Al-Ankaboot 29:67

Al-Ankaboot · from ayah 67

29:67

اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّیُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ؕ— اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ ۟اَوَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّا جَعَلۡنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنۡ حَوۡلِهِمۡ‌ ؕ اَفَبِالۡبَاطِلِ يُؤۡمِنُوۡنَ وَبِنِعۡمَةِ اللّٰهِ يَكۡفُرُوۡنَ

کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو مقام امن بنایا ہے اور لوگ اس کے گرد ونواح سے اُچک لئے جاتے ہیں۔ کیا یہ لوگ باطل پر اعتقاد رکھتے ہیں اور خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Have they not seen that We made [Makkah] a safe sanctuary, while people are being taken away all around them? Then in falsehood do they believe, and in the favor of Allah they disbelieve?

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 7 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ankaboot

All translations of 29:67

کیا یہ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے ایک پر امن حرم بنا دیا ہے حالانکہ اِن کے گرد و پیش لوگ اُچک لیے جاتے ہیں؟ کیا پھر بھی یہ لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا کفران کرتے ہیں؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو مقام امن بنایا ہے اور لوگ اس کے گرد ونواح سے اُچک لئے جاتے ہیں۔ کیا یہ لوگ باطل پر اعتقاد رکھتے ہیں اور خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو با امن بنا دیا ہے حاﻻنکہ ان کے اردگرد سے لوگ اچک لیے جاتے ہیں، کیا یہ باطل پر تو یقین رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر ناشکری کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

بھلا کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے (ان کے شہر کو) ایک پرامن حرم بنادیا ہے، جبکہ ان کے اردگرد لوگوں کا حال یہ ہے کہ انہیں اچک لیا جاتا ہے۔ کیا پھر بھی یہ باطل پر ایمان لاتے ہیں، اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ ہم نے حرمت والی زمین پناہ بنائی اور ان کے آس پاس والے لوگ اچک لیے جاتے ہیں تو کیا باطل پر یقین لاتے ہیں اور اللہ کی دی ہوئی نعمت سے ناشکری کرتے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرمِ (کعبہ) کو جائے امان بنا دیا ہے اور اِن کے اِردگرِد کے لوگ اُچک لئے جاتے ہیں، تو کیا (پھر بھی) وہ باطل پر ایمان رکھتے اور اﷲ کے احسان کی ناشکری کرتے رہیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ بیشک ہم نے ایک حرم امن والا بنادیا ہے، جب کہ لوگ ان کے گرد سے اچک لیے جاتے ہیں، تو کیا وہ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو پرامن بنادیا ہے جبکہ ان کے ارد گرد کے لوگ اچک لئے جاتے ہیں کیا پھر بھی یہ لوگ باطل کو مانتے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان کے لئے ایک مامون حرم بنایا اور حال یہ ہے کہ لوگ ان کے گردو پیش سے اچک لیے جاتے ہیں ! تو کیا وہ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمت کی ناشکر کی کرتے ہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو کیا ان لوگوں نے کبھی اس پر غور نہیں کیا کہ ہم نے (ان کے اس شہر کو) ایک عظیم الشان حرم (اور) امن کا گہوارہ بنادیا جب کہ ان کے آس پاس کے لوگوں کو (ان کے سامنے) اچک لیا جاتا ہے کیا پھر بھی یہ لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کا کفر (و انکار) کرتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

کیا ان لوگوں نے اس پر نظر نہیں کی کہ ہم نے (ان کے شہر کو) امن والاحرام بنایا ہے۔ اور ان کے گرد وپیش لوگوں کو نکالا جارہا ہے تو کیا یہ لوگ جھوٹے معبودوں پر ایمان رکھیں گے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری ہی کرتے رہے گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم نے حرم کو امن کی جگہ بنا دیا ہے اور لوگ اچک لیے جاتے ہیں ان کے ارد گرد سے تو کیا یہ لوگ باطل پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کر رہے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو مقام امن بنایا ہے ؟ اور لوگ ان کے گردونواح سے اچک لیے جاتے ہیں (دنگا فساد کا شکار ہوجاتے ہیں) کیا یہ لوگ باطل پر اعتقاد رکھتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Do they not see that We have given them a sanctuary of safety whereas people around them are being snatched away? So, do they believe in falsehood and ungratefully deny Allah's bounties?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Did they not see that We have made a peaceful sanctuary (Haram ) while (other) people around them are being snatched away? Do they still believe in falsity and reject Allah‘s grace?

— Muhammad Taqi Usmani

Did they not see that We have made a peaceful sanctuary (Haram ) while (other) people around them are being snatched away? Do they still believe in falsity and reject Allah‘s grace?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Have they not seen that We have made a secure sanctuary, while men are being snatched away from all around them Then do they believe in falsehood, and deny the graces of Allah

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Have they not seen that We have appointed a sanctuary immune (from violence), while mankind are ravaged all around them? Do they then believe in falsehood and disbelieve in the bounty of Allah?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Have they not seen that We made [Makkah] a safe sanctuary, while people are being taken away all around them? Then in falsehood do they believe, and in the favor of Allah they disbelieve?

— Saheeh International

Have the (pagans) not seen that We have made the holy precinct a safe place while all the people around are suffering terror. Do they believe in falsehood and disbelieve in God's bounties?

— Muhammad Sarwar

Do they not see that We have made a sacred territory secure, while men are carried off by force from around them? Will they still believe in the falsehood and disbelieve in the favour of Allah?

