Explained with ayahs 64–66
جب عکرمہ طوفان میں گھر گئے
دنیا کی حقارت وذلت اس کے زوال وفنا کا ذکر ہو رہا ہے کہ اسے کوئی دوام نہیں اس کا کوئی ثبات نہیں یہ تو صرف لہو ولعب ہے۔ البتہ دار آخرت کی زندگی دوام وبقا کی زندگی ہے وہ زوال وفنا سے قلت وذلت سے دور ہے۔ اگر انہیں علم ہوتا تو اس بقا والی چیز پر اس فانی چیز کو ترجیح نہ دیتے۔ پھر فرمایا کہ مشرکین بےکسی اور بےبسی کے وقت تو اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ کو ہی پکارنے لگتے ہیں۔ پھر مصیبت کے ہٹ جانے اور مشکل کے ٹل جانے کے بعد اس کے ساتھ دوسروں کا نام کیوں لیتے ہیں ؟ جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ ۚ…
Read the full tafseer →سورة العنکبوت 104
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، سورة انعام 29 و 41، سورة یونس حاشیہ 29 و 31۔ سورة بنی اسرائیل حاشیہ 84۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
خلاصہ تفسیر
اور (وجہ ان کے غور نہ کرنے کی انہماک ہے مشاغل دنیا میں حالانکہ) یہ دنیوی زندگی (جس کے یہ تمام تر اشغال ہیں فی نفسہ) بجز لہو و لعب کے اور کچھ بھی نہیں اور اصل زندگی عالم آخرت (کی) ہے (چنانچہ دنیا کے فانی ہونے اور آخرت کے باقی ہونے سے یہ دونوں مضمون ظاہر ہیں پس فانی میں اس قدر انہماک کہ باقی کو بھول میں ڈال کر اس سے محروم ہوجائے خود یہ بےعقلی کی بات ہے) اگر ان کو اس کا (کافی) علم ہوتا تو ایسا نہ کرتے (کہ فانی میں منہمک ہو کر باقی کو بھلا دیتے اور اس کے لئے سامان نہ کرتے بلکہ یہ لوگ دلائل میں غور کرتے۔ اور ایمان لے آتے جیسا کہ خود ان کو یہ تسلیم ہے کہ تخلیق کائنات اور اس کے باقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
فاذ ارکبوا فی الفلک دعو اللہ مخلصین لہ الدین ج فلما تجھم الی الیراذا ھم یشرکون لیکفرو بما اتینھ ولیتمعوا وفف یعلمون (65۔ 66)
یعنی دنیا کے ان سرمستوں کی مثال کشتی کے مسافروں کی ہے۔ جب کشی سازگار ہوا کے ساتھ رواں دواں ہوتی ہے تو یہ اس میں اس طرح مگن ہوتے ہیں گویا ابرو ہوا سب انہی کے تابع فرمان ہیں لیکن جو نہی کشتی کسی طوفانی گرداب میں پھنسی ان کو خدا یاد آتا ہے اور اس وقت وہ اسے مخلصانہ اطاعت کا عہد کرتے ہوئے دعا کرتے لیکن جب کشتی گرداب میں سے نکل جاتی ہے تو وہ اپنی انہی سرمستیوں اور گمراہیوں میں پھر کھو جاتے ہیں جن میں پہلے کھوئے ہوئے تھے اور خدا سے کیا ہوا عہدان کو بالکل بھول جاتا ہے۔ فرمایا…
Read the full tafseer →66-1یہ لام کئی ہے جو علت کے لیے ہے۔ یعنی نجات کے بعد ان کا شرک کرنا اس لئے ہے کہ وہ کفران نعمت کریں اور دنیا کی لذتوں سے لطف اندوز ہوتے رہیں۔ کیونکہ اگر وہ ناشکری نہ کرتے تو اخلاص پر قائم رہتے اور صرف اللہ واحد کو ہی ہمیشہ پکارتے۔ گو ان کا مقصد کفر کرنا نہیں ہے لیکن دوبارہ شرک کے ارتکاب کا نتیجہ بہرحال کفر ہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
37: پچھلی سورت یعنی سورة قصص :57 میں گذرا ہے کہ مشرکین مکہ اپنے ایمان نہ لانے کا ایک بہانہ یہ پیش کرتے تھے کہ اگر ہم ایمان لے آئے تو سارا عرب جو اس وقت ہماری عزت کرتا ہے، ہمارا مخالف ہوجائے گا، اور ہمیں اپنی سرزمین سے نکال کر باہر کرے گا۔ اس آیت میں اول تو اس بہانے کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی مکہ مکرمہ کو حرم بنا کر اسے اتنا پر امن علاقہ بنادیا ہے کہ وہاں کوئی قتل و غارت گری کی جرأت نہیں کرتا، حالانکہ اس کے ارد گرد اچھے خاصے لوگوں کو دن دہاڑے اچک کر قتل اور لوٹ مار کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ لہذا جب تمہاری نافرمانی کے باوجود اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ چین کی زندگی دے رکھی ہے تو جب تم اس کے…
