Explained with ayahs 56–60
مہاجرین کے لیے انعامات الٰہی
اللہ تبارک وتعالیٰ اس آیت میں ایمان والوں کو ہجرت کا حکم دیتا ہے کہ جہاں وہ دین کو قائم نہ رکھ سکتے ہوں وہاں سے اس جگہ چلے جائیں جہاں ان کے دین میں انہیں آزادی رہے اللہ کی زمین بہت کشادہ ہے جہاں وہ فرمان اللہ کے ماتحت اللہ کی عبادت و توحید بجالاسکیں وہاں چلے جائیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمام شہر اللہ کے شہر ہیں اور کل بندے اللہ کے غلام ہیں جہاں تو بھلائی پاسکتا ہو وہیں قیام کر چناچہ صحابہ اکرام پر جب مکہ شریف کی رہائش مشکل ہوگئی تو وہ ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے تاکہ امن وامان کے ساتھ اللہ کے دین پر قیام کرسکیں وہاں کے سمجھدار دیندار بادشاہ اصحمہ…
Read the full tafseer →سورة العنکبوت 96
یعنی اگر ایمان اور نیکی کے راستہ پر چل کر بالفرض تم دنیا کی ساری نعمتوں سے محروم بھی رہ گئے اور دنیوی نقطہ نظر سے سراسر ناکام بھی مرے تو یقین رکھو کہ اس کی تلافی بہرحال ہوگی اور نری تلافی ہی نہ ہوگی بلکہ بہترین اجر نصیب ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا الایة۔ دوسرا خطرہ ہجرت کی راہ میں یہ پیش آتا ہے کہ دوسرے وطن دوسرے ملک میں جا کر رزق کا کیا سامان ہوگا ؟ اپنی جگہ تو کچھ آبائی میراث سے کچھ اپنی کمائی سے آدمی کوئی زمین جائیداد یا صنعت و حرفت و تجارت وغیرہ کے سامان کئے رہتا ہے، ہجرت کے وقت یہ سب تو یہیں چھوٹ جائیں گے، آگے گذارہ کس طرح ہوگا ؟ اس کا جواب بعد کی تین آیتوں میں اس طرح دیا گیا ہے کہ تم ان حاصل کردہ سامانوں کو رزق کی علت اور کافی سبب قرار دیتے ہو یہ تمہاری بھول ہے، رزق دینے والا درحقیقت اللہ تعالیٰ ہے وہ جب چاہتا ہے تو بغیر کسی ظاہری سامان کے…
Read the full tafseer →والذین امنوا وعملوا لصلحت لتبوتنھم من الھنۃ غرفا تجری من تحتھا الناھر خلدین فیھا نعم اجرا العلمین (58)
یعنی خدا کے ہاں کسی کی کوئی سعی رائگاں نہیں جائے گا۔ جو لوگ ایمان و عمل صالح کی زندگی بسر کریں گے اللہ تعالیٰ ان کو جنت کے بالاخانوں میں فروکش کرے گا اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اس حیات چند روزہ کے ایمان و عمل صالح کے بدلے جب یہ اجر و دائمی و ابدی حاصل ہونے والا ہے تو یہ بہت بڑی چیز ہے۔ ہر عاقل کو اسی کے لئے جدوجہد کرنی چاہیے، اس دنیا کے بڑے سے بڑے عیش کی خاطر بھی اس کو قربان نہیں کرنا چاہے۔
Read the full tafseer →58-1یعنی اہل جنت کے مکانات بلند ہونگے، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہونگی۔ یہ نہریں پانی، شراب، شہد اور دودھ کی ہونگی، علاوہ ازیں انھیں جس طرف پھیرنا چاہیں گے، ان کا رخ اسی طرف ہوجائے گا۔
58-2ان کے زوال کا خطرہ ہوگا نہ انھیں موت کا اندیشہ نہ کسی اور جگہ پھرجانے کا خوف۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
32: ہجرت کرنے میں ایک خوف ہوسکتا تھا کہ یہاں تو ہمارے روزگار کا ایک نظام موجود ہے، کہیں اور جاکر معلوم نہیں کوئی مناسب روزگار ملے یا نہ ملے، اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ دنیا میں کتنے جانور ایسے ہیں جو اپنا رزق ساتھ لئے نہیں پھرتے، بلکہ وہ جہاں کہیں جاتے ہیں اللہ تعالیٰ وہیں ان کے رزق کا انتظام فرماتا ہے، لہذا جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت میں وطن چھوڑیں گے، کیا اللہ تعالیٰ ان کے رزق کا انتظام نہیں فرمائے گا ؟ البتہ رزق کی کمی اور زیادتی تمام تر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت پر موقوف ہے، لہذا وہی فیصلہ فرماتا ہے کہ کس کو کس وقت کتنا رزق دینا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
یعبادی الذین امنوا ۔۔۔۔۔ وھو السمیع العلیم (56 – 60)
