Al-Ankaboot 29:64

Al-Ankaboot · from ayah 64

29:64

وَمَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّلَعِبٌ ؕ— وَاِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُ ۘ— لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ ۟وَمَا هٰذِهِ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَاۤ اِلَّا لَهۡوٌ وَّلَعِبٌ‌ؕ وَاِنَّ الدَّارَ الۡاٰخِرَةَ لَهِىَ الۡحَـيَوَانُ‌ۘ لَوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ‏

اور یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشہ ہے اور (ہمیشہ کی) زندگی (کا مقام) تو آخرت کا گھر ہے۔ کاش یہ (لوگ) سمجھتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And this worldly life is not but diversion and amusement. And indeed, the home of the Hereafter - that is the [eternal] life, if only they knew.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 7 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ankaboot

All translations of 29:64

اور یہ دنیا کی زندگی کچھ نہیں ہے مگر ایک کھیل اور دل کا بہلاوا اصل زندگی کا گھر تو دار آخرت ہے، کاش یہ لوگ جانتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشہ ہے اور (ہمیشہ کی) زندگی (کا مقام) تو آخرت کا گھر ہے۔ کاش یہ (لوگ) سمجھتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور دنیا کی یہ زندگانی تو محض کھیل تماشا ہے البتہ آخرت کے گھر کی زندگی ہی حقیقی زندگی ہے، کاش! یہ جانتے ہوتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ دنیوی زندگی کھیل کود کے سوا کچھ بھی نہیں اور حقیقت یہ ہے کہ دار آخرت ہی اصل زندگی ہے، اگر یہ لوگ جانتے ہوتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کود اور بیشک آخرت کا گھر ضرور وہی سچی زندگی ہے کیا اچھا تھا اگر جانتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (اے لوگو!) یہ دنیا کی زندگی کھیل اور تماشے کے سوا کچھ نہیں ہے، اور حقیقت میں آخرت کا گھر ہی (صحیح) زندگی ہے۔ کاش! وہ لوگ (یہ راز) جانتے ہوتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور دنیا کی یہ زندگی نہیں ہے مگر ایک دل لگی اور کھیل، اور بیشک آخری گھر، یقینا وہی اصل زندگی ہے، اگر وہ جانتے ہوتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ دنیا کی زندگی ایک کھیل تماشے کے سوا کچھ نہیں۔ اصل زندگی تو آخرت کا گھر ہے۔ کاش ! وہ لوگ یہ بات جانتے ہوتے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یہ دنیا کی زندگی تو بس لہو و لعب ہے۔ اور دار آخرت ہی ہے جو اصل زندگی کی جگہ ہے اگر وہ اس کو جانتے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اس دنیا کی زندگی کی حقیقت تو ایک تماشا اور کھیل کے سوا کچھ نہیں اور یہ ایک قطعی حقیقت ہے کہ آخرت کا جو گھر ہے وہی حقیقی زندگی ہے کاش کہ یہ لوگ جان لیتے

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ دنیوی زندگی بجز کھیل تماشہ کے کچھ ہے ہی نہیں۔ اور عالم اخرت ہی اصل زندگی ہے۔ کاش انہیں (اس کا) علم ہوتا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یہ دنیا کی زندگی تو کھیل اور تماشے کے سوا کچھ نہیں اور آخرت کا گھر ہی یقیناً اصل زندگی ہے۔ کاش کہ انہیں معلوم ہوتا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشہ ہے اور ہمیشہ کی زندگی کا مقام تو آخرت کا گھر ہے ‘ کاش یہ لوگ سمجھتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The present life is nothing but sport and amusement. The true life is in the Abode of the Hereafter; if only they knew.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

This worldly life is nothing but an amusement and play, and the Last Abode is the real life indeed. Only if they know!

— Muhammad Taqi Usmani

This worldly life is nothing but an amusement and play, and the Last Abode is the real life indeed. Only if they know!

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And this life of the world is only an amusement and a play! Verily, the home of the Hereafter -- that is the life indeed, if they but knew.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

This life of the world is but a pastime and a game. Lo! the home of the Hereafter - that is Life, if they but knew.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And this worldly life is not but diversion and amusement. And indeed, the home of the Hereafter - that is the [eternal] life, if only they knew.

— Saheeh International

The worldly life is not more than a childish game. It is the life hereafter which will be the real life, if only they knew it.

— Muhammad Sarwar

And this life of the world is nothing but a sport and a play; and as for the next abode, that most surely is the life-- did they but know!

— Muhammad Habib Shakir

And this life of the world is but: sport and play. Verily the home of the Hereafter--that is life indeed, if they but knew!

— Abdul Majid Daryabadi

What is the life of this world but amusement and play? but verily the Home in the Hereafter,- that is life indeed, if they but knew.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 29:64

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 64–66

جب عکرمہ طوفان میں گھر گئے دنیا کی حقارت وذلت اس کے زوال وفنا کا ذکر ہو رہا ہے کہ اسے کوئی دوام نہیں اس کا کوئی ثبات نہیں یہ تو صرف لہو ولعب ہے۔ البتہ دار آخرت کی زندگی دوام وبقا کی زندگی ہے وہ زوال وفنا سے قلت وذلت سے دور ہے۔ اگر انہیں علم ہوتا تو اس بقا والی چیز پر اس فانی چیز کو ترجیح نہ دیتے۔ پھر فرمایا کہ مشرکین بےکسی اور بےبسی کے وقت تو اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ کو ہی پکارنے لگتے ہیں۔ پھر مصیبت کے ہٹ جانے اور مشکل کے ٹل جانے کے بعد اس کے ساتھ دوسروں کا نام کیوں لیتے ہیں ؟ جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ ۚ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 64–65

