Explained with ayahs 67–69
احسان کے بدلے احسان ؟
اللہ تعالیٰ قریش کو اپنا احسان جتاتا ہے کہ اس نے اپنے حرم میں انہیں جگہ دی۔ جو شخص اس میں آجائے امن میں پہنچ جاتا ہے۔ اس کے آس پاس جدال و قتال لوٹ مار ہوتی رہتی ہے اور یہاں والے امن وامان سے اپنے دن گزارتے ہیں۔ جسے سورة لایلاف قریش الخ میں بیان فرمایا تو کیا اس اتنی بڑی نعمت کا شکریہ یہی ہے کہ یہ اللہ کے ساتھ دوسروں کی بھی عبادت کریں ؟ بجائے ایمان لانے کے شرک کریں اور خود تباہ ہو کر دوسروں کو بھی اسی ہلاکت والی راہ لے چلیں۔ لیکن انہوں نے اس کے برعکس اللہ کے ساتھ شرک وکفر کرنا اور نبی کو جھٹلانا اور ایذاء پہنچانا شروع کر رکھا ہے۔ اپنی سرکشی میں یہاں تک بڑھ گئے کہ اللہ کے…
Read the full tafseer →سورة العنکبوت 106
یعنی نبی نے دعوائے رسالت کیا ہے اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے۔ اب معاملہ دو حال سے خالی نہیں۔ اگر نبی نے اللہ کا نام لے کر جھوٹا دعوی کیا ہے تو اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں۔ اور اگر تم نے سچے نبی کی تکذیب کی ہے تو پھر تم سے بڑا ظالم کوئی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا الآیة۔ اوپر کی آیات میں مشرکین مکہ کی جاہلانہ حرکتوں کا ذکر تھا کہ سب چیزوں کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ کو یقین کرنے کے باوجود پتھر کے خود تراشیدہ بتوں کو اس کی خدائی کا شریک بتاتے ہیں اور صرف تخلیق کائنات ہی کا اللہ تعالیٰ کو مالک نہیں سمجھتے بلکہ آڑے وقت میں مصیبت سے نجات دینا بھی اسی کے اختیار میں جانتے ہیں مگر نجات کے بعد پھر شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ان کے کفر و شرک کا ایک عذر بعض مشرکین مکہ کی طرف سے یہ بھی پیش کیا جاتا تھا کہ ہم آپ کے دین کو تو حق و درست مانتے ہیں لیکن اس کی پیروی کرنے اور مسلمان ہوجانے میں ہم اپنی جانوں کا خطرہ محسوس…
Read the full tafseer →ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا اوکذب بالحق لما جاءہ الیس فی جھنم شویی للکفرین۔ (68)
تمام فرقہ قرار داد جرم سنانے کے بعد سوال فرمایا کہ ان لوگوں سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ گھڑ کر لگائیں یا حق کو جھٹلائیں جب کہ وہ ان کے پاس آچکا ہے۔ قفتراء علی اللہ سے مراد دین شرک ہے اور حق سے مراد یہاں قرآن اور رسول ہیں۔ لما جاءہ سے یہ بات نکلتی ہے کہ رسول کی بعثت سے پہلے تو ان کے لئے اللہ کے ہاں کچھ عذر ہوسکتا تھا لیکن جب کہ رسول بھی آچکا اور قرآن بھی نازل ہوچکا تو ان کے لئے کیا عذر باقی رہا ! الیس فی جھنم مثوی للکفرین۔ کیا ایسے کٹے کافروں کو ٹھکانا بھی دوزخ میں نہ ہوگا ! مطلب یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →68-1یعنی دعویٰ کرے کہ مجھ پر اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے درآں حالیکہ ایسا نہ ہو یا کوئی یہ کہے میں بھی وہ چیز اتار سکتا ہوں جو اللہ نے اتاری ہے۔ یہ تو سراسر جھوٹ ہے۔
68-2یہ تکذیب ہے اور اس کا مرتکب مکذب ہے یہ دونوں کفر ہیں جس کی سزا جہنم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
37: یہ ان لوگوں کے لئے بڑی عظیم خوشخبری ہے جو اللہ تعالیٰ کے دین پر خود چلنے اور دوسروں کو چلانے کی کوشش کرتے ہیں، جب تک انسان اس راستے میں کوشش جاری رکھے اور مایوس ہو کر نہ بیٹھ جائے، اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اس کی مدد فرما کر ضرور منزل تک پہنچادیں گے، لہذا راستے کی مشکلات سے ہار مان کر بیٹھنے کے بجائے نئے عزم وہمت کے ساتھ یہ کوشش ہمیشہ جاری رہنی چاہیے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی مکمل توفیق عطا فرمائیں، امین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