Read the full tafseer →لیکفروا بما ۔۔۔۔۔ یعلمون (29: 66) ۔ یہ نہایت ہی شدید ڈراوا ہے یعنی نامعلوم مصیبت کا۔ عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا ؟ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کو بتاتے ہیں کہ دیکھو اللہ نے تم کو یہ ” حرم امن “ دیا ہے جس کے اندر تم نہایت ہی امن و سکون سے زندگی بسر کرتے ہو۔ کیا اللہ کی اس عظیم نعمت کا شکر ادا نہیں کرتے۔ یوں کہ صرف اللہ کی بندگی کریں اور اسی کو پکاریں بلکہ اس کے برعکس اس حرم امن میں اہل ایمان کو تم ڈراتے اور پریشان کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
1 یعنی چاہیے تو یہ تھا کہ آدمی دنیا کے مزوں میں پڑ کر خدا کو اور آخرت کو فراموش نہ کرے۔ لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب کشتی طوفان میں گھر جائے تو بڑی عقیدت مندی سے اللہ کو پکارتے ہیں۔ پھر جہاں آفت سر سے ٹلی اور خشکی پر قدم رکھا، اللہ کے احسانوں سے مکر کر جھوٹے دیوتاؤں کو پکارنا شروع کردیا۔ گویا غرض یہ ہوئی کہ اللہ کی نعمتوں کا کفران کرتے رہیں اور دنیا کے مزے اڑاتے رہیں۔ خیر بہتر ہے چند روز دل کے ارمان نکال لیں، عنقریب پتہ لگ جائے گا کہ اس بغاوت و شرارت، احسان فراموشی اور ناسپاسی کا نتیجہ کیا ہے۔
Read the full tafseer →وَلِیَتَمَتَّعُوْاوقفۃ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ”
اس دنیا میں تو یہ لوگ اللہ کی نافرمانیاں بھی کر رہے ہیں اور مزے بھی اڑا رہے ہیں ‘ لیکن عنقریب جب آنکھ بند ہوگی تو اصل حقیقت ان کے سامنے آجائے گی :
یہی اسلوب اور انداز ہمیں ”سورة التّکاثر“ میں بھی نظر آتا ہے : اَلْہٰٹکُمُ التَّکَاثُرُ حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ۔ کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۔ ثُمَّ کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ”تم لوگوں کو غافل رکھا باہم کثرت کی خواہش نے ‘ یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں۔ ہرگز نہیں ! عنقریب تم جان لوگے۔ پھر ہرگز نہیں ! عنقریب تم جان لوگے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
98 یعنی اس سے زیادہ ناشکری کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ ان کی ضروریات زندگی تو سب اللہ تعالیٰ مہیا کرے اور جب جان پر بن جائے تو اس مصیبت سے نجات بھی اللہ ہی دے۔ لیکن جب آسودہ حالی کا وقت آئے تو انسان نہ صرف یہ کہ اللہ کو بھول جائے۔ بلکہ اس کے اختیارات میں دوسروں کو بھی شریک بنانے لگے۔ اس آیت میں دور نبوی کے مشرکوں کا ذکر ہے جو کم از کم آڑے وقتوں میں تو اکیلے اللہ کو پکارتے تھے۔ مگر آج کا مشرک ان مشرکوں سے بازی لے گیا ہے۔ جو عقیدہ ہی یہ رکھتا ہے کہ اس کا بیر اس کے ہر کام اور اس کے سارے احوال سے واقف ہوتا ہے اور مشکل وقت میں اس سے فریاد کرنے پر فوراً وہ مدد کو پہنچ جاتا ہے۔ اور موت سامنے کھڑی…
Read the full tafseer →86۔ یعنی وقوع موت یا قرب موت پر (آیت) ” لیکفروا۔۔ لیتمتعوا “۔ دونوں میں ل ’ تاکہ ‘ کے معنی میں ہے۔ کے کا مرادف۔ اے ل کے یکفروا و کی یتمتعوا (مدارک) والمعنی یعودون الی شرکھم لیکونوا بالعود الی شرکھم کافرین بنعمۃ النجاۃ قاصدین التمتع بھا (مدارک) اور بعض نے کہا ہے کہ ل امر کا ہے اعملوا ماشئتم کا مرادف اور کمال غضب کا مظہر جیسے اردو میں ایسے موقع پر کہا جائے گا کہ اچھا، خوب کفر کرلو، اور اس دنیائے چند روزہ کے خوب مزے لوٹ لو، اولام الامر علی التھدید (بیضاوی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–69
آیت نمبر 64 تا 69