سورة العنکبوت 102 یعنی اس کی حقیقت بس اتنی ہی ہے جیسے بچے تھوڑی دیر کے لیے کھیل کود لیں اور پھر اپنے اپنے گھر کو سدھاریں۔ یہاں جو بادشاہ بن گیا ہے وہ حقیقت میں بادشاہ نہیں بن گیا ہے بلکہ صرف بادشاہی کا ڈراما کر رہا ہے۔ ایک وقت آتا ہے جب اس کا یہ کھیل ختم ہوجاتا ہے اور اسی بےسروسامانی کے ساتھ وہ تخت شاہی سے رخصت ہوتا ہے جس کے ساتھ وہ اس دنیا میں آیا تھا۔ اسی طرح زندگی کی کوئی شکل بھی یہاں مستقل اور پائیدار نہیں ہے، جو جس حال میں بھی ہے عارضی طور پر ایک محدود مدت کے لیے ہے، اس چند روزہ زندگی کی کامرانیوں پر جو لوگ مرے مٹتے ہیں اور انہی کے لیے ضمیر و ایمان کی بازی لگا کر کچھ عیش و عشرت کا سامان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 64–66

خلاصہ تفسیر اور (وجہ ان کے غور نہ کرنے کی انہماک ہے مشاغل دنیا میں حالانکہ) یہ دنیوی زندگی (جس کے یہ تمام تر اشغال ہیں فی نفسہ) بجز لہو و لعب کے اور کچھ بھی نہیں اور اصل زندگی عالم آخرت (کی) ہے (چنانچہ دنیا کے فانی ہونے اور آخرت کے باقی ہونے سے یہ دونوں مضمون ظاہر ہیں پس فانی میں اس قدر انہماک کہ باقی کو بھول میں ڈال کر اس سے محروم ہوجائے خود یہ بےعقلی کی بات ہے) اگر ان کو اس کا (کافی) علم ہوتا تو ایسا نہ کرتے (کہ فانی میں منہمک ہو کر باقی کو بھلا دیتے اور اس کے لئے سامان نہ کرتے بلکہ یہ لوگ دلائل میں غور کرتے۔ اور ایمان لے آتے جیسا کہ خود ان کو یہ تسلیم ہے کہ تخلیق کائنات اور اس کے باقی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وما ھذہ الحیوۃ الدنیا الا لھو و لعب ط وان الدارا الاخرہ لھی الحیوان، لو کانو یعلمون (64) یہ ان کی ساری گمراہی کے اصل سبب کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اس دنیائے فانی کی دلفریبیوں نے ان کو اس طرح گرودیدہ کرلیا ہے کہ وہ اس کے مفادات سے بالاتر ہو کر کسی چیز کو سوچ ہی نہیں سکتے۔ حالانکہ یہ دنیا جس پر یہ ریجھے ہوئے ہیں اور جس کے عشق نے ان کی عقل اور ان کے دل کی ہر چیز کو ماؤف کردیا ہے اس کی حقیقت چند روزہ لہو و لہب سے زیادہ کچھ بھی نہیں، اصلی زندگی دار آخرت کی زندگی ہے لیکن اس کی طرف سے ان کی آنکھیں بند ہیں۔ دنیا کی زندگی قدروقیمت رکھنے والی چیز اس صورت میں بنتی ہے جب آخرت کو نصب العین بنا کر گزری…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

64-1یعنی جس دنیا نے انھیں آخرت سے اندھا اور اس کے لیے توشہ جمع کرنے سے غافل رکھا ہے وہ ایک کھیل سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی، کافر دنیا کے کاروبار میں مشغول رہتا ہے، اس کے لیے شب وروز محنت کرتا ہے لیکن جب مرتا ہے تو خالی ہاتھ ہوتا ہے۔ جس طرح بچے سارا دن مٹی کے گھروندوں سے کھیلتے ہیں پھر خالی ہاتھ گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ سوائے تھکاوٹ کے انھیں کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔64-2اس لئے ایسے عمل صالح کرنے چاہئیں جن سے آخرت کا یہ گھر سنور جائے۔ 64-3کیونکہ اگر وہ یہ بات جان لیتے تو آخرت سے بےپرواہ ہو کر دنیا میں مگن نہ ہوتے۔ اس لئے ان کا علاج علم ہے، علم شریعت۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

