والمشقة، وقیل : الجَهْد بالفتح : المشقة، والجُهْد : الوسع . وقیل : الجهد للإنسان، وقال تعالی: وَالَّذِينَ لا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ [ التوبة/ 79] ، وقال تعالی: وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ النور/ 53] ، أي : حلفوا واجتهدوا في الحلف أن يأتوا به علی أبلغ ما في وسعهم . والاجتهاد : أخذ النفس ببذل الطاقة وتحمّل المشقة، يقال : جَهَدْتُ رأيي وأَجْهَدْتُهُ : أتعبته بالفکر، والجِهادُ والمجاهدة : استفراغ الوسع في مدافعة العدو، والجِهَاد ثلاثة أضرب : - مجاهدة…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–7

ومن جاھد فانما یجاھد لنفسہٖ الخ اور یہ بھی یاد رہے کہ جو کوئی نیکی میں کوشش اور سرگرمی کرتا ہے تو اپنے فائدہ کے لیے کیونکہ اللہ کو کسی کی کچھ بھی حاجت نہیں۔ اصول دین تین ہیں، مبداء کا پہچاننا اس کی طرف امنا میں اشارہ کیا اور وسط کا جاننا وہ رسولوں کا بھیجنا اور شریعت کا قائم کرنا اسی کی طرف وھم لایفتنون میں اشارہ کیا۔ معاد سے واقف ہونا اس کی طرف من کان یرجوا میں اشارہ کیا۔ اس میں یہ بھی بتلادیا کہ مرنے کے بعد روح جاتی رہتی ہے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَنْ جَاھَدَ فَاِنَّمَا یُجَاھِدُ لِنَفْسِہٖ ط اِنَّ اللّٰہَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (العنکبوت : 6) (اور جو شخص بھی جدوجہد کرے گا وہ اپنے ہی بھلے کے لیے جدوجہد کرے گا، بیشک اللہ دنیا جہان والوں سے بےنیاز ہے۔ ) ایک غلط فہمی کا ازالہ اس آیت کریمہ میں ایک بہت بڑی غلط فہمی پر توجہ دلائی جارہی ہے۔ راسخ الایمان صحابہ کرام ( رض) کے بارے میں تو یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، لیکن وہ لوگ جو نئے نئے دائرہ ایمان میں آتے یا اسلامی تعلیمات سے متأثر ہوتے، لیکن کفار کی بےپناہ مخالفت کو دیکھ کر یہ سمجھ کر پیچھے ہٹ جاتے کہ یہ بہت کٹھن راستہ ہے جس پر ہم نہیں چل سکتے۔ ایسے لوگوں کو تنبہ کرتے ہوئے فرمایا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–7

فہم القرآن ربط کلام : انسان دنیا میں رہ کر جو کچھ بھی کرے گا اس کا نفع و نقصان اسی کو پہنچے گا۔ اس فرمان میں بھی ظالموں کو ایک طرح کا انتباہ کیا گیا ہے کہ ہر شخص اچھا ہو یا برا، جو بھی کام کرتا ہے اس کا نفع و نقصان اسی کو ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کی نیکی کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا اور اگر کوئی زندگی بھر گناہ کرتا رہے تو رب کی ذات اور اس کی بادشاہی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ وہ ہر کمزوری سے مبرّا اور ہر قسم کی ضرورت سے بےنیاز ہے۔ یہ بات موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اِ ن الفاظ میں سمجھائی تھی۔ اے میری قوم ! تم اور جو کوئی زمین میں بسنے والا ہے سب کے سب کفر پر جم جاؤ پھر بھی اللہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

6: وَمَنْ جَاہَدَ (جس نے اپنے نفس سے جہاد کیا) ۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ‘ نفس کو مضبوطی سے روک کر۔ نمبر 2۔ وساوس کو دور کر کے شیطان سے جہاد کیا۔ نمبر 3۔ کفار سے جہاد کیا۔ فَاِنَّمَا یُجَاہِدُ لِنَفْسِہٖ (پس بیشک وہ اپنے نفس کیلئے جہاد کرے گا) کیونکہ اس کا فائدہ اسے ہی ملے گا، اِنَّ اللّٰہَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ (اللہ تعالیٰ تو جہاں والوں میں سب سے بےنیاز ہیں) ان کی اطاعت اور مجاہدات کی اسے ضرورت نہیں۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے او امر و نواہی یہ بندوں پر محض رحمت ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