ترجمہ : اور یہ دنیوی زندگی کھیل تماشہ کے سوا کچھ نہیں البتہ عبادت تو یہ امور آخرت میں ظاہر ہونگے اور اصل زندگی دار آخرت ہی کی ہے اگر یہ لوگ اس بات کو سمجھ لیتے تو دینوی زندگی کو آخرت پر ترجیح نہ دیتے پھر جب یہ لوگ کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو خالص اعتقاد کے ساتھ اللہ ہی سے دعا کرتے ہیں یعنی اس کے ساتھ غیر کو نہیں پکارتے اس لئے کہ وہ (اس وقت) ایک عظیم پریشانی میں (مبتلا) ہوتے ہیں اور اس پریشانی کو اس کے علاوہ کوئی دور نہیں کرسکتا پھر جب ان کو نجات دے کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو فوراً ہی اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے لگتے ہیں تاکہ ہماری دی ہوئی نعمت کی ناقدری کرتے رہیں اور یہ لوگ…
Read the full tafseer →لیکفروا بما اتینھم . ہم نے جو نعمت ان کو عطا کی ہے (اب تو) وہ اس کا انکار کرتے رہیں۔ یہ امر بمعنی تہدید (کفر کا حکم دینا مقصود نہیں ہے بلکہ کفر کے برے نتیجہ سے ڈرانا مقصود ہے) جیسے اِعْمَلُوْا مَاشِءْتُمْ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ جو کچھ چاہو کرو میں تمہارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ اب تو وہ اللہ کے اس احسان کا انکار کردیں کہ اللہ نے ان کو ڈوبنے سے بچا لیا۔
بعض اہل تفسیر کے نزدیک لِیَکْفُرُوْا میں لام کا معنی ہے تاکہ (یعنی یہ لام بمعنی کَےْ ہے اور کَے کا معنی ہے تاکہ) یعنی وہ شرک اس لئے کرتے ہیں کہ اللہ نے جو ان کو ڈوبنے سے نجات دے دی ‘ اس کا انکار کردیں۔ یا یہ مطلب…
Read the full tafseer →جس کا حاصل یہ ہے کہ ہم نے جع نعمت ان کو دی ہے اس کی قدر نہیں کرتے ہیں اور یہ لوگ اپنے کفر و شرک میں چند دن اور لطف اٹھا لیں پھر قریب ہی نزول عذاب پر ان کو سب خبر ہوجائے گی کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →لِيَكْفُرُوْا بِمَآ اٰتَيْنٰهُمْ۔۔ : یعنی نجات پانے کے بعد شرک کرنے سے انھیں اس کے سوا کچھ حاصل نہیں کہ ہماری عطا کردہ نعمتوں کی ناشکری کرتے رہیں اور صرف دنیا کی لذتوں سے فائدہ اٹھاتے رہیں، جبکہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔ سو بہت جلد وہ اپنے اس کام کا انجام جان لیں گے۔ (بغوی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
یعنی بادل سے بارش، اس کو خش سالی اور اس کے اہل کے قحط میں مبتلا ہونے کے بعد۔
یعنی جب تم نے اس کا اقرار کرلیا تو تم اس کے ساتھ کیوں شرک کرتے ہو اور دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کرتے ہو جب وہ اس پر قادر ہے تو مومنوں کو غنی کرنے پر بھی قادر ہے تو تاکید کے لئے اسے مکرر ذکر کیا۔ یعنی اس کی قدرت پر جو دلائل اور براہین واضح کئے گئے اس پر الحمداللہ لیکن اکثر ان دلائل میں تدبر نہیں کرتے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے اقرار کیا اس پر الحمداللہ : ایک قول یہ کیا گیا ہے : پانی کے نازل کرنے اور زمین کو زندہ کرنے پر الحمداللہ۔
یعنی دنیاوی زندگی ایسی چیز ہے جس کے ساتھ لہو و لعب کیا جاتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آتی وان الدار الاٰخرۃ لہی الحیوان، سے مراد ہے کہ آخرت کا گھر ہی باق رہنے والا ہے۔
2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا آیت لہی الحیوان سے مراد ہے دائمی زندگی۔
3۔ ابن ابی الدنیا والبیہقی فی شعب الایمان ابو جعفر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرما کیا بہت زیادہ تعجب اس آدمی پر جو تصدیق کرنے والا ہے دائمی زندگی کے گھر کی کہ جب وہ کوشش کرتا ہے دھوکے والے گھر یعنی دنیا کے لیے۔
4۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولیتمتعوا فسوف یعلمون یعنی…
Read the full tafseer →لِيَكْفُرُوْا [نتیجتاً وہ لوگ ناشکری کرتے ہیں ] بِمَآ [اس کی جو ] اٰتَيْنٰهُمْ ڌ [ہم نے دیا ان کو ] وَلِيَتَمَتَّعُوْا ۪ [اور فائدہ اٹھاتے ہیں (اس سے)] فَسَوْفَ [تو عنقریب ] يَعْلَمُوْنَ [وہ لوگ جان لیں گے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
