Al-Ankaboot 29:2

Al-Ankaboot · from ayah 2

29:2

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَهُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ ۟اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ يُّتۡرَكُوۡۤا اَنۡ يَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَهُمۡ لَا يُفۡتَـنُوۡنَ

کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ صرف یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے چھوڑ دیئے جائیں گے اور اُن کی آزمائش نہیں کی جائے گی

— Fateh Muhammad Jalandhari

Do the people think that they will be left to say, "We believe" and they will not be tried?

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ankaboot

All translations of 29:2

کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ "ہم ایمان لائے " اور ان کو آزمایا نہ جائے گا؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ صرف یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے چھوڑ دیئے جائیں گے اور اُن کی آزمائش نہیں کی جائے گی

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان ﻻئے ہیں ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دیں گے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ انہیں یونہی چھوڑ دیا جائے گا کہ بس وہ یہ کہہ دیں کہ : ہم ایمان لے آئے۔ اور ان کو آزمایا نہ جائے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ اتنی بات پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ کہیں ہم ایمان لائے، اور ان کی آزمائش نہ ہوگی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ (صرف) ان کے (اتنا) کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے ہیں چھوڑ دیئے جائیں گے اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا لوگوں نے گمان کیا ہے کہ وہ اسی پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ کہہ دیں ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اگر انہوں نے ہم ایمان لائے کہہ دیا ہے تو انھیں چھوڑ دیا جائے گا اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ محض یہ کہہ دینے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور وہ آزمائے نہیں جائیں گے ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ان کو یونہی چھوڑ دیا جائے گا ؟ محض اتنا کہہ دینے پر کہ ہم ایمان لائے اور ان کی کوئی آزمائش نہیں ہوگی ؟

— مولانا اسحاق مدنی

کیا لوگوں نے یہ خیال کیا ہے کہ محض یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے چھوٹ جائیں گے اور وہ آزمائے نہ جائیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا لوگوں نے یہ سمجھا تھا کہ وہ چھوڑ دیے جائیں گے صرف یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے اور انہیں آزمایا نہ جائے گا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا لوگ یہ خیال کیے ہوئے ہیں کہ صرف یہ کہنے سے کہ ”ہم ایمان لے آئے، چھوڑ دیے جائیں گے اور ان کی آزمائش نہیں کی جائے گی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Do people think that they will be let go merely by saying: “We believe,” and that they will not be tested,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Do people think that they will be left (at ease) only on their saying, :We believe and will not be put to any test?

— Muhammad Taqi Usmani

Do people think that they will be left (at ease) only on their saying, :We believe and will not be put to any test?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Do people think that they will be left alone because they say: "We believe," and will not be tested.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Do men imagine that they will be left (at ease) because they say, We believe, and will not be tested with affliction?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Do the people think that they will be left to say, "We believe" and they will not be tried?

— Saheeh International

Do people think they will not be tested because they say, "We have faith?"

— Muhammad Sarwar

Do men think that they will be left alone on saying, We believe, and not be tried?

— Muhammad Habib Shakir

Bethink men that they shall be left alone because they say: we believe; and that they shall not be tempted?

— Abdul Majid Daryabadi

Do men think that they will be left alone on saying, "We believe", and that they will not be tested?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 29:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–4

حروف مقطعہ کی بحث سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں گزرچکی ہے۔ امتحان اور مومن پھر فرماتا ہے یہ ناممکن ہے کہ مومنوں کو بھی امتحان سے چھوڑ دیا جائے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے زیادہ سخت امتحان نبیوں کا ہوتا ہے پھر صالح نیک لوگوں کا پھر ان سے کم درجے والے پھر ان سے کم درجے والے۔ انسان کا امتحان اس کے دین کے انداز پر ہوتا ہے اگر وہ اپنے دین میں سخت ہے تو مصیبتیں بھی سخت نازل ہوتی ہیں۔ اسی مضمون کا بیان اس آیت میں بھی ہے (اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلَا رَسُوْلِهٖ وَلَا الْمُؤْمِنِيْنَ وَلِيْجَةً ۭ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة العنکبوت 1 جن حالات میں یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے وہ یہ تھے کہ مکہ معظمہ میں جو شخص بھی اسلام قبول کرتا تھا اس پر آفات اور مصائب اور مظالم کا ایک طوفان ٹوٹ پڑا تھا، کوئی غلام یا غریب ہوتا تو اس کو بری طرح مارا پیٹا جاتا اور سخت ناقابل برداشت اذیتیں دی جاتیں، کوئی دکاندار یا کاریگر ہوتا تو اس کی روزی کے دروازے بند کردیے جاتے یہاں تک کہ بھوکوں مرنے کی نوبت آجاتی، کوئی کسی بااثر خاندان کا آدمی ہوتا تو اس کے اپنے خاندان کے لوگ اس کو طرح طرح سے تنگ کرتے اور اس کی زندگی اجیرن کردیتے تھے۔ ان حالات نے مکہ میں ایک سخت خوف اور دہشت کا ماحول پیدا کردیا تھا جس کی وجہ سے بہت سے لوگ تو نبی ﷺ کی صداقت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

