Ar-Room 30:2

Ar-Room · from ayah 2

30:2

غُلِبَتِ الرُّوْمُ ۟ۙغُلِبَتِ الرُّوۡمُۙ‏

(اہلِ) روم مغلوب ہوگئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

The Byzantines have been defeated

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 1 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Room

All translations of 30:2

رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہو گئے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اہلِ) روم مغلوب ہوگئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

رومی مغلوب ہوگئے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

رومی لوگ مغلوب ہوگئے ہیں

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اہلِ روم (فارس سے) مغلوب ہوگئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

رومی مغلوب ہوگئے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہوگئے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

مغلوب ہوگئے رومی

— مولانا اسحاق مدنی

اہل روم ایک قریب کی زمین میں مغلوب ہوگئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اہل روم مغلوب ہوگئے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The Romans have been defeated

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The Romans have been defeated

— Muhammad Taqi Usmani

The Romans have been defeated

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The Romans have been defeated.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The Byzantines have been defeated

— Saheeh International

The Romans have been defeated in a nearby land and after this defeat,

— Muhammad Sarwar

The Romans are vanquished,

— Muhammad Habib Shakir

The Byzantians have been overcome.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 30:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 2–7

معرکہ روم وفارس کا انجام یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جبکہ نیشاپور کا شاہ فارس بلاد شام اور جزیرہ کے آس پاس کے شہروں پر غالب آگیا اور روم کا بادشاہ ہرقل تنگ آکر قسطنطیہ میں محصور ہوگیا۔ مدتوں محاصرہ رہا آخر پانسہ پلٹا اور ہرقل کی فتح ہوگئی۔ مفصل بیان آگے آرہا ہے۔ مسند احمد حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی اور مشرکین نے اس پر بہت خوشیاں منائیں۔ اس لئے کہ جیسے یہ بت پرست تھے ایسے ہی فارس والے بھی ان سے ملتے جلتے تھے اور مسلمانوں کی چاہت تھی کہ رومی غالب آئیں اس لئے کم از کم وہ اہل کتاب تو تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جب یہ ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ نے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–2

سورة الروم نام پہلی ہی آیت کے لفظ غُلِبَتِ الرُّوْمُ سے ماخوذ ہے۔ زمانہ نزول آغاز ہی میں جس تاریخی واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے اس سے زمانہ نزول قطعی طور پر متعین ہوجاتا ہے۔ اس میں ارشاد ہوا ہے کہ " قریب کی سرزمین میں رومی مغلوب ہوگئے ہیں "۔ اس زمانے میں عرب سے متصل رومی مقبوضات اردن، شام اور فلسطین تھے اور ان علاقوں میں رومیوں پر ایرانیوں کا غلبہ 615 ء میں مکمل ہوا تھا۔ اس لیے پوری صحت کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سورة اسی سال نازل ہوئی تھی، اور یہ وہی سال تھا جس میں ہجرت حبشہ واقعہ ہوئی۔ تاریخی پس منظر جو پیشین گوئی اس سورے کی ابتدائی آیات میں کی گئی ہے وہ قرآن مجید کے کلام الہی ہونے اور محمد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–3

معارف و مسائل قصہ ناول سورت روم اور فارس کی جنگ سورة عنکبوت اس آیت پر ختم ہوتی ہے جس میں حق تعالیٰ نے اپنے راستہ میں جہاد و مجاہدہ کرنے والوں کے لئے اپنے راستے کھول دینے اور ان کے لئے مقاصد میں کامیابی کی بشارت دی تھی۔ سورة روم کی ابتداء جس قصہ سے ہوئی ہے وہ اسی نصرت الہیہ کا ایک مظہر ہے اس سورت میں جو واقعہ روم اور فارس کی جنگ کا مذکور ہے یہ دونوں کفار ہی تھے، ان میں سے کسی کی فتح کسی کی شکست بظاہر اسلام اور مسلمانوں کے لئے کوئی دلچسپی کی چیز نہیں، مگر ان دونوں کفار میں اہل فارس مشرکین آتش پرست تھے اور روم و نصاری اہل کتاب اور ظاہر ہے کہ دونوں قسم کے کفار میں اہل کتاب مسلمانوں سے نسبتاً قریب…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 2–4

غلبت الروم۔ فی ادنی الارض و ھم من بعد غلبھم سیغلبون فی بضع سنین للہ الامر من قبل ومن بعد ویومئذ یفرح المومنون (2۔ 4) ادنی الارض سے مراد یہاں شام و فلسطین کی سرزمین ہے جو عرب کی سرزمین سے بالکل متصل تھی۔ اس علاقے پر اس زمانے میں رومیوں کی حکومت تھی لیکن وہ اس وقت سخت اندرونی خلفشار میں مبتلا تھے۔ اس سے فائدہ اٹھا کر ایرانیوں نے ان پر حملہ کردیا اور ان علاقوں سے ان کو بےدخل کردیا۔ یہ واقعہ 214 ء؁ یعنی نبی ﷺ کی بعثت کے چھٹے یا ساتویں سال پیش آیا۔ وھم من بعد غلبھم سیغلبون۔ غلب اپے مفعول کی طرف مضاف ہے۔ یہ قرآن نے پیش گوئی فرمائی کہ اگرچہ رومی اس وقت مغلوب ہوگئے ہیں لیکن یہ مغلوبیت ان کی عارضی ہے،…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–4