اہل مکہ پر امن وامان کا خصوصی انعام
اہل مکہ بھی شرک میں مبتلا تھے، اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ انعام فرمایا تھا کہ وہ امن و چین سے اپنے شہر میں رہتے تھے جبکہ عرب کے دوسرے علاقوں میں لڑائیاں رہتی تھیں قتل خون لوت مار غارٹ گری کا سلسلہ قبائل عرب میں جاری تھا۔ اہل عرب اگرچہ مشرک تھے لیکن حرم مکہ کو محترم جانتے تھے اور اہل مکہ پر کوئی حملہ نہیں کرتے تھے، اہل مکہ پر اس کی قدر دانی کرنا لازم تھا، جب نبی کریم ﷺ نے توحید کی دعوت دی تو انہیں سب سے پہلے مسلمان ہونا چاہیے تھا، ان پر لازم تھا کہ انہیں امن وامان سے رکھنے پر بھی اللہ کا شکر ادا کرتے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نبی مبعوث ہوا جو کہ انہیں میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–69
دار دنیا کی حقارت اور دار آخرت کی فضیلت
قال اللہ تعالیٰ وما ھذہ الحیوۃ الدنیا۔۔۔ الی۔۔۔ وان اللہ لمع المحسنین۔
گزشتہ آیت میں یہ فرمایا بل اکثرہم لا یعقلون یعنی اکثر لوگ عقل سے کام نہیں لیتے دنیا کی ظاہری آرائش پر مفتون ہیں اگر عقل سے کام لیں تو سمجھ جائیں کہ دنیا کا تمام کارخانہ فنا اور زوال اور ضعف اور اضمحلال پر مبنی ہے تو جان لیں کہ یہ دنیا بالکل بےحقیقت ہے اور سرائے فانی ہے جس سے ایک دن کوچ قطع ہے۔
چناچہ فرماتے ہیں اور نہیں ہے یہ دنیاوی زندگانی جس پر یہ بےعقل فریفتہ ہیں مگر طفلان بےشعور کے دل بہلانے کا ایک مشغلہ جیسے بچے لاٹھی کو گھوڑا بنا کر اس پر سوار ہوجاتے ہیں اس کو بازی طفلاں کہتے…
Read the full tafseer →55:۔ دونوں صیغوں میں لام بمعنی کَیْ ہے یعنی وہ شرک کرتے ہیں تاکہ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کریں اور شرک پر اتحاد و اتفاق کا فائدہ اٹھائیں ای یشرکون لیکونوا کافرین بما اتیناھم من نعمۃ النجاۃ بسبب شرکھم ولیتمتعوا باجتماعہم علی عبادۃ الاوثان و توادھم علیہا (روح ج 21 ص 13) ۔ یا دونوں میں لام امر کا ہے قرینہ یہ ہے کہ ایک قراءت میں ولیتمتعوا کا لام ساکن ہے اور سکون لام امر ہی پر جائز ہے لام کَیْ ہے جائز نہیں اس صورت میں یہ تہدید و وعید ہوگی وقیل ھما لام امر معناہ التہدید والوعید۔ ومن قرا و لیتمتعوا باسکان اللام لم یجعلھا لام کی لان لام کی لایجوز اسکانھا (قرطبی ج 13 ص 363) ۔ فسوف یعلمون۔ اب کفرانِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
ربطہ آیات
ابتلا اور آزمائش کے ذکر اور اس کی مثالیں بیان کرنے کے بعد اللہ نے کافروں اور مشرکوں کا شکوہ بیان کیا کہ واضح دلائل کی موجودگی میں ان کا توحید سے انکار اور کفر و شرک پر اصرار بڑی زیادتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تمام جانداروں کے متعلق فرمایا کہ سب کا روزی رساں وہی ہے۔ پھر ارض و سماء کی تخلیق اور شمس و قمر کی تسخیر کے متعلق فرمایا کہ یہ سب کچھ اسی کے اختیار میں ہے۔ یہ چیزیں تو محض اسباب ہیں وگرنہ حقیقی روزی رساں تو اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ اپنی حکمت اور مصلحت کے مطابق کسی کی روزی کشادہ کردیتا ہے اور کسی کی تنگ کردیتا ہے۔ پھر اللہ نے بارش کے نزول کی طرف توجہ دلائی کہ آسمان کی طرف سے پانی برسا…
Read the full tafseer →لِـيَكْفُرُوْا بِمَآ اٰتَيْنٰہُمْ 0ۚۙ وَلِيَتَمَتَّعُوْا 0۪ فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ 66
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
ترکیب : اذا رکبوا شرط دعوا جواب۔ مخلصین کا الدین مفعول اور فاعل اس کا ضمیر۔ یہ جملہ حال ہے، فاعل دعوا سے حرمًا موصوف امنا اھلہ من القتل او السبیّ صفت مجموعہ جعلنا کا مفعول ثانی اول بلدھم محذوف اور کل جملہ لم یروا کا مفعول۔ ویتخطف الخ جملہ حال مفعول جعلنا سے یا مستانفہ الخطف ربودن لے جانا۔
