Al-Ankaboot 29:69

Al-Ankaboot · from ayah 69

29:69

وَالَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا ؕ— وَاِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ ۟۠وَالَّذِيۡنَ جَاهَدُوۡا فِيۡنَا لَنَهۡدِيَنَّهُمۡ سُبُلَنَا ‌ؕ وَاِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ

اور جن لوگوں نے ہمارے لئے کوشش کی ہم اُن کو ضرور اپنے رستے دکھا دیں گے۔ اور خدا تو نیکو کاروں کے ساتھ ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And those who strive for Us - We will surely guide them to Our ways. And indeed, Allah is with the doers of good.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 7 of surah · Ruku 3 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Ankaboot

All translations of 29:69

جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے، اور یقیناً اللہ نیکو کاروں ہی کے ساتھ ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جن لوگوں نے ہمارے لئے کوشش کی ہم اُن کو ضرور اپنے رستے دکھا دیں گے۔ اور خدا تو نیکو کاروں کے ساتھ ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جو لوگ ہماری راه میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم انہیں اپنی راہیں ضرور دکھا دیں گے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کا ساتھی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جن لوگوں نے ہماری خاطر کوشش کی ہے، ہم انہیں ضرور بالضرور اپنے راستوں پر پہنچائیں گے، اور یقینا اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے اور بیشک اللہ نیکوں کے ساتھ ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو لوگ ہمارے حق میں جہاد (اور مجاہدہ) کرتے ہیں تو ہم یقیناً انہیں اپنی (طرف سَیر اور وصول کی) راہیں دکھا دیتے ہیں، اور بیشک اﷲ صاحبانِ احسان کو اپنی معیّت سے نوازتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ لوگ جنھوں نے ہمارے بارے میں پوری کوشش کی ہم ضرور ہی انھیں اپنے راستے دکھادیں گے اور بلاشبہ اللہ یقینا نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو لوگ ہماری راہ میں جہاد کرتے ہیں ہم یقینا انھیں اپنی راہیں دکھا دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ یقینا اچھے کام کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو لوگ ہماری راہ میں مشقتین جھیل رہے ہیں ہم ان پر اپنی راہیں ضرور کھولیں گے اور بےکاروں کے ساتھ ہے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جن لوگوں نے جہاد کیا (اور مشقت اٹھائی) ہماری راہ میں (اور ہماری رضا کے لئے) تو ہم ان کو ضرور نوازیں گے اپنی (رضا اور خوشنودی کی) راہوں سے اور بیشک اللہ یقینی طور پر ساتھ ہے ایسے نیکوکاروں کے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو لوگ ہماری راہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم ان کو اپنے راستے ضرور دکھادیں گے اور بیشک خلوص والوں کے ساتھ ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جو لوگ ہماری راہ میں جدوجہد کریں گے ہم لازماً ان کی راہنمائی کریں گے اپنے راستوں کی طرف اور یقیناً اللہ احسان کرنے والوں کے ساتھ ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جن لوگوں نے ہمارے لیے کوشش کی ہم ضرور ان کو اپنے رستے دکھا دیں گے اور اللہ نیکوکاروں کے ساتھ ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

As for those who strive in Our cause, We shall surely guide them to Our Ways. Indeed Allah is with those who do good.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

As for those who strive in Our way, We will certainly take them onto Our paths, and indeed Allah is with those who are good in deeds.

— Muhammad Taqi Usmani

As for those who strive in Our way, We will certainly take them onto Our paths, and indeed Allah is with those who are good in deeds.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

As for those who strive hard for Us, We will surely guide them to Our paths. And verily, Allah is with the doers of good.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

As for those who strive in Us, We surely guide them to Our paths, and lo! Allah is with the good.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And those who strive for Us - We will surely guide them to Our ways. And indeed, Allah is with the doers of good.

— Saheeh International

We shall certainly guide those who strive for Our cause to Our path. God is certainly with the righteous ones.

— Muhammad Sarwar

And (as for) those who strive hard for Us, We will most certainly guide them in Our ways; and Allah is most surely with the doers of good.

— Muhammad Habib Shakir

And those who strive hard in us, We shall surely guide them in Our paths; verily Allah is with the welldoers.

— Abdul Majid Daryabadi

And those who strive in Our (cause),- We will certainly guide them to our Paths: For verily Allah is with those who do right.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 29:69

