Al-Ankaboot 29:65

Al-Ankaboot · from ayah 65

29:65

فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ۚ۬— فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَی الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَ ۟ۙفَاِذَا رَكِبُوۡا فِى الۡفُلۡكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَـهُ الدِّيۡنَ ۚ فَلَمَّا نَجّٰٮهُمۡ اِلَى الۡبَـرِّ اِذَا هُمۡ يُشۡرِكُوۡنَۙ

پھر جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خدا کو پکارتے (اور) خالص اُسی کی عبادت کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ اُن کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو جھٹ شرک کرنے لگے جاتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when they board a ship, they supplicate Allah, sincere to Him in religion. But when He delivers them to the land, at once they associate others with Him

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 7 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ankaboot

All translations of 29:65

جب یہ لوگ کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اُس سے دُعا مانگتے ہیں، پھر جب وہ اِنہیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو یکایک یہ شرک کرنے لگتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خدا کو پکارتے (اور) خالص اُسی کی عبادت کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ اُن کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو جھٹ شرک کرنے لگے جاتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس یہ لوگ جب کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں اس کے لئے عبادت کو خالص کر کے پھر جب وه انہیں خشکی کی طرف بچا ﻻتا ہے تو اسی وقت شرک کرنے لگتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کو اس طرح پکارتے ہیں کہ ان کا اعتقاد خالص اسی پر ہوتا ہے۔ پھر جب وہ انہیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو فورا شرک کرنے لگتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں اللہ کو پکارتے ہیں ایک اسی عقیدہ لاکر پھر جب وہ انہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے جبھی شرک کرنے لگتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو (مشکل وقت میں بتوں کو چھوڑ کر) صرف اﷲ کو اس کے لئے (اپنا) دین خالص کرتے ہوئے پکارتے ہیں، پھر جب اﷲ انہیں بچا کر خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو اس وقت وہ (دوبارہ) شرک کرنے لگتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کو پکارتے ہیں، اس حال میں کہ اسی کے لیے عبادت کو خالص کرنے والے ہوتے ہیں، پھر جب وہ انھیں خشکی کی طرف نجات دے دیتا ہے تو اچانک وہ شریک بنا رہے ہوتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کی مکمل حاکمیت کو تسلیم کرتے ہوئے خالصتاً اسے ہی پکارتے ہیں اور جب وہ انھیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو اس وقت پھر شرک کرنے لگتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں اللہ کو پکارتے ہیں اسی کے لئے اطاعت کی خاص کرتے ہوئے۔ پس جب ان کو خشکی کی طرف نجات دیتا ہے تو پھر وہ اس کے شریک ٹھہرانے لگتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر (یہ بھی دیکھو کہ) جب یہ لوگ کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو اللہ ہی کو پکارتے ہیں اسی کے لئے خالص کر کے اپنے دین کو مگر جب وہ انھیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو یکایک یہ لوگ شرک کرنے لگتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خالص اعتقاد کرکے اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں پھر جب وہ انہیں نجات دے کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو یہ لوگ فورا ہی شرک کرنے لگتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

سو جب یہ لوگ سوار ہوتے ہیں کشتی میں تو پکارتے ہیں اللہ کو اس کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے پھر جب وہ انہیں نجات دے دیتا ہے خشکی کی طرف تو جبھی وہ شرک کرنے لگتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کو پکارتے اور خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو پھر فوراً شرک کرنے لگ جاتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

When they embark in the ships they call upon Allah, consecrating their faith to Him. But when He rescues them and brings them to land, they suddenly begin to associate others with Allah in His Divinity

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So when they embark on a ship, they invoke Allah, having their faith purely in Him. But when He saves them (and brings them) to the land, in no time they start committing shirk (ascribing partners to Allah),

— Muhammad Taqi Usmani

So when they embark on a ship, they invoke Allah, having their faith purely in Him. But when He saves them (and brings them) to the land, in no time they start committing shirk (ascribing partners to Allah),

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when they embark on a ship, they invoke Allah, making their faith pure for Him only, but when He brings them safely to land, behold, they give a share of their worship to others.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when they mount upon the ships they pray to Allah, making their faith pure for Him only, but when He bringeth them safe to land, behold! they ascribe partners (unto Him),

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when they board a ship, they supplicate Allah, sincere to Him in religion. But when He delivers them to the land, at once they associate others with Him

— Saheeh International

When they sail in a boat, they sincerely pray to God with pure faith. But when We bring them safely to land, they start considering things equal to God.

— Muhammad Sarwar

So when they ride in the ships they call upon Allah, being sincerely obedient to Him, but when He brings them safe to the land, lo! they associate others (with Him);

— Muhammad Habib Shakir

So When they mount upon the ships they call on Allah making pure for Him the religion, then when He delivereth them safely on the land, lo! they associate

— Abdul Majid Daryabadi

Now, if they embark on a boat, they call on Allah, making their devotion sincerely (and exclusively) to Him; but when He has delivered them safely to (dry) land, behold, they give a share (of their worship to others)!-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 29:65

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 64–66

جب عکرمہ طوفان میں گھر گئے دنیا کی حقارت وذلت اس کے زوال وفنا کا ذکر ہو رہا ہے کہ اسے کوئی دوام نہیں اس کا کوئی ثبات نہیں یہ تو صرف لہو ولعب ہے۔ البتہ دار آخرت کی زندگی دوام وبقا کی زندگی ہے وہ زوال وفنا سے قلت وذلت سے دور ہے۔ اگر انہیں علم ہوتا تو اس بقا والی چیز پر اس فانی چیز کو ترجیح نہ دیتے۔ پھر فرمایا کہ مشرکین بےکسی اور بےبسی کے وقت تو اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ کو ہی پکارنے لگتے ہیں۔ پھر مصیبت کے ہٹ جانے اور مشکل کے ٹل جانے کے بعد اس کے ساتھ دوسروں کا نام کیوں لیتے ہیں ؟ جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ ۚ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 64–65