معارف و مسائل وَهُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ ، فتنہ سے مشتق ہے جس کے معنی آزمائش کے ہیں، اہل ایمان خصوصا انبیاء و صلحاء کو دنیا میں مختلف قسم کی آزمائشوں سے گذرنا ہوتا ہے پھر انجام کار فتح اور کامیابی ان کی ہوتی ہے، یہ آزمائشیں مخالفین کبھی کفار و فجار کی دشمنی اور ان کی طرف سے ایذاؤں کے ذریعہ ہوتی ہیں، جیسا کہ اکثر انبیاء اور خاتم الانبیاء ﷺ کو اور آپ کے اصحاب کو اکثر پیش آیا ہے، جس کے بیشمار واقعات سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں مذکورہ ہیں اور کبھی یہ آزمائش امراض اور دوسری قسم کی تکلیفوں کے ذریعہ ہوتی ہے جیسا کہ حضرت ایوب ؑ کو پیش آیا اور بعض کے لئے یہ سب قسمیں جمع بھی کردی جاتی ہیں۔ شان نزول اس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 1–2

1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت الم۔ احسب الناس ان یترکوا ان یقونوا امنا وھم لایفتنون (1۔ 2) الم، اس سورة کا نام ہے۔ اس کی تحقیق سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ مع حسب الناس ان الایۃ، بات اگرچہ عام صیفہ سے فرمائی گئی ہے لیکن اشارہ ان لوگوں کی طرف ہے جو مکہ کی پُر محن زندگی سے گھبرا اٹھے تھے۔ بعض لوگ اسلام میں داخل تو ہوگئے تھے لیکن ان کو اس راہ کی صعوبتوں کا اندازہ نہیں تھا۔ ان کو گمان تھا کہ جب انہوں نے نیکی کی راہ میں قدم رکھا ہے تو راہ ہمورا ملے گی اور وہ ٹھنڈی سڑک سے منزل مقصود پر پہنچ جائیں گے۔ ان لوگوں کو جب کفار کے ہاتھوں زہرہ گداز مصائب سے سابقہ پیش آیا تو ان کے قدم ہل گئے اور اس طرح کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–2

2-1یعنی یہ گمان کہ صرف زبان سے ایمان لانے کے بعد، بغیر امتحان لئے، انھیں دیا جائے گا، صحیح نہیں۔ بلکہ انھیں جان و مال کی تکالیف اور دیگر آزمائشوں کے ذریعہ سے جانچا پرکھا جائے گا تاکہ کھرے کھوٹے کا اور مومن و منافق کا پتہ چل جائے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–3

1: اگرچہ اللہ تعالیٰ کو شروع ہی سے معلوم ہے کہ کون فرماں بردار ہوگا، اور کون نافرمان، لیکن اللہ تعالیٰ اس ازلی علم کی بنیاد پر جزاء وسزا کا فیصلہ کرنے کے بجائے لوگوں پر حجت تمام کرنے کے لئے انہیں موقع دیتا ہے کہ وہ اپنے اختیار سے ہدایت یا گمراہی کا راستہ خود چنیں، اور یہاں یہی دیکھنا مراد ہے کہ کس نے کونسا راستہ عملاً چنا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–3

سورة العنکبوت ایک نظر میں سورة عنکبوت مکی ہے ، بعض روایات میں یہ آیا ہے کہ اس کی پہلی گیارہ آیات مدنی ہیں۔ محض اس لیے کہ ان میں جہاد اور منافقین کا ذکر ہے۔ لیکن ہم اس قول کو ترجیح دیتے ہیں یہ پوری سورت مکی ہے اور اس کی آٹھویں آیت کے بارے میں یہ روایت آتی ہے کہ یہ سعد ابن ابی وقاص کے اسلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جیسا کہ عنقریب اس کا ذکر ہوگا۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ حضرت سعد ابن ابی وقاص مکہ میں مسلمان ہوئے۔ ظاہر ہے کہ جن آیات کو مدنی کہا گیا ہے یہ بھی ان میں سے ایک ہے۔ لہٰذا صحیح بات یہی ہے کہ ان سب آیات کو مکی کہا جائے۔ رہی یہ بات کہ ان میں جہاد کا ذکر آیا ہے تو اس کی تاویل آسان ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–2

7 یعنی زبان سے ایمان کا دعویٰ کرنا کچھ سہل نہیں جو دعویٰ کرے امتحان و ابتلاء کے لیے تیار ہوجائے یہ ہی کسوٹی ہے جس پر کھرا کھوٹا کسا جاتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ سب سے سخت امتحان انبیاء کا ہے، ان کے بعد صالحین کا، پھر درجہ بدرجہ ان لوگوں کا جو ان کے ساتھ مشابہت رکھے ہوں۔ نیز امتحان آدمی کا اس کی دینی حیثیت کے موافق ہوتا ہے۔ جس قدر کوئی شخص دین میں مضبوط اور سخت ہوگا اسی قدر امتحان میں سختی کی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–2