6۔ ومن جاھد فانما یجھاھد لنفسہ، ،، اس کے لیے ثواب ہے۔ جہاد کا معنی کیا ہے شدت اور سختی پر صبر کرنا اور یہ جنگ کے وقت ہوتا ہے اور کبھی کبھار مخالفت نفس پر بھی ہوتا ہے۔ ان اللہ لغنی عن العالمین، ، انکے اعمال اور ان کی عبادات سے لاپروا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 5–7

5 تا 7۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جس کو آخرت میں خدا تعالیٰ سے ملنے کی امید اور اپنے اچھے کاموں کے ثواب پانے کا بھروسہ ہے اللہ تعالیٰ اس کے امید کو پورا کرے گا اس واسطے کہ وہ دعا کا سننے والا اور تمام عملوں کا دیکھنے والا ہے پھر فرمایا جو محنت کر کے اچھے عمل کرے وہ اپنے ہی واسطے کرتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ بندوں کے نیک عملوں سے بےپرواہ کسی کا نیک اور پرہیز گار ہونا خدا کی بادشاہت میں کچھ رونق نہیں بڑھاتا اس پر بھی وہ ایمان والوں کو عمدہ جزادے گا اور ان کو برائیوں کو ان کے ایمان اور نیک عمل کی برکت سے دور کر دے گا اور اچھے سے اچھا ان کے عملوں کا بدلہ دے گا ایک نیکی کا دس گنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 5–6

آیت 5 اے اپنے رب کے ساتھ محبت کرنے والے ! اس کے قرب اور اس کی ملاقات کا اشتیاق رکھنے والے ! اور اس کی رضا کے حصول کی خاطر بھاگ دوڑ کرنے والے ! اپنے محبوب کی ملاقات کے وقت کے قریب آنے پر خوش ہوجا کیونکہ وہ وقت آنے والا ہے اور ہر آنے والا وقت قریب ہوتا ہے۔ اپنے محبوب کی ملاقات کے لئے زاد راہ لے کر، امید کو اپنا ساتھی بنا کر اور محبوب کے وصل کی آرزو کرتے ہوئے اس کی طرف رواں دواں ہوجا۔ مگر ہر شخص کو، اس کے دعویٰ کرنے پر عطا نہیں کردیا جاتا اور نہ اس کی ہر تمنا پوری کردی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آوازوں کو سننے والا اور نیتوں کو جاننے والا ہے اس لئے جو کوئی اپنے دعوے اور تمناؤں میں سچا ہے اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

4 ہر کسی کا عمل اس کے اپنے ہی لیے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جس نے محنت و مشقت کی تو اس نے خود اپنے ہی بھلے کا سامان کیا "۔ کہ اس کا صلہ و بدلہ خود اسی کو ملے گا اور اس کا فائدہ براہ راست اسی کو پہنچے گا ورنہ اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ تو اس سے ہر لحاظ سے غنی اور بےنیاز ہے۔ اس کو نہ کسی کی اطاعت و عبادت سے کسی طرح کا کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے اور نہ کسی کی معصیت و نافرمانی سے اس کے کسی ضرر و نقصان کا کوئی سوال پیدا ہوتا ہے۔ وہ ہر کسی سے، ہر طرح سے اور ہر اعتبار سے غنی و بےنیاز ہے۔ یہ سب کچھ ہر انسان اپنے ہی لئے کرتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { مَنْ عَمِلَ صَالِحًا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–7

برے لوگوں کے لیے خبر اور ایمان والوں کا انجام تشریح : اللہ کا وعدہ ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اور نیک و بد کو اس کا بدلہ ضرور ملے گا۔ بلکہ برے کو صرف برائی کا بدلہ ملے گا جب کہ نیک کے چھوٹے موٹے گناہ اللہ ویسے ہی معاف کر دے گا اور نیکی کا بدلہ کئی گنا زیادہ دیا جائے گا۔ کیونکہ وہ سب کچھ دیکھتا ہے ‘ سنتا ہے اور جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–13