— Muhammad Habib Shakir

Behold they not that We have appointed an inviolable sanctuary, while men are being snatched away round about them? in falsehood then believe they, and unto the favour of Allah will they be ingrate?

— Abdul Majid Daryabadi

Do they not then see that We have made a sanctuary secure, and that men are being snatched away from all around them? Then, do they believe in that which is vain, and reject the Grace of Allah?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 29:67

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 67–69

احسان کے بدلے احسان ؟ اللہ تعالیٰ قریش کو اپنا احسان جتاتا ہے کہ اس نے اپنے حرم میں انہیں جگہ دی۔ جو شخص اس میں آجائے امن میں پہنچ جاتا ہے۔ اس کے آس پاس جدال و قتال لوٹ مار ہوتی رہتی ہے اور یہاں والے امن وامان سے اپنے دن گزارتے ہیں۔ جسے سورة لایلاف قریش الخ میں بیان فرمایا تو کیا اس اتنی بڑی نعمت کا شکریہ یہی ہے کہ یہ اللہ کے ساتھ دوسروں کی بھی عبادت کریں ؟ بجائے ایمان لانے کے شرک کریں اور خود تباہ ہو کر دوسروں کو بھی اسی ہلاکت والی راہ لے چلیں۔ لیکن انہوں نے اس کے برعکس اللہ کے ساتھ شرک وکفر کرنا اور نبی کو جھٹلانا اور ایذاء پہنچانا شروع کر رکھا ہے۔ اپنی سرکشی میں یہاں تک بڑھ گئے کہ اللہ کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة العنکبوت 105 یعنی کیا ان کے شہر مکہ کو جس کے دامن میں انہیں کمال درجے کا امن میسر ہے، کسی لات یا ہبل نے حرم بنایا ہے ؟ کیا کسی دیوی یا دیوتا کی یہ قدرت تھی کہ ڈھائی ہزار سال سے عرب کی انتہائی بد امنی کے ماحول میں اس جگہ کو تمام فتنوں اور فسادوں سے محفوظ رکھتا ؟ اس کی حرمت کو برقرار رکھنے والے ہم نہ تھے تو اور کون تھا ؟

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 67–68

اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا الآیة۔ اوپر کی آیات میں مشرکین مکہ کی جاہلانہ حرکتوں کا ذکر تھا کہ سب چیزوں کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ کو یقین کرنے کے باوجود پتھر کے خود تراشیدہ بتوں کو اس کی خدائی کا شریک بتاتے ہیں اور صرف تخلیق کائنات ہی کا اللہ تعالیٰ کو مالک نہیں سمجھتے بلکہ آڑے وقت میں مصیبت سے نجات دینا بھی اسی کے اختیار میں جانتے ہیں مگر نجات کے بعد پھر شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ان کے کفر و شرک کا ایک عذر بعض مشرکین مکہ کی طرف سے یہ بھی پیش کیا جاتا تھا کہ ہم آپ کے دین کو تو حق و درست مانتے ہیں لیکن اس کی پیروی کرنے اور مسلمان ہوجانے میں ہم اپنی جانوں کا خطرہ محسوس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اولم یروا انا جعلنا حرما امنا یتخطف الناس من ھولھم ط افبالباطل یومنون وبنعمۃ اللہ یکفرون (67) فرمایا کہ بالکل یہی حال قریش کے ان ناشکروں کا ہے۔ یہ اپنی تاریخ کی اس حقیقت پر غور نہیں کرتے کہ ہم نے ان کے لئے ایک مامون حرم بنایا جس میں یہ چین کی زندگی بسر کررہے ہیں درآنحالیکہ ان کے گردوپیش کا حال یہ ہے کہ لوگ دن دہاڑے اچک لیے جاتے ہیں، نہ کسی کی جان کے لئے امان ہے نہ کسی کا مال محفوظ ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت کی قدر انہوں نے یہ کی ہے کہ اس کے بنائے ہوئے حرم کے کونے کونے میں انہوں نے بتوں کو لا بٹھایا ہے اور ان کی پوجا کر رہے ہیں۔ ان بدبختوں سے پوچھو کہ کیا وہ باطل پر ایمان رکھتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

67-1اللہ تعالیٰ اس احسان کا تذکرہ فرما رہا ہے جو اہل مکہ پر اس نے کیا کہ ہم نے ان کے حرم کو امن والا بنایا جس میں اس کے باشندے قتل و غارت اسیری لوٹ مار وغیرہ سے محفوظ ہیں۔ جب کہ عرب کے دوسرے علاقے اس امن و سکون سے محروم ہیں قتل و غارت گری ان کے ہاں معمول اور آئے دن کا مشغلہ ہے۔ 67-2یعنی کیا اس نعمت کا شکر یہی ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائیں، اور جھوٹے معبودوں اور بتوں کی پرستش کرتے رہیں۔ اس احسان کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرتے اور اس کے پیغمبر کی تصدیق کرتے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 66–67

