Explained with ayahs 1–4
حروف مقطعہ کی بحث سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں گزرچکی ہے۔
امتحان اور مومن
پھر فرماتا ہے یہ ناممکن ہے کہ مومنوں کو بھی امتحان سے چھوڑ دیا جائے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے زیادہ سخت امتحان نبیوں کا ہوتا ہے پھر صالح نیک لوگوں کا پھر ان سے کم درجے والے پھر ان سے کم درجے والے۔ انسان کا امتحان اس کے دین کے انداز پر ہوتا ہے اگر وہ اپنے دین میں سخت ہے تو مصیبتیں بھی سخت نازل ہوتی ہیں۔ اسی مضمون کا بیان اس آیت میں بھی ہے (اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلَا رَسُوْلِهٖ وَلَا الْمُؤْمِنِيْنَ وَلِيْجَةً ۭ…
Read the full tafseer →سورة العنکبوت 4
اس سے مراد اگرچہ تمام وہ لوگ ہوسکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانیاں کرتے ہیں لیکن یہاں خاص طور روئے سخن قریش کے ان ظالم سرداروں کی طرف ہے جو اسلام کی مخالفت میں اور اسلام قبول کرنے والوں کو اذیتیں دینے میں اس وقت پیش پیش تھے، مثلا ولید بن مغیرہ، ابو جہل، عتبہ، شیبہ، عقبہ بن ابی معیط اور حنظلہ بن وائل وغیرہ۔ سیاق وسباق خود یہاں تقاضا کر رہا ہے کہ مسلمانوں کو آزمائشوں کے مقابلے میں صبر و ثبات کی تلقین کرنے کے بعد ایک کلمہ زجر و توبیخ ان لوگوں کو خطاب کر کے بھی فرمایا جائے جو ان حق پرستوں پر ظلم ڈھا رہے تھے۔
سورة العنکبوت 5
یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ " ہماری گرفت سے بچ کر کہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
فَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا، یعنی ان امتحانات اور شدائد کے ذریعہ مخلص اور غیر مخلص اور نیک و بد میں ضرور امتیاز کریں گے۔ کیونکہ مخلصین کے ساتھ منافقین کا خلط ملط بعض اوقات بڑے نقصانات پہنچا دیتا ہے مقصد اس آیت کا نیک و بد اور مخلص و غیر مخلص کا امتیاز واضح کردینا ہے، جس کو اس طرح تعبیر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جان لے گا صادقین کو اور کا ذبین کو، اللہ تعالیٰ کو تو ہر انسان کا صادق یا کاذب ہونا اس کے پیدا ہونے سے پہلے بھی معلوم ہے، امتحانات اور آزمائشوں کے جان لینے کے معنی یہ ہیں کہ اس امتیاز کو دوسروں پر بھی ظاہر فرما دیں گے۔
اور حضرت سیدی حکیم الامت تھانوی نے اپنے شیخ مولانا…
Read the full tafseer →ام حسب الذین یعملون السیات ان یسبقونا، ساء ما یعکمون۔ (4)
ایمان کا دعوے ٰ کرنے والوں کو متنبہ کرنے کے بعد یہ ان لوگوں کو بھی متنبہ فرما دیا جو کمزور مسلمانوں کو ظلم و ستم کا ہدف بنائے ہوئے تھے۔ فرمایا اگر ان لوگوں نے یہ گمان کر رکھا یہ کہ یہ اسی طرح ظلم و ستم کرنے کے لئے چھوڑے رکھے جائیں گے اور کبھی ہماری گرفت میں نہیں آئیں گے تو ان کا یہ گمان بالکل غلط ہے۔ یعملون السیات اگرچہ نفظاً عام ہے لیکن اشارہ انہی ناہنجار لوگوں کی طرف ہے جو بےمسلمانوں پر ظلم ڈھا رہے تھے اور خدا کی ڈھیل سے شہ پاکر دن پر دن دلیر ہوتے جا رہے تھے۔ فرمایا کہ یہ لوگ اگر اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ خدا اسی طرح ان کو ڈھیل…
Read the full tafseer →4-1یعنی ہم سے بھاگ جائیں گے اور ہماری گرفت میں نہ آسکیں گے۔
4-2یعنی اللہ کے بارے میں کس ظن فاسد میں یہ مبتلا ہیں، جب کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے اور ہر بات سے باخبر بھی۔ پھر اس کی نافرمانی کر کے اس کے مؤاخذہ و عذاب سے بچنا کیونکر ممکن ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
2: اس میں دین کے راستے میں کی ہوئی ہر محنت داخل ہے، چاہے وہ نفس اور شیطان کا مقابلہ کرنے کی محنت ہو یا تبلیغ و دعوت کی محنت یا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے کی محنت۔