ومن اظلم ۔۔۔۔۔ مثوی للکفرین (29: 68) اور اہل مکہ اس جرم کا ارتکاب کرچکے ہیں۔ انہوں نے اللہ پر افتراء باندھا ہے کہ اللہ نے خود اپنے ساتھ شریک ٹھہرائے ہیں اور ان کے پاس حق آگیا اور انہوں نے تکذیب کردی ہے۔ آخر جہنم کے ٹھکانے کے سوا ایسے لوگ اور کس مقام کے مستحق ہیں۔ اور ان کے پاس حق آگیا اور انہوں نے تکذیب کردی ہے۔ آخر جہنم کے ٹھکانے کے سوا ایسے لوگ اور کسی مقام کے مستحق ہیں۔ یقیناً ایسے لوگ جہنم کے مستحق ہیں۔
سورة کا خاتمہ کفار کے فریق مقابل کی تصویر کشی پر ہوتا ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی راہوں میں جدوجہد کی تاکہ وہ اللہ تک پہنچ جائیں۔ ان کا رابطہ اللہ سے ہوجائے۔ جنہوں نے اللہ کی راہ میں…
Read the full tafseer →3 یعنی سب سے بڑی ناانصافی یہ ہے کہ اللہ کا شریک کسی کو ٹھہرائے۔ یا اس کی طرف وہ باتیں منسوب کرے جو اس کی شان کے لائق نہیں۔ یا پیغمبر جو سچائی لے کر آئے ہیں اسے سنتے ہی جھٹلانا شروع کردے۔ کیا ان ظالموں کو معلوم نہیں کہ منکروں کا ٹھکانا دوزخ ہے جو ایسی بیباکی اور بےحیائی سے عقل و انصاف کے گلے پر چھری پھیرنے پر آمادہ ہوگئے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 68 وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بالْحَقِّ لَمَّا جَآءَ ہٗ ط ”
کوئی چیز خود گھڑ کر اللہ سے منسوب کرنا اور حق کو پہچان کر جھٹلادینا دونوں برابر کے جرم ہیں۔ گویا یہاں حضور ﷺ سے کہلوایا جا رہا ہے کہ اے گروہ مشرکین ! دیکھو ‘ اگر میں یہ کلام خود گھڑ کر اسے اللہ سے منسوب کر رہا ہوں تو مجھ سے بڑا کوئی ظالم نہیں معاذ اللہ ! اور اگر یہ واقعتا اللہ کا کلام ہے اور اسے میں نے تم لوگوں تک پہنچا دیا ہے اور اس کے بعد تم لوگ اس کی تکذیب کر رہے ہو تو پھر تم سے بڑا ظالم کوئی اور نہیں ہے۔
اَلَیْسَ فِیْ جَہَنَّمَ مَثْوًی لِّلْکٰفِرِیْنَ ”
اب آخری آیت میں بڑے تاکیدی انداز…
Read the full tafseer →100 اللہ کے رسول نے اپنی رسالت کا دعویٰ کیا تو ان لوگوں نے اس کو جھٹلا دیا۔ اب اس کی دو ہی صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ رسول نے یہ جھوٹا دعویٰ کیا ہو اور اللہ پر جھوٹ باندھا ہو۔ تو وہ سب سے زیادہ ظالم ہوا۔ اور اگر وہ سچا ہو اور فی الواقعہ اللہ نے اسے رسول بنایا ہو لیکن یہ لوگ اسے جھٹلا دیں۔ تو یہ سب سے زیادہ ظالم ہوئے۔ اب جو بھی ظالم ہوگا اسے بہرحال دوزخ کا عذاب بھگتنا ہوگا۔ آگے یہ لوگ اپنا انجام خوب ہوتا سمجھ لیں۔
Read the full tafseer →88۔ ایسے ناانصافوں کو جہنم کی سزا ملنا بالکل قدرتی ہے۔ (آیت) ” افتری علی اللہ کذبا “۔ افتراء علی اللہ سب سے بڑا یہی ہے کہ اللہ کا شریک کسی کو ٹھہرایا جائے۔ (آیت) ” کذب بالحق “۔ تکذیب حق سے سے بڑی یہی ہے کہ توحید و رسالت سے انکار کیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–69
آیت نمبر 64 تا 69
ترجمہ : اور یہ دنیوی زندگی کھیل تماشہ کے سوا کچھ نہیں البتہ عبادت تو یہ امور آخرت میں ظاہر ہونگے اور اصل زندگی دار آخرت ہی کی ہے اگر یہ لوگ اس بات کو سمجھ لیتے تو دینوی زندگی کو آخرت پر ترجیح نہ دیتے پھر جب یہ لوگ کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو خالص اعتقاد کے ساتھ اللہ ہی سے دعا کرتے ہیں یعنی اس کے ساتھ غیر کو نہیں پکارتے اس لئے کہ وہ (اس وقت) ایک عظیم پریشانی میں (مبتلا) ہوتے ہیں اور اس پریشانی کو اس کے علاوہ کوئی دور نہیں کرسکتا پھر جب ان کو نجات دے کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو فوراً ہی اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے لگتے ہیں تاکہ ہماری دی ہوئی نعمت کی ناقدری کرتے رہیں اور یہ لوگ…
Read the full tafseer →ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا . اور کون شخض زیادہ ظالم ہے اس شخص سے جس نے اللہ پر دروغ تراشی
کی۔ یعنی اللہ کا شریک قرار دیا۔