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 67–69

احسان کے بدلے احسان ؟ اللہ تعالیٰ قریش کو اپنا احسان جتاتا ہے کہ اس نے اپنے حرم میں انہیں جگہ دی۔ جو شخص اس میں آجائے امن میں پہنچ جاتا ہے۔ اس کے آس پاس جدال و قتال لوٹ مار ہوتی رہتی ہے اور یہاں والے امن وامان سے اپنے دن گزارتے ہیں۔ جسے سورة لایلاف قریش الخ میں بیان فرمایا تو کیا اس اتنی بڑی نعمت کا شکریہ یہی ہے کہ یہ اللہ کے ساتھ دوسروں کی بھی عبادت کریں ؟ بجائے ایمان لانے کے شرک کریں اور خود تباہ ہو کر دوسروں کو بھی اسی ہلاکت والی راہ لے چلیں۔ لیکن انہوں نے اس کے برعکس اللہ کے ساتھ شرک وکفر کرنا اور نبی کو جھٹلانا اور ایذاء پہنچانا شروع کر رکھا ہے۔ اپنی سرکشی میں یہاں تک بڑھ گئے کہ اللہ کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة العنکبوت 107 " مجاہدہ " کی تشریح اسی سورة عنکبوت کے 8 میں گزر چکی ہے۔ وہاں یہ فرمایا گیا تھا کہ جو شخص مجاہدہ کرے گا وہ اپنی ہی بھلائی کے لیے کرے گا (آیت 6) یہاں یہ اطمینان دلایا جارہا ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں اخلاص کے ساتھ دنیا بھر سے کش مکش کا خطرہ مول لے لیتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ ان کے حال پر نہیں چھوڑ دیتا۔ بلکہ وہ ان کی دستگیری و رہنمائی فرماتا ہے اور اپنی طرف آنے کی راہیں ان کے لیے کھول دیتا ہے۔ وہ قدم قدم پر انہیں بتاتا ہے کہ ہماری خوشنودی تم کس طرح حاصل کرسکتے ہو۔ ہر ہر موڑ پر انہیں روشنی دکھاتا ہے کہ راہ راست کدھر ہے اور غلط راستے کون سے ہیں۔ جتنی نیک نیتی اور خیر طلبی ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَـنَهْدِيَنَّهُمْ سُـبُلَنَا، جہاد کے اصلی معنی دین میں پیش آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے میں اپنی پوری توانائی صرف کرنے کے ہیں، اس میں وہ رکاوٹیں بھی داخل ہیں جو کفار و فجار کی طرف سے پیش آتی ہیں، کفار سے جنگ و مقاتلہ اس کی اعلی فرد ہے اور وہ رکاوٹیں بھی داخل ہیں جو اپنے نفس اور شیطان کی طرف سے پیش آتی ہیں۔ جہاد کی ان دونوں قسموں پر اس آیت میں یہ وعدہ ہے کہ ہم جہاد کرنے والوں کو اپنے راستوں کو ہدایت کردیتے ہیں۔ یعنی جن مواقع میں خیر و شر یا حق و باطل یا نفع و ضرر میں التباس ہوتا ہے عقلمند انسان سوچتا ہے کہ کس راہ کو اختیار کروں، ایسے مواقع میں اللہ تعالیٰ اپنی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا ط وان اللہ لمع المحسنین (69) کفار کو ان کے ٹھکانے تک پہنچا کر ان مظلوم مسلمانوں کی طرف پھر توجہ فرمائی جن کا مسئلہ اس سورة میں ابتدا سے زیر بحث ہے۔ فرمایا کہ ہمارے جو بندے ہماری راہ میں آج طرح طرح کی مشقتیں جھیل رہے ہیں ہم ان پر اپنی راہیں ضرور کھولیں گے۔ قرینہ دلیل ہے کہ یہ وعدہ ان کے لئے دین، دنیا اور آخرت تینوں سے متعلق ہے۔ یعنی ان کے لئے دین کی راہیں بھی کھلیں گی، ان کی دنیا کی مشکلات بھی حل ہوں گی اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ ان کی رہنمائی صراطِ حمید کی طرف فرمائے گا۔ ’ وان اللہ لمع المحسنین ‘۔ یہ ان لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی معیت کی بشارت ہے اور یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

69-1یعنی دین پر عمل کرنے میں جو دشواریاں، آزمائشیں پیش آتی ہیں69-2اس سے مراد دنیا اور آخرت کے وہ راستے ہیں جن پر چل کر انسان کو اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ 69-3احسان کا مطلب ہے اللہ کو حاضر ناظر جان کر ہر نیکی کے کام کو اخلاص کے ساتھ کرنا، سنت نبوی کے مطابق کرنا، برائی کے بدلے حسن سلوک کرنا، اپنا حق چھوڑ دینا اور دوسروں کو حق سے زیادہ دینا۔ یہ سب احسان کے مفہوم میں شامل ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 68–69

37: یہ ان لوگوں کے لئے بڑی عظیم خوشخبری ہے جو اللہ تعالیٰ کے دین پر خود چلنے اور دوسروں کو چلانے کی کوشش کرتے ہیں، جب تک انسان اس راستے میں کوشش جاری رکھے اور مایوس ہو کر نہ بیٹھ جائے، اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اس کی مدد فرما کر ضرور منزل تک پہنچادیں گے، لہذا راستے کی مشکلات سے ہار مان کر بیٹھنے کے بجائے نئے عزم وہمت کے ساتھ یہ کوشش ہمیشہ جاری رہنی چاہیے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی مکمل توفیق عطا فرمائیں، امین۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 68–69

ومن اظلم ۔۔۔۔۔ مثوی للکفرین (29: 68) اور اہل مکہ اس جرم کا ارتکاب کرچکے ہیں۔ انہوں نے اللہ پر افتراء باندھا ہے کہ اللہ نے خود اپنے ساتھ شریک ٹھہرائے ہیں اور ان کے پاس حق آگیا اور انہوں نے تکذیب کردی ہے۔ آخر جہنم کے ٹھکانے کے سوا ایسے لوگ اور کس مقام کے مستحق ہیں۔ اور ان کے پاس حق آگیا اور انہوں نے تکذیب کردی ہے۔ آخر جہنم کے ٹھکانے کے سوا ایسے لوگ اور کسی مقام کے مستحق ہیں۔ یقیناً ایسے لوگ جہنم کے مستحق ہیں۔ سورة کا خاتمہ کفار کے فریق مقابل کی تصویر کشی پر ہوتا ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی راہوں میں جدوجہد کی تاکہ وہ اللہ تک پہنچ جائیں۔ ان کا رابطہ اللہ سے ہوجائے۔ جنہوں نے اللہ کی راہ میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی جو لوگ اللہ کے واسطے محنت اٹھاتے اور سختیاں جھیلتے ہیں اور طرح طرح کے مجاہدات میں سرگرم رہتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ایک خاص نور بصیرت عطا فرماتا اور اپنے قرب و رضا یا جنت کی راہیں سجھاتا ہے۔ جوں جوں وہ ریاضات و مجاہدات میں ترقی کرتے ہیں۔ اسی قدر ان کی معرفت و انکشاف کا درجہ بلند ہوتا جاتا ہے اور وہ باتیں سوجھنے لگتی ہیں کہ دوسروں کو ان کا احساس تک نہیں ہوتا۔ 5 یعنی اللہ کی حمایت و نصرت نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (تم سورة العنکبوت فللہ الحمد و اللمنہ)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 69 وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوْا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا ط ” جو لوگ ہمارے لیے قربانیاں دے رہے ہیں اور ہماری راہ میں جہاد کر رہے ہیں انہیں مطمئن رہنا چاہیے کہ ہم انہیں بےسہارا نہیں چھوڑیں گے ‘ ہم انہیں اپنے راستوں کی بصیرت عطا فرمائیں گے۔ یہ ان سے ہمارا پختہ وعدہ ہے۔ وَاِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ ” جن لوگوں کا اللہ پر ایمان ہے اور ان کا ایمان ”احسان“ کے درجے تک پہنچ چکا ہے ‘ پھر اللہ کی راہ میں وہ اپنا تن من اور دھن قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار بھی رہتے ہیں ‘ اللہ کبھی انہیں تنہا نہیں چھوڑے گا۔ اس کی تائید و نصرت ہر وقت ان کے ساتھ رہے گی۔ بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