سُوْرَۃُ الرُّوْمِ30یہ سورت مکی ہے اس میں 60 آیات اور -6 رکوع ہیں

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–7

الم ، غلبت الروم ۔۔۔۔۔۔۔۔ عن الاخرۃ ھم غفلون (1 – 7) سورة کا آغاز حروف مقطعات سے ہے۔ اشارہ اس طرف ہے کہ یہ قرآن اور یہ سورة انہی حروف سے بنائے گئے ہیں ، جو عربوں کی دسترس میں ہیں لیکن اس کے باوجود یہ قرآن اور یہ سورة معجز ہیں۔ آج تک وہ اس قسم کا کلام نہیں بنا سکے۔ یہ حروف تہجی خود ان کی زبان کے ہیں اور وہ ان سے کلمات و کلام بنا سکتے ہیں۔ اس کے بعد وہ سچی تاریخی پیشن گوئی آتی ہے جس میں یہ کہا گیا کہ رومی چند سالوں میں پھر غالب آجائیں گے۔ ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ ایرانی رومیوں پر غالب تھے اور مشرکین عرب چاہتے تھے کہ ایرانی رومیوں پر غالب رہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 2–3

6 " ادنی الارض " (ملتے ہوئے ملک یا پاس والے ملک) سے مراد " اذرعات " " و بصری " کے درمیان کا خطہ ہے جو " شام " کی سرحد پر " حجاز " سے ملتا ہوا مکہ کے قریب واقع ہوا ہے، یا فلسطین " مراد ہو جو رومیوں کے ملک سے نزدیک تھا، یا " جزیرہ ابن عمر " جو فارس سے اقرب ہے۔ ابن حجر نے پہلے قول کی تصحیح کی ہے۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

فِیْٓ اَدْنَی الْاَرْضِ وَہُمْ مِّنْم بَعْدِ غَلَبِہِمْ سَیَغْلِبُوْنَ ”۔“ نقشے میں دیکھیں تو جزیرہ نمائے عرب کے اوپر شمال کی سمت میں شام ہے جبکہ شام کے ساتھ ہی نیچے عراق اور پھر عراق کے ساتھ مشرق کی سمت میں ایران واقع ہے۔ چناچہ جزیرہ نمائے عرب کی سرحد پر واقع ان علاقوں کو قریب کی سرزمین کہا گیا ہے جہاں ایرانیوں اور رومیوں کے درمیان مذکورہ جنگ جاری تھی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 1–4

1 سورة روم کی ان ابتدائی آیات میں دو ایسی پیشین گوئیاں کی گئی ہیں جو اسلام اور پیغمبر اسلام کی رسالت کی حقانیت پر زبردست دلیل ہیں۔ ان میں پہلی پیشین گوئی یہ ہے کہ اگر آج روم شکست کھا گیا ہے تو چند ہی سالوں میں روم پھر ایران پر غالب آجائے گا۔ اور دوسری پیشین گوئی یہ تھا کہ اگر آج مسلمان مشرکین مکہ کے ہاتھوں مظلوم و متہور ہیں۔ تو ان کو بھی اسی دن مشرکین مکہ پر غلبہ حاصل ہوگا جس دن روم ایران پر غالب آئے گا اور قرآن نے یہ دونوں پیشین گوئیاں ایسے وقت میں بیان کیں جبکہ ان پیشین گوئیوں کے پورا ہونے کے دور دور تک کہیں آثار نظر نہیں آرہے تھے۔ تفصیل اس اجال کی یہ ہے کہ جس زمانہ میں آپ ﷺ کو نبوت عطا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

2۔ اہل ایران سے تقریبا 614 ء ؁، 615 ء ؁ میں) (آیت) ”۔ الروم “۔ سے مراد قدیم ” رومن ایمپائر “ کا وہ مشرقی حصہ ہے، جو 395 ء ؁ میں اس سے کٹ کر خود ایک مستقل سلطنت بن گیا تھا۔ مسیحیوں کے قبضہ میں یہ سلطنت 1454 ء ؁ تک رہی، اس کے بعد ترکوں کے قبضہ میں آگئی۔ اس کا دارالسلطنت السلطنت استانبول یا قسطنطنیہ تھا۔ اور اسی کا قدیم نام ” جدید رومہ “۔ بھی ہے۔ شام، فلسطین، ایشیائے کو چک کے علاقے سب اسی میں شامل تھے۔ (آیت) ” ادنی الارض “۔ یا ” قرب کی زمین “۔ سے مراد اس کے وہ علاقے ہیں جو عرب سے متصل تھے یعنی شام و فلسطین۔ آیت کا زمانہ نزول 6۔ یا 7۔ قبل ہجرت ہے یعنی 615 ء ؁ یا 616 ء ؁ عین قریبی زمانہ یعنی 641 ء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–10