Read the full tafseer →رہے وہ لوگ جو اہل ایمان پر ظلم کرکے ان کو آزماتے ہیں اور برے کام کرتے ہیں تو وہ تو عذاب الٰہی سے بچ ہی نہیں سکتے۔ اگرچہ ان کی باطل قوتیں بہت پھلی پھولی ہوں۔ اگرچہ بظاہر وہ کامیاب و فاتح ہوں۔ اللہ کا وعدہ یہ ہے اور آخر کار اس کی سنت یہ ہے
ام حسب الذین ۔۔۔۔۔۔ ما یحکمون (4) ” اور کیا وہ لوگ جو بری حرکتیں کر رہے ہیں ، یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ وہ ہم سے بازی لے جائیں گے ؟ بڑا غلط حکم ہے جو وہ لگا رہے ہیں “۔
کسی مفسد کو یہ خیال نہیں رکھنا چاہئے کہ وہ بچ نکلے گا یا بھاگ جائے گا۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے تو اس کا یہ فیصلہ غلط ہے۔ اس نے غلط اندازہ کیا ہے ، اس کی سوچ پوچ ہے۔ کیونکہ اللہ نے اہل ایمان کی آزمائش…
Read the full tafseer →1 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " پہلی دو آیتیں مسلمانوں کے متعلق تھیں جو کافروں کی ایذاؤں میں گرفتار تھے اور یہ آیت ان کافروں سے متعلق ہے جو مسلمانوں کو ستا رہے تھے۔ " (موضح) یعنی مومنین کے امتحانات کو دیکھ کر یہ نہ سمجھیں کہ ہم مزے سے ظلم کرتے رہیں گے اور سختیوں سے بچے رہیں گے۔ وہ ہم سے بچ کر کہاں جاسکتے ہیں۔ جو سخت ترین سزا ان کو ملنے والی ہے اس کے سامنے مسلمانوں کے امتحان کی سختی کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتی۔ اگر اس وقت کی عارضی مہلت سے انہوں نے یہ رائے قائم کرلی ہے کہ ہم ہمیشہ مامون رہیں گے اور سزا دہی کے وقت خدا کے ہاتھ نہ آئیں گے تو حقیقت میں بہت ہی بری بات طے کی ایسا احمقانہ فیصلہ آنے والی…
Read the full tafseer →آیت 4 اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَاط سَآءَ مَا یَحْکُمُوْنَ ”
اس جملے کی روح کو سمجھنے کے لیے مکہ مکرمہ کے ماحول اور اس میں اہل ایمان کی دل دہلا دینے والی مظلومیت کے مناظر ایک دفعہ پھر اپنے تصور میں لائیے ‘ جہاں ابوجہل کو کھلی چھوٹ تھی کہ وہ حضرت یاسر اور حضرت سمیہ رض کو جس طرح چاہے بربریت کا نشانہ بنائے۔ اُمیہ بن خلف مالک و مختار تھا حضرت بلال رض کی قسمت کا کہ ان کے ساتھ جیسا چاہے سلوک کرے۔ انہیں مار پیٹ کر لہو لہان کر دے اور گرم ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھ دے یا گلے میں رسیّ ڈال کر مردہ جانوروں کی طرح مکہ کی گلیوں میں گھسیٹتا پھرے۔ اس پس منظر…
Read the full tafseer →4 اس جملہ کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ اگر ہم ان پر گرفت کرنا چاہیں تو یہ لوگ ہماری گرفت سے بچ کر کہیں جا نہیں سکتے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی سرتوڑ مخالفانہ کوششوں اور سازشوں کے باوجود خود ہی ناکام رہیں گے اور غلبہ اسلام کی راہ روکنے میں کبھی کامیاب نہ ہوسکیں گے، اور اگر وہ ایسا گمان کرتے ہیں کہ وہ یقینا کامیاب ہوجائیں گے تو یہ ان کی زبردست بھول اور غلط قسم کا فیصلہ ہے۔ واضح رہے کہ اس آیت میں روئے سخن صرف کافروں کی طرف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
3۔ (سوایسوں کو تو ان واقعات سے پریشانی کی مطلق کوئی وجہ نہیں۔ وقت موعود پر ان کے سارے غم غلط ہو کر رہیں گے) (آیت) ” ام ...... یحکمون “۔ مشرک جاہلی قوموں کا اپنے دیوی دیوتاؤں پر قیاس کرکے خود حق تعالیٰ کے متعلق بھی یہ سمجھے رہنا کہ اس کی گرفت سے نکل جانا بالکل ممکن ہوگا، ذرا بھی تعجب انگیزنہ تھا۔
4۔ ہر طاعت قولی سے واقف۔ ہر طاعت فعلی پر مطلع۔ اس کی راہ میں آج جتنی بھی کلفتیں انہیں اٹھانا پڑرہی ہیں سب کی جزائے خیر ایک ایک کرکے انہیں مل کر رہے گی، خدائے اسلام جاہلی قوموں کے دیوتاؤں کی طرح نہیں کہ اس کا علم ناقص ہو، اس کے حواس محدود ہوں وغیرہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 13