101 یعنی انسان کا کام یہ ہے کہ وہ نہایت نیک نیتی سے اللہ کے راہ پر گامزن ہوجائے۔ اس راستہ میں کون کون سی مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ اور ان کا کیا حل ہوسکتا ہے یہ سوچنا انسان کے بس سے باہر ہے کیونکہ نہ اسے پیش آنے والی مشکلات کا پہلے سے صحیح اندازہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی اللہ کی تقدیر کے مقابلہ میں انسان کی تدبیر کسی کام آسکتی ہے۔ انسان کا کام اعلائے کلمہ اللہ کے لئے اس کی مقدور بھر کوشش ہے اور اس کی لازمی شرط محض اللہ کی رضا مندی اور خلوص نیت ہے۔ اس شرط کے ساتھ اگر کوئی فرد یا کوئی جماعت جہاد کی کسی بھی قسم کے لئے گامزن ہوجائے گا تو اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات کا حل خود ہی سجھاتا جائے گا خلوص اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

89۔ (دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی) (آیت) ” مع المحسنین “۔ اللہ کی معیت اس کی نصرت واعانت ہی کا دوسرا نام ہے۔ اے معیۃ النصرۃ والمعونۃ (روح) (آیت) ’ سبلنا “ یعنی اللہ کے قرب کے راستے۔ سبلنا اے سبل الیسر الینا والوصول الی جنابنا (بیضاوی) (آیت) ” فینا “۔ یعنی ہماری رہ میں یا ہماری خاطر۔ اے فی شاننا ومن اجلنا ولو جھنا خالصا (روح) فی حقنا (بیضاوی) (آیت) ” الذین ...... سبلنا “۔ انسان کے لیے بس جدوجہد شرط ہے مجرد مجاہدہ پر ہدایت یابی کا وعدہ ادھر سے موجود ہی ہے۔ (آیت) ” جاھدوا فینا “۔ کے معنی، قدرت، صنعت، حکمت الہی کے دلائل پر غور وفکر کے بھی کیے گئے ہیں۔ اے الذین نظروا فی دلائلنا (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 64–69

آیت نمبر 64 تا 69 ترجمہ : اور یہ دنیوی زندگی کھیل تماشہ کے سوا کچھ نہیں البتہ عبادت تو یہ امور آخرت میں ظاہر ہونگے اور اصل زندگی دار آخرت ہی کی ہے اگر یہ لوگ اس بات کو سمجھ لیتے تو دینوی زندگی کو آخرت پر ترجیح نہ دیتے پھر جب یہ لوگ کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو خالص اعتقاد کے ساتھ اللہ ہی سے دعا کرتے ہیں یعنی اس کے ساتھ غیر کو نہیں پکارتے اس لئے کہ وہ (اس وقت) ایک عظیم پریشانی میں (مبتلا) ہوتے ہیں اور اس پریشانی کو اس کے علاوہ کوئی دور نہیں کرسکتا پھر جب ان کو نجات دے کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو فوراً ہی اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے لگتے ہیں تاکہ ہماری دی ہوئی نعمت کی ناقدری کرتے رہیں اور یہ لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا . اور جن لوگوں نے اپنے مقدور بھر ہماری خوشنودی طلب کرنے ‘ ہمارے دین کی مدد کرنے اور ہمارے اوامرو نواہی کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کی ہم ان کو اپنے راستے بتا دیتے ہیں۔ اَلَّذِیْنَ جَاھَدُوْا جہاد کا معنی ہے مقدور بھر کوشش کرنا۔ مراد یہ ہے کہ جن لوگوں نے اپنی انتہائی طاقت بھر کافروں سے لڑنے اور نفسانی خواہشات کی مخالفت کرنے کی کوشش کی۔ فِیْنَا ہمارے اندر یعنی ہماری مرضی کی طلب ‘ ہمارے دین کی مدد اور ہمارے اوامرو نواہی کی تعمیل کرنے میں۔ سُبْلَنَا اپنے راستوں کی یعنی اپنی بارگاہ تک پہنچنے کے راستوں کی۔ اللہ کی بارگاہ تک رسائی بےکیف ہے (اس کی کیفیت بیان نہیں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

