Al-Ankaboot 29:60

Al-Ankaboot · from ayah 60

29:60

وَكَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا ۗۖ— اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَاِیَّاكُمْ ۖؗ— وَهُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۟وَكَاَيِّنۡ مِّنۡ دَآبَّةٍ لَّا تَحۡمِلُ رِزۡقَهَا ۖ اللّٰهُ يَرۡزُقُهَا وَاِيَّاكُمۡ‌‌ۖ وَهُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ

اور بہت سے جانور ہیں جو اپنا رزق اُٹھائے نہیں پھرتے خدا ہی ان کو رزق دیتا ہے اور تم کو بھی۔ اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And how many a creature carries not its [own] provision. Allah provides for it and for you. And He is the Hearing, the Knowing.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 6 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ankaboot

All translations of 29:60

کتنے ہی جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے، اللہ اُن کو رزق دیتا ہے اور تمہارا رازق بھی وہی ہے، وہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور بہت سے جانور ہیں جو اپنا رزق اُٹھائے نہیں پھرتے خدا ہی ان کو رزق دیتا ہے اور تم کو بھی۔ اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور بہت سے جانور ہیں جو اپنی روزی اٹھائے نہیں پھرتے، ان سب کو اور تمہیں بھی اللہ تعالیٰ ہی روزی دیتا ہے، وه بڑا ہی سننے جاننے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور کتنے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے۔ اللہ انہیں بھی رزق دیتا ہے، اور تمہیں بھی اور وہی ہے جو ہر بات سنتا، ہر چیز جانتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور زمین پر کتنے ہی چلنے والے ہیں کہ اپنی روزی ساتھ نہیں رکھتے اللہ روزی دیتا ہے انہیں اور تمہیں اور وہی سنتا جانتا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور کتنے ہی جانور ہیں جو اپنی روزی (اپنے ساتھ) نہیں اٹھائے پھرتے، اﷲ انہیں بھی رزق عطا کرتا ہے اور تمہیں بھی، اور وہ خوب سننے والا جاننے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور کتنے ہی چلنے والے (جاندار) ہیں جو اپنا رزق نہیں اٹھاتے، اللہ انھیں رزق دیتا ہے اور تمہیں بھی اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور کتنے ہی ایسے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے۔ اللہ انہیں رزق دیتا ہے اور تم کو بھی وہی دیتا ہے اور وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور کتنے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے۔ اللہ ہی ان کو بھی رزق دیتا ہے اور تم کو بھی۔ اور وہ سننے والاننے والا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کتنے جاندار ایسے ہیں جو اپنی روزی (اپنے ساتھ) اٹھائے نہیں پھرتے اللہ ہی روزی دیتا ہے ان کو بھی اور تم کو بھی (اے لوگوں !) اور وہی ہے سننے والا (ہر کسی کی اور) جاننے والا (سب کچھ)

— مولانا اسحاق مدنی

اور کتنے ہی جانور ہیں جو اپنی غذا اٹھا کر نہیں رکھتے اللہ ہی انہوں روزی پہنچاتا ہے اور تم کو بھی اور وہی خوب سننے والا ہے (اور) خوب جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور کتنے ہی جاندار ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے اللہ انہیں بھی رزق دیتا ہے اور وہ تم لوگوں کو بھی دے گا اور یقیناً وہ سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بہت سے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے ‘ اللہ انہیں بھی رزق دیتا ہے اور تمہیں بھی۔ اور وہ سننے والا جاننے والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

How many an animal there is that does not carry about its sustenance. Allah provides sustenance to them and to you. He is All-Hearing, All-Knowing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

How many an animal there is that does not carry its provision. Allah gives provision to it as well as to you, and He is the All-Hearing, the All-knowing.

— Muhammad Taqi Usmani

How many an animal there is that does not carry its provision. Allah gives provision to it as well as to you, and He is the All-Hearing, the All-knowing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And so many a moving creature carries not its own provision! Allah provides for it and for you. And He is the All-Hearer, the All-Knower.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And how many an animal there is that beareth not its own provision! Allah provideth for it and for you. He is the Hearer, the Knower.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And how many a creature carries not its [own] provision. Allah provides for it and for you. And He is the Hearing, the Knowing.

— Saheeh International

There are many living creatures which do not carry their sustenance, but God provides them and you with sustenance. He is All-hearing and All-knowing.

— Muhammad Sarwar

And how many a living creature that does not carry its sustenance: Allah sustains it and yourselves; and He is the Hearing, the Knowing.

— Muhammad Habib Shakir

And how many a moving creature there is that beareth not its provision! Allah provideth for it and for you. And He is the Hearer, the Knower.

— Abdul Majid Daryabadi

How many are the creatures that carry not their own sustenance? It is Allah who feeds (both) them and you: for He hears and knows (all things).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 29:60

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 56–60

مہاجرین کے لیے انعامات الٰہی اللہ تبارک وتعالیٰ اس آیت میں ایمان والوں کو ہجرت کا حکم دیتا ہے کہ جہاں وہ دین کو قائم نہ رکھ سکتے ہوں وہاں سے اس جگہ چلے جائیں جہاں ان کے دین میں انہیں آزادی رہے اللہ کی زمین بہت کشادہ ہے جہاں وہ فرمان اللہ کے ماتحت اللہ کی عبادت و توحید بجالاسکیں وہاں چلے جائیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمام شہر اللہ کے شہر ہیں اور کل بندے اللہ کے غلام ہیں جہاں تو بھلائی پاسکتا ہو وہیں قیام کر چناچہ صحابہ اکرام پر جب مکہ شریف کی رہائش مشکل ہوگئی تو وہ ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے تاکہ امن وامان کے ساتھ اللہ کے دین پر قیام کرسکیں وہاں کے سمجھدار دیندار بادشاہ اصحمہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة العنکبوت 99 یعنی ہجرت کرنے میں تمہیں فکر جان کی طرح فکر روزگار سے بھی پریشان نہ ہونا چاہیے۔ آخر یہ بیشمار چرند و پرند اور آبی حیوانات جو تمہاری آنکھوں کے سامنے ہو اور خشکی اور پانی میں پھر رہے ہیں، ان میں سے کون اپنا رزق اٹھائے پھرتا ہے ؟ اللہ ہی تو ان سب کو پال رہا ہے، جہاں جاتے ہیں اللہ کے فضل سے ان کو کسی نہ کسی طرح رزق مل ہی جاتا ہے۔ لہذا تم یہ سوچ سوچ کر ہمت نہ ہارو کہ اگر ایمان کی خاطر گھر بار چھوڑ کر نکل گئے تو کھائیں گے کہاں سے۔ اللہ جہاں سے اپنی بیشمار مخلوق کو رزق دے رہا ہے، تمہیں بھی دے گا۔ ٹھیک یہی بات ہے جو سیدنا مسیح ؑ نے اپنے حواریوں سے فرمائی تھی۔ انہوں نے فرمایا " کوئی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