آیات 1 تا 13 اسرارو معارف راہ حق میں آزمائش : راہ حق میں مصیبت سے گھبرانا درست نہیں کیا لوگوں کا یہ گمان ہے کہ صرف یہ کہ دینے سے کہ ہم مومن ہیں وہ چھوٹ جائیں گے اور ان پر کوئی آزمائش نہ آئے گی یقینا آزمائش ضرور آئے گی بلکہ ان سے پہلی ساری امتوں کو آزمایا گیا اور اللہ نے کھرے اور کھوٹے سچے اور جھوٹے کو الگ الگ ثابت کردیا۔ آج کے مسلمان کا جو خیال ہے کہ کوئی ایسا راستہ ہو کہ اسلام پر بھی کاربند رہا جائے اور کافر بھی ناراض نہ ہوں اور کوئی مصیبت بھی کھڑی نہ کردیں یہ خیال خام ہے جو بھی حق پر عمل پیرا ہوگا اس کی آزمائش ضرور ہوگی ہاں کفار یہ نہ جان لیں کہ وہ برای کر کے اللہ کی گرفت سے بچ جائیں گے ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 5–6

10 ۔ اس سے مراد ہے نیک کاموں میں مشقت اٹھاتا۔ کفار اور اپنے نفس سے مجاہدہ بھی اس میں شامل ہے۔ 1 ۔ اس کو نہ کسی کی عبادت سے کوئی فائدہ ہے اور نہ کسی کے گناہ سے کوئی نقصان۔ بلکہ اگر کسی کو توفیق ملی ہے تو اسے مزید اللہ تعالیٰ کا شکرگزار ہونا چاہیے۔ (دیکھئے سورة آل عمران 97 و سورة نمل 40)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(29:6) جاھد ماضی واحد مذکر غائب۔ مجاھدۃ مفاعلۃ مصدر اس نے جہاد کیا اس نے کوشش کی۔ الجھد والجھد کے معنی وسعت و طاقت اور تکلیف و مشقت کے ہیں۔ مجاہدہ باب مفاعلہ سے ہے باب مفاعلہ میں مقابلہ کا مفہوم پایا جاتا ہے یہ مقابلہ اپنے نفس سے بھی ہوسکتا ہے اور شیطان یا دیگر شیطانی قوتوں سے بھی۔ پھر مفاعلہ میں مبالغہ کا بھی مفہوم پایا جاتا ہے چناچہ اس کے معنی انتہائی کوشش کے بھی ہوسکتے ہیں اور باب افتعال سے الاجتہاد کے معنی کسی کام پر پوری طاقت صرف کرنے اور اسمیں انتہائی مشقت اٹھانے پر طبیعت کو مجبور کرنے کے ہیں۔ یہاں جاھد سے مراد۔ جاھد فی طاعۃ اللہ یا فی لقاء اللہ ہے یعنی اللہ عزوجل کی اطاعت میں کوشش کرتا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–7

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 7 : حسب (گمان کیا۔ خیال کیا) ‘ لایفتنون (وہ آزمائے نہ جائیں گے) ‘ ساء (برا ہے) ‘ یرجوا ( امید رکھتا ہے) یجاھد ( وہ جدوجہد۔ کوشش کرتا ہے) ‘ غنی (بےنیاز) نکفرن ( ہم ضرور اتاردیں گے) نجزین ( ہم ضرور بدلہ دیں گے) احسن ( زیادہ بہتر) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 7 : اس سورت کا آغاز بھی حروف مقطعات سے کیا گیا ہے یعنی جن حروف کے معنی کا علم اللہ کو ہے۔ جب انسان حق و صداقت یعنی ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کرتا ہے تو اس کو باطل نظام زندگی اور ظالموں کی قوت و طاقت سے ٹکرانا پڑتا ہے۔ یہ اتنی بڑی آزمائش اور امتحان ہے کہ حالات کے سامنے اگر وہ ڈٹ کر اور جم کر کھڑا ہوجائے اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–7

مسلمانوں کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جس کو آخرت میں اللہ سے ملنے کی امید اور اپنے اچھے کاموں کے ثواب پانے کا بھروسہ ہے اللہ تعالیٰ اس کی امید کو پورا کرے گا کہ وہ دعا کا سننے والا اور تمام عملوں کا دیکھنے والا ہے، پھر فرمایا جو محنت کرکے اچھے عمل کرے وہ اپنے ہی واسطے کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ بندوں کے نیک عملوں سے بےنیاز ہے کسی کا نیک اور پرہیزگار ہوناخدا کی بادشاہت میں کچھ رونق نہیں بڑھاتا، اس پر بھی ایمان والوں کو عمدہ جزا دے گا اور ان کی برائیون کو ان کے ایمان اور نیک عمل کی برکت سے دور کردے گا اور اچھے ان کے کے عملوں کا بدلہ دے گا اور برائی کی سزابقدر برائی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 4–8