آیت 2 اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ ” تمہیدی کلمات میں بیان کی گئی حضرت خباب رض کی روایت کا مضمون ذہن میں رکھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ آیت صحابہ کرام رض کی مذکورہ شکایت کا جواب ہے۔ اس میں خفگی کا بالکل وہی انداز پایا جاتا ہے جو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کی شکایت کے جواب میں اختیار فرمایا تھا۔ اہل ایمان کا ذکر عمومی انداز میں ”النَّاس“ کے لفظ سے فرمانا بھی ایک طرح سے عتاب اور ناراضی ہی کا ایک انداز ہے۔ بہر حال دین میں تحریکی و انقلابی جدوجہد کے حوالے سے یہ بہت اہم مضمون ہے جس کی مزید وضاحت مدنی سورتوں میں ملتی ہے۔ چناچہ سورة البقرۃ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 1–2

1 یہ سورت اس زمانہ میں نازل ہوئی جب مکہ میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے جارہے تھے۔ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو دل سے تو اسلام کی حقانیت پر یقین رکھتے تھے مگر مصائب و مشکلات سے گھبرا کر اپنے ایمان کا اعلان نہیں کرتے تھے۔ کچھ ایسے بھی مسلمان تھے جو اسلام لانے کی حد تک تو بہت مخلص تھے مگر مشکلات کے وقت گھبرا جاتے تھے اور مسلمانوں کا ایک کثیر طبقہ ایسا راسخ الایمان لوگوں کا بھی تھا جو ان مصائب کو اللہ کی رضا کی خاطر بڑی فراخدلی اور خندہ پیشانی سے برداشت کر رہا تھا۔ اس آیت میں ہر طرح کے لوگوں کو متنبہ کیا جارہا ہے کہ یہی مصائب و مشکلات ہی ان کے ایمان کی کسوٹی ہیں اور انہی سے یہ معلوم کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–2

1۔ (طرح طرح کے مصائب سے) یعنی ایسے امتحانات ضرور پیش آئیں گے۔ اشارہ ہے ان مومینن کی طرف جو کفار کی ایذاء سے گھبرا گئے تھے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت اس امر پر دال ہے کہ مجاہدہ وصول الی المقصود کے شرائط عادیہ میں سے ہے۔ اگرچہ اضطراری ہی ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–13

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 13 ترجمہ : الم اس کی مراد تو اللہ ہی کو معلوم ہے کیا ان لوگوں نے یہ گمان کررکھا ہے کہ ان کے صرف یہ کہنے پر کہ ہم ایمان لائے ہم انہیں آزمائے بغیر چھوڑدیں گے ان کو ایسی چیزوں سے آزمایا جائے گا کہ جن سے ان کے ایمان کی حقیقت ظاہر ہوجائے، یہ ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جب وہ ایمان لائے تو مشرکین نے اذیت پہنچائی اللہ تعالیٰ ان سے پہلے والوں کو بھی آزما چکا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بھی جانچے گا جو اپنے ایمان میں سچے تھے مشاہدہ کے طور جانچنا اور ایمان کے بارے میں جھوٹوں کو بھی معلوم کے گا، کیا جو لوگ برائیاں یعنی شرک اور معاصی کررہے ہیں یہ سمجھتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا وھم یا یفتنون۔ کیا لوگوں نے یہ خیال کر رکھا ہے کہ صرف اتنا کہہ دینے سے کہ ہم ایمان لے آئے ان کو چھوڑ دیا جائے گا اور ان کی جانچ نہیں کی جائے گی۔ مدنی صحابہ نے مکی مسلمانوں کو یہ آیت لکھ کر بھیج دی ‘ مکی مسلمانوں نے کہا : اب تو ہم یہاں سے نکل ہی چلیں گے۔ اگر کسی نے ہمارا پیچھا کیا تو ہم اس سے لڑیں گے۔ چناچہ یہ حضرات نکل کھڑے ہوئے ‘ مشرکوں نے ان کا تعاقب کیا۔ راستہ میں دونوں گروہوں کی جنگ ہوئی۔ کچھ مسلمان شہید ہوگئے اور کچھ مسلمان بچ کر نکل گئے۔ ان کے متعلق اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا مِنْم بَعْدِ مَا فُتِنُوْا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

شان نزول : (آیت) ”۔ احسب الناس“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ اور شعبی ؒ سے روایت نقل کی گئی ہے کہ یہ آیت چند لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو مکہ مکرمہ میں مقیم تھے اور انہوں نے اسلام کا اقرار کرلیا تھا تو ان کی طرف اصحاب رسول اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ سے لکھا کہ تم سے کچھ قبول نہیں کیا جائے گا جب تک کہ ہجرت نہ کرو چناچہ یہ لوگ مدینہ منورہ کے ارادہ سے نکلے تو مشرکین نے ان کا تعاقب کیا اور پھر ان کو واپس لے گئے تو اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے ان کو پھر لکھا کہ تمہارے بارے میں ایسا حکم نازل ہوا ہے تو ان لوگوں نے کہا کہ ہم ضرور ہجرت کے لیے نکلیں گے اگر ہمارا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا۔۔ : ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں مسلمان بہت سخت حالات سے گزر رہے تھے، کفار نے ان کا جینا دوبھر کر رکھا تھا۔ انسانی فطرت کے مطابق مسلمان کبھی کبھار مصیبتوں کی تاب نہ لا کر گھبرا جاتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے انھیں حوصلہ دینے کے لیے فرمایا : ”کیا لوگوں نے گمان کر رکھا ہے کہ وہ اسی پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ کہہ دیں ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہیں کی جائے گی۔“ یہ استفہام انکار کے لیے ہے، یعنی ایسا نہیں ہوسکتا، بلکہ آزمائش ضرور ہوگی، تاکہ سچے کو جھوٹے سے اور مخلص کو منافق سے جدا کردیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق آزمائش ایمان کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–3