37: پچھلی سورت یعنی سورة قصص :57 میں گذرا ہے کہ مشرکین مکہ اپنے ایمان نہ لانے کا ایک بہانہ یہ پیش کرتے تھے کہ اگر ہم ایمان لے آئے تو سارا عرب جو اس وقت ہماری عزت کرتا ہے، ہمارا مخالف ہوجائے گا، اور ہمیں اپنی سرزمین سے نکال کر باہر کرے گا۔ اس آیت میں اول تو اس بہانے کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی مکہ مکرمہ کو حرم بنا کر اسے اتنا پر امن علاقہ بنادیا ہے کہ وہاں کوئی قتل و غارت گری کی جرأت نہیں کرتا، حالانکہ اس کے ارد گرد اچھے خاصے لوگوں کو دن دہاڑے اچک کر قتل اور لوٹ مار کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ لہذا جب تمہاری نافرمانی کے باوجود اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ چین کی زندگی دے رکھی ہے تو جب تم اس کے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اولم یروا انا جعلنا ۔۔۔۔۔۔ یکفرون (29: 67) اہل مکہ کی حالت یہ تھی کہ وہ حرم مکی کی وجہ سے نہایت ہی امن و سکون سے زندگی بسر کرتے تھے۔ لوگ بیت اللہ کی وجہ سے ان کی تعظیم کرتے تھے۔ ان کے اردگرد جو عرب قبائل تھے وہ ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے اور ان میں سے ہر ایک کے دل میں دوسرے کا خوف ہوتا تھا۔ ان کو اگر امان نصیب ہوتا تھا تو بیت اللہ کے سائے میں ہوتا تھا۔ اور یہ امان اللہ نے دیا تھا لیکن یہ بہت بڑی ناشکری کی بات تھی کہ یہ لوگ بیت اللہ کو بتوں کا اڈہ بنا دیں اور بیت اللہ میں غیر اللہ کی بندگی ہوتی رہے۔ افبالباطل ۔۔۔۔۔۔ یکفرون (29: 67) ” کیا پھر بھی یہ لوگ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 مکہ کے لوگ اللہ کے گھر کے طفیل دشمنوں سے پناہ میں تھے۔ حالانکہ سارے ملک عرب میں فساد اور کشت و خون کا بازار گرم تھا۔ بتوں کے جھوٹے احسان مانتے ہیں اللہ کا یہ سچا احسان نہیں مانتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 67 اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا ” یہاں مخاطب اہل ایمان ہیں لیکن بات مشرکین مکہ کی ہو رہی ہے۔ وَّیُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِہِمْ ط ” اللہ نے حدود حرم کو امن کی جگہ بنا رکھا ہے جس کی برکات سے یہ لوگ مسلسل مستفیض ہو رہے ہیں جبکہ باقی پورے عرب میں امن وامان نام کی کوئی چیز کہیں نظر نہیں آتی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

99 مکہ اور اس کے مضافات کو اللہ تعالیٰ نے ہی حرم بنایا کہ عرصہ اڑھائی ہزار سال سے یہ لوگ اس پرامن حرم کے فوائد سے فائدے اٹھا رہے ہیں اور عربی قبائل کی لوٹ مار سے محفوظ اور پرامن زندگی گزار رہے ہیں۔ پھر اسی وجہ سے انھیں عرب بھر میں سیاسی اقتدار حاصل ہے۔ انھیں دور دراز مقامات سے رزق بھی پہنچ جاتا ہے۔ اور بہت سے تجارتی فوائد ہی حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے کسی بت، لات، منات، ہبل یا کسی دوسرے بت میں یہ طاقت نہ تھی کہ وہ اس خطہ ارضی کو پرامن حرم بنا سکتا۔ اللہ کی اس نعمت کا تقاضا تو یہ تھا کہ یہ لوگ اللہ کا شکر ادا کرتے اور اس کے فرمانبردار بن کر رہتے۔ مگر یہ لوگ اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے الٹا دوسرے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

87۔ اشارہ مشرکین مکہ کی جانب ہے۔ (آیت) ” حرما ...... حولھم “۔ یعنی یہ مشرکین مکہ اس پر غور نہیں کرتے کہ اب تک ہم نے ان کے خاص شہر کو کیسا محفوظ رکھا ہے۔ درآنحالیکہ اردگرد کے سارے مقامات زد میں آچکے ہیں۔ (آیت) ” نعمۃ اللہ “۔ میں نعمۃ بطور اسم جنس کے آیا ہے۔ مراد ساری ہی نعمتیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 64–69

آیت نمبر 64 تا 69 ترجمہ : اور یہ دنیوی زندگی کھیل تماشہ کے سوا کچھ نہیں البتہ عبادت تو یہ امور آخرت میں ظاہر ہونگے اور اصل زندگی دار آخرت ہی کی ہے اگر یہ لوگ اس بات کو سمجھ لیتے تو دینوی زندگی کو آخرت پر ترجیح نہ دیتے پھر جب یہ لوگ کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو خالص اعتقاد کے ساتھ اللہ ہی سے دعا کرتے ہیں یعنی اس کے ساتھ غیر کو نہیں پکارتے اس لئے کہ وہ (اس وقت) ایک عظیم پریشانی میں (مبتلا) ہوتے ہیں اور اس پریشانی کو اس کے علاوہ کوئی دور نہیں کرسکتا پھر جب ان کو نجات دے کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو فوراً ہی اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے لگتے ہیں تاکہ ہماری دی ہوئی نعمت کی ناقدری کرتے رہیں اور یہ لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اولم یروا انا جعلنا حرما امنا ویتخطف الناس من حولھم . کیا ان اہل مکہ نے نہیں دیکھا کہ ہم نے مکہ کو پر امن حرم بنا دیا ہے (کہ مکہ والوں کو کوئی مکہ کے اندر نہیں لوٹتا ‘ ہر طرح کی غارت گری سے وہ محفوظ ہیں اور قتل و قید سے امن میں ہیں۔ نہ کوئی قتل کرتا ہے ‘ نہ گرفتار کر کے باندی غلام بناتا ہے) حالانکہ ان کے گرداگرد لوگ اچک لئے جاتے ہیں (لوٹے جاتے ہیں ‘ مارے جاتے ہیں) ۔ افبالباطل یؤمنون وبنعمۃ اللہ یکفرون . کیا باطل پر تو وہ یقین رکھتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا ہی انکار کرتے ہیں ؟ یعنی اللہ تو ان پر یہ احسان کرتا ہے اور وہ اس کی کھلی ہوئی نعمت کے بعد باطل پر یعنی بتوں پر یا شیطان پر ایمان رکھتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