ترجمہ : الم اس کی مراد تو اللہ ہی کو معلوم ہے کیا ان لوگوں نے یہ گمان کررکھا ہے کہ ان کے صرف یہ کہنے پر کہ ہم ایمان لائے ہم انہیں آزمائے بغیر چھوڑدیں گے ان کو ایسی چیزوں سے آزمایا جائے گا کہ جن سے ان کے ایمان کی حقیقت ظاہر ہوجائے، یہ ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جب وہ ایمان لائے تو مشرکین نے اذیت پہنچائی اللہ تعالیٰ ان سے پہلے والوں کو بھی آزما چکا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بھی جانچے گا جو اپنے ایمان میں سچے تھے مشاہدہ کے طور جانچنا اور ایمان کے بارے میں جھوٹوں کو بھی معلوم کے گا، کیا جو لوگ برائیاں یعنی شرک اور معاصی کررہے ہیں یہ سمجھتے ہیں…
Read the full tafseer →ام حسب الذین یعلمون السیات ان یسبقونا . کیا بدکاریاں کرنے والے یہ خیال کرتے ہیں کہ ہماری
گرفت سے وہ نکل جائیں گے۔ بدکاریوں سے مراد ہے کفر اور معاصی کیونکہ عمل کا لفظ جس طرح اعضاء کے افعال کو شامل ہے اسی طرح دلوں کے فعل کو بھی شامل ہے۔
اَنْ یَّسْبِقُوْنَا کہ وہ ہم سے آگے بڑھ جائیں گے اور ہم ان سے انتقام نہ لے سکیں گے۔ ام منقطعہ ہے اور اول کلام سے اضراب (اعراض) کو ظاہر کر رہا ہے۔ اول حسب کا مفہوم ہے ایمان کا امتحان نہ ہونے کا گمان اور دوسرے حسب کا مفہوم ہے گناہوں کی سزا نہ پانے کا گمان۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اول گمان کرنے والے مؤمن تھے اور دوسرا خیال کافروں کا تھا۔
میں کہتا ہوں : ام متصلہ بھی…
Read the full tafseer →(4) اگلی آیت ابوجہل، ولید بن مغیرہ، عتبہ شیبہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ لوگ بدر کے دن حضرت علی ؓ ، حضرت حمزہ ؓ ، اور حضرت عبیدہ بن الحارث ؓ کے مقابلہ کے لیے نکلے تھے اور ایک دوسرے پر فخر کیا تھا، چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کیا جو لوگ کفر و شرک میں مست ہیں وہ کہیں ہمارے عذاب سے چھوٹ جائیں گے ان کا اپنے بارے میں یہ خیال اور اپنے متعلق ان کی یہ تجویز نہایت ہی بری ہے۔
Read the full tafseer →اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّـيِّاٰتِ اَنْ يَّسْبِقُوْنَا۔۔ : اگرچہ ”الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّـيِّاٰتِ“ (جو لوگ برے کام کرتے ہیں) کے الفاظ عام ہیں، جن میں مومن و کافر دونوں آجاتے ہیں، مگر یہاں مراد کافر ہیں۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں : ”پہلی دو آیتیں مسلمانوں کے متعلق تھیں جو کافروں کی ایذاؤں میں گرفتار تھے اور یہ آیت کافروں سے متعلق ہے جو مسلمانوں کو ستا رہے تھے۔“ (موضح) یعنی ایمان والوں کی آزمائشوں اور امتحانات کو دیکھ کر کیا کافروں نے یہ گمان کرلیا ہے کہ وہ ہم سے بچ کر نکل جائیں گے اور ہماری گرفت میں نہیں آئیں گے ؟ اگر انھوں نے عارضی مہلت سے یہ رائے قائم کرلی ہے کہ ہم ہمیشہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
ام احسب الذین یعلمون۔۔۔۔۔۔۔ اس سے مراد وہ شرک ہے آن یسبقونا وہ ہماری گرفت سے نکل سکتے ہیں اور ہمیں عاجز کرسکتے ہیں قبل اس کے کہ ہم ان کا مواخذہ کریں ان اعمال کا جو وہ کرتے رہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : الذین سے مراد ولید بن مغیرہ، ابو جہل، اسود، عاص بن ہشام، شبہ، عتبہ، ولید بن عتبہ، عقبہ بن ابی معیط، حنظلہ بن ابی سفیان اور عاص بن وائل ہیں۔ انہوں نے اپنے رب کی صفات میں جو یہ فیصلہ کیا وہ کتنا برا فیصلہ ہے کہ اس پر سبقت لی جاسکتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے۔ مامحل نصب میں ہے یہ ساء شیاء او حکم یحکمون کے معنی میں ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ مامحل رفع میں ہو معنی ہوگا یہ زجاج کا قول ہے۔ ابن…
Read the full tafseer →1۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ام حسبت الذین یعملون السیئات کیا ان لوگوں نے گمان کیا جو برے کام کرتے ہی یعنی شرک کرتے ہیں