تفسیر : فاذا رکبوا فی الفلک یہاں پھر اس حیات دنیا کے ایک بڑے اثر کو بیان فرماتا ہے کہ جب یہ مشرکین جو حیات دنیا میں محو ہورہے ہیں، کشتی پر سوار ہو کر دریا کا سفر کرتے ہیں اور وہاں پہاڑ جیسی دریا کی موجیں اٹھتی اور کشتی کو تہ وبالا کرتی ہیں تو اس حیات دنیا کا نشہ اتر جاتا ہے اور موت سامنے دکھائی دیتی ہے، ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
فَاِذَا رَکِبُوْا فِی الْفُلْکِ دَعَوُا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَـہُ الدِّیْنَ 5 ج فَلَمَّا نَجّٰہُمْ اِلٰی الْبَرِّ اِذَا ھُمْ یُشْرِکُوْنَ ۔ لِیَکْفُرُوْا بِمَآ اٰ تَیْنٰـھُمْ ج لا وَلِیَتَمَتَّعُوْا وقفۃ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ۔
(العنکبوت : 66)
(اور جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے اسی سے دعا مانگتے ہیں، پس جب وہ ان کو خشکی کی طرف نجات دے دیتا ہے تو پھر وہ اس کے شریک ٹھہرانے لگتے ہیں۔ تاکہ اللہ کی دی ہوئی نجات پر اس کی ناشکری کریں اور چند دن اور بہرہ مند ہولیں، پس وہ عنقریب جان لیں گے۔ )
دنیا کے سرمستوں کی ایک مثال
گزشتہ آیت کریمہ میں کفار کی گمراہی کا اصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
فہم القرآن
ربط کلام : مشرکوں کا مشکل وقت پر ” اللہ “ کی ذات کا اقرار کرنا، اور صرف اسے پکارنا۔
موحّد اور مشرک کے عقیدہ کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ موحّد ہر حال میں ایک ” اللہ “ کو پکارتا ہے اور مشرک صرف مصیبت کے وقت ایک ” اللہ “ کو پکارتا ہے یہی حال مشرکین مکہ کا تھا وہ عام حالات میں صرف ایک ” اللہ “ کو پکارنے کی بجائے دوسروں کو بھی شامل کرتے اور انہیں پکارتے تھے، حالانکہ قرآن مجید نے بار بار اس بات سے منع کیا ہے کہ نہ ” اللہ “ کے سوا کسی کو پکارا جائے اور نہ اس کے ساتھ کسی کو پکارا جائے، لیکن نہ مکہ کے مشرک اس بات سے رکتے تھے اور نہ آج کے مشرک اس سے باز آتے ہیں، حالانکہ ہر دور میں مشرک کی…
Read the full tafseer →66: لِیَکْفُرُوْا بِمَآ ٰاتَیْنٰہُمْ (ہم نے جو نعمت ان کو دی ہے وہ اس کا انکار کرتے رہیں) ۔ جو نعمت بھی ہم نے ان کو دی ہے۔
ایک قول یہ ہے :
یہ لام کَیْ ہے اور اسی طرح لیتمتَّعُوْا میں بھی لام کَیْ مانا گیا ہے۔ جنہوں نے کسرہ سے پڑھا ہے۔ ای لکی یکفروا تاکہ وہ ناشکری کریں۔ وکَیْ یتمتعوا (تاکہ وہ نفع اٹھائیں) ۔ مطلب یہ ہوگا۔ وہ اپنے شرک کی طرف لوٹنے والے ہیں تاکہ شرک کی طرف لوٹ کر وہ نعمت نجات کی ناشکری کردیں اور اس سے ان کا مقصد دنیا سے نفع اٹھانا۔ اور تلذد حاصل کرنا ہے اور کوئی غرض نہیں۔ اس کے بالمقابل حقیقی مخلص مومن اللہ تعالیٰ کے انعامات کا شکریہ ادا کرتے ہیں جب ان کو کنارے پر نجات میسر آتی…
Read the full tafseer →66۔ لیکفروا بمااتیناھم، یہ لام امر ہے یہ معنی بطور تہدید اور وعید کے لیے ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کافرمان، اعملواماشئتم، وہ اللہ کی نعمتوں کا انکار رہے تھے، ولیتمعوا، حمزہ اور کسائی نے لام ساکن کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اس صورت میں اس کا عطف، لیکفروا، پر ہوگا، فسوف یعلمون، بعض نے کہا کہ جنہوں نے لام کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور وہ لام کو لام کی کہتے ہیں اور اسی طرح لیکفروا، میں لام ہے اس کا معنی یہ ہوگا کہ اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے میں کوئی فائدہ نہیں مگر کفر میں اضافہ ہوگا اور دنیاوی زندگی میں فائدہ حاصل کرتے ہیں آخرت کی زندگی کے بدلے میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–69