کیا مکہ والوں کی اس پر نظر نہیں کہ ہم نے ان کے شہر کو دشمنوں کے خوف سے امن والا بنایا اور ان کے گرد و پیش کے مقامات کے لوگوں کو مار دھاڑ کر ان کے گھروں سے نکال دیا جاتا ہے بجائے ان کے کہ حدود حرم میں دشمن بھی ان پر داخل نہیں ہوتا۔ پھر کیا ٹھکانا کہ یہ لوگ شیطان اور جھوٹے معبودوں کی تصدیق کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی جو اس نے حرم میں ان کو دی ہیں ناشکری کرتے ہیں کہ سرے سے وحدانیت خداوندی ہی کا انکار کرتے ہیں۔ شان نزول : اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا (الخ) جبیر نے بواسطہ ضحاک حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ کفار نے عرض کیا اے رسول اللہ ﷺ ہمیں آپ کے دین میں داخل ہونے سے یہی امر…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا۔۔ : اہل مکہ کو اس سے پہلے سمندری سفر میں خوف میں مبتلا کرنے کے بعد امن عطا کرنے کی نعمت کا ذکر فرمایا تھا، اب خشکی کے اندر کسی خوف میں مبتلا کیے بغیر اس وقت امن عطا کرنے کی نعمت کا ذکر فرمایا جب پورا عرب اس نعمت سے محروم تھا۔”اَوَلَمْ يَرَوْا“ میں واؤ عطف اصل میں ہمزہ استفہام سے پہلے ہے، مگر چونکہ ہمزہ استفہام شروع میں آتا ہے، اس لیے واؤ کو بعد میں کردیا۔ اس لیے واؤ کا ترجمہ ہمزہ سے پہلے کیا گیا ہے ”اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا۔۔“ یعنی جس وقت ان کے ارد گرد پورے جزیرۂ عرب کی یہ حالت ہے کہ کسی کی جان محفوظ ہے نہ مال، کسی کو کچھ خبر نہیں کہ اسے کب…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 67–69

عبدالرحمن بن زید نے کہا : حرم سے مراد مکہ مکرمہ ہے وہ قریش ہیں مکر مکرمہ میں اللہ تعالیٰ نے انہیں امن دیا (1) ۔ ضحاک نے کہا : وہ ایک دوسرے کو قتل کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو قیدی بنا لیتے ہیں۔ (2) ، خطف کا معنی تیزی سے اچک لینا ہے۔ سورة قصص اور دوسری صورتوں میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ نعمت یاد دلائی تاکہ وہ اس کی اطاعت بجا لائیں یعنی میں نے ان کے لئے امن والا حرم بنایا جس میں وہ قید، غارت گری اور قتل سے امن میں ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں خشکی سے نجات عطا فرمائی ہے۔ جس طرح سمندر میں انہیں نجات عطا فرمائی۔ وہ خشکی میں شرک کرتے ہیں اور سمندر میں شرک نہیں کرتے : یہ ان کے احوال کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 67–69

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت اولم یروا انا جعلنا حرما اٰمنا کیا انہوں نے نہیں دیکاھ کہ ہم نے حرم کو امن والا بنادیا اور یہ ان کے لیے اس میں سے نشانی ہے کہ لوگوں پر حملے کیے جاتے ہیں ان کا مال چھین لیا جاتا ہے جبکہ وہ امن میں رہتے ہیں ان کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا آیت افبالباطل یومنین یعنی شرک کے ساتھ ایمان لاتے ہیں آیت وبنعمۃ اللہ یکفرون اور اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں۔ 2۔ جویبر نے ضحاک سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان مشرکین نے کہا اے محمد ﷺ ہم کو کوئی چیز نہیں روکتی کہ ہم تیرے دین میں داخل ہوں مگر یہ خوف ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَوَلَمْ يَرَوْا [اور کیا ان لوگوں نے غور ہی نہیں کیا ] اَنَّا جَعَلْنَا [کہ ہم نے بنایا ] حَرَمًا اٰمِنًا [امن میں ہونے والی محترم جگہ ] وَّ [اس حال میں کہ ] يُتَخَطَّفُ اچک لیا جاتا ہے ] النَّاسُ [انسانوں کو ] مِنْ حَوْلِهِمْ ۭ [ان لوگوں کے اردگرد سے ] اَفَبِالْبَاطِلِ [تو کیا ناحق پر ] يُؤْمِنُوْنَ [یہ لوگ ایمان لاتے ہیں ] وَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ [اور اللہ کی نعمت کا ] يَكْفُرُوْنَ [اور کون زیادہ ظالم ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 66–67

