Explained with ayahs 56–60
مہاجرین کے لیے انعامات الٰہی
اللہ تبارک وتعالیٰ اس آیت میں ایمان والوں کو ہجرت کا حکم دیتا ہے کہ جہاں وہ دین کو قائم نہ رکھ سکتے ہوں وہاں سے اس جگہ چلے جائیں جہاں ان کے دین میں انہیں آزادی رہے اللہ کی زمین بہت کشادہ ہے جہاں وہ فرمان اللہ کے ماتحت اللہ کی عبادت و توحید بجالاسکیں وہاں چلے جائیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمام شہر اللہ کے شہر ہیں اور کل بندے اللہ کے غلام ہیں جہاں تو بھلائی پاسکتا ہو وہیں قیام کر چناچہ صحابہ اکرام پر جب مکہ شریف کی رہائش مشکل ہوگئی تو وہ ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے تاکہ امن وامان کے ساتھ اللہ کے دین پر قیام کرسکیں وہاں کے سمجھدار دیندار بادشاہ اصحمہ…
Read the full tafseer →سورة العنکبوت 97
یعنی جو ہر طرح کی مشکلات اور مصائب اور نقصانات اور اذیتوں کے مقابلے میں ایمان پر قائم رہے ہیں۔ جنہوں نے ایمان لانے کے خطرات کو اپنی جان پر جھیلا ہے اور منہ نہیں موڑا ہے۔ ترک ایمان کے فائدوں اور منفعتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور ان کی طرف ذرہ برابر التفات نہیں کیا ہے۔ کفار و فساق کو اپنے سامنے پھولتے دیکھا ہے اور ان کی دولت و حشمت پر ایک نگاہ غلط انداز بھی نہیں ڈالی ہے۔
سورة العنکبوت 98
یعنی جنہوں نے بھروسہ اپنی جائدادوں اور اپنے کاروبار اپنے کنبے قبیلے پر نہیں بلکہ اپنے رب پر کیا۔ جو اسباب دنیوی سے قطع نظر کر کے محض اپنے رب کے بھروسے پر ایمان کی خاطر ہر خطرہ سہنے اور ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا الایة۔ دوسرا خطرہ ہجرت کی راہ میں یہ پیش آتا ہے کہ دوسرے وطن دوسرے ملک میں جا کر رزق کا کیا سامان ہوگا ؟ اپنی جگہ تو کچھ آبائی میراث سے کچھ اپنی کمائی سے آدمی کوئی زمین جائیداد یا صنعت و حرفت و تجارت وغیرہ کے سامان کئے رہتا ہے، ہجرت کے وقت یہ سب تو یہیں چھوٹ جائیں گے، آگے گذارہ کس طرح ہوگا ؟ اس کا جواب بعد کی تین آیتوں میں اس طرح دیا گیا ہے کہ تم ان حاصل کردہ سامانوں کو رزق کی علت اور کافی سبب قرار دیتے ہو یہ تمہاری بھول ہے، رزق دینے والا درحقیقت اللہ تعالیٰ ہے وہ جب چاہتا ہے تو بغیر کسی ظاہری سامان کے…
Read the full tafseer →الذین صبروا وعلی ربھم یتوکلون (59)
یہ عاملین کی صنعت ہے اور اس سے کلام بالکل مطابق حال ہوگیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارا یہ صلہ ہمارے ان کا رگزار بندوں کے لئے ہے جو ہر طرح کے حالات میں ہماری بندگی پر ثابت قدم حالات میں بندے کو خدا کی بدگی پر استعوار رکھتا ہے۔ اگر یہ بھروسہ نہ ہو تو ہجرت اور جہاد تو درکنار کوئی معمولی آزمائش بھی آدمی برداشت نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →59-1یعنی دین پر مضبوطی سے قائم رہے، ہجرت کی تکلیفیں برداشت کیں، اہل و عیال اور عزیز و اقربا سے دوری کو محض اللہ کی رضا کے لئے گوارا کیا۔
59-2دین اور دنیا کے ہر معاملے اور حالات میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
32: ہجرت کرنے میں ایک خوف ہوسکتا تھا کہ یہاں تو ہمارے روزگار کا ایک نظام موجود ہے، کہیں اور جاکر معلوم نہیں کوئی مناسب روزگار ملے یا نہ ملے، اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ دنیا میں کتنے جانور ایسے ہیں جو اپنا رزق ساتھ لئے نہیں پھرتے، بلکہ وہ جہاں کہیں جاتے ہیں اللہ تعالیٰ وہیں ان کے رزق کا انتظام فرماتا ہے، لہذا جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت میں وطن چھوڑیں گے، کیا اللہ تعالیٰ ان کے رزق کا انتظام نہیں فرمائے گا ؟ البتہ رزق کی کمی اور زیادتی تمام تر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت پر موقوف ہے، لہذا وہی فیصلہ فرماتا ہے کہ کس کو کس وقت کتنا رزق دینا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