الم۔ احسب الناس۔۔۔۔۔ سورتوں کے آغاز میں حروف مقطعات کے بارے میں بات گزر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : معنی ہے میں اللہ، بہتر جانتا ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ سورت کا نام ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ قرآن کا نام ہے۔ آحسب میں ہمزہ استفہام کا ہے مراد تقریر و توبیخ ہے۔ حسب کا معنی ظن ہے۔ آن یترکو محل نصب میں ہے جس کو نصب حسب نے دی ہے۔ سیبویہ کے قول کے مطابق یہ اور اس کا صلہ دو مفعولوں کے قائم مقام ہیں۔ ان یقولو میں ان دو توجہیوں میں سے ایک توجیہ کے مطابق محل نصب میں ہے۔ معنی ہے لان یقولو بان یقولو علی ان یقولوا۔ دوسری جہت کی بناء پر اس میں تکرار ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے : حضرت ابن عباس اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–3

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے شعبی (رح) سے آیت الم، احسب الناس ان یترکو کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو مکہ میں تھے اور انہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا رسول اللہ ﷺ کے اصحاب نے مدینہ منورہ سے ان کی طرف لکھا جب ہجرت کی آیت نازل ہوئی کہ تم سے اقرار اور اسلام کو قبول نہیں کیا جائے گا یہاں تک کہ تم ہجرت کرو تو وہ لوگ مدینہ منورہ کا ارادہ کرتے ہوئے نکل پڑے مشرکین ان کے پیچے لگ گئے اور ان کو واپس مکہ لوٹا دیا تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی پھر انہوں نے ان کی طرف لکھا کہ تمہارے بارے میں اس طرح اور اس طرح آیت نازل ہوئی ہے تو انہوں نے کہا ہم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَحَسِبَ [کیا گمان کیا ] النَّاسُ [لوگوں نے ] اَنْ يُّتْرَكُوْٓا [کہ وہ چھوڑ دئیے جائیں گے ] اَنْ [(اس لئے) کہ ] يَّقُوْلُوْٓا [وہ کہتے ہیں ] اٰمَنَّا [ہم ایمان لائے ] وَهُمْ [اور وہ لوگ ] لَا يُفْتَنُوْنَ [آزمائے نہ جائیں گے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–2

دعویٰ ایمان کے بعد امتحان بھی ہوتا ہے یہاں سے سورة عنکبوت شروع ہو رہی ہے، عربی زبان میں عنکبوت مکڑی کو کہا جاتا ہے اس سورة کے پانچویں رکوع میں عنکبوت یعنی مکڑی کا ذکر ہے اسی لیے یہ سورة اس نام سے مشہور ہے۔ آیت کے ابتدائی مضمون میں اول تو یوں فرمایا کہ جو لوگ مومن ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں کیا انہوں نے یہ خیال کیا کہ صرف اتنا کہہ دینے سے چھوڑ دئیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کا امتحان نہ کیا جائے گا ؟ یہ استفہام انکاری ہے اور مطلب یہ ہے کہ صرف زبان سے یہ کہہ دینا کہ میں مومن ہوں کافی نہیں ہے، دل سے مومن ہونا لازم ہے اور جب کوئی سچا مومن ہوگا تو آزمائشوں میں ڈالا جائے گا، یہ آزمائشیں کئی طرح…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–13

تنبیہ اہل ایمان برحکمت اہل شدائد وآفات زمان کہ آں تمیز مخلص ومنافق است وتشجیع اہل ہدایت بر صبرواستقامت وتشنیع اہل ضلالت وغوایت قال اللہ تعالیٰ الم احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا۔۔۔ الی۔۔۔ ولیسئلن یوم القیمۃ عما کانوا یفترون۔ (شان نزول) ایک دن آنحضرت ﷺ کعبہ کی دیوار سے تکیہ لگائے سایہ میں بیٹھے تھے تو بعض صحابہ نے مشرکین کی شکایت کی کہ وہ ہمیں طرح طرح سے ایذائیں پہنچا رہے ہیں آپ ﷺ ہمارے لئے دعا کریں کہ کافروں کا یہ ظلم وستم ہم سے ٹل جائے یہ سن کر آپ ﷺ ناراض ہوئے اور فرمایا کہ تم سے پہلے گزشتہ دینداروں کے سر آروں سے چیرے گئے اور ان کے دو ٹکڑے کئے گئے مگر وہ اپنے دین سے نہیں ہٹے اور بعضوں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–2