اہل مکہ پر امن وامان کا خصوصی انعام اہل مکہ بھی شرک میں مبتلا تھے، اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ انعام فرمایا تھا کہ وہ امن و چین سے اپنے شہر میں رہتے تھے جبکہ عرب کے دوسرے علاقوں میں لڑائیاں رہتی تھیں قتل خون لوت مار غارٹ گری کا سلسلہ قبائل عرب میں جاری تھا۔ اہل عرب اگرچہ مشرک تھے لیکن حرم مکہ کو محترم جانتے تھے اور اہل مکہ پر کوئی حملہ نہیں کرتے تھے، اہل مکہ پر اس کی قدر دانی کرنا لازم تھا، جب نبی کریم ﷺ نے توحید کی دعوت دی تو انہیں سب سے پہلے مسلمان ہونا چاہیے تھا، ان پر لازم تھا کہ انہیں امن وامان سے رکھنے پر بھی اللہ کا شکر ادا کرتے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نبی مبعوث ہوا جو کہ انہیں میں سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 64–69

دار دنیا کی حقارت اور دار آخرت کی فضیلت قال اللہ تعالیٰ وما ھذہ الحیوۃ الدنیا۔۔۔ الی۔۔۔ وان اللہ لمع المحسنین۔ گزشتہ آیت میں یہ فرمایا بل اکثرہم لا یعقلون یعنی اکثر لوگ عقل سے کام نہیں لیتے دنیا کی ظاہری آرائش پر مفتون ہیں اگر عقل سے کام لیں تو سمجھ جائیں کہ دنیا کا تمام کارخانہ فنا اور زوال اور ضعف اور اضمحلال پر مبنی ہے تو جان لیں کہ یہ دنیا بالکل بےحقیقت ہے اور سرائے فانی ہے جس سے ایک دن کوچ قطع ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور نہیں ہے یہ دنیاوی زندگانی جس پر یہ بےعقل فریفتہ ہیں مگر طفلان بےشعور کے دل بہلانے کا ایک مشغلہ جیسے بچے لاٹھی کو گھوڑا بنا کر اس پر سوار ہوجاتے ہیں اس کو بازی طفلاں کہتے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

56:۔ اہل مکہ پر ایک اور بہت بڑے انعام کا ذکر فرمایا یعنی وہ دلائل میں بھی غور و تدبر کریں اور ہمارے احسانات بھی دیکھیں کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے ان کے شہر کو حرم محترم اور مقام امن بنا دیا ہے سارا عرب بیت اللہ کی وجہ سے مکہ والوں کی عزت کرتا اور ان کے مال و جان اور عزت و آبرو کو ہاتھ نہیں ڈالتا جبکہ ان کے گرد و نواح میں رہنے والے دوسرے لوگوں کا مال و جان محفوظ نہیں۔ آئے دن قتل و غارت کا بازار گرم رہتا ہے۔ مگر یہ اہل مکہ اللہ تعالیٰ کے عظیم احسانات کی قدر بھی نہیں کرتا اور خود ساختہ معبودوں کو کارساز سمجھتے اور اللہ کی نعمتوں کی بےقدری کرتے ہیں۔ افبالباطل یومنون الخ کیا ان دلائل اور احسانات…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 67–69

ربط آیات سورة العنکبوت میں اللہ تعالیٰ نے زیادہ تر ایمان کے ساتھ ابتلا کا ذکر کیا ہے اور اس پر مثالیں بیان کی ہیں۔ پھر کفر اور شرک کی تردید کی ہے اور توحید و رسالت کے اثبات کا ذکر کیا ہے اب آخر میں ایک تو اللہ کی نعمت یاد دلائی گئی ہے کہ اہل مکہ کو اللہ نے امن جیسی عظیم نعمت عطا کی اور اس کے ساتھ مشرکوں کو وعید بھی سنائی ہے۔ سورة کی آخری آیت میں مجاہدے کا مضمون بیان کیا ہے جیسا کہ سورة کی ابتدا میں ومن جاھد فانما یجاھد لنفسہ میں کیا گیا تھا۔ مجاہدہ بھی آزمائش ہی کی ایک صورت ہے۔ قریش مکہ پر احسان نزول قرآن کے زمانے میں سرزمین عرب میں سال بھر میں آٹھ ماہ سخت بد امنی کے ہوتے تھے۔ اس دوران قافلوں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِہِمْ۝ 0ۭ اَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَۃِ اللہِ يَكْفُرُوْنَ۝ 67 رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 65–68

ترکیب : اذا رکبوا شرط دعوا جواب۔ مخلصین کا الدین مفعول اور فاعل اس کا ضمیر۔ یہ جملہ حال ہے، فاعل دعوا سے حرمًا موصوف امنا اھلہ من القتل او السبیّ صفت مجموعہ جعلنا کا مفعول ثانی اول بلدھم محذوف اور کل جملہ لم یروا کا مفعول۔ ویتخطف الخ جملہ حال مفعول جعلنا سے یا مستانفہ الخطف ربودن لے جانا۔ تفسیر : فاذا رکبوا فی الفلک یہاں پھر اس حیات دنیا کے ایک بڑے اثر کو بیان فرماتا ہے کہ جب یہ مشرکین جو حیات دنیا میں محو ہورہے ہیں، کشتی پر سوار ہو کر دریا کا سفر کرتے ہیں اور وہاں پہاڑ جیسی دریا کی موجیں اٹھتی اور کشتی کو تہ وبالا کرتی ہیں تو اس حیات دنیا کا نشہ اتر جاتا ہے اور موت سامنے دکھائی دیتی ہے، ان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّیُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِہِمْ ط اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَۃِ اللّٰہِ یَکْفُرُوْنَ ۔ (العنکبوت : 67) (کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ایک پرامن حرم بنایا، اور حال یہ ہے کہ لوگ ان کے گردوپیش سے اچک لیے جاتے ہیں، کیا پھر بھی یہ لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں۔ ) کشتی کے غافلوں اور قریش میں وحدت فکر و عمل روئے سخن قریش کی طرف ہے۔ گزشتہ آیت میں دنیا کے فریب میں مبتلا لوگوں کی مثال کشتی کے مسافروں سے دی گئی تھی۔ پیش نظر آیت کریمہ میں قریش کی طرف اشارہ کرکے فرمایا گیا ہے کہ ان کا حال بھی کشتی کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 67–68