دلوں کے خالق ، دلوں کی خفیہ باتوں کے جاننے والے ، دلوں میں آنے والے خیالات کے جاننے والے ، اور دلوں میں پیدا ہونے والے وساوس ، اور دلوں میں چھپے ہوئے خدشات کو جاننے والے اور ان دلوں کے پیدا کرنے والے خالق کائنات یوں پکارتے ہیں ” اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو “ ان الفاظ کے ساتھ پکار کر ان کی دعوت دی جاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرو ، اس خطاب کے ذریعے پہلے ہی مرحلہ پر بتا دیا جاتا ہے کہ اس ہجرت کی حقیقت کیا ہے یہ کہ اللہ اور رب کے لیے اور مولائے کریم کی راہ میں ، میں اس کے بندوں کی یہ نقل مکانی ہے۔ یہ تو تھا پہلا نچ ، اور دوسرا احساس ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
1 یعنی جو صبر واستقلال سے اسلام و ایمان کی راہ پر جمے رہے اور خدا پر بھروسہ کر کے گھر بار چھوڑ کر وطن سے نکل کھڑے ہوئے ان کو اس وطن کے بدلے وہ وطن ملے گا اور یہاں کے گھروں سے بہتر گھر دیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 58 وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّءَنَّہُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ غُرَفًا ”
اے میرے بندو ! اگر تم نے میرے لیے اپنی جان جوکھم میں ڈالی ہے تو میرے اس وعدے پر بھی پختہ یقین رکھو کہ میں نے تمہارے لیے جنت اور اس کی بیشمار نعمتیں تیار کر رکھی ہیں۔ تمہارے اعمال کے بدلے میں تم لوگوں کو جنت کے بالا خانوں میں جگہ دی جائے گی ‘ جہاں تم رنگا رنگ کی نعمتوں کے درمیان عیش کی زندگی بسر کرو گے۔ جنت کے بالاخانوں کا ذکر سورة الفرقان کی اس آیت میں بھی ہوا ہے : اُولٰٓءِکَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَۃَ بِمَا صَبَرُوْا وَیُلَقَّوْنَ فِیْہَا تَحِیَّۃً وَّسَلٰمًا ”یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کے صبر کی جزا…
Read the full tafseer →90 یعنی ہجرت کی صورت میں تمہارے دنیوی مفادات بھی مجروح ہوں گے اور کئی طرح کی مشکلات بھی پیش آسکتی ہیں۔ ان کے بدلہ میں اللہ نے تمہارے لئے جو اجر تیار کر رکھا ہے۔ وہ ان سب چیزوں سے بدرجہا بہتر ہے۔ جن کا تمہیں فکر ہے۔
Read the full tafseer →75۔ (اور انہیں نیک اعمال میں بوقت ضرورت ہجرت بھی ہے جس کا ابھی اوپر بیان آچکا ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–63
آیت نمبر 52 تا 63
ترجمہ : آپ کہہ دیجئے کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان میری سچائی پر گواہ کافی ہے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسے سب باتوں کی خبر ہے اور انہیں میں میرا اور تمہارا حال بھی ہے اور جو لوگ باطل پر اور وہ اللہ کے علاوہ وہ چیزیں ہیں جن کی پوجا پاٹ کی جاتی ہے یقین رکھتے ہیں اور تم میں سے اللہ کے منکر ہیں یہی لوگ ہیں جو اپنے سودے میں نقصان اٹھانے والے ہیں اس طور پر کہ انہوں نے ایمان کے بدلے کفر اختیار کرلیا ہے اور یہ لوگ آپ سے عذاب کے بارے میں جلدی کرتے ہیں اور اگر عذاب کی مدت متعین نہ ہوتی تو ان پر فوری عذاب آچکا ہوتا اور ان پر وہ عذاب دفعۃً آپہنچے گا اور ان کو اس کے آنے کی خبر بھی…
Read the full tafseer →والذین امنوا وعملوا الصلحت لنبوئنھم من الجنۃ غرفًا . اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے
نیک کام کئے ‘ ہم ان کو جنت کے بلند وبالا محلوں میں ٹھکانہ دیں گے۔
تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا . جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہ ہمیشہ وہاں رہیں گے۔
نعم اجر العلمین یہ بہت اچھا اجر ہے ان باعمل لوگوں کا
Read the full tafseer →جو حضرات رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے تو ہم ان کو جنت کے بالاخانوں میں جگہ دیں گے جن کے محلات اور درختوں کے نیچے سے دودھ، شہد، شراب اور پانی کی نہریں بہتی ہوں گی وہ اس جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے نیک کام کرنے والوں کا کیا ہی اچھا اجر ہے۔
