Explained with ayahs 5–7
نیکیوں کی کوشش
جنہیں آخرت کے بدلوں کی امید ہے اور اسے سامنے رکھ کر وہ نیکیاں کرتے ہیں۔ ان کی امیدیں پوری ہونگی اور انہیں نہ ختم ہونے والے ثواب ملیں گے۔ اللہ دعاؤں کا سننے والا اور کل کائنات کا جاننے والا ہے اللہ کا ٹھہرایا ہوا وقت ٹلتا نہیں۔ پھر فرماتا ہے ہر نیک عمل کرنے والا اپنا ہی نفع کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بندوں کے اعمال سے بےپرواہ ہے۔ اگر سارے انسان متقی بن جائیں تو اللہ کی سلطنت میں کوئی اضافہ نہیں ہوسکتا۔ حضرت حسن فرماتے ہیں جہاد تلوار چلانے کا ہی نام نہیں۔ انسان نیکیوں کی کوشش میں لگا ہے یہ بھی ایک طرح کا جہاد ہے۔ اس میں شک نہیں کہ تمہاری نیکیاں اللہ کے کسی کام نہیں آتیں لیکن بہر حال اس…
Read the full tafseer →سورة العنکبوت 6
یعنی جو شخص حیات اخروی کا قائل ہی نہ ہو اور یہ سمجھتا ہو کہ کوئی نہیں ہے جس کے سامنے ہمیں اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہو اور کوئی وقت ایسا نہیں آنا ہے جب ہم سے ہمارے کارنامہ زندگی کا محاسبہ کیا جائے، اس کا معاملہ تو دوسرا ہے۔ وہ اپنی غفلت میں پڑا رہے اور بےفکری کے ساتھ جو کچھ چاہے کرتا رہے۔ اپنا نتیجہ اپنے اندازوں کے خلاف وہ خود دیکھ لے گا۔ لیکن جو لوگ یہ توقع رکھتے ہیں کہ ایک وقت ہمیں اپنے خدا کے حضور حاضر ہونا ہے اور اپنے اعمال کے مطابق جزا و سزا بھی پانی ہے، انہیں اس غلط فہمی میں نہ رہنا چاہیے کہ موت کا وقت کچھ بہت دور ہے۔ ان کو تو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ بس قریب ہے آلگا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
فَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا، یعنی ان امتحانات اور شدائد کے ذریعہ مخلص اور غیر مخلص اور نیک و بد میں ضرور امتیاز کریں گے۔ کیونکہ مخلصین کے ساتھ منافقین کا خلط ملط بعض اوقات بڑے نقصانات پہنچا دیتا ہے مقصد اس آیت کا نیک و بد اور مخلص و غیر مخلص کا امتیاز واضح کردینا ہے، جس کو اس طرح تعبیر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جان لے گا صادقین کو اور کا ذبین کو، اللہ تعالیٰ کو تو ہر انسان کا صادق یا کاذب ہونا اس کے پیدا ہونے سے پہلے بھی معلوم ہے، امتحانات اور آزمائشوں کے جان لینے کے معنی یہ ہیں کہ اس امتیاز کو دوسروں پر بھی ظاہر فرما دیں گے۔
اور حضرت سیدی حکیم الامت تھانوی نے اپنے شیخ مولانا…
Read the full tafseer →من کان یرجوا لقء اللہ فان اجل اللہ لات ط وھو السمیع العلیم (5)
یہ مظلوم مسلمانوں کو تسلی دی ہے کہ بہرحال تمہیں ہر کام آخرت کی امید پر کرنا ہے اور اگر تم یہ امید رکھتے ہو تو اطمینان رکھو کہ اللہ نے اس کے لئے جو مدت ٹھہرا رکھی ہے وہ لازماً پوری ہو کے رہے گی۔ ایک دن تم اپنے رب سے ملو گے اور اس دن تم اپنی ہراس محنت و زحمت کا صلہ پا جائو گے جو اس کی خاطر تم نے جھیلی ہوگی۔ خدا وسمع وعلیم ہے۔ کوئی چیز اس کے احاطہ ٔ علم سے باہر نہیں ہے۔ تمہاری سرفروشیاں بھی اس کے علم میں ہوں گی اور تمہارے دشمنوں کی ستم رانیاں بھی اس کے سامنے ہوں گی۔
Read the full tafseer →5-1یعنی جسے آخرت پر یقین ہے اور وہ اجر وثواب کی امید پر اعمال صالحہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی امیدیں بر لائے گا اور اسے اس کے عملوں کی مکمل جزاء عطا فرمائے گا، کیونکہ قیامت یقینا برپا ہو کر رہے گی اور اللہ کی عدالت ضرور قائم ہوگی۔
-5-2وہ بندوں کی باتوں اور دعاؤں کا سننے والا اور ان کے پیچھے اور ظاہر سب عملوں کو جاننے والا ہے اسکے مطابق وہ جزا اور سزا بھی یقینا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
2: اس میں دین کے راستے میں کی ہوئی ہر محنت داخل ہے، چاہے وہ نفس اور شیطان کا مقابلہ کرنے کی محنت ہو یا تبلیغ و دعوت کی محنت یا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے کی محنت۔
