Al-Ankaboot 29:3

Al-Ankaboot · from ayah 3

29:3

وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ ۟وَلَقَدۡ فَتَـنَّا الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ‌ فَلَيَـعۡلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ صَدَقُوۡا وَلَيَعۡلَمَنَّ الۡكٰذِبِيۡنَ

اور جو لوگ اُن سے پہلے ہو چکے ہیں ہم نے اُن کو بھی آزمایا تھا (اور ان کو بھی آزمائیں گے) سو خدا اُن کو ضرور معلوم کریں گے جو (اپنے ایمان میں) سچے ہیں اور اُن کو بھی جو جھوٹے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

But We have certainly tried those before them, and Allah will surely make evident those who are truthful, and He will surely make evident the liars.

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ankaboot

All translations of 29:3

حالاں کہ ہم اُن سب لوگوں کی آزمائش کر چکے ہیں جو اِن سے پہلے گزرے ہیں اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہے کہ سچّے کون ہیں اور جھوٹے کون

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو لوگ اُن سے پہلے ہو چکے ہیں ہم نے اُن کو بھی آزمایا تھا (اور ان کو بھی آزمائیں گے) سو خدا اُن کو ضرور معلوم کریں گے جو (اپنے ایمان میں) سچے ہیں اور اُن کو بھی جو جھوٹے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان سے اگلوں کو بھی ہم نے خوب جانچا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ انہیں بھی جان لے گا جو سچ کہتے ہیں اور انہیں بھی معلوم کرلے گا جو جھوٹے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

حالانکہ ہم نے ان سب کی آزمائش کی ہے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ لہذا اللہ ضرور معلوم کر کے رہے گا کہ کون لوگ ہیں جنہوں نے سچائی سے کام لیا ہے اور وہ یہ بھی معلوم کر کے رہے گا کہ کون لوگ جھوٹے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہم نے ان سے اگلوں کو جانچا تو ضرور اللہ سچوں کو دیکھے گا اور ضرور جھوٹوں کو دیکھے گا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہم نے ان لوگوں کو (بھی) آزمایا تھا جو ان سے پہلے تھے سو یقیناً اللہ ان لوگوں کو ضرور (آزمائش کے ذریعے) نمایاں فرما دے گا جو (دعوٰی ایمان میں) سچے ہیں اور جھوٹوں کو (بھی) ضرور ظاہر کر دے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

حالانکہ بلاشبہ یقینا ہم نے ان لوگوں کی آزمائش کی جو ان سے پہلے تھے، سو اللہ ہر صورت ان لوگوں کو جان لے گا جنھوں نے سچ کہا اور ان لوگوں کو بھی ہر صورت جان لے گا جو جھوٹے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

حالانکہ ہم نے ان لوگوں کو آزمایا تھا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ضرور یہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ ان میں سے سچے کون ہیں اور جھوٹے کون

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے تو ان لوگوں کو بھی آزمایا جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ سو اللہ ان لوگوں کو ممیز کرے گا جو سچے ہیں اور جھوٹوں کو بھی ممیز کرکے رہے گا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

حالانکہ ہم نے ان لوگوں کی بھی کڑی آزمائشیں کیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں سو اللہ کو ضرور دیکھنا ہے ان کو جو سچے ہیں ان کو آزمائش کی بھٹی سے گزار کر اور اس نے ضرور دیکھنا ہے ان کو بھی جو جھوٹے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم تو انہیں بھی آزماچکے ہیں جو ان سے قلب گزرے ہیں سو اللہ ان لوگوں کو جان کررہے گا جو سچے تھے اور جھوٹوں کو بھی جان کر رہے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہم نے تو ان کو بھی آزمایا تھا جو ان سے پہلے تھے پس اللہ ظاہر کر کے رہے گا ان کو جو سچے ہیں اور ان کو بھی جو جھوٹے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو لوگ ان سے پہلے ہوچکے ہیں ہم نے ان کو بھی آزمایا تھا اور ان کو بھی آزمائیں گے سو اللہ ان کو ضرور معلوم کرے گا جو اپنے ایمان میں سچے ہیں اور ان کو بھی جو جھوٹے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

for We indeed tested those who went before them? Allah will most certainly ascertain those who spoke the truth and those who lied.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Indeed We have tested those who were before them. So Allah will surely know the ones who are truthful, and He will surely know the liars.

— Muhammad Taqi Usmani

Indeed We have tested those who were before them. So Allah will surely know the ones who are truthful, and He will surely know the liars.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We indeed tested those who were before them so that Allah will indeed know those who are true, and He will know those who are liars.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! We tested those who were before you. Thus Allah knoweth those who are sincere, and knoweth those who feign.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But We have certainly tried those before them, and Allah will surely make evident those who are truthful, and He will surely make evident the liars.

— Saheeh International

We had certainly tried those who lived before them to make sure who were truthful in their faith and who were liars.

— Muhammad Sarwar

And certainly We tried those before them, so Allah will certainly know those who are true and He will certainly know the liars.

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly We have tempted those who were before them. So Allah will surely know those who are true and He will surely know the liars.