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ۔۔ : اس سے پہلے آیت (54) اور (55) میں کفار کے ٹھکانے کا ذکر فرمایا تھا، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے سچے مومن بندوں کے لیے تیار کیے جانے والے بہترین ٹھکانے کا ذکر فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے صالح اعمال کیے، ہم انھیں جنت کے بلند و بالا مکانوں میں جگہ دیں گے۔ (دیکھیے فرقان : 75۔ زمر : 20) جن کے نیچے پانی، دودھ، شراب اور شہد کی نہریں بہ رہی ہوں گی۔ (دیکھیے سورة محمد : 15) جس طرف ان نہروں کا رخ پھیرنا چاہیں گے پھیر لیں گے۔ (دیکھیے دہر : 6) ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ (دیکھیے کہف : 2، 3 اور 107، 108)۔
نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَ : یعنی جنت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
یہ آیت نازل ہوئی تاکہ جو مومن مکہ مکرمہ میں ہیں انہیں ہجرت پر برانگختیہ کیا جائے، یہ مقاتل، اور کلبی کا قول ہے : (1) ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی زمین کی وسعت کی خبرد یاور یہ یہ بتایا کہ ایسے علاقے میں رہنا جہاں کفار کی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑے۔ یہ درست نہیں بلکہ یہ درست ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے صالح بندوں کے ساتھ اس کی زمین میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کو تلاش کریں یعنی اگر تمہیں ایمان کے اظہار میں تنگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو مدینہ کی طرف ہجرت کر جائو وہ وسیع ہے کیونکہ وہاں توحید کا اظہار کرنا ممکن ہے : ابن جبیر اور عطاء نے کہا : جہاں بھی ظلم اور منکر ہو وہاں اس آیت کا حکم مرتب ہوگا اور ایسے ملک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
1۔ ابن مردویہ نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب یہ آیت انک میت وانہم میتون الذمر نازل ہوئی تو میں نے عرض کیا اے میرے رب کیا ساری مخلوق مرجائے گی اور انبیاء باقی رہیں گے پھر یہ آیت نازل ہوئی آیت کل نفس ذائقۃ الموت ثم الینا ترجعون یعنی ہر جان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے پھر ہماری طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [اور جو لوگ ایمان لائے ] وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ [اور انہوں نے عمل کئے نیکیوں کے ] لَنُبَوِّئَنَّهُمْ [ان کو ہم لازما ٹھکانہ دیں گے ] مِّنَ الْجَنَّةِ [جنت میں سے ] غُرَفًا [بالا خانوں میں ] تَجْرِيْ [بہتی ہوں گی ] مِنْ تَحْتِهَا [جن کے نیچے سے ] الْاَنْهٰرُ [نہریں ] خٰلِدِيْنَ [ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ] فِيْهَا ۭ [ان میں ] نِعْمَ [کتنی اچھی ہے ] اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَ [عمل کرنے والوں کے اجرت ] ۔
Read the full tafseer →اس کے بعد اہل ایمان کے اجر وثواب کا تذکرہ فرمایا : (وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ) (الآیۃ) (اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ضرور ضرور ہم انہیں جنت کے بالا خانوں میں ٹھکانہ دیں گے، جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور اچھا اجر ہے عمل کرنے والوں کا) اتنی بڑی جنت کا چھوٹا سا گھر اور وطن مالوف چھوڑنے کے عوض مل جانا بہت بڑی کامیابی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–63
ترغیب ہجرت وذکر بقائے عالم آخرت
وبیان حقارت دنیا وفناء وزوال او
قال اللہ تعالیٰ یعبادی الذین امنوا ان ارضی واسعۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وان اللہ لمع المحسنین۔
(ربط) جب کفار مکہ مسلمانوں کی ایذا رسانی پر تل گئے اور مسلمانوں کو احکام اسلام بجا لانا دشوارہو گیا تو حکم نازل ہوا کہ مسلمان مکہ سے ہجرت کر جائیں اور جہاں ارکان اسلام آزادی کے ساتھ ادا کرسکیں وہاں چلے جائیں کافروں کی زمین میں کافروں کے ساتھ رہنا درست نہیں چناچہ صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے اول حبشہ کی طرف ہجرت کی پھر بعد چندے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی زجاج (رح) کہتے کہ جس جگہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت نماز روزہ ممکن نہ ہو یا جس جگہ علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