2:۔ سورت کا پہلا دعوی۔ کیا لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اللہ رضامندی اور نعیم جنت حاصل کرنے کے لیے دعوی توحید کو صرف مان لینا ہی کافی ہے اور اس کے بعد وہ آزاد ہیں اور آزمائشوں اور تکلیفوں کی کسوٹی پر انہیں پرکھا نہیں جائے گا ؟ استفہام انکاری ہے یعنی لوگوں کا یہ خیال صحیح نہیں بلکہ دعوی توحید کی وجہ سے انہیں مشرکین کے ہاتھوں مصائب و مشکلات کا سامنا بھی کرنا ہوگا۔ ولقد فتنا الخ۔ جیسا کہ انبیاء سابقین (علیہم السلام) کو بھی ایسا کرنا پڑا۔ جب انہوں اپنی قوموں کے سامنے دعوت توحید پیش کی تو قوموں نے انہیں گوناگوں مصائب کا تختہ مشق بنایا اسی طرح ان کے متبعین کو بھی الآم ومصائب میں مبتلا کیا گیا۔ فلیعلمن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–7

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام اس کی آیت 014 میں آمدہ لفظ عنکبوت سے مآخوذ سورة العنکبوت ہے۔ اللہ نے اس آیت میں شرک کے بودہ پن کو مکڑی کے جالے کے کے ساتھ تشبیہ دے کر بات سمجھائی ہے کہ اللہ کے علاوہ دوسرے کو معبود ٹھہرانے کی مثال مکڑی کے جالے کی طرح ہے جو کہ کمزور ترین گھر ہوتا ہے۔ ترتیب نزول کے اعتبار سے یہ سورة الروم کے بعد نازل ہوئی مگر ترتیب تلاوت میں اس کو مقدمہ رکھا گیا ہے۔ یہ سورة مکی دور کے اس زمانہ میں نازل ہوئی جب کہ اہل ایمان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے ، چناچہ اللہ نے ابتدائی آیات میں ہی مسلمانوں کو تسلی دی ہے کہ ایمان قبول کرنے کے بعد آزمائش سے گزرنا پڑے گا ، اور جو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 1–2

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝ الۗمّۗ۝ 1 اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ۝ 2 حسب ( گمان) والحِسبةُ : فعل ما يحتسب به عند اللہ تعالی. الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] ، أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئاتِ [ العنکبوت/ 4] ، وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] ، فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] ، أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214] ( ح س ب ) الحساب اور الحسبة جس کا معنی ہے گمان یا خیال کرنا اور آیات : ۔ الم أَحَسِبَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 2–5

ترکیب : ان یترکوا ان وما عملت فیہ یسد مسد المفعولین۔ ان یقولوا ای بان یقولوا دیجوز ان یکون بدلا من ان یترکوا من کان شرط و الجواب فان اجل اللہ و التقدیر لایۃً ۔ تفسیر : پہلی سورة کے خاتمہ میں فرمایا تھا کہ ان الذی فرض علیک القرآن لرادک الیٰ معاد اور معاد دار آخرت کی طرف کامیابی کے ساتھ جانا آسان بات نہیں، اس میں بڑی بڑی جانفشانیاں کرنی پڑتی ہیں اور بڑی سختیوں کی برداشت کرنی پڑتی ہے، اس لیے اس سورة میں الم سے ایک خاص 1 ؎ مطلب کی طرف اشارہ کرکے، یہ فرمایا احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا آمنا وھم لایفتنون کہ کیا لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ لا الہ الا اللہ کہہ دینا اور صرف ایمان لا کے بیٹھ رہنا کافی ہے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–2

الٓـمّٓ۔ (العنکبوت : 1) (ال م … یہ حروفِ مقطعات میں سے ہے اور اس کی بحث اس سے پہلے گزر چکی ہے۔ ) اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوُلُوْٓا اٰمَنَّا وَھُمْ لاَ یُفْتَنُوْنَ ۔ (العنکبوت : 2) (کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور وہ آزمائے نہیں جائیں گے۔ ) آیات کا پس منظر یہ آیات اس زمانے میں نازل ہوئی ہیں جب مکہ کی سرزمین مسلمانوں کے لیے آزمائشوں کی بھٹی بنی ہوئی تھی۔ جو شخص اسلام قبول کرتا، اہل مکہ کا غیظ و غضب بری طرح اس پر حملہ آور ہوتا۔ اگر اس کا تعلق کسی غریب گھرانے سے ہوتا یا وہ غلام ہوتا تو مکہ کی ریت تپ اٹھتی، چٹانیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–3

فہم القرآن ربط سورة : سورة القصص کا اختتام توحید کے مرکزی نقطہ پر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو معبود نہیں بنانا۔ چاہے حالات کتنے ہی ناگفتہ بہ ہوجائیں ایک داعی اور موحد کو ہر حال میں عقیدہ توحید پر قائم رہنا ہے۔ سورة العنکبوت کی ابتداء اس بات سے ہوئی کہ توحید کی دعوت دینے اور اس پر قائم رہنے پر مشکلات اور مصائب کا آنا ناگزیر ہے۔ الم ۔ حروف مقطعات ہیں جن کے بارے میں تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ ان کا معنی اور مفہوم حدیث مبارکہ سے ثابت نہیں۔ صحابہ کرام ؓ ان کا معنی جانے بغیر ہی تلاوت کیا کرتے تھے۔ حروف مقطعات کے بعد ارشاد ہوتا ہے کیا لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم ” اللہ “ اور اس کے رسول ﷺ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 1–2