— Abdul Majid Daryabadi

We did test those before them, and Allah will certainly know those who are true from those who are false.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 29:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–4

حروف مقطعہ کی بحث سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں گزرچکی ہے۔ امتحان اور مومن پھر فرماتا ہے یہ ناممکن ہے کہ مومنوں کو بھی امتحان سے چھوڑ دیا جائے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے زیادہ سخت امتحان نبیوں کا ہوتا ہے پھر صالح نیک لوگوں کا پھر ان سے کم درجے والے پھر ان سے کم درجے والے۔ انسان کا امتحان اس کے دین کے انداز پر ہوتا ہے اگر وہ اپنے دین میں سخت ہے تو مصیبتیں بھی سخت نازل ہوتی ہیں۔ اسی مضمون کا بیان اس آیت میں بھی ہے (اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلَا رَسُوْلِهٖ وَلَا الْمُؤْمِنِيْنَ وَلِيْجَةً ۭ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة العنکبوت 2 یعنی یہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے جو تمہارے ساتھ ہی پیش آرہا ہو۔ تاریخ میں ہمیشہ یہی ہوا ہے کہ جس نے بھی ایمان کا دعوی کیا ہے اسے آزمائشوں کی بھٹی میں ڈال کر ضرور تپایا گیا ہے، اور جب دوسروں کو امتحان کے بغیر کچھ نہیں دیا گیا تو تمہاری خصوصیت ہے کہ تمہیں صرف زبانی دعوے پر نواز دیا جائے۔ سورة العنکبوت 3 اصل الفاظ ہیں فَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ جن کا لفظی ترجمہ یہ ہوگا کہ " ضرور ہے اللہ یہ معلوم کرے " اس پر ایک شخص یہ سوال کرسکتا ہے کہ اللہ کو تو سچے کی سچائی اور جھوٹے کا جھوٹ خود ہی معلوم ہے، آزمائش کر کے اسے معلوم کرنے کی کیا ضرورت ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ جب تک ایک شخص کے اندر کسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–7

فَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا، یعنی ان امتحانات اور شدائد کے ذریعہ مخلص اور غیر مخلص اور نیک و بد میں ضرور امتیاز کریں گے۔ کیونکہ مخلصین کے ساتھ منافقین کا خلط ملط بعض اوقات بڑے نقصانات پہنچا دیتا ہے مقصد اس آیت کا نیک و بد اور مخلص و غیر مخلص کا امتیاز واضح کردینا ہے، جس کو اس طرح تعبیر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جان لے گا صادقین کو اور کا ذبین کو، اللہ تعالیٰ کو تو ہر انسان کا صادق یا کاذب ہونا اس کے پیدا ہونے سے پہلے بھی معلوم ہے، امتحانات اور آزمائشوں کے جان لینے کے معنی یہ ہیں کہ اس امتیاز کو دوسروں پر بھی ظاہر فرما دیں گے۔ اور حضرت سیدی حکیم الامت تھانوی نے اپنے شیخ مولانا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ولقد فتنا الذین من قبلھم فلیعلمن اللہ الذی صدقوا ولیعلمن الکذبین (3) یہ اللہ تعالیٰ نے نہایت موکد الفاظ میں اپنی اس سنت کی یاددہانی فرمائی جس سے ان لوگوں کو لازماً سابقہ پیش آتا ہے جو ایمان و اسلام کا دعویٰ لے کر اٹھتے ہیں۔ فرمایا کہ ان لوگوں سے پہلے جو لوگ یہ دعویٰ لے کر اٹھے ہم نے ان کو بھی آزمائشوں میں ڈال کر ان کا امتحان کیا، اسی طرح ان کا بھی امتحان کریں گے۔ یہ اشارہ پچھلے رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کی طرف ہے۔ فلیعن اللہ الناس صدقوا ولیعلمن الکذبین یعنی اگر یہ امتحان نہ ہو تو آخر یہ کس طرح ثابت ہوگا کہ کون اپنے دعوے میں سچا ہے، کون جھوٹا ہے۔ اس وجہ سے اللہ لازماً راست بازوں اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

3-1یعنی یہ سنت الٰہیہ ہے جو پہلے سے چلی آرہی ہے۔ اس لئے وہ اس امت کے مومنوں کی بھی آزمائش کرے گا، جس طرح پہلی امتوں کی آزمائش کی گئی۔ ان آیات کی شان نزول کی روایات میں آتا ہے کہ صحابہ کرام نے اس ظلم و ستم کی شکایت کی جس کا نشانہ وہ کفار مکہ کی طرف سے بنے ہوئے تھے اور رسول اللہ ﷺ سے دعا کی درخواست کی تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرمائے آپ ﷺ نے فرمایا ' یہ تشدد و ایذاء تو اہل ایمان کی تاریخ کا حصہ ہے تم سے پہلے بعض مومنوں کا یہ حال کیا گیا کہ انھیں ایک گھڑا کھود کر اس میں کھڑا کردیا گیا اور پھر ان کے سروں پر آرا چلا دیا گیا، جس سے ان کے جسم دو حصوں میں تقسیم ہوگئے، اسی طرح لوہے کی کنگھیاں ان کے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–3

1: اگرچہ اللہ تعالیٰ کو شروع ہی سے معلوم ہے کہ کون فرماں بردار ہوگا، اور کون نافرمان، لیکن اللہ تعالیٰ اس ازلی علم کی بنیاد پر جزاء وسزا کا فیصلہ کرنے کے بجائے لوگوں پر حجت تمام کرنے کے لئے انہیں موقع دیتا ہے کہ وہ اپنے اختیار سے ہدایت یا گمراہی کا راستہ خود چنیں، اور یہاں یہی دیکھنا مراد ہے کہ کس نے کونسا راستہ عملاً چنا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–3