Read the full tafseer →من کان یرجوا ۔۔۔۔۔۔۔ السمیع العلیم (5)
جو دل اللہ کی ملاقات کی امیدیں لیے ہوئے ہیں وہ مطمئن ہوجائیں اور انتظار کریں ان چیزوں کا جن کا اللہ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا ہے۔ یہ انتظار اس انداز کا ہونا چاہئے جس طرح کسی کو کسی چیز کے ملنے کا پختہ یقین ہو اور وہ اس کا منظر ہو۔ بس دن کے آنے کا انتظار ہو ، اور شوق ملاقات بڑھتا ہی جائے۔ یہاں ایسے پاکیزہ قلوب کی تصویر بڑی اشاراتی ہے۔ ایک ایسے شخص کی تصویر جو ملاقات کا امیدوار بھی ہے ، مشتاق بھی ہے ، مربوط بھی ہے اور ایسے شخص کے شوق کے جواب میں اسے نہایت ہی فرحت بخش اشارے ملتے ہیں کہ دیکھو ہم دیکھ رہے ہیں ، سن رہے ہیں اور ہمیں پورا پورا علم ہے۔
وھو السمیع…
Read the full tafseer →2 یعنی جو شخص اس توقع پر سختیاں اٹھا رہا ہے کہ ایک دن مجھے اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے جہاں بات بات پر پکڑ ہوگی۔ ناکامیاب ہوا تو یہاں کی سختیوں سے کہیں بڑھ کر سختیاں جھیلنی پڑیں گی اور کامیاب رہا تو ساری کلفتیں ڈھل جائیں گی اللہ کی خوشنودی اور اس کا دیدار نصیب ہوگا۔ ایسا شخص یاد رکھے کہ اللہ کا وعدہ آرہا ہے، کوئی طاقت اسے پھیر نہیں سکتی۔ اس کی اعلیٰ توقعات پوری ہو کر رہیں گی اور اس کی آنکھیں ضرور ٹھنڈی کی جائیں گی۔ اللہ سب کی باتیں سنتا اور جانتا ہے کسی کی محنت رائگاں نہ کرے گا۔
Read the full tafseer →آیت 5 مَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَآء اللّٰہِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰہِ لَاٰتٍ ط ”
یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ اگر ایک بندۂ مؤمن دنیا میں اپنا تن من دھن اس کی راہ میں کھپا دے گا تو اس کی اس قربانی کا صلہ اسے آخرت کی نعمتوں کی صورت میں دیا جائے گا۔ لیکن اللہ کا یہ وعدہ بہر حال ادھار کا وعدہ ہے۔ دوسری طرف دنیا کے ظاہری معاملات کو دیکھتے ہوئے انسان ”نو نقد نہ تیرہ ادھار“ کے اصول پر زیادہ اطمینان محسوس کرتا ہے۔ انسان کی اسی کمزوری سے شیطان فائدہ اٹھاتا ہے اور اس کے دل میں وسوسے ڈال کر اس کے یقین کو متزلزل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ چناچہ اسی حوالے سے یہاں حضرت بلال ‘ حضرت ابو فکیہہ اور حضرت خباب جیسے صحابہ رض اور…
Read the full tafseer →5 اور جو لوگ دین اسلام کی سربلندی کے لئے ہر طرح کے مصائب و مشکلات بڑی خندہ پیشانی سے برداشت کر رہے ہیں اس توقع پر کہ موت کے بعد یفیناً انھیں ان باتوں کا اجر ملنے والا ہے تو انھیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ان کی موت کا وقت آنے ہی والا ہے۔ دنیا کی زندگی بس چند روزہ زندگی ہے۔ اس کے بعد یقینا ان کی اللہ سے ملاقات ہوگی اور انھیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا۔ کیونکہ ان کے تمام اعمال و اقوال اللہ سے پوشیدہ نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
3۔ (سوایسوں کو تو ان واقعات سے پریشانی کی مطلق کوئی وجہ نہیں۔ وقت موعود پر ان کے سارے غم غلط ہو کر رہیں گے) (آیت) ” ام ...... یحکمون “۔ مشرک جاہلی قوموں کا اپنے دیوی دیوتاؤں پر قیاس کرکے خود حق تعالیٰ کے متعلق بھی یہ سمجھے رہنا کہ اس کی گرفت سے نکل جانا بالکل ممکن ہوگا، ذرا بھی تعجب انگیزنہ تھا۔
4۔ ہر طاعت قولی سے واقف۔ ہر طاعت فعلی پر مطلع۔ اس کی راہ میں آج جتنی بھی کلفتیں انہیں اٹھانا پڑرہی ہیں سب کی جزائے خیر ایک ایک کرکے انہیں مل کر رہے گی، خدائے اسلام جاہلی قوموں کے دیوتاؤں کی طرح نہیں کہ اس کا علم ناقص ہو، اس کے حواس محدود ہوں وغیرہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 13