یعبادی الذین امنوا ۔۔۔۔۔ وھو السمیع العلیم (56 – 60)
دلوں کے خالق ، دلوں کی خفیہ باتوں کے جاننے والے ، دلوں میں آنے والے خیالات کے جاننے والے ، اور دلوں میں پیدا ہونے والے وساوس ، اور دلوں میں چھپے ہوئے خدشات کو جاننے والے اور ان دلوں کے پیدا کرنے والے خالق کائنات یوں پکارتے ہیں ” اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو “ ان الفاظ کے ساتھ پکار کر ان کی دعوت دی جاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرو ، اس خطاب کے ذریعے پہلے ہی مرحلہ پر بتا دیا جاتا ہے کہ اس ہجرت کی حقیقت کیا ہے یہ کہ اللہ اور رب کے لیے اور مولائے کریم کی راہ میں ، میں اس کے بندوں کی یہ نقل مکانی ہے۔ یہ تو تھا پہلا نچ ، اور دوسرا احساس ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
1 یعنی جو صبر واستقلال سے اسلام و ایمان کی راہ پر جمے رہے اور خدا پر بھروسہ کر کے گھر بار چھوڑ کر وطن سے نکل کھڑے ہوئے ان کو اس وطن کے بدلے وہ وطن ملے گا اور یہاں کے گھروں سے بہتر گھر دیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 59 الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ ”
اگر تم لوگوں نے اپنے لیے حق کے راستے کا انتخاب کیا ہے تو اس پر چلتے ہوئے باطل سے پنجہ آزمائی کرنے کا مرحلہ بھی آئے گا اور قدم قدم پر مصائب و مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ اس سب کچھ کے مقابلے میں تمہارے پاس دو انتہائی مؤثر ہتھیار ہمہ وقت موجود و دستیاب رہنے چاہئیں ‘ یعنی صبر اور توکلّ علی اللہ ! بس اس راستے میں جو مشکل اور جو مصیبت بھی آئے اسے جھیلنے اور برداشت کرنے کا عزم اپنے اندر ہر دم تازہ اور بلند رکھو اور بھروسہ رکھو تو صرف اللہ کی ذات پر ! اس کٹھن سفر میں نہ تو تم مادی اسباب وو سائل پر نظر رکھو اور نہ ہی اپنی ذہانت و…
Read the full tafseer →91 نیک اعمال میں سرفہرست صبر ہے۔ اور صبر کا لفظ بڑے وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ یعنی اللہ کی راہ میں یہ پیش آنے والی مشکلات کو اللہ کی رضا کے لئے خندہ پیشانی سے برداشت کرنا بھی صبر ہے۔ اور احکام شریعت سے استقلال کے ساتھ کاربند رہنا بھی صبر ہے۔ اور مالی مفادات کے ضیاع کو درخور اعتناء نہ سمجھنا بھی صبر ہے۔ اور نیک اعمال میں سے دوسرے نمبر پر اللہ پر توکل کا ذکر فرمایا۔ اللہ پر توکل کا معنی یہ ہے کہ اللہ کے ان وعدوں پر یقین کیا جائے جو اس نے اپنے فرمانبردار بندوں سے کر رکھے ہیں۔ بالخصوص اس صورت میں جبکہ ان وعدوں کے پورا ہونے کے ظاہری اسباب بھی مفقود نظر آرہے ہوں۔
Read the full tafseer →76۔ (چنانچہ اس صبر و توکل علی اللہ ہی کی بناء پر وہ اس فکر میں زیادہ نہیں پڑے کہ ہجرت کے بعد کھانا پینا کہاں سے چلے گا) (آیت) ” الذین صبروا “۔ جو صالح بندے ہوتے ہیں، لازمی نہیں کہ انہیں سارے تکوینی حالات اپنی مرضی کے موافق ہی ملتے رہیں۔ ایسے موقعوں پر وہ بےصبری سے نہیں، صبر سے کام لیتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” وعلی ربھم یتوکلون “۔ بڑی بات ان نیک اور صالح بندوں میں یہ ہوتی ہے کہ وہ آخری اعتماد چھوٹی بڑی ہر چیز میں اللہ ہی پر رکھتے ہیں جھوٹے اور چھوٹے معبودوں کے پھیر میں پڑ کر اپنی قوتوں کو ضائع ومنتشر نہیں کرتے رہتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–63
آیت نمبر 52 تا 63
