الٓمّٓ ۟ۚالٓمّٓ
الٓمٓ
— Fateh Muhammad Jalandhari
Alif, Lam, Meem.
— Saheeh International
Juz 21 · Ruku 1 of surah · Ruku 4 of juz
The Romans · Meccan · 60 ayahs · 6 rukus
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الٓمّٓ ۟ۚالٓمّٓ
الٓمٓ
— Fateh Muhammad Jalandhari
Alif, Lam, Meem.
— Saheeh International
Juz 21 · Ruku 1 of surah · Ruku 4 of juz
Read the whole surah · Surah Ar-Room
الٓمٓ
الم
الف، لام، میم (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،
الۤم۔
الف۔ لام۔ میم
ا لٓ مٓ
الف۔ لام۔ میم۔۔
الۗمّۗ
الۗمّۗ۔ حرف مقطعات میں سے ہے۔
Alif. Lam. Mim.
Alif, Lam , Mim .
Alif, Lam , Mim .
Alif Lam Mim.
Alif. Lam. Mim.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Alif, Lam, Meem.
Alif. Lam. Mim.
Alif Lam Mim.
Alif. Lam Mim.
Explained with ayahs 1–2
سورة الروم نام پہلی ہی آیت کے لفظ غُلِبَتِ الرُّوْمُ سے ماخوذ ہے۔ زمانہ نزول آغاز ہی میں جس تاریخی واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے اس سے زمانہ نزول قطعی طور پر متعین ہوجاتا ہے۔ اس میں ارشاد ہوا ہے کہ " قریب کی سرزمین میں رومی مغلوب ہوگئے ہیں "۔ اس زمانے میں عرب سے متصل رومی مقبوضات اردن، شام اور فلسطین تھے اور ان علاقوں میں رومیوں پر ایرانیوں کا غلبہ 615 ء میں مکمل ہوا تھا۔ اس لیے پوری صحت کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سورة اسی سال نازل ہوئی تھی، اور یہ وہی سال تھا جس میں ہجرت حبشہ واقعہ ہوئی۔ تاریخی پس منظر جو پیشین گوئی اس سورے کی ابتدائی آیات میں کی گئی ہے وہ قرآن مجید کے کلام الہی ہونے اور محمد…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر الۗمّۗ، (اس کے معنی اللہ کو معلوم ہیں) اہل روم ایک قریب کے موقع میں (یعنی ارض روم کے ایسے مقام میں جو بہ نسبت فارس کے عرب سے قریب تر ہے، مراد اس سے اذرعات و بصری ہے، جو ملک شام میں دو شہر ہیں۔ کذا فی القاموس، اور حکومت روم کے تحت میں ہونے سے ارض روم میں داخل ہیں۔ اس موقع پر اہل روم اہل فارس کے مقابلہ میں) مغلوب ہوگئے (جس سے مشرکین خوش ہوئے) اور وہ (رومی) اپنے (اس) مغلوب ہونے کے بعد عنقریب (اور یہ مغلوب اور غالب ہونا سب خدا کی طرف سے ہے، کیونکہ مغلوب ہونے سے) پہلے بھی اختیار اللہ ہی کو تھا (جس سے مغلوب کردیا تھا) اور (مغلوب ہونے سے) پیچھے بھی (اللہ ہی کو اختیار ہے جس سے غالب کر دے…
Read the full tafseer →1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت الم (1) یہ ہمارے نزدیک، جیسا کہ ہم جگہ جگہ وضاحت کرتے آرہے ہیں، مستقل جملہ ہے۔ یعنی یہ سورة الم ہے۔ یہ اس سورة کا اصل قرآنی نام ہے۔ یہی نام سابق سورة کا بھی ہے۔ قرینہ ہے اس بات کا کہ عمود کے اعتبار سے دونوں سورتوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ پچھلی سورة میں اس کائنات کا جو فلسفہ بیان ہوا تھا اور اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر رسول اور اس کے ساتھیوں کے لئے دنیا اور آخرت میں جس نصرت الٰہی اور غلبہ کی بشارت دی گئی تھی۔ ایک خاص واقعہ کو جس کی تفصیل آگے ارہی ہے، دلیل بنا کر کفار نے اس کا خوب مذاق اڑایا اور اس طرح ان کے زعم میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی تکذیب کے لئے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