2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعب بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان یسبقونا یعنی کیا وہ ہم کو عاجز کردیں گے۔
Read the full tafseer →اَمْ حَسِبَ [یا گمان کیا ] الَّذِيْنَ [ان لوگوں نے جو ] يَعْمَلُوْنَ [عمل کرتے ہیں ] السَّـيِّاٰتِ [برائیوں کے ] اَنْ يَّسْبِقُوْنَا ۭ [کہ وہ بھاگ نکلیں گے ہم سے ] سَاۗءَ [برا ہے ] مَا [وہ جو ] يَحْكُمُوْنَ [وہ لوگ فیصلہ کرتے ہیں ] ۔
Read the full tafseer →یہ جو کچھ امتحان اور آزمائش کا ذکر تھا ایمان کا دعویٰ کرنے والوں سے متعلق تھا اور جو لوگ تکلیفیں پہنچاتے تھے (یعنی مشرک) ان کے بارے میں فرمایا (اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا) جو لوگ برے کام کرتے ہیں کیا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم سے آگے بڑھ جائیں گے (یعنی ہماری گرفت میں نہ آسکیں گے اور کہیں نکل کر بھاگ جائیں گے ؟ ) (سَآءَ مَا یَحْکُمُوْنَ ) (یہ لوگ جو کچھ اپنے خیال میں گمان کر رہے ہیں اور سوچ رہے ہیں اور اپنے گمان کے مطابق فیصلہ کر رہے ہیں یہ برا فیصلہ ہے) اور بیہودہ خیال ہے، خدا وندی گرفت سے بچ کر کہیں نہیں جاسکتے، اس میں ایذاء دینے والوں کے لیے تہدید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
تنبیہ اہل ایمان برحکمت اہل شدائد وآفات زمان کہ آں تمیز مخلص
ومنافق است وتشجیع اہل ہدایت بر صبرواستقامت وتشنیع اہل ضلالت وغوایت
قال اللہ تعالیٰ الم احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا۔۔۔ الی۔۔۔ ولیسئلن یوم القیمۃ عما کانوا یفترون۔
(شان نزول) ایک دن آنحضرت ﷺ کعبہ کی دیوار سے تکیہ لگائے سایہ میں بیٹھے تھے تو بعض صحابہ نے مشرکین کی شکایت کی کہ وہ ہمیں طرح طرح سے ایذائیں پہنچا رہے ہیں آپ ﷺ ہمارے لئے دعا کریں کہ کافروں کا یہ ظلم وستم ہم سے ٹل جائے یہ سن کر آپ ﷺ ناراض ہوئے اور فرمایا کہ تم سے پہلے گزشتہ دینداروں کے سر آروں سے چیرے گئے اور ان کے دو ٹکڑے کئے گئے مگر وہ اپنے دین سے نہیں ہٹے اور بعضوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3:۔ یہ دوسرا دعوی ہے۔ مشرکین کا خیال باطل ہے کہ وہ ہمارے عذاب سے بچ جائیں گے۔ السیات کفر و شرک و معاصی۔ السیات ای الشرک و المعاصی (مدارک ج 3 ص 191) ۔ فعل مضارع حدوث و تجدد پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی جو لوگ ہر وقت کفر وشرک اور فسق و فجور میں منہمک رہتے اور غیر اللہ کو پکارتے رہتے ہیں کیا ان کا خیال ہے کہ ہم ان کو ان کی بد اعمالیوں کی سزا نہیں دے سکیں گے اور وہ ہمارے عذاب سے بچ نکلیں گے ؟ ساء ما یحکمون یہ بہت بری بات اور صریح غلط خیال ہے۔ جب اللہ کا عذاب آگیا تو وہ اس سے ہرگز نہیں بچ سکیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام اس کی آیت 014 میں آمدہ لفظ عنکبوت سے مآخوذ سورة العنکبوت ہے۔ اللہ نے اس آیت میں شرک کے بودہ پن کو مکڑی کے جالے کے کے ساتھ تشبیہ دے کر بات سمجھائی ہے کہ اللہ کے علاوہ دوسرے کو معبود ٹھہرانے کی مثال مکڑی کے جالے کی طرح ہے جو کہ کمزور ترین گھر ہوتا ہے۔ ترتیب نزول کے اعتبار سے یہ سورة الروم کے بعد نازل ہوئی مگر ترتیب تلاوت میں اس کو مقدمہ رکھا گیا ہے۔ یہ سورة مکی دور کے اس زمانہ میں نازل ہوئی جب کہ اہل ایمان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے ، چناچہ اللہ نے ابتدائی آیات میں ہی مسلمانوں کو تسلی دی ہے کہ ایمان قبول کرنے کے بعد آزمائش سے گزرنا پڑے گا ، اور جو…
Read the full tafseer →اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّـيِّاٰتِ اَنْ يَّسْبِقُوْنَا 0ۭ سَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ 4
سَّيِّئَةُ :