ترجمہ : الم اس کی مراد تو اللہ ہی کو معلوم ہے کیا ان لوگوں نے یہ گمان کررکھا ہے کہ ان کے صرف یہ کہنے پر کہ ہم ایمان لائے ہم انہیں آزمائے بغیر چھوڑدیں گے ان کو ایسی چیزوں سے آزمایا جائے گا کہ جن سے ان کے ایمان کی حقیقت ظاہر ہوجائے، یہ ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جب وہ ایمان لائے تو مشرکین نے اذیت پہنچائی اللہ تعالیٰ ان سے پہلے والوں کو بھی آزما چکا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بھی جانچے گا جو اپنے ایمان میں سچے تھے مشاہدہ کے طور جانچنا اور ایمان کے بارے میں جھوٹوں کو بھی معلوم کے گا، کیا جو لوگ برائیاں یعنی شرک اور معاصی کررہے ہیں یہ سمجھتے ہیں…
Read the full tafseer →ما کان یرجوا لقاء اللہ فان اجل اللہ لات وھو السمیع العلیم . جو شخص اللہ سے ملنے کی امید رکھتا
ہو سو اللہ تعالیٰ (سے ملنے) کا وہ معین وقت ضرور آنے والا ہے اور وہی سب کچھ جاننے والا ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس جگہ رجاء کا معنی ہے خوف یعنی جو شخص حشرنشر ‘ حساب فہمی اور عذاب خدا سے ڈرتا ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : رجاء بمعنی طمع ہے یعنی جو شخص ثواب کا خواہشمند ہے۔
میں کہتا ہوں : یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جو شخض (دنیا میں) اللہ کے دیدار کا خواہشمند ہے۔ اس مطلب پر آیت سے استدلال کیا جاسکے گا کہ دنیا میں اللہ کا دیدار نہیں ہوسکتا۔ ہاں بعض روایات میں آیا ہے کہ معراج میں رسول اللہ نے اللہ کو دیکھا…
Read the full tafseer →(5) جو شخص بعث بعد الموت سے ڈرتا ہے تو بعث بعد الموت ضرور ہو کر رہے گی وہ بدر کے دن کی ان دونوں جماعتوں کی سب باتوں کو سننے والا اور جو کچھ ان کو پیش آئے گا سب کا جاننے والا ہے۔
Read the full tafseer →مَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاۗءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ۔۔ : اس آیت میں ایمان والوں کے لیے خوش خبری ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کی امید رکھتا ہے وہ اس چند روزہ آزمائش پر صبر کرنے اور زیادہ سے زیادہ نیک عمل کرنے کی کوشش کرے، تو اس کی امید ضرور پوری ہوگی، کیونکہ اللہ کا مقرر کردہ وقت ضرور آنے والا ہے اور وہ بندے کی دعا کو اور اس کے عمل کو بلکہ کائنات کی ہر آواز اور ہر کام کو سننے والا اور جاننے والا ہے۔ قرآن مجید میں دو قسم کے لوگ بیان ہوئے ہیں، ایک وہ جو قیامت پر یقین رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ملاقات کی امید رکھتے ہیں، ان کا اس آیت میں ذکر ہے اور سورة کہف کی آخری آیت میں بھی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
ام احسب الذین یعلمون۔۔۔۔۔۔۔ اس سے مراد وہ شرک ہے آن یسبقونا وہ ہماری گرفت سے نکل سکتے ہیں اور ہمیں عاجز کرسکتے ہیں قبل اس کے کہ ہم ان کا مواخذہ کریں ان اعمال کا جو وہ کرتے رہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : الذین سے مراد ولید بن مغیرہ، ابو جہل، اسود، عاص بن ہشام، شبہ، عتبہ، ولید بن عتبہ، عقبہ بن ابی معیط، حنظلہ بن ابی سفیان اور عاص بن وائل ہیں۔ انہوں نے اپنے رب کی صفات میں جو یہ فیصلہ کیا وہ کتنا برا فیصلہ ہے کہ اس پر سبقت لی جاسکتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے۔ مامحل نصب میں ہے یہ ساء شیاء او حکم یحکمون کے معنی میں ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ مامحل رفع میں ہو معنی ہوگا یہ زجاج کا قول ہے۔ ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
1۔ ابن ابی حاتم عن سعید بن جبیر وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت من کان یرجوا لقاء اللہ سے مراد ہے کہ جو شخص آخرت میں دوبارہ اٹھائے جانے سے ڈرتا ہے۔