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 10 ترجمہ : الم اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے رومی مغلوب ہوگئے اور وہ اہل کتاب ہیں ان کو اہل فارس نے مغلوب کردیا اور وہ اہل کتاب نہیں ہیں، بلکہ بت پرست ہیں، اس خبر سے اہل مکہ خوشی ہوئے اور مسلمانوں سے کہا ہم تم کو اسی طرح مغلوب کردیں گے جس طرح اہل فارس نے رومیوں کو قریبی زمین میں یعنی جزیرۂ روم کے اس علاقہ میں جو فارس سے بہت قریب تھا، جہاں دونوں لشکروں کا مقابلہ ہوا تھا اور وہ یعنی رومی مغلوب ہونے کے بعد مصدر کی اضافت مفعول کی جانب کی گئی ہے، ای فارسٍ ایّاھم جنگ کی ابتداء کرنے والے اہل فارس ہیں، عنقریب چند سال کے بعد دونوں لشکروں کا دوبارہ مقابلہ ہوا،…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 2–5

شان نزول : الۗمّۗ۔ غُلِبَتِ الرُّوْمُ (الخ) امام ترمذی نے ابو سعید سے روایت نقل کی ہے کہ بدر کے دن رومی اہل فارس پر غالب آگئے جس کی وجہ سے مسلمان خوش ہوئے اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ الم سے بنصر اللہ تک یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ اہل روم ایک قریب کے موقع میں مغلوب ہوگئے اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب اور ابن جریر نے بھی ابن مسعود سے اسی طرح روایت نقل کی ہے اور ابن ابی حاتم نے ابن شہاب سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ پتا چلا کہ رسول اکرم ﷺ کی ہجرت سے پہلے جبکہ مسلمان مکہ مکرمہ میں تھے مشرکین مسلمانوں سے مباحثہ کیا کرتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ رومی اہل کتاب ہونے کے مدعی ہیں اور ان پر…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 1–5

تفسیر سورة الروم الۗمّۗ ۝ۚغُلِبَتِ الرُّوْمُ ۝ ۙفِيْٓ اَدْنَى الْاَرْضِ۔۔ : ”الم“ کے متعلق سورة بقرہ کی ابتدا ملاحظہ فرمائیں۔ سورۂ روم کی ان ابتدائی آیات میں دو ایسی پیش گوئیاں کی گئی ہیں جو اسلام اور پیغمبر اسلام کی رسالت کے حق ہونے پر زبردست دلیل ہیں۔ ان میں سے پہلی پیش گوئی یہ تھی کہ اگر آج روم شکست کھا گیا ہے تو چند ہی سالوں میں روم پھر ایران پر غالب آجائے گا اور دوسری پیش گوئی یہ تھی کہ اگر آج مسلمان مشرکین مکہ کے ہاتھوں مظلوم و مقہور ہیں تو ان کو بھی اسی دن مشرکین مکہ پر غلبہ حاصل ہوگا جس دن روم ایران پر غالب آئے گا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو نبوت عطا ہوئی تو اس وقت عرب کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–5

امام ترمذی نے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت نقل کی ہے جب بدر کا دن تھا تو رومی ایرانیوں پر غالب آئے اس امر نے مومنوں کو خوش کیا تو یہ آیات نازل ہوئیں (1) ۔ فرمایا : مومن رومیوں کے ایرانیوں پر غالب آنے سے خوش ہوگئے : کہا : یہ حدیث اس سند سے غریب ہے : نصر بن علی جہضمی نے پڑھا (2) اور اسے حضرت ابن عباس ؓ سے مکمل روایت کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے ان آیات کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا : (3) مشرک یہ پسند کرتے تھے کہ ایرانی رومیوں پر غالب آئیں کیونکہ دونوں بت پرست تھے۔ مسلمان یہ پسند کرتے تھے کہ رومی ایرانیوں پر غالب آئیں کیونکہ وہ اہل کتاب تھے۔ مشرکوں نے اس کا ذکر حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے کیا اور حضرت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 2–6

فارس اور روم کی جنگ 2۔ ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ فارس والے روم والوں پر غالب آگئے اور مشرکین یہ پسند کرتے تھے کہ فارس والے، روم والوں پر غالب آئیں اور مسلمان یہ پسند کرتے تھے کہ روم والے فارس والوں پر غالب آئیں کیونکہ وہ اہل کتاب تھے اور وہ ان کے دین کی طرف زیادہ قریب تھے جب یہ آیت نازل ہوئی آلم، غلب الروم، فی ادنی الارض وہم من بعد غلبہم سیغلبون فی بضع سنین، یعنی رومی مغلوب ہوگئے قریب زمین میں اور ان کے غلبہ کے بعد عنقریب غالب ہوں گے چند سالوں میں تو مشرکین نے کہا اے ابوبکر تیرا ساتھی کہتا ہے کہ رومی غالب آجائیں گے فارس والوں پر چند سالوں میں ابوبکر نے کہا آپ نے سچ فرمایا تو ان…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 2–3