یعنی جو اپنے علم کے مطابق نیکیاں کرتا ہے تو ہم اس کو ان چیزوں کی بھی توفیق عطا فرمائیں گے کہ جو اس کے علم میں نہیں یا یہ کہ ہم خوشی و حلاوت طبع اس کو نصیب فرمائیں گے یا یہ کہ ہم اپنی اطاعت کی اس کو مزید توفیق عطا فرمائیں گے اور اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کی قول و فعل توفیق و عصمت کے ذریعے مدد فرمانے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَـنَهْدِيَنَّهُمْ سُـبُلَنَا : کفار کا انجام بیان کرنے کے بعد اپنے مومن بندوں کے لیے بشارت بیان فرمائی۔ سورت کا آغاز اہل ایمان کی آزمائش اور جہاد کے ذکر سے ہوا تھا، فرمایا : (وَمَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ) [ العنکبوت : 6 ] اب اختتام بھی اسی جہاد پر بشارت کے ساتھ ہوتا ہے۔ ”وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا“ میں جہاد سے وہی جہاد مراد ہے جو سورت کے شروع میں ”وَمَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ“ سے مراد ہے۔ اس لیے اس پہلی آیت کا فائدہ دوبارہ نقل کیا جاتا ہے۔ ”جَھَدَ یَجْھَدُ“ کا معنی کوشش کرنا ہے اور ”جَاہَدَ“ (مفاعلہ) میں مقابلے کا مفہوم…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 67–69

عبدالرحمن بن زید نے کہا : حرم سے مراد مکہ مکرمہ ہے وہ قریش ہیں مکر مکرمہ میں اللہ تعالیٰ نے انہیں امن دیا (1) ۔ ضحاک نے کہا : وہ ایک دوسرے کو قتل کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو قیدی بنا لیتے ہیں۔ (2) ، خطف کا معنی تیزی سے اچک لینا ہے۔ سورة قصص اور دوسری صورتوں میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ نعمت یاد دلائی تاکہ وہ اس کی اطاعت بجا لائیں یعنی میں نے ان کے لئے امن والا حرم بنایا جس میں وہ قید، غارت گری اور قتل سے امن میں ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں خشکی سے نجات عطا فرمائی ہے۔ جس طرح سمندر میں انہیں نجات عطا فرمائی۔ وہ خشکی میں شرک کرتے ہیں اور سمندر میں شرک نہیں کرتے : یہ ان کے احوال کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 67–69

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت اولم یروا انا جعلنا حرما اٰمنا کیا انہوں نے نہیں دیکاھ کہ ہم نے حرم کو امن والا بنادیا اور یہ ان کے لیے اس میں سے نشانی ہے کہ لوگوں پر حملے کیے جاتے ہیں ان کا مال چھین لیا جاتا ہے جبکہ وہ امن میں رہتے ہیں ان کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا آیت افبالباطل یومنین یعنی شرک کے ساتھ ایمان لاتے ہیں آیت وبنعمۃ اللہ یکفرون اور اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں۔ 2۔ جویبر نے ضحاک سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان مشرکین نے کہا اے محمد ﷺ ہم کو کوئی چیز نہیں روکتی کہ ہم تیرے دین میں داخل ہوں مگر یہ خوف ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالَّذِيْنَ [اور جن لوگوں نے ] جَاهَدُوْا [جدوجہد کی ] فِيْنَا [ہم میں (یعنی ہماری راہ میں)] لَـنَهْدِيَنَّهُمْ [ہم لازما رہنمائی کریں گے ان کی ] سُـبُلَنَا ۭ [اپنی راہوں کی ] وَاِنَّ اللّٰهَ [اور بیشک اللہ ] لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ [خوب کارواں کے ساتھ ہے ] ۔ نوٹ۔ 1: لفظ حیوان قرآن مجید میں صرف ایک مرتبہ زیر مطالعہ آیت۔ 64 ۔ میں استعمال ہوا ہے۔ نوٹ کرلیں کہ اس کا مادہ ” ح ی ی “ ہی ہے اور یہ لفظ حیوۃ کا ہم معنی ہے۔ یعنی اس کے بھی معنی ہیں ” زندگی۔ حیات “ یہ دراصل فعلان کے وزن پر حییان ہے۔ دوسری ” ی “ کو واؤ میں تبدیل کر کے حیوان استعمال ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

آخر میں فرمایا (وَ الَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا وَ اِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ ) (اور جن لوگوں نے ہماری راہ میں تکلیفیں اٹھائیں ضرور ضرور ہم انہیں اپنی راہیں بتائیں گے اور بلاشبہ اللہ اچھے کام کرنے والوں کے ساتھ ہے) اس آیت میں ایک اہم مضمون بیان فرمایا ہے اور وہ یہ کہ اللہ کی رضا اختیار کرنے اور اس کی طلب میں محنت کرنے اور مشقت اٹھانے پر اللہ تعالیٰ شانہ کا وعدہ ہے کہ وہ ضرور اپنے راستے بتادے گا۔ آیت شریفہ میں بہت بڑی جامعیت ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے جس طرح بھی جو بھی کوششیں کی جائیں مثلاً طلب علم ہو، کافروں سے مقاتلہ ہو، اہل فتن سے مقابلہ ہو زبان سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 64–69

دار دنیا کی حقارت اور دار آخرت کی فضیلت قال اللہ تعالیٰ وما ھذہ الحیوۃ الدنیا۔۔۔ الی۔۔۔ وان اللہ لمع المحسنین۔ گزشتہ آیت میں یہ فرمایا بل اکثرہم لا یعقلون یعنی اکثر لوگ عقل سے کام نہیں لیتے دنیا کی ظاہری آرائش پر مفتون ہیں اگر عقل سے کام لیں تو سمجھ جائیں کہ دنیا کا تمام کارخانہ فنا اور زوال اور ضعف اور اضمحلال پر مبنی ہے تو جان لیں کہ یہ دنیا بالکل بےحقیقت ہے اور سرائے فانی ہے جس سے ایک دن کوچ قطع ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور نہیں ہے یہ دنیاوی زندگانی جس پر یہ بےعقل فریفتہ ہیں مگر طفلان بےشعور کے دل بہلانے کا ایک مشغلہ جیسے بچے لاٹھی کو گھوڑا بنا کر اس پر سوار ہوجاتے ہیں اس کو بازی طفلاں کہتے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