ترجمہ : آپ کہہ دیجئے کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان میری سچائی پر گواہ کافی ہے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسے سب باتوں کی خبر ہے اور انہیں میں میرا اور تمہارا حال بھی ہے اور جو لوگ باطل پر اور وہ اللہ کے علاوہ وہ چیزیں ہیں جن کی پوجا پاٹ کی جاتی ہے یقین رکھتے ہیں اور تم میں سے اللہ کے منکر ہیں یہی لوگ ہیں جو اپنے سودے میں نقصان اٹھانے والے ہیں اس طور پر کہ انہوں نے ایمان کے بدلے کفر اختیار کرلیا ہے اور یہ لوگ آپ سے عذاب کے بارے میں جلدی کرتے ہیں اور اگر عذاب کی مدت متعین نہ ہوتی تو ان پر فوری عذاب آچکا ہوتا اور ان پر وہ عذاب دفعۃً آپہنچے گا اور ان کو اس کے آنے کی خبر بھی…
Read the full tafseer →الذین صبروا وعلی ربھم یتوکلون . جنہوں نے کافروں کی اذیت رسانی ‘ ہجرت اور دوسری تکلیفوں اور مصیبتوں پر محض اللہ کی خوشنودی کے لئے صبر کیا اور اپنے رب پر ہی وہ اعتماد رکھتے ہیں۔ یعنی اس بات پر ان کا اعتماد ہے کہ اللہ ان راستوں سے رزق پہنچائے گا جو ان کے گمان میں بھی نہ ہوں گے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ کچھ مؤمن مکہ میں رہ گئے تھے ‘ رسول اللہ نے ان کو حکم دیا کہ ہجرت کر کے مدینہ پہنچ جاؤ۔ ان لوگوں نے جواب دیا کہ وہاں نہ ہمارا گھر ہے ‘ نہ مال ہے ‘ ہمارے کھانے پینے کا انتظام وہاں کون کرے گا ؟ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →جنہوں نے احکام الہی کی بجا آوری کی اور سختیوں پر صبر اور اپنے رب توکل کیا کرتے تھے اس کے علاوہ اور کسی پر بھروسا نہیں رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ صَبَرُوْا : یعنی جنت کے بالا خانوں پر سرفراز ہونے والے وہ لوگ ہیں جنھوں نے دین اسلام اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر، گناہوں سے اجتناب پر، مشرکین کی ایذاؤں پر، ہجرت اور جہاد فی سبیل اللہ کی تکالیف پر صبر کیا، خویش و اقارب اور وطن کو چھوڑا اور دشمنوں سے پنجہ آزما ہوئے۔
وَعَلٰي رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ : اور وہ ہمیشہ اپنے ہر کام میں صرف اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں۔ وہ اپنے وطن، جائداد، کاروبار، دوست احباب، خویش و اقارب، غرض کسی چیز پر بھروسا نہیں کرتے، بلکہ صرف اپنے رب پر بھروسا کرتے ہوئے اس کے راستے میں ہجرت اور جہاد کے لیے نکل جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
یہ آیت نازل ہوئی تاکہ جو مومن مکہ مکرمہ میں ہیں انہیں ہجرت پر برانگختیہ کیا جائے، یہ مقاتل، اور کلبی کا قول ہے : (1) ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی زمین کی وسعت کی خبرد یاور یہ یہ بتایا کہ ایسے علاقے میں رہنا جہاں کفار کی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑے۔ یہ درست نہیں بلکہ یہ درست ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے صالح بندوں کے ساتھ اس کی زمین میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کو تلاش کریں یعنی اگر تمہیں ایمان کے اظہار میں تنگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو مدینہ کی طرف ہجرت کر جائو وہ وسیع ہے کیونکہ وہاں توحید کا اظہار کرنا ممکن ہے : ابن جبیر اور عطاء نے کہا : جہاں بھی ظلم اور منکر ہو وہاں اس آیت کا حکم مرتب ہوگا اور ایسے ملک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
1۔ ابن مردویہ نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب یہ آیت انک میت وانہم میتون الذمر نازل ہوئی تو میں نے عرض کیا اے میرے رب کیا ساری مخلوق مرجائے گی اور انبیاء باقی رہیں گے پھر یہ آیت نازل ہوئی آیت کل نفس ذائقۃ الموت ثم الینا ترجعون یعنی ہر جان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے پھر ہماری طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ صَبَرُوْا [وہ لوگ جو ثابت قدم رہے ] وَعَلٰي رَبِّهِمْ [اور اپنے رب پر ہی ] يَتَوَكَّلُوْنَ [وہ لوگ بھروسہ کرتے ہیں ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