61 تا 69۔ اللہ تعالیٰ ان آیتوں میں اپنا معبود ہونا بیان فرماتا ہے کہ اس کے سوائے کوئی لائق بندگی کے نہیں ہے کس واسطے کہ مشرک لوگ اگرچہ خدا کے سوا اوروں کو بھی پوجتے ہیں لیکن آسمان و زمین چاند سورج رات دن کا پیدا کرنے والا خدا ہی کو جانتے ہیں اور اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ بندوں کا روزی دینے والا اور مارنے والا بھی وہی اللہ ہے اور وہی کسی کو امیر اور کسی کو فقیر جیسا مناسب دیکھتا ہے اور جس کا جس کا مستحق جانتا ہے ویسا ہی کرتا ہے وہی سب کا خالق ہے یہ سب کچھ کہہ کر پھر بتوں کو اپنا معبود جانتے ہیں کی زندگی پر رکھا تھا اس لیے آگے کی آیت میں اللہ تعالیٰ دنیا کی حقارت اور آخرت کی تعریف بیان فرماتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–69
آیت نمبر : 64-68
اللہ تبارک و تعالیٰ دنیا و آخرت کے احوال کی خبر دیتا ہے اور اس ضمن میں دنیا سے بےرغبتی رکھنے کی ترغیب اور آخرت کا شوق پیدا کرتا ہے ‘ اس لیے فرمایا : (وما ھذہ الحیوۃ الدنیآ) ” اور نہیں ہے یہ دنیا کی زندگی “ یعنی اس دنیاوی زندگی کی حقیقت (الا لھو و لعب) ” مگر کھیل کود۔ “ جس کی بنا پر دل غافل اور بدن کھیل میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو زیب وزینت اور ان لذات و شہوات سے لبریز کردیا ہے جو دلوں کو کھینچ لیتی ہیں ‘ آنکھوں کو خوبصورت نظر آتی ہیں اور نفوس باطلہ کو فرحت عطا کرتی ہیں۔ پھر دنیا کی یہ زینت و زیبائش جلد ہی زائل ہو کر ختم ہوجائے گی اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–69
قول باری ہے : (ولا تجادلوا اھل الکتاب الا بالتیھی احسن۔ اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقے سے) قتادہ کا قول ہے کہ یہ آیت قول باری (وقاتلوا المشرکین اور مشرکین سے قتال کرو) کی بنا پر منسوخ ہوچکی ہے۔ کوئی بحث تلوار کے استعمال سے بڑھ کر نہیں ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قتادہ کی مراد یہ ہے کہ آیت، زیر بحث کا حکم قتال کے حکم سے پہلے کا ہے۔
قول باری ہے : (الا الذین ظلموا منھم ۔ سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں) ۔ یعنی۔ واللہ اعلم۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے بحث وجدال وغیرہ میں تمہارے ساتھ ظلم کیا ہو جو اس امر کا مقتضی ہو کہ تم ان کے ساتھ سخت رویہ رکھو۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–69
58 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اس کے احاطہ علم کے اعتبار سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ پوری طرح جانتا ہے ان سب چیزوں کو جن کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں اللہ کے سوا "۔ تعمیم ملاحظہ ہو کہ اول تو { شیئ } خود نکرہ ہے جو ہر چیز کو شامل ہے۔ پھر اس پر { من } استغراقیہ سے مزید تاکید۔ یعنی کوئی بھی چیز خواہ کوئی فرشتہ ہو یا انسان، شجر ہو یا حجر، بت ہو یا جن وغیرہ وغیرہ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ مافوق الاسباب کسی کو بھی پکارنا شرک ہے جو کہ سب سے بڑا گناہ اور ناقابل معافی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اب وہ لوگ دیکھ لیں جو اس وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر اس کی عاجز مخلوق کو پکارتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے " یا رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–69
اعمال دنیا اور اس کا انجام
تشریح : ” ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زندگی کو کھیل اور تماشہ اور اخروی زندگی کو ہمیشہ کی زندگی قرار دیا ہے۔ پھر مشرکین مکہ کا عقیدہ بیان کیا کہ وہ کشتی میں تو خالص اللہ کو پکارتے مگر باہر آکر اللہ کے ساتھ شریک ٹہراتے۔ آج کے نام نہاد مسلمان مشرکین مکہ سے بھی گئے گزرے ہیں کہ ایسی جگہ پر بھی غیر اللہ کو پکارتے ہیں مثلا ً معین الدین چشتی پار لگا دو میری کشتی، یا بہاو الحق، بیڑادھک وغیرہ انسان مصیبت میں تو اللہ کو پکارتا ہے مگر راحت میں شکر نہیں کرتا اور غفلت میں پڑ کر قیمتی عمر دنیا کی عزت ‘ راحت ‘ آسائش اور دنیوی کامیابی کے حصول میں ضائع کردیتا ہے۔ جب کہ معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–69