59:۔ جہاد سے یہاں جہاد کفار مراد نہیں بلکہ مجاہدٔ نفس اور مقاساتِ مصائب مراد ہے۔ یہ سورت کی ابتداء یعنی دعوی اولی سے متعلق ہے۔ دین حق اور مسئلہ توحید کی وجہ سے مصائب آئیں گے یہاں تک کہ اپنا وطن بھی چھوڑنا پڑے گا۔ جو لوگ راہ حق میں مصائب و شدائد پر صابر و شاکر رہے اور دین توحید کی خاطر صبر و استقلال کے ساتھ مشکلات کا مقابلہ کیا ہم انہیں راہ حق پر قائم رکھیں گے اور انہٰں توحید پر ثبات و استقلال عطا کریں گے اور صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق دیں گے۔ (والذین جاھدوا فینا) فی شاننا و من اجلنا ولو جہنا خالصا۔ لنہدینہم سبلنا والمراد نزیدنہم ھدایۃ الی سبیل الخیر وتوفیقا لسلو کہا (روح ج 21 ص 14) ۔ 60:۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 67–69

ربط آیات سورة العنکبوت میں اللہ تعالیٰ نے زیادہ تر ایمان کے ساتھ ابتلا کا ذکر کیا ہے اور اس پر مثالیں بیان کی ہیں۔ پھر کفر اور شرک کی تردید کی ہے اور توحید و رسالت کے اثبات کا ذکر کیا ہے اب آخر میں ایک تو اللہ کی نعمت یاد دلائی گئی ہے کہ اہل مکہ کو اللہ نے امن جیسی عظیم نعمت عطا کی اور اس کے ساتھ مشرکوں کو وعید بھی سنائی ہے۔ سورة کی آخری آیت میں مجاہدے کا مضمون بیان کیا ہے جیسا کہ سورة کی ابتدا میں ومن جاھد فانما یجاھد لنفسہ میں کیا گیا تھا۔ مجاہدہ بھی آزمائش ہی کی ایک صورت ہے۔ قریش مکہ پر احسان نزول قرآن کے زمانے میں سرزمین عرب میں سال بھر میں آٹھ ماہ سخت بد امنی کے ہوتے تھے۔ اس دوران قافلوں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْنَ جَاہَدُوْا فِيْنَا لَـنَہْدِيَنَّہُمْ سُـبُلَنَا۝ 0ۭ وَاِنَّ اللہَ لَمَعَ الْمُحْسِـنِيْنَ۝ 69ۧ جهد الجَهْدُ والجُهْد : الطاقة والمشقة، وقیل : الجَهْد بالفتح : المشقة، والجُهْد : الوسع . وقیل : الجهد للإنسان، وقال تعالی: وَالَّذِينَ لا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ [ التوبة/ 79] ، وقال تعالی: وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ النور/ 53] ، أي : حلفوا واجتهدوا في الحلف أن يأتوا به علی أبلغ ما في وسعهم . والاجتهاد : أخذ النفس ببذل الطاقة وتحمّل المشقة، يقال : جَهَدْتُ رأيي وأَجْهَدْتُهُ : أتعبته بالفکر، والجِهادُ والمجاهدة : استفراغ الوسع في مدافعة العدو، والجِهَاد ثلاثة…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : والذین موصول جاھدوا فینا جملہ صلہ مجموعہ مبتدا لنہدینہم ھم مفعول اول نھدی کا سبلنا مفعول ثانی جملہ خبر مع مضاف المحسنین مضاف الیہ خبران۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا۔ الیس فی جہنم مثوًی للکفرین کہ کیا جہنم میں کافروں کا مقام نہیں ؟ یعنی جس رستہ پر یہ چلے جارہے ہیں، یہی رستہ جہنم کا ہے، کیونکہ جب رستہ تمام ہوجاتا ہے تو وہی مقام ملتا ہے کہ جس کا یہ رستہ ہے۔ اب اس کے مقابلہ میں ایک دوسری سیدھی سڑک کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جو خاص اس کی بارگاہ کبریائی تک پہنچی ہے۔ فقال والذین جاھدوا فینا لنہدینہم سبلنا کہ وہ جو ہمارے لیے کوشش کرتے ہیں، ہم ان کو اپنے پاس پہنچنے کے رستہ بتلادیں گے اور جب وہ ان رستوں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا ط وَاِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ (العنکبوت : 69) (اور جو لوگ ہماری راہ میں مجاہدہ کریں گے ہم ان پر اپنی راہیں ضرور کھولیں گے۔ بیشک اللہ تعالیٰ نیکوکاروں کے ساتھ ہے۔ ) جہاد اور مجاہدہ کا مفہوم اور اہل ایمان کو بشارت معمولی سے معمولی محبت کی راہ طویل بھی ہے اور کٹھن بھی۔ قدم قدم پر مشکلات سے واسطہ پڑتا ہے۔ جو ان راستوں سے آشنا ہیں وہ ہر نئے مسافر کو اس راستے کی مشکلات پر شکایت کرتے یا روتے دھوتے دیکھ کر ہمیشہ نصیحت کرتے ہیں کہ یہ راستہ صبر و استقامت کا راستہ ہے، شکایت کا راستہ نہیں۔ اور جو آدمی اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : شرک اور ظلم جتنا بھی بڑھ جائے حق کے متلاشی اللہ تعالیٰ کی توفیق سے حق پا ہی لیا کرتے ہیں۔ بشرطیکہ وہ اخلاق کے ساتھ کوشش کریں۔ سورۃ العنکبوت کا آغاز اس بات سے ہوا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ انہیں اس راستے میں کوئی آزمائش نہیں آئے گی، ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ایمان داروں کو بھی آزمایا تھا، اور تمہیں بھی آزمائے گا تاکہ حق والے اور باطل پرست آپس میں ممتاز ہوجائیں۔ سورة کا اختتام اس بات سے کیا جاتا ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں اگر کوئی حق کی جستجو اور آزمائشوں کا مقابلہ کرے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اس کے راستے ہموار کر دے گا۔ کیونکہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