1: الٓمٓ۔ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْا اَنْ یَّقُوْلُوْا ٰامَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ ۔ الم (کیا لوگوں نے خیال کرلیا ہے کہ صرف اتنا کہہ دینے سے کہ ہم ایمان لے آئے۔ ، ان کو چھوڑ دیا جائے گا اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی) ۔ الحسبان۔ باہمی متناقض چیزوں میں سے ایک کا دوسرے کے مقابلہ میں قوت پکڑنا جیسا کہ ظن میں ہوتا ہے۔ الشک۔ دو متناقضین میں دونوں کے مابین ٹھہرنا۔ العلم۔ دو میں سے ایک کے متعلق قطعیت پیدا ہونا۔ ان دونوں کا اطلاق معانی مفردات پر نہیں آتا بلکہ مضامین جمل پر ہوتا ہے۔ اگر تم اس طرح کہو۔ حسبت زیدًا وظننت الفرس۔ تو اس سے کچھ حاصل نہیں جب تک کہ تم اس طرح نہ کہو۔ حسبت زیدًا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 1–2

تفسیر۔ 1۔ 2۔ الم احسب الناس، ، لوگوں نے یہ گمان کیا کہ ، ان یترکوا، بغیر امتحان اور بغیر آزمائش کے ان کو چھوڑ دیاجائے گا، ان یقولوا، صرف اتنا کہہ دینے سے ، امنا وھم لایفتنون ، کہ ان کو ان کے اموال کی آزمائش مین اواران کے نفسوں کی آزمائش میں نہیں ڈالاجائے گا، ہرگز نہیں بلکہ ضرور بالضرور ا اور ان سے امتحان لیاجائے گا، تاکہ مخلص اور منافق کے درمیان جانچ پڑتال ہوجائے جھوٹے اور سچے انسان میں فرق واضح ہوجائے۔ آیت کے مختلف شان نزول۔ اس آیت کے سبب نزول میں مختلف اقوال ہیں۔ امام شعبی کا قول ہے کہ ہی آیت مکہ میں رہنے والے مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی ، مدنی صحابہ نے مکی مسلمانوں کو یہ آیت لکھ کر بھیج…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–4

1 تا 4۔ حروف مقطعات کا ذکر سورة بقر میں گذر چکا ہے تفسیر شعبی تفسیر ابن ابی حاتم معالم التتریل وغیرہ 1 ؎ میں مجاہد اور قتادہ کے قول کے موافق جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے مکہ سے ہجرت فرمانے کے بعد کچھ مسلمان مکہ میں ایسے رہ گئے تھے جن کو مشرک لوگ ہجرت سے بھی روکتے تھے اور مکہ میں بھی ان کو امن سے نہیں رہنے دیتے تھے بلکہ طرح طرح کی تکلیفیں ان مسلمانوں کو ہر قت دیتے تھے جن تکلیفوں سے وہ مسلمان تنگ دل تھے ان کی ہمت بڑھانے لے لیے مدینہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں جب مدینہ سے ان کے دوست صحابہ ؓ نے ان کو ان آیتوں کے نازل ہونے کا حال لکھ کر مکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–3

آیت 1 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمت کاملہ کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بیان فرماتا ہے کہ یہ اس کی حکمت کا تقاضا نہیں کہ جس کسی نے کہہ دیا کہ “ وہ مومن ہے “ اور وہ ایمان کا دعویٰ کرے .... اسے ایسی حالت میں باقی رکھا جائے کہ جس میں وہ آزمائش وابتلا سے سلامت رہے گا اور اسے کوئی ایسا امر پیش نہیں آئے گا جو اس کے ایمان اور اس کی فروع کو مضطرب کرے اور اگر معاملہ اسی طرح ہو تو سچے اور جھوٹے حق اور بطل میں امتیاز نہیں ہوسکتا لیکن اس کی عادت یہ رہی ہے کہ وہ اہل ایمان کو خوشحالی اور تنگدستی راحت اور مشقت بشاشت اور نا گواری فراخی اور محتاجی بعض اوقات دشمنوں کی فتح و غلبہ اور دشمنوں کے خلاف قول وفعل کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–4

ایمان داروں کی مصائب کی کسوٹی پر آزمائش تشریح : ایمان کا زبان سے اقرار اور دل سے یقین اس وقت مکمل ہوتا ہے جب اس اقرار اور یقین پر عمل بھی کیا جائے۔ مسلمان وہ ہے جو پورے کا پورا دین میں داخل ہوجائے۔ اس کی زندگی کے معمولات سے ‘ اس کے رہن سہن تہذیب و تمدن غرص لباس اور عادات واطوار سے خود بخود یہ دکھائی دینے لگے کہ یہ مسلمان ہے۔ یہ نہیں کہ دعوٰی تو اسلام کا کرے اور کام کرے ہندوعیسائی یا سکھوں جیسے۔ اور جب ایک سچا مسلمان ایمان کی وجہ سے آزمائشوں میں پڑتا ہے تو پھر وہ صرف ایمان کی حفاطت میں جان ‘ ملک ‘ ماں باپ آل اولاد غرض دنیا کی ہر چیز قربان کردیتا ہے۔ پھر اس کو اللہ کی طرف سے بےشمارنصرت اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–13