الفعلة القبیحة، وهي ضدّ الحسنة، قال : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10]: بَلى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً [ البقرة/ 81]
سَّيِّئَةُ :
اور ہر وہ چیز جو قبیح ہو اسے سَّيِّئَةُ :،
، سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اسی لئے یہ لفظ ، ، الحسنیٰ ، ، کے مقابلہ میں آتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10] پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا ۔ چناچہ قرآن میں ہے اور سیئۃ کے معنی برائی کے ہیں اور یہ حسنۃ کی ضد ہے قرآن میں ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
ترکیب : ان یترکوا ان وما عملت فیہ یسد مسد المفعولین۔ ان یقولوا ای بان یقولوا دیجوز ان یکون بدلا من ان یترکوا من کان شرط و الجواب فان اجل اللہ و التقدیر لایۃً ۔
تفسیر : پہلی سورة کے خاتمہ میں فرمایا تھا کہ ان الذی فرض علیک القرآن لرادک الیٰ معاد اور معاد دار آخرت کی طرف کامیابی کے ساتھ جانا آسان بات نہیں، اس میں بڑی بڑی جانفشانیاں کرنی پڑتی ہیں اور بڑی سختیوں کی برداشت کرنی پڑتی ہے، اس لیے اس سورة میں الم سے ایک خاص 1 ؎ مطلب کی طرف اشارہ کرکے، یہ فرمایا احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا آمنا وھم لایفتنون کہ کیا لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ لا الہ الا اللہ کہہ دینا اور صرف ایمان لا کے بیٹھ رہنا کافی ہے…
Read the full tafseer →اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا ط سَآئَ مَا یَحْکُمُوْنَ ۔ (العنکبوت : 4)
(اور کیا وہ لوگ جو بری حرکتیں کررہے ہیں وہ گمان رکھتے ہیں کہ ہمارے قابو سے باہر ہوجائیں گے، بڑا غلط فیصلہ ہے جو وہ کررہے ہیں۔ )
مخالفین کو تنبیہ
آیت کے الفاظ میں اگرچہ عموم پایا جاتا ہے لیکن سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ روئے سخن قریش کے ان ظالم سرداروں کی طرف ہے جو اسلام کی مخالفت میں اور مسلمانوں کو تکلیفیں پہنچانے میں پیش پیش تھے۔ مسلمانوں کو ان ظالم سرداروں کی طرف سے پہنچائی جانے والی اذیتوں پر صبروثبات کی تلقین کرنے کے بعد ان ظالموں کو بھی تنبیہ کی جارہی ہے کہ ان لوگوں نے شاید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
فہم القرآن
ربط کلام : مومنوں کو آزمائشوں سے آگاہ کرنے کے بعد ظالموں کو انتباہ۔
جو لوگ بلا وجہ مومنوں کو تنگ کرتے ہیں ان کے بارے میں وہی الفاظ اور انداز اختیار کیا ہے جس انداز اور الفاظ میں مومنوں کو آزمائش کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔ اس سے مومنوں کو تسلّی دی گئی ہے کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں کو یونہی چھوڑے رکھے گا اور نہ ہی یہ اس کی دسترس سے باہر ہیں۔ بات یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اِ ن کی رسی دراز کر رکھی ہے جب پکڑنے پہ آئے گا تو ظالموں کو کوئی چھڑانے والا نہ ہوگا۔ اس کے باوجود اگر یہ سوچتے ہیں کہ ہمیں کھلا چھوڑ دیا جائے گا تو یہ ان کی بدترین غلط فہمی اور غلطی ہے جس کے بارے…
Read the full tafseer →4: اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ (کیا بدکاریاں کرنے والوں نے گمان کرلیا) ۔ السیئات سے شرک و گناہ مراد ہیں۔ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا (کہ وہ ہم سے سبقت کر جائیں گے) ۔ وہ ہم سے نکل جائیں گے۔ یعنی سزا ان کو بہر صورت ملے گی۔
نحو : ان کا صلہ مسند اور مسند الیہ کو شامل ہونے کی وجہ سے دو مفعولوں کے قائم مقام ہوگیا۔ جیسا کہ اس ارشاد میں ہے : ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ ] البقرہ۔ 214[
نمبر 2۔ اور یہ بھی درست ہے کہ حَسِبَ میں قدّر کا معنی متضمن ہو۔ اور ام منقطعہ ہو اور اس میں اضراب کا معنی پایا جائے۔
اس طرح کہ یہ گمان تو پہلے گمان سے بھی زیادہ باطل تر ہے۔ کیونکہ وہ تو صرف یہ فرض کیا گیا کہ…