آیات 64 تا 69
اسرارومعارف
دنیا کے لیے بعض اوقات کافر کی دعا بھی قبول ہوتی ہے :
یہ جس دنیا کے لالچ میں گرفتار ہیں یہ تو محض لہو و لعب اور کھیل تماشا ہے جس میں مصروف ہونا محض وقت ضائع کرنے والی بات ہے زندگی تو آخرت کا گھر ہے کہ جسے دنیا میں رہ کر حاصل کرنا مقصد حیات ہے۔ کاش انہیں اس بات کی سمجھ ہوتی ورنہ تو جب کبھی ان پر بڑی افتاد پڑتی ہے جیسے سفر میں ان کی کشتی طوفان میں گھر جائے تو صرف اللہ ہی کو پورے خلوص اور دل کی گہرائی سے پکارتے ہیں اور جب اللہ انہیں نجات دے دیتا اور اس مصیبت سے بچا دیتا ہے کہ دنیا کے لیے تو کبھی کافر کی دعا بھی قبول ہوتی ہے اگر وہ خلوص سے مانگ رہا ہو ہاں آخرت میں اس کی…
Read the full tafseer →12 ۔ بتوں کے تھانوں پر جا کر نذر مانتے اور چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔ آج کل کے مسلمان ان سے بھی بدتر ہیں کہ یہ مصیبت کے وقت بھی غیر اللہ کو پکارتے اور ان کے نعرے لگاتے ہیں۔ اعاذنا اللہ من ھذہ الضلالۃ۔
Read the full tafseer →(29:66) لیکفروا بما اتینھم۔ میں لام کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔
(1) یہ لام کی ہے کے (تاکہ) کے معنی میں آیا ہے اور اس کے مرادف ہے۔ ای لکی یکفروا تاکہ وہ ناشکری کریں یا کفر کا ارتکاب کریں۔ والمعنی یعودون الی شرکہم لیکونوا بالعرد الی شرکہم کافرین بنعمۃ النجاۃ۔ وہ شرک کی طرف پلٹ آتے ہیں تاکہ اس طرح شرک کی طرف مڑ آنے سے نجات کی نعمت کی ناشکری کریں۔ گویا شرک کا ارتکاب کرکے وہ اللہ کی نجات والی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں۔
(2) یہ لام امر کا ہے اور اعملوا ما شئتم (کرلو جو تم چاہتے ہو) کا مرادف ہے یہاں امر کا مقصد یہ نہیں کہ وہ ناشکری کریں بلکہ غصہ و غضب کا اظہار ہے اور تہدید کے طور پر کہا جا رہا ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–69
لغات القرآن آیت نمبر (65 تا 69) ۔
رکبوا (وہ سوار ہوئے) ۔ الفلک (کشتی۔ جہاز) ۔ مخلصین (خالص کرنے والے) ۔ البر (خشکی) ۔ حرم (حرم۔ قابل احترام) ۔ یتخطف (وہ اچک لے گا) ۔ نھدین (ہم ضرور ہدایت دیں گے) ۔ المحسنین (نیک کام کرنے والے۔ نیکو کار) ۔
تشریح : آیت نمبر (65 تا 69 ) ۔ ” اللہ نے کفر و شرک کرنے والوں سے سوال کیا ہے کہ جب تم کسی جہاز یا کشتی پر سوار ہوتے ہو اور تمہاری کشتی کسی طوفان میں پھنس جاتی ہے جہاں سے زندہ نکلنا دشوار اور مشکل نظر آتا ہے تو اس وقت تم کس سے گڑگڑا کر اپنی زندگی کی بھیک مانگتے ہو ؟ فرمایا اس وقت صرف ایک اللہ کی ذات کو پکارا جاتا ہے لیکن جب تم اس طوفان سے نجات پا لیتے ہو اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–69
شاہ روم کا قصہ۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جب یہ مشرکین جو حیات دنیا میں محو ہورہے ہیں کشتی پر سوار ہوکردریا کا سفر کرتے ہیں اور دریا کی موجیں جب کشتی کو تہ وبالا کرتی ہیں اور موت سامنے دکھائی دیتی ہے تب ان کی فطری حالت عود کر آتی ہے تو پھر خاص اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں جیسے کبھی شرک کی ہوا بھی نہ دکھائی تھی ، پھر جب وہ ان کو خشکی میں بچالاتا ہے اور وہ بےخوف ہوجاتے ہیں تو اس وقت بتوں کو اللہ کا شریک ٹھہرانے لگتے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ ہم نے جو نعمت ان کو عطا کی ہے اس کی ناشکری کرتے ہیں اور ان کا مقصد اس سے یہ ہوتا ہے کہ ہم دنیا میں شاد مراد رہیں گے دنیا کو برتیں، اس ناشکری کی سزا دی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