آیات 1 تا 13 اسرارو معارف راہ حق میں آزمائش : راہ حق میں مصیبت سے گھبرانا درست نہیں کیا لوگوں کا یہ گمان ہے کہ صرف یہ کہ دینے سے کہ ہم مومن ہیں وہ چھوٹ جائیں گے اور ان پر کوئی آزمائش نہ آئے گی یقینا آزمائش ضرور آئے گی بلکہ ان سے پہلی ساری امتوں کو آزمایا گیا اور اللہ نے کھرے اور کھوٹے سچے اور جھوٹے کو الگ الگ ثابت کردیا۔ آج کے مسلمان کا جو خیال ہے کہ کوئی ایسا راستہ ہو کہ اسلام پر بھی کاربند رہا جائے اور کافر بھی ناراض نہ ہوں اور کوئی مصیبت بھی کھڑی نہ کردیں یہ خیال خام ہے جو بھی حق پر عمل پیرا ہوگا اس کی آزمائش ضرور ہوگی ہاں کفار یہ نہ جان لیں کہ وہ برای کر کے اللہ کی گرفت سے بچ جائیں گے ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–2

6 ۔ یعنی ایسا نہیں ہوسکتا بلکہ آزمائش ضرور ہوگی تاکہ منافق کو مخلص سے اور سچے کو جھوٹے سے ممیزکر دیا جائے۔ متعدد روایات میں ہے کہ مکہ میں جب مسلمان سخت ابتلا میں تھے اور ان پر ظلم و ستم ڈھائے جا رہے تھے تو انہوں نے تنگ آ کر آنحضرت ﷺ سے درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں تمہیں جو تکلیفیں اذیتیں پہنچ رہی ہیں وہ بیشک سخت ہی مگر پہلے لوگوں کو تو یہاں تک تکالیف سے دوچار ہونا پڑا کہ ایک آدمی زمین میں گاڑ کر کھڑا کردیا جاتا اور پھر اس کے سر پر آرہ چلا کر چیر دیا جاتا مگر وہ اپنے دین سے نہ پھرتا۔ الخ نیز دیکھئے بقرہ :214 ۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 1–2

(29:1) احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا وھم لایفتنون۔ ہمزہ استفہام انکاری ہے حسب (ماضی بمعنی حال) حسبان مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب حسب یحسب (سمع) وحسب یحسب (حسب) سے بمعنی گمان کرنا۔ خیال کرنا۔ حسب افعال قلوب میں سے ہے افعال قلوب متعدی بدو مفعول استعمال ہوئے ہیں ۔ الناس اسم جمع۔ قافل۔ (کیا لوگ خیال کرتے ہیں) ۔ ان یترکوا میں ان مصدریہ ہے یترکوا مضارع مجہول جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور ضمیر مفعول مالم یسم فاعلہ کا مرجع الناس ہے (کہ وہ چھوڑ دئیے جائیں گے۔ اور یہ جملہ حسب کا مفعول اول ہے۔ ان یقولوا۔ میں بھی ان مصدریہ ہے بتقدیر لام یہ حسب کا مفعول ثانی ہے۔ امنا۔ ایمان سے باب افعال۔ ماضی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–7

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 7 : حسب (گمان کیا۔ خیال کیا) ‘ لایفتنون (وہ آزمائے نہ جائیں گے) ‘ ساء (برا ہے) ‘ یرجوا ( امید رکھتا ہے) یجاھد ( وہ جدوجہد۔ کوشش کرتا ہے) ‘ غنی (بےنیاز) نکفرن ( ہم ضرور اتاردیں گے) نجزین ( ہم ضرور بدلہ دیں گے) احسن ( زیادہ بہتر) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 7 : اس سورت کا آغاز بھی حروف مقطعات سے کیا گیا ہے یعنی جن حروف کے معنی کا علم اللہ کو ہے۔ جب انسان حق و صداقت یعنی ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کرتا ہے تو اس کو باطل نظام زندگی اور ظالموں کی قوت و طاقت سے ٹکرانا پڑتا ہے۔ یہ اتنی بڑی آزمائش اور امتحان ہے کہ حالات کے سامنے اگر وہ ڈٹ کر اور جم کر کھڑا ہوجائے اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 2–4