35: یعنی جس طرح کھیل کود میں کچھ دیر تو مزہ آتا ہے، مگر وہ کوئی پائیدار چیز نہیں ہے، ذرا دیر گذرنے کے بعد سارا تماشا ختم ہوجاتا ہے، اسی طرح دنیا کی لذتیں بھی ناپائیدار ہیں، اور کچھ ہی عرصے میں سب ختم ہوجائیں گی۔ اس کے برخلاف آخرت کی زندگی ہمیشہ کے لیے ہے، اس لیے اس کی لذتیں اور نعمتیں سدا بہار ہیں۔ اس لیے اصل زندگی آخرت ہی کی زندگی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وما ھذہ الحیوۃ ۔۔۔۔۔ لو کانوا یعلمون (29: 64) ” ۔ یہ زندگی عمومی لحاظ سے تو ایک کھیل تماشا ہی ہے۔ خصوصاً اس وقت جب یہ اس طرح گزر رہی ہے کہ آخرت کی کوئی فکر نہ ہو اور یہی دنیا لوگوں کا مقصد اعلیٰ ہو اور اس دنیا کا سازوسامان ہی غایت زندگی ہو۔ رہی آخرت کی زندگی تو وہ حقیقی زندگی ہے اور اس میں نہایت ہی اعلیٰ معیار ہوگا۔ وہی حقیقی زندگی ہے۔ وہ بھرپور ہے اور اس میں حقیقی حیات اور نشاط ہے۔ یہ کہہ کر قرآن یہ تعلیم بھی نہیں دیتا کہ دنیا کو ترک کردیا جائے یا اس کے متاع کو دور پھینک دیا جائے یا زندگی کی سرگرمیوں سے فرار اختیار کرکے رہبانیت اختیار کی جائے۔ یہ نہ اسلام کی روح ہے اور نہ اسلام زندگی کا یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی آدمی کو چاہیے یہاں کی چند روزہ زندگی سے زیادہ آخرت کی فکر کرے کہ اصلی و دائمی زندگی وہ ہے۔ دنیا کے کھیل تماشے میں غرق ہو کر عاقبت کو بھول نہ بیٹھے۔ بلکہ یہاں رہ کر وہاں کی تیاری اور سفر آخرت کے لئے تو شہ درست کرے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 64 وَمَا ہٰذِہِ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا لَہْوٌ وَّلَعِبٌ ط ” دیکھو مسلمانو ! یہ دنیا کی زندگی تو ایک کھیل جیسی ہے۔ اس کی حیثیت تمہارے ایک سٹیج ڈرامے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ جس طرح ڈرامے کا بادشاہ حقیقی بادشاہ نہیں اور سٹیج پر فقیر کا کردار ادا کرنے والا شخص سچ مچ کا فقیر نہیں اسی طرح تمہاری اس زندگی کے تمام کردار بھی حقیقی نہیں۔ حقیقی کردار تو اس سٹیج سے باہر جا کر موت کے بعد سامنے آئیں گے۔ عین ممکن ہے یہاں کے شہنشاہ کو وہاں مجرم کی حیثیت میں اٹھایا جائے اور جو شخص یہاں زندگی بھر لوگوں کا معتوب و مغضوب رہا وہاں اسے خلعت فاخرہ سے نوازا جائے۔ چناچہ تم خاطر جمع رکھو ! نہ تو یہاں کا عیش…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

97 اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا میں سرے سے کوئی سنجیدگی اور حقیقت ہے ہی نہیں۔ اللہ کے فرمانبرداروں اور اسے آخرت مقابلہ میں حقیر سمجھنے والوں کے لئے اس دنیا کی۔ زندگی کا ایک ایک لمحہ نہایت قیمتی ہوتا ہے اور وہ اس زندگی سے فائدہ اٹھا کر آخرت کماتے ہیں۔ دنیا کی زندگی محض کھیل تماشا آخرت کے مقابلہ میں ہے۔ اور ان لوگوں کے لئے ہے جو دنیا کی محبت میں مستغرق رہتے اور اللہ اور آخرت کی یاد سے غافل رہتے ہیں۔ انھیں واقعی یہ دنیا ایک کھیل تماشا ہی معلوم ہوگی۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کوئی بازی گر کٹھ پتلیوں کا تماشا دکھاتا ہے۔ ایک بادشاہ ہوتا ہے کچھ وزیر اور کچھ دوسرے کردار ہوتے ہیں۔ اور ڈرامہ مکمل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

82۔ (اپنے فانی، عارضی، بےثبات ہونے کے لحاظ سے) لیکن اگر یہی حیات دنیا تحصیل دین کا ذریعہ بن جائے تو یہی لہو ولعب خود دار آخرت کا ایک جزو بن جائین گا اور باعتبار ثمرات اس کا شمار بھی باقی میں ہوجائے گا۔ (تھانوی (رح ) 83۔ (اپنے باقی، قائم وپائیدار ہونے کے اعتبار سے) حیوان، یہاں اپنے عام معنی میں جاندار یا ذی حیات کے مرادف نہیں، بلکہ مصدر ہے خود حیات کے معنی میں، البتہ اس کے معنی میں حیات سے زور زائد ہے۔ الحیوان مصدر حی کا لحیاۃ لکن فیھا مبالغۃ لیست فی الحیاۃ (کبیر) اور فقرہ کے معنی یہ ہوئے کہ اصلی اور حقیقی زندگی وہی آخرت کی زندگی ہے۔ فکانہ قال الحیاۃ الثانیۃ ھی الحیاۃ المعتبرۃ (کبیر) حیوان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 64–69