علم کی کوشش والوں کو عمل کی راہ بتلائیں گے : 69: وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوْا (اور وہ لوگ جنہوں نے کوشش کی) ۔ یہاں المجاہدۃ کو مطلقاً ذکر کیا گیا ہے۔ اس کو مفعول سے مقید نہیں کیا گیا۔ تاکہ ہر قسم کا مجاہدہ اس میں داخل ہوجائے خواہ وہ مجاہدہ نفس سے ہو یا شیطان یا اعدائے دین سے ہو۔ فِیْنَا (ہم میں) ۔ ہمارے بارے میں۔ ہماری خاطر اور خالص ہماری رضا مندی کے لئے۔ لَنَہْدِیَنَّہُمْ (ہم ضرور ان کی راہنمائی کریں گے) ۔ اقوالِ بزرگان۔ قولِ ابو عمرو : سبیل خیر کی طرف ان کی راہنمائی میں ہم اضافہ کردیں گے۔ اور توفیق شامل حال کردیں گے۔ قولِ دارانی : والذین جاہدوا۔ (جو انہوں نے جان لیا) ہم اس میں اس کی طرف ان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

69۔ والذین جاھدوا فینا، ، وہ لوگ جنہوں نے مشرکین کے ساتھ جنگ کی دین کی مدد کے لیے ، لنھدینھم سبلنا، ہم ان کو ان راستوں پر ثابت قدم رکھ دیتے ہیں جس راستے پر وہ قتال کرتے ہیں اور بعض نے کہا کہ ہم ان کے لیے مزید ہدایت کے راستے آسان کردیتے ہیں جیسا کہ دوسری آیت میں ہے، ویزید اللہ الذین اھتدوا ھدی، ، سفیان بن عیینہ نے کہا کہ جن لوگوں میں اختلاف ہوتوتم سرحد والوں کو دیکھو کیونکہ اللہ نے فرمایا ، والذین جاھدوا فینالنھدینم سبلنا، بعض نے کہا کہ مجاہد طاعات پر صبر کرنے کا نام ہے۔ حسن نے کہا کہ سب سے اعلی جہاد نفسانی خواہشات کی مخالفت کرنا ہے۔ فضیل بن عیاض نے کہا جن لوگوں نے طلب علم میں جہاد کیا ہم ان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 61–69

61 تا 69۔ اللہ تعالیٰ ان آیتوں میں اپنا معبود ہونا بیان فرماتا ہے کہ اس کے سوائے کوئی لائق بندگی کے نہیں ہے کس واسطے کہ مشرک لوگ اگرچہ خدا کے سوا اوروں کو بھی پوجتے ہیں لیکن آسمان و زمین چاند سورج رات دن کا پیدا کرنے والا خدا ہی کو جانتے ہیں اور اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ بندوں کا روزی دینے والا اور مارنے والا بھی وہی اللہ ہے اور وہی کسی کو امیر اور کسی کو فقیر جیسا مناسب دیکھتا ہے اور جس کا جس کا مستحق جانتا ہے ویسا ہی کرتا ہے وہی سب کا خالق ہے یہ سب کچھ کہہ کر پھر بتوں کو اپنا معبود جانتے ہیں کی زندگی پر رکھا تھا اس لیے آگے کی آیت میں اللہ تعالیٰ دنیا کی حقارت اور آخرت کی تعریف بیان فرماتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 64–69

آیت نمبر : 64-68 اللہ تبارک و تعالیٰ دنیا و آخرت کے احوال کی خبر دیتا ہے اور اس ضمن میں دنیا سے بےرغبتی رکھنے کی ترغیب اور آخرت کا شوق پیدا کرتا ہے ‘ اس لیے فرمایا : (وما ھذہ الحیوۃ الدنیآ) ” اور نہیں ہے یہ دنیا کی زندگی “ یعنی اس دنیاوی زندگی کی حقیقت (الا لھو و لعب) ” مگر کھیل کود۔ “ جس کی بنا پر دل غافل اور بدن کھیل میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو زیب وزینت اور ان لذات و شہوات سے لبریز کردیا ہے جو دلوں کو کھینچ لیتی ہیں ‘ آنکھوں کو خوبصورت نظر آتی ہیں اور نفوس باطلہ کو فرحت عطا کرتی ہیں۔ پھر دنیا کی یہ زینت و زیبائش جلد ہی زائل ہو کر ختم ہوجائے گی اور اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–69

قول باری ہے : (ولا تجادلوا اھل الکتاب الا بالتیھی احسن۔ اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقے سے) قتادہ کا قول ہے کہ یہ آیت قول باری (وقاتلوا المشرکین اور مشرکین سے قتال کرو) کی بنا پر منسوخ ہوچکی ہے۔ کوئی بحث تلوار کے استعمال سے بڑھ کر نہیں ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قتادہ کی مراد یہ ہے کہ آیت، زیر بحث کا حکم قتال کے حکم سے پہلے کا ہے۔ قول باری ہے : (الا الذین ظلموا منھم ۔ سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں) ۔ یعنی۔ واللہ اعلم۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے بحث وجدال وغیرہ میں تمہارے ساتھ ظلم کیا ہو جو اس امر کا مقتضی ہو کہ تم ان کے ساتھ سخت رویہ رکھو۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 42–69