اوکذب بالحق لما جاء ہ . یا حق (یعنی رسول اللہ یا قرآن) کی تکذیب جب حق اس کے پاس آگیا۔ یعنی جوں ہی حق ان کے پاس آیا ‘ فوراً بلا سوچے اور بغیر غور کئے سنتے ہی تکذیب کردی۔
الیس فی جھنم مثوی للکفرین . کیا جہنم کے اندر کافروں کا ٹھکانہ نہیں ہے ؟ یعنی ضرور ہے ‘ یہ استفہام تقریری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب انہوں نے اللہ پر دروغ بندی کی اور حق کی تکذیب کردی تو کیا جہنم کے اندر یہ قیام وقرار کے مستحق نہیں ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ کیا ان کو معلوم نہیں کہ جہنم کے اندر کافروں کی قرار گاہ…
Read the full tafseer →اور اس شخص سے زائد کون ناانصاف اور بدتمیز ہوگا جو بےدلیل ہی اللہ کی تکذیب کرے کہ اس کے اولاد ہے اور وہ شریک رکھتا ہے اور جب سچی بات اس کے پاس پہنچے تو وہ اس کو جھٹلائے۔ کیا ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کا جہنم میں ٹھکانا نہ ہوگا اور جو ہماری اطاعت و فرمانبرداری میں کوشش کرتے ہیں تو ہم اپنے قرب وثواب کے رستے ان کو ضرور دکھائیں گے۔
Read the full tafseer →وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا۔۔ : ”ظلم“ کا معنی اندھیرا ہے کہ کسی کا حق دوسرے کو دے دینا، کیونکہ اندھیرے میں آدمی کسی چیز کو اس کی اصل جگہ نہیں رکھ سکتا۔ آدمی پر سب سے بڑا حق اللہ تعالیٰ کا ہے، کیونکہ اس نے اسے پیدا فرمایا۔ اس لیے سب سے بڑا انصاف اللہ کی توحید اور اس اکیلے کی عبادت ہے اور سب سے بڑا ظلم اور بےانصافی اس کے ساتھ کسی کو شریک بنانا اور اس شریک کی عبادت کرنا ہے، جو صرف اللہ تعالیٰ کا حق تھا۔ اس لیے فرمایا، اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور اس کے لیے شریک بنائے ؟ اسی طرح جب تک کسی شخص کے پاس حق نہ پہنچے اس کے لیے عذر معذرت کی گنجائش نکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
عبدالرحمن بن زید نے کہا : حرم سے مراد مکہ مکرمہ ہے وہ قریش ہیں مکر مکرمہ میں اللہ تعالیٰ نے انہیں امن دیا (1) ۔ ضحاک نے کہا : وہ ایک دوسرے کو قتل کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو قیدی بنا لیتے ہیں۔ (2) ، خطف کا معنی تیزی سے اچک لینا ہے۔ سورة قصص اور دوسری صورتوں میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ نعمت یاد دلائی تاکہ وہ اس کی اطاعت بجا لائیں یعنی میں نے ان کے لئے امن والا حرم بنایا جس میں وہ قید، غارت گری اور قتل سے امن میں ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں خشکی سے نجات عطا فرمائی ہے۔ جس طرح سمندر میں انہیں نجات عطا فرمائی۔ وہ خشکی میں شرک کرتے ہیں اور سمندر میں شرک نہیں کرتے : یہ ان کے احوال کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت اولم یروا انا جعلنا حرما اٰمنا کیا انہوں نے نہیں دیکاھ کہ ہم نے حرم کو امن والا بنادیا اور یہ ان کے لیے اس میں سے نشانی ہے کہ لوگوں پر حملے کیے جاتے ہیں ان کا مال چھین لیا جاتا ہے جبکہ وہ امن میں رہتے ہیں ان کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا آیت افبالباطل یومنین یعنی شرک کے ساتھ ایمان لاتے ہیں آیت وبنعمۃ اللہ یکفرون اور اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں۔
2۔ جویبر نے ضحاک سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان مشرکین نے کہا اے محمد ﷺ ہم کو کوئی چیز نہیں روکتی کہ ہم تیرے دین میں داخل ہوں مگر یہ خوف ہے کہ…
Read the full tafseer →وَمَنْ اَظْلَمُ [اور کون زیادہ ظالم ہے ] مِمَّنِ [اس سے جس نے ] افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ [گھڑ اللہ پر ] كَذِبًا [کوئی جھوٹ ] اَوْ كَذَّبَ [یا جس نے جھٹلایا ] بِالْحَقِّ [حق کو ] لَمَّا [جب ] جَاۗءَهٗ ۭ [وہ آیا اس کے پاس ] اَلَيْسَ [کیا نہیں ہے ] فِيْ جَهَنَّمَ [جہنم میں ] مَثْوًى [ٹھکانہ ] لِّلْكٰفِرِيْنَ [کفر کرنے والوں کے لئے ] ۔