سُوْرَۃُ الرُّوْمِ30یہ سورت مکی ہے اس میں 60 آیات اور -6 رکوع ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
الم ، غلبت الروم ۔۔۔۔۔۔۔۔ عن الاخرۃ ھم غفلون (1 – 7) سورة کا آغاز حروف مقطعات سے ہے۔ اشارہ اس طرف ہے کہ یہ قرآن اور یہ سورة انہی حروف سے بنائے گئے ہیں ، جو عربوں کی دسترس میں ہیں لیکن اس کے باوجود یہ قرآن اور یہ سورة معجز ہیں۔ آج تک وہ اس قسم کا کلام نہیں بنا سکے۔ یہ حروف تہجی خود ان کی زبان کے ہیں اور وہ ان سے کلمات و کلام بنا سکتے ہیں۔ اس کے بعد وہ سچی تاریخی پیشن گوئی آتی ہے جس میں یہ کہا گیا کہ رومی چند سالوں میں پھر غالب آجائیں گے۔ ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ ایرانی رومیوں پر غالب تھے اور مشرکین عرب چاہتے تھے کہ ایرانی رومیوں پر غالب رہیں اور…
Read the full tafseer →الف لام میم
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
فِیْٓ اَدْنَی الْاَرْضِ وَہُمْ مِّنْم بَعْدِ غَلَبِہِمْ سَیَغْلِبُوْنَ ”۔“ نقشے میں دیکھیں تو جزیرہ نمائے عرب کے اوپر شمال کی سمت میں شام ہے جبکہ شام کے ساتھ ہی نیچے عراق اور پھر عراق کے ساتھ مشرق کی سمت میں ایران واقع ہے۔ چناچہ جزیرہ نمائے عرب کی سرحد پر واقع ان علاقوں کو قریب کی سرزمین کہا گیا ہے جہاں ایرانیوں اور رومیوں کے درمیان مذکورہ جنگ جاری تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1 سورة روم کی ان ابتدائی آیات میں دو ایسی پیشین گوئیاں کی گئی ہیں جو اسلام اور پیغمبر اسلام کی رسالت کی حقانیت پر زبردست دلیل ہیں۔ ان میں پہلی پیشین گوئی یہ ہے کہ اگر آج روم شکست کھا گیا ہے تو چند ہی سالوں میں روم پھر ایران پر غالب آجائے گا۔ اور دوسری پیشین گوئی یہ تھا کہ اگر آج مسلمان مشرکین مکہ کے ہاتھوں مظلوم و متہور ہیں۔ تو ان کو بھی اسی دن مشرکین مکہ پر غلبہ حاصل ہوگا جس دن روم ایران پر غالب آئے گا اور قرآن نے یہ دونوں پیشین گوئیاں ایسے وقت میں بیان کیں جبکہ ان پیشین گوئیوں کے پورا ہونے کے دور دور تک کہیں آثار نظر نہیں آرہے تھے۔ تفصیل اس اجال کی یہ ہے کہ جس زمانہ میں آپ ﷺ کو نبوت عطا…
Read the full tafseer →1۔ حروف مقطعات پر حاشیہ پارۂ اول کے شروع میں گزر چکا۔ امام رازی (رح) نے یہاں یہ نکتہ خوب لکھا ہے کہ حروف مقطعات قرآن مجید کی جن جن سورتوں کی ابتداء میں آئے ہیں، عموما وہاں معا بعد ذکر ” قرآن “ یا ” کتاب “ یا ” تنزیل “ کا بھی آیا ہے۔ عام قاعدہ یہی ہے۔ البتہ کل تین مقام اس سے مستثنی ہیں۔ اور انہیں تین مستثنیات میں سے ایک موقع یہ ہے۔ قرآن یا کتاب یا تنزیل کا ذکر اعجازی ہی حیثیت سے آیا ہے۔ یہاں اعجازی پہلو بجائے کسی لفظ کے نفس مضمون سے آشکار ہے۔ یعنی جو زبردست پیشگوئی یہاں فورا بعد بیان ہورہی ہے، اس کا تمامتر پورا ہونا بجائے خود اعجاز قرآن کی ایک زبردست شہادت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 10 ترجمہ : الم اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے رومی مغلوب ہوگئے اور وہ اہل کتاب ہیں ان کو اہل فارس نے مغلوب کردیا اور وہ اہل کتاب نہیں ہیں، بلکہ بت پرست ہیں، اس خبر سے اہل مکہ خوشی ہوئے اور مسلمانوں سے کہا ہم تم کو اسی طرح مغلوب کردیں گے جس طرح اہل فارس نے رومیوں کو قریبی زمین میں یعنی جزیرۂ روم کے اس علاقہ میں جو فارس سے بہت قریب تھا، جہاں دونوں لشکروں کا مقابلہ ہوا تھا اور وہ یعنی رومی مغلوب ہونے کے بعد مصدر کی اضافت مفعول کی جانب کی گئی ہے، ای فارسٍ ایّاھم جنگ کی ابتداء کرنے والے اہل فارس ہیں، عنقریب چند سال کے بعد دونوں لشکروں کا دوبارہ مقابلہ ہوا،…
Read the full tafseer →الم۔
Read the full tafseer →(1 تا 5) الم۔ اس کے معنی اللہ ہی کو معلوم ہیں وہ ہی سب سے زیادہ جاننے والا ہے یا یہ کہ ایک قسم کے طور پر ہے۔ اہل روم فارس کے ایک قریبی علاقہ میں مغلوب ہوگئے یہ خبر سن کر مسلمانوں کو پریشانی ہوئی اور مشرکین اس سے بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمھی ایمان والوں پر غالب آجائیں گے جیسا کہ فارس والوں نے رومیوں پر غلبہ کرلیا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور وہ رومی فارس سے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب سات سالہ عرصہ میں دوبارہ فارس پر غالب آجائیں گے۔ اور اس غلبہ کی پیش گوئی پر حضرت ابوبکر صدیق نے ابی بن خلف جمحی سے دس اونٹوں پر پہلے (اور پھر بعد میں سو پر) معاہدہ کرلیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
تفسیر سورة الروم الۗمّۗ ۚغُلِبَتِ الرُّوْمُ ۙفِيْٓ اَدْنَى الْاَرْضِ۔۔ : ”الم“ کے متعلق سورة بقرہ کی ابتدا ملاحظہ فرمائیں۔ سورۂ روم کی ان ابتدائی آیات میں دو ایسی پیش گوئیاں کی گئی ہیں جو اسلام اور پیغمبر اسلام کی رسالت کے حق ہونے پر زبردست دلیل ہیں۔ ان میں سے پہلی پیش گوئی یہ تھی کہ اگر آج روم شکست کھا گیا ہے تو چند ہی سالوں میں روم پھر ایران پر غالب آجائے گا اور دوسری پیش گوئی یہ تھی کہ اگر آج مسلمان مشرکین مکہ کے ہاتھوں مظلوم و مقہور ہیں تو ان کو بھی اسی دن مشرکین مکہ پر غلبہ حاصل ہوگا جس دن روم ایران پر غالب آئے گا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو نبوت عطا ہوئی تو اس وقت عرب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
امام ترمذی نے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت نقل کی ہے جب بدر کا دن تھا تو رومی ایرانیوں پر غالب آئے اس امر نے مومنوں کو خوش کیا تو یہ آیات نازل ہوئیں (1) ۔ فرمایا : مومن رومیوں کے ایرانیوں پر غالب آنے سے خوش ہوگئے : کہا : یہ حدیث اس سند سے غریب ہے : نصر بن علی جہضمی نے پڑھا (2) اور اسے حضرت ابن عباس ؓ سے مکمل روایت کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے ان آیات کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا : (3) مشرک یہ پسند کرتے تھے کہ ایرانی رومیوں پر غالب آئیں کیونکہ دونوں بت پرست تھے۔ مسلمان یہ پسند کرتے تھے کہ رومی ایرانیوں پر غالب آئیں کیونکہ وہ اہل کتاب تھے۔ مشرکوں نے اس کا ذکر حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے کیا اور حضرت…