سورة العنکبوت ایک نظر میں سورة عنکبوت مکی ہے ، بعض روایات میں یہ آیا ہے کہ اس کی پہلی گیارہ آیات مدنی ہیں۔ محض اس لیے کہ ان میں جہاد اور منافقین کا ذکر ہے۔ لیکن ہم اس قول کو ترجیح دیتے ہیں یہ پوری سورت مکی ہے اور اس کی آٹھویں آیت کے بارے میں یہ روایت آتی ہے کہ یہ سعد ابن ابی وقاص کے اسلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جیسا کہ عنقریب اس کا ذکر ہوگا۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ حضرت سعد ابن ابی وقاص مکہ میں مسلمان ہوئے۔ ظاہر ہے کہ جن آیات کو مدنی کہا گیا ہے یہ بھی ان میں سے ایک ہے۔ لہٰذا صحیح بات یہی ہے کہ ان سب آیات کو مکی کہا جائے۔ رہی یہ بات کہ ان میں جہاد کا ذکر آیا ہے تو اس کی تاویل آسان ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی پہلے نبیوں کے متبعین بڑے بڑے سخت امتحانوں میں ڈالے جا چکے ہیں۔ بخاری میں ہے کہ صحابہ ؓ نے ایک مرتبہ آپ ﷺ کی خدمت میں فریاد کی کہ حضرت ! ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کیجئے اور دعاء فرمائیے۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ مشرکین مکہ نے مسلمانوں پر سختی اور ظلم و ستم کی انتہاء کر رکھی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم سے پہلے ایک (زندہ) آدمی کو زمین کھود کر (کھڑا) گاڑ دیا جاتا تھا۔ پھر اس کے سر پر آرہ چلا کر بیچ سے دو ٹکڑے کردیتے تھے، بعضوں کے بدن میں لوہے کہ کنگھیاں پھرا کر چمڑا اور گوشت ادھیڑ دیا جاتا تھا۔ تاہم یہ سختیاں ان کو دین سے نہ ہٹا سکیں۔ 9 یعنی اللہ تعالیٰ اعلانیہ ظاہر کر دے گا اور دیکھ لے گا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 3 وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ” ہم ان سے پہلے بھی ایمان کے ہر دعویدار کو آزماتے رہے ہیں اور آزمائش کے بغیر ہم کسی کے ایمان کو تسلیم نہیں کرتے۔ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْکٰذِبِیْنَ ” اگرچہ ان الفاظ کا لفظی ترجمہ تو یہ ہے کہ ”اللہ جان کر رہے گا“ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کے علم قدیم سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں ہے اور وہ انسانوں کی نیتوں اور دلوں کے حالات سے بخوبی واقف ہے ‘ اس لیے یہاں اللہ کے ”جان لینے“ کا مفہوم دراصل یہی ہے کہ اللہ ظاہر کر دے گا کہ کون کتنے پانی میں ہے ! وہ ممیز کر دے گا کہ کون منافق ہے اور کون سچا مؤمن ! کون ضعیف الایمان ہے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 حضرت خباب بن ارت کہتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ کے پاس آیا اس وقت آپ کعبہ کے سایہ میں ایک چادر پر تکیہ لگائے بیٹے تھے۔ اس زمانہ میں ہم مشرک لوگوں سے سخت تکلیفیں اٹھا رہے تھے۔ میں نے آپ سے عرض کیا : آپ اللہ سے دعا کیوں نہیں کرتے ؟ یہ سنتے ہی آپ (تکیہ چھوڑ کر سیدھے) بیٹھ گئے۔ آپ کا چہرہ (غصہ سے) سرخ ہوگیا اور آپ نے فرمایا : تم سے پہلے ایسے لوگ گزر چکے ہیں جن کے گوشت اور پٹھوں میں ہڈیوں تک لوہے کی کنگھیاں چلائی جاتی تھیں مگر وہ اپنے سچے دین سے نہیں پھرتے تھے اور آرا ان کے سر کے درمیان پر رکھ کر چلایا جاتا اور دو ٹکڑے کردیئے جاتے مگر وہ اپنے دین سے نہ پھرتے۔ اور اللہ اپنے اس کام (غلبہ حق) کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

2۔ یعنی جس طرح سابق امتوں کے مومنوں کی آزمائشیں ہوچکی ہیں، ان لوگوں کے ساتھ بھی یہ معاملات پیش آکر رہیں گے، جو اپنے دعوے میں سچے ہوتے ہیں وہ امتحان سے اور پختہ ہوجاتے ہیں۔ اور جن کے دعوے محض زبانی ہوتے ہیں وہ نکل بھاگتے ہیں۔ (آیت) ” لیعلمن اللہ “ اللہ جان کر رہے گا “ یعنی ظاہری سے، خلقت کی نظر میں، ورنہ حقیقۃ تو اللہ کو علم شروع ہی سے ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–13