Read the full tafseer →مَنْ كَانَ [جو ہے (کہ)] يَرْجُوْا [امید رکھتا ہے ] لِقَاۗءَ اللّٰهِ [اللہ سے ملاقات کی ] فَاِنَّ [تو بیشک ] اَجَلَ اللّٰهِ [اللہ کا (مقرر کردہ) خاتمے کا وقت ] لَاٰتٍ ۭ [یقینا آنے والا ہے ] وَهُوَ [اور وہ ہی ] السَّمِيْعُ [سننے والا ہے ] الْعَلِيْمُ [جاننے والا ہے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ہر شخص کا مجاہدہ اس کے اپنے نفس کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ سارے جہانوں سے بےنیاز ہے
جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کی امید رکھتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ اسے ثواب ملے تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ملاقات اور ثواب عطا فرمانے کے لیے ایک وقت مقرر فرمایا ہے اور وہ وقت ضرور آئے گا اور جو عمل ثواب کے لائق ہوگا اس پر ضرور ثواب ملے گا، اللہ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے وہ سب کی دعائیں سنتا ہے، آرزوئیں جانتا ہے، سب کے اعمال سے باخبر ہے وہ تمام مخلصین کو بہترین بدلہ عطا فرمائے گا۔ اہل ایمان کو جو ایمان قبول کرنے پر بعض مرتبہ تکلیفیں ہوتی ہیں اور دشمنان دین سے اذیت پہنچتی ہے یہ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
تنبیہ اہل ایمان برحکمت اہل شدائد وآفات زمان کہ آں تمیز مخلص
ومنافق است وتشجیع اہل ہدایت بر صبرواستقامت وتشنیع اہل ضلالت وغوایت
قال اللہ تعالیٰ الم احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا۔۔۔ الی۔۔۔ ولیسئلن یوم القیمۃ عما کانوا یفترون۔
(شان نزول) ایک دن آنحضرت ﷺ کعبہ کی دیوار سے تکیہ لگائے سایہ میں بیٹھے تھے تو بعض صحابہ نے مشرکین کی شکایت کی کہ وہ ہمیں طرح طرح سے ایذائیں پہنچا رہے ہیں آپ ﷺ ہمارے لئے دعا کریں کہ کافروں کا یہ ظلم وستم ہم سے ٹل جائے یہ سن کر آپ ﷺ ناراض ہوئے اور فرمایا کہ تم سے پہلے گزشتہ دینداروں کے سر آروں سے چیرے گئے اور ان کے دو ٹکڑے کئے گئے مگر وہ اپنے دین سے نہیں ہٹے اور بعضوں…
Read the full tafseer →4:۔ یہاں سے لے کر رکوع کے آخر تک پہلے دعوے سے متعلق بشارت و تخویف وغیرہ ہے۔ من کان یرجوا الخ مسئلہ توحید کی وجہ سے تم پر مصائب آئیں گے، لیکن جن کے دلوں میں آخرت کا خوف ہے انہیں توحید کی خاطر ہر قسم کی مصیبتیں اور تکلیفیں برداشت کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہنا چاہیے۔ انہیں کافروں کی ایذاء سے ہجرت بھی کرنا ہوگی۔ اس وقت انہیں یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ وہ گھروں سے نکل کر بھوک سے اور دیگر مصائب و آلام سے ہلاک ہوجائیں گے، کیونکہ موت کا وقت مقرر ہے اور وہ اپنے وقت پر ضرور آئے گی خواہ وگھروں ہی میں کیوں نہ بیٹھے رہیں۔ ومن جاھد الخ، ہاں جو لوگ محض دین حق کی خاطر ترک وطن کی مشکلات اور اس کے علاوہ دوسری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام اس کی آیت 014 میں آمدہ لفظ عنکبوت سے مآخوذ سورة العنکبوت ہے۔ اللہ نے اس آیت میں شرک کے بودہ پن کو مکڑی کے جالے کے کے ساتھ تشبیہ دے کر بات سمجھائی ہے کہ اللہ کے علاوہ دوسرے کو معبود ٹھہرانے کی مثال مکڑی کے جالے کی طرح ہے جو کہ کمزور ترین گھر ہوتا ہے۔ ترتیب نزول کے اعتبار سے یہ سورة الروم کے بعد نازل ہوئی مگر ترتیب تلاوت میں اس کو مقدمہ رکھا گیا ہے۔ یہ سورة مکی دور کے اس زمانہ میں نازل ہوئی جب کہ اہل ایمان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے ، چناچہ اللہ نے ابتدائی آیات میں ہی مسلمانوں کو تسلی دی ہے کہ ایمان قبول کرنے کے بعد آزمائش سے گزرنا پڑے گا ، اور جو…
Read the full tafseer →مَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاۗءَ اللہِ فَاِنَّ اَجَلَ اللہِ لَاٰتٍ 0ۭ وَہُوَالسَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ 5
كان
كَانَ «3» : عبارة عمّا مضی من الزمان، وفي كثير من وصف اللہ تعالیٰ تنبئ عن معنی الأزليّة، قال : وَكانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيماً [ الأحزاب/ 40] ، وَكانَ اللَّهُ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيراً
[ الأحزاب/ 27] وما استعمل منه في جنس الشیء متعلّقا بوصف له هو موجود فيه فتنبيه علی أن ذلک الوصف لازم له، قلیل الانفکاک منه . نحو قوله في الإنسان : وَكانَ الْإِنْسانُ كَفُوراً [ الإسراء/ 67] وَكانَ الْإِنْسانُ قَتُوراً [ الإسراء/ 100] ، وَكانَ الْإِنْسانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا [ الكهف/ 54] فذلک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
ترکیب : ان یترکوا ان وما عملت فیہ یسد مسد المفعولین۔ ان یقولوا ای بان یقولوا دیجوز ان یکون بدلا من ان یترکوا من کان شرط و الجواب فان اجل اللہ و التقدیر لایۃً ۔
تفسیر : پہلی سورة کے خاتمہ میں فرمایا تھا کہ ان الذی فرض علیک القرآن لرادک الیٰ معاد اور معاد دار آخرت کی طرف کامیابی کے ساتھ جانا آسان بات نہیں، اس میں بڑی بڑی جانفشانیاں کرنی پڑتی ہیں اور بڑی سختیوں کی برداشت کرنی پڑتی ہے، اس لیے اس سورة میں الم سے ایک خاص 1 ؎ مطلب کی طرف اشارہ کرکے، یہ فرمایا احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا آمنا وھم لایفتنون کہ کیا لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ لا الہ الا اللہ کہہ دینا اور صرف ایمان لا کے بیٹھ رہنا کافی ہے…
Read the full tafseer →مَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَآئَ اللّٰہِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰہِ لَاٰتٍ ط وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔
(العنکبوت : 5)
(جو کوئی اللہ سے ملنے کی توقع رکھتا ہے وہ اطمینان رکھے کہ اللہ کا مقرر کردہ وقت ضرور آکے رہے گا، وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ )
مسلمانوں کو تسلی
اس آیت میں مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ مکہ میں اسلام کے نفوذ کی رفتار اگرچہ بہت سست ہے اور دوسری طرف دشمنانِ اسلام کی اذیت رسانیاں ناقابلِ برداشت ہوتی جارہی ہیں۔ جو شخص بھی منطقی انداز میں اس صغریٰ اور کبریٰ کا نتیجہ نکالے گا اس کی پریشانی میں یقینا اضافہ ہوگا۔ لیکن جو اللہ تعالیٰ کے وعدوں اور فیصلوں پر یقین رکھتا اور اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
فہم القرآن
ربط کلام : مومنوں کو آزمائشوں سے آگاہ کرنے کے بعد ظالموں کو انتباہ۔
جو لوگ بلا وجہ مومنوں کو تنگ کرتے ہیں ان کے بارے میں وہی الفاظ اور انداز اختیار کیا ہے جس انداز اور الفاظ میں مومنوں کو آزمائش کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔ اس سے مومنوں کو تسلّی دی گئی ہے کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں کو یونہی چھوڑے رکھے گا اور نہ ہی یہ اس کی دسترس سے باہر ہیں۔ بات یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اِ ن کی رسی دراز کر رکھی ہے جب پکڑنے پہ آئے گا تو ظالموں کو کوئی چھڑانے والا نہ ہوگا۔ اس کے باوجود اگر یہ سوچتے ہیں کہ ہمیں کھلا چھوڑ دیا جائے گا تو یہ ان کی بدترین غلط فہمی اور غلطی ہے جس کے بارے…
Read the full tafseer →5: مَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَآئَ اللّٰہِ (جو اللہ تعالیٰ سے ملنے کی امید رکھتا ہو) ۔ نمبر 1۔ یعنی اس کے ثواب کی امید رکھتا ہو۔ نمبر 2۔ اس کے محاسبہ سے ڈرتا ہو۔ رجاء میں امید و خوف دونوں کا احتمال ہے۔ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰہِ (پس بیشک اللہ تعالیٰ کا معین وقت ضرور آنے والا ہے) ۔ اجل اللہ سے مراد وہ وقت جو ثواب و عقاب کے لئے مقرر کردیا گیا ہے۔ لَاٰتٍ (لا محالہ آنے والا ہے) ۔ پس اس کو چاہیے کہ وہ اعمال صالحہ اختیار کرے جو اس کی امید کو سچا کردکھائیں اور اس کی تمنا پوری ہوجائے۔ وَہُوَ السَّمِیْعُ (اور وہی ہر بات کو سننے والا ہے) ۔ جو اس کے بندے کہتے ہیں۔ الْعَلِیْمُ (جاننے والا ہے) جو اس کے بندے کر…