Read the full tafseer →1۔ احمد والترمذی وحسنہ والنسائی وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی والکبیر والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل والضیاء نے ابن عباس ؓ سے آیت الم، علبت الروم، کے بارے میں روایت کیا کہ مشرکین یہ پسند کرتے تھے کہ فارس والے روم پر غالب آئیں کیونکہ وہ بتوں کی پوجا کرنے والے تھے اور مسلمان یہ پسند کرتے تھے کہ روم والے فارس والوں پر غالب آئیں کیو کہ وہ اہل کتاب تھے مشرکین نے اس کا ذکر ابوبکر ؓ سے کیا اور ابوبکر نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خبردار عنقریب رومی غالب آجائیں گے ابوبکر نے ان مشرکین سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان ایک مدت…
Read the full tafseer →الۗمّۗ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
و فرحت ومسرت برائے اہل ایمان قال اللہ تعالیٰ الم غلبت الروم۔۔۔ الی۔۔۔ وہم عن الاخرۃ ہم غفلون۔ شان نزول : ہجرت سے قبل جب حضور پر نور ﷺ مکہ مکرمہ میں تھے تو فارس اور روم میں جنگ ہوئی اور اہل فارس بمقابلہ اہل روم غالب آئے مشرکین مکہ اس بات کو محبوب رکھتے تھے کہ فارس روم پر غالب ہوں کیونکہ اہل فارس اہل مکہ کی طرح مشرک تھے اہل مکہ بت پرست تھے اور اہل فارس آتش پرست تھے اور مسلمان اس بات کو پسند کرتے تھے کہ اہل روم فارس پر غالب ہوں اس لئے کہ اہل روم نصرانی تھے انبیاء (علیہم السلام) کے ماننے والے اور دین اسلام کے قریب تھے فارس کی فتح سے کفار قریش کو بہت خوشی ہوئی اور مسلمانوں سے یہ کہنا شروع کیا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2:۔ رومیوں اور فارس کے مجوسیوں کے درمیان اذرعات اور بصری یا اردن اور فلسطین کے درمیان جنگ ہوئی جس میں رومی مغلوب ہوگئے۔ مسلمانوں کی خواہش تھی کہ رومی غالب ہوں کیونکہ وہ اہل کتاب (نصاری) ہیں اس لیے اہل کتاب پر فارس کے مشرکوں (مجوسیوں) کے غلبے کی وجہ سے مسلمانوں کو بہت صدمی اور غم لاحق ہوا اور دوسری طرف مشرکین مکہ بہت خوش ہوئے کہ ان کے بھائی (مجوسی) اہل کتاب پر غالب آگئے۔ فی ادنی الارض الخ یعنی ایسی زمین میں جو فارس کی نسبت ارض مکہ سے زیادہ قریب ہے۔ وا دنی الارض اقربھا فان کانت الواقعۃ فی اذرعات فھی ادنی الارض بالنظر الی مکۃ) (بحر ج 7 ص 162) ۔ وقدجاء من طرق عدیدۃ ان الحرب وقع بین اذرعات و بصری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الروحہ ہے جو اس کی دوسری آیت میں آمدہ لفظ روم سے اخذ کیا گیا ہے۔ مفسرین کے مطابق یہ سورة مکی زندگی میں سورة انشقاق کے بعد نازل ہوئی۔ اس سورة مبارکہ کی ساٹھ آیات میں اور یہ چھ رکوع پر مشتمل ہے ۔ اس میں 918 الفاظ اور 0252 حروف میں یہ سورة طوالت کے لحاظ سے درمیانی سورتوں میں شمارہوتی ہے۔ رومی سلطنت روم ایک سلطنت کا نام تھا جسے نزول قرآن کے زمانہ میں رومۃ الکبریٰ بھی کہتے تھے ، بالکل اسی طرح جس طرح کچھ عرصہ پہلے تک برطانیہ کو برطانیہ عظمی Great BRITAIN کہا جاتا تھا۔ اس سلطنت کا اصل مرکز تو اٹلی میں تھا مگر بعد میں اس کا ایک حصہ الگ ہو کر جدید روم کو ملا جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