وَكَاَيِّنْ مِّنْ دَاۗبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اَللّٰهُ يَرْزُقُهَا وَاِيَّاكُمْ ، یعنی اس پر غور کرو کہ زمین پر چلنے والے کتنے ہزاروں قسم کے جانور ہیں جو اپنے رزق جمع کرنے اور رکھنے کا کوئی انتظام نہیں کرتے نہ تحصیل رزق کے اسباب جمع کرنے کی کوئی فکر کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ ان کو روزانہ اپنے فضل سے رزق مہیا کرتے ہیں، علماء نے فرمایا ہے کہ عام جانور ایسے ہی ہیں ان میں صرف چیونٹی اور چوہا تو ایسے جانور ہیں جو اپنی غذا کے لئے اپنے بلوں میں جمع کرنے کی فکر کرتے ہیں۔ چیونٹی سردی کے موسم میں باہر نہیں آتی، اس لئے گرمی کے ایام میں کھانے کا سامان اپنی بل میں جمع کرتی ہے اور مشہور ہے کہ پرندہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وکاین من فابۃ لا تحمل رزقھا ق اللہ یرزقھا وایاکم وھو السمیع العلیم (60)rnٰیعنی جس طرح خدا کی زمین بہت کشادہ ہے اسی طرح خدا کا اخوانِ کرم بھی بہت کشادہ ہے۔ اگر اللہ کی راہ میں اموال و جائداد سے دست بردار ہونا پڑجائے تو بےدرنگ ہاتھ جھاڑ کے اٹھ کھرے ہونا۔ یہ نہ سوچنا کہ آگے کیا کھائیں گے اور کہاں سے پہنیں گے ؟ دیکھتے ہو کہ اس زمین میں کتنے جاندار ہیں جو اپنے ساتھ اپنی روزی باندھے نہیں پھرتے تاہم ان کا رب ان کا رزق بہم پہنچاتا ہے۔ وہی رب ان کو بھی رزق دیتا ہے وہی تم کو بھی رزق دیتا ہے۔ وہ سمیع علیم ہے۔ اس وجہ سے ہر ایک کی فریاد سنتا اور ہر ایک کی ضرورت کو جانتا ہے۔ اس بات کا کوئی اندیشہ نہیں ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

60-1کَاَیِّنْ میں کاف تشبیہ کا ہے اور معنی ہیں کتنے ہی یا بہت سے۔ 60-2کیونکہ اٹھا کرلے جانے کی ان میں ہمت نہیں ہوتی، اسی طرح وہ ذخیرہ بھی نہیں کرسکتے، مطلب یہ ہے کہ رزق کسی خاص جگہ کے ساتھ مختص نہیں ہے بلکہ اللہ کا رزق اپنی مخلوق کے لئے عام ہے وہ جو بھی ہو جہاں بھی ہو بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہجرت کو جانے والے صحابہ کرام کو پہلے سے کہیں زیادہ وسیع اور پاکیزہ رزق عطا فرمایا، نیز تھوڑے ہی عرصے بعد انھیں عرب کے متعدد علاقوں کا حکمران بنادیا۔ 60-3یعنی کوئی کمزور ہے یا طاقتور، اسباب وسائل سے بہرہ ور ہے یا بےبہرہ اپنے وطن میں ہے یا مہاجر اور بےوطن، سب کا روزی رساں وہی اللہ ہے جو چیونٹی کو زمین کے کونوں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 58–60

32: ہجرت کرنے میں ایک خوف ہوسکتا تھا کہ یہاں تو ہمارے روزگار کا ایک نظام موجود ہے، کہیں اور جاکر معلوم نہیں کوئی مناسب روزگار ملے یا نہ ملے، اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ دنیا میں کتنے جانور ایسے ہیں جو اپنا رزق ساتھ لئے نہیں پھرتے، بلکہ وہ جہاں کہیں جاتے ہیں اللہ تعالیٰ وہیں ان کے رزق کا انتظام فرماتا ہے، لہذا جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت میں وطن چھوڑیں گے، کیا اللہ تعالیٰ ان کے رزق کا انتظام نہیں فرمائے گا ؟ البتہ رزق کی کمی اور زیادتی تمام تر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت پر موقوف ہے، لہذا وہی فیصلہ فرماتا ہے کہ کس کو کس وقت کتنا رزق دینا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 56–60