Read the full tafseer →تفسیر۔
5۔ من کان یرجوا لقاء اللہ، حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا کہ اس جگہ رجاء کا معنی ہے خوف یعنی جو شخص حشر نشر ، حساب فہمی اور عذاب خدا سے ڈرتا ہے سعید بن جبیر نے کہا کہ رجاء بمعن طمع کے ہے یعنی جو شخص ثواب کا خواہش مند ہے۔ فان اجل اللہ لات، یعنی جو اللہ نے ثواب اور عقاب کا وعدہ کیا ۔ مقاتل نے کہا کہ اس سے مراد ہے قیامت کا دن یعنی قیامت کا دن ضرور آئے گا، اس لیے آدمی پر لازم ہے کہ ایسے کاموں کی طرف پیش قدمی کرے جن سے ثواب کا حصول ہو۔ جس کی اس کو خواہش ہے۔ اور عذاب سے نجات مل جائے جس کا اس کو ڈر ہے۔ جیسا کہ دوسری آیات میں ہے، فمن کان یرجوالقاء ، ،، ، تا، ،، وھوالسمیع العلیم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
5 تا 7۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جس کو آخرت میں خدا تعالیٰ سے ملنے کی امید اور اپنے اچھے کاموں کے ثواب پانے کا بھروسہ ہے اللہ تعالیٰ اس کے امید کو پورا کرے گا اس واسطے کہ وہ دعا کا سننے والا اور تمام عملوں کا دیکھنے والا ہے پھر فرمایا جو محنت کر کے اچھے عمل کرے وہ اپنے ہی واسطے کرتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ بندوں کے نیک عملوں سے بےپرواہ کسی کا نیک اور پرہیز گار ہونا خدا کی بادشاہت میں کچھ رونق نہیں بڑھاتا اس پر بھی وہ ایمان والوں کو عمدہ جزادے گا اور ان کو برائیوں کو ان کے ایمان اور نیک عمل کی برکت سے دور کر دے گا اور اچھے سے اچھا ان کے عملوں کا بدلہ دے گا ایک نیکی کا دس گنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
آیت 5
اے اپنے رب کے ساتھ محبت کرنے والے ! اس کے قرب اور اس کی ملاقات کا اشتیاق رکھنے والے ! اور اس کی رضا کے حصول کی خاطر بھاگ دوڑ کرنے والے ! اپنے محبوب کی ملاقات کے وقت کے قریب آنے پر خوش ہوجا کیونکہ وہ وقت آنے والا ہے اور ہر آنے والا وقت قریب ہوتا ہے۔ اپنے محبوب کی ملاقات کے لئے زاد راہ لے کر، امید کو اپنا ساتھی بنا کر اور محبوب کے وصل کی آرزو کرتے ہوئے اس کی طرف رواں دواں ہوجا۔ مگر ہر شخص کو، اس کے دعویٰ کرنے پر عطا نہیں کردیا جاتا اور نہ اس کی ہر تمنا پوری کردی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آوازوں کو سننے والا اور نیتوں کو جاننے والا ہے اس لئے جو کوئی اپنے دعوے اور تمناؤں میں سچا ہے اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →3 مخلصین کے لیے سامان تسلیہ و تسکین : سو اس میں سچے ایمان والوں اور مظلوموں کیلئے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو کوئی اللہ سے یہ توقع رکھتا ہو وہ اس کے لیے تیاری کرتا رہے کہ بیشک اللہ کے مقرر کردہ وقت نے بہرحال پہنچ کر رہنا ہے "۔ اور پتہ نہیں وہ کب اور کس حال میں آجائے اور انسان کو اس دنیائے دوں سے رخت سفر باندھنا پڑے۔ لہذا ہر وقت اس کیلئے تیاری کی فکر میں رہنا چاہیئے کہ دار آخرت کی اس حقیقی منزل اور ابدی زندگی کی تیاری کے لئے پھر کوئی موقع اس دنیاوی زندگی کے ختم ہوجانے کے بعد میسر نہیں آسکے گا۔ سو اس ارشاد ربانی میں ایک طرف تو سچے مسلمانوں کو یوم حساب اور اس کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
برے لوگوں کے لیے خبر اور ایمان والوں کا انجام
تشریح : اللہ کا وعدہ ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اور نیک و بد کو اس کا بدلہ ضرور ملے گا۔ بلکہ برے کو صرف برائی کا بدلہ ملے گا جب کہ نیک کے چھوٹے موٹے گناہ اللہ ویسے ہی معاف کر دے گا اور نیکی کا بدلہ کئی گنا زیادہ دیا جائے گا۔ کیونکہ وہ سب کچھ دیکھتا ہے ‘ سنتا ہے اور جانتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
آیات 1 تا 13
اسرارو معارف
راہ حق میں آزمائش :