رزق مقدر ضرور ملے گا
دوسری بات کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَ کَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّۃٍ لَّاتَحْمِلُ رِزْقَھَا اَللّٰہُ یَرْزُقُھَا وَ اِیَّاکُمْ ) (زمین پر چلنے والے بہت سے جانور ہیں جو اپنا رزق نہیں اٹھاتے، اللہ ان کو رزق دیتا ہے) اس کے دو مطلب ہیں، ایک یہ کہ جانور اپنا رزق ساتھ لیے نہیں پھرتے جہاں ہوتے ہیں اللہ ان کا رزق دے دیتا ہے، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ ذخیرہ نہیں رکھتے، جو ملا کھالیا آگے کی فکر نہیں کرتے نہ ان کے یہاں رزق جمع کرنے کا انتظام ہے نہ تحصیل رزق کی کوشش، وہ اسباب کے پیچھے نہیں پڑتے اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل سے رزق عطا فرماتا ہے، اسی طرح جب تم ہجرت کرو گے تو وہ تمہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–63
ترغیب ہجرت وذکر بقائے عالم آخرت
وبیان حقارت دنیا وفناء وزوال او
قال اللہ تعالیٰ یعبادی الذین امنوا ان ارضی واسعۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وان اللہ لمع المحسنین۔
(ربط) جب کفار مکہ مسلمانوں کی ایذا رسانی پر تل گئے اور مسلمانوں کو احکام اسلام بجا لانا دشوارہو گیا تو حکم نازل ہوا کہ مسلمان مکہ سے ہجرت کر جائیں اور جہاں ارکان اسلام آزادی کے ساتھ ادا کرسکیں وہاں چلے جائیں کافروں کی زمین میں کافروں کے ساتھ رہنا درست نہیں چناچہ صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے اول حبشہ کی طرف ہجرت کی پھر بعد چندے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی زجاج (رح) کہتے کہ جس جگہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت نماز روزہ ممکن نہ ہو یا جس جگہ علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
49:۔ وطن چھوڑنے سے فقر و فاقہ کا اندیشہ تھا جیسا کہ بعض مسلمانوں نے اس کا اظہار بھی کیا تھا کہ ہجرت کر کے مدینہ جائیں گے تو وہاں کھائیں گے کیا اس پر فرمایا اللہ پر بھروسہ کرو جو تمام جانوروں کو روزی دیتا ہے وہی تمہارا بھی رازق ہے تم دیکھتے ہو تمام جانور خالی ہاتھ ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ سب کو روزی پہنچاتا ہے تو وہ تمہیں کیوں روزی نہیں دے گا۔ لما امر رسول اللہ ﷺ من اسلم مکۃ بالہجرۃ خافوا الفقر والضیعۃ فنزلت (مدارک ج 3 ص 201) ۔ الہ تعالیٰ ہر بات سننے والا اور ہر چیز جاننے والا ہے۔ اس سے کوئی چیز مخفی نہیں۔ وہ تمہاری پکاریں سنتا اور تمہاری حاجتوں کو جانتا ہے اس لیے اس پر بھروسہ کر کے اس کے دین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–59
ربطہ آیات
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب اور مشرکین کا شکوہ کیا تھا جو ایمان لانے کی بجائے طرح طرح کی نشانیاں طلب کرتے تھے۔ اللہ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ آپ صاف صاف کہہ دیں کہ میرا کام تو کھول کر ڈر سنانا ہے۔ نشانیاں پیش کرنا میرے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے وہ جب چاہے کوئی نشانی ظاہر کردیتا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ اس سے بڑی نشانی اور معجزہ کیا ہوگا کہ ایک امی آدمی ایسی عظیم الشان کتاب پڑھ کر سناتا ہے جس نے نہ کوئی کتاب پڑھی ہے اور نہ لکھنا سیکھا ہے۔ یہ کتاب ایسے علوم و معارف پر مشتمل ہے جس کا کوئی انسان احاطہ نہیں کرسکتا۔
رسالت پر شہادت خداوندی
اللہ نے…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَعَلٰي رَبِّہِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ 59
صبر
الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر»
( ص ب ر ) الصبر
کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے والے مرو اور صبر کرنے والی عورتیں اور روزہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–63
جبکہ کفار و مشرکین مکہ اور نیز اہل کتاب کا حال اور ان کے نامحمود طریقے کی برائی اور آخرت کا حال صاف صاف بیان ہوا تو شدہ شدہ کفار مکہ کو نہایت جوش و تعصب ہوا کہ دینداروں کو نہایت تکلیفیں دینی شروع کردیں جن کو مسلمان نہایت استقلال اور ثابت قدمی کے ساتھ برداشت کرتے رہے، مگر جب ادائِ ارکان دینی سے بھی سخت مانع آئے تو وطن چھوڑ کر باہر جانے کی اجازت ہی نہ دی بلکہ رغبت دلائی گئی، اس لیے یہ آیتیں نازل ہوئیں جن میں ہجرت کی ترغیب ہے، جس سے مسلمان ملک حبشہ اور مدینہ کی طرف ہجرت کرکے جانے لگے۔ فقال یعبادی الذین امنو کہ اے میرے ایماندار بندوں میری زمین فراخ اور کشادہ ہے، کس لیے یہاں پڑے ہو باہر جاؤ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّھُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ غُرْفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰـرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ط نِعْمَ اَجْرُالْعٰمِلِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ ۔ (العنکبوت : 58، 59)
(اور جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ہم ان کو جنت کی بلند وبالا عمارتوں میں رکھیں گے جن کے نیچے نہریں رواں ہوں گی وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، کیا ہی خوب صلہ ہے کارگزاروں کا۔ جنھوں نے صبر کیا اور اپنے رب پر ہرحال میں بھروسا رکھا۔ )
ہجرت میں پیش آنے والے مصائب کا صلہ
جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کرتے، صعوبتیں اٹھاتے اور بعض دفعہ جان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
فہم ال قرآن
ربط کلام : موت کا معنٰی کلیتاً ملیا میٹ ہونا نہیں یہ تو ” اللہ “ کے حضور پیش ہونے کا ذریعہ ہے۔ وہاں نیک لوگوں کو بڑے، بڑے انعامات سے نوازا جائے گا۔
موت ہر کسی کو آنی ہے۔ لیکن جو اپنے ایمان کی خاطر کسی چیز کو خاطر میں نہ لایا اور صالح عمل کرتا رہا، اللہ تعالیٰ اسے ضرور، ضرور جنت کے محلاّت میں داخل فرمائے گا، جن کے نیچے نہریں جاری ہو نگی۔ جنتّی جنت میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ ان کے لیے بہترین اجر ہوگا کیونکہ وہ دنیا کے نقصانات اور ہر قسم کی تکالیف پر صبر کرتے ہوئے اپنے رب پر اعتماد کرتے رہے۔ صبر کا معنٰی تکلیف کے وقت حوصلہ کرنا اور مستقل مزاجی کے ساتھ حق بات پر قائم رہنا ہے۔ توکل کا…
Read the full tafseer →59: الَّذِیْنَ صَبَرُوْا : (وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا) ۔ یہ مبتدأ محذوف ہم کی خبر ہے۔ یعنی وہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے وطن کو چھوڑنے پر صبر کیا اور مشرکین کی طرف سے ملنے والی ایذائوں اور تکالیف پر جمے رہے اور طاعات پر ثابت قدم اور معاصی سے بےتعلق رہے۔
قراءت : وصل زیادہ عمدہ ہے۔ تاکہ الذین یہ عالمین کی صفت بن جائے۔
وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ (اور وہ اپنے رب ہی پر توکل کرنے والے ہیں) ۔ ان تمام حالات میں انہوں نے صرف اللہ ہی پر بھروسہ کیا۔
Read the full tafseer →59۔ الذین صبروا ، وہ لوگ جنہوں نے سختیوں اور مصائب میں صبر اختیار کیا اور اپنے دین کو ترک نہین کیا، وعلی ربھم یتوکلون، اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–59
50 تا 59۔ مشرکین مکہ کہتے ہیں کہ اگر یہ سچے رسول ہیں تو کچھ نشانیاں کیوں نہیں دکھاتے اللہ فرماتا ہے تو کہہ دے نشانیاں اللہ کے اختیار میں ہیں اگر اللہ جانتا نشانیاں دیکھ کر تم راہ پر آجاؤ گے تو وہ تم کو نشانیاں بھی دکھا دیتا اس پر کچھ مشکل نہ تھا مگر وہ جانتا ہے کہ تمہارا ارادہ مسخرا پن کا ہے اس لیے وہ تم کو نہیں دکھاتا اور میں تو فقط ڈرانے والا ہوں پھر اللہ تعالیٰ مشرکوں کی وہ جہالت بیان کرتا ہے جس کے سبب سے وہ جو پیغمبر صلعم کی سچائی پر نشانیاں مانگتے تھے حالانکہ قرآن شریف ایسا بڑا معجزہ ہے کہ جس کے مقابلہ سے بڑے بڑے فصیح بلیغ عاجز آگئے اس کا مانند دس سورت کیا بلکہ ایک سورت بھی نہ بناسکے پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
آیت نمبر : 56-59
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (یعبادی الذین امنوآ) ” اے میرے بندوں جو ایمان لائے ہو ! “ اور جنہوں نے میرے رسول کی تصدیق کی ہے (ان ارضی واسعۃ فایای فاعبدون) ” میری زمین فراخ ہے ‘ پس تم میری ہی عبادت کرو۔ “ یعنی جب کسی سرزمین میں تمہارے لیے اپنے رب کی عبادت کرنا ممکن نہ رہے تو اس کو چھوڑ کر کسی اور سرزمین میں چلے جاؤ جہاں تم اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرسکو۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جگہیں بہت کشادہ ہیں۔ تمہارا معبود ایک ہے اور موت تمہیں آکر رہے گی پھر تمہیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ وہ اس شخص کو بہترین جزا سے نوازے گا جس نے ایمان اور عمل صالح کو اکٹھا کیا ‘ وہ انہیں رفیع الشان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–69
قول باری ہے : (ولا تجادلوا اھل الکتاب الا بالتیھی احسن۔ اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقے سے) قتادہ کا قول ہے کہ یہ آیت قول باری (وقاتلوا المشرکین اور مشرکین سے قتال کرو) کی بنا پر منسوخ ہوچکی ہے۔ کوئی بحث تلوار کے استعمال سے بڑھ کر نہیں ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قتادہ کی مراد یہ ہے کہ آیت، زیر بحث کا حکم قتال کے حکم سے پہلے کا ہے۔
قول باری ہے : (الا الذین ظلموا منھم ۔ سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں) ۔ یعنی۔ واللہ اعلم۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے بحث وجدال وغیرہ میں تمہارے ساتھ ظلم کیا ہو جو اس امر کا مقتضی ہو کہ تم ان کے ساتھ سخت رویہ رکھو۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–69
58 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اس کے احاطہ علم کے اعتبار سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ پوری طرح جانتا ہے ان سب چیزوں کو جن کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں اللہ کے سوا "۔ تعمیم ملاحظہ ہو کہ اول تو { شیئ } خود نکرہ ہے جو ہر چیز کو شامل ہے۔ پھر اس پر { من } استغراقیہ سے مزید تاکید۔ یعنی کوئی بھی چیز خواہ کوئی فرشتہ ہو یا انسان، شجر ہو یا حجر، بت ہو یا جن وغیرہ وغیرہ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ مافوق الاسباب کسی کو بھی پکارنا شرک ہے جو کہ سب سے بڑا گناہ اور ناقابل معافی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اب وہ لوگ دیکھ لیں جو اس وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر اس کی عاجز مخلوق کو پکارتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے " یا رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–63
مومنوں کے اوصاف اور ربوبیت الٰہی کے دلائل
تشریح : ان آیات میں خوشخبری ان لوگوں کو دی گئی ہے جن میں صبر اور توکل ہو۔ یعنی ہر قسم کی آزمائش ‘ سختی اور مصیبت جو ان کو راہ خدا میں اٹھانی پڑے صبرو سکون سے برداشت کرتے ہوئے ایمان بااللہ پر قائم رہیں۔ اور پورا بھروسہ اللہ پر رکھیں ایمان کی حفاظت اور بقا کے لیے ان کو گھر بار ‘ جائیداد اور رشتہ دار عزیز بھی چھوڑنے پڑیں تو ہجرت ضرور کر جائیں یہ سنت ہے۔ اور جو اللہ کی محبت میں سب کچھ چھوڑ دیتا ہے وہ تو ویسے ہی اللہ کا مقبول ترین انسان بن جاتا ہے۔ جب کہ اللہ تو ویسے ہی بڑا مہربان اور رازق ہے کیونکہ وہ ہر کافر مشرک کو برابر رزق دیتا ہے۔ رزق دینا صرف اسی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–63
آیات 52 تا 63
اسرارومعارف
آپ ان سے کہ دیجیے کہ اس قدر دلائل کے بعد بھی اگر تم شبہات میں گرفتار ہو تو پھر میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے جو زمین و آسمان کے سب رازوں سے اقف ہے مومن و کافر کے دلوں کو جانتا ہے۔ اور یہ ظاہر ہوجائے گا جو لوگ باطل پر ہیں اور اللہ کے ارشادات کا انکار کرتے ہیں انجام کار وہی نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔ یہ عذاب مانگنے میں بڑی جلدی دکھاتے ہیں۔ اگر سب معاملات کے اوقات اللہ کریم نے طے نہ فرما دیے ہوتے تو انہیں مانگنے پہ بھی عذاب مل جاتا۔ بحر حال اللہ کی گرفت انہیں اچانک پکڑے گی جبکہ یہ سمجھ ہی نہ پائیں گے کہ سب کچھ کیسے ہوگیا دنیا میں بھی شکست کھا کر پھر موت کے منہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
1 ۔ نہ کہ اپنی جائیدادوں، کاروبار یا برادری یا کسی اور چیز پر۔
Read the full tafseer →(29:59) یہ آیت عاملین (آیت 58) کی صفت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
لغات القرآن آیت نمبر (56 تا 60) ۔
ارضی (میری زمین) ۔ واسعتہ (وسیع۔ پھیلی ہوئی) ۔ ذائقتہ (چکھنے والی) ۔ نبوء ن (ہم ضرور ٹھکا نا دیں گے) ۔ غرف (کمرہ۔ بالا خانہ) ۔ نعم اجر (بہترین بدلہ) ۔ کاین (کتنے ہی۔ بہت سے) ۔ دابتہ (جانور۔ جان دار) ۔ لا تحمل (نہیں اٹھاتے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر (56 تا 60) ۔ ” اللہ تعالیٰ کا یہ نظام ہے کہ ہزاروں لاکھوں انسان ہر روز پیدا ہوتے اور مرتے رہتے ہیں۔ انسان زندگی گذارنے کے لئے ایک گھر بنا کر اپنے بیوی، بچوں اور گھر والوں کے ساتھ رہتا بستا ہے۔ کنبہ، خاندان اور برادری کے تعلقات بنتے چلے جاتے ہیں۔ بچپن، جوانی اور بڑھاپے کی عمر گذار کر آخر کار موت کی آغوش میں جا کر سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
ہجرت کا حکم۔
(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ہجرت کا حکم فرماتا ہے کہ جس شہر میں آدمی دین پر پورانہ چل سکے وہاں سے ہجرت کرکے دوسرے شہر میں چلاجائے جہاں دین پر آزادی سے چل سکے ، نبی ﷺ نے فرمایا سب شہر اللہ کے ہیں، اور سب بندے اللہ کے ہیں جہاں نیکی کرسکے وہاں قیام کرو، پہلے پہل بےوطن ہونے میں تنگی معاش کے اندیشہ سے لوگوں کو مکہ کے چھوڑے جان میں پس پیش تھا لیکن جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اللہ کی زمین کشادہ اور اللہ ہر جگہ رازق ہے اس خوف و خطرناک جگہ سے حبشہ کو ہجرت کی تاکہ وہاں بےخوف اپنے دین پرچلیں۔ وہاں کے بادشاہ نجاشی نے ان کو جگہ دی اور بڑی مدد کی۔ وطن چھوڑنا یوں ہی ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
[27] یعنی تمہیں اس کا اندیشہ نہ ہونا چاہئے کہ ہجرت کے بعد معاش کا کیا ذریعہ ہوگا۔ جو اللہ جانوروں کو روزی پہنچاتا ہے کیا اپنے وفادار بندوں کو نہ پہنچائے گا ؟ خوب سمجھ لو کہ رزاق حقیقی وہی ہے جو سب کی باتیں سنتا اور دلوں کے اخلاص کو جانتا ہے۔ لہذا اگر تم اس کی راہ میں وطن چھوڑ کر نکلو گے تو وہ تم کو بھی روزی دے گا جس طرح اپنی بیشمار مخلوقات کو دے رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–61
حل لغات غرفا ۔ بالا خانے ۔ غرفۃ کی جمع ہے ۔
Read the full tafseer →59۔ وہ عمل کرنے اور کام کرنے والے وہ لوگ ہیں جو مصائب پر ثابت قدم رہے اور صبر کرتے رہے اور اپنے پروردگاری ہی پر بھروسہ کرتے رہے اور اسی پر توکل کرتے رہے۔ یعنی ایمان اور اعمال صالحہ کی پابندی کرنے والوں کا صلہ بیان کیا اور یہ بتایا کہ وہ مصیبتوں پر صبر کرنے والے ہیں جس میں ہجرت کی تکلیف اور مصیبت بھی آگئی ۔ صبر کرنے والے ہیں اور خدائے تعالیٰ پر بھروسہ کرتے تھے یعنی اپنے ہر معاملہ میں اللہ تعالیٰ پر ان کو بھروسہ تھا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اس وطن کے بدلے وہ وطن ملے گا ۔ 12 آگے روزی کی طرف سے اطمینان دلایا ۔
Read the full tafseer →ف 5۔ یعنی واقع سختیوں پر جن میں ہجرت کی سختی بھی داخل ہے صبر کیا۔
6۔ یعنی محتمل الوقوع تکالیف کے اندیشے کے وقت جن میں دوسری محتمل سختیوں کے ساتھ اندیشہ رزق بھی آگیا وہ اپنے رب پر توکل کرتے تھے۔
Read the full tafseer →یہ لوگ ہیں صبر کرنے والے اور اپنے رب پر بھروسہ کرنے والے :
59۔ یہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کے مناقب میں کہا جا رہا ہے کہ بلاشبہ جب یہ لوگ ایمان لائے تھے اس وقت ایمان لانا لوہے کے چنے چبانا تھا اور ان کو مفتیان شرع متین یہ فتوی دینے والے بھی تھے کہ ان حالات میں ایمان کے اعلان کی ضرورت نہیں لیکن انہوں نے جان کی بازی لگا کر اور اپنی جان پر کھیل کر ایمان کا اعلان کیا اور پھر ان کو جو کچھ اس کے عوض میں پیش آیا انہوں نے بخوشی سر آنکھوں پر اس کو قبول کیا اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے جان کی بازی لگا دی آج ان کے اجر دیئے جانے کا دن ہے اور بلاشبہ سب کو دکھا کر ان کے اعمال کا بدلہ ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
وَكَأَيِّن مِّن دَابَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّـهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ (And how many an animal there is that does not carry its provision. Allah gives provision to it as well as to you, - 29:60), that is, ` You should ponder over the fact that there are innumerable animals on earth who do not collect and store their sustenance, nor do they worry about its collection. But Allah Ta’ ala provides them their sustenance daily by His grace'. This applies to almost all animals, except a few. For instance, ants and rats are two such animals that store their food. Ants do not come out of…
Read the full tafseer →97 "Who . . patience": who remained steadfast in faith in the face of hardships and afflictions and losses and persecutions; who have endured the consequences of the faith and have not turned away; who have seen the advantages and benefits of abandoning the faith and have not been lured away by them; who have seen the disbelievers and the wrongdoers prosper in the world and have not cast even a stray glance at their wealth and splendour. "
98 "Put . . . Lord": Who did not put their trust in their possessions and their business and their clans and tribes but in their Lord; who were prepared to…
Read the full tafseer →