Read the full tafseer →مشرکین کا یہ کہنا کہ اللہ کے لیے شریک ہے، یہ اللہ تعالیٰ پر تہمت ہے اور افتراء ہے، اسی کو یہاں فرمایا ہے (وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بالْحَقِّ لَمَّا جَآءَ ہٗ ) (اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا حق آجانے پر اس کو جھٹلائے) (اَلَیْسَ فِیْ جَھَنَّمَ مَثْوًی لِّلْکٰفِرِیْنَ ) (کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانہ نہیں ہے) یہ استفہام تقریری ہے مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اس کو استفہام کی صورت میں بیان کیا تاکہ خوب سوچ لیں اور اپنا انجام اور واقعی واصلی ٹھکانہ جان لیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–69
دار دنیا کی حقارت اور دار آخرت کی فضیلت
قال اللہ تعالیٰ وما ھذہ الحیوۃ الدنیا۔۔۔ الی۔۔۔ وان اللہ لمع المحسنین۔
گزشتہ آیت میں یہ فرمایا بل اکثرہم لا یعقلون یعنی اکثر لوگ عقل سے کام نہیں لیتے دنیا کی ظاہری آرائش پر مفتون ہیں اگر عقل سے کام لیں تو سمجھ جائیں کہ دنیا کا تمام کارخانہ فنا اور زوال اور ضعف اور اضمحلال پر مبنی ہے تو جان لیں کہ یہ دنیا بالکل بےحقیقت ہے اور سرائے فانی ہے جس سے ایک دن کوچ قطع ہے۔
چناچہ فرماتے ہیں اور نہیں ہے یہ دنیاوی زندگانی جس پر یہ بےعقل فریفتہ ہیں مگر طفلان بےشعور کے دل بہلانے کا ایک مشغلہ جیسے بچے لاٹھی کو گھوڑا بنا کر اس پر سوار ہوجاتے ہیں اس کو بازی طفلاں کہتے…
Read the full tafseer →57:۔ یہ مشرکین ایسے ظالم اور بےانصاف ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ان احسانات کے باوجود اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ اور یہ سب سے بڑے ظالم ہیں کیونکہ جو شخص اللہ پر افتراء کرے کہ اس کا کوئی شریک ہے یا اللہ کے رسول اور اس کی کتاب کا انکار کرے وہ سب سے بڑا بےانصاف ہے۔ افتری علی اللہ کذبا بان زعم ان لہ شریکا۔ ام کذب بالحق ای بالرسول او بالقران (ابو السعود ج 6 ص 705) ۔
58:۔ استفہام انکاری ہے، ہمزہ انکار اگر مثبت پر آئے تو مراد نفی ہوگی اور اگر منفی پر آئے تو مراد اثبات ہوگا۔ یہاں منفی پر داخل ہے اس لیے مراد اثبات ہوگا۔ یعنی کافروں کا ٹھکانا یقینا جہنم میں ہوگا۔ ھذا تقرر لثوائہم فی جہنم لان ہمزۃ الانکار اذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
ربط آیات
سورة العنکبوت میں اللہ تعالیٰ نے زیادہ تر ایمان کے ساتھ ابتلا کا ذکر کیا ہے اور اس پر مثالیں بیان کی ہیں۔ پھر کفر اور شرک کی تردید کی ہے اور توحید و رسالت کے اثبات کا ذکر کیا ہے اب آخر میں ایک تو اللہ کی نعمت یاد دلائی گئی ہے کہ اہل مکہ کو اللہ نے امن جیسی عظیم نعمت عطا کی اور اس کے ساتھ مشرکوں کو وعید بھی سنائی ہے۔ سورة کی آخری آیت میں مجاہدے کا مضمون بیان کیا ہے جیسا کہ سورة کی ابتدا میں ومن جاھد فانما یجاھد لنفسہ میں کیا گیا تھا۔ مجاہدہ بھی آزمائش ہی کی ایک صورت ہے۔
قریش مکہ پر احسان
نزول قرآن کے زمانے میں سرزمین عرب میں سال بھر میں آٹھ ماہ سخت بد امنی کے ہوتے تھے۔ اس دوران قافلوں…
Read the full tafseer →وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللہِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَاۗءَہٗ 0ۭ اَلَيْسَ فِيْ جَہَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِيْنَ 68
ظلم
وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه،
قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ:
الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی،
وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13]
والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس،
وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
ترکیب : اذا رکبوا شرط دعوا جواب۔ مخلصین کا الدین مفعول اور فاعل اس کا ضمیر۔ یہ جملہ حال ہے، فاعل دعوا سے حرمًا موصوف امنا اھلہ من القتل او السبیّ صفت مجموعہ جعلنا کا مفعول ثانی اول بلدھم محذوف اور کل جملہ لم یروا کا مفعول۔ ویتخطف الخ جملہ حال مفعول جعلنا سے یا مستانفہ الخطف ربودن لے جانا۔
تفسیر : فاذا رکبوا فی الفلک یہاں پھر اس حیات دنیا کے ایک بڑے اثر کو بیان فرماتا ہے کہ جب یہ مشرکین جو حیات دنیا میں محو ہورہے ہیں، کشتی پر سوار ہو کر دریا کا سفر کرتے ہیں اور وہاں پہاڑ جیسی دریا کی موجیں اٹھتی اور کشتی کو تہ وبالا کرتی ہیں تو اس حیات دنیا کا نشہ اتر جاتا ہے اور موت سامنے دکھائی دیتی ہے، ان…
Read the full tafseer →وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْکَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآئَ ہٗ ط اَلَیْسَ فِیْ جَھَنَّمَ مَثْوًی لِّلْکٰفِرِیْنَ ۔ (العنکبوت : 68)
(اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا حق کو جھٹلائے جبکہ وہ اس کے پاس آچکا ہے، کیا ایسے کافروں کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ہوگا۔ )
عقلِ عام سے ایک سوال
قریش کے خیالات اور طرزعمل کو دلائل سے رد کرنے کے بعد عقل عام کے سامنے سوال رکھ دیا ہے کہ کیا ایسا شخص جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اختیارات کو تسلیم کرلینے کے باوجود غیر اللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرائے اور اس پر ستم یہ ڈھائے کہ اپنی اس جسارت کو اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین کا ضمیر جھنجھوڑنے کے بعد انہیں ایک احسان یاد کروا کر سمجھایا گیا ہے۔
مشرکین مکہ کو جو بھی مقام حاصل تھا، اس کا پہلا اور بڑا سبب بیت اللہ کی تولیت اور مکہ معظمہ کا باسی ہونا تھا، اسی وجہ سے دنیا بھر کے پھل اور اناج مکہ میں پہنچتے ہیں، اسی بنا پر لوگ مکہ والوں کا احترام کرتے اور اسی سبب سے ہی انہیں ہر طرح کا امن حاصل تھا اور ہے۔ حالانکہ اس زمانے میں حجاز کے علاقہ میں دن دہاڑے سفر کرنا انتہائی مشکل تھا۔ قافلوں کی صورت میں سفر کرنے کے باوجود لوگ حفاظتی گارڈ اپنے ساتھ رکھتے تھے، اس کے باوجود ڈاکوؤں، قذاقوں سے بچ نکلنا ایک معجزہ سے کم نہ تھا، اس بدامنی اور انارگی کی طرف…
Read the full tafseer →مفتری کی سزا جہنم :
68: وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ (اور وہ سب سے بڑا ظالم ہے۔ جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے) ۔ کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک ہے۔ اَوْ کَذَّبَ بِالْحَقِّ (یا اس نے حق کو جھٹلایا) ۔ یعنی نبوت محمد ﷺ کا انکار کردیا۔ اور قرآن مجید کو جھٹلایا۔ لَمَّا جَآئَ ہٗ (جبکہ وہ اس کے پاس آچکا) ۔ جب سنا تو بلا سوچے سمجھے تکذیب کردی۔ اَلَیْسَ فِیْ جَہَنَّمَ مَثْوًی لِّلْکٰفِرِیْنَ (کیا جہنم کافروں کا ٹھکانہ نہیں ہے) ۔
فائدہ : یہ استفہام تقریری ہے کہ وہ جہنم میں ٹھکانہ پائیں گے۔ کیونکہ ہمزہ انکاری جب نفی پر داخل کردیا جائے۔ تو ایجاب بن جاتا ہے۔ مطلب یہ ہوگا۔ خبردار وہ جہنم…
Read the full tafseer →68۔ ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا، ، انہوں نے گمان کیا کہ اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہیں اور یہ کہ ان کو برائی کا حکم دا اور کذب بالحق محمدرسول اللہ اور قرآن مراد ہے۔ لما جاء ہ الیس فی جھنم مثوی اللکافرین، یہ استفہام بمعنی تقریر کے ہے اس کا معنی یہ ہے کہ ان کاذب کافروں کا ٹھکانہ تو جہنم ہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–69