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 13 ترجمہ : الم اس کی مراد تو اللہ ہی کو معلوم ہے کیا ان لوگوں نے یہ گمان کررکھا ہے کہ ان کے صرف یہ کہنے پر کہ ہم ایمان لائے ہم انہیں آزمائے بغیر چھوڑدیں گے ان کو ایسی چیزوں سے آزمایا جائے گا کہ جن سے ان کے ایمان کی حقیقت ظاہر ہوجائے، یہ ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جب وہ ایمان لائے تو مشرکین نے اذیت پہنچائی اللہ تعالیٰ ان سے پہلے والوں کو بھی آزما چکا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بھی جانچے گا جو اپنے ایمان میں سچے تھے مشاہدہ کے طور جانچنا اور ایمان کے بارے میں جھوٹوں کو بھی معلوم کے گا، کیا جو لوگ برائیاں یعنی شرک اور معاصی کررہے ہیں یہ سمجھتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد فتنا الذین من قبلھم . ہم ان سے پہلے لوگوں کی (سخت) آزمائشیں کرچکے ہیں۔ یعنی انبیاء اور مؤمنین کی سخت آزمائش کرچکے ہیں۔ بعض انبیاء کو آروں سے چیرا گیا ‘ بعض کو قتل کردیا گیا ‘ بنی اسرائیل کو فرعون بدترین عذاب دیتا رہا۔ مراد یہ ہے کہ اللہ کا یہ پرانا دستور ہے کہ نیک لوگوں کو سخت مصائب میں مبتلا کر کے پرکھا جاتا ہے۔ تمام امتیں اسی آزمائشی دور سے گزری ہیں ‘ تو کیا اس زمانہ میں اس سنت قدیمہ کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے۔ فلیعلمن اللہ الذین صدقوا ولیعلمن الکذبین . سو اللہ ان لوگوں کو (ظاہری علم سے) جان کر رہے گا جو (ایمان کے دعویٰ میں) سچے ہیں اور جھوٹوں کو بھی جان کر رہے گا۔ ا اللہ تو ہمیشہ سے جانتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(3) اور ہم تو انبیاء کرام ؑ کے بعد ان چیزوں کے ذریعے سے ان لوگوں کو بھی آزما چکے ہیں جو اصحاب محمد ﷺ سے پہلے گزرے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ممتاز کردے جو اپنے دعوے ایمانی میں سچے ہیں کہ وہ خواہشات اور بدعات سے بچ رہے ہیں اور جھوٹوں کو بھی دکھا جو ان چیزوں میں مبتلا ہو کر اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ : یعنی یہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے جو تمہارے ساتھ پیش آیا ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی یہ مستقل سنت رہی ہے اور پہلے لوگوں کی بھی آزمائشیں ہوتی رہی ہیں، خباب بن ارت ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے پاس شکایت کی، اس وقت آپ کعبہ کے سائے میں ایک چادر کا تکیہ بنائے ہوئے تھے، ہم نے آپ سے کہا : (أَلاَ تَسْتَنْصِرُ لَنَا ؟ أَلاَ تَدْعُوْ لَنَا ؟ فَقَالَ قَدْ کَانَ مَنْ قَبْلَکُمْ یُؤْخَذُ الرَّجُلُ فَیُحْفَرُ لَہُ فِي الْأَرْضِ فَیُجْعَلُ فِیْہَا فَیُجَاء بالْمِنْشَارِ فَیُوْضَعُ عَلٰی رَأْسِہِ فَیُجْعَلُ نِصْفَیْنِ وَ یُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِیْدِ مَا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–3

الم۔ احسب الناس۔۔۔۔۔ سورتوں کے آغاز میں حروف مقطعات کے بارے میں بات گزر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : معنی ہے میں اللہ، بہتر جانتا ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ سورت کا نام ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ قرآن کا نام ہے۔ آحسب میں ہمزہ استفہام کا ہے مراد تقریر و توبیخ ہے۔ حسب کا معنی ظن ہے۔ آن یترکو محل نصب میں ہے جس کو نصب حسب نے دی ہے۔ سیبویہ کے قول کے مطابق یہ اور اس کا صلہ دو مفعولوں کے قائم مقام ہیں۔ ان یقولو میں ان دو توجہیوں میں سے ایک توجیہ کے مطابق محل نصب میں ہے۔ معنی ہے لان یقولو بان یقولو علی ان یقولوا۔ دوسری جہت کی بناء پر اس میں تکرار ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے : حضرت ابن عباس اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–3

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے شعبی (رح) سے آیت الم، احسب الناس ان یترکو کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو مکہ میں تھے اور انہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا رسول اللہ ﷺ کے اصحاب نے مدینہ منورہ سے ان کی طرف لکھا جب ہجرت کی آیت نازل ہوئی کہ تم سے اقرار اور اسلام کو قبول نہیں کیا جائے گا یہاں تک کہ تم ہجرت کرو تو وہ لوگ مدینہ منورہ کا ارادہ کرتے ہوئے نکل پڑے مشرکین ان کے پیچے لگ گئے اور ان کو واپس مکہ لوٹا دیا تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی پھر انہوں نے ان کی طرف لکھا کہ تمہارے بارے میں اس طرح اور اس طرح آیت نازل ہوئی ہے تو انہوں نے کہا ہم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَقَدْ فَتَنَّا [اور بیشک ہم آزما چکے ہیں ] الَّذِيْنَ [ان کو جو ] مِنْ قَبْلِهِمْ [ان سے پہلے تھے ] فَلَيَعْلَمَنَّ [تو لازما جان لے گا ] اللّٰهُ [اللہ ] الَّذِيْنَ [ان کو جنہوں نے ] صَدَقُوْا [سچ کہا ] وَلَيَعْلَمَنَّ [اور وہ لازما جان لے گا ] الْكٰذِبِيْنَ [جھوٹ کہنے والوں کو ] ۔ نوٹ۔ 2: آیت۔ 3 ۔ میں ہے کہ اللہ لازما جان لے گا۔ سوال یہ ہے کہ اللہ کو تو سچے کی سچائی اور جھوٹے کا جھوٹ خود ہی معلوم ہے۔ آزمائش کرکے اسے معلوم کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جب تک ایک شخص کے اندر کسی چیز کی صرف صلاحیت اور استعداد ہی ہوتی ہے۔ عملا اس کا ظہور نہیں ہوجاتا، اس وقت تک از روئے عدل و انصاف…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ ) (اور ہم نے آزمایا ان لوگوں کو جو ان سے پہلے تھے) (فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا) (سو ضرور ضرور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جان لے گا جو اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہیں) (وَ لَیَعْلَمَنَّ الْکٰذِبِیْنَ ) (اور ضرور ضرور ان لوگوں کو بھی جان لے گا جو جھوٹے ہیں) یعنی جو زبان سے ایمان کے مدعی ہیں لیکن ان کے دلوں میں ایمان نہیں ہے۔ مطلب یہ کہ پہلے لوگوں کو آزمائش میں ڈالا گیا ان کو بھی تکلیفیں پہنچیں اور دشمنان اسلام سے واسطہ پڑا، مقتول ہوئے، زخم کھائے اور دوسری تکلیفوں میں مبتلا ہوئے، اب امت محمدیہ (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ)…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–13