سورة العنکبوت 102 یعنی اس کی حقیقت بس اتنی ہی ہے جیسے بچے تھوڑی دیر کے لیے کھیل کود لیں اور پھر اپنے اپنے گھر کو سدھاریں۔ یہاں جو بادشاہ بن گیا ہے وہ حقیقت میں بادشاہ نہیں بن گیا ہے بلکہ صرف بادشاہی کا ڈراما کر رہا ہے۔ ایک وقت آتا ہے جب اس کا یہ کھیل ختم ہوجاتا ہے اور اسی بےسروسامانی کے ساتھ وہ تخت شاہی سے رخصت ہوتا ہے جس کے ساتھ وہ اس دنیا میں آیا تھا۔ اسی طرح زندگی کی کوئی شکل بھی یہاں مستقل اور پائیدار نہیں ہے، جو جس حال میں بھی ہے عارضی طور پر ایک محدود مدت کے لیے ہے، اس چند روزہ زندگی کی کامرانیوں پر جو لوگ مرے مٹتے ہیں اور انہی کے لیے ضمیر و ایمان کی بازی لگا کر کچھ عیش و عشرت کا سامان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 64–66

خلاصہ تفسیر اور (وجہ ان کے غور نہ کرنے کی انہماک ہے مشاغل دنیا میں حالانکہ) یہ دنیوی زندگی (جس کے یہ تمام تر اشغال ہیں فی نفسہ) بجز لہو و لعب کے اور کچھ بھی نہیں اور اصل زندگی عالم آخرت (کی) ہے (چنانچہ دنیا کے فانی ہونے اور آخرت کے باقی ہونے سے یہ دونوں مضمون ظاہر ہیں پس فانی میں اس قدر انہماک کہ باقی کو بھول میں ڈال کر اس سے محروم ہوجائے خود یہ بےعقلی کی بات ہے) اگر ان کو اس کا (کافی) علم ہوتا تو ایسا نہ کرتے (کہ فانی میں منہمک ہو کر باقی کو بھلا دیتے اور اس کے لئے سامان نہ کرتے بلکہ یہ لوگ دلائل میں غور کرتے۔ اور ایمان لے آتے جیسا کہ خود ان کو یہ تسلیم ہے کہ تخلیق کائنات اور اس کے باقی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 65–66

فاذ ارکبوا فی الفلک دعو اللہ مخلصین لہ الدین ج فلما تجھم الی الیراذا ھم یشرکون لیکفرو بما اتینھ ولیتمعوا وفف یعلمون (65۔ 66) یعنی دنیا کے ان سرمستوں کی مثال کشتی کے مسافروں کی ہے۔ جب کشی سازگار ہوا کے ساتھ رواں دواں ہوتی ہے تو یہ اس میں اس طرح مگن ہوتے ہیں گویا ابرو ہوا سب انہی کے تابع فرمان ہیں لیکن جو نہی کشتی کسی طوفانی گرداب میں پھنسی ان کو خدا یاد آتا ہے اور اس وقت وہ اسے مخلصانہ اطاعت کا عہد کرتے ہوئے دعا کرتے لیکن جب کشتی گرداب میں سے نکل جاتی ہے تو وہ اپنی انہی سرمستیوں اور گمراہیوں میں پھر کھو جاتے ہیں جن میں پہلے کھوئے ہوئے تھے اور خدا سے کیا ہوا عہدان کو بالکل بھول جاتا ہے۔ فرمایا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

65-1مشرکین کے اس تناقض کو بھی قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان فرمایا گیا ہے۔ اس منافقت کو حضرت عکرمہ سمجھ گئے تھے جس کی وجہ سے انھیں قبول اسلام کی توفیق حاصل ہوگئی۔ ان کے متعلق آتا ہے کہ فتح مکہ کے بعد یہ مکہ سے فرار ہوگئے تاکہ نبی کی گرفت سے بچ جائیں۔ یہ حبشہ جانے کے لئے ایک کشتی میں بیٹھے، کشتی گرداب میں پھنس گئی، تو کشتی میں سوار لوگوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ پورے خلوص کے ساتھ رب سے دعائیں کرو، اس لئے کہ یہاں اس کے علاوہ کوئی نجات دینے والا نہیں۔ حضرت عکرمہ نے یہ سن کر کہا کہ اگر سمندر میں اس کے سوا کوئی نجات نہیں دے سکتا تو خشکی میں بھی اس کے سوا کوئی نجات نہیں دے سکتا۔ اسی وقت اللہ سے عہد…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