58 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اس کے احاطہ علم کے اعتبار سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ پوری طرح جانتا ہے ان سب چیزوں کو جن کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں اللہ کے سوا "۔ تعمیم ملاحظہ ہو کہ اول تو { شیئ } خود نکرہ ہے جو ہر چیز کو شامل ہے۔ پھر اس پر { من } استغراقیہ سے مزید تاکید۔ یعنی کوئی بھی چیز خواہ کوئی فرشتہ ہو یا انسان، شجر ہو یا حجر، بت ہو یا جن وغیرہ وغیرہ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ مافوق الاسباب کسی کو بھی پکارنا شرک ہے جو کہ سب سے بڑا گناہ اور ناقابل معافی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اب وہ لوگ دیکھ لیں جو اس وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر اس کی عاجز مخلوق کو پکارتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے " یا رسول…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 64–69

اعمال دنیا اور اس کا انجام تشریح : ” ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زندگی کو کھیل اور تماشہ اور اخروی زندگی کو ہمیشہ کی زندگی قرار دیا ہے۔ پھر مشرکین مکہ کا عقیدہ بیان کیا کہ وہ کشتی میں تو خالص اللہ کو پکارتے مگر باہر آکر اللہ کے ساتھ شریک ٹہراتے۔ آج کے نام نہاد مسلمان مشرکین مکہ سے بھی گئے گزرے ہیں کہ ایسی جگہ پر بھی غیر اللہ کو پکارتے ہیں مثلا ً معین الدین چشتی پار لگا دو میری کشتی، یا بہاو الحق، بیڑادھک وغیرہ انسان مصیبت میں تو اللہ کو پکارتا ہے مگر راحت میں شکر نہیں کرتا اور غفلت میں پڑ کر قیمتی عمر دنیا کی عزت ‘ راحت ‘ آسائش اور دنیوی کامیابی کے حصول میں ضائع کردیتا ہے۔ جب کہ معلوم…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 64–69

آیات 64 تا 69 اسرارومعارف دنیا کے لیے بعض اوقات کافر کی دعا بھی قبول ہوتی ہے : یہ جس دنیا کے لالچ میں گرفتار ہیں یہ تو محض لہو و لعب اور کھیل تماشا ہے جس میں مصروف ہونا محض وقت ضائع کرنے والی بات ہے زندگی تو آخرت کا گھر ہے کہ جسے دنیا میں رہ کر حاصل کرنا مقصد حیات ہے۔ کاش انہیں اس بات کی سمجھ ہوتی ورنہ تو جب کبھی ان پر بڑی افتاد پڑتی ہے جیسے سفر میں ان کی کشتی طوفان میں گھر جائے تو صرف اللہ ہی کو پورے خلوص اور دل کی گہرائی سے پکارتے ہیں اور جب اللہ انہیں نجات دے دیتا اور اس مصیبت سے بچا دیتا ہے کہ دنیا کے لیے تو کبھی کافر کی دعا بھی قبول ہوتی ہے اگر وہ خلوص سے مانگ رہا ہو ہاں آخرت میں اس کی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 68–69

1 ۔ ان سے آنحضرت ﷺ ، صحابہ کرام ؓ اور قیامت تک کے لئے ان کے متبعین مراد ہیں۔ (ابن کثیر) ” جہاد “ کا لفظ جس طرح دشمنوں کے ساتھ قتال پر بولا جاتا ہے۔ اسی طرح مجاہدات و ریاضات نفسانی پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے بلکہ بعض روایات میں ان مجاہدات کو ” جہاد اکبر “ فرمایا ہے بشرطیکہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور شریعت کی حدود کے اندر رہ کر یہ ریاضتیں کی جائیں۔ (قرطبی) 2 ۔ یعنی ان کی رہنمائی فرمائیں گے اور نیکی کے راستے اختیار کرنے اور ان پر چلنے کی زیادہ سے زیادہ توفیق دیں گے۔ بعض نے بہشت کی راہ مراد لی ہے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” اپنی راہیں یعنی راہ قرب کے اور رضا کے جو بہشت ہے۔ “ (موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(29:69) جاھدوا فینا۔ جاھدواماضی جمع مذکر غائب انہوں نے جہاد کیا انہوں نے محنت کی، وہ لڑے۔ مجاھدوا (مفاعلۃ) مصدر فینا : لوجھنا۔ ہمارے لئے۔ من اجلنا۔ ہمارے واسطے۔ لنھدینہم۔ مضارع بلام تاکید و نون تاکید ثقیلہ جمع متکلم ھدایۃ مصدر۔ سبلنا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہمارے راستے۔ ہماری راہیں۔ اس کا واحد سبیل ہے۔ ان اللہ لمع المحسنین : ان تحقیق و تاکید کے لئے۔ مع کے ساتھ لام تاکید کے لئے۔ تاکہ شک و شبہ کی بالکل گنجائش نہ رہے۔ اللہ کی معیت اس کی نصرت اور اعانت ہی کا دوسرا نام ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 65–69

لغات القرآن آیت نمبر (65 تا 69) ۔ رکبوا (وہ سوار ہوئے) ۔ الفلک (کشتی۔ جہاز) ۔ مخلصین (خالص کرنے والے) ۔ البر (خشکی) ۔ حرم (حرم۔ قابل احترام) ۔ یتخطف (وہ اچک لے گا) ۔ نھدین (ہم ضرور ہدایت دیں گے) ۔ المحسنین (نیک کام کرنے والے۔ نیکو کار) ۔ تشریح : آیت نمبر (65 تا 69 ) ۔ ” اللہ نے کفر و شرک کرنے والوں سے سوال کیا ہے کہ جب تم کسی جہاز یا کشتی پر سوار ہوتے ہو اور تمہاری کشتی کسی طوفان میں پھنس جاتی ہے جہاں سے زندہ نکلنا دشوار اور مشکل نظر آتا ہے تو اس وقت تم کس سے گڑگڑا کر اپنی زندگی کی بھیک مانگتے ہو ؟ فرمایا اس وقت صرف ایک اللہ کی ذات کو پکارا جاتا ہے لیکن جب تم اس طوفان سے نجات پا لیتے ہو اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 65–69