61 تا 69۔ اللہ تعالیٰ ان آیتوں میں اپنا معبود ہونا بیان فرماتا ہے کہ اس کے سوائے کوئی لائق بندگی کے نہیں ہے کس واسطے کہ مشرک لوگ اگرچہ خدا کے سوا اوروں کو بھی پوجتے ہیں لیکن آسمان و زمین چاند سورج رات دن کا پیدا کرنے والا خدا ہی کو جانتے ہیں اور اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ بندوں کا روزی دینے والا اور مارنے والا بھی وہی اللہ ہے اور وہی کسی کو امیر اور کسی کو فقیر جیسا مناسب دیکھتا ہے اور جس کا جس کا مستحق جانتا ہے ویسا ہی کرتا ہے وہی سب کا خالق ہے یہ سب کچھ کہہ کر پھر بتوں کو اپنا معبود جانتے ہیں کی زندگی پر رکھا تھا اس لیے آگے کی آیت میں اللہ تعالیٰ دنیا کی حقارت اور آخرت کی تعریف بیان فرماتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–69
آیت نمبر : 64-68
اللہ تبارک و تعالیٰ دنیا و آخرت کے احوال کی خبر دیتا ہے اور اس ضمن میں دنیا سے بےرغبتی رکھنے کی ترغیب اور آخرت کا شوق پیدا کرتا ہے ‘ اس لیے فرمایا : (وما ھذہ الحیوۃ الدنیآ) ” اور نہیں ہے یہ دنیا کی زندگی “ یعنی اس دنیاوی زندگی کی حقیقت (الا لھو و لعب) ” مگر کھیل کود۔ “ جس کی بنا پر دل غافل اور بدن کھیل میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو زیب وزینت اور ان لذات و شہوات سے لبریز کردیا ہے جو دلوں کو کھینچ لیتی ہیں ‘ آنکھوں کو خوبصورت نظر آتی ہیں اور نفوس باطلہ کو فرحت عطا کرتی ہیں۔ پھر دنیا کی یہ زینت و زیبائش جلد ہی زائل ہو کر ختم ہوجائے گی اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–69
قول باری ہے : (ولا تجادلوا اھل الکتاب الا بالتیھی احسن۔ اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقے سے) قتادہ کا قول ہے کہ یہ آیت قول باری (وقاتلوا المشرکین اور مشرکین سے قتال کرو) کی بنا پر منسوخ ہوچکی ہے۔ کوئی بحث تلوار کے استعمال سے بڑھ کر نہیں ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قتادہ کی مراد یہ ہے کہ آیت، زیر بحث کا حکم قتال کے حکم سے پہلے کا ہے۔
قول باری ہے : (الا الذین ظلموا منھم ۔ سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں) ۔ یعنی۔ واللہ اعلم۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے بحث وجدال وغیرہ میں تمہارے ساتھ ظلم کیا ہو جو اس امر کا مقتضی ہو کہ تم ان کے ساتھ سخت رویہ رکھو۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–69
58 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اس کے احاطہ علم کے اعتبار سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ پوری طرح جانتا ہے ان سب چیزوں کو جن کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں اللہ کے سوا "۔ تعمیم ملاحظہ ہو کہ اول تو { شیئ } خود نکرہ ہے جو ہر چیز کو شامل ہے۔ پھر اس پر { من } استغراقیہ سے مزید تاکید۔ یعنی کوئی بھی چیز خواہ کوئی فرشتہ ہو یا انسان، شجر ہو یا حجر، بت ہو یا جن وغیرہ وغیرہ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ مافوق الاسباب کسی کو بھی پکارنا شرک ہے جو کہ سب سے بڑا گناہ اور ناقابل معافی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اب وہ لوگ دیکھ لیں جو اس وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر اس کی عاجز مخلوق کو پکارتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے " یا رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–69
اعمال دنیا اور اس کا انجام
تشریح : ” ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زندگی کو کھیل اور تماشہ اور اخروی زندگی کو ہمیشہ کی زندگی قرار دیا ہے۔ پھر مشرکین مکہ کا عقیدہ بیان کیا کہ وہ کشتی میں تو خالص اللہ کو پکارتے مگر باہر آکر اللہ کے ساتھ شریک ٹہراتے۔ آج کے نام نہاد مسلمان مشرکین مکہ سے بھی گئے گزرے ہیں کہ ایسی جگہ پر بھی غیر اللہ کو پکارتے ہیں مثلا ً معین الدین چشتی پار لگا دو میری کشتی، یا بہاو الحق، بیڑادھک وغیرہ انسان مصیبت میں تو اللہ کو پکارتا ہے مگر راحت میں شکر نہیں کرتا اور غفلت میں پڑ کر قیمتی عمر دنیا کی عزت ‘ راحت ‘ آسائش اور دنیوی کامیابی کے حصول میں ضائع کردیتا ہے۔ جب کہ معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–69