Read the full tafseer →4۔ ام حسب الذین یعملون السیات، ، اس سے مراد شرک ہے۔ ان یسبقونا، کہ وہ ہمیں عاجز کردیں گے اور وہ ہم سے بچ کر نکل جائیں گے اور ہم ان سے انتقام لینے پر قادر نہیں ہوں گے۔ ساء مایحکمون، ، برا ہے وہ جو فیصلہ کررہے ہیں ، اور جو انہوں نے گمان کرلیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1 تا 4۔ حروف مقطعات کا ذکر سورة بقر میں گذر چکا ہے تفسیر شعبی تفسیر ابن ابی حاتم معالم التتریل وغیرہ 1 ؎ میں مجاہد اور قتادہ کے قول کے موافق جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے
اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے مکہ سے ہجرت فرمانے کے بعد کچھ مسلمان مکہ میں ایسے رہ گئے تھے جن کو مشرک لوگ ہجرت سے بھی روکتے تھے اور مکہ میں بھی ان کو امن سے نہیں رہنے دیتے تھے بلکہ طرح طرح کی تکلیفیں ان مسلمانوں کو ہر قت دیتے تھے جن تکلیفوں سے وہ مسلمان تنگ دل تھے ان کی ہمت بڑھانے لے لیے مدینہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں جب مدینہ سے ان کے دوست صحابہ ؓ نے ان کو ان آیتوں کے نازل ہونے کا حال لکھ کر مکہ…
Read the full tafseer →آیت 4
یعنی کیا ان لوگوں نے ‘ جن کے ارادوں پر جرائم کا ارتکاب اور برے افعال غالب ہیں یہ سمجھ رکھا ہے کہ ان کے اعمال کو یونہی چھوڑ دیا جائے گا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں عن قریب غافل ہوجائے گا یا وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے نکل بھاگیں گے۔ اسی لئے وہ گناہوں کا ارتکاب کر رہے ہیں اور ان کے لیے ان گناہوں پر عمل کرنا بہت آسان اور سہل ہے ؟ (ساء ما یحکمون) یعنی ان کا فیصلہ بہت برا ہے یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کے انکار کو متضمن ہے نیز ان کے اس دعوے کو متضمن ہے کہ ان میں اتنی طاقت اور قدرت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ سکیں حالانکہ وہ سب سے کمزور اور سب سے عاجز مخلوق ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
1 سنت ابتلاء و آزمائش کی تذکیر و یاددہانی : سو اس سے ابتلاء و آزمائش کی سنت خداوندی کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ کو ضرور دیکھنا ہے ان کو جو سچے ہیں اور اس نے ان کو بھی ضرور دیکھنا ہے جو جھوٹے ہیں "۔ سو علم سے یہاں پر علم ظہور یعنی دیکھنا مراد ہے کہ اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کے علم ازلی سے تو کوئی بھی چیز پوشیدہ نہیں۔ مگر وہ فیصلہ صرف اپنے اسی ازلی اور ذاتی علم پر نہیں فرماتا بلکہ ہر فعل کے ظہور اور وقوع کے مطابق فرماتا ہے۔ اسی لئے وہ لوگوں کو اس دنیا میں ابتلا و آزمائش میں ڈالتا ہے تاکہ کھرے کھوٹے کا فرق خود سامنے آجائے ورنہ جہاں تک اس کے علم محیط کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ایمان داروں کی مصائب کی کسوٹی پر آزمائش
تشریح : ایمان کا زبان سے اقرار اور دل سے یقین اس وقت مکمل ہوتا ہے جب اس اقرار اور یقین پر عمل بھی کیا جائے۔ مسلمان وہ ہے جو پورے کا پورا دین میں داخل ہوجائے۔ اس کی زندگی کے معمولات سے ‘ اس کے رہن سہن تہذیب و تمدن غرص لباس اور عادات واطوار سے خود بخود یہ دکھائی دینے لگے کہ یہ مسلمان ہے۔ یہ نہیں کہ دعوٰی تو اسلام کا کرے اور کام کرے ہندوعیسائی یا سکھوں جیسے۔ اور جب ایک سچا مسلمان ایمان کی وجہ سے آزمائشوں میں پڑتا ہے تو پھر وہ صرف ایمان کی حفاطت میں جان ‘ ملک ‘ ماں باپ آل اولاد غرض دنیا کی ہر چیز قربان کردیتا ہے۔ پھر اس کو اللہ کی طرف سے بےشمارنصرت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
آیات 1 تا 13
اسرارو معارف
راہ حق میں آزمائش :