شاہ روم کا قصہ۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جب یہ مشرکین جو حیات دنیا میں محو ہورہے ہیں کشتی پر سوار ہوکردریا کا سفر کرتے ہیں اور دریا کی موجیں جب کشتی کو تہ وبالا کرتی ہیں اور موت سامنے دکھائی دیتی ہے تب ان کی فطری حالت عود کر آتی ہے تو پھر خاص اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں جیسے کبھی شرک کی ہوا بھی نہ دکھائی تھی ، پھر جب وہ ان کو خشکی میں بچالاتا ہے اور وہ بےخوف ہوجاتے ہیں تو اس وقت بتوں کو اللہ کا شریک ٹھہرانے لگتے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ ہم نے جو نعمت ان کو عطا کی ہے اس کی ناشکری کرتے ہیں اور ان کا مقصد اس سے یہ ہوتا ہے کہ ہم دنیا میں شاد مراد رہیں گے دنیا کو برتیں، اس ناشکری کی سزا دی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 68–69

[31] یعنی جو لوگ اللہ کے دین کی خاطر سختیاں جھیلتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ایک خاص نور بصیرت عطا فرماتا ہے اور اپنے قرب و رضا یا جنت کی راہیں سجھاتا ہے۔ جوں جوں وہ مجاہدات میں ترقی کرتے ہیں اسی قدر ان کی معرفت و انکشاف کا درجہ بلند ہوتا چلا جاتا ہے اور انھیں وہ باتیں سوجھنے لگتی ہیں جن کا دوسروں کو احساس تک نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

فیوض رحمت کی بارش 1: عرفان اور سلوک کی وسعتیں بےانتہا ہیں ۔ اور مجاہدین ذات و تفرید کے لئے داد بہائے ایمن بوقلمون کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا ۔ کہ اس نے تجلیات وانوار کا پور پورا احاطہ کرلیا ہے ۔ جس قدر اس خطیرہ قدس کا قرب حاصل ہوگا ۔ اسی تناسب سے نظروں میں وسعت پیدا ہوگی ۔ اور معلوم ہوگا کہ ہزار وہزار پردے درمیان میں حائل ہیں ۔ اور مقامات واحوال کی کثرت کا یہ عالم ہے کہ ان سب پر کسی شخص کا احاطہ ناممکن ہے ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ جدوجہد کرنے والوں کے لئے اللہ کی طرف سے توفیق وتیسیرارزاقی ہے ۔ اور سالک ایک قسم کی اعانت اور شفقت محسوس کرتا ہے ۔ یعنی ہمت اور خلوص شرط ہے ۔ پروردگار عالم کے فیوض رحمت کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

69۔ اور جو لوگ ہمارے لئے مشقتیں برداشت کرتے ہیں تو ہم ضرور ان کو اپنی راہیں دکھا دیں گے اور یقینا اللہ تعالیٰ ایسے نیکوکاروں کے ساتھ ہیں ۔ اور جو لوگ ہماری رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے مختلف مشقتیں برداشت کرتے ہیں تو ہم ان کے لئے اپنے قرب و محبت کی راہیں ظاہر کردیتے ہیں اور دکھا دیتے ہیں اور ہم حضرات مخلصین کے ساتھ ہیں دنیا و آخرت میں حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اپنی راہیں یعنی راہ قرب کی اور رضا کی جو بہشت ہے۔ 12 یعنی جو لوگ ریاضت و مجاہدے کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر وصل کی راہیں آسان کردیتا ہے اور نور بصیرت عطا کرتا ہے جس سے وہ جنت میں داخل ہوجاتے ہیں ۔ ساتھ کا یہ مطلب کہ اس کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 68–69

ف 7۔ بےانصافی ظاہر ہے کہ بلا دلیل بات کی تو تصدیق کرے اور دلیل والی بات کی تکذیب۔ 8۔ یعنی ضرور ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو لوگ ہماری راہ میں جہاد کرتے ہیں ہم انہیں سیدھی راہ دکھا دیتے ہیں : 69۔ جن لوگوں نے محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کی طلب میں اس کے دین کو قائم کرنے کے لئے اپنے نفسی شیطان اور دوسری طاغوتی طاقتوں سے لڑتے ہوئے تن من دھن سے پوری سعی اور کوشش کی ہے اللہ تعالیٰ انہیں تنہا نہیں چھوڑے گا یقینا ان کی دستگیری اور راہنمائی فرمائے گا ان کے لئے اپنی طرف آنے کی راہیں کھول دے گا ‘ یقینا اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کا حامی اور مددگار ہے ۔ چونکہ جہاد کے بارے میں ہم نے تفصیلی گفتگو عروۃ الوثقی جلد ششم میں سورة الحج کی آخری آیت میں کردی ہے اس لئے آپ کی توجہ اس کی طرف مبذول کرائی جا رہی ہے کہ وہاں سے ملاحظہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 68–69

وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (And those who strive in Our way We will certainly take them to Our paths - 69). The real meaning of jihad is to put in all efforts to remove the hurdles in the way of faith. These hurdles include those that are put up by the infidels, for which fighting is at the top pedestal, and also those hurdles that are created by one's own Self and by Shaitan. There is a promise in this verse for both types of jihad, that Allah Ta’ ala guides those waging jihad to the righteous way. It means that when there is a 'confusion between evil and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

107 The word mujahadah has already been explained in E.N: 8 above. There it was said that a person who exerts will exert for his own good (v. 6.). Here it is being reassured that Allah dces not leave alone those who strive in His cause sincerely, even at the risk of a conflict with the entire world, but He helps and guides them and opens for them ways towards Himself. He teaches them at every step the way of winning His approval and good-will and He shows them the light at every turning point to discriminate between the Right Way and the wrong ways of life. In short, Allah helps and succours…

Read the full tafseer →