مسلمانوں کی آزمائش کا ذکر۔ (ف 1) شان نزول : نبی ﷺ کے مکہ سے ہجرت فرمانے کے بعد کچھ مسلمان مکہ میں ایسے رہ گئے تھے جن کو مشرک لوگ ہجرت سے بھی روکتے تھے اور مکہ میں بھی امن سے نہیں رہنے دیتے تھے بلکہ طرح طرح کی تکلیفیں ان مسلمانوں کو ہر وقت دیتے تھے جن تکلیفوں سے وہ مسلمان تنگ دل تھے ان کی ہمت بڑھانے کے لیے مدینہ میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ جب مدینہ سے ان کے دوست صحابہ نے ان کو ان آیتوں کے نازل ہونے کا حال لکھ کر مکہ میں بھیجا تو وہ مشرکین سے لڑ کر ہجرت کے لیے مکہ سے نکلنے کو مستعد ہوئے اور کچھ مدینہ میں مہاجرین بن کر پہنچ گئے فرمایا کہ دارآخرت کی طرف کامیابی کے ساتھ جاناآسان بات نہیں اس میں بڑی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–2

[1] یعنی ایسے امتحانات تو ضرور پیش آئیں گے جن میں ان کو طرح طرح کے مصائب سے آزمایا جائے گا۔ اس آیت میں اشارہ ہے ان مسلمانوں کی طرف جو کفار کے ظلم وستم سے گھبرا اٹھے تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–2

انبیاء منصب نبوت کے امیدوار نہیں ہوتے 1: انبیاء (علیہم السلام) کو جو منصب نبوت سے نوازا جاتا ہے ۔ تو اس طرح نہیں ۔ کہ وہ نبوت و رسالت کے امیدوار ہوتے ہیں اور بتدریج نبوت کے درجہ علیا تک ترقی کرلیتے ہیں ۔ بلکہ اس طریق سے نبوت عطا کی جاتی ہے کہ ان کو پہلے سے مطلقاً معلوم نہیں ہوتا ۔ اور یکایک قدرت حق ان کو منتخب کرلیتی ہے ۔ اور وہ معارف ونکات کا دریا بہانے لگتے ہیں ۔ ہاں یہ درست ہے ۔ کہ نبوت کی استعداد کا ہونا انبیاء میں ضروری ہے ۔ تاکہ ان میں اور دوسرے لوگوں میں ایک قسم کا امتیاز ہو ۔ ارشاد ہے کہ آپ کو پہلے سے توقع نہیں تھی ۔ کہ نبوت کی گرانبار ذمہ داریاں آپ کے کندھوں پر ڈال دی جائیں گی ۔ یہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

2۔ کیا ان لوگوں نے یہ سمجھ لیا اور یہ خیال کر رکھا ہے کہ وہ صرف اتنا کہہ دینے پر کہ ہم ایمان لے آئے چھوڑ دیئے جائیں گے اور ان کو آزمایا نہ جائے گا اور وہ کسی آزمائش میں مبتلا نہ کئے جائیں گے۔ یعنی یہ خیال صحیح نہیں ہے ، اوپر کی سورت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل پر فرعونی مظالم اور اس کی زیادتیوں کا ذکر تھا۔ اس سورت میں کفار مکہ کے ان مظالم کا ذکر ہے جو وہ مسلمانوں پر کیا کرتے تھے ان مظالم کے متعلق مسلمانوں کو سمجھادیا گیا ہے اور ان کو تسلی دی گئی ہے اور ان کو بتایا کہ دعوت ایمانی کو قبول کر نیوالے ابتلا اور امتحان و آزمائش کیلئے آمادہ رہیں اور یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ ایمانی دعوت…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا لوگوں کو صرف ایمان کے دعوی پر ہی چھوڑ دیا جائے گا ان کی آزمائش نہ کی جائے : 2۔ سونا بلاشبہ سونا ہی ہوتا ہے پھر کسوٹی استعمال کرکے اس کی قسم کو بھی دیکھ لیا جاسکتا ہے تاہم کھرا سونا وہی کہلاتا ہے جس کو ایک بار بھٹی میں تپایا جائے اور اس کو پانی پانی کردیا جائے اس کی جتنی میل تھی گویا ساری کی ساری دھل گئی اور خالص سونا باقی رہ گیا ۔ اب اس کو کوئی شخص بھی جب چاہے تپا لے اس کے کھرا ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہوگا یہ حال صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کی تھی جو مکہ مکرمہ میں ہجرت سے پہلے ایمان لائے تھے کہ کفار نے ان پر سختیاں کرکے اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعنج نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

Commentary وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ (And will not be put to test - 29:2). It is derived from Fitnah, which means trial or test. The believers, especially the prophets and pious, have to go through many a trials in this world. However, they always come out victors in the end. These trials and tribulations sometimes come as a result of enmity of the infidels and sinners by way of afflictions, as have been experienced by the Holy Prophet ﷺ and many other prophets, and at times in the form of diseases, as was experienced by Sayyidna Ayyub (علیہ السلام) . And for others many of these trial types are…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

1 When this thing was said, the conditions prevailing in Makkah were extremely trying. Whoever accepted Islam was made a target of tyranny and humiliation and persecution. If he was a slave or a poor person, he was beaten and subjected to unbearable tortures; if he was a shopkeeper or artisan, he was made to suffer economic hardships, even starvation; if he was a member of an influential family, his own people would tease and harass him in different ways and make life difficult for him. This had created an atmosphere of fear and fright in Makkah, due to . which most people were afraid of…

Read the full tafseer →