راہ حق میں مصیبت سے گھبرانا درست نہیں کیا لوگوں کا یہ گمان ہے کہ صرف یہ کہ دینے سے کہ ہم مومن ہیں وہ چھوٹ جائیں گے اور ان پر کوئی آزمائش نہ آئے گی یقینا آزمائش ضرور آئے گی بلکہ ان سے پہلی ساری امتوں کو آزمایا گیا اور اللہ نے کھرے اور کھوٹے سچے اور جھوٹے کو الگ الگ ثابت کردیا۔ آج کے مسلمان کا جو خیال ہے کہ کوئی ایسا راستہ ہو کہ اسلام پر بھی کاربند رہا جائے اور کافر بھی ناراض نہ ہوں اور کوئی مصیبت بھی کھڑی نہ کردیں یہ خیال خام ہے جو بھی حق پر عمل پیرا ہوگا اس کی آزمائش ضرور ہوگی ہاں کفار یہ نہ جان لیں کہ وہ برای کر کے اللہ کی گرفت سے بچ جائیں گے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
10 ۔ اس سے مراد ہے نیک کاموں میں مشقت اٹھاتا۔ کفار اور اپنے نفس سے مجاہدہ بھی اس میں شامل ہے۔
1 ۔ اس کو نہ کسی کی عبادت سے کوئی فائدہ ہے اور نہ کسی کے گناہ سے کوئی نقصان۔ بلکہ اگر کسی کو توفیق ملی ہے تو اسے مزید اللہ تعالیٰ کا شکرگزار ہونا چاہیے۔ (دیکھئے سورة آل عمران 97 و سورة نمل 40)
Read the full tafseer →(29:5) من کان یرجوا لقاء اللہ۔ شرط۔ فان اجل اللہ لات۔ جواب شرط ۔ یرجوا مضارع واحد مذکر غائب رجاء مصدر (باب نصر) ر ج و مادہ۔ امید رکھتا ہے توقع رکھتا ہے۔
اجل اللہ مضاف مضاف الیہ۔ اللہ کا مقررہ کردو وقت۔ اجل منصوب بوجہ عمل ان ہے۔
لات۔ لام تاکید کے لئے ہے۔ ات اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے ۔ اتیان مصدر ا ت ی مادہ۔ آنے والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 7 :
حسب (گمان کیا۔ خیال کیا) ‘ لایفتنون (وہ آزمائے نہ جائیں گے) ‘ ساء (برا ہے) ‘ یرجوا ( امید رکھتا ہے) یجاھد ( وہ جدوجہد۔ کوشش کرتا ہے) ‘ غنی (بےنیاز) نکفرن ( ہم ضرور اتاردیں گے) نجزین ( ہم ضرور بدلہ دیں گے) احسن ( زیادہ بہتر) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 7 :
اس سورت کا آغاز بھی حروف مقطعات سے کیا گیا ہے یعنی جن حروف کے معنی کا علم اللہ کو ہے۔
جب انسان حق و صداقت یعنی ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کرتا ہے تو اس کو باطل نظام زندگی اور ظالموں کی قوت و طاقت سے ٹکرانا پڑتا ہے۔ یہ اتنی بڑی آزمائش اور امتحان ہے کہ حالات کے سامنے اگر وہ ڈٹ کر اور جم کر کھڑا ہوجائے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
مسلمانوں کا ذکر۔
(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جس کو آخرت میں اللہ سے ملنے کی امید اور اپنے اچھے کاموں کے ثواب پانے کا بھروسہ ہے اللہ تعالیٰ اس کی امید کو پورا کرے گا کہ وہ دعا کا سننے والا اور تمام عملوں کا دیکھنے والا ہے، پھر فرمایا جو محنت کرکے اچھے عمل کرے وہ اپنے ہی واسطے کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ بندوں کے نیک عملوں سے بےنیاز ہے کسی کا نیک اور پرہیزگار ہوناخدا کی بادشاہت میں کچھ رونق نہیں بڑھاتا، اس پر بھی ایمان والوں کو عمدہ جزا دے گا اور ان کی برائیون کو ان کے ایمان اور نیک عمل کی برکت سے دور کردے گا اور اچھے ان کے کے عملوں کا بدلہ دے گا اور برائی کی سزابقدر برائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
[3] مکہ میں جو نوجوان ایمان لائے تھے ان کے والدین ایمان سے باز رہنے کے لئے ان پر زور ڈال رہے تھے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ گویا بتلا دیا کہ والدین کا خلاف حق پر مجبور کرنا یہ بھی ایک آزمائش ہے اور مومن کو چاہئے کہ ان کی خاطر دین کو نہ چھوڑے۔ دنیا میں ماں باپ سے زیادہ کسی کا حق نہیں لیکن اللہ کا حق ان سے زیادہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
ف 1: مکہ کی زندگی میں مسلمانوں کو جب تکلیفیں پہنچتیں ۔ تو بعض ضعیف ال ایمان مسلمان گھبرا اٹھتے ۔ اس پر ان آیات کا نزول ہوا ۔ کہ صرف امنا کہہ دینا کافی نہیں بلکہ آزمائش شرط ہے ۔ اللہ تعالیٰ واقعات کے رنگ میں دیکھنا چاہتے ہیں ۔ کہ ان لوگ قول وعمل کے لحاظ سے صادق ہیں اور کون لوگ قول وعمل کے لحاظ سے کاذب ہیں ۔ کن لوگوں کے دلوں میں ایمان مضبوط ہوچکا ہے ۔ اور کون لوگ ہنوز ضعیف ال ایمان ہیں ۔