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین کا ضمیر جھنجھوڑنے کے بعد انہیں ایک احسان یاد کروا کر سمجھایا گیا ہے۔ مشرکین مکہ کو جو بھی مقام حاصل تھا، اس کا پہلا اور بڑا سبب بیت اللہ کی تولیت اور مکہ معظمہ کا باسی ہونا تھا، اسی وجہ سے دنیا بھر کے پھل اور اناج مکہ میں پہنچتے ہیں، اسی بنا پر لوگ مکہ والوں کا احترام کرتے اور اسی سبب سے ہی انہیں ہر طرح کا امن حاصل تھا اور ہے۔ حالانکہ اس زمانے میں حجاز کے علاقہ میں دن دہاڑے سفر کرنا انتہائی مشکل تھا۔ قافلوں کی صورت میں سفر کرنے کے باوجود لوگ حفاظتی گارڈ اپنے ساتھ رکھتے تھے، اس کے باوجود ڈاکوؤں، قذاقوں سے بچ نکلنا ایک معجزہ سے کم نہ تھا، اس بدامنی اور انارگی کی طرف…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

67: اَوَلَمْ یَرَوْا (کیا ان اہل مکہ نے نہیں دیکھا) ۔ اَنَّا جَعَلْنَا (ہم نے ان کے شہر کو بنایا) ۔ حَرَمًا (محفوظ و ممنوع) ٰامَنًا (امن والا) کہ اس میں داخل ہونے والے محفوظ ومامون ہیں۔ وَیُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِہِمْ (اور لوگ ان کے اطراف سے اچک لیے جاتے ہیں) ۔ وہ قتل و قید سے مال چھین لیتے ہیں۔ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ (کیا وہ باطل پر یقین رکھتے ہیں) یعنی شیطان و اصنام پر۔ وَبِنِعْمَۃِ اللّٰہِ یَکْفُرُوْنَ (اور وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں) ۔ نعمت سے مراد اسلام اور حضرت محمد ﷺ ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

67۔ اولم یروا اناجعلنا حرمنا امناویتخطف الناس من حولھم، اور وہ بعض بعض سے قتل وقید سے امن میں نہیں ہیں اور اہل مکہ امن میں ہیں، افبالباطل، اس سے مرادبت اور شیطان ہیں۔ یومنون وبنعمۃ اللہ محمد اور دین اسلام ، یکفرون، ،۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 61–69

61 تا 69۔ اللہ تعالیٰ ان آیتوں میں اپنا معبود ہونا بیان فرماتا ہے کہ اس کے سوائے کوئی لائق بندگی کے نہیں ہے کس واسطے کہ مشرک لوگ اگرچہ خدا کے سوا اوروں کو بھی پوجتے ہیں لیکن آسمان و زمین چاند سورج رات دن کا پیدا کرنے والا خدا ہی کو جانتے ہیں اور اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ بندوں کا روزی دینے والا اور مارنے والا بھی وہی اللہ ہے اور وہی کسی کو امیر اور کسی کو فقیر جیسا مناسب دیکھتا ہے اور جس کا جس کا مستحق جانتا ہے ویسا ہی کرتا ہے وہی سب کا خالق ہے یہ سب کچھ کہہ کر پھر بتوں کو اپنا معبود جانتے ہیں کی زندگی پر رکھا تھا اس لیے آگے کی آیت میں اللہ تعالیٰ دنیا کی حقارت اور آخرت کی تعریف بیان فرماتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 64–69

آیت نمبر : 64-68 اللہ تبارک و تعالیٰ دنیا و آخرت کے احوال کی خبر دیتا ہے اور اس ضمن میں دنیا سے بےرغبتی رکھنے کی ترغیب اور آخرت کا شوق پیدا کرتا ہے ‘ اس لیے فرمایا : (وما ھذہ الحیوۃ الدنیآ) ” اور نہیں ہے یہ دنیا کی زندگی “ یعنی اس دنیاوی زندگی کی حقیقت (الا لھو و لعب) ” مگر کھیل کود۔ “ جس کی بنا پر دل غافل اور بدن کھیل میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو زیب وزینت اور ان لذات و شہوات سے لبریز کردیا ہے جو دلوں کو کھینچ لیتی ہیں ‘ آنکھوں کو خوبصورت نظر آتی ہیں اور نفوس باطلہ کو فرحت عطا کرتی ہیں۔ پھر دنیا کی یہ زینت و زیبائش جلد ہی زائل ہو کر ختم ہوجائے گی اور اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–69

قول باری ہے : (ولا تجادلوا اھل الکتاب الا بالتیھی احسن۔ اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقے سے) قتادہ کا قول ہے کہ یہ آیت قول باری (وقاتلوا المشرکین اور مشرکین سے قتال کرو) کی بنا پر منسوخ ہوچکی ہے۔ کوئی بحث تلوار کے استعمال سے بڑھ کر نہیں ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قتادہ کی مراد یہ ہے کہ آیت، زیر بحث کا حکم قتال کے حکم سے پہلے کا ہے۔ قول باری ہے : (الا الذین ظلموا منھم ۔ سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں) ۔ یعنی۔ واللہ اعلم۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے بحث وجدال وغیرہ میں تمہارے ساتھ ظلم کیا ہو جو اس امر کا مقتضی ہو کہ تم ان کے ساتھ سخت رویہ رکھو۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 42–69