36: مشرکین عرب کا یہ عجیب طریقہ تھا کہ جب سمندر کی موجوں میں گھر کر موت نظر آنے لگتی تو اس وقت انہیں نہ کوئی بت یاد آتا تھا، نہ کوئی دیوی یا دیوتا۔ اس وقت وہ مدد کے لیے صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے تھے۔ لیکن جب ڈوبنے سے بچ کر کنارے پہنچ جاتے تو اللہ تعالیٰ کے بجائے پھر انہی بتوں کی عبادت شروع کردیتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فاذا رکبوا فی ۔۔۔۔ اذاھم یشرکون (29: 66) . یہ بھی ان کے عقائد کا بہت بڑا تضاد ہے۔ ان کے عقائد اس قدر ڈانواں ڈول ہوتے ہیں کہ جب کشتی پر وہ گہرے سمندر میں ہوتے ہیں اور یہ جہاز بحری امواج کے تلاطم میں ایک کھلونا بن جاتا ہے اور ان پر خوف طاری ہوتا ہے تو وہ اللہ کے سوا کسی کو نہیں پکارتے۔ اس وقت ان کو یہ ادراک ہوتا ہے کہ اصل قوت تو صرف اللہ ہی کی قوت ہے۔ پھر ان کی سوچ میں بھی اللہ وحدہ ہوتا ہے اور اس کی زبان پر بھی اللہ وحدہ کا نام ہوتا ہے۔ اب وہ اپنی اس فطرت کے تابع ہوتے ہیں جو وحدانیت کا شعور رکھتی ہے ۔ لیکن جب اللہ ان کو بچا کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو یہ لوگ اچانک پھر شرک کرنے لگتے ہیں اور وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 65–66

1 یعنی چاہیے تو یہ تھا کہ آدمی دنیا کے مزوں میں پڑ کر خدا کو اور آخرت کو فراموش نہ کرے۔ لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب کشتی طوفان میں گھر جائے تو بڑی عقیدت مندی سے اللہ کو پکارتے ہیں۔ پھر جہاں آفت سر سے ٹلی اور خشکی پر قدم رکھا، اللہ کے احسانوں سے مکر کر جھوٹے دیوتاؤں کو پکارنا شروع کردیا۔ گویا غرض یہ ہوئی کہ اللہ کی نعمتوں کا کفران کرتے رہیں اور دنیا کے مزے اڑاتے رہیں۔ خیر بہتر ہے چند روز دل کے ارمان نکال لیں، عنقریب پتہ لگ جائے گا کہ اس بغاوت و شرارت، احسان فراموشی اور ناسپاسی کا نتیجہ کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 65 فَاِذَا رَکِبُوْا فِی الْفُلْکِ دَعَوُا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ ج ” یہ مضمون قرآن میں کئی بار آچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 65–66

98 یعنی اس سے زیادہ ناشکری کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ ان کی ضروریات زندگی تو سب اللہ تعالیٰ مہیا کرے اور جب جان پر بن جائے تو اس مصیبت سے نجات بھی اللہ ہی دے۔ لیکن جب آسودہ حالی کا وقت آئے تو انسان نہ صرف یہ کہ اللہ کو بھول جائے۔ بلکہ اس کے اختیارات میں دوسروں کو بھی شریک بنانے لگے۔ اس آیت میں دور نبوی کے مشرکوں کا ذکر ہے جو کم از کم آڑے وقتوں میں تو اکیلے اللہ کو پکارتے تھے۔ مگر آج کا مشرک ان مشرکوں سے بازی لے گیا ہے۔ جو عقیدہ ہی یہ رکھتا ہے کہ اس کا بیر اس کے ہر کام اور اس کے سارے احوال سے واقف ہوتا ہے اور مشکل وقت میں اس سے فریاد کرنے پر فوراً وہ مدد کو پہنچ جاتا ہے۔ اور موت سامنے کھڑی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

85۔ مطلب یہ ہوگا کہ جہاں ظاہری سہارے ٹوٹے، بس خدائے واحد یاد آنے لگتا ہے، اور ادھر ذرا آس اپنے عادی سہاروں کی بناء پر قائم ہوئی پھر توحید چھوڑ اپنی پرانی گمراہیوں میں پڑگئے، یہ مضمون پہلے بھی کئی بار آچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 64–69

آیت نمبر 64 تا 69 ترجمہ : اور یہ دنیوی زندگی کھیل تماشہ کے سوا کچھ نہیں البتہ عبادت تو یہ امور آخرت میں ظاہر ہونگے اور اصل زندگی دار آخرت ہی کی ہے اگر یہ لوگ اس بات کو سمجھ لیتے تو دینوی زندگی کو آخرت پر ترجیح نہ دیتے پھر جب یہ لوگ کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو خالص اعتقاد کے ساتھ اللہ ہی سے دعا کرتے ہیں یعنی اس کے ساتھ غیر کو نہیں پکارتے اس لئے کہ وہ (اس وقت) ایک عظیم پریشانی میں (مبتلا) ہوتے ہیں اور اس پریشانی کو اس کے علاوہ کوئی دور نہیں کرسکتا پھر جب ان کو نجات دے کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو فوراً ہی اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے لگتے ہیں تاکہ ہماری دی ہوئی نعمت کی ناقدری کرتے رہیں اور یہ لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاذا رکبوا فی الفلک دعوا اللہ مخلصین لہ الذین . (وہ باوجود یہ کہ شرک کرتے ہیں اور اہل توحید سے عناد رکھتے ہیں لیکن) جب کشی میں سوار ہوتے ہیں (اور ڈوبنے کا خطرہ ہوجاتا ہے) تو اللہ کو پکارتے ہیں خلوص کے ساتھ اس کی اطاعت کرتے ہوئے۔ یعنی جیسے مؤمن خالص طور پر اللہ کی ہی اطاعت کرتا ہے اور اللہ کے سوا کسی کو نہیں پکارتا اسی طرح مشرک بھی ڈوبنے کے خطرہ کے وقت صرف اللہ ہی کو پکارتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی اس مصیبت سے ان کو نہیں بچا سکتا ‘ اس وقت عبادت و اطاعت صرف اللہ کی کرتے ہیں۔ فلما نجنھم الی البر اذا ھم یشرکون . لیکن جب اللہ ان کو مصیبت سے بچا کر خشکی تک لے جاتا ہے تو پھر وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