یعبادی الذین امنوا ۔۔۔۔۔ وھو السمیع العلیم (56 – 60) دلوں کے خالق ، دلوں کی خفیہ باتوں کے جاننے والے ، دلوں میں آنے والے خیالات کے جاننے والے ، اور دلوں میں پیدا ہونے والے وساوس ، اور دلوں میں چھپے ہوئے خدشات کو جاننے والے اور ان دلوں کے پیدا کرنے والے خالق کائنات یوں پکارتے ہیں ” اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو “ ان الفاظ کے ساتھ پکار کر ان کی دعوت دی جاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرو ، اس خطاب کے ذریعے پہلے ہی مرحلہ پر بتا دیا جاتا ہے کہ اس ہجرت کی حقیقت کیا ہے یہ کہ اللہ اور رب کے لیے اور مولائے کریم کی راہ میں ، میں اس کے بندوں کی یہ نقل مکانی ہے۔ یہ تو تھا پہلا نچ ، اور دوسرا احساس ان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یہ روزی کی طرف سے خاطر جمع کردی کہ " اکثر جانوروں کے گھر میں اگلے دن کا قوت نہیں ہوتا۔ نیا دن اور نئی روزی " (موضح) پھر جو خدا جانوروں کو روزی پہنچاتا ہے کیا اپنے وفادار عاشقوں کو نہ پہنچائے گا۔ خوب سمجھ لو رزاق حقیقی وہ ہے جو سب کی باتیں سنتا اور دلوں کے اخلاص کو جانتا ہے۔ ہر ایک کا ظاہر و باطن اس کے سامنے ہے۔ کسی کی محنت وہاں رائیگاں نہیں ہوسکتی۔ جو لوگ اس کے راستہ میں وطن چھوڑ کر نکلے ہیں انھیں ضائع نہیں کرے گا۔ سامان معیشت ساتھ لے جانے کی فکر نہ کریں۔ کتنے جانور ہیں جو اپنی روزی اپنی کمر پر لادے نہیں پھرتے، پھر بھی رازق حقیقی ان کو ہر روز رزق پہنچاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 60 وَکَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّۃٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَہَاز ” تمہارے رزق کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ خود ہے ‘ لہٰذا اس کے لیے تم اللہ پر توکلّ کرو اور اس کے سوا کسی اور کی طرف مت دیکھو۔ دنیا میں کبھی کسی کے بارے میں ایسا مت سوچو کہ وہ ناراض ہوگیا تو تمہاری ضروریات کا کیا بنے گا۔ متی کی انجیل میں حضرت مسیح علیہ السلام کا جو وعظ پہاڑی کا وعظ نقل ہوا ہے اس میں یہ مضمون بڑے خوبصورت انداز میں بیان ہوا ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام اپنے شاگردوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ”تم خدا اور دولت دونوں کی خدمت نہیں کرسکتے۔ اس لیے میں تم سے کہتا ہوں کہ اپنی جان کی فکر نہ کرنا کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے ؟…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

92 ہجرت کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ اپنے ذریعہ معاش کی فکر ہوتی ہے۔ مہاجر ایک تو اپنے وطن سے اپنا ذریعہ معاش چھوڑ کرجاتا ہے دوسرے اسے یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ جہاں وہ ہجرت کرکے جارہا ہے وہاں اس کے ذریعہ معاش کی کیا صورت ہوگی ؟ ایسے خطرات کو اللہ کے وعدہ پر یقین کرتے ہوئے یقین کرلینے کا نام ہی توکل ہے۔ اور بتلایا یہ جارہا ہے کہ بیشمار جاندار ایسے ہیں۔ ہر روز نئی روزی ملتی ہے اور جو اللہ جانوروں تک کو روزی پہنچاتا ہے وہ اپنے فرمانبرداروں کو کیوں نہ پہنچائے گا۔ چناچہ حضرت عمر ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : اگر تم اللہ پر ایسا توکل کرتے جیسا کرنے کا حق ہے تو تم کو بھی اسی طرح رزق دیا جاتا ہے جس طرح پرندوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

77۔ سب کی ضرورتوں سے خبردار، سب کے حالات سے خوب واقف۔ (آیت) ” وکاین من ..... ایاکم “۔ ایک بار پھر یہ حقیقت دلوں میں اتاردی ہے کہ اللہ کا تعلق بندوں سے صرف معاوی ہی زندگی کا نہیں، بلکہ اس ناسوتی زندگی اور اس کے معاشی پہلوؤں میں بھی پورا پورا ہے۔ اس کے ایک ایک جزئیہ کے ساتھ ہے۔ بےصبر اور تھرڈ لے انسان کو سمجھایا ہے کہ جانوروں کی حالت پر غور کر ووہ کب اپنا رزق اپنے ساتھ لیے لیے گھومتے ہیں، لیکن باوجود اس کے انہیں بھی کہیں بھوکا نہیں رکھا جاتا ہے۔ ان کی غذا انہیں بہم پہنچائی ہی جاتی ہے۔ تو انسان کیوں اپنے متعلق اتنا بےآس ہوا جاتا ہے ؟ انسان کے لیے کیا اتنا بھی فکر واہتمام نہ ہوگا جتنی پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 52–63

آیت نمبر 52 تا 63 ترجمہ : آپ کہہ دیجئے کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان میری سچائی پر گواہ کافی ہے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسے سب باتوں کی خبر ہے اور انہیں میں میرا اور تمہارا حال بھی ہے اور جو لوگ باطل پر اور وہ اللہ کے علاوہ وہ چیزیں ہیں جن کی پوجا پاٹ کی جاتی ہے یقین رکھتے ہیں اور تم میں سے اللہ کے منکر ہیں یہی لوگ ہیں جو اپنے سودے میں نقصان اٹھانے والے ہیں اس طور پر کہ انہوں نے ایمان کے بدلے کفر اختیار کرلیا ہے اور یہ لوگ آپ سے عذاب کے بارے میں جلدی کرتے ہیں اور اگر عذاب کی مدت متعین نہ ہوتی تو ان پر فوری عذاب آچکا ہوتا اور ان پر وہ عذاب دفعۃً آپہنچے گا اور ان کو اس کے آنے کی خبر بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وکاین من دابۃٍ لا تحمل رزقھا اللہ یرزقھا وایاکم . اور کتنے ہی جانور اپنی روزی اپنے اوپر اٹھانے نہیں پھرتے ‘ اللہ ہی ان کو بھی روزی دیتا ہے اور تم کو بھی۔ یعنی بہت سے چوپائے اور پرندے جو غذا کے محتاج ہیں اپنے ساتھ اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے اور نہ کل کے لئے جمع کرتے ہیں۔ سفیان بن علی بن ارقم نے کہا : سوائے انسان اور چوہے اور چیونٹی کے اور کوئی مخلوق روزی جمع کرکے نہیں رکھتی۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ چوپائے اور پرندے جو کمزور ہیں اور اپنی روزی جمع کر کے نہیں رکھتے ‘ ان کو بھی اللہ ہی روزی دیتا ہے اور تم طاقتور ہو ‘ رزق جمع کر کے رکھتے ہو ‘ اللہ ہی تم کو بھی روزی دیتا ہے۔ روزی ملنے کے معاملہ میں تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