راہ حق میں مصیبت سے گھبرانا درست نہیں کیا لوگوں کا یہ گمان ہے کہ صرف یہ کہ دینے سے کہ ہم مومن ہیں وہ چھوٹ جائیں گے اور ان پر کوئی آزمائش نہ آئے گی یقینا آزمائش ضرور آئے گی بلکہ ان سے پہلی ساری امتوں کو آزمایا گیا اور اللہ نے کھرے اور کھوٹے سچے اور جھوٹے کو الگ الگ ثابت کردیا۔ آج کے مسلمان کا جو خیال ہے کہ کوئی ایسا راستہ ہو کہ اسلام پر بھی کاربند رہا جائے اور کافر بھی ناراض نہ ہوں اور کوئی مصیبت بھی کھڑی نہ کردیں یہ خیال خام ہے جو بھی حق پر عمل پیرا ہوگا اس کی آزمائش ضرور ہوگی ہاں کفار یہ نہ جان لیں کہ وہ برای کر کے اللہ کی گرفت سے بچ جائیں گے ان…
Read the full tafseer →9 ۔ الفاظ گو عام ہیں مگر روئے سخن کفار مکہ اور ان کے سرداروں کی طرف ہے جو مسلمانوں کو اذیتیں پہنچا رہے تھے اور ان کو سخت تنبیہ کی ہے۔
Read the full tafseer →(29:4) ام۔ یہاں ہمزہ کے معادل کے طور پر آیا ہے جیسے احسب الناس میں اور استفہام انکاری کے معنی دیتا ہے گویا حق سبحانہ و تعالیٰ مومنوں کو یہ منوانا چاہتا ہے کہ وہ آزمائش اور امتحان سے ضرور گزارے جائیں گے۔ اور کافرین کو یہ ذہن نشین کرانا چاہتا ہے کہ ارتکاب سیئات کے بعد وہ اللہ کے انتقام سے بچ کر نہیں کل سکیں گے۔
یسبقونا مضارع منصوب بوجہ عمل ان جمع مذکر غائب سبق یسبق (ضرب) سبق مصدر۔ سبقت لے جانا ۔ آگے نکل جانا۔ نا ضمیر جمع متکلم ان یسبقونا کہ وہ ہم سے آگے نکل جائیں گے۔ ہم سے (بچ کر) نکل جائیں گے۔
ساء برا ہے۔ ساء یسوء سوء (نصر) سے ۔ فعل ذم سے بھی بئس۔
ما یحکمون ۔ میں ھا موصولہ ہے۔ اور یحکمون صلۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 7 :
حسب (گمان کیا۔ خیال کیا) ‘ لایفتنون (وہ آزمائے نہ جائیں گے) ‘ ساء (برا ہے) ‘ یرجوا ( امید رکھتا ہے) یجاھد ( وہ جدوجہد۔ کوشش کرتا ہے) ‘ غنی (بےنیاز) نکفرن ( ہم ضرور اتاردیں گے) نجزین ( ہم ضرور بدلہ دیں گے) احسن ( زیادہ بہتر) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 7 :
اس سورت کا آغاز بھی حروف مقطعات سے کیا گیا ہے یعنی جن حروف کے معنی کا علم اللہ کو ہے۔
جب انسان حق و صداقت یعنی ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کرتا ہے تو اس کو باطل نظام زندگی اور ظالموں کی قوت و طاقت سے ٹکرانا پڑتا ہے۔ یہ اتنی بڑی آزمائش اور امتحان ہے کہ حالات کے سامنے اگر وہ ڈٹ کر اور جم کر کھڑا ہوجائے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
مسلمانوں کی آزمائش کا ذکر۔
(ف 1) شان نزول : نبی ﷺ کے مکہ سے ہجرت فرمانے کے بعد کچھ مسلمان مکہ میں ایسے رہ گئے تھے جن کو مشرک لوگ ہجرت سے بھی روکتے تھے اور مکہ میں بھی امن سے نہیں رہنے دیتے تھے بلکہ طرح طرح کی تکلیفیں ان مسلمانوں کو ہر وقت دیتے تھے جن تکلیفوں سے وہ مسلمان تنگ دل تھے ان کی ہمت بڑھانے کے لیے مدینہ میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ جب مدینہ سے ان کے دوست صحابہ نے ان کو ان آیتوں کے نازل ہونے کا حال لکھ کر مکہ میں بھیجا تو وہ مشرکین سے لڑ کر ہجرت کے لیے مکہ سے نکلنے کو مستعد ہوئے اور کچھ مدینہ میں مہاجرین بن کر پہنچ گئے فرمایا کہ دارآخرت کی طرف کامیابی کے ساتھ جاناآسان بات نہیں اس میں بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
[3] مکہ میں جو نوجوان ایمان لائے تھے ان کے والدین ایمان سے باز رہنے کے لئے ان پر زور ڈال رہے تھے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ گویا بتلا دیا کہ والدین کا خلاف حق پر مجبور کرنا یہ بھی ایک آزمائش ہے اور مومن کو چاہئے کہ ان کی خاطر دین کو نہ چھوڑے۔ دنیا میں ماں باپ سے زیادہ کسی کا حق نہیں لیکن اللہ کا حق ان سے زیادہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