جب کفار مکہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خالص اعتقاد کر کے نجات کی اللہ تعالیٰ ہی سے دعا کرنے لگتے ہیں پھر جب ان کو سمندر سے نجات دے کر اللہ تعالیٰ خشی کی طرف لے آتے ہیں تو فورا بتوں کو اس کے ساتھ شریک کرنے لگتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَاِذَا رَكِبُوْا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ۔۔ : اس سے پہلی آیات میں مشرکین مکہ پر ان کے اعتراف کے ساتھ حجت قائم کی تھی کہ آسمان و زمین کا خالق، سورج و چاند کو مسخر کرنے والا اور آسمان سے پانی برساکر مردہ زمین کو زندہ کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے، یعنی یہ مان کر پھر اس کے ساتھ شریک بنانے کا کیا جواز ہے ؟ اس آیت میں ان پر اس بات کے ساتھ حجت قائم کی ہے کہ سمندری سفر میں جب ان کے بحری جہاز طوفان کی لپیٹ میں آتے ہیں تو وہ اپنی فطرت میں چھپی ہوئی توحید کے ہاتھوں مجبور ہو کر اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی بندگی خالص کرتے ہوئے اس اکیلے ہی کو پکارتے ہیں۔ پھر جب اللہ تعالیٰ انھیں طوفان سے بچا کر خشکی پر لے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 63–66

یعنی بادل سے بارش، اس کو خش سالی اور اس کے اہل کے قحط میں مبتلا ہونے کے بعد۔ یعنی جب تم نے اس کا اقرار کرلیا تو تم اس کے ساتھ کیوں شرک کرتے ہو اور دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کرتے ہو جب وہ اس پر قادر ہے تو مومنوں کو غنی کرنے پر بھی قادر ہے تو تاکید کے لئے اسے مکرر ذکر کیا۔ یعنی اس کی قدرت پر جو دلائل اور براہین واضح کئے گئے اس پر الحمداللہ لیکن اکثر ان دلائل میں تدبر نہیں کرتے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے اقرار کیا اس پر الحمداللہ : ایک قول یہ کیا گیا ہے : پانی کے نازل کرنے اور زمین کو زندہ کرنے پر الحمداللہ۔ یعنی دنیاوی زندگی ایسی چیز ہے جس کے ساتھ لہو و لعب کیا جاتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 64–66

1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آتی وان الدار الاٰخرۃ لہی الحیوان، سے مراد ہے کہ آخرت کا گھر ہی باق رہنے والا ہے۔ 2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا آیت لہی الحیوان سے مراد ہے دائمی زندگی۔ 3۔ ابن ابی الدنیا والبیہقی فی شعب الایمان ابو جعفر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرما کیا بہت زیادہ تعجب اس آدمی پر جو تصدیق کرنے والا ہے دائمی زندگی کے گھر کی کہ جب وہ کوشش کرتا ہے دھوکے والے گھر یعنی دنیا کے لیے۔ 4۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولیتمتعوا فسوف یعلمون یعنی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاِذَا [پھر جب کبھی ] رَكِبُوْا [وہ لوگ سوار ہوتے ہیں ] فِي الْفُلْكِ [کشتی میں ] دَعَوُا [تو پکارتے ہیں ] اللّٰهَ [اللہ کو ] مُخْلِصِيْنَ [خالص کرنے والے ہوتے ہوئے ] لَهُ [اس کے لئے ] الدِّيْنَ ڬ [دین (عقیدہ) کو ] فَلَمَّا [پھر جب ] نَجّٰىهُمْ [وہ نجات دیتا ہے ان کو ] اِلَى الْبَرِّ [خشکی کی طرف ] اِذَا هُمْ [تب ہی وہ لوگ ] يُشْرِكُوْنَ : وہ سب شریک بناتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مشرکین کی ناشکری اور ناسپاسی جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ آڑے وقت میں تمام باطل معبودوں کی طرف سے ذہن ہٹا لیتے ہیں اور خالص اعتقاد کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ ہی سے مصیبت دفع کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ یہاں بطور مثال ان کی حالت بیان فرمائی ہے اور وہ یہ کہ جب کشتی میں سوار ہوں اور تیز ہوا چلنے لگے جس سے کشتی ڈگمگانے لگے اور ڈوبنے کا خطرہ لاحق ہوجائے تو صرف اللہ ہی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور یوں کہتے ہیں کہ : (لَءِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ ھٰذِہٖ لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیْنَ ) (اگر آپ نے ہمیں اس سے نجات دے دی تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے) جب مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 64–69

دار دنیا کی حقارت اور دار آخرت کی فضیلت قال اللہ تعالیٰ وما ھذہ الحیوۃ الدنیا۔۔۔ الی۔۔۔ وان اللہ لمع المحسنین۔ گزشتہ آیت میں یہ فرمایا بل اکثرہم لا یعقلون یعنی اکثر لوگ عقل سے کام نہیں لیتے دنیا کی ظاہری آرائش پر مفتون ہیں اگر عقل سے کام لیں تو سمجھ جائیں کہ دنیا کا تمام کارخانہ فنا اور زوال اور ضعف اور اضمحلال پر مبنی ہے تو جان لیں کہ یہ دنیا بالکل بےحقیقت ہے اور سرائے فانی ہے جس سے ایک دن کوچ قطع ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور نہیں ہے یہ دنیاوی زندگانی جس پر یہ بےعقل فریفتہ ہیں مگر طفلان بےشعور کے دل بہلانے کا ایک مشغلہ جیسے بچے لاٹھی کو گھوڑا بنا کر اس پر سوار ہوجاتے ہیں اس کو بازی طفلاں کہتے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