آیت نمبر 64 تا 69 ترجمہ : اور یہ دنیوی زندگی کھیل تماشہ کے سوا کچھ نہیں البتہ عبادت تو یہ امور آخرت میں ظاہر ہونگے اور اصل زندگی دار آخرت ہی کی ہے اگر یہ لوگ اس بات کو سمجھ لیتے تو دینوی زندگی کو آخرت پر ترجیح نہ دیتے پھر جب یہ لوگ کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو خالص اعتقاد کے ساتھ اللہ ہی سے دعا کرتے ہیں یعنی اس کے ساتھ غیر کو نہیں پکارتے اس لئے کہ وہ (اس وقت) ایک عظیم پریشانی میں (مبتلا) ہوتے ہیں اور اس پریشانی کو اس کے علاوہ کوئی دور نہیں کرسکتا پھر جب ان کو نجات دے کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو فوراً ہی اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے لگتے ہیں تاکہ ہماری دی ہوئی نعمت کی ناقدری کرتے رہیں اور یہ لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما ھٰذہ الحیوۃ الدنیا الا لھو ولعب وان الدار الاخرۃ لھی الحیوان . اور نہیں ہے یہ دنیاوی زندگی مگر جی کا بہلاؤ اور کھیل اور دار آخرت ہی دارحیات ہے۔ ھٰذِہِ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا یعن یہ حقیر دنیا (اسم اشارہ قریب کے لئے مفید تحقیر ہے) ۔ لَھْوٌ ہر شئے جو کسی مفید چیز سے باز رکھے (اور دل کو بہلا کر اپنی طرف مائل کرلے ‘ مترجم) ۔ دنیا میں مشغولیت آدمی کو ان چیزوں سے روک دیتی ہے جو ابدی زندگی میں کام آنے والی ہیں۔ لَعِبٌ بےکار ‘ کھیل۔ دنیا کو دنیا اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ فناپذیر اور قریب زوال ہے۔ ا اللہ کی ساری عبادتیں اور فرماں برداریاں دنیا میں شامل نہیں ‘ ان کا شمار تو امور آخرت میں ہے کیونکہ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور اس دنیا کی زندگی میں جو کچھ خوش حالیاں اور زینتیں ہیں یہ سوائے وقتی اور فانی لہو ولعب کے اور کچھ بھی نہیں اور اصلی زندگی وہ جنت ہی کی ہے جہاں فنا نہیں۔ کاش یہ لوگ اس کو مانتے مگر ان کو نہ اس کا علم ہے اور نہ اس کا اقرار کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَا هٰذِهِ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ۔۔ : ”الدنیا“ ”اَلْأَدْنٰی“ کی مؤنث ہے، قریب، گھٹیا۔ اس کے مقابلے میں ”الاخرۃ“ ہے۔ ”لھو“ وہ چیز جو ضروری کاموں سے دل کو غافل کر دے، یعنی دل لگی، جیسے گانا بجانا وغیرہ، جیسا کہ فرمایا : (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِيْ لَهْوَ الْحَدِيْثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ) [ لقمان : 6 ] ”اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جو غافل کرنے والی بات خریدتا ہے، تاکہ جانے بغیر اللہ کے راستے سے گمراہ کرے۔“ ”لَعِبٌ“ ”کھیل۔“ اس جملے میں آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کا بےوقعت ہونا چار طرح سے بیان ہوا ہے، سب سے پہلے ”ھذه“ کا لفظ حقارت کے اظہار کے لیے ہے، یعنی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 63–66

یعنی بادل سے بارش، اس کو خش سالی اور اس کے اہل کے قحط میں مبتلا ہونے کے بعد۔ یعنی جب تم نے اس کا اقرار کرلیا تو تم اس کے ساتھ کیوں شرک کرتے ہو اور دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کرتے ہو جب وہ اس پر قادر ہے تو مومنوں کو غنی کرنے پر بھی قادر ہے تو تاکید کے لئے اسے مکرر ذکر کیا۔ یعنی اس کی قدرت پر جو دلائل اور براہین واضح کئے گئے اس پر الحمداللہ لیکن اکثر ان دلائل میں تدبر نہیں کرتے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے اقرار کیا اس پر الحمداللہ : ایک قول یہ کیا گیا ہے : پانی کے نازل کرنے اور زمین کو زندہ کرنے پر الحمداللہ۔ یعنی دنیاوی زندگی ایسی چیز ہے جس کے ساتھ لہو و لعب کیا جاتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 64–66

1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آتی وان الدار الاٰخرۃ لہی الحیوان، سے مراد ہے کہ آخرت کا گھر ہی باق رہنے والا ہے۔ 2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا آیت لہی الحیوان سے مراد ہے دائمی زندگی۔ 3۔ ابن ابی الدنیا والبیہقی فی شعب الایمان ابو جعفر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرما کیا بہت زیادہ تعجب اس آدمی پر جو تصدیق کرنے والا ہے دائمی زندگی کے گھر کی کہ جب وہ کوشش کرتا ہے دھوکے والے گھر یعنی دنیا کے لیے۔ 4۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولیتمتعوا فسوف یعلمون یعنی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمَا [اور نہیں ہے ] هٰذِهِ الْحَيٰوةُ [یہ دنیوی زندگی ] اِلَّا لَهْوٌ [مگر ایک تماشا ] وَّلَعِبٌ ۭ [اور کچھ کھیل کود ] وَاِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ [اور بیشک آخری گھر ] لَھِىَ [یقینا وہی ] الْحَـيَوَانُ ۘ [کل (یعنی حقیقی) زندگانی ہے ] لَوْ [کاش ] كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ [یہ لووگ جانتے ہوتے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 62–64

دنیا والی زندگی لہو و لعب ہے، حقیقی زندگی آخرت ہی کی زندگی ہے اس آیت کریمہ میں دنیا کی فنا اور آخرت کی بقا کو اجمالی طور پر بیان فرمایا ہے اور مشرکین و کافرین کی ناسمجھی اور نادانی اور بےعقلی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا کی زندگی جتنی بھی دراز ہوجائے اور اس میں جتنی بھی نعمتیں مل جائیں سب ہیچ ہیں۔ کیونکہ انسان کی اصل ضرورت آخرت کی ضرورت ہے جہاں دوام ہے اور ابدی زندگی ہے، وہاں کی دائمی زندگی اور ابدی نعمتوں کے سامنے یہ فنا ہونے والی دنیا جو وہاں کچھ بھی کام نہ کرے گی بالکل لہو و لعب ہے، جیسے بچے آپس میں کھیلتے ہیں، ہوٹل بھی کھولتے ہیں، دکاندار بن کر بھی بیٹھتے ہیں، کھانے پینے کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 64–69

دار دنیا کی حقارت اور دار آخرت کی فضیلت قال اللہ تعالیٰ وما ھذہ الحیوۃ الدنیا۔۔۔ الی۔۔۔ وان اللہ لمع المحسنین۔ گزشتہ آیت میں یہ فرمایا بل اکثرہم لا یعقلون یعنی اکثر لوگ عقل سے کام نہیں لیتے دنیا کی ظاہری آرائش پر مفتون ہیں اگر عقل سے کام لیں تو سمجھ جائیں کہ دنیا کا تمام کارخانہ فنا اور زوال اور ضعف اور اضمحلال پر مبنی ہے تو جان لیں کہ یہ دنیا بالکل بےحقیقت ہے اور سرائے فانی ہے جس سے ایک دن کوچ قطع ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور نہیں ہے یہ دنیاوی زندگانی جس پر یہ بےعقل فریفتہ ہیں مگر طفلان بےشعور کے دل بہلانے کا ایک مشغلہ جیسے بچے لاٹھی کو گھوڑا بنا کر اس پر سوار ہوجاتے ہیں اس کو بازی طفلاں کہتے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

53:۔ دنیا کی تحقیر و تقلیل کا بیان ہے۔ مشرکین اور اہل دنیاجس دولت اور شان دنیا پر مغرور ہو کر توحید کا مغرور ہو کر توحید کا انکار کر رہے ہیں اس کی حقیقت اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ وہ بچوں کا ایک کھیل تماشا ہے جس سے محض چند روز دل بہلایا جاسکتا ہے یہ اصل زندگی نہیں اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے جو کبھی فنا نہیں ہوگی اس لیے آخرت کے لیے توشہ تیار کرنا چاہئے۔ ای ماھی سرعۃ زوالہا عن اھلہا و موتھم الا کما یلعب الصبیان ساعۃ ثم یتفرقون (بحر ج 7 ص 158) ۔ اگر وہ اس حقیقت کو جانتے ہوتے تو دنیا کو آخرت پر کبھی ترجیح نہ دیتے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 64–66

ربطہ آیات ابتلا اور آزمائش کے ذکر اور اس کی مثالیں بیان کرنے کے بعد اللہ نے کافروں اور مشرکوں کا شکوہ بیان کیا کہ واضح دلائل کی موجودگی میں ان کا توحید سے انکار اور کفر و شرک پر اصرار بڑی زیادتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تمام جانداروں کے متعلق فرمایا کہ سب کا روزی رساں وہی ہے۔ پھر ارض و سماء کی تخلیق اور شمس و قمر کی تسخیر کے متعلق فرمایا کہ یہ سب کچھ اسی کے اختیار میں ہے۔ یہ چیزیں تو محض اسباب ہیں وگرنہ حقیقی روزی رساں تو اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ اپنی حکمت اور مصلحت کے مطابق کسی کی روزی کشادہ کردیتا ہے اور کسی کی تنگ کردیتا ہے۔ پھر اللہ نے بارش کے نزول کی طرف توجہ دلائی کہ آسمان کی طرف سے پانی برسا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

رکوع نمبر 3 وَمَا ہٰذِہِ الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَآ اِلَّا لَہْوٌ وَّلَعِبٌ۝ 0ۭ وَاِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ لَھِىَ الْحَـيَوَانُ۝ 0ۘ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ۝ 64 دنا الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ «1» ، وتارة عن الأرذل فيقابل بالخیر، نحو : أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] ، دنا اور یہ قرب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : والحیوان مصدرحی سمی بہ ذوالحیٰوۃ۔ واصلہ حییان فقلب الیاء الثانیۃ وا والئلاتلتبس بالتثنیۃ ولم تقلب الفالئلا بحذف احد لالفین والحیوٰۃ۔ ایضاً مصدر لکن الحیوان ابلغ لان من بناء فعلان من معنی الحرکۃ والاضطراب الازم للحیوٰۃ۔ بیضاوی وغیرہ۔ ان آیتوں کے بعد (کہ جن میں توکل کی ترغیب تھی اور جن میں اپنی قدرت کاملہ کے آثار ظاہر فرمائے تھے کہ ہم نے آسمان و زمین کو پیدا کیا، پھر آسمان سے مینہ برساکر روزی رزق پیدا کرتے ہیں۔ ہم ہی بےبس جانوروں کو روزی دیتے ہیں، ہم ہی تنگی و فراغدستی دیتے ہیں تاکہ بندہ اسی پر توکل کرے اور دین کی حفاظت میں جو کچھ مصیبت آوے اس سے نہ ڈرے) ایک ایسا جملہ ارشاد فرماتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَا ھٰذِہِ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلاَّ لَھْوٌ وَّلَعِبٌ ط وَاِنَّ الدَّارَالْاٰخِرَۃَ لَہِیَ الْحَیَوَانُ م لَوْکَانُوْا یَعْلَمُوْنَ ۔ (العنکبوت : 64) (اور یہ دنیا کی زندگی کچھ نہیں ہے مگر ایک کھیل اور دل کا بہلاوا، اور دارآخرت ہی ہے جو اصل زندگی کی جگہ ہے، کاش یہ لوگ اس کو جانتے۔ ) کفار کی گمراہی کا اصل سبب اس آیت کریمہ میں کفار کی گمراہی کے اصل سبب کو منکشف فرمایا گیا ہے۔ جس طرح ایک بچہ اپنے ہمجولیوں کے ساتھ کھیل کود کا کوئی ذریعہ تلاش کرلیتا ہے اور پھر اس میں ایسا مگن رہتا ہے کہ اسے کسی چیز کا ہوش نہیں رہتا۔ بچوں میں سے ایک بادشاہ بن جاتا ہے اور باقی درباری بن جاتے ہیں۔ حالانکہ نہ وہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 63–64

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین سے ایک اور سوال اور دنیا کی حیثیت۔ اے پیغمبر ﷺ ان سے سوال کریں کہ آسمان سے کون بارش برساتا ہے اور اس بارش کے ساتھ مردہ زمین کو کون زندگی عطا کرتا ہے ؟ لا محالہ ان کا جواب ہوگا کہ بارش برسانے والا اور اس کے ساتھ نباتات اگانے والا صرف ایک ” اللہ “ ہے۔ انہیں فرمائیں کہ تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں لیکن لوگوں کی اکثریت ماننے کے لیے تیار نہیں جس دنیا کی خاطر یہ لوگ اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتے ہیں یہ دنیا کھیل تماشا کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتی یقیناً آخرت کا گھر ہمیشہ کے لیے ہے۔ کاش لوگ یہ حقیقت پاجائیں۔ کفار کے اعتراف کے جواب میں اس لیے اللہ کا شکر ادا کرنا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

حقارتِ دُنیا : 64: وَمَا ہٰذِہِ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلاَّ لَہْوٌ وَّلَعِبٌ (اور یہ دنیا کی زندگی تو کھیل تماشا ہے) ۔ یعنی دنیا اہل دنیا کے لئے اپنے سرعت زوال اور انسانوں کے دنیا میں مرجانے سے اسی طرح ہے جیسے کہ بچے تھوڑی دیر کھیلتے ہیں اور پھر منتشر ہوجاتے ہیں اس میں دنیا کی تحقیر اور ان کے معاملے کا معمولی ہونا ظاہر کیا گیا ہے اور کس طرح اللہ تعالیٰ اس کی تحقیر بیان نہ فرمائیں جبکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک مچھر کے پر کے برابر وزن نہیں رکھتی۔ لہو ! جس سے انسان تھوڑی دیر تلذد حاصل کرے اور وہ چیز اس کو کچھ دیر غافل کر دے پھر وہ ختم ہوجائے۔ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ لَہِیَ الْحَیَوَانُ (اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

64۔ وماھذہ الحیوۃ الدنیا الالھو ولعب، لھو، کہتے ہیں کہ دنیاوی لذات کوسننا، اور لعب عبث بےکار کو کہتے ہیں اس کو یہ نام اس لیے موسوم کیا کیون کہ یہ فانی ہیں وان الدارلاخرۃ لھی الحیوان۔ دائمی حیات جو ہمیشہ کے لیے ہے حیوان حیاۃ سے ہے وہاں ہمیشگی والی زندگی ہے ، لوکانوایعلمون، کہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی رہنے والی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 61–69

61 تا 69۔ اللہ تعالیٰ ان آیتوں میں اپنا معبود ہونا بیان فرماتا ہے کہ اس کے سوائے کوئی لائق بندگی کے نہیں ہے کس واسطے کہ مشرک لوگ اگرچہ خدا کے سوا اوروں کو بھی پوجتے ہیں لیکن آسمان و زمین چاند سورج رات دن کا پیدا کرنے والا خدا ہی کو جانتے ہیں اور اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ بندوں کا روزی دینے والا اور مارنے والا بھی وہی اللہ ہے اور وہی کسی کو امیر اور کسی کو فقیر جیسا مناسب دیکھتا ہے اور جس کا جس کا مستحق جانتا ہے ویسا ہی کرتا ہے وہی سب کا خالق ہے یہ سب کچھ کہہ کر پھر بتوں کو اپنا معبود جانتے ہیں کی زندگی پر رکھا تھا اس لیے آگے کی آیت میں اللہ تعالیٰ دنیا کی حقارت اور آخرت کی تعریف بیان فرماتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 64–69

آیت نمبر : 64-68 اللہ تبارک و تعالیٰ دنیا و آخرت کے احوال کی خبر دیتا ہے اور اس ضمن میں دنیا سے بےرغبتی رکھنے کی ترغیب اور آخرت کا شوق پیدا کرتا ہے ‘ اس لیے فرمایا : (وما ھذہ الحیوۃ الدنیآ) ” اور نہیں ہے یہ دنیا کی زندگی “ یعنی اس دنیاوی زندگی کی حقیقت (الا لھو و لعب) ” مگر کھیل کود۔ “ جس کی بنا پر دل غافل اور بدن کھیل میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو زیب وزینت اور ان لذات و شہوات سے لبریز کردیا ہے جو دلوں کو کھینچ لیتی ہیں ‘ آنکھوں کو خوبصورت نظر آتی ہیں اور نفوس باطلہ کو فرحت عطا کرتی ہیں۔ پھر دنیا کی یہ زینت و زیبائش جلد ہی زائل ہو کر ختم ہوجائے گی اور اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–69

قول باری ہے : (ولا تجادلوا اھل الکتاب الا بالتیھی احسن۔ اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقے سے) قتادہ کا قول ہے کہ یہ آیت قول باری (وقاتلوا المشرکین اور مشرکین سے قتال کرو) کی بنا پر منسوخ ہوچکی ہے۔ کوئی بحث تلوار کے استعمال سے بڑھ کر نہیں ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قتادہ کی مراد یہ ہے کہ آیت، زیر بحث کا حکم قتال کے حکم سے پہلے کا ہے۔ قول باری ہے : (الا الذین ظلموا منھم ۔ سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں) ۔ یعنی۔ واللہ اعلم۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے بحث وجدال وغیرہ میں تمہارے ساتھ ظلم کیا ہو جو اس امر کا مقتضی ہو کہ تم ان کے ساتھ سخت رویہ رکھو۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 42–69

58 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اس کے احاطہ علم کے اعتبار سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ پوری طرح جانتا ہے ان سب چیزوں کو جن کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں اللہ کے سوا "۔ تعمیم ملاحظہ ہو کہ اول تو { شیئ } خود نکرہ ہے جو ہر چیز کو شامل ہے۔ پھر اس پر { من } استغراقیہ سے مزید تاکید۔ یعنی کوئی بھی چیز خواہ کوئی فرشتہ ہو یا انسان، شجر ہو یا حجر، بت ہو یا جن وغیرہ وغیرہ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ مافوق الاسباب کسی کو بھی پکارنا شرک ہے جو کہ سب سے بڑا گناہ اور ناقابل معافی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اب وہ لوگ دیکھ لیں جو اس وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر اس کی عاجز مخلوق کو پکارتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے " یا رسول…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 64–69

اعمال دنیا اور اس کا انجام تشریح : ” ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زندگی کو کھیل اور تماشہ اور اخروی زندگی کو ہمیشہ کی زندگی قرار دیا ہے۔ پھر مشرکین مکہ کا عقیدہ بیان کیا کہ وہ کشتی میں تو خالص اللہ کو پکارتے مگر باہر آکر اللہ کے ساتھ شریک ٹہراتے۔ آج کے نام نہاد مسلمان مشرکین مکہ سے بھی گئے گزرے ہیں کہ ایسی جگہ پر بھی غیر اللہ کو پکارتے ہیں مثلا ً معین الدین چشتی پار لگا دو میری کشتی، یا بہاو الحق، بیڑادھک وغیرہ انسان مصیبت میں تو اللہ کو پکارتا ہے مگر راحت میں شکر نہیں کرتا اور غفلت میں پڑ کر قیمتی عمر دنیا کی عزت ‘ راحت ‘ آسائش اور دنیوی کامیابی کے حصول میں ضائع کردیتا ہے۔ جب کہ معلوم…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 64–69

آیات 64 تا 69 اسرارومعارف دنیا کے لیے بعض اوقات کافر کی دعا بھی قبول ہوتی ہے : یہ جس دنیا کے لالچ میں گرفتار ہیں یہ تو محض لہو و لعب اور کھیل تماشا ہے جس میں مصروف ہونا محض وقت ضائع کرنے والی بات ہے زندگی تو آخرت کا گھر ہے کہ جسے دنیا میں رہ کر حاصل کرنا مقصد حیات ہے۔ کاش انہیں اس بات کی سمجھ ہوتی ورنہ تو جب کبھی ان پر بڑی افتاد پڑتی ہے جیسے سفر میں ان کی کشتی طوفان میں گھر جائے تو صرف اللہ ہی کو پورے خلوص اور دل کی گہرائی سے پکارتے ہیں اور جب اللہ انہیں نجات دے دیتا اور اس مصیبت سے بچا دیتا ہے کہ دنیا کے لیے تو کبھی کافر کی دعا بھی قبول ہوتی ہے اگر وہ خلوص سے مانگ رہا ہو ہاں آخرت میں اس کی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

9 ۔ یعنی ہمیشہ باقی اور قائم رہنے والی ہے۔ 10 ۔ تو یقینا باقی کو چھوڑ کر فانی کو اختیار کرتے ہیں۔ (ابن کثیر) دنیا کی بےثباتی و بےحقیقتی کا ذکر بہت سی احادیث میں بھی مذکور ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(29:64) وما۔ میں ما نافیہ ہے۔ لہی الحیوان میں لام تحقیق کا ہے ۔ ہی ضمیر واحد مؤنث غائب کو تخصیص کے لئے لایا گیا ہے۔ حیوان یہاں اپنے عام معنی میں جاندار یا ذی حیات کے مرادف نہیں بلکہ حی یحی (سمع) کا مصدر ہے۔ حیاۃ بھی اس کا مصدر ہے لیکن حیوان حیاۃ سے بھی زیادہ بلیغ و پرزور ہے کیونکہ فعلان کے وزن میں حرکت و اضطراب جو لازمہ حیات ہے موجود ہے۔ حیوان بمعنی جینا۔ زندگی۔ حیات۔ ان الدار الاخرۃ لہی الحیوان تحقیق عالم آخرت ہی اصلی و حقیقی زندگی ہے۔ حیوان اصل میں حیان تھا یائے ثانی کو خلاف قیاس واؤ میں تبدیل کردیا۔ ح ی ی مادہ۔ لوکانوا یعلمون ۔ یہ جملہ شرط ہے اور جواب شرط محذوف ہے ای لو کانوا یعلمون لم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 61–64

لغات القرآن آیت نمبر (61 تا 64 ) ۔ سالت (تو نے پوچھا) ۔ سخر (اس نے تابع کردیا۔ مسخر کردیا) ۔ انی (کہاں ؟ ) ۔ یوفکون (الٹے پھرے جاتے ہیں) ۔ لھو (کھیل۔ کود) ۔ لعب (کھیلنا کودنا۔ اچھلنا) ۔ الحیوان (زندگی) ۔ تشریح : آیت نمبر (61 تا 64 ) ۔ ” قرآن کریم کے اولین مخاطب مکہ مکرمہ کے لوگ تھے جو اللہ کو اور بیت اللہ کو مانتے تھے مگر جب ان سے پوچھا جاتا تھا کہ تم ایک اللہ کی عبادت و بند گی چھوڑ کر ان تین سو ساٹھ بتوں سے امیدیں کیوں باندھتے ہو ؟ اور ان سے کیوں مانگتے ہو ؟ تو وہ کہتے تھے کہ ہم اللہ ہی کو ما نتے ہیں لیکن یہ بت اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ اگر یہ ہماری سفارش نہ کریں تو اللہ بھی ہماری نہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 61–64

(ف 1) اللہ تعالیٰ ان آیتوں میں اپنا معبود ہونابیان فرماتا ہے کہ اس کے سوائے کوئی لائق عبادت نہیں اس واسطے مشرک لوگ اگرچہ اللہ کے سوا اوروں کو پوجتے ہیں لیکن آسمان و زمین، چاند وسورج ، رات دن کا پیدا کرنے والا اللہ ہی کو جانتے ہیں۔ اور اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ بندوں کو روزی دینے والا اور مارنے والابھی وہی اللہ ہے پھر فرمایا کہ ان سے پوچھیے کہ کس نے اتارا آسمان سے پانی پھر چلایا اس سے زمین کو اس کے مرے پیچھے یعنی خشک کو تروتازہ کیا تو البتہ کہیں گے اللہ تعالیٰ نے ۔ مطلب یہ کہ نبی ﷺ کے زمانے کے کافر اقرار کرتے تھے کہ آسمان سے مینہ وہی برساتا ہے جب لوگ قحط سے مرنے لگتے ہیں، اور بندوں کا رازق…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[29] یعنی آدمی کو چاہیے کہ دنیا کی چند روزہ زندگی سے زیادہ آخرت کی فکر کرے کہ اصلی دائمی زندگی وہی ہے۔ دنیا کے کھیل تماشے میں غرق ہو کر آخرت کو نہ بھول بیٹھے بلکہ یہاں رہ کر وہاں کی تیاری اور سفرآخرت کے لئے توشہ درست کرے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 64–65

حل لغات :۔ لھو ۔ کے معنی اصل میں برگشتہ کرنے کے ہیں یعنی دنیا ایسا مقام ہے جس کے مشاغل عقبی کی فکر سے انسان کو برگشتہ کردیتے ہیں اور ان عارضی دلچسپیوں میں پڑ کر انسان کچھ اس قدر کھو جاتا ہے کہ دنیا کا جاودانی پہلو اس کی نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے لعبا ۔ سے مراد یہ ہے کہ یہ دنیا ایسی چیز نہیں جسے آپ غیر ضروری وقعت دیں اور اسے بہت اہم سمجھیں اصل زندگی کے مقابلے میں اور زندگی کی حقیقی تگ و دو کے مقابلہ میں اس کی حیثیت ایسی ہی ہے جیسے کھیل کود کی یعنی دنیا کی دلچسپیاں محض اس لئے ہیں کہ ان کی روحانی زندگی کی جانغسل مساعی کو جاری رکھنے کے لئے مدد مل سکے ! اور نفس کو تھوڑی سی آسودگی حاصل ہوجائے اور بس

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

64۔ آگے اس نہ سمجھنے کی وجہ کا رو ہے ارشاد ہوتا ہے اور یہ دنیا کی زندگی تو محض جی کا بہلانا اور کھیل ہے اور محض ایک لہو و لعب ہے اور بلا شبہ حقیقی زندگی تو عالم آخرت کی ہی زندگی ہے اور پچھلا گھرجو ہے سو وہی ہے جینا کاش یہ لوگ اتنی بات سمجھتے۔ یعنی یہ منکر جو اللہ تعالیٰ کی توحید پر غور و فکر نہیں کرتے اسکی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے مشاغل میں یہ ہر وقت منہمک رہتے ہیں ان کو یہی خبر نہیں کہ یہ دنیا کی زندگی تو محض لہو و لعب کے سوا اور کچھ نہیں اور محض ایک کھیل تماشا ہے ۔ زندگی تو حقیقی وہ ہے جو اس زندگی کے بعد شروع ہوتی ہے کاش یہ منکر اتنی بات سمجھ لتے تو اس عارضی دنیا کے مشاغل کو چھوڑ کر آخرت کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 64–66

ف 4۔ کہ فانی میں منہمک ہو کر جاتی کو بھلا دیتے ہیں، اور اس کے لئے سامان نہ کرتے بلکہ یہ لوگ دلائل میں غور کرتے اور ایمان لے آتے جیسا کہ مقتضا ان کے اقرار توحید فی التکوین والا بقاء کا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دنیا کی زندگی کیا ہے ؟ ایک کھیل اور تماشا ‘ حقیقی زندگی تو آخرت ہی کی ہے : 64۔ ذرا غور کرو کہ یہ دنیا کی زندگی کیا ہے ؟ ایک حباب ہی تو ہے جو پانی پر تشکیل پا گیا ہے ابھی موجود ہے اور ابھی غیر موجود اور پھر گیا تو ایسا گیا کہ دوبارہ کبھی اس کی واپسی نہ ہوئی اگر زندگی ایسی ہے تو اس کی لذتوں کا کیا حال ہوگا ذرا پھر غور کرو کہ آج شہنائیاں بج رہی ہیں تو کل ماتم بھی تو ہیں پھر اس زندگی پر اس قدر فریفتہ اور اس کے مقابلہ میں آخرت کی زندگی جس کے بعد کبھی موت ہی نہیں ہوگی اس کا کبھی بھول کر بھی خیال نہیں آیا کیا آپ نے کبھی اس حقیقت پر بھی غور کیا ؟ کیا یہ کھیل اور تماشا ہی نہیں ہے کہ لمحہ بھر کے لئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 62–64

Commentary In the preceding verses it was said about the infidels and disbelievers that if they were asked about the creation of the earth and skies, the solar system, the water cycle and its effect on growth of vegetation, they would reply that all this is created and controlled by Allah Ta a1a. They did not believe that any one had any involvement in their creation or control, yet in their worship they associate idols with Allah. The reason for this is أَكْثَرُ‌هُمْ لَا يَعْقِلُونَ (Most of them do not understand - 29:63). At this point the question arises that, after all, they were not…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

102 That is "The reality of it is no more than the children's engaging in a sport and pastime for a while, and then returning home. The one has become a king here, has not become a king in reality but is only playing the king. A time comes when his play ends, and ne leaves the royal throne as empty-handed as he was when he had entered the world. Similarly, no phase of life here is enduring and lasting. Every one is playing his part only temporarily for a limited time. Those who are charmed by the short-lived triumphs of this life and are able to collect some means of enjoyment and pleasure…

Read the full tafseer →