تنبیہ اہل ایمان برحکمت اہل شدائد وآفات زمان کہ آں تمیز مخلص ومنافق است وتشجیع اہل ہدایت بر صبرواستقامت وتشنیع اہل ضلالت وغوایت قال اللہ تعالیٰ الم احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا۔۔۔ الی۔۔۔ ولیسئلن یوم القیمۃ عما کانوا یفترون۔ (شان نزول) ایک دن آنحضرت ﷺ کعبہ کی دیوار سے تکیہ لگائے سایہ میں بیٹھے تھے تو بعض صحابہ نے مشرکین کی شکایت کی کہ وہ ہمیں طرح طرح سے ایذائیں پہنچا رہے ہیں آپ ﷺ ہمارے لئے دعا کریں کہ کافروں کا یہ ظلم وستم ہم سے ٹل جائے یہ سن کر آپ ﷺ ناراض ہوئے اور فرمایا کہ تم سے پہلے گزشتہ دینداروں کے سر آروں سے چیرے گئے اور ان کے دو ٹکڑے کئے گئے مگر وہ اپنے دین سے نہیں ہٹے اور بعضوں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 3–4

3:۔ یہ دوسرا دعوی ہے۔ مشرکین کا خیال باطل ہے کہ وہ ہمارے عذاب سے بچ جائیں گے۔ السیات کفر و شرک و معاصی۔ السیات ای الشرک و المعاصی (مدارک ج 3 ص 191) ۔ فعل مضارع حدوث و تجدد پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی جو لوگ ہر وقت کفر وشرک اور فسق و فجور میں منہمک رہتے اور غیر اللہ کو پکارتے رہتے ہیں کیا ان کا خیال ہے کہ ہم ان کو ان کی بد اعمالیوں کی سزا نہیں دے سکیں گے اور وہ ہمارے عذاب سے بچ نکلیں گے ؟ ساء ما یحکمون یہ بہت بری بات اور صریح غلط خیال ہے۔ جب اللہ کا عذاب آگیا تو وہ اس سے ہرگز نہیں بچ سکیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–7

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام اس کی آیت 014 میں آمدہ لفظ عنکبوت سے مآخوذ سورة العنکبوت ہے۔ اللہ نے اس آیت میں شرک کے بودہ پن کو مکڑی کے جالے کے کے ساتھ تشبیہ دے کر بات سمجھائی ہے کہ اللہ کے علاوہ دوسرے کو معبود ٹھہرانے کی مثال مکڑی کے جالے کی طرح ہے جو کہ کمزور ترین گھر ہوتا ہے۔ ترتیب نزول کے اعتبار سے یہ سورة الروم کے بعد نازل ہوئی مگر ترتیب تلاوت میں اس کو مقدمہ رکھا گیا ہے۔ یہ سورة مکی دور کے اس زمانہ میں نازل ہوئی جب کہ اہل ایمان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے ، چناچہ اللہ نے ابتدائی آیات میں ہی مسلمانوں کو تسلی دی ہے کہ ایمان قبول کرنے کے بعد آزمائش سے گزرنا پڑے گا ، اور جو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللہُ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِيْنَ۝ 3 علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا صدق وکذب الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول، ولا يکونان في القول إلّا في الخبر دون غيره من أصناف الکلام، ولذلک قال : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ص دق) الصدق ۔ الکذب یہ ایک الکذب کی ضد ہے اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا مستقبل کے ۔ وعدہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 2–5

ترکیب : ان یترکوا ان وما عملت فیہ یسد مسد المفعولین۔ ان یقولوا ای بان یقولوا دیجوز ان یکون بدلا من ان یترکوا من کان شرط و الجواب فان اجل اللہ و التقدیر لایۃً ۔ تفسیر : پہلی سورة کے خاتمہ میں فرمایا تھا کہ ان الذی فرض علیک القرآن لرادک الیٰ معاد اور معاد دار آخرت کی طرف کامیابی کے ساتھ جانا آسان بات نہیں، اس میں بڑی بڑی جانفشانیاں کرنی پڑتی ہیں اور بڑی سختیوں کی برداشت کرنی پڑتی ہے، اس لیے اس سورة میں الم سے ایک خاص 1 ؎ مطلب کی طرف اشارہ کرکے، یہ فرمایا احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا آمنا وھم لایفتنون کہ کیا لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ لا الہ الا اللہ کہہ دینا اور صرف ایمان لا کے بیٹھ رہنا کافی ہے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَلَیَعَلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْـکٰذِبِیْنَ ۔ (العنکبوت : 3) (حالانکہ ہم ان لوگوں کی بھی آزمائش کرچکے ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں، سو اللہ ان لوگوں کو ممیز کرے گا جو سچے ہیں اور جھوٹوں کو بھی ممیز کرکے رہے گا۔ ) سابقہ آیت کے مضمون کی تاکید و تائید اس آیت کریمہ میں سابقہ آیت میں جو کچھ فرمایا گیا ہے نہایت مؤکد انداز میں اس کی تائید و تاکید فرمائی گئی ہے یعنی یہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے جو صرف آپ لوگوں کے ساتھ پیش آرہا ہے۔ تاریخِ مذہب اٹھا کے دیکھ لیجیے آپ کو نظر آئے گا کہ تاریخ میں ہمیشہ ایسا ہوتا رہا ہے کہ جب بھی کچھ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–3

فہم القرآن ربط سورة : سورة القصص کا اختتام توحید کے مرکزی نقطہ پر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو معبود نہیں بنانا۔ چاہے حالات کتنے ہی ناگفتہ بہ ہوجائیں ایک داعی اور موحد کو ہر حال میں عقیدہ توحید پر قائم رہنا ہے۔ سورة العنکبوت کی ابتداء اس بات سے ہوئی کہ توحید کی دعوت دینے اور اس پر قائم رہنے پر مشکلات اور مصائب کا آنا ناگزیر ہے۔ الم ۔ حروف مقطعات ہیں جن کے بارے میں تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ ان کا معنی اور مفہوم حدیث مبارکہ سے ثابت نہیں۔ صحابہ کرام ؓ ان کا معنی جانے بغیر ہی تلاوت کیا کرتے تھے۔ حروف مقطعات کے بعد ارشاد ہوتا ہے کیا لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم ” اللہ “ اور اس کے رسول ﷺ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