[3] مکہ میں جو نوجوان ایمان لائے تھے ان کے والدین ایمان سے باز رہنے کے لئے ان پر زور ڈال رہے تھے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ گویا بتلا دیا کہ والدین کا خلاف حق پر مجبور کرنا یہ بھی ایک آزمائش ہے اور مومن کو چاہئے کہ ان کی خاطر دین کو نہ چھوڑے۔ دنیا میں ماں باپ سے زیادہ کسی کا حق نہیں لیکن اللہ کا حق ان سے زیادہ ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 3–6

ف 1: مکہ کی زندگی میں مسلمانوں کو جب تکلیفیں پہنچتیں ۔ تو بعض ضعیف ال ایمان مسلمان گھبرا اٹھتے ۔ اس پر ان آیات کا نزول ہوا ۔ کہ صرف امنا کہہ دینا کافی نہیں بلکہ آزمائش شرط ہے ۔ اللہ تعالیٰ واقعات کے رنگ میں دیکھنا چاہتے ہیں ۔ کہ ان لوگ قول وعمل کے لحاظ سے صادق ہیں اور کون لوگ قول وعمل کے لحاظ سے کاذب ہیں ۔ کن لوگوں کے دلوں میں ایمان مضبوط ہوچکا ہے ۔ اور کون لوگ ہنوز ضعیف ال ایمان ہیں ۔ حل لغات :۔ لیعلمن ۔ اللہ کا علم ازلی ہے ۔ اس میں واقعات و حوادث سے کوئی تغیر پیدا نہیں ہوتا ۔ اس لئے اس سے مراد علم مستانف نہیں ہے ۔ بلکہ وہ علم ہے جو حالات کے بروئے کار آنے سے ہوتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

6۔ اور جو شخص کوشش اور محنت کرتا ہے تو وہ اپنے بھلے اور فائدے کو کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ تو یقینا اہل عالم اور اقوام عالم سے مستغنی اور بےنیاز ہے اور اس کو تمام جہان والوں میں سے کسی کی حاجت اور پروا نہیں ۔ مدعا صاف ہے کہ جو جس قدر مشقت سے اور محنت کرے گا اور مصائب و تحمل کریگا اس کا اجر اور صلہ اس کو ہی ملے گا ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 4–6

ف 6۔ یہ جملہ معترضہ کے طور پر ہے جس میں کفار کی بد انجامی سناکر مسلمانوں کی ایک گونہ تسلی کردی کہ ان ایذاوں کا ان سے بدلہ لیا جاوے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو شخ بھی محنت کرتا ہے بلاشبہ اس کی محنت کا اس کو فائدہ بھی ملتا ہے : 6۔ جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کے دین کو غالب کرنے اور اس کی خوشنودی اور رضا کی طلب میں مخالف قوتوں سے جان لڑاتا ہے وہ مخالف طاقت چاہے اس کا اپنا نفس ہی کیوں نہ ہو اور چاہے وہ شیطان اور کافر ہوں بہرحال وہ ہر محاذ پر لڑنے کے لئے تیار رہتا ہے چاہے اس کو مال و دولت سے لڑنا پڑے یا جان سے تو بلاشبہ اس کا فائدہ بھی اسی کو ہوتا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کی ذات تو دنیا جہاں کے سارے ہی انسانوں سے بےنیاز اور مستغنی ہے کہ اسے اپنی الوہیت قائم رکھنے کے لئے لوگوں کی مدد کی ضرورت ہو اور دراصل جس آزمائش کا پیچھے ذکر چلا تھا ابھی اس کی تشریح کی جا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–8

Commentary وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ (And We have instructed man - 29:8). Wasiyyah (وَصِیَّۃ) means to call someone for some action, when the call is based on advice and well wishing. (Mazhari) بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا (to do good to his parents - 29:8). The Word Husn (حُسن) is an infinitive which means ' to be good'. at is meant here is to adopt good behavior. The meaning of the sentence is quite clear that Allah Ta’ ala has advised man to treat his parents kindly. وَإِن جَاهَدَاكَ لِتُشْرِ‌كَ بِي (And if they insist upon you that you should ascribe partners to Me - 29:8). It should be taken…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

8 The word mujahadah means to struggle and exert one's utmost against an opponent , and when the particular opponent force is not pointed out, the word implies an all-out, many-sided struggle. The struggle that a believer has to make in the world, is of this very nature. He has to fight against Satan, who frightens him every moment of the possible losses he thay have to incur for the sake of good and allures him with the benefits and pleasures of the evil. He has to fight his own self also, which exerts to make him the slave of its lusts. He has also to fight all those men, from home to the…

Read the full tafseer →