اہل فارس پر رومیوں کے غالب ہونے کی پیشین گوئی اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا ابی بن خلف سے ہار جیت کی بازی لگانا حضرات مفسرین کرام رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے ان آیات کا سبب نزول ذکر فرماتے ہوئے لکھا ہے کہ فارس اور روم کے درمیان جنگ ہونے کی صورت بن گئی تھی، اہل فارس جن کا بادشاہ کسریٰ تھا، یہ لوگ مشرک تھے، اور رومیوں کا بادشاہ قیصر تھا یہ لوگ اہل کتاب تھے۔ اہل اسلام کی خواہش تھی کہ روم والے فارس پر غالب ہوجائیں کیونکہ اہل روم اہل کتاب تھے اور مشرکین کی خواہش تھی کہ فارس والے اہل روم پر غالب ہوجائیں کیونکہ وہ اہل شرک تھے، قریش مکہ کے ہم مذہب تھے، کسریٰ نے بھی اپنا لشکر بھیجا اور قیصر نے بھی،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–7

و فرحت ومسرت برائے اہل ایمان قال اللہ تعالیٰ الم غلبت الروم۔۔۔ الی۔۔۔ وہم عن الاخرۃ ہم غفلون۔ شان نزول : ہجرت سے قبل جب حضور پر نور ﷺ مکہ مکرمہ میں تھے تو فارس اور روم میں جنگ ہوئی اور اہل فارس بمقابلہ اہل روم غالب آئے مشرکین مکہ اس بات کو محبوب رکھتے تھے کہ فارس روم پر غالب ہوں کیونکہ اہل فارس اہل مکہ کی طرح مشرک تھے اہل مکہ بت پرست تھے اور اہل فارس آتش پرست تھے اور مسلمان اس بات کو پسند کرتے تھے کہ اہل روم فارس پر غالب ہوں اس لئے کہ اہل روم نصرانی تھے انبیاء (علیہم السلام) کے ماننے والے اور دین اسلام کے قریب تھے فارس کی فتح سے کفار قریش کو بہت خوشی ہوئی اور مسلمانوں سے یہ کہنا شروع کیا کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–2

2:۔ رومیوں اور فارس کے مجوسیوں کے درمیان اذرعات اور بصری یا اردن اور فلسطین کے درمیان جنگ ہوئی جس میں رومی مغلوب ہوگئے۔ مسلمانوں کی خواہش تھی کہ رومی غالب ہوں کیونکہ وہ اہل کتاب (نصاری) ہیں اس لیے اہل کتاب پر فارس کے مشرکوں (مجوسیوں) کے غلبے کی وجہ سے مسلمانوں کو بہت صدمی اور غم لاحق ہوا اور دوسری طرف مشرکین مکہ بہت خوش ہوئے کہ ان کے بھائی (مجوسی) اہل کتاب پر غالب آگئے۔ فی ادنی الارض الخ یعنی ایسی زمین میں جو فارس کی نسبت ارض مکہ سے زیادہ قریب ہے۔ وا دنی الارض اقربھا فان کانت الواقعۃ فی اذرعات فھی ادنی الارض بالنظر الی مکۃ) (بحر ج 7 ص 162) ۔ وقدجاء من طرق عدیدۃ ان الحرب وقع بین اذرعات و بصری…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–7

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الروحہ ہے جو اس کی دوسری آیت میں آمدہ لفظ روم سے اخذ کیا گیا ہے۔ مفسرین کے مطابق یہ سورة مکی زندگی میں سورة انشقاق کے بعد نازل ہوئی۔ اس سورة مبارکہ کی ساٹھ آیات میں اور یہ چھ رکوع پر مشتمل ہے ۔ اس میں 918 الفاظ اور 0252 حروف میں یہ سورة طوالت کے لحاظ سے درمیانی سورتوں میں شمارہوتی ہے۔ رومی سلطنت روم ایک سلطنت کا نام تھا جسے نزول قرآن کے زمانہ میں رومۃ الکبریٰ بھی کہتے تھے ، بالکل اسی طرح جس طرح کچھ عرصہ پہلے تک برطانیہ کو برطانیہ عظمی Great BRITAIN کہا جاتا تھا۔ اس سلطنت کا اصل مرکز تو اٹلی میں تھا مگر بعد میں اس کا ایک حصہ الگ ہو کر جدید روم کو ملا جس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 1–2

رکوع نمبر 4 سورة الروم بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝ الۗمّۗ۝ 1ۚ غُلِبَتِ الرُّوْمُ۝ 2ۙ غلب الغَلَبَةُ القهر يقال : غَلَبْتُهُ غَلْباً وغَلَبَةً وغَلَبا ، فأنا غَالِبٌ. قال تعالی: الم غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ [ الروم/ 1- 2- 3] ( غ ل ب ) الغلبتہ کے معنی قہرا اور بالادستی کے ہیں غلبتہ ( ض ) غلبا وغلبتہ میں اس پر مستول اور غالب ہوگیا اسی سے صیغہ صفت فاعلی غالب ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ الم غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ [ الروم/ 1- 2- 3] الم ( اہل ) روم مغلوب ہوگئے نزدیک کے ملک میں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 2–7