رکوع نمبر 4 سورة الروم بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الۗمّۗ 1ۚ غُلِبَتِ الرُّوْمُ 2ۙ غلب الغَلَبَةُ القهر يقال : غَلَبْتُهُ غَلْباً وغَلَبَةً وغَلَبا ، فأنا غَالِبٌ. قال تعالی: الم غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ [ الروم/ 1- 2- 3] ( غ ل ب ) الغلبتہ کے معنی قہرا اور بالادستی کے ہیں غلبتہ ( ض ) غلبا وغلبتہ میں اس پر مستول اور غالب ہوگیا اسی سے صیغہ صفت فاعلی غالب ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ الم غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ [ الروم/ 1- 2- 3] الم ( اہل ) روم مغلوب ہوگئے نزدیک کے ملک میں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
الٓـمّٓ۔ غُلِبَتِ الرُّوْمُ ۔ فِیْٓ اَدْنَی الْاَرْضِ وَھُمْ مِّنْ م بَعْدِ غَلَبِہِمْ سَیَغْلِبُوْنَ ۔ فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ 5 ط لِلّٰہِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ م بَعْدُ ط وَیَوْمَئِذٍیَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔ بِنَصْرِاللّٰہِ ط یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآئُ ط وَھُوَالْعَزِیْزُالرَّحِیْمُ ۔ (الروم : 1 تا 5) (ال م۔ رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہوگئے۔ اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد عنقریب وہ غالب آجائیں گے۔ چند سالوں میں، اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی، اور اس وقت اہل ایمان مسرور ہوں گے۔ اللہ کی مدد سے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور وہ زبردست اور رحیم ہے۔ ) گزشتہ سورة سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
غلبہ روم کی عظیم پیشگوئی : 1، 2، 3، 4: الٓمٓ۔ غُلِبَتِ الرُّوْمُ ۔ فِیْ اَدْنَی الْاَرْضِ (قریب ترین زمین میں رومی مغلوب ہوگئے) ۔ وَھُمْ مِّنْ 0 بَعْدِ غَلَبِھِمْ سیَغْلِبُوْنَ ۔ فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ (اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔ چند سال میں) الٓمّٓ۔ غُلِبَتِ الرُّوْمُ (یعنی فارس نے روم پر غلبہ پالیا) ۔ فِیْ اَدْنَی الْاَرْضِ (یعنی عرب کے قریب ترین علاقہ میں) الارض میں الف لام عہد کا ہے اور مراد اس سے سرزمین عرب ہے مطلب یہ ہے کہ رومی سرزمین کے قریبی علاقہ شام میں مغلوب ہوگئے ہیں نمبر 2۔ ارض سے رومیوں کی زمین مراد ہو۔ اس صورت میں الف لام مضاف الیہ کے قائم مقام ہوگا یعنی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
فارس اور رومیوں کے درمیان جنگ کا واقعہ۔ تفسیر۔ فارس اور روم میں جنگ تھی۔ مشرک دل سے چاہتے تھے کہ اہل فارس رومیوں پر غالب آجائیں کیونکہ فارس والے مجوسی تھے ان کے پاس کوئی آسمانی کتاب نہیں تھی اور مسلمان چاہتے تھے کہ رومی فتح یاب ہوجائیں کیونکہ رومی اہل کتاب تھے ۔ کسری پرویزبن ہرمزبن نوشیرواں نے ایک لشکر روم کی طرف بھیجا جس کی قیادت شہرزاد کے سپرد کی اور قیصر نے ایک لشکر یحسیس کی زیرسرکردگی روانہ کیا ۔ دونوں فوجوں کا مقابلہ اذرعات علاقہ شام وبصری کے مقام پر ہوا۔ (یہ شامی علاقہ ارض عرب کے بہت قریب تھا اور عجم سے بھی قریب تھا) آخر میں فارس والے رومیوں پر غالب آگئے۔ مسلمانوں کو مکہ میں اس کی اطلاع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1 تا 7 صحیح سند سے ترمذی نسائی مسند امام احمد وغیرہ میں جو شان نزول ان آیتوں کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے بیان کی گئی ہے اس کا اور معتبر تاریخ کی کتابوں کی روایتوں 1 ؎ کا حاصل یہ ہے۔ ؎(لگتے ملک میں) یعنی ساتھ ملتے ملک میں سے مراد شام ہے جہاں عیسائیوں کی حکومت تھی اور جو حجاز کے قریب ہے (ع ‘ ح) کہ روم میں بادشاہت پہلے تو ستارہ پرست لوگوں کی تھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد تین سو برس کے قریب تک اس مذہب کے لوگ ملک روم کے باردشاہ رہے اور ان کا ہی لقب قیصر ہوتا تھا پھر ان میں کا ایک بادشاہ جس کا نام قسطنطین تھا نصرانی ہوگیا اور یہ شہر قسطنطنیہ اس نے بنایا اور بارہ ہزار کے قریب گرجے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
سورة الروم آیت نمبر : 7-6-5-4-3-2-1 اس زمانے میں ایران اور روم دنیا کی سب سے بڑی سلطنتیں تھیں ان دونوں کے درمیان اکثر جنگیں ہوتی رہتی تھیں جیسا کہ ہم پلہ سلطنتوں کے مابین اس قسم کی لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں۔ ایرانی مشرک تھے اور آگ کی پوجا کرتے تھے۔ رومی اہل کتاب تھے اور اپنے آپ کو تورات اور انجیل کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اہل فارس کی نسبت رومی مسلمانوں کے زیادہ قریب تھے ‘ اس لیے مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ایرانیوں پر فتح حاصل کریں چونکہ مشرکین مکہ اور اہل فارس شرک میں مشترک تھے اس لیے مشرکین مکہ رومیوں پر اہل فارس کی فتح چاہتے تھے۔ ایرانیوں کو رومیوں کے خلاف جنگی کامیابیاں حاصل ہوئیں لیکن انہیں مکمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1 رومیوں اور ان کی مغلوبیت کا ذکر : رومی تاریخ کی ایک قدیم اور عظیم الشان قوم ہے اور ان کا تعلق روم بن عیض بن اسحاق بن ابراہیم سے ہے۔ اور قریب کی سرزمین سے مراد شام و فلسطین کی سرزمین ہے جو کہ عربوں کے سب سے قریب تھی اور جس پر اس دور میں رومیوں کا غلبہ اور ان ہی کی حکومت تھی۔ اور اس دور میں روم اور فارس دو بڑے بلاک تھے جن میں سے رومی بلاک کا تعلق اہل کتاب سے تھا۔ جبکہ فارس والے مشرک تھے۔ اور ان دونوں بلاکوں کے درمیان باہمی چپقلش اور جنگ و جدل کا سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں جاری ہی رہتا تھا۔ مسلمانوں کی ہمدردیاں جیسا کہ اگلے حاشیے میں آ رہا ہے قدرتی طور پر اہل کتاب سے تھیں اور مشرکین کی اہل فارس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
دو ناممکن فتوحات کی بشارت تشریح : محمد ﷺ کی پیدائش سے پہلے ایران اور روم کی دو سلطنتیں بڑی زبردست تھیں۔ ان کی آپس میں لڑائی ہوتی رہتی تھی۔ ایرانی آتش پرست تھے اور رومی اہل کتاب تھے۔ 570 ء میں آپ ﷺ کی ولادت ہوئی 610 ء میں آپ کو نبوت ملی۔ 615 ء میں ایران نے روم کے دارالسلطنت قسطنطنیہ پر چڑھائی شروع کردی۔ مکہ والے کیونکہ مشرک و کافر تھے، اس لیے ایرانیوں کی کامیابی پر بڑے خوش ہوئے اور رومی کیونکہ اہل کتاب عیسائی تھے اور اعتقادات کے لحاظ سے مسلمانوں کے کچھ کچھ قریب تھے اس لیے ان کی شکست پر مسلمانوں کو چڑانے لگے کہ دیکھو اللہ والوں کی اللہ نے مدد نہیں کی۔ تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تسلی دی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