54:۔ یہ زجر ہے۔ مشرکین جب کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں اس وقت اگر ان کی کشتیاں گرداب میں پھنس جائیں یا طوفانِ باد میں گھر جائیں تو وہ ہر طرف سے مایوس ہو کر خالص اللہ تعالیٰ ہی کو مدد کے لیے پکارتے ہیں اور اپنے مزعومہ مددگاروں اور خود ساختہ کارسازوں کو بھول جاتے ہیں۔ مشرکینحضور ﷺ سے سنا کرتے تھے کہ اگر شرک چھوڑ کر توحید پر ایمان نہ لاؤ گے تو اللہ کا عذاب آئے گا۔ اس لیے جب وہ کشتیوں کو خطرے میں دیکھتے تو خیال کرتے شاید وہ عذاب آگیا ہے جس سے محمد ﷺ ہمیں ڈراتا تھا۔ اس لیے خالص اللہ کو پکارنے لگتے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ ان کی کشتیوں کو صحیح سلامت کنارے لگا دیتا ہے تو خشکی پر اتر کر وہ پھر شرک کرنے لگتے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 64–66

ربطہ آیات ابتلا اور آزمائش کے ذکر اور اس کی مثالیں بیان کرنے کے بعد اللہ نے کافروں اور مشرکوں کا شکوہ بیان کیا کہ واضح دلائل کی موجودگی میں ان کا توحید سے انکار اور کفر و شرک پر اصرار بڑی زیادتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تمام جانداروں کے متعلق فرمایا کہ سب کا روزی رساں وہی ہے۔ پھر ارض و سماء کی تخلیق اور شمس و قمر کی تسخیر کے متعلق فرمایا کہ یہ سب کچھ اسی کے اختیار میں ہے۔ یہ چیزیں تو محض اسباب ہیں وگرنہ حقیقی روزی رساں تو اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ اپنی حکمت اور مصلحت کے مطابق کسی کی روزی کشادہ کردیتا ہے اور کسی کی تنگ کردیتا ہے۔ پھر اللہ نے بارش کے نزول کی طرف توجہ دلائی کہ آسمان کی طرف سے پانی برسا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاِذَا رَكِبُوْا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللہَ مُخْلِصِيْنَ لَہُ الدِّيْنَ۝ 0ۥۚ فَلَمَّا نَجّٰىہُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا ہُمْ يُشْرِكُوْنَ۝ 65ۙ ركب الرُّكُوبُ في الأصل : كون الإنسان علی ظهر حيوان، وقد يستعمل في السّفينة، والرَّاكِبُ اختصّ في التّعارف بممتطي البعیر، وجمعه رَكْبٌ ، ورُكْبَانٌ ، ورُكُوبٌ ، واختصّ الرِّكَابُ بالمرکوب، قال تعالی: وَالْخَيْلَ وَالْبِغالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوها وَزِينَةً [ النحل/ 8] ، فَإِذا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ ) رک ب ) الرکوب کے اصل معنی حیوان کی پیٹھ پر سوار ہونے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ لِتَرْكَبُوها وَزِينَةً [ النحل/ 8] تاکہ ان سے سواری کا کام لو اور (…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 65–68

ترکیب : اذا رکبوا شرط دعوا جواب۔ مخلصین کا الدین مفعول اور فاعل اس کا ضمیر۔ یہ جملہ حال ہے، فاعل دعوا سے حرمًا موصوف امنا اھلہ من القتل او السبیّ صفت مجموعہ جعلنا کا مفعول ثانی اول بلدھم محذوف اور کل جملہ لم یروا کا مفعول۔ ویتخطف الخ جملہ حال مفعول جعلنا سے یا مستانفہ الخطف ربودن لے جانا۔ تفسیر : فاذا رکبوا فی الفلک یہاں پھر اس حیات دنیا کے ایک بڑے اثر کو بیان فرماتا ہے کہ جب یہ مشرکین جو حیات دنیا میں محو ہورہے ہیں، کشتی پر سوار ہو کر دریا کا سفر کرتے ہیں اور وہاں پہاڑ جیسی دریا کی موجیں اٹھتی اور کشتی کو تہ وبالا کرتی ہیں تو اس حیات دنیا کا نشہ اتر جاتا ہے اور موت سامنے دکھائی دیتی ہے، ان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 65–66

فَاِذَا رَکِبُوْا فِی الْفُلْکِ دَعَوُا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَـہُ الدِّیْنَ 5 ج فَلَمَّا نَجّٰہُمْ اِلٰی الْبَرِّ اِذَا ھُمْ یُشْرِکُوْنَ ۔ لِیَکْفُرُوْا بِمَآ اٰ تَیْنٰـھُمْ ج لا وَلِیَتَمَتَّعُوْا وقفۃ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (العنکبوت : 66) (اور جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے اسی سے دعا مانگتے ہیں، پس جب وہ ان کو خشکی کی طرف نجات دے دیتا ہے تو پھر وہ اس کے شریک ٹھہرانے لگتے ہیں۔ تاکہ اللہ کی دی ہوئی نجات پر اس کی ناشکری کریں اور چند دن اور بہرہ مند ہولیں، پس وہ عنقریب جان لیں گے۔ ) دنیا کے سرمستوں کی ایک مثال گزشتہ آیت کریمہ میں کفار کی گمراہی کا اصل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 65–66