3: وَلَقَدْ فَتَنَّا (ہم نے ان سے پہلے لوگوں کو آزمایا) ۔ امتحان لیا۔ یہ أحسب سے متصل ہے۔ نمبر 2۔ لا یفتنون سے متصل ہے۔ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ (وہ لوگ جو ان سے قبل ہوئے) ۔ مختلف قسم کی آزمائشوں کے ذریعہ ان کو آزمایا ان میں سے بعض کے سروں پر آرا رکھ کردو حصوں میں چیر دیا گیا۔ مگر یہ بات بھی اس کو دین سے ہٹا نہ سکی۔ اور بعض کو لوہے کی کنگھیوں سے چھیدا گیا مگر یہ چیز ان کو دین سے نہ پھیر سکی۔ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ (پس اللہ تعالیٰ امتحان سے ضرور ظاہر کرے گا) ۔ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا (ایمان میں سچے لوگوں کو) وَلَیَعْلَمَنَّ الْکٰذِبِیْنَ (اور ضرور بضرور ایمان میں جھوٹے لوگوں کو ظاہر کر کے رہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

3۔ ولقد فتنا الذین من قبلھم، ، یعنی انبیاء اور مومنین کی سخت آزمائش ہم کرچکے ہیں۔ بعض انبیاء کو آروں سے چیرا گیا بعض کو قتل کیا گیا، بنی اسرائیل کو فرعون بدترین عذاب دیتارہا۔ فلیعمن اللہ الذین صدقوا، ، ان کے قول، امنا ، کہ جو لوگ ایمان لائے اور اپنے وعدے میں سچے ہیں۔ ولیعلمن الکاذبین، ، اللہ انکے امتحان لینے سے پہلے ہی جانتا ہے آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ سچوں کو جھوٹوں سے الگ کرکے ظاہر کردے تاکہ اللہ کے ازلی علم کا فعلی ظہور ہوجائے۔ مقاتل نے علم کا ترجمہ دکھانا کیا ہے کہ اللہ دکھادے گا، بعض نے اس طرح معنی بیان کیے کہ اللہ ناپاک کو پاک سے الگ کردے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–4

1 تا 4۔ حروف مقطعات کا ذکر سورة بقر میں گذر چکا ہے تفسیر شعبی تفسیر ابن ابی حاتم معالم التتریل وغیرہ 1 ؎ میں مجاہد اور قتادہ کے قول کے موافق جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے مکہ سے ہجرت فرمانے کے بعد کچھ مسلمان مکہ میں ایسے رہ گئے تھے جن کو مشرک لوگ ہجرت سے بھی روکتے تھے اور مکہ میں بھی ان کو امن سے نہیں رہنے دیتے تھے بلکہ طرح طرح کی تکلیفیں ان مسلمانوں کو ہر قت دیتے تھے جن تکلیفوں سے وہ مسلمان تنگ دل تھے ان کی ہمت بڑھانے لے لیے مدینہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں جب مدینہ سے ان کے دوست صحابہ ؓ نے ان کو ان آیتوں کے نازل ہونے کا حال لکھ کر مکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–3

آیت 1 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمت کاملہ کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بیان فرماتا ہے کہ یہ اس کی حکمت کا تقاضا نہیں کہ جس کسی نے کہہ دیا کہ “ وہ مومن ہے “ اور وہ ایمان کا دعویٰ کرے .... اسے ایسی حالت میں باقی رکھا جائے کہ جس میں وہ آزمائش وابتلا سے سلامت رہے گا اور اسے کوئی ایسا امر پیش نہیں آئے گا جو اس کے ایمان اور اس کی فروع کو مضطرب کرے اور اگر معاملہ اسی طرح ہو تو سچے اور جھوٹے حق اور بطل میں امتیاز نہیں ہوسکتا لیکن اس کی عادت یہ رہی ہے کہ وہ اہل ایمان کو خوشحالی اور تنگدستی راحت اور مشقت بشاشت اور نا گواری فراخی اور محتاجی بعض اوقات دشمنوں کی فتح و غلبہ اور دشمنوں کے خلاف قول وفعل کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 3–4

1 سنت ابتلاء و آزمائش کی تذکیر و یاددہانی : سو اس سے ابتلاء و آزمائش کی سنت خداوندی کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ کو ضرور دیکھنا ہے ان کو جو سچے ہیں اور اس نے ان کو بھی ضرور دیکھنا ہے جو جھوٹے ہیں "۔ سو علم سے یہاں پر علم ظہور یعنی دیکھنا مراد ہے کہ اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کے علم ازلی سے تو کوئی بھی چیز پوشیدہ نہیں۔ مگر وہ فیصلہ صرف اپنے اسی ازلی اور ذاتی علم پر نہیں فرماتا بلکہ ہر فعل کے ظہور اور وقوع کے مطابق فرماتا ہے۔ اسی لئے وہ لوگوں کو اس دنیا میں ابتلا و آزمائش میں ڈالتا ہے تاکہ کھرے کھوٹے کا فرق خود سامنے آجائے ورنہ جہاں تک اس کے علم محیط کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–4