سورة روم۔ رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 10 اسرارومعارف رومیوں میں اور کسری پرویز میں جنگ ہوئی رومی اہل کتاب اور فارسی آتش پرست تھے اگرچہ دونوں کافر تھے مگر اہل کتاب ہونے کی وجہ سے اہل فارس کی نسبت مسلمانوں کی ہمدردی رومیوں سے تھی مگر اس جنگ میں رومی ہار گئے چند سرحدی شہر فارس نے فتح کرلیے اسی فتح میں قسطنطنیہ بھی تھا جہان کسری پرویز نے آتشکدہ بنوایا اس پر مشرکین بہت خوش ہوئے تو یہ سورة نازل ہوئی اور ارشاد ہوا کہ اگرچہ رومی شکست کھا گئے ہیں مگر آئندہ چند برسوں میں یہ پھر غالب آجائیں گے چناچہ مشرکین کے لیے خوشی کا کوئی موقع نہیں یہ ایک بہت بڑی پیش گوئی تھی بظاہر ایسا ہونے کے امکانات نظر نہ آتے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
4 ۔ کئی برس سے ایران اور روم کے درمیان جنگوں کا سلسلہ جاری تھا۔ روم کے اہل کتاب ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کی ہمدردیاں ان کے ساتھ تھیں اور ان کی فتح سے خوش تھے اور ایرانی آتش پرست تھے اس لئے مشرک ان کے غلبہ اور فتح سے خوش ہوتے۔ آخر کار آنحضرت ﷺ کی بعثت کے تقریباً پانچ سال بعد، ایران اور روم کے درمیان ایک زبردست معرکہ ہوا جس میں ایرانی غالب رہے، جس پر مشرکین مکہ نے خوشیاں منائیں اور مسلمانوں سے ازراہ فخر و غرور کہنے لگے کہ دیکھا غیر کتاب والے (ایرانی) کتاب والوں یعنی رومیوں پر غالب آگئے۔ اسی طرح ہم بھی تم پر غالب رہیں گے۔ ان باتوں سے مسلمانوں کو سخت صدمہ ہوتا۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور قرآن نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(30:2) غلبت الروم ۔ غلبت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب ، مغلوب ہوئی۔ شکست کھائی۔ ہرادی گئی۔ الروم سے مراد سلطنت روم۔ روم کی فوجیں یا خود اہل روم ہیں۔ الروم سے مراد یہاں قدیم رومن ائمپائر کا وہ مشرقی حصہ ہے جو 295 ء میں اس سے کٹ کر ایک مستقل حصہ بن گیا تھا۔ یہ سلطنت 1454 ء تک رہی اس میں شام فلسطین۔ ایشیائے کوچک کے علاقے سب شامل تھے 1454 ء کے بعد یہ سلطنت ترکوں کے قبضہ میں آگئی۔ حکومت روم کی جس شکست کا یہاں ذکر ہے وہ 14، 613 ء میں وقوع پذیر ہوئی ۔ جب مسیح رومیوں کو مجوس ایران کے مقابلہ میں سخت ہزیمت اٹھانا پڑی اور انطاکیہ دمشق کے علاقوں پر ایرانیوں نے قبضہ کرلیا۔ اور ہزاروں عیسائیوں کو یہ تیغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(ف 1) شان نزول : روم میں پہلے تو ستارہ پرست لوگوں کی بادشاہت تھی، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد تین سو برس کے قریب تک اس مذہب کے لوگ ملک روم کے بادشاہ رہے پھر ان میں ایک بادشاہ جس کا نام قسطنطین تھا، نصرانی ہوگیا، اور یہ شہر قسطنطنیہ اس نے بنایا، اور بارہ ہزار کے قریب گرجابنائے اور بہت سے قانون جاری کیے اور اسی کے زمانے میں دین عیسائی کی بہت باتوں میں ردوبدل ہوگیا، غرض اس کے زمانہ سے روم کے ملک میں نصرانی بادشاہت شروع ہوئی اسی سلسلہ کا جب ہر قل بادشاہ تھا اس سے اور ملک فارس سے جس کالقب کسری تھا اور لڑائی ہوئی اور کسری کی فوج ہر قل کی فوج پر غالب آئی، یہ وہ زمانہ تھا کہ جس وقت نبی ﷺ مکہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