فہم القرآن ربط کلام : مشرکوں کا مشکل وقت پر ” اللہ “ کی ذات کا اقرار کرنا، اور صرف اسے پکارنا۔ موحّد اور مشرک کے عقیدہ کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ موحّد ہر حال میں ایک ” اللہ “ کو پکارتا ہے اور مشرک صرف مصیبت کے وقت ایک ” اللہ “ کو پکارتا ہے یہی حال مشرکین مکہ کا تھا وہ عام حالات میں صرف ایک ” اللہ “ کو پکارنے کی بجائے دوسروں کو بھی شامل کرتے اور انہیں پکارتے تھے، حالانکہ قرآن مجید نے بار بار اس بات سے منع کیا ہے کہ نہ ” اللہ “ کے سوا کسی کو پکارا جائے اور نہ اس کے ساتھ کسی کو پکارا جائے، لیکن نہ مکہ کے مشرک اس بات سے رکتے تھے اور نہ آج کے مشرک اس سے باز آتے ہیں، حالانکہ ہر دور میں مشرک کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

65: فَاِذَا رَکِبُوْا فِی الْفُلْکِ (اور جب وہ کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں) ۔ یہ اس محذوف سے متصل ہے۔ جس پر ان کے بیان کردہ حالات اور معاملات دلالت کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے۔ ان کے متعلق جیسا کہ بتلایا گیا کہ وہ مشرک اور معاند ہیں۔ پھر جب وہ کشتیوں پر سفر کرتے ہیں۔ دَعَوُا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ (وہ اللہ تعالیٰ کو خالص مخلص ہو کر پکارتے ہیں) ۔ ان کی حالت اس مومن شخص جیسی ہوجاتی ہے۔ جو خالص اللہ تعالیٰ کو پکارنے والا ہو اس طرح کہ وہ غیر اللہ کا مطلقاً تذکرہ بھی نہیں کرتے اور نہ اس کے ساتھ کسی اور معبود کو پکارتے ہیں۔ فَلَمَّا نَجّٰہُمْ اِلَی الْبَرِّ (پس جب اللہ تعالیٰ ان کو خشکی کی طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

65۔ فاذارکبوا فی الفلک۔۔ اور ان کو غرق ہونے کا خوف لاحق ہوتا ہے۔ دعواللہ مخلصین لہ الدین، ، اور بتوں کو چھوڑ دیتے ہیں ، فلما نجاھم الی البر اذاھم یشرکون، ان کے عناد کی خبر دے رہے ہیں کہ وہ سختیوں کے وقت اس کا اقرار کرلیتے ہیں کہ ہمیں اس مشکل سے دور کرنے والا اللہ قادر مطلق ہے۔ جب ان سے وہ مشکل دور ہوجاتی ہیں تو وہ دوبارہ کفر کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ عکرمہ کا بیان ہے کہ دور جاہلیت والے جب سمندر میں سفر کرتے تھے تو اپنے بتوں کو ساتھ رکھتے تھے لیکن جب ہوا میں طوفان آتا تھا توبتوں کو سمندر میں پھینک دیتے تھے اور پکارتے تھے اے رب اے رب مطلب یہ کہ سخت مصائب کے وقت توخالص طور پر دل سے اللہ کے اطاعت گزار…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 61–69

61 تا 69۔ اللہ تعالیٰ ان آیتوں میں اپنا معبود ہونا بیان فرماتا ہے کہ اس کے سوائے کوئی لائق بندگی کے نہیں ہے کس واسطے کہ مشرک لوگ اگرچہ خدا کے سوا اوروں کو بھی پوجتے ہیں لیکن آسمان و زمین چاند سورج رات دن کا پیدا کرنے والا خدا ہی کو جانتے ہیں اور اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ بندوں کا روزی دینے والا اور مارنے والا بھی وہی اللہ ہے اور وہی کسی کو امیر اور کسی کو فقیر جیسا مناسب دیکھتا ہے اور جس کا جس کا مستحق جانتا ہے ویسا ہی کرتا ہے وہی سب کا خالق ہے یہ سب کچھ کہہ کر پھر بتوں کو اپنا معبود جانتے ہیں کی زندگی پر رکھا تھا اس لیے آگے کی آیت میں اللہ تعالیٰ دنیا کی حقارت اور آخرت کی تعریف بیان فرماتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 64–69

آیت نمبر : 64-68 اللہ تبارک و تعالیٰ دنیا و آخرت کے احوال کی خبر دیتا ہے اور اس ضمن میں دنیا سے بےرغبتی رکھنے کی ترغیب اور آخرت کا شوق پیدا کرتا ہے ‘ اس لیے فرمایا : (وما ھذہ الحیوۃ الدنیآ) ” اور نہیں ہے یہ دنیا کی زندگی “ یعنی اس دنیاوی زندگی کی حقیقت (الا لھو و لعب) ” مگر کھیل کود۔ “ جس کی بنا پر دل غافل اور بدن کھیل میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو زیب وزینت اور ان لذات و شہوات سے لبریز کردیا ہے جو دلوں کو کھینچ لیتی ہیں ‘ آنکھوں کو خوبصورت نظر آتی ہیں اور نفوس باطلہ کو فرحت عطا کرتی ہیں۔ پھر دنیا کی یہ زینت و زیبائش جلد ہی زائل ہو کر ختم ہوجائے گی اور اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–69

قول باری ہے : (ولا تجادلوا اھل الکتاب الا بالتیھی احسن۔ اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقے سے) قتادہ کا قول ہے کہ یہ آیت قول باری (وقاتلوا المشرکین اور مشرکین سے قتال کرو) کی بنا پر منسوخ ہوچکی ہے۔ کوئی بحث تلوار کے استعمال سے بڑھ کر نہیں ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قتادہ کی مراد یہ ہے کہ آیت، زیر بحث کا حکم قتال کے حکم سے پہلے کا ہے۔ قول باری ہے : (الا الذین ظلموا منھم ۔ سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں) ۔ یعنی۔ واللہ اعلم۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے بحث وجدال وغیرہ میں تمہارے ساتھ ظلم کیا ہو جو اس امر کا مقتضی ہو کہ تم ان کے ساتھ سخت رویہ رکھو۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 42–69