ترکیب : فی ادنی الارض فی غلبت سے متعلق ھم مبتدا سیغلبون خبر من بعد غلبہم اس سے متعلق غلبہم میں اول قرأت یعنی غلبت کو مجہول مانا جاوے تو مصدر مفعول کی طرف اور دوسری تقدیر میں مصدر فاعل کی طرف مضاف ہے۔ فی بضع متعلق ہے۔ سیغلبون سے بنصر اللہ متعلق ہے۔ یفرح المؤمنون سے وعد اللہ مصدر مؤکد ای وعد اللہ وعدا دول ماتقدم علی فعل المحذوف لا نہ وعد۔ وعدہ مفعول لایخلف۔ تفسیر : اگلی سورة میں اہل کتاب کو مشرکین پر ترجیح دی تھی، بقولہ ولا تجادلوا اھل الکتاب الی قولہ و الہنا و الٰہکم واحد کہ اہل کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر نرمی سے اور یہ کہہ دو جو کچھ تمہارے انبیاء پر نازل ہوا ہے، ہم اس کو مانتے ہیں اور ہمارا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–5

الٓـمّٓ۔ غُلِبَتِ الرُّوْمُ ۔ فِیْٓ اَدْنَی الْاَرْضِ وَھُمْ مِّنْ م بَعْدِ غَلَبِہِمْ سَیَغْلِبُوْنَ ۔ فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ 5 ط لِلّٰہِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ م بَعْدُ ط وَیَوْمَئِذٍیَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔ بِنَصْرِاللّٰہِ ط یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآئُ ط وَھُوَالْعَزِیْزُالرَّحِیْمُ ۔ (الروم : 1 تا 5) (ال م۔ رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہوگئے۔ اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد عنقریب وہ غالب آجائیں گے۔ چند سالوں میں، اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی، اور اس وقت اہل ایمان مسرور ہوں گے۔ اللہ کی مدد سے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور وہ زبردست اور رحیم ہے۔ ) گزشتہ سورة سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 2–5

فہم القرآن سورۃ العنکبوت کے آخر میں ارشاد ہوا کہ جو لوگ کوشش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے لیے راستے ہموار کردیتا ہے جو دنیا کے لیے کوشش کرے گا وہ اپنا مقدر پالے گا۔ اگر آخرت کے لیے کوشاں ہوگا تو آخرت میں اپنا حصہ پائے گا۔ اب اس کا ایک حوالہ دے کر مسلمانوں کو روشن مستقبل کی خوشخبری سنائی جاتی ہے۔ دنیا میں ” اللہ “ کی مدد کی ایک عظیم مثال ملاحظہ فرمائیں کہ ایک وقت تھا کہ جب ایرانیوں کے مقابلے میں رومی شکست فاش سے دوچار ہوئے اور مسلمان کفار کے ہاتھوں مار کھا رہے تھے، ان نازک ترین اور ناقابل یقین حالات میں اعلان ہوتا ہے کہ عنقریب رومی غالب ہونگے۔ شکست میں بھی ” اللہ “ کا حکم کار فرما تھا اور فتح…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 1–4

غلبہ روم کی عظیم پیشگوئی : 1، 2، 3، 4: الٓمٓ۔ غُلِبَتِ الرُّوْمُ ۔ فِیْ اَدْنَی الْاَرْضِ (قریب ترین زمین میں رومی مغلوب ہوگئے) ۔ وَھُمْ مِّنْ 0 بَعْدِ غَلَبِھِمْ سیَغْلِبُوْنَ ۔ فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ (اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔ چند سال میں) الٓمّٓ۔ غُلِبَتِ الرُّوْمُ (یعنی فارس نے روم پر غلبہ پالیا) ۔ فِیْ اَدْنَی الْاَرْضِ (یعنی عرب کے قریب ترین علاقہ میں) الارض میں الف لام عہد کا ہے اور مراد اس سے سرزمین عرب ہے مطلب یہ ہے کہ رومی سرزمین کے قریبی علاقہ شام میں مغلوب ہوگئے ہیں نمبر 2۔ ارض سے رومیوں کی زمین مراد ہو۔ اس صورت میں الف لام مضاف الیہ کے قائم مقام ہوگا یعنی ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 1–2

فارس اور رومیوں کے درمیان جنگ کا واقعہ۔ تفسیر۔ فارس اور روم میں جنگ تھی۔ مشرک دل سے چاہتے تھے کہ اہل فارس رومیوں پر غالب آجائیں کیونکہ فارس والے مجوسی تھے ان کے پاس کوئی آسمانی کتاب نہیں تھی اور مسلمان چاہتے تھے کہ رومی فتح یاب ہوجائیں کیونکہ رومی اہل کتاب تھے ۔ کسری پرویزبن ہرمزبن نوشیرواں نے ایک لشکر روم کی طرف بھیجا جس کی قیادت شہرزاد کے سپرد کی اور قیصر نے ایک لشکر یحسیس کی زیرسرکردگی روانہ کیا ۔ دونوں فوجوں کا مقابلہ اذرعات علاقہ شام وبصری کے مقام پر ہوا۔ (یہ شامی علاقہ ارض عرب کے بہت قریب تھا اور عجم سے بھی قریب تھا) آخر میں فارس والے رومیوں پر غالب آگئے۔ مسلمانوں کو مکہ میں اس کی اطلاع…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–7