ف 1: مکہ کی زندگی میں مسلمانوں کو جب تکلیفیں پہنچتیں ۔ تو بعض ضعیف ال ایمان مسلمان گھبرا اٹھتے ۔ اس پر ان آیات کا نزول ہوا ۔ کہ صرف امنا کہہ دینا کافی نہیں بلکہ آزمائش شرط ہے ۔ اللہ تعالیٰ واقعات کے رنگ میں دیکھنا چاہتے ہیں ۔ کہ ان لوگ قول وعمل کے لحاظ سے صادق ہیں اور کون لوگ قول وعمل کے لحاظ سے کاذب ہیں ۔ کن لوگوں کے دلوں میں ایمان مضبوط ہوچکا ہے ۔ اور کون لوگ ہنوز ضعیف ال ایمان ہیں ۔
حل لغات :۔ لیعلمن ۔ اللہ کا علم ازلی ہے ۔ اس میں واقعات و حوادث سے کوئی تغیر پیدا نہیں ہوتا ۔ اس لئے اس سے مراد علم مستانف نہیں ہے ۔ بلکہ وہ علم ہے جو حالات کے بروئے کار آنے سے ہوتا ہے ۔
Read the full tafseer →4۔ کیا وہ لوگ جو برے کام کررہے ہیں انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ ہم سے کہیں بھاگ کر آگے بڑھ جائیں گے اور آگے نکلجائیں گے وہ فیصلہ اور وہ تجویز بہت ہی بری ہے جو یہ کرتے ہیں ۔ یعنی اس قسم کا خیال کرنا کہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت سے نکل بھاگیں گے یہ خیامل بہت ہی برا اور لغو و بیہودہ ہے ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پہلی دو آیتیں کہیں مسلمانوں کو جو گرفتار تھے کافروں کی ایذا میں اور یہ سب کافروں کو جو ستاتے تھے مسلمانوں کو ۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
ف 6۔ یہ جملہ معترضہ کے طور پر ہے جس میں کفار کی بد انجامی سناکر مسلمانوں کی ایک گونہ تسلی کردی کہ ان ایذاوں کا ان سے بدلہ لیا جاوے گا۔
Read the full tafseer →برائیاں کرتے رہنے والوں کا کیا خیال ہے کہ ان کو ایسے ہی چھوڑ دیا جائے گا ؟ :
4۔ نزول قرآن کریم کے وقت ایمان والوں کو اذیتیں کون دے رہا تھا ؟ ظاہر ہے کہ وہ قریش کے سردار ہی تھے قرآن کریم ان کو مخاطب کرکے کہہ رہا ہے کہ کیا ان قریش کے سرداروں کو یہ گمان ہے کہ اسلام کی مخالفت میں ایمان لانے والوں کو اذیتیں دے کر اور ان پر ظلم کر کے ہم سے بازی لے جائیں گے کہ ہم انہیں گرفتار کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں گے ۔ اگر ان کا یہ فیصلہ ہے تو کیسا برا فیصلہ ہے تو وہ کرتے ہیں بھلا اللہ تعالیٰ کی دسترس سے کوئی بچ کر نکل کہاں سکتا ہے اگر وہ پکڑنا چاہے ، پہلے مخاطب بلاشبہ پہلے ہی مخالف ہوسکتے تھے لیکن حکم عام ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
Commentary
وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ (And We have instructed man - 29:8). Wasiyyah (وَصِیَّۃ) means to call someone for some action, when the call is based on advice and well wishing. (Mazhari)
بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا (to do good to his parents - 29:8). The Word Husn (حُسن) is an infinitive which means ' to be good'. at is meant here is to adopt good behavior. The meaning of the sentence is quite clear that Allah Ta’ ala has advised man to treat his parents kindly.
وَإِن جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي (And if they insist upon you that you should ascribe partners to Me - 29:8). It should be taken…
Read the full tafseer →4 This may refer to all those people who disobey Allah's Commands but here particularly it implies those wicked chiefs of the Quraish, who were in the forefront in their antagonism to Islam and persecution of the converts to Islam, e.g. Walid .bin Mughirah, Abu Jahl, `Utbah, Shaibah,~`Uqbah bin Abi Mu`ait, Hanzalah bin Wail, etc. Here the context itself requires that after exhorting the Muslims to patience and fortitude against the trials and tests, those people also should be chided and scolded, who were persecuting the believers."
>5 It may also mean: "...that they will escape Our grasp."…
Read the full tafseer →