چناچہ جب ان کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا تو فطری طور پر یہ وسوسہ ہوا کہ وہاں انہیں کون ٹھہرائے گا اور کھانے پینے کو کون دے گا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جان لو بہت سے جانور ایسے ہیں جو کل کے لیے اپنی غذا اٹھا کر نہیں رکھتے اور یہ کہ چیونٹی تو ایک سال کے لیے غذا جمع کر کے رکھتی ہے۔ اللہ ہی ان کو جو اٹھا کر رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے روزی پہنچاتا ہے اور اے جماعت مومنین تمہیں بھی پہنچاتا ہے وہی تمہاری ان باتوں کا سننے والا اور تمہاری روزیوں کا جاننے والا ہے کہ کس مقام پر سے تمہیں روزی پہنچائے گا۔ شان نزول : وَكَاَيِّنْ مِّنْ دَاۗبَّةٍ (الخ) عبد بن حمید، ابن ابی حکم…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَكَاَيِّنْ مِّنْ دَاۗبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا۔۔ : ہجرت کرتے ہوئے جان کی فکر کے بعد ذہن میں آنے والی سب سے پہلی بات یہ ہوتی ہے کہ وطن سے نکلے تو کھائیں گے کہاں سے ؟ اللہ تعالیٰ نے روزی کی طرف سے تسلی دلائی کہ رزق کسی جگہ کے ساتھ خاص نہیں، اللہ تعالیٰ کا رزق ساری مخلوق کے لیے عام ہے، جو بھی ہو اور جہاں بھی ہو۔ بلکہ جن لوگوں نے ہجرت کی ان کا رزق کثرت، وسعت اور عمدگی میں پہلے سے کہیں زیادہ ہوگیا، چناچہ وہ تھوڑی مدت ہی میں تمام علاقوں میں شہروں کے حاکم بن گئے۔ اس لیے فرمایا، کتنے ہی جانور ہیں جو اپنی روزی ساتھ لیے نہیں پھرتے، ان کے گھروں میں کل کی خوراک نہیں ہوتی، اللہ تعالیٰ ان کے ہر نئے دن…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 56–60

یہ آیت نازل ہوئی تاکہ جو مومن مکہ مکرمہ میں ہیں انہیں ہجرت پر برانگختیہ کیا جائے، یہ مقاتل، اور کلبی کا قول ہے : (1) ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی زمین کی وسعت کی خبرد یاور یہ یہ بتایا کہ ایسے علاقے میں رہنا جہاں کفار کی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑے۔ یہ درست نہیں بلکہ یہ درست ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے صالح بندوں کے ساتھ اس کی زمین میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کو تلاش کریں یعنی اگر تمہیں ایمان کے اظہار میں تنگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو مدینہ کی طرف ہجرت کر جائو وہ وسیع ہے کیونکہ وہاں توحید کا اظہار کرنا ممکن ہے : ابن جبیر اور عطاء نے کہا : جہاں بھی ظلم اور منکر ہو وہاں اس آیت کا حکم مرتب ہوگا اور ایسے ملک…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 60–63

رسول اللہ ﷺ کا فقر اختیاری تھا 1۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی وابن عساکر ضعیف سند کے ساتھ ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ آپ مدینہ منورہ کے بعض باغات میں داخل ہوئے آپ نے گری ہوئی کھجوریں اٹھانی شروع فرماءٰں اور کھانے لگے مجھ سے فرمایا اے ابن عمر تجھے کیا ہوا تو نہیں کھاتا میں نے عرض کیا یارسول اللہ مجھے خواہش نہیں آپ نے فرمایا لیکن مجھے خواہش ہے اور یہ چوتھی صبح ہے کہ میں نے کوئی کھانا نہیں چکھا اور نہ اس کو پایا اگر میں چاہتاتو میں اپنے رب سے دعا کرتا کہ مجھے بھی کسری اور قیصر جیسے خزانے عطا فرمائیے۔ اے ابن عمر ؓ تیرا کیا خیال ہوتا جب تو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَكَاَيِّنْ مِّنْ دَاۗبَّةٍ [اور چلنے والے جاندار میں سے کتنے ہی ہیں جو ] لَّا تَحْمِلُ [اٹھا نہیں رکھتے ] رِزْقَهَا [اپنا رزق ] اَللّٰهُ [اللہ ہی ] يَرْزُقُهَا [رزق دیتا ہے ان کو ] وَاِيَّاكُمْ ڮ [اور تم کو بھی ] وَهُوَ السَّمِيْعُ [اور وہ ہی سننے والا ہے ] الْعَلِيْمُ [جاننے والا ہے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 59–60

رزق مقدر ضرور ملے گا دوسری بات کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَ کَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّۃٍ لَّاتَحْمِلُ رِزْقَھَا اَللّٰہُ یَرْزُقُھَا وَ اِیَّاکُمْ ) (زمین پر چلنے والے بہت سے جانور ہیں جو اپنا رزق نہیں اٹھاتے، اللہ ان کو رزق دیتا ہے) اس کے دو مطلب ہیں، ایک یہ کہ جانور اپنا رزق ساتھ لیے نہیں پھرتے جہاں ہوتے ہیں اللہ ان کا رزق دے دیتا ہے، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ ذخیرہ نہیں رکھتے، جو ملا کھالیا آگے کی فکر نہیں کرتے نہ ان کے یہاں رزق جمع کرنے کا انتظام ہے نہ تحصیل رزق کی کوشش، وہ اسباب کے پیچھے نہیں پڑتے اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل سے رزق عطا فرماتا ہے، اسی طرح جب تم ہجرت کرو گے تو وہ تمہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 56–63