[30] مکہ کے لوگ اللہ کے گھر کے طفیل دشمنوں سے پناہ میں تھے حالانکہ سارے عرب میں فساد اور کشت و خون کا بازار گرم تھا۔ کیا کسی دیوی یا دیوتا کو یہ قدرت تھی کہ عرب کے انتہائی بدامنی کے ماحول میں مکہ کے لوگوں کو فتنہ و فساد سے محفوظ رکھتا ؟ یہ لوگ بتوں کے جھوٹے احسان مانتے ہیں اور اللہ کا سچا احسان نہیں مانتے۔
Read the full tafseer →توحید کا اقرار
1: توحید کے متعلق اسلامی نظریہ یہ ہے ۔ کہ فطرت کا عقیدہ سے دل کی آواز ہے ! اور ایسی صداقت ہے جس کا انکار ہوش و حواس کی سل امتی میں قطعاً ممکن نہیں ۔ اس لئے قرآن حکیم فرمتا ہے ۔ کہ جب ان مکہ کے مشرکوں سے پوچھا جاتا ہے ۔ کہ بتاؤ آسمانوں اور زمین کو کس نے بنایا ہے اور سورج اور چاند کو کس نے تمہارے لئے مسخر کردیا ہے ؟ تو یہ لوگ بےاختیار چلا اٹھتے ہیں کہ خدا نے وہی رزق کو بانٹتا ہے ۔ اور کشائش وتنگی اسی کے دست قدرت میں ہے ۔ اسی طرح جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ جس وقت زمین اپنی تروتازگی کھو بیٹھتی ہے ۔ باغ وراغ پانی کے ایک ایک قطرے کو ترستے ہیں ۔ جب کھیتیاں ختک ہوجاتی ہیں ۔ تو اس وقت…
Read the full tafseer →66۔ تا کہ جو احسان ہم نے ان پر کیا ہے اس کی نا شکری اور کفران نعمت کریں اور تا کہ یہ ہوائے نفسانی کی اتباع کر کے چند دن اور فائدہ اٹھالیں سو اب عنقریب یہ لوگ جان لیں گے اور ان کو سب معلوم ہوجائے گا کہ یہ مضمون کئی جگہ گزر چکا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کبھی کشتی میں سوار ہوتے ہیں ۔ تو گڑ گڑا کر اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اب کی دفعہ خدا نے بچا لیا تو ہم ایمان لے آئیں گے اور اسلام کے حلقہ بگوش ہوجائیں گے لیکن جب اللہ تعالیٰ ان کو خشکی پر لے آتا ہے تب ہی شرک کرنا اور بتوں کو پکارنا شروع کردیتے ہیں جس کا انجام اور ماحصل یہ ہے کہ جو نجات ہم نے ان کو غرق سے دی تھی اس کی نا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
ف 4۔ کہ فانی میں منہمک ہو کر جاتی کو بھلا دیتے ہیں، اور اس کے لئے سامان نہ کرتے بلکہ یہ لوگ دلائل میں غور کرتے اور ایمان لے آتے جیسا کہ مقتضا ان کے اقرار توحید فی التکوین والا بقاء کا ہے۔
Read the full tafseer →اچھا وہ ناشکریاں کرلیں اور فوائد حاصل کرلیں عنقریب وہ جان لیں گے :
66۔ اس سلسلہ کی آخری بات ان سے کی جا رہی ہے کہ اچھا کرلو ناشکریاں اور اٹھا لو فائدے اور لطف اندزویاں آخرتم یہ سب کچھ کتنی دیر تک کرو گے بلاشبہ ! آج نہیں تو آنے والے کل تم پکڑ لئے جاؤ گے اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ ” کرتے رہو جو کچھ تم چاہو تمہاری ساری حرکتوں کو اللہ دیکھ رہا ہے ۔ “ (41 : 40) آخر تم جو کرنا چاہتے ہو کب تک کرتے رہو گے جب ہماری پکڑ کا وقت آئے گا تو تمہارا سارا نشہ ہرن ہوجائے گا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا (Did they not see that We have made a peaceful sanctuary حَرَم[ haram ] - 67). In the preceding verses it was described that the deeds and actions of the infidels were foolish and irrational. On the one hand, they accept Allah as the sole Creator and master of everything, and on the other they associate their self-chiseled idols with Him. Then, it is not that they just believe Him to be the sole Creator of everything, but they know well that it is only He who brings them out safely from all types of calamities. But after achieving…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
104 For explanation, see E.N.'s 29 and 41 of Surah Al-An`am; E.N.'s 29 and 31 of Surah Yunus and E.N. 84 of Surah Bani Isra'il.
Read the full tafseer →