1 تا 7 صحیح سند سے ترمذی نسائی مسند امام احمد وغیرہ میں جو شان نزول ان آیتوں کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے بیان کی گئی ہے اس کا اور معتبر تاریخ کی کتابوں کی روایتوں 1 ؎ کا حاصل یہ ہے۔ ؎(لگتے ملک میں) یعنی ساتھ ملتے ملک میں سے مراد شام ہے جہاں عیسائیوں کی حکومت تھی اور جو حجاز کے قریب ہے (ع ‘ ح) کہ روم میں بادشاہت پہلے تو ستارہ پرست لوگوں کی تھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد تین سو برس کے قریب تک اس مذہب کے لوگ ملک روم کے باردشاہ رہے اور ان کا ہی لقب قیصر ہوتا تھا پھر ان میں کا ایک بادشاہ جس کا نام قسطنطین تھا نصرانی ہوگیا اور یہ شہر قسطنطنیہ اس نے بنایا اور بارہ ہزار کے قریب گرجے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–7

سورة الروم آیت نمبر : 7-6-5-4-3-2-1 اس زمانے میں ایران اور روم دنیا کی سب سے بڑی سلطنتیں تھیں ان دونوں کے درمیان اکثر جنگیں ہوتی رہتی تھیں جیسا کہ ہم پلہ سلطنتوں کے مابین اس قسم کی لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں۔ ایرانی مشرک تھے اور آگ کی پوجا کرتے تھے۔ رومی اہل کتاب تھے اور اپنے آپ کو تورات اور انجیل کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اہل فارس کی نسبت رومی مسلمانوں کے زیادہ قریب تھے ‘ اس لیے مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ایرانیوں پر فتح حاصل کریں چونکہ مشرکین مکہ اور اہل فارس شرک میں مشترک تھے اس لیے مشرکین مکہ رومیوں پر اہل فارس کی فتح چاہتے تھے۔ ایرانیوں کو رومیوں کے خلاف جنگی کامیابیاں حاصل ہوئیں لیکن انہیں مکمل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–3

1 رومیوں اور ان کی مغلوبیت کا ذکر : رومی تاریخ کی ایک قدیم اور عظیم الشان قوم ہے اور ان کا تعلق روم بن عیض بن اسحاق بن ابراہیم سے ہے۔ اور قریب کی سرزمین سے مراد شام و فلسطین کی سرزمین ہے جو کہ عربوں کے سب سے قریب تھی اور جس پر اس دور میں رومیوں کا غلبہ اور ان ہی کی حکومت تھی۔ اور اس دور میں روم اور فارس دو بڑے بلاک تھے جن میں سے رومی بلاک کا تعلق اہل کتاب سے تھا۔ جبکہ فارس والے مشرک تھے۔ اور ان دونوں بلاکوں کے درمیان باہمی چپقلش اور جنگ و جدل کا سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں جاری ہی رہتا تھا۔ مسلمانوں کی ہمدردیاں جیسا کہ اگلے حاشیے میں آ رہا ہے قدرتی طور پر اہل کتاب سے تھیں اور مشرکین کی اہل فارس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–7

دو ناممکن فتوحات کی بشارت تشریح : محمد ﷺ کی پیدائش سے پہلے ایران اور روم کی دو سلطنتیں بڑی زبردست تھیں۔ ان کی آپس میں لڑائی ہوتی رہتی تھی۔ ایرانی آتش پرست تھے اور رومی اہل کتاب تھے۔ 570 ء میں آپ ﷺ کی ولادت ہوئی 610 ء میں آپ کو نبوت ملی۔ 615 ء میں ایران نے روم کے دارالسلطنت قسطنطنیہ پر چڑھائی شروع کردی۔ مکہ والے کیونکہ مشرک و کافر تھے، اس لیے ایرانیوں کی کامیابی پر بڑے خوش ہوئے اور رومی کیونکہ اہل کتاب عیسائی تھے اور اعتقادات کے لحاظ سے مسلمانوں کے کچھ کچھ قریب تھے اس لیے ان کی شکست پر مسلمانوں کو چڑانے لگے کہ دیکھو اللہ والوں کی اللہ نے مدد نہیں کی۔ تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تسلی دی اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