ترغیب ہجرت وذکر بقائے عالم آخرت وبیان حقارت دنیا وفناء وزوال او قال اللہ تعالیٰ یعبادی الذین امنوا ان ارضی واسعۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وان اللہ لمع المحسنین۔ (ربط) جب کفار مکہ مسلمانوں کی ایذا رسانی پر تل گئے اور مسلمانوں کو احکام اسلام بجا لانا دشوارہو گیا تو حکم نازل ہوا کہ مسلمان مکہ سے ہجرت کر جائیں اور جہاں ارکان اسلام آزادی کے ساتھ ادا کرسکیں وہاں چلے جائیں کافروں کی زمین میں کافروں کے ساتھ رہنا درست نہیں چناچہ صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے اول حبشہ کی طرف ہجرت کی پھر بعد چندے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی زجاج (رح) کہتے کہ جس جگہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت نماز روزہ ممکن نہ ہو یا جس جگہ علی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 59–60

49:۔ وطن چھوڑنے سے فقر و فاقہ کا اندیشہ تھا جیسا کہ بعض مسلمانوں نے اس کا اظہار بھی کیا تھا کہ ہجرت کر کے مدینہ جائیں گے تو وہاں کھائیں گے کیا اس پر فرمایا اللہ پر بھروسہ کرو جو تمام جانوروں کو روزی دیتا ہے وہی تمہارا بھی رازق ہے تم دیکھتے ہو تمام جانور خالی ہاتھ ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ سب کو روزی پہنچاتا ہے تو وہ تمہیں کیوں روزی نہیں دے گا۔ لما امر رسول اللہ ﷺ من اسلم مکۃ بالہجرۃ خافوا الفقر والضیعۃ فنزلت (مدارک ج 3 ص 201) ۔ الہ تعالیٰ ہر بات سننے والا اور ہر چیز جاننے والا ہے۔ اس سے کوئی چیز مخفی نہیں۔ وہ تمہاری پکاریں سنتا اور تمہاری حاجتوں کو جانتا ہے اس لیے اس پر بھروسہ کر کے اس کے دین…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 60–63

ربطہ آیات اس سورة مبارکہ میں زیادہ تر ایمان کے ساتھ ابتلا کا ذکر ہے۔ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کی مثالیں بھی بیان فرمائیں کہ اس نے اپنے جلیل القدر بندوں کو کس طرح آزمائش میں ڈالا پھر کفرو شرک کا رد کیا ، نبوت و رسالت پر معترضین کے اعتراضات کے جوابات دئیے۔ پھر ابتلا ہی کے ضمن میں ہجرت کا مقام بیان فرمایا اور اہل ایمان کو حکم دیا کہ جب کفار اہل ایمان پر عرصہ حیات تنگ کردیں اور انہیں دینی شعائر بھی ادا نہ کرنے دیں تو موخر الذھر کا فرض ہوجاتا ہے کہ ایسی جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ ہجرت کر جائے کیونکہ اللہ کی زمین بڑی وسیع ہے۔ مسند احمد کی روایت میں حضرت زبیر بین العوامہ ؓ سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَكَاَيِّنْ مِّنْ دَاۗبَّۃٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَہَا۝ 0ۖۤ اَللہُ يَرْزُقُہَا وَاِيَّاكُمْ۝ 0ۡۖ وَہُوَالسَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۝ 60 دب الدَّبُّ والدَّبِيبُ : مشي خفیف، ويستعمل ذلک في الحیوان، وفي الحشرات أكثر، ويستعمل في الشّراب ويستعمل في كلّ حيوان وإن اختصّت في التّعارف بالفرس : وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُها [هود/ 6] ( د ب ب ) دب الدب والدبیب ( ض ) کے معنی آہستہ آہستہ چلنے اور رینگنے کے ہیں ۔ یہ لفظ حیوانات اور زیادہ نر حشرات الارض کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور شراب اور مگر ( لغۃ ) ہر حیوان یعنی ذی حیات چیز کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 56–63