آیات 64 تا 69
اسرارومعارف
دنیا کے لیے بعض اوقات کافر کی دعا بھی قبول ہوتی ہے :
یہ جس دنیا کے لالچ میں گرفتار ہیں یہ تو محض لہو و لعب اور کھیل تماشا ہے جس میں مصروف ہونا محض وقت ضائع کرنے والی بات ہے زندگی تو آخرت کا گھر ہے کہ جسے دنیا میں رہ کر حاصل کرنا مقصد حیات ہے۔ کاش انہیں اس بات کی سمجھ ہوتی ورنہ تو جب کبھی ان پر بڑی افتاد پڑتی ہے جیسے سفر میں ان کی کشتی طوفان میں گھر جائے تو صرف اللہ ہی کو پورے خلوص اور دل کی گہرائی سے پکارتے ہیں اور جب اللہ انہیں نجات دے دیتا اور اس مصیبت سے بچا دیتا ہے کہ دنیا کے لیے تو کبھی کافر کی دعا بھی قبول ہوتی ہے اگر وہ خلوص سے مانگ رہا ہو ہاں آخرت میں اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
1 ۔ ان سے آنحضرت ﷺ ، صحابہ کرام ؓ اور قیامت تک کے لئے ان کے متبعین مراد ہیں۔ (ابن کثیر) ” جہاد “ کا لفظ جس طرح دشمنوں کے ساتھ قتال پر بولا جاتا ہے۔ اسی طرح مجاہدات و ریاضات نفسانی پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے بلکہ بعض روایات میں ان مجاہدات کو ” جہاد اکبر “ فرمایا ہے بشرطیکہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور شریعت کی حدود کے اندر رہ کر یہ ریاضتیں کی جائیں۔ (قرطبی) 2 ۔ یعنی ان کی رہنمائی فرمائیں گے اور نیکی کے راستے اختیار کرنے اور ان پر چلنے کی زیادہ سے زیادہ توفیق دیں گے۔ بعض نے بہشت کی راہ مراد لی ہے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” اپنی راہیں یعنی راہ قرب کے اور رضا کے جو بہشت ہے۔ “ (موضح)
Read the full tafseer →(29:68) افتری۔ ماضی واحد مذکر غائب افتری یفتری افتراء (افتعال) سے۔ دروغ بانی کرنا۔ بہتان تراشی کرنا۔ جھوٹ باندھنا من افتری علی اللہ کذبا۔ جس نے اللہ پر جھوٹا بہتان باندھا۔ نری مادہ۔
کذب۔ ماضی واحد مذکر غائب اس نے جھٹلایا۔ اس نے انکار کیا۔ کذب بالامر۔ کسی چیز سے انکار کرنا۔ کذب بایات ربہ اس نے اپنے پروردگار کی آیات کا انکار کیا۔
مثوی۔ ظرف مکان۔ مثاوی جمع۔ ٹھکانا۔ دراز مدت کے لئے ٹھیرنے کا موام۔ فرودگاہ۔ ثوی یثوی ثوی۔ ضرب سے مصدر
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–69
لغات القرآن آیت نمبر (65 تا 69) ۔
رکبوا (وہ سوار ہوئے) ۔ الفلک (کشتی۔ جہاز) ۔ مخلصین (خالص کرنے والے) ۔ البر (خشکی) ۔ حرم (حرم۔ قابل احترام) ۔ یتخطف (وہ اچک لے گا) ۔ نھدین (ہم ضرور ہدایت دیں گے) ۔ المحسنین (نیک کام کرنے والے۔ نیکو کار) ۔
تشریح : آیت نمبر (65 تا 69 ) ۔ ” اللہ نے کفر و شرک کرنے والوں سے سوال کیا ہے کہ جب تم کسی جہاز یا کشتی پر سوار ہوتے ہو اور تمہاری کشتی کسی طوفان میں پھنس جاتی ہے جہاں سے زندہ نکلنا دشوار اور مشکل نظر آتا ہے تو اس وقت تم کس سے گڑگڑا کر اپنی زندگی کی بھیک مانگتے ہو ؟ فرمایا اس وقت صرف ایک اللہ کی ذات کو پکارا جاتا ہے لیکن جب تم اس طوفان سے نجات پا لیتے ہو اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–69
شاہ روم کا قصہ۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جب یہ مشرکین جو حیات دنیا میں محو ہورہے ہیں کشتی پر سوار ہوکردریا کا سفر کرتے ہیں اور دریا کی موجیں جب کشتی کو تہ وبالا کرتی ہیں اور موت سامنے دکھائی دیتی ہے تب ان کی فطری حالت عود کر آتی ہے تو پھر خاص اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں جیسے کبھی شرک کی ہوا بھی نہ دکھائی تھی ، پھر جب وہ ان کو خشکی میں بچالاتا ہے اور وہ بےخوف ہوجاتے ہیں تو اس وقت بتوں کو اللہ کا شریک ٹھہرانے لگتے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ ہم نے جو نعمت ان کو عطا کی ہے اس کی ناشکری کرتے ہیں اور ان کا مقصد اس سے یہ ہوتا ہے کہ ہم دنیا میں شاد مراد رہیں گے دنیا کو برتیں، اس ناشکری کی سزا دی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