58 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اس کے احاطہ علم کے اعتبار سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ پوری طرح جانتا ہے ان سب چیزوں کو جن کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں اللہ کے سوا "۔ تعمیم ملاحظہ ہو کہ اول تو { شیئ } خود نکرہ ہے جو ہر چیز کو شامل ہے۔ پھر اس پر { من } استغراقیہ سے مزید تاکید۔ یعنی کوئی بھی چیز خواہ کوئی فرشتہ ہو یا انسان، شجر ہو یا حجر، بت ہو یا جن وغیرہ وغیرہ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ مافوق الاسباب کسی کو بھی پکارنا شرک ہے جو کہ سب سے بڑا گناہ اور ناقابل معافی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اب وہ لوگ دیکھ لیں جو اس وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر اس کی عاجز مخلوق کو پکارتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے " یا رسول…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 64–69

اعمال دنیا اور اس کا انجام تشریح : ” ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زندگی کو کھیل اور تماشہ اور اخروی زندگی کو ہمیشہ کی زندگی قرار دیا ہے۔ پھر مشرکین مکہ کا عقیدہ بیان کیا کہ وہ کشتی میں تو خالص اللہ کو پکارتے مگر باہر آکر اللہ کے ساتھ شریک ٹہراتے۔ آج کے نام نہاد مسلمان مشرکین مکہ سے بھی گئے گزرے ہیں کہ ایسی جگہ پر بھی غیر اللہ کو پکارتے ہیں مثلا ً معین الدین چشتی پار لگا دو میری کشتی، یا بہاو الحق، بیڑادھک وغیرہ انسان مصیبت میں تو اللہ کو پکارتا ہے مگر راحت میں شکر نہیں کرتا اور غفلت میں پڑ کر قیمتی عمر دنیا کی عزت ‘ راحت ‘ آسائش اور دنیوی کامیابی کے حصول میں ضائع کردیتا ہے۔ جب کہ معلوم…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 64–69

آیات 64 تا 69 اسرارومعارف دنیا کے لیے بعض اوقات کافر کی دعا بھی قبول ہوتی ہے : یہ جس دنیا کے لالچ میں گرفتار ہیں یہ تو محض لہو و لعب اور کھیل تماشا ہے جس میں مصروف ہونا محض وقت ضائع کرنے والی بات ہے زندگی تو آخرت کا گھر ہے کہ جسے دنیا میں رہ کر حاصل کرنا مقصد حیات ہے۔ کاش انہیں اس بات کی سمجھ ہوتی ورنہ تو جب کبھی ان پر بڑی افتاد پڑتی ہے جیسے سفر میں ان کی کشتی طوفان میں گھر جائے تو صرف اللہ ہی کو پورے خلوص اور دل کی گہرائی سے پکارتے ہیں اور جب اللہ انہیں نجات دے دیتا اور اس مصیبت سے بچا دیتا ہے کہ دنیا کے لیے تو کبھی کافر کی دعا بھی قبول ہوتی ہے اگر وہ خلوص سے مانگ رہا ہو ہاں آخرت میں اس کی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

11 ۔ وہاں سب بتوں کو بھول جاتے ہیں کیونکہ دل میں سمجھتے ہیں کہ اس آفت سے بچانے والا اللہ کے سوا کوئی نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(29:65) رکبوا۔ ماضی بمعنی حال جمع مذکر غائب۔ وہ سوار ہوتے ہیں۔ دعوا ماضی بمعنی حال جمع مذکر غائب۔ دعوا اصل میں دعو وا تھا۔ واؤ متحرک ماقبل مفتوح اس لئے واؤ کو الف سے بدلا۔ الف اور واؤ دو ساکن جمع ہوگئے الف کو حذف کرلیا گیا دعوا رہ گیا۔ وہ پکارتے ہیں وہ دعا کرتے ہیں۔ دعا یدعوا دعاء (باب نصر) د ع و مادہ۔ مخلصین لہ الدین۔ یہ جملہ حال ہے۔ مضاف مضاف الیہ۔ دین کو خالص کرنے والے ۔ الدین بمعنی اطاعت۔ شریعت۔ ملت۔ وان یدین (ضرب) کا مصدر۔ مخلصین اسم فاعل جمع مذکر۔ مخلص واحد۔ اخلاص کے لغوی معنی کسی چیز کو ہر ممکن ملاوٹ سے پاک و صاف کرنا۔ یہ خلوص کا متعدی ہے جس کے معنی آمیزش سے صاف و خالی ہونا کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 65–69

لغات القرآن آیت نمبر (65 تا 69) ۔ رکبوا (وہ سوار ہوئے) ۔ الفلک (کشتی۔ جہاز) ۔ مخلصین (خالص کرنے والے) ۔ البر (خشکی) ۔ حرم (حرم۔ قابل احترام) ۔ یتخطف (وہ اچک لے گا) ۔ نھدین (ہم ضرور ہدایت دیں گے) ۔ المحسنین (نیک کام کرنے والے۔ نیکو کار) ۔ تشریح : آیت نمبر (65 تا 69 ) ۔ ” اللہ نے کفر و شرک کرنے والوں سے سوال کیا ہے کہ جب تم کسی جہاز یا کشتی پر سوار ہوتے ہو اور تمہاری کشتی کسی طوفان میں پھنس جاتی ہے جہاں سے زندہ نکلنا دشوار اور مشکل نظر آتا ہے تو اس وقت تم کس سے گڑگڑا کر اپنی زندگی کی بھیک مانگتے ہو ؟ فرمایا اس وقت صرف ایک اللہ کی ذات کو پکارا جاتا ہے لیکن جب تم اس طوفان سے نجات پا لیتے ہو اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 65–69