ایمان داروں کی مصائب کی کسوٹی پر آزمائش تشریح : ایمان کا زبان سے اقرار اور دل سے یقین اس وقت مکمل ہوتا ہے جب اس اقرار اور یقین پر عمل بھی کیا جائے۔ مسلمان وہ ہے جو پورے کا پورا دین میں داخل ہوجائے۔ اس کی زندگی کے معمولات سے ‘ اس کے رہن سہن تہذیب و تمدن غرص لباس اور عادات واطوار سے خود بخود یہ دکھائی دینے لگے کہ یہ مسلمان ہے۔ یہ نہیں کہ دعوٰی تو اسلام کا کرے اور کام کرے ہندوعیسائی یا سکھوں جیسے۔ اور جب ایک سچا مسلمان ایمان کی وجہ سے آزمائشوں میں پڑتا ہے تو پھر وہ صرف ایمان کی حفاطت میں جان ‘ ملک ‘ ماں باپ آل اولاد غرض دنیا کی ہر چیز قربان کردیتا ہے۔ پھر اس کو اللہ کی طرف سے بےشمارنصرت اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–13

آیات 1 تا 13 اسرارو معارف راہ حق میں آزمائش : راہ حق میں مصیبت سے گھبرانا درست نہیں کیا لوگوں کا یہ گمان ہے کہ صرف یہ کہ دینے سے کہ ہم مومن ہیں وہ چھوٹ جائیں گے اور ان پر کوئی آزمائش نہ آئے گی یقینا آزمائش ضرور آئے گی بلکہ ان سے پہلی ساری امتوں کو آزمایا گیا اور اللہ نے کھرے اور کھوٹے سچے اور جھوٹے کو الگ الگ ثابت کردیا۔ آج کے مسلمان کا جو خیال ہے کہ کوئی ایسا راستہ ہو کہ اسلام پر بھی کاربند رہا جائے اور کافر بھی ناراض نہ ہوں اور کوئی مصیبت بھی کھڑی نہ کردیں یہ خیال خام ہے جو بھی حق پر عمل پیرا ہوگا اس کی آزمائش ضرور ہوگی ہاں کفار یہ نہ جان لیں کہ وہ برای کر کے اللہ کی گرفت سے بچ جائیں گے ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

7 ۔ یعنی یہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے جو تمہارے ساتھ پیش آیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی یہ مستقل سنت رہی ہے اور پہلے لوگوں کی بھی آزمائشیں ہوتی رہی ہیں۔ 8 ۔ لفظی ترجمہ یوں ہے کہ ” اللہ ضرور معلوم کرے گا کہ سچے کون ہیں اور جھوٹے کون ؟ لیکن مطلب یہ ہے کہ الگ الگ کر کے دکھلا دے گا کیونکہ اس کو تو سب حال پہلے سے معلوم ہے اور اس کا علم ازلی اور قدیم ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(29:3) ولقد فتنا الذین من قبلہم۔ یہ جملہ حال ہے الناس سے یا ضمیر یفتعنون سے۔ واؤ حالیہ ہے لام تاکید کے لئے اور قد یہاں تحقیق کے معنوں میں آیا ہے۔ فتنا ماضی کا صیغہ جمع متکلم ہے فتن یفتن (ضرب) فتنۃ مصدر۔ بیشک ہم نے آزمائش میں ڈالا۔ یا آزمایا تھا ان لوگوں کو جو ان سے پہلے گزرے۔ فلیعلمن میںترتیب کا لام تاکید کا یعلمن مضارع تاکید بانون ثقیلہ ۔ واحد مذکر غائب سو (اللہ تعالیٰ ) ان کو ضرور جان کر رہے گا۔ اس کے بعد ولیعلمن کو مکرر تاکید مزید کے لئے لایا گیا ہے۔ فائدہ : اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ازل سے ابد تک کا ہے اسے آزما کر معلوم کرنے کی ضرورت نہیں ہے آزمائش محض اتمام حجت اور استحقاق جزا و سزا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–7

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 7 : حسب (گمان کیا۔ خیال کیا) ‘ لایفتنون (وہ آزمائے نہ جائیں گے) ‘ ساء (برا ہے) ‘ یرجوا ( امید رکھتا ہے) یجاھد ( وہ جدوجہد۔ کوشش کرتا ہے) ‘ غنی (بےنیاز) نکفرن ( ہم ضرور اتاردیں گے) نجزین ( ہم ضرور بدلہ دیں گے) احسن ( زیادہ بہتر) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 7 : اس سورت کا آغاز بھی حروف مقطعات سے کیا گیا ہے یعنی جن حروف کے معنی کا علم اللہ کو ہے۔ جب انسان حق و صداقت یعنی ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کرتا ہے تو اس کو باطل نظام زندگی اور ظالموں کی قوت و طاقت سے ٹکرانا پڑتا ہے۔ یہ اتنی بڑی آزمائش اور امتحان ہے کہ حالات کے سامنے اگر وہ ڈٹ کر اور جم کر کھڑا ہوجائے اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 2–4