[1] یہ اشارہ اس جنگ کی طرف ہے جو اس زمانے میں روم اور ایران کی سلطنتوں کے درمیان ہو رہی تھی۔ 614 عیسوی میں عیسائی رومیوں کو آتش پرست مجوسی ایرانیوں کے مقابلے میں زبردست شکست ہوئی۔ شام، مصر، ایشیائے کوچک وغیرہ کے سب علاقے رومیوں کے ہاتھ سے نکل گئے اور رومیوں کا دارسلطنت بھی خطرے میں پڑگیا۔ بیت المقدس سے عیسائیوں کی سب سے زیادہ مقدس صلیب بھی ایرانی فاتحین لے اڑے اور قیصر روم کا اقتدار بالکل فنا ہوگیا۔ بظاہر کوئی صورت روم کے ابھرنے اور ایران کے تسلط سے نکلنے کی باقی نہ رہی۔ ایران کا مذہب کیونکہ مشرکین عرب سے ملتا جلتا تھا اور وہ لوگ بھی نبوت و رسالت کے قائل نہ تھے اس لئے قدرتاً اہل مکہ ان کی فتح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 2: بات یہ تھی کہ مشرکین مکہ کو حضور ﷺ سے سخت عناد تھا ۔ اس لئے وہ نہیں چاہتے تھے ۔ کہ آپ کو اور آپ کی جماعت کو کسی طرح کی کامیابی حاصل ہو ۔ بلکہ وہ اس درجہ متعصف تھے کہ صریحات پرستی اور حمیمیت کی تائید کرتے کیونکہ یہ چیزیں اسلام کی روح کے بالکل متضاد واقع ہوئی ہیں اور ہر اس واقعہ سے خوش ہوئے ۔ جس کا تعلق مسلمانوں کی دل گرفتگی اور آزردگی سے ہوتا ہے ۔ چناچہ جب ابرائیوں اور رومیوں میں جنگ چھڑی اور محبوسیت کو عیسائیت پر فتح ہوئی ۔ تو ان لوگوں نے مسرت واجتہاج کے شادیانے بجائے ۔ اس لئے نہیں ۔ کہ ایرانیوں سے فی القواعہ انہیں کوئی وابستگی تھی ۔ بلکہ محض اس لئے کہ اسلام سے دشمنی تھی ۔ اور ایرانی…
Read the full tafseer →1۔ الم
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 1۔ ایک بار روم اور فارس میں مقام اذرعات و بصری کے درمیان لڑائی ہوئی اور رومی مغلوب ہوگئے، مشرکین مکہ مسلمانوں سے کہنے لگے کہ تم اور رومی اہل کتاب ہو اور ہم اور فارسی غیر اہل کتاب ہیں، پس روم پر فارس کا غالب آنا فال ہے اس کی کہ ہم بھی تم پر غالب رہیں گے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ جن میں پیشنگوئی ہے کہ نو سال کے اندر رومی فارسیوں پر غالب آجاویں گے، چناچہ اس سے ساتویں برس پھر دونوں کا مقابلہ ہوا اور رومی غالب آگئے جس سے وہ پیشنگوئی پوری ہوئی۔
Read the full tafseer →الف ۔۔۔۔۔۔ لا ۔۔۔۔۔۔۔ م می ۔۔۔۔ حروف مقطعات میں سے ہے : 1۔ الف لام می م حروف مقطعات میں سے ہے ۔ حروف مقطعات کے متعلق سورة البقرہ کی پہلی آیت میں تفصیل سے کردیا گیا ہے ، حروف مقطعات قرآن کریم کی 29 سورتوں کے شروع میں آتے ہیں جن میں سے اس سورت کا نمبر سولہواں ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 from what lbn `Abbas and the other Companions and their followers have said, it appears that the Muslims' sympathies in this war between Byzantium and Iran were with Byzantium and of the disbelievers of Makkah with Iran. This had several reasons. First, the Iranians had given it the colour of a crusade between Magianism and Christianity, and, apart from the object of political conquest, they were making it a means of spreading Magianism. In the letter that Khusrau Parvez wrote to the Emperor Heraclius after the conquest of Jerusalem, he had clearly mentioned his victory as a proof of the…
Read the full tafseer →