شاہ روم کا قصہ۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جب یہ مشرکین جو حیات دنیا میں محو ہورہے ہیں کشتی پر سوار ہوکردریا کا سفر کرتے ہیں اور دریا کی موجیں جب کشتی کو تہ وبالا کرتی ہیں اور موت سامنے دکھائی دیتی ہے تب ان کی فطری حالت عود کر آتی ہے تو پھر خاص اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں جیسے کبھی شرک کی ہوا بھی نہ دکھائی تھی ، پھر جب وہ ان کو خشکی میں بچالاتا ہے اور وہ بےخوف ہوجاتے ہیں تو اس وقت بتوں کو اللہ کا شریک ٹھہرانے لگتے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ ہم نے جو نعمت ان کو عطا کی ہے اس کی ناشکری کرتے ہیں اور ان کا مقصد اس سے یہ ہوتا ہے کہ ہم دنیا میں شاد مراد رہیں گے دنیا کو برتیں، اس ناشکری کی سزا دی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 65–67

[30] مکہ کے لوگ اللہ کے گھر کے طفیل دشمنوں سے پناہ میں تھے حالانکہ سارے عرب میں فساد اور کشت و خون کا بازار گرم تھا۔ کیا کسی دیوی یا دیوتا کو یہ قدرت تھی کہ عرب کے انتہائی بدامنی کے ماحول میں مکہ کے لوگوں کو فتنہ و فساد سے محفوظ رکھتا ؟ یہ لوگ بتوں کے جھوٹے احسان مانتے ہیں اور اللہ کا سچا احسان نہیں مانتے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 64–65

حل لغات :۔ لھو ۔ کے معنی اصل میں برگشتہ کرنے کے ہیں یعنی دنیا ایسا مقام ہے جس کے مشاغل عقبی کی فکر سے انسان کو برگشتہ کردیتے ہیں اور ان عارضی دلچسپیوں میں پڑ کر انسان کچھ اس قدر کھو جاتا ہے کہ دنیا کا جاودانی پہلو اس کی نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے لعبا ۔ سے مراد یہ ہے کہ یہ دنیا ایسی چیز نہیں جسے آپ غیر ضروری وقعت دیں اور اسے بہت اہم سمجھیں اصل زندگی کے مقابلے میں اور زندگی کی حقیقی تگ و دو کے مقابلہ میں اس کی حیثیت ایسی ہی ہے جیسے کھیل کود کی یعنی دنیا کی دلچسپیاں محض اس لئے ہیں کہ ان کی روحانی زندگی کی جانغسل مساعی کو جاری رکھنے کے لئے مدد مل سکے ! اور نفس کو تھوڑی سی آسودگی حاصل ہوجائے اور بس

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

65۔ آگے پھر توحید کا اثبات ہے ، ارشاد ہوتا ہے پھر جب یہ لوگ کسی کشتی میں سوار ہوجاتے ہیں تو خالص اللہ تعالیٰ پر ہی اعتقاد رکھ کر اس کو پکارتے ہیں اور اسی پر خالص نیت رکھ کر اس کو پکارنے لگتے ہیں ، پھر جب اللہ تعالیٰ ان کو نجات دیکر خشکی پر لے آتا ہے اور دریا سے جنگل میں پہنچا دیتا ہے تب ہی وہ شرک کرنے لگتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 64–66

ف 4۔ کہ فانی میں منہمک ہو کر جاتی کو بھلا دیتے ہیں، اور اس کے لئے سامان نہ کرتے بلکہ یہ لوگ دلائل میں غور کرتے اور ایمان لے آتے جیسا کہ مقتضا ان کے اقرار توحید فی التکوین والا بقاء کا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب کشتی میں سوار ہو کر ہوا کا تھپیڑا کھاتے ہیں تو خالص اللہ کو یاد کرتے ہیں : 65۔ مشرک اس وقت کے ہوں یا اس وقت کے ‘ ان کی عادات ثانیہ میں یہ داخل ہے کہ جب بھی کہیں پھنس جاتے ہیں مثلا یوں سمجھو کہ کشتی میں سوار ہوئے اور کشتی عین سمندر کے درمیان جا کر کسی لہر کے دباؤ میں آگئی اور لگی ہچکولے کھانے تو اس وقت خالصتا اللہ کو پکارنے لگے کہ اے اللہ ! اے روز جزا کے مالک حقیقی ہم کو اس مصیبت سے بچا لے اور اب وہ کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کا نام نہیں لیتے ہاں ! بلاشبہ اس وقت کے مشرک ایسے وقت میں کسی غیر اللہ کا نام نہیں لیتے ہوں گے لیکن اس وقت کے مشرکوں کی یہ بات نہیں ۔ فرمایا پھر جب اللہ تعالیٰ ان کو اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–67

أَوَلَمْ يَرَ‌وْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَ‌مًا آمِنًا (Did they not see that We have made a peaceful sanctuary حَرَم[ haram ] - 67). In the preceding verses it was described that the deeds and actions of the infidels were foolish and irrational. On the one hand, they accept Allah as the sole Creator and master of everything, and on the other they associate their self-chiseled idols with Him. Then, it is not that they just believe Him to be the sole Creator of everything, but they know well that it is only He who brings them out safely from all types of calamities. But after achieving…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–66

104 For explanation, see E.N.'s 29 and 41 of Surah Al-An`am; E.N.'s 29 and 31 of Surah Yunus and E.N. 84 of Surah Bani Isra'il.

Read the full tafseer →