مسلمانوں کی آزمائش کا ذکر۔ (ف 1) شان نزول : نبی ﷺ کے مکہ سے ہجرت فرمانے کے بعد کچھ مسلمان مکہ میں ایسے رہ گئے تھے جن کو مشرک لوگ ہجرت سے بھی روکتے تھے اور مکہ میں بھی امن سے نہیں رہنے دیتے تھے بلکہ طرح طرح کی تکلیفیں ان مسلمانوں کو ہر وقت دیتے تھے جن تکلیفوں سے وہ مسلمان تنگ دل تھے ان کی ہمت بڑھانے کے لیے مدینہ میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ جب مدینہ سے ان کے دوست صحابہ نے ان کو ان آیتوں کے نازل ہونے کا حال لکھ کر مکہ میں بھیجا تو وہ مشرکین سے لڑ کر ہجرت کے لیے مکہ سے نکلنے کو مستعد ہوئے اور کچھ مدینہ میں مہاجرین بن کر پہنچ گئے فرمایا کہ دارآخرت کی طرف کامیابی کے ساتھ جاناآسان بات نہیں اس میں بڑی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[2] یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ سچوں کو بھی جانتا ہے اور جھوٹوں کو بھی، پھر آزمائش کر کے اسے معلوم کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ازروئے عدل و انصاف سزایا جزا کا فیصلہ برے یا اچھے فعل کے عملاً ظہور کے بعد ہی ہونا چاہئے نہ کہ محض برے اور اچھے کام کی صلاحیت اور استعداد پر۔ لہذا اللہ کے ہاں انصاف اس علم کی بناء پر نہیں ہوتا کہ فلاں شخص میں امانت دار ہونے کی صلاحیت ہے اور فلاں میں خائن ہونے کی جب تک امانت داری یا خیانت کا عملاً ظہور نہ ہوجائے۔ اسی طرح اس کی بخششیں اور انعامات بھی اس کے ہاں اس علم کی بناء پر نہیں دئیے جاتے کہ فلاں شخص اعلیٰ درجے کا مومن و مجاہد بن سکتا ہے یا بنے گا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 3–6

ف 1: مکہ کی زندگی میں مسلمانوں کو جب تکلیفیں پہنچتیں ۔ تو بعض ضعیف ال ایمان مسلمان گھبرا اٹھتے ۔ اس پر ان آیات کا نزول ہوا ۔ کہ صرف امنا کہہ دینا کافی نہیں بلکہ آزمائش شرط ہے ۔ اللہ تعالیٰ واقعات کے رنگ میں دیکھنا چاہتے ہیں ۔ کہ ان لوگ قول وعمل کے لحاظ سے صادق ہیں اور کون لوگ قول وعمل کے لحاظ سے کاذب ہیں ۔ کن لوگوں کے دلوں میں ایمان مضبوط ہوچکا ہے ۔ اور کون لوگ ہنوز ضعیف ال ایمان ہیں ۔ حل لغات :۔ لیعلمن ۔ اللہ کا علم ازلی ہے ۔ اس میں واقعات و حوادث سے کوئی تغیر پیدا نہیں ہوتا ۔ اس لئے اس سے مراد علم مستانف نہیں ہے ۔ بلکہ وہ علم ہے جو حالات کے بروئے کار آنے سے ہوتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

3۔ اور بلا شبہ ہم ان لوگوں کو بھی آزما چکے ہیں اور مختلف حوادثات و مصائب میں مبتلا کرچکے ہیں جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں یقینا اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ظاہر کر دے گا جو سچے ہیں اور ان لوگوں کو بھی ظاہرکر رہے گا جو جھوٹے اور کاذب ہیں ۔ یعنی تم سے پہلے جو مسلمان تھے اور کافرانہ اقتدار کے دور میں اپنے مانے کے نبی پر ایمان لائے تھے ان کے ساتھ جو مظالم ہوئے کوئی کھولتے ہوئے تیل میں ڈالا گیا اور کسی کو لوہے کی کنگھیوں سے کھرچ کھرچ کر اس کی ہڈیوں کے ڈھانچے کو نمایاں کیا گیا ۔ کما جاء فی الحدیث یہ سب سلوک ہوچکے ہیں تو ہم ان مسلمانوں سے پہلے کے مسلمانوں کو بھی اس قسم کی آزمائشوں میں مبتلا کرچکے ہیں تاکہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ چناچہ جو صدق و اعتقاد سے مسلمان ہوتے ہیں وہ ان امتحانات میں ثابت رہتے ہیں، بلکہ اور زیادہ پختہ ہوجاتے ہیں، اور جو دفع الوقتی کے لئے مسلمان ہوجاتے ہیں وہ ایسے وقت میں اسلام کو چھوڑ بیٹھتے ہیں، یعنی یہ ایک حکمت ہے امتحان کی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آزمائش پہلے لوگوں کی بھی کی گئی ہے اور اب بھی یقینا کی جائے گی : 3۔ چونکہ آزمائش ہی ایک ایسی شے ہے جس سے حق اور ناحق واضح ہوتا ہے کہ حق پر کون ہے اور کون نہیں ؟ اس لئے ہر زمانہ میں لوگوں کی آزمائش کی گئی اللہ تعالیٰ پر تو کھرا اور کھوٹا پہلے ہی واضح ہے پھر اس آزمائش کی آخر ضرورت ؟ ضرورت یہ ہوئی کہ دنیا کے دوسرے لوگوں پر بھی تو یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ حق پر کون تھا اور کون نہیں تھا پھر اس کے اظہار کے لئے ضروری تھا کہ ان کی آزمائش کرکے لوگوں پر بھی ان کی حیثیت واضح کر جائے اور یہی کچھ کیا گیا ۔ (فلیعلمن اللہ) کے لفظی معنی تو یہی ہوتے ہیں کہ ” پس ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ معلوم کرے “ حالانکہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّـهُ الَّذِينَ صَدَقُوا (So Allah will surely know the ones who are truthful - 29:3). It means that through tests and hardships the good and the bad, and the sincere and non-sincere will be differentiated, because if the hypocrites are mixed up with the sincere believers and are not identified, it may create a number of problems. The object of this verse is to elucidate the difference between the good and the bad, and between the sincere and the non-sincere. The expression used for this purpose is that Allah Ta’ ala will find out who are the true ones and who are the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

2 That is, "This is not a new thing which you alone may be experiencing. The same has been happening before also. Whoever made a claim to the Faith was made to pass through trials and tribulations. And when the others were not given anything without the trial, you are in no way any special people that you should be favoured and rewarded merely on verbal profession of the Faith." 3 Literally, "It is necessary that Allah should find out." A question may be asked: "When Allah already knows the truth of the truthful and the untruth of the liar, why should He put the people to the test for the…

Read the full tafseer →