48:۔ یہ ہجرت کرنے والوں کے لیے بشارت اخروی ہے۔ جو لوگ توحید پر ایمان لائے اور توحید کی خاطر تکلیفیں اٹھائیں، اپنی جائیدادیں اور مکان چھوڑے آخرت میں ہم انہیں شاندار بالا خانے عطا کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ الذین صبروا الخ یہ ان ایمان والوں کا اجر ہے جنہوں نے اپنی عملی زندگی میں توحید کا نمونہ پیش کیا اور دین حق کی خاطر مصائب برداشت کیے اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور اعتماد رکھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–59
ربطہ آیات
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب اور مشرکین کا شکوہ کیا تھا جو ایمان لانے کی بجائے طرح طرح کی نشانیاں طلب کرتے تھے۔ اللہ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ آپ صاف صاف کہہ دیں کہ میرا کام تو کھول کر ڈر سنانا ہے۔ نشانیاں پیش کرنا میرے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے وہ جب چاہے کوئی نشانی ظاہر کردیتا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ اس سے بڑی نشانی اور معجزہ کیا ہوگا کہ ایک امی آدمی ایسی عظیم الشان کتاب پڑھ کر سناتا ہے جس نے نہ کوئی کتاب پڑھی ہے اور نہ لکھنا سیکھا ہے۔ یہ کتاب ایسے علوم و معارف پر مشتمل ہے جس کا کوئی انسان احاطہ نہیں کرسکتا۔
رسالت پر شہادت خداوندی
اللہ نے…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّہُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ غُرَفًا تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْہَا 0ۭ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَ 5 8ۤۖ
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–63
جبکہ کفار و مشرکین مکہ اور نیز اہل کتاب کا حال اور ان کے نامحمود طریقے کی برائی اور آخرت کا حال صاف صاف بیان ہوا تو شدہ شدہ کفار مکہ کو نہایت جوش و تعصب ہوا کہ دینداروں کو نہایت تکلیفیں دینی شروع کردیں جن کو مسلمان نہایت استقلال اور ثابت قدمی کے ساتھ برداشت کرتے رہے، مگر جب ادائِ ارکان دینی سے بھی سخت مانع آئے تو وطن چھوڑ کر باہر جانے کی اجازت ہی نہ دی بلکہ رغبت دلائی گئی، اس لیے یہ آیتیں نازل ہوئیں جن میں ہجرت کی ترغیب ہے، جس سے مسلمان ملک حبشہ اور مدینہ کی طرف ہجرت کرکے جانے لگے۔ فقال یعبادی الذین امنو کہ اے میرے ایماندار بندوں میری زمین فراخ اور کشادہ ہے، کس لیے یہاں پڑے ہو باہر جاؤ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّھُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ غُرْفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰـرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ط نِعْمَ اَجْرُالْعٰمِلِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ ۔ (العنکبوت : 58، 59)
(اور جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ہم ان کو جنت کی بلند وبالا عمارتوں میں رکھیں گے جن کے نیچے نہریں رواں ہوں گی وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، کیا ہی خوب صلہ ہے کارگزاروں کا۔ جنھوں نے صبر کیا اور اپنے رب پر ہرحال میں بھروسا رکھا۔ )
ہجرت میں پیش آنے والے مصائب کا صلہ
جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کرتے، صعوبتیں اٹھاتے اور بعض دفعہ جان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
فہم ال قرآن
ربط کلام : موت کا معنٰی کلیتاً ملیا میٹ ہونا نہیں یہ تو ” اللہ “ کے حضور پیش ہونے کا ذریعہ ہے۔ وہاں نیک لوگوں کو بڑے، بڑے انعامات سے نوازا جائے گا۔
موت ہر کسی کو آنی ہے۔ لیکن جو اپنے ایمان کی خاطر کسی چیز کو خاطر میں نہ لایا اور صالح عمل کرتا رہا، اللہ تعالیٰ اسے ضرور، ضرور جنت کے محلاّت میں داخل فرمائے گا، