Al-Ankaboot 29:63

Al-Ankaboot · from ayah 63

29:63

وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ ؕ— قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ ؕ— بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ ۟۠وَلَئِنۡ سَاَلۡتَهُمۡ مَّنۡ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحۡيَا بِهِ الۡاَرۡضَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَوۡتِهَا لَيَقُوۡلُنَّ اللّٰهُ‌ؕ قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ‌ؕ بَلۡ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡقِلُوۡنَ

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان سے پانی کس نے نازل فرمایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد (کس نے) زندہ کیا تو کہہ دیں گے کہ خدا نے۔ کہہ دو کہ خدا کا شکر ہے۔ لیکن ان میں اکثر نہیں سمجھتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And if you asked them, "Who sends down rain from the sky and gives life thereby to the earth after its lifelessness?" they would surely say " Allah." Say, "Praise to Allah "; but most of them do not reason.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 6 of surah · Ruku 2 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Ankaboot

All translations of 29:63

اور اگر تم ان سے پوچھو کس نے آسمان سے پانی برسایا اور اِس کے ذریعہ سے مُردہ پڑی ہوئی زمین کو جِلا اٹھایا تو وہ ضرور کہیں گے اللہ نے کہو، الحمدللہ، مگر اکثر لوگ سمجھتے نہیں ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان سے پانی کس نے نازل فرمایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد (کس نے) زندہ کیا تو کہہ دیں گے کہ خدا نے۔ کہہ دو کہ خدا کا شکر ہے۔ لیکن ان میں اکثر نہیں سمجھتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ آسمان سے پانی اتار کر زمین کو اس کی موت کے بعد زنده کس نے کیا؟ تو یقیناً ان کا جواب یہی ہوگا اللہ تعالیٰ نے۔ آپ کہہ دیں کہ ہر تعریف اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے، بلکہ ان میں سے اکثر بے عقل ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ : کون ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعے زمین کے مردہ ہونے کے بعد اسے زندگی بخشی ؟ تو وہ ضرور یہ کہیں گے کہ : اللہ ! کہو : الحمدللہ ! لیکن ان میں سے اکثر لوگ عقل سے کام نہیں لیتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جو تم ان سے پوچھو کس نے اتارا آسمان سے پانی تو اس کے سبب زمین زندہ کردی مَرے پیچھے ضرور کہیں گے اللہ نے تم فرماؤ سب خوبیاں اللہ کو، بلکہ ان میں اکثر بے عقل ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان سے پانی کس نے اتارا پھر اس سے زمین کو اس کی مُردنی کے بعد حیات (اور تازگی) بخشی، تو وہ ضرور کہہ دیں گے: اﷲ نے، آپ فرما دیں: ساری تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر (لوگ) عقل نہیں رکھتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور یقینا اگر تو ان سے پوچھے کہ کس نے آسمان سے پانی اتارا، پھر اس کے ساتھ زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کر دیاتو ضرور ہی کہیں گے کہ اللہ نے، کہہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ ان کے اکثر نہیں سمجھتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان سے پانی کس نے برسایا پھر اس پانی سے مردہ پڑی ہوئی زمین کو زندہ کس نے کیا ؟ تو ضرور کہیں گے کہ اللہ نے ان سے کہئے پھر ہر طرح کی حمد کا سزا وار بھی اللہ ہی ہے۔ مگر اکثر لوگ کچھ سمجھتے سوچتے نہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان سے کس نے پانی اتارا، پس اس سے زمین کو زندہ کیا، اس کے مردہ ہوچکنے کے بعد، تو وہ جواب دیں گے کہ اللہ نے۔ کہو، شکر کا سزاوار اللہ ہے۔ بلکہ ان کے اکثر عقل سے کام نہیں لیتے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ کون ہے وہ جو آسمان سے بارش برساتا ہے پھر اس کے ذریعے وہ زندہ کرتا ہے اس زمین کو اس کے بعد کہ یہ مردہ (اور ویران) پڑی ہوتی ہے ؟ تو یہ لوگ ضرور بالضرور یہی جواب دیں گے کہ اللہ ہی (یہ سارے کام کرتا ہے) کہو الحمد اللہ مگر اکثر لوگ (پھر بھی) عقل سے کام نہیں لیتے

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر آپ ان سے پوچھئے کہ آسمان سے پانی کس نے برسایا پھر اس سے زمین کو اس کی خشکی کے بعد تروتازہ کردیا تو بھی یہ لوگ کہیں گے کہ اللہ نے آپ کہیے الحمدللہ۔ لیکن ان میں سے اکثر عقل سے کام نہیں لیتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اگر آپ ﷺ ان سے پوچھیں کہ کس نے برسایا آسمان سے پانی پس اس سے زندہ کردیا زمین کو اس کے ُ مردہ ہوجانے کے بعد ؟ تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے آپ ﷺ کہہ دیں کہ کل شکر اور کل حمد اللہ ہی کے لیے ہے۔ لیکن ان میں سے اکثر لوگ عقل سے کام نہیں لیتے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان سے پانی کس نے برسایا ؟ پھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد کس نے زندہ کیا ؟ تو کہیں گے کہ ”اللہ نے“ فرمادیں کہ اللہ کا شکر ہے بلکہ ان میں سے اکثر نہیں سمجھتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

If you were to ask them: “Who sent down water from the sky and therewith revived the earth after its death?” they will certainly say: “Allah.” Say: “To Allah alone be praise and thanks.” But most people do not understand.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And if you ask them as to who sends down water from the sky, then revives the land with it, they will certainly say, :Allah . Say, :Praise is for Allah. But most of them do not understand.

— Muhammad Taqi Usmani

And if you ask them as to who sends down water from the sky, then revives the land with it, they will certainly say, :Allah . Say, :Praise is for Allah. But most of them do not understand.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And if you were to ask them: "Who sends down water from the sky, and gives life therewith to the earth after its death" They will surely reply: "Allah." Say: "All the praises and thanks be to Allah!" Nay, most of them have no sense.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And if thou wert to ask them: Who causeth water to come down from the sky, and therewith reviveth the earth after its death? they verily would say: Allah. Say: Praise be to Allah! But most of them have no sense.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And if you asked them, "Who sends down rain from the sky and gives life thereby to the earth after its lifelessness?" they would surely say " Allah." Say, "Praise to Allah "; but most of them do not reason.

— Saheeh International

If you ask them, "Who has sent down water from the sky to revive the dead earth?" They will say, "God has done it." Say, "It is only God who deserves all praise, but many of them do not understand."

— Muhammad Sarwar

And if you ask them Who is it that sends down water from the clouds, then gives life to the earth with it after its death, they will certainly say, Allah. Say: All praise is due to Allah. Nay, most of them do not understand.

— Muhammad Habib Shakir

And wert thou to ask them: who sendeth down water from the heaven, and therewith quickeneth the earth after the death thereof? they would surely say: Allah. Say thou: all praise unto Allah! Aye! most of them reflect not.

— Abdul Majid Daryabadi

And if indeed thou ask them who it is that sends down rain from the sky, and gives life therewith to the earth after its death, they will certainly reply, "Allah!" Say, "Praise be to Allah!" But most of them understand not.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 29:63

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 61–63

توحید ربویت توحید الوہیت اللہ تعالیٰ ثابت کرتا ہے کہ معبود برحق صرف وہی ہے۔ خود مشرکین بھی اس بات کے قائل ہیں کہ آسمان و زمین کا پیدا کرنے والا سورج کو مسخر کرنے والا دن رات کو پے درپے لانے والا خالق رازق موت وحیات پر قادر صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ غنا کے لائق کون ہے اور فقر کے لائق کون ہے ؟ اپنے بندوں کی مصلحتیں اس کو پوری طرح معلوم ہیں۔ پس جبکہ مشرکین خود مانتے ہیں کہ تمام چیزوں کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے سب پر قابض صرف وہی ہے پھر اس کے سوا دوسروں کی عبادت کیوں کرتے ہیں ؟ اور اس کے سوا دوسروں پر توکل کیوں کرتے ہیں ؟ جبکہ ملک کا مالک وہ تنہا ہے تو عبادتوں کے لائق بھی وہ اکیلا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة العنکبوت 101 اس مقام پر اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کا لفظ دو معنی دے رہا ہے۔ ایک یہ کہ جب یہ سارے کام اللہ کے ہیں تو پھر حمد کا مستحق بھی صرف وہی ہے۔ دوسروں کو حمد کا استحقاق کہاں سے پہنچ گیا ؟ دوسرے یہ کہ خدا کا شکر ہے، اس بات کا اعتراف تم خود بھی کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 61–63

اس کے بعد کی آیات میں رزق کا اصلی ذریعہ بتلایا ہے جو حق تعالیٰ کی عطاء ہے اور فرمایا ہے کہ خود ان منکروں کافروں سے سوال کرو کہ آسمان زمین کس نے پیدا کئے ؟ اور شمس و قمر کس کے تابع فرمان چل رہے ہیں ؟ بارش کون برساتا ہے ؟ پھر اس بارش کے ذریعہ زمین سے نباتات کون اگاتا ہے ؟ تو مشرکین بھی اس کا اقرار کریں گے کہ یہ سب کام ایک ذات حق تعالیٰ ہی کا ہے۔ تو ان سے کہئے کہ پھر تم اللہ کے سوا دوسروں کی پوجا پاٹ اور ان کو اپنا کار ساز کیسے سمجھتے ہو۔ اگلی آیات وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ سے آخر رکوع تک اسی کا بیان ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ہجرت سے روکنے والی دوسری فکر معاش کی ہے، وہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ولئن سالتھم من نزل من السماء ماء فا حیا بہ الارض من بعد موتھا لیتولن اللہ قل الحمد للہ بل اکثرھم لا یعقلون (63) اسی طرح اگر ان سے سوال کرو کہ وہ کون ہے جو آسمان سے پانی اتارتا ہے اور اس سے زمین کو، اس کے خشک اور بےآب وگیاہ ہوجانے کے بعد ازسر نو زندہ و شاداب کردیتا ہے تو اس سوال کا جواب بھی وہ یہی دیں گے کہ اللہ ! ان سے کہو، اگر اس بات کا تم کو اقرار ہے تو پھر تو شکر کا سزا وار بھی اللہ تعالیٰ ہی ہوا تو آخر تم اس کے سوا دوسروں کی عبادت کس حق کی بنا پر کرتے ہو ! مشرکین عرب ابرو ہوا پر بھی حقیقی تصرف اللہ تعالیٰ ہی کا مانتے تھے لیکن اس کے باوجود وہ رزق و فضل کو دوسروں کی طرف منسوب اور ان کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

63-1کیونکہ عقل ہوتی تو اپنے رب کے ساتھ پتھروں کو اور مردوں کو رب نہ بناتے۔ نہ ان کے اندریہ تمیز ہوتی کہ اللہ تعالیٰ کی خالقیت و ربوبیت کے اعتراف کے باوجود، بتوں کو حاجت روا اور لائق عبادت سمجھ رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 62–63

34: یعنی الحمدللہ ! کہ انہوں نے خود اپنی زبان سے اللہ تعالیٰ کے خالق کائنات ہونے کا اعتراف کرلیا جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ان کے مشرکانہ عقائد بےبنیاد اور سراسر باطل ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 61–63

ولئن سالتھم من خلق السموت والارض ۔۔۔۔۔۔۔۔ جھنم مثوی للکفرین (61 – 67) اور یہ دنیا کی زندگی کچھ نہیں ہے مگر ایک کھیل اور دل کا بہلاوا۔ اصل زندگی کا گھر تو دار آخرت ہے ، کاش یہ لوگ جانتے۔ جب یہ لوگ کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے اس سے دعا مانگتے ہیں ، پھر جب وہ انہیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو یکایک یہ شرک کرنے لگتے ہیں تاکہ اللہ کی دی ہوئی نجات پر ان کا کفران نعمت کریں۔ اور (حیات دنیا کے) مزے لوٹیں ۔ اچھا ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا۔ کیا یہ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے ایک پر امن حرم بنا دیا ہے حالانکہ ان کے گردو پیش لوگ اچک لیے جاتے ہیں ؟ کیا پھر بھی یہ لوگ باطل کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی مینہ بھی ہر کسی پر برابر نہیں برستا اور اسی طرح حال بدلتے دیر نہیں لگتی۔ ذرا دیر میں مفلس سے دولتمند کردے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 61–63

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِط بَلْ اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ ” اب اگلی آیت میں اہل ایمان کے لیے ایک اور ہدایت آرہی ہے :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

96 زمین پر آسمان سے بارش برسنے، پھر زمین سے نباتات برآمد ہونے میں اللہ نے اپنی جس قدر مخلوق کو لگا رکھا ہے۔ پھر اس بارش سے جو فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ ان پر غور کرنے سے بےاختیار انسان کی زبان سے اللہ کی تعریف جاری ہوجاتی ہے۔ اور الحمد للہ کا عربی زبان میں دوسرا استعمال یہ ہے کہ جب فریق مخالف پر کوئی ایسی دلیل پیش کی جاوے جو اس کے ہاں مسلم ہو اور وہ اس کے برعکس کام کر رہا ہو تو اس وقت اتمام حجت کے طور پر الحمدللہ کہا جاتا ہے۔ اس آیت میں الحمدللہ کا لفظ اپنے دونوں مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

80۔ یعنی تمہارے اس اقرار سے اس شرک کی جڑ تو کٹی، جو تمہیں ایک بارش کے دیوتا اور ایک زراعت کے دیوتا کی طرف لیے جاتا ہے۔ 81۔ (اس لیے صحیح مقدمات سے جو نتیجہ بالکل واضح طور پر نکلتا ہے وہ بھی یہ نہیں نکالتے، اور پھر شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 52–63

آیت نمبر 52 تا 63 ترجمہ : آپ کہہ دیجئے کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان میری سچائی پر گواہ کافی ہے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسے سب باتوں کی خبر ہے اور انہیں میں میرا اور تمہارا حال بھی ہے اور جو لوگ باطل پر اور وہ اللہ کے علاوہ وہ چیزیں ہیں جن کی پوجا پاٹ کی جاتی ہے یقین رکھتے ہیں اور تم میں سے اللہ کے منکر ہیں یہی لوگ ہیں جو اپنے سودے میں نقصان اٹھانے والے ہیں اس طور پر کہ انہوں نے ایمان کے بدلے کفر اختیار کرلیا ہے اور یہ لوگ آپ سے عذاب کے بارے میں جلدی کرتے ہیں اور اگر عذاب کی مدت متعین نہ ہوتی تو ان پر فوری عذاب آچکا ہوتا اور ان پر وہ عذاب دفعۃً آپہنچے گا اور ان کو اس کے آنے کی خبر بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولئن سالتھم من نزل من السماء ماء فاحیا بہ الارض من بعد موتھا لیقولن اللہ . اور اگر آپ ان (اہل مکہ) سے دریافت کریں کہ اوپر سے پانی کون اتارتا ہے پھر زمین کو اس کے مرجانے کے بعد پانی سے زندہ کون کرتا ہے تو وہ یقیناً کہیں گے کہ اللہ ہی ایسا کرتا ہے۔ یعنی اہل مکہ مقر ہیں کہ تمام چیزوں کو پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے۔ موجودات بسیط ہوں یا عناصر کے مرکبات ‘ اصول ہوں یا فروع سب کا موجد اللہ ہے ‘ اس کے سوا اور کوئی نہیں لیکن اس اقرار کے باوجود اللہ کی عبادت میں ایسی مخلوق کو شریک کرتے ہیں جو کچھ بھی اختیار نہیں رکھتی۔ قل الحمد اللہ آپ کہہ دیجئے : اللہ کا شکر ہے۔ یعنی اللہ کا شکر ہے کہ اللہ نے آپ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور اگر آپ ان کفار مکہ سے دریافت کریں کہ وہ کون ہے کہ جس نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس نے پانی سے زمین کو بعد اس کے کہ وہ خشک اور بنجر پڑی ہوتی تھی تروتازہ کردیا تو کفار مکہ جواب میں یہی کہیں گے کہ ایسا کرنے والا بھی اللہ ہے۔ آپ کہیے الحمدللہ علی ذلک مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ نہ اس چیز کو سمجھتے ہیں اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً۔۔ : پچھلی دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی صفت ”خلق“ اور ”رزق“ کا ذکر تھا، اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفت ”إِحْیَاءٌ بَعْدَ الْمَوْتِ“ (موت کے بعد زندہ کرنے) کا ذکر ہے۔ فرمایا، اگر تو ان سے پوچھے کہ کون ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا، پھر اس کے ساتھ زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کردیا ؟ تو یقیناً وہ کہیں گے کہ وہ ”اللہ“ ہے۔ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ : کفار کے اعتراف کو توحید کی دلیل کے طور پر بیان کرنے کے بعد فرمایا ”الحمد اللہ“ کہو، کیوں کہ جب مخاطب پر کوئی ایسی دلیل پیش کی جائے جو اس کے ہاں مسلّم ہو اور وہ اس کا جواب نہ دے سکے تو حجت تمام…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 63–66

یعنی بادل سے بارش، اس کو خش سالی اور اس کے اہل کے قحط میں مبتلا ہونے کے بعد۔ یعنی جب تم نے اس کا اقرار کرلیا تو تم اس کے ساتھ کیوں شرک کرتے ہو اور دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کرتے ہو جب وہ اس پر قادر ہے تو مومنوں کو غنی کرنے پر بھی قادر ہے تو تاکید کے لئے اسے مکرر ذکر کیا۔ یعنی اس کی قدرت پر جو دلائل اور براہین واضح کئے گئے اس پر الحمداللہ لیکن اکثر ان دلائل میں تدبر نہیں کرتے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے اقرار کیا اس پر الحمداللہ : ایک قول یہ کیا گیا ہے : پانی کے نازل کرنے اور زمین کو زندہ کرنے پر الحمداللہ۔ یعنی دنیاوی زندگی ایسی چیز ہے جس کے ساتھ لہو و لعب کیا جاتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 60–63

رسول اللہ ﷺ کا فقر اختیاری تھا 1۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی وابن عساکر ضعیف سند کے ساتھ ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ آپ مدینہ منورہ کے بعض باغات میں داخل ہوئے آپ نے گری ہوئی کھجوریں اٹھانی شروع فرماءٰں اور کھانے لگے مجھ سے فرمایا اے ابن عمر تجھے کیا ہوا تو نہیں کھاتا میں نے عرض کیا یارسول اللہ مجھے خواہش نہیں آپ نے فرمایا لیکن مجھے خواہش ہے اور یہ چوتھی صبح ہے کہ میں نے کوئی کھانا نہیں چکھا اور نہ اس کو پایا اگر میں چاہتاتو میں اپنے رب سے دعا کرتا کہ مجھے بھی کسری اور قیصر جیسے خزانے عطا فرمائیے۔ اے ابن عمر ؓ تیرا کیا خیال ہوتا جب تو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَىِٕنْ [اور بیشک اگر ] سَاَلْتَهُمْ [آپ ﷺ پوچھیں ان سے ] مَّنْ نَّزَّلَ [کس نے اتارا ] مِنَ السَّمَاۗءِ [آسمان سے ] مَاۗءً [کچھ پانی ] فَاَحْيَا [پھر زندہ کیا ] بِهِ [اس سے ] الْاَرْضَ [زمین کو ] مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا [اس کے مردہ ہونے کے بعد ] لَيَقُوْلُنَّ [تو وہ لوگ لازما کہیں گے ] اللّٰهُ ۭ [اللہ نے ] قُلِ [آپ ﷺ کہیے ] الْحَمْدُ [تمام شکرو سپاس ] لِلّٰهِ ۭ [اللہ کے لئے ہے ] بَلْ [بلکہ (یعنی لیکن)] اَكْثَرُهُمْ [ان کے اکثر ] لَا يَعْقِلُوْنَ [عقل سے کام نہیں لیتے ] ۔ نوٹ۔ 1: شروع سورت سے مسلمانوں کے ساتھ کفار کی عداوت اور ان کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹوں کا بیان ہے۔ زیر مطالعہ آیات میں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 62–64

دنیا والی زندگی لہو و لعب ہے، حقیقی زندگی آخرت ہی کی زندگی ہے اس آیت کریمہ میں دنیا کی فنا اور آخرت کی بقا کو اجمالی طور پر بیان فرمایا ہے اور مشرکین و کافرین کی ناسمجھی اور نادانی اور بےعقلی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا کی زندگی جتنی بھی دراز ہوجائے اور اس میں جتنی بھی نعمتیں مل جائیں سب ہیچ ہیں۔ کیونکہ انسان کی اصل ضرورت آخرت کی ضرورت ہے جہاں دوام ہے اور ابدی زندگی ہے، وہاں کی دائمی زندگی اور ابدی نعمتوں کے سامنے یہ فنا ہونے والی دنیا جو وہاں کچھ بھی کام نہ کرے گی بالکل لہو و لعب ہے، جیسے بچے آپس میں کھیلتے ہیں، ہوٹل بھی کھولتے ہیں، دکاندار بن کر بھی بیٹھتے ہیں، کھانے پینے کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 56–63

ترغیب ہجرت وذکر بقائے عالم آخرت وبیان حقارت دنیا وفناء وزوال او قال اللہ تعالیٰ یعبادی الذین امنوا ان ارضی واسعۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وان اللہ لمع المحسنین۔ (ربط) جب کفار مکہ مسلمانوں کی ایذا رسانی پر تل گئے اور مسلمانوں کو احکام اسلام بجا لانا دشوارہو گیا تو حکم نازل ہوا کہ مسلمان مکہ سے ہجرت کر جائیں اور جہاں ارکان اسلام آزادی کے ساتھ ادا کرسکیں وہاں چلے جائیں کافروں کی زمین میں کافروں کے ساتھ رہنا درست نہیں چناچہ صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے اول حبشہ کی طرف ہجرت کی پھر بعد چندے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی زجاج (رح) کہتے کہ جس جگہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت نماز روزہ ممکن نہ ہو یا جس جگہ علی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

52:۔ یہ چوتھی عقلی دلیل ہے علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ مشرکین مانتے ہیں کہ آسمان سے بارانِ رحمت نازل فرما کر زمین سے انواع و اقسام کے غلے اور بھل وہی پیدا کرتا ہے تو پھر ان پر حیف ہے کہ وہ اللہ کے سوا اوروں کو برکات دہندہ اور کارساز سمجھ کر پکارتے ہیں۔ قل الحمد للہ الخ۔ یہ دلائل یہ دلائل عقلیہ مذکورہ کا ثمرہ ہے۔ جب مشرکین کے اپنے اقرار و اعتراف ہی سے ثابت ہوگیا کہ ساری کائنات کا خالق اور اس میں متصرف و مختار اللہ تعالیٰ ہی ہے تو آپ اعلان فرما دیجئے کہ اس سے معلوم ہوا کہ تمام صفات کارسازی ذات باری تعالیٰ کے ساتھ مختص ہیں اور ان صفات میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ لیکن دلائل کے اس قدر وضوح و ظہور کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 60–63

ربطہ آیات اس سورة مبارکہ میں زیادہ تر ایمان کے ساتھ ابتلا کا ذکر ہے۔ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کی مثالیں بھی بیان فرمائیں کہ اس نے اپنے جلیل القدر بندوں کو کس طرح آزمائش میں ڈالا پھر کفرو شرک کا رد کیا ، نبوت و رسالت پر معترضین کے اعتراضات کے جوابات دئیے۔ پھر ابتلا ہی کے ضمن میں ہجرت کا مقام بیان فرمایا اور اہل ایمان کو حکم دیا کہ جب کفار اہل ایمان پر عرصہ حیات تنگ کردیں اور انہیں دینی شعائر بھی ادا نہ کرنے دیں تو موخر الذھر کا فرض ہوجاتا ہے کہ ایسی جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ ہجرت کر جائے کیونکہ اللہ کی زمین بڑی وسیع ہے۔ مسند احمد کی روایت میں حضرت زبیر بین العوامہ ؓ سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَىِٕنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَحْيَا بِہِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِہَا لَيَقُوْلُنَّ اللہُ۝ 0ۭ قُلِ الْحَمْدُ لِلہِ۝ 0ۭ بَلْ اَكْثَرُہُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ۝ 63ۧ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل )…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 56–63

جبکہ کفار و مشرکین مکہ اور نیز اہل کتاب کا حال اور ان کے نامحمود طریقے کی برائی اور آخرت کا حال صاف صاف بیان ہوا تو شدہ شدہ کفار مکہ کو نہایت جوش و تعصب ہوا کہ دینداروں کو نہایت تکلیفیں دینی شروع کردیں جن کو مسلمان نہایت استقلال اور ثابت قدمی کے ساتھ برداشت کرتے رہے، مگر جب ادائِ ارکان دینی سے بھی سخت مانع آئے تو وطن چھوڑ کر باہر جانے کی اجازت ہی نہ دی بلکہ رغبت دلائی گئی، اس لیے یہ آیتیں نازل ہوئیں جن میں ہجرت کی ترغیب ہے، جس سے مسلمان ملک حبشہ اور مدینہ کی طرف ہجرت کرکے جانے لگے۔ فقال یعبادی الذین امنو کہ اے میرے ایماندار بندوں میری زمین فراخ اور کشادہ ہے، کس لیے یہاں پڑے ہو باہر جاؤ اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَاَحْیَابِہِ الْاَرْضَ مِنْ م بَعْدِ مَوْتِھَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ ط قُلِ الْحَمْدُلِلّٰہِ ط بَلْ اَکْثَرُھُمْ لاَ یَعْقِلُوْنَ ۔ (العنکبوت : 63) (اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان سے کس نے پانی اتارا، پھر اس کے ذریعے سے زمین کو زندہ کیا اس کے مردہ ہوچکنے کے بعد، تو وہ ضرور کہیں گے، اللہ نے۔ کہہ دیجیے ! الحمدللہ، بلکہ ان میں سے اکثر لوگ سمجھتے نہیں۔ ) مشرکین کے فکری تضاد کی ایک مثال اہلِ عرب کی ضروریاتِ زندگی میں پانی کو بےحد اہمیت حاصل تھی۔ انسانی جسم کے علاوہ زمین کی سیرابی کا یہی ایک ذریعہ تھا جو کبھی آسمان سے اترتا اور کبھی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 63–64

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین سے ایک اور سوال اور دنیا کی حیثیت۔ اے پیغمبر ﷺ ان سے سوال کریں کہ آسمان سے کون بارش برساتا ہے اور اس بارش کے ساتھ مردہ زمین کو کون زندگی عطا کرتا ہے ؟ لا محالہ ان کا جواب ہوگا کہ بارش برسانے والا اور اس کے ساتھ نباتات اگانے والا صرف ایک ” اللہ “ ہے۔ انہیں فرمائیں کہ تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں لیکن لوگوں کی اکثریت ماننے کے لیے تیار نہیں جس دنیا کی خاطر یہ لوگ اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتے ہیں یہ دنیا کھیل تماشا کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتی یقیناً آخرت کا گھر ہمیشہ کے لیے ہے۔ کاش لوگ یہ حقیقت پاجائیں۔ کفار کے اعتراف کے جواب میں اس لیے اللہ کا شکر ادا کرنا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اعتراضِ دلیل : 63: وَلَپنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ مِنْ بَعْدِ مَوْتِہَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ (اور اگر آپ ان سے سوال کریں کس نے آسمان سے پانی اتارا پس اس سے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد زندہ کردیا وہ ضرور کہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ) یعنی وہ اس کا اقرار کرنے والے ہیں۔ اقرارِ توحید نفی شرک میں ہے : قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ (کہہ دیں تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں) ۔ کہ اس نے زمین کو زندہ کرنے کے لئے پانی اتارا۔ یا نمبر 2۔ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں۔ اس طرح کہ میں بھی ان میں سے ہوں جو انہی باتوں کا اقرار اسی طرح کرنے والے ہیں جس طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

63۔ ولئن سالتھم من نزل من السماء ماء فاحیابہ الارض، ،، ، یہ تمام کام اللہ تعالیٰ کرتا ہے اہل مکہ اس کے مقرب ہیں۔ بل اکثرھم لایعقلون، بعض نے کہا کہ قل الحمدللہ، تاکہ ان کے اقرارپرحجت تام ہوجائے۔ وہ توحید کے منکر ہیں حالانکہ انہوں نے اس کا اقرار کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے سب اشیاء پیدا کی ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 61–69

61 تا 69۔ اللہ تعالیٰ ان آیتوں میں اپنا معبود ہونا بیان فرماتا ہے کہ اس کے سوائے کوئی لائق بندگی کے نہیں ہے کس واسطے کہ مشرک لوگ اگرچہ خدا کے سوا اوروں کو بھی پوجتے ہیں لیکن آسمان و زمین چاند سورج رات دن کا پیدا کرنے والا خدا ہی کو جانتے ہیں اور اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ بندوں کا روزی دینے والا اور مارنے والا بھی وہی اللہ ہے اور وہی کسی کو امیر اور کسی کو فقیر جیسا مناسب دیکھتا ہے اور جس کا جس کا مستحق جانتا ہے ویسا ہی کرتا ہے وہی سب کا خالق ہے یہ سب کچھ کہہ کر پھر بتوں کو اپنا معبود جانتے ہیں کی زندگی پر رکھا تھا اس لیے آگے کی آیت میں اللہ تعالیٰ دنیا کی حقارت اور آخرت کی تعریف بیان فرماتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 61–63

آیت نمبر : 63-62-61 ان آیات کریمہ میں مشرکین کے خلاف ‘ جو توحید الوہیت اور توحید عبادت کی تکذیب کرتے ہیں۔۔۔ توحید ربوبیت کے ذریعے سے ‘ جس کا وہ اقرار کرتے ہیں۔۔۔ الزای استدلال کیا گیا ہے۔ آپ ان سے پوچھیں کہ زمین اور آسمان کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ کون ہے جو آسمان سے پانی برساتا ہے پھر اس کے ذریعے سے زمین کے مرنے کے بعد اس کو زندگی عطا کرتا ہے اور کون ہے جس کے ہاتھ میں تمام کائنات کی تدبیر ہے ؟ (لیقولن اللہ) تو وہ جواب دیں گے کہ اکیلے اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ ان تمام امور میں بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی ‘ جن کی وہ عبادت کرتے ہیں ‘ بےبسی کا اعتراف کریں گے۔ ان کے جھوٹ اور بہتان طرازی پر تعجب…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–69

قول باری ہے : (ولا تجادلوا اھل الکتاب الا بالتیھی احسن۔ اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقے سے) قتادہ کا قول ہے کہ یہ آیت قول باری (وقاتلوا المشرکین اور مشرکین سے قتال کرو) کی بنا پر منسوخ ہوچکی ہے۔ کوئی بحث تلوار کے استعمال سے بڑھ کر نہیں ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قتادہ کی مراد یہ ہے کہ آیت، زیر بحث کا حکم قتال کے حکم سے پہلے کا ہے۔ قول باری ہے : (الا الذین ظلموا منھم ۔ سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں) ۔ یعنی۔ واللہ اعلم۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے بحث وجدال وغیرہ میں تمہارے ساتھ ظلم کیا ہو جو اس امر کا مقتضی ہو کہ تم ان کے ساتھ سخت رویہ رکھو۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 42–69

58 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اس کے احاطہ علم کے اعتبار سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ پوری طرح جانتا ہے ان سب چیزوں کو جن کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں اللہ کے سوا "۔ تعمیم ملاحظہ ہو کہ اول تو { شیئ } خود نکرہ ہے جو ہر چیز کو شامل ہے۔ پھر اس پر { من } استغراقیہ سے مزید تاکید۔ یعنی کوئی بھی چیز خواہ کوئی فرشتہ ہو یا انسان، شجر ہو یا حجر، بت ہو یا جن وغیرہ وغیرہ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ مافوق الاسباب کسی کو بھی پکارنا شرک ہے جو کہ سب سے بڑا گناہ اور ناقابل معافی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اب وہ لوگ دیکھ لیں جو اس وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر اس کی عاجز مخلوق کو پکارتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے " یا رسول…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 56–63

مومنوں کے اوصاف اور ربوبیت الٰہی کے دلائل تشریح : ان آیات میں خوشخبری ان لوگوں کو دی گئی ہے جن میں صبر اور توکل ہو۔ یعنی ہر قسم کی آزمائش ‘ سختی اور مصیبت جو ان کو راہ خدا میں اٹھانی پڑے صبرو سکون سے برداشت کرتے ہوئے ایمان بااللہ پر قائم رہیں۔ اور پورا بھروسہ اللہ پر رکھیں ایمان کی حفاظت اور بقا کے لیے ان کو گھر بار ‘ جائیداد اور رشتہ دار عزیز بھی چھوڑنے پڑیں تو ہجرت ضرور کر جائیں یہ سنت ہے۔ اور جو اللہ کی محبت میں سب کچھ چھوڑ دیتا ہے وہ تو ویسے ہی اللہ کا مقبول ترین انسان بن جاتا ہے۔ جب کہ اللہ تو ویسے ہی بڑا مہربان اور رازق ہے کیونکہ وہ ہر کافر مشرک کو برابر رزق دیتا ہے۔ رزق دینا صرف اسی کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 52–63

آیات 52 تا 63 اسرارومعارف آپ ان سے کہ دیجیے کہ اس قدر دلائل کے بعد بھی اگر تم شبہات میں گرفتار ہو تو پھر میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے جو زمین و آسمان کے سب رازوں سے اقف ہے مومن و کافر کے دلوں کو جانتا ہے۔ اور یہ ظاہر ہوجائے گا جو لوگ باطل پر ہیں اور اللہ کے ارشادات کا انکار کرتے ہیں انجام کار وہی نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔ یہ عذاب مانگنے میں بڑی جلدی دکھاتے ہیں۔ اگر سب معاملات کے اوقات اللہ کریم نے طے نہ فرما دیے ہوتے تو انہیں مانگنے پہ بھی عذاب مل جاتا۔ بحر حال اللہ کی گرفت انہیں اچانک پکڑے گی جبکہ یہ سمجھ ہی نہ پائیں گے کہ سب کچھ کیسے ہوگیا دنیا میں بھی شکست کھا کر پھر موت کے منہ میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

7 ۔ یا ” شکر ہے اللہ کا کہ اس اعتراف نعمت کے باوجود تم جس شرک میں گرفتار ہو، ہم اس سے محفوظ ہیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ جب یہ سب نعمتیں اللہ کی عطا کردہ ہیں اور تم اس کا اعتراف کرتے ہو تو ضروری ہے کہ شکر بھی اسی کا کرو۔ 8 ۔ اگر عقل رکھتے ہوتے تو اس اعتراف نعمت کے باوجود شرک جیسی لعنت میں گرفتار نہ ہوتے۔ مطلب یہ ہے کہ جب کائنات کا خالق اور مدبر صرف اللہ ہے تو عبادت بھی اسی کی کرنی چاہیے۔ وکثیرا مایقدر تعالیٰ مقام الالوھیۃ بالاعتراف بتوحید الربوبیۃ۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(29:63) لیقولن۔ مضارع بلام تاکید ونون ثقیلہ جمع مذکر غائب۔ وہ ضرور کہیں گے۔ قل الحمد اللہ ! تو کہہ الحمد للہ۔ یعنی شکر الحمد اللہ کی اس بات کا اعتراف تو تم کرتے ہو۔ (جب وہ یہ مانتے ہیں کہ اللہ ہی بارش لاتا ہے جس سے کھیتیاں اگتی ہیں اور نشو و نما پاتی ہیں اور بار آور ہوتی ہیں اور وہی بنجر زمین کو زرخیز بناتا ہے تو اس حد تک تو ان کے اپنے اعتراف کے مطابق اللہ کا کوئی شریک نہ ہونا چاہیے لیکن ان کی بدقسمتی کہ اکثرہم لا یعقلون ان کی عقل ہی کام نہیں کرتی) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 61–64

لغات القرآن آیت نمبر (61 تا 64 ) ۔ سالت (تو نے پوچھا) ۔ سخر (اس نے تابع کردیا۔ مسخر کردیا) ۔ انی (کہاں ؟ ) ۔ یوفکون (الٹے پھرے جاتے ہیں) ۔ لھو (کھیل۔ کود) ۔ لعب (کھیلنا کودنا۔ اچھلنا) ۔ الحیوان (زندگی) ۔ تشریح : آیت نمبر (61 تا 64 ) ۔ ” قرآن کریم کے اولین مخاطب مکہ مکرمہ کے لوگ تھے جو اللہ کو اور بیت اللہ کو مانتے تھے مگر جب ان سے پوچھا جاتا تھا کہ تم ایک اللہ کی عبادت و بند گی چھوڑ کر ان تین سو ساٹھ بتوں سے امیدیں کیوں باندھتے ہو ؟ اور ان سے کیوں مانگتے ہو ؟ تو وہ کہتے تھے کہ ہم اللہ ہی کو ما نتے ہیں لیکن یہ بت اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ اگر یہ ہماری سفارش نہ کریں تو اللہ بھی ہماری نہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 61–64

(ف 1) اللہ تعالیٰ ان آیتوں میں اپنا معبود ہونابیان فرماتا ہے کہ اس کے سوائے کوئی لائق عبادت نہیں اس واسطے مشرک لوگ اگرچہ اللہ کے سوا اوروں کو پوجتے ہیں لیکن آسمان و زمین، چاند وسورج ، رات دن کا پیدا کرنے والا اللہ ہی کو جانتے ہیں۔ اور اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ بندوں کو روزی دینے والا اور مارنے والابھی وہی اللہ ہے پھر فرمایا کہ ان سے پوچھیے کہ کس نے اتارا آسمان سے پانی پھر چلایا اس سے زمین کو اس کے مرے پیچھے یعنی خشک کو تروتازہ کیا تو البتہ کہیں گے اللہ تعالیٰ نے ۔ مطلب یہ کہ نبی ﷺ کے زمانے کے کافر اقرار کرتے تھے کہ آسمان سے مینہ وہی برساتا ہے جب لوگ قحط سے مرنے لگتے ہیں، اور بندوں کا رازق…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 61–63

[28] یعنی اللہ کا شکر ہے کہ تم نے اس کا اعتراف تو کیا اور تمہارا نور فطرت بجھ نہیں گیا۔ اور الحمدللہ سے یہ مطلب بھی نکلتا ہے کہ جب یہ سارے کام اللہ کے ہیں تو پھر حمد کا مستحق بھی صرف وہی ہے دوسرا کوئی نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 62–63

ف 1: دنیا میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جن کی ساری کوششیں فکرمعاش پر مرکوز ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے بڑی ذمہ داری قدرت کی جانب سے ان پر عائد نہیں ہوتی ہے ۔ دن رات اس غم میں گھلے جارہے ہیں ۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس قسم کے لوگوں کے لئے ہجرت کا مسئلہ بہ نسبت دوسرے لوگوں کے زیادہ ٹیڑھا ہے ۔ وہ سب سے پہلے یہ سوچتے ہیں ۔ کہ اس وقت تو بمشکل تگ ودو کرکے برسوں کی محنت ورسوخ سے روزی مل رہی ہے ۔ جب اپنا ملک چھوڑ دیں گے اور بالکل غیروں کے ہاں جا کر بسیں گے ۔ تو پھر کھائیں گے کہاں سے ؟ ان پیٹ کے بندوں سے اس آیت میں مخاطب سے ، کہ کم بختو ، تم کس قدر کونا ہمت ہو اللہ پر تمہارا بھروسہ کس درجہ کم ہے ۔ تم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

63۔ اور اگر آپ ان منکرین توحید سے دریافت کریں کہ وہ کون ہے جس نے آسمان کی جانب سے پانی اتارا پھر اس پانی سے زمین کو اس کے خشک ہوئے پیچھے اور مرے پیچھے زندہ اور ترو تازہ کردیا تو وہ لوگ یہی جواب دیں گے کہ وہ اللہ ہی ہے آپ کہہ دیجئے سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں مگر یہ لوگ مانتے نہیں بلکہ ان میں کے اکثر لوگ سمجھتے بھی نہیں اور سمجھ سے کام نہیں لیتے۔ یعنی آپ ان کا جواب سن کر الحمد اللہ کہئے جب ہر چیز کا خالق بھی وہی اور رازق بھی وہی پھر اب اس کی الوہیت کا اعتراف کرنے میں کیوں جھجکتے ہو لیکن یہ مانتے نہیں مانیں تو کیا یہ تو عقل سے کام ہی نہیں لیتے۔ حضر ت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی مینہ بھی ہر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ نہ اس وجہ سے کہ عقل نہیں، بلکہ عقل سے کام نہیں لیتے اور غور نہیں کرتے، اس لئے بدیہی بھی خفی رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بارش برسانے والا اور زمین کو کاشت کے قابل بنانے والا کون ہے ؟ وہ جواب دیں گے اللہ : 63۔ یہ سوال بھی آیت 61 کی طرح مشرکین مکہ اور کفار مکہ ہی سے ہے اور اس لئے ہے کہ وہ آسمان سے بارش برسانے والا اور زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے اور تسلیم کرتے تھے اور ان کو توجہ دلائی گئی ہے کہ جب تم اتنے بڑے نظام کے چلانے والا اور اس کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے اور تسلیم کرتے ہو تو پھر تمہاری حاجت روائی اور مشکل کشائی آخر وہ کیوں نہیں کرسکتا ۔ تعجب ہے تم پر کہ اتنے بڑے عالم کا پیدا کرنے والا اور اس کا نظام چلانے والا تو تم اللہ تعالیٰ ہی کو قرار دو اور جب تمہاری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 62–64

Commentary In the preceding verses it was said about the infidels and disbelievers that if they were asked about the creation of the earth and skies, the solar system, the water cycle and its effect on growth of vegetation, they would reply that all this is created and controlled by Allah Ta a1a. They did not believe that any one had any involvement in their creation or control, yet in their worship they associate idols with Allah. The reason for this is أَكْثَرُ‌هُمْ لَا يَعْقِلُونَ (Most of them do not understand - 29:63). At this point the question arises that, after all, they were not…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 62–63

101 Here the word al-hamdu-lillah (Praise be to Allah) gives two meanings: (1) "When all this is done by Allah, then He alone is worthy of all praise, and none else", and (2) "Thank God that you yourselves also admit this."

Read the full tafseer →