58 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اس کے احاطہ علم کے اعتبار سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ پوری طرح جانتا ہے ان سب چیزوں کو جن کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں اللہ کے سوا "۔ تعمیم ملاحظہ ہو کہ اول تو { شیئ } خود نکرہ ہے جو ہر چیز کو شامل ہے۔ پھر اس پر { من } استغراقیہ سے مزید تاکید۔ یعنی کوئی بھی چیز خواہ کوئی فرشتہ ہو یا انسان، شجر ہو یا حجر، بت ہو یا جن وغیرہ وغیرہ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ مافوق الاسباب کسی کو بھی پکارنا شرک ہے جو کہ سب سے بڑا گناہ اور ناقابل معافی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اب وہ لوگ دیکھ لیں جو اس وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر اس کی عاجز مخلوق کو پکارتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے " یا رسول…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 64–69

اعمال دنیا اور اس کا انجام تشریح : ” ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زندگی کو کھیل اور تماشہ اور اخروی زندگی کو ہمیشہ کی زندگی قرار دیا ہے۔ پھر مشرکین مکہ کا عقیدہ بیان کیا کہ وہ کشتی میں تو خالص اللہ کو پکارتے مگر باہر آکر اللہ کے ساتھ شریک ٹہراتے۔ آج کے نام نہاد مسلمان مشرکین مکہ سے بھی گئے گزرے ہیں کہ ایسی جگہ پر بھی غیر اللہ کو پکارتے ہیں مثلا ً معین الدین چشتی پار لگا دو میری کشتی، یا بہاو الحق، بیڑادھک وغیرہ انسان مصیبت میں تو اللہ کو پکارتا ہے مگر راحت میں شکر نہیں کرتا اور غفلت میں پڑ کر قیمتی عمر دنیا کی عزت ‘ راحت ‘ آسائش اور دنیوی کامیابی کے حصول میں ضائع کردیتا ہے۔ جب کہ معلوم…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 64–69

آیات 64 تا 69 اسرارومعارف دنیا کے لیے بعض اوقات کافر کی دعا بھی قبول ہوتی ہے : یہ جس دنیا کے لالچ میں گرفتار ہیں یہ تو محض لہو و لعب اور کھیل تماشا ہے جس میں مصروف ہونا محض وقت ضائع کرنے والی بات ہے زندگی تو آخرت کا گھر ہے کہ جسے دنیا میں رہ کر حاصل کرنا مقصد حیات ہے۔ کاش انہیں اس بات کی سمجھ ہوتی ورنہ تو جب کبھی ان پر بڑی افتاد پڑتی ہے جیسے سفر میں ان کی کشتی طوفان میں گھر جائے تو صرف اللہ ہی کو پورے خلوص اور دل کی گہرائی سے پکارتے ہیں اور جب اللہ انہیں نجات دے دیتا اور اس مصیبت سے بچا دیتا ہے کہ دنیا کے لیے تو کبھی کافر کی دعا بھی قبول ہوتی ہے اگر وہ خلوص سے مانگ رہا ہو ہاں آخرت میں اس کی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

13 کہ امن سے زندگی گزار رہے ہیں اور مکہ کو امن وامان کی جگہ ہمیں نے بنایا ہے نہ کہ کسی اور نے۔ (دیکھئے سورة بقرہ :125 ۔ انفال :26)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(29:67) اولم یروا میں ضمیر جمع مذکر غائب مشرکین مکہ کی طرف راجع ہے۔ حرما۔ حرم ۔ پناہ کی جگہ۔ ادب کا مقام۔ مکہ معظمہ کا ایک مخصوص حصہ جس کی حدود میں اس کے ادب کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کو حرام کردیا۔ امنا : امن سے اسم فاعل واحد مذکر۔ امن والا۔ پر امن۔ انا جعلنا حرما امنا۔ ہم نے بنادیا حرم کو امن والا۔ اسی مضمون میں اور جگہ ارشاد ہے :۔ وقالوا ان نتبع الھدی نتخطف من ارضنا اولم نمکن لہم حرما امنا (28:57) اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم آپ کے ساتھ ہوکر ہدایت پر چلنے لگیں تو اپنی سر زمین سے اچک لئے جائیں (یعنی مار کر نکال دئیے جائیں) ۔ یتخطف مضارع مجہول واحد مذکر غائب تخطف مصدر (باب تفعل)…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 65–69

لغات القرآن آیت نمبر (65 تا 69) ۔ رکبوا (وہ سوار ہوئے) ۔ الفلک (کشتی۔ جہاز) ۔ مخلصین (خالص کرنے والے) ۔ البر (خشکی) ۔ حرم (حرم۔ قابل احترام) ۔ یتخطف (وہ اچک لے گا) ۔ نھدین (ہم ضرور ہدایت دیں گے) ۔ المحسنین (نیک کام کرنے والے۔ نیکو کار) ۔ تشریح : آیت نمبر (65 تا 69 ) ۔ ” اللہ نے کفر و شرک کرنے والوں سے سوال کیا ہے کہ جب تم کسی جہاز یا کشتی پر سوار ہوتے ہو اور تمہاری کشتی کسی طوفان میں پھنس جاتی ہے جہاں سے زندہ نکلنا دشوار اور مشکل نظر آتا ہے تو اس وقت تم کس سے گڑگڑا کر اپنی زندگی کی بھیک مانگتے ہو ؟ فرمایا اس وقت صرف ایک اللہ کی ذات کو پکارا جاتا ہے لیکن جب تم اس طوفان سے نجات پا لیتے ہو اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 65–69