جبکہ کفار و مشرکین مکہ اور نیز اہل کتاب کا حال اور ان کے نامحمود طریقے کی برائی اور آخرت کا حال صاف صاف بیان ہوا تو شدہ شدہ کفار مکہ کو نہایت جوش و تعصب ہوا کہ دینداروں کو نہایت تکلیفیں دینی شروع کردیں جن کو مسلمان نہایت استقلال اور ثابت قدمی کے ساتھ برداشت کرتے رہے، مگر جب ادائِ ارکان دینی سے بھی سخت مانع آئے تو وطن چھوڑ کر باہر جانے کی اجازت ہی نہ دی بلکہ رغبت دلائی گئی، اس لیے یہ آیتیں نازل ہوئیں جن میں ہجرت کی ترغیب ہے، جس سے مسلمان ملک حبشہ اور مدینہ کی طرف ہجرت کرکے جانے لگے۔ فقال یعبادی الذین امنو کہ اے میرے ایماندار بندوں میری زمین فراخ اور کشادہ ہے، کس لیے یہاں پڑے ہو باہر جاؤ اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَکَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّۃٍ لاَّ تَحْمِلُ رِزْقَھَا صلے ق اَللّٰہُ یَرْزُقُھَا وَاِیَّاکُمْ صلے ز وَھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ (العنکبوت : 60) (اور کتنے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے، اللہ ان کو بھی رزق دیتا ہے اور تم کو بھی، اور وہ سب کچھ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کی زمین کی طرح اس کا خوان کرم بھی وسیع ہے ہجرت کرنے والے کے لیے دو پریشانیاں مستقل تشویش کا باعث ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ اپنا وطن، گھر بار اور اپنی قوم چھوڑنے کے بعد نجانے کہیں کوئی مستقر مل سکے گا یا نہیں۔ کوئی ٹھکانہ ہاتھ آئے گا تو کیسا ہوگا، کیسے لوگوں سے واسطہ پڑے گا۔ گزشتہ آیت کریمہ میں اس کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : ہجرت کے وقت تین باتیں انسان کو پریشان کرتی ہیں۔ 1 ۔ جائیں تو کہاں جائیں 2 ۔ مال، جان کے نقصان کا اندیشہ 3 ۔ روزی کا فکر ہجرت کے لیے کدھر جائیں اس کا جواب دیا کہ ” اللہ “ کی زمین بہت وسیع ہے، مالی اور جانی نقصان کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ بالآخر ہر کسی کو موت آنی ہے اور سب کچھ چھوڑ کر آخرت کو سدھارنا ہے۔ اب روزی کے بارے میں تسلّی دی جا رہی ہے کہ ہر انسان بالخصوص ہجرت کرنے والا غور کرے کہ کتنے جانور ہیں جو اپنا رزق جمع نہیں کرتے مگر انہیں بھی ” اللہ تعالیٰ “ رزق دیتا ہے اور تمہیں بھی عطا کرتا ہے، وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے یعنی وہ تمہارے وطن میں ہی نہیں بلکہ تم جہاں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

شانِ نزول آیت نمبر : 60: جب رسول اللہ ﷺ نے ان بعض مسلمانوں کو جو مکہ میں اسلام لائے ہجرت کا حکم دیا تو انہوں نے فقر و ضیاع کا عذر پیش کیا۔ پس یہ آیت اتری : (وَکَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّۃٍ ) کتنے ہی جانور ایسے ہیں جو اپنی روزی اپنے ساتھ اٹھائے نہیں پھرتے۔ یعنی بہت سے چوپائے ہیں۔ قراءت : مکی نے کاین کو مد اور ہمزہ سے پڑھا ہے۔ الدابۃ۔ ہر وہ جاندار جو زمین پر چلے خواہ اس میں عقل ہو نہ ہو۔ ہر جاندار اپنا رزق ساتھ لئے پھرتا ہے : لَا تَحْمِلُ رِزْقَہَا (جو کہ اپنا رزق ساتھ اٹھائے نہیں پھرتے) ۔ یعنی وہ اٹھانے میں کمزوری کی وجہ سے اپنا رزق ساتھ اٹھائے نہیں پھرتے۔ اَللّٰہُ یَرْزُقُہَا وَاِیَّاکُمْ (اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

60۔ وکاین من دابۃ لاتحمل رزقھا، یہ اس وجہ سے نبی کریم نے مومنین کے لیے فرمایا جو مکہ میں رہتے تھے ، ان کو مشرکین اذیتیں دیتے تھے، کہ وہاں سے ہجرت کرکے مدینہ آجاؤ وہ مومنین کہتے کہ ہم کس طرح مدینہ کی طرف نکلیں نہ وہاں جو ہمیں کھانا کھلائے اور پلائے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، وکاین من دابہ، اپنی حاجت کے لیے صبح نکلتے ہیں۔ لاتحمل رزقھا، نہ تو وہ اپنے ساتھ رزق اٹھاتے ہیں اور نہ ہی وہ ذخیرہ کرتے ہیں دوسرے دن کے لیے جیسے چوپائے اور پرندے ہیں۔ ” اللہ یرزقھا وایاکم، جہاں کہیں بھی وہ ہوتے ہیں وھوالسمیع العلیم، وہ ان کی باتوں کو سننے والے ہیں کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نہیں پاتے کہ مدینہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

مسند عبد بن حمید بیہقی ‘ تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت 2 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ ایک روز مدینہ منورہ کے ایک باغ میں تشریف لے گئے اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بھی آنحضرت ﷺ کے ساتھ تھے آنحضرت ﷺ نے پیڑوں کے نیچے کی کھجوریں چن کر کچھ کھائیں اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے فرمایا کہ تم بھی کھاؤ انہوں نے کہا کہ حضرت مجھ کو تو بھوک نہیں آپ نے فرمایا مجھ کو تو بھوک لگی ہے میں نے چار روز سے کچھ نہیں کھایا اور اگر میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں تو اللہ تعالیٰ مجھ کو شاہ ایران اور شاہ روم کی سی بادشاہت عنایت فرما دیوے اے عبداللہ بن عمر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت نمبر :60 اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام مخلوقات ‘ خواہ وہ عاجز ہوں یا طاقت ور ‘ سب کے رزق کا ذمہ لیا ہے۔ (من دآبۃ) روئے زمین پر کتنے ہی کمزور اعضا اور کمزور عقل والے چوپائے ہیں (لاتحمل رزقھا) ” جو اپنا رزق نہیں اٹھائے پھرتے “ اور نہ وہ ذخیرہ کرتے ہیں بلکہ ان کے پاس رزق کے لیے کوئی چیز ہوتی ہی نہیں ‘ مگر اللہ تبارک و تعالیٰ انہیں وقت پر رزق مہیا کرتا ہے۔ (اللہ یرزقھا وایاکم) ” اللہ ہی ان کو رزق دیتا ہے اور تم کو بھی۔ “ تم سب اللہ تعالیٰ کی کفالت میں ہو جو تمہارے رزق کا اسی طرح انتظام کرتا ہے جس طرح اس نے تمہاری تخلیق اور تدبیر کی ہے۔ (وھو السمیع العلیم) ” اور وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ “ اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–69

قول باری ہے : (ولا تجادلوا اھل الکتاب الا بالتیھی احسن۔ اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقے سے) قتادہ کا قول ہے کہ یہ آیت قول باری (وقاتلوا المشرکین اور مشرکین سے قتال کرو) کی بنا پر منسوخ ہوچکی ہے۔ کوئی بحث تلوار کے استعمال سے بڑھ کر نہیں ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قتادہ کی مراد یہ ہے کہ آیت، زیر بحث کا حکم قتال کے حکم سے پہلے کا ہے۔ قول باری ہے : (الا الذین ظلموا منھم ۔ سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں) ۔ یعنی۔ واللہ اعلم۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے بحث وجدال وغیرہ میں تمہارے ساتھ ظلم کیا ہو جو اس امر کا مقتضی ہو کہ تم ان کے ساتھ سخت رویہ رکھو۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 42–69

58 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اس کے احاطہ علم کے اعتبار سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ پوری طرح جانتا ہے ان سب چیزوں کو جن کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں اللہ کے سوا "۔ تعمیم ملاحظہ ہو کہ اول تو { شیئ } خود نکرہ ہے جو ہر چیز کو شامل ہے۔ پھر اس پر { من } استغراقیہ سے مزید تاکید۔ یعنی کوئی بھی چیز خواہ کوئی فرشتہ ہو یا انسان، شجر ہو یا حجر، بت ہو یا جن وغیرہ وغیرہ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ مافوق الاسباب کسی کو بھی پکارنا شرک ہے جو کہ سب سے بڑا گناہ اور ناقابل معافی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اب وہ لوگ دیکھ لیں جو اس وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر اس کی عاجز مخلوق کو پکارتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے " یا رسول…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 56–63

مومنوں کے اوصاف اور ربوبیت الٰہی کے دلائل تشریح : ان آیات میں خوشخبری ان لوگوں کو دی گئی ہے جن میں صبر اور توکل ہو۔ یعنی ہر قسم کی آزمائش ‘ سختی اور مصیبت جو ان کو راہ خدا میں اٹھانی پڑے صبرو سکون سے برداشت کرتے ہوئے ایمان بااللہ پر قائم رہیں۔ اور پورا بھروسہ اللہ پر رکھیں ایمان کی حفاظت اور بقا کے لیے ان کو گھر بار ‘ جائیداد اور رشتہ دار عزیز بھی چھوڑنے پڑیں تو ہجرت ضرور کر جائیں یہ سنت ہے۔ اور جو اللہ کی محبت میں سب کچھ چھوڑ دیتا ہے وہ تو ویسے ہی اللہ کا مقبول ترین انسان بن جاتا ہے۔ جب کہ اللہ تو ویسے ہی بڑا مہربان اور رازق ہے کیونکہ وہ ہر کافر مشرک کو برابر رزق دیتا ہے۔ رزق دینا صرف اسی کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 52–63

آیات 52 تا 63 اسرارومعارف آپ ان سے کہ دیجیے کہ اس قدر دلائل کے بعد بھی اگر تم شبہات میں گرفتار ہو تو پھر میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے جو زمین و آسمان کے سب رازوں سے اقف ہے مومن و کافر کے دلوں کو جانتا ہے۔ اور یہ ظاہر ہوجائے گا جو لوگ باطل پر ہیں اور اللہ کے ارشادات کا انکار کرتے ہیں انجام کار وہی نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔ یہ عذاب مانگنے میں بڑی جلدی دکھاتے ہیں۔ اگر سب معاملات کے اوقات اللہ کریم نے طے نہ فرما دیے ہوتے تو انہیں مانگنے پہ بھی عذاب مل جاتا۔ بحر حال اللہ کی گرفت انہیں اچانک پکڑے گی جبکہ یہ سمجھ ہی نہ پائیں گے کہ سب کچھ کیسے ہوگیا دنیا میں بھی شکست کھا کر پھر موت کے منہ میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

2 ۔ یعنی نہ روزی جمع کرتے ہیں اور نہ کل کے لئے کچھ رکھ چھوڑتے ہیں۔ مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جب صحابہ کو مدینہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا تو انہوں نے سوچا کہ وہاں ہماری معیشت کا کیا انتظام ہوگا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (روح) 3 ۔ مطلب یہ ہے کہ ہجرت کی راہ میں جان کی طرح تمہیں روزی کی فکر بھی نہ ہونی چاہیے۔ جو اللہ اپنی لاتعداد مخلوقات کو روزی دے رہا ہے وہ تمہیں بھی روزی دے گا۔ (دیکھئے سورة ہود :6)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 60–61

(29:60) کاین۔ اسم ہے جو کاف تشبیہ اور ای سے مرکب ہے۔ تعداد میں کثرت ظاہر کرنے کے لئے تمیز کا محتاج ہوتا ہے اور اس کی تمیز بیشتر من کے ساتھ مجرور ہوتی ہے جیسے وکاین من نبی قتل معہ ربیون کثیر (3:146) اور کہتے ہی نبی ہوچکے ہیں کہ ان کی معیت میں بہت اللہ والوں نے (کافروں سے) لڑائی کی۔ اس مثال میں کاین نے کثیر تعداد کو طاہر کیا۔ لیکن کس کی ” یہ بات “ مبہم تھی۔ جب اس کے بعد من نبی آیا تو ابہام دور ہوگیا۔ اور معلوم ہوگیا کہ یہ کثیر تعداد نبیوں کی تھی ! اور جگہ قرآن مجید میں ہے فکاین من قریۃ اہلکناھا وہی ظالمۃ (22:45) غرض کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کر ڈالا ہو نافرمان تھیں۔ کاین کتنی ہی۔ بہت…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 56–60

لغات القرآن آیت نمبر (56 تا 60) ۔ ارضی (میری زمین) ۔ واسعتہ (وسیع۔ پھیلی ہوئی) ۔ ذائقتہ (چکھنے والی) ۔ نبوء ن (ہم ضرور ٹھکا نا دیں گے) ۔ غرف (کمرہ۔ بالا خانہ) ۔ نعم اجر (بہترین بدلہ) ۔ کاین (کتنے ہی۔ بہت سے) ۔ دابتہ (جانور۔ جان دار) ۔ لا تحمل (نہیں اٹھاتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر (56 تا 60) ۔ ” اللہ تعالیٰ کا یہ نظام ہے کہ ہزاروں لاکھوں انسان ہر روز پیدا ہوتے اور مرتے رہتے ہیں۔ انسان زندگی گذارنے کے لئے ایک گھر بنا کر اپنے بیوی، بچوں اور گھر والوں کے ساتھ رہتا بستا ہے۔ کنبہ، خاندان اور برادری کے تعلقات بنتے چلے جاتے ہیں۔ بچپن، جوانی اور بڑھاپے کی عمر گذار کر آخر کار موت کی آغوش میں جا کر سو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) شان نزول : مومنین مکہ نے جب اوپر کی آیتوں کو سنافورا ہجرت کا قصد کیا لیکن ایک اور دغدغہ (اندیشہ) پیش آیا کہ وہاں رزق کا کیا سامان ہوگا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ گھر پر بھی تو بغیر مدد خدا کے کچھ کام نہیں چلتا، پھر سفر میں بھی وہی دے گا، اطمینان کے لیے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی بہت سے جانور ہیں جو اپنی روزی کا آپ بندوبست نہیں کرتے یعنی روزی کے اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتے، حاصل یہ ہے کہ ایسے بہت جانور ہیں کہ جو اپنی روزی کا خیال بھی نہیں کرتے کہ کل ہم کہاں سے کھائیں گے ہوا کے پرندوں اور زمین کے سوراخوں میں رہنے والوں کو دیکھو اللہ ہی ان کو اور تم کو روزی دیتا ہے پس ظاہری روزی کے اسباب بہم نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 57–60

[27] یعنی تمہیں اس کا اندیشہ نہ ہونا چاہئے کہ ہجرت کے بعد معاش کا کیا ذریعہ ہوگا۔ جو اللہ جانوروں کو روزی پہنچاتا ہے کیا اپنے وفادار بندوں کو نہ پہنچائے گا ؟ خوب سمجھ لو کہ رزاق حقیقی وہی ہے جو سب کی باتیں سنتا اور دلوں کے اخلاص کو جانتا ہے۔ لہذا اگر تم اس کی راہ میں وطن چھوڑ کر نکلو گے تو وہ تم کو بھی روزی دے گا جس طرح اپنی بیشمار مخلوقات کو دے رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

60۔ اور کتنے ہی جانور ایسے ہیں جو اپنی غذا کل کے لئے اٹھا کر نہیں رکھتے اللہ تعالیٰ ہی ان کو بھی روزی پہنچاتا ہے اور تم کو بھی وہی روزی دیتا ہے اور وہ سب کی سننے والا اور سب کو جاننے والا ہے۔ یعنی اگر ہجرت اور ترک وطن میں روزی کا خیال مانع ہو تو روزی کا تو یہ حال ہے کہ بہت سے جانور بھی ایسے ہیں جو اپنی غذا بچا کر اور اٹھا کر دوسرے دن کے لئے نہیں رکھتے صبح کو بھوکے اٹھتے ہیں اور شام کو ان کا پیٹ بھرا ہوتا ہے تو تم انسان ہو اور ہماری راہ میں ترک وطن کررہے ہو تم کس طرح بھوکے رہ سکتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ روزی کی طرف سے خاطر جمع کردی کہ اکثرجانوروں کے گھر میں کل کی قوت نہیں ہوتا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ یعنی دل قوی کر کے اللہ پر بھروسہ رکھو، اور وہ بھروسہ کے لائق ہے، کیونکہ وہ سب کچھ سنتا سب کچھ جانتا ہے، اسی طرح دوسری صفات میں کامل ہے اور جو ایسا کامل الصفات ہو وہ ضرور بھروسہ کے قابل ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کتنے چلنے پھرنے والے ہیں کہ اپنا رزق وہ اٹھائے نہیں پھرتے : 60۔ لہو ولعب کے جتنے دنیا میں پائے گئے ہیں ان سب میں اولیت مال کو ہے ۔ لھو کے اصل معنی غفلت کے ہیں ۔ عربی زبان میں یہ لفظ اس شغل کے لئے بولا جاتا ہے جس سے آدمی کو دلچسپی اتنی بڑھ جائے کہ وہ اس میں منہمک ہو کر دوسری تمام چیزوں سے غافل ہوجائے اور بلاشبہ مال کا شغل اتنا زبردست ہے کہ اس کے آنے اور ملنے کی امید پر انسان ساری دلچسپیوں کو بھول جاتا ہے اور اس کی ایسی دھن اس پر سوار ہوتی ہے جو ہر طرف سے اس کو غافل کردیتی ہے لیکن انسان کو کبھی بھول کر بھی یہ خیال نہیں آیا کہ اللہ تعالیٰ کی ان گنت ایسی مخلوق ہے جس کو اس طرح کی کوئی دھن نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 59–60

وَكَأَيِّن مِّن دَابَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِ‌زْقَهَا اللَّـهُ يَرْ‌زُقُهَا وَإِيَّاكُمْ (And how many an animal there is that does not carry its provision. Allah gives provision to it as well as to you, - 29:60), that is, ` You should ponder over the fact that there are innumerable animals on earth who do not collect and store their sustenance, nor do they worry about its collection. But Allah Ta’ ala provides them their sustenance daily by His grace'. This applies to almost all animals, except a few. For instance, ants and rats are two such animals that store their food. Ants do not come out of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

99 That is, "While migrating you should not be worried about your means of livelihood as you should not worry about your life's safety. For none of the birds and the animals of the land and the sea that you find around yourself carries its provision with it. Allah is providing for all of them; wherever they go they get their provision through Allah's bounty. Therefore, do not be disheartened by the thought that if you left your homes for the sake of your faith, you would have nothing to eat. AIlah will provide for you as well from the sources from which He is providing for the countless of…

Read the full tafseer →