[31] یعنی جو لوگ اللہ کے دین کی خاطر سختیاں جھیلتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ایک خاص نور بصیرت عطا فرماتا ہے اور اپنے قرب و رضا یا جنت کی راہیں سجھاتا ہے۔ جوں جوں وہ مجاہدات میں ترقی کرتے ہیں اسی قدر ان کی معرفت و انکشاف کا درجہ بلند ہوتا چلا جاتا ہے اور انھیں وہ باتیں سوجھنے لگتی ہیں جن کا دوسروں کو احساس تک نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
حل لغات : ویتخطف الناس من حولھم یعنی یہ لوگ محض بیت اللہ کی وجہ سے امن وضمانیت کی زندگی بسر کررہے ہیں اور سارے ملک میں فساد کی آگ مشتعل ہے ۔ حقیقت تلیین کے لغوی معنے اچک لیجانے اور اٹھا لیجانے کے ہیں
Read the full tafseer →68۔ اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور ناانصاف کون ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بہتان باندھے یا جب سچی بات اس کو پہنچ جائے اور اس کے پاس آجائے تو اس سچی بات کی تکذیب کرے کیا ایسے کافروں کا آخری ٹھکانہ جہنم میں نہ ہوگا ۔ یعنی بےدلیل اللہ تعالیٰ پر جھوٹ افترا کرے اور کہے کہ وہ شریک رکھتا ہے اور سچی بات جو مدلل اور مع الدلیل آئے اس کو جھٹلائے اور اس کی تکذیب کرے ، تو واقعی اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے اور ایسے ظالموں کا جہنم کے سوا ٹھکانہ بھی کہاں ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
ف 7۔ بےانصافی ظاہر ہے کہ بلا دلیل بات کی تو تصدیق کرے اور دلیل والی بات کی تکذیب۔
8۔ یعنی ضرور ہوگا۔
Read the full tafseer →اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے ؟
68۔ نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ نے دعوی نبوت و رسالت کیا ہے تو کس کے حکم سے ؟ ظاہر ہے کہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے حکم سے لیکن آپ کے اس دعوی کو جن لوگوں نے قبول نہیں کیا اور وہ کسی دلیل سے اسے قبول کرنے کے لئے تیار بھی نہیں تو آخر اس کا علاج کیا ہے ؟ یہی کہ ان سے برملا کہہ دیا جائے کہ نبی کریم ﷺ نے دعوی رسالت کیا ہے اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے اور اب ظاہر ہے کہ اس کے دو ہی مفہوم اور مطلب نکل سکتے ہیں ایک یہ کہ رسول اللہ ﷺ کا دعوی غلط ہے اور وہ اللہ کے نام پر جھوٹ باندھ رہا ہے ۔ بات ایسی ہے اگر رسول اللہ صلی اللہ علہا والہ وسلم کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (And those who strive in Our way We will certainly take them to Our paths - 69). The real meaning of jihad is to put in all efforts to remove the hurdles in the way of faith. These hurdles include those that are put up by the infidels, for which fighting is at the top pedestal, and also those hurdles that are created by one's own Self and by Shaitan.
There is a promise in this verse for both types of jihad, that Allah Ta’ ala guides those waging jihad to the righteous way. It means that when there is a 'confusion between evil and…
Read the full tafseer →106 That is, "The Prophet has made a claim to Prophethood, and you have denied him. Now there can be only two alternatives: If the Prophet has made a false claim in the name of Allah, there can be no one more wicked than he, and if you have belied a true Prophet, there can be no one more wicked than you."
Read the full tafseer →