سورة روم۔ رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 10 اسرارومعارف رومیوں میں اور کسری پرویز میں جنگ ہوئی رومی اہل کتاب اور فارسی آتش پرست تھے اگرچہ دونوں کافر تھے مگر اہل کتاب ہونے کی وجہ سے اہل فارس کی نسبت مسلمانوں کی ہمدردی رومیوں سے تھی مگر اس جنگ میں رومی ہار گئے چند سرحدی شہر فارس نے فتح کرلیے اسی فتح میں قسطنطنیہ بھی تھا جہان کسری پرویز نے آتشکدہ بنوایا اس پر مشرکین بہت خوش ہوئے تو یہ سورة نازل ہوئی اور ارشاد ہوا کہ اگرچہ رومی شکست کھا گئے ہیں مگر آئندہ چند برسوں میں یہ پھر غالب آجائیں گے چناچہ مشرکین کے لیے خوشی کا کوئی موقع نہیں یہ ایک بہت بڑی پیش گوئی تھی بظاہر ایسا ہونے کے امکانات نظر نہ آتے تھے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–4

4 ۔ کئی برس سے ایران اور روم کے درمیان جنگوں کا سلسلہ جاری تھا۔ روم کے اہل کتاب ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کی ہمدردیاں ان کے ساتھ تھیں اور ان کی فتح سے خوش تھے اور ایرانی آتش پرست تھے اس لئے مشرک ان کے غلبہ اور فتح سے خوش ہوتے۔ آخر کار آنحضرت ﷺ کی بعثت کے تقریباً پانچ سال بعد، ایران اور روم کے درمیان ایک زبردست معرکہ ہوا جس میں ایرانی غالب رہے، جس پر مشرکین مکہ نے خوشیاں منائیں اور مسلمانوں سے ازراہ فخر و غرور کہنے لگے کہ دیکھا غیر کتاب والے (ایرانی) کتاب والوں یعنی رومیوں پر غالب آگئے۔ اسی طرح ہم بھی تم پر غالب رہیں گے۔ ان باتوں سے مسلمانوں کو سخت صدمہ ہوتا۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور قرآن نے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 1–2

(30:2) غلبت الروم ۔ غلبت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب ، مغلوب ہوئی۔ شکست کھائی۔ ہرادی گئی۔ الروم سے مراد سلطنت روم۔ روم کی فوجیں یا خود اہل روم ہیں۔ الروم سے مراد یہاں قدیم رومن ائمپائر کا وہ مشرقی حصہ ہے جو 295 ء میں اس سے کٹ کر ایک مستقل حصہ بن گیا تھا۔ یہ سلطنت 1454 ء تک رہی اس میں شام فلسطین۔ ایشیائے کوچک کے علاقے سب شامل تھے 1454 ء کے بعد یہ سلطنت ترکوں کے قبضہ میں آگئی۔ حکومت روم کی جس شکست کا یہاں ذکر ہے وہ 14، 613 ء میں وقوع پذیر ہوئی ۔ جب مسیح رومیوں کو مجوس ایران کے مقابلہ میں سخت ہزیمت اٹھانا پڑی اور انطاکیہ دمشق کے علاقوں پر ایرانیوں نے قبضہ کرلیا۔ اور ہزاروں عیسائیوں کو یہ تیغ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 2–10

لغات القرآن آیت نمبر (ا تا 10) ۔ غلبت (شکست کھا گئے۔ مغلوب ہوگئے) ۔ ادنی (قریب) ۔ بضع (تین سے نو سال تک کی مدت) ۔ اجل (موت۔ مدت) ۔ اشد (زیادہ۔ بڑھ کر) ۔ اثاروا (ثورۃ) (انہوں نے ابھارا۔ اگایا۔ سرسبز کیا) ۔ عمروا (انہوں نے آباد کیا) ۔ اساء وا (انہوں نے برا کیا) ۔ تشریح : آیت نمبر (ا تا 10) ۔ ” سورة الروم کی ابتداء حروف مقطعات سے کی گئی ہے جس کی وضاحت اس سے پہلے کردی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی انتیس (29) سورتوں کی ابتداء میں آنے والے ان حروف کے معنی اور مراد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے اللہ کے حکم سے اعلان نبوت فرمایا تو کفار مکہ نے آپ کی زبردست مخالفت کی اور ستانے اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–2

(ف 1) شان نزول : روم میں پہلے تو ستارہ پرست لوگوں کی بادشاہت تھی، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد تین سو برس کے قریب تک اس مذہب کے لوگ ملک روم کے بادشاہ رہے پھر ان میں ایک بادشاہ جس کا نام قسطنطین تھا، نصرانی ہوگیا، اور یہ شہر قسطنطنیہ اس نے بنایا، اور بارہ ہزار کے قریب گرجابنائے اور بہت سے قانون جاری کیے اور اسی کے زمانے میں دین عیسائی کی بہت باتوں میں ردوبدل ہوگیا، غرض اس کے زمانہ سے روم کے ملک میں نصرانی بادشاہت شروع ہوئی اسی سلسلہ کا جب ہر قل بادشاہ تھا اس سے اور ملک فارس سے جس کالقب کسری تھا اور لڑائی ہوئی اور کسری کی فوج ہر قل کی فوج پر غالب آئی، یہ وہ زمانہ تھا کہ جس وقت نبی ﷺ مکہ میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–6