حل لغات :۔ لیعلمن ۔ اللہ کا علم ازلی ہے ۔ اس میں واقعات و حوادث سے کوئی تغیر پیدا نہیں ہوتا ۔ اس لئے اس سے مراد علم مستانف نہیں ہے ۔ بلکہ وہ علم ہے جو حالات کے بروئے کار آنے سے ہوتا ہے ۔
Read the full tafseer →5۔ آگے پھر مسلمانوں کا ذکر ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور اس سے ملنے کی امید رکھتا ہے اور آس لگائے ہوئے ہے اس کو چاہئے کہ وہ مصائب سے گھبرائے نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ سے ملنے کا مقررہ وقت یقینا آنے والا ہی ہے اور وہی سب کچھ سننخے والا سب کچھ جاننے والا ہے۔ یعنی جو اللہ سے ملاقات کی امید رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے ملنے کا متوقع ہے تو اس کو اس قسم کے مصائب اور حوادثات سے گھبرانا نہیں چاہئے کیونکہ اس کی ملاقات کا مقررہ اور متعین وقت یقینا ضرورآنے والا ہے اس وقت وہ ان تمام ایذا رسانیوں کا صلہ عطا فرمائے گا اور اس کو تو جو کچھ یہاں ظالم مسلمانوں کے ساتھ سلوک کر رہے ہیں سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
ف 6۔ یہ جملہ معترضہ کے طور پر ہے جس میں کفار کی بد انجامی سناکر مسلمانوں کی ایک گونہ تسلی کردی کہ ان ایذاوں کا ان سے بدلہ لیا جاوے گا۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے امیدوار جان لیں کہ معین وقت جلد ہی آنے والا ہے :
5۔ جس شخص کو یہ توقع اور کامل امید ہو کہ اسے مر کر اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے حضور ہونا ہے تو اسے طول حیات کے بےبنیاد بھروسے پر اپنی اصلاح میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو وقت مقرر کیا ہے بلاشبہ وہ تو آکر ہی رہے گا اور یہ بھی کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کب آئے گا ؟ اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی ذات سمیع بھی ہے ‘ علیم بھی ان کی کوئی بات بھی اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے اور وہ ان کی ہر بات کو سنتا ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
Commentary
وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ (And We have instructed man - 29:8). Wasiyyah (وَصِیَّۃ) means to call someone for some action, when the call is based on advice and well wishing. (Mazhari)
بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا (to do good to his parents - 29:8). The Word Husn (حُسن) is an infinitive which means ' to be good'. at is meant here is to adopt good behavior. The meaning of the sentence is quite clear that Allah Ta’ ala has advised man to treat his parents kindly.
وَإِن جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي (And if they insist upon you that you should ascribe partners to Me - 29:8). It should be taken…
Read the full tafseer →6 That is, "The case of the one who does not believe in the life hereafter and thinks he is answerable to none for his deeds and there is no accountability whatever, is different. He may remain heedless and act as he likes, for he will himself see the consequences when they appear against his expectations. But those who expect that they have to meet their Lord one day and rewarded and punished according to their. deeds, should not have the misunderstanding that the time of death is yet tar off. They should rather think that it is near at hand and the respite for action is about to come to an…
Read the full tafseer →