شاہ روم کا قصہ۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جب یہ مشرکین جو حیات دنیا میں محو ہورہے ہیں کشتی پر سوار ہوکردریا کا سفر کرتے ہیں اور دریا کی موجیں جب کشتی کو تہ وبالا کرتی ہیں اور موت سامنے دکھائی دیتی ہے تب ان کی فطری حالت عود کر آتی ہے تو پھر خاص اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں جیسے کبھی شرک کی ہوا بھی نہ دکھائی تھی ، پھر جب وہ ان کو خشکی میں بچالاتا ہے اور وہ بےخوف ہوجاتے ہیں تو اس وقت بتوں کو اللہ کا شریک ٹھہرانے لگتے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ ہم نے جو نعمت ان کو عطا کی ہے اس کی ناشکری کرتے ہیں اور ان کا مقصد اس سے یہ ہوتا ہے کہ ہم دنیا میں شاد مراد رہیں گے دنیا کو برتیں، اس ناشکری کی سزا دی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 65–67

[30] مکہ کے لوگ اللہ کے گھر کے طفیل دشمنوں سے پناہ میں تھے حالانکہ سارے عرب میں فساد اور کشت و خون کا بازار گرم تھا۔ کیا کسی دیوی یا دیوتا کو یہ قدرت تھی کہ عرب کے انتہائی بدامنی کے ماحول میں مکہ کے لوگوں کو فتنہ و فساد سے محفوظ رکھتا ؟ یہ لوگ بتوں کے جھوٹے احسان مانتے ہیں اور اللہ کا سچا احسان نہیں مانتے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 67–68

حل لغات : ویتخطف الناس من حولھم یعنی یہ لوگ محض بیت اللہ کی وجہ سے امن وضمانیت کی زندگی بسر کررہے ہیں اور سارے ملک میں فساد کی آگ مشتعل ہے ۔ حقیقت تلیین کے لغوی معنے اچک لیجانے اور اٹھا لیجانے کے ہیں

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

67۔ کیا ان کفار مکہ نے اس بات کو نہیں دیکھا اور انہوں نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ ہم نے حرم مکہ کو پناہ اور امن کی جگہ بنا دیاحالان کہ انہی ساکنان حرم کے ارد گرد اور قرب و جو ار کے لوگ اچک لئے جاتے ہیں اور لوٹے مارے جاتے ہیں تو کیا اس پر بھی یہ لوگ باطل اور بےاصل معبودوں پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے انعامات اور احسانات کی نا شکری اور کفران نعمت کرتے ہیں ۔ ہم سورة قصص میں کہہ چکے ہیں کہ مکہ کے حرم کا سب لوگ احترام کرتے تھے اور حرم کے رہنے والوں کو لوٹتے نہیں تھے اور نہ قبل کرتے تھے اور یہ اللہ تعالیٰ کا اہل مکہ پر بڑا احسان تھا آس پاس کے لوگوں کو ڈاکو مارتے بھی تھے لوٹتے بھی تھے اور ان…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ یعنی شہر مکہ کو۔ 6۔ کیونکہ شرک سے بڑھ کر کوئی ناشکری نہیں کہ نعمت تخلیق و ترزیق و ابقاء و تدبیر وغیرہ وہ عطا فرماوے اور عبادت جو کہ ان نعمتوں کا شکر ہے دوسرے کے لئے تجویز کی جاوے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم نے ان کے لئے حرم کو امن کی جگہ بنایا لیکن ناقدروں نے قدر نہ کی : 67۔ نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ مکہ والوں کو اپنا ایک عظیم احسان یاد دلایا جا رہا ہے کہ پوری دنیا میں اس قدر کہیں امن کی جگہ نہیں جس طرح کی جگہ ہم نے ان کو حرم بنا کردی لیکن یہ اتنے زبردست ناشکرے اور ناقدر شناس ہیں کہ ان کو ذرا شرم نہیں آئی کہ ہم کیا کر رہے ہیں ‘ مخلوق میں سے جن کو انہوں نے اپنے اولیاء کرام سمجھا ہے ان کے بت بنا کر اپنے پاس رکھ لئے ہیں اور بیت اللہ میں ان کو لا رکھا ہے حالانکہ ان کے اردگرد جو حالت ہے وہ ان سب کی آنکھوں سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے باطل پر ایمان لانے اور اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–67

أَوَلَمْ يَرَ‌وْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَ‌مًا آمِنًا (Did they not see that We have made a peaceful sanctuary حَرَم[ haram ] - 67). In the preceding verses it was described that the deeds and actions of the infidels were foolish and irrational. On the one hand, they accept Allah as the sole Creator and master of everything, and on the other they associate their self-chiseled idols with Him. Then, it is not that they just believe Him to be the sole Creator of everything, but they know well that it is only He who brings them out safely from all types of calamities. But after achieving…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

105 That is, Has the City of Makkah, in whose surroundings they enjoy perfect safety and security, been made a sacred place by some Lat or Hubal? Was it possible for a god or goddess to have secured this place against all sorts of mischief and violence for 2,500 years or so, in a strife-ridden land like Arabia? Who could then keep and maintain its sacredness and sanctity except Us?

Read the full tafseer →