[1] یہ اشارہ اس جنگ کی طرف ہے جو اس زمانے میں روم اور ایران کی سلطنتوں کے درمیان ہو رہی تھی۔ 614 عیسوی میں عیسائی رومیوں کو آتش پرست مجوسی ایرانیوں کے مقابلے میں زبردست شکست ہوئی۔ شام، مصر، ایشیائے کوچک وغیرہ کے سب علاقے رومیوں کے ہاتھ سے نکل گئے اور رومیوں کا دارسلطنت بھی خطرے میں پڑگیا۔ بیت المقدس سے عیسائیوں کی سب سے زیادہ مقدس صلیب بھی ایرانی فاتحین لے اڑے اور قیصر روم کا اقتدار بالکل فنا ہوگیا۔ بظاہر کوئی صورت روم کے ابھرنے اور ایران کے تسلط سے نکلنے کی باقی نہ رہی۔ ایران کا مذہب کیونکہ مشرکین عرب سے ملتا جلتا تھا اور وہ لوگ بھی نبوت و رسالت کے قائل نہ تھے اس لئے قدرتاً اہل مکہ ان کی فتح…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–2

ف 2: بات یہ تھی کہ مشرکین مکہ کو حضور ﷺ سے سخت عناد تھا ۔ اس لئے وہ نہیں چاہتے تھے ۔ کہ آپ کو اور آپ کی جماعت کو کسی طرح کی کامیابی حاصل ہو ۔ بلکہ وہ اس درجہ متعصف تھے کہ صریحات پرستی اور حمیمیت کی تائید کرتے کیونکہ یہ چیزیں اسلام کی روح کے بالکل متضاد واقع ہوئی ہیں اور ہر اس واقعہ سے خوش ہوئے ۔ جس کا تعلق مسلمانوں کی دل گرفتگی اور آزردگی سے ہوتا ہے ۔ چناچہ جب ابرائیوں اور رومیوں میں جنگ چھڑی اور محبوسیت کو عیسائیت پر فتح ہوئی ۔ تو ان لوگوں نے مسرت واجتہاج کے شادیانے بجائے ۔ اس لئے نہیں ۔ کہ ایرانیوں سے فی القواعہ انہیں کوئی وابستگی تھی ۔ بلکہ محض اس لئے کہ اسلام سے دشمنی تھی ۔ اور ایرانی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

2۔ اہل روم مغلوم ہوگئے ، یعنی رومی فارس سے کمزور پڑگئے اور دب گئے اور ان کو شکست ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–2

ف 1۔ ایک بار روم اور فارس میں مقام اذرعات و بصری کے درمیان لڑائی ہوئی اور رومی مغلوب ہوگئے، مشرکین مکہ مسلمانوں سے کہنے لگے کہ تم اور رومی اہل کتاب ہو اور ہم اور فارسی غیر اہل کتاب ہیں، پس روم پر فارس کا غالب آنا فال ہے اس کی کہ ہم بھی تم پر غالب رہیں گے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ جن میں پیشنگوئی ہے کہ نو سال کے اندر رومی فارسیوں پر غالب آجاویں گے، چناچہ اس سے ساتویں برس پھر دونوں کا مقابلہ ہوا اور رومی غالب آگئے جس سے وہ پیشنگوئی پوری ہوئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاریب رومی مغلوب ہوگئے ہیں جو مسیح مذہب کے حامل ہیں : 2۔ ہمارے نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کی پیدائش موسم میں دو شنبہ کے روز 9 ربیع الاول عام الفیل کے پہلے سال بمطابق 22 اپریل 571 ء مطابق یکم جیٹھ 28 بکرمی بعد از صبح صادق مکہ مکرمہ میں ہوئی اور جب نبی کریم ﷺ کی عمر مبارک چالیس سال قمری پر ایک دن اوپر ہوا تو 9 ۔ ربیع الاول 41 میلادی مطابق 12 ۔ فروری 610 ء کو بروز دو شنبہ روح الامین حکم نبوت لے کر نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کے پاس غار حرا میں آیا ۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ ایرانیوں اور روما کے عسائیوں کے درمیان جنگ جاری تھی جو برسوں تک جاری رہی ۔ ایرانی فوجیں انطاکیہ پر قبضہ کرکے 613 عیسوی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–3

Commentary Backdrop of revelation of the Surah - the story of war between Rum and Persia In the last verse of Surah ` Ankabut' Allah Ta’ ala had given the good tiding to those who would strive and struggle in His way. It was promised that for such people, He would open the doors toward Him, and that they would succeed in their objectives. The story that marks the beginning of Surah Ar-Rum is a manifestation of that very Divine help. The war referred to in this Surah was fought between Romans and Persians, who were both disbelievers, and had nothing to do with the Muslims. The people of Persia…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

1 from what lbn `Abbas and the other Companions and their followers have said, it appears that the Muslims' sympathies in this war between Byzantium and Iran were with Byzantium and of the disbelievers of Makkah with Iran. This had several reasons. First, the Iranians had given it the colour of a crusade between Magianism and Christianity, and, apart from the object of political conquest, they were making it a means of spreading Magianism. In the letter that Khusrau Parvez wrote to the Emperor Heraclius after the conquest of Jerusalem, he had clearly mentioned his victory as a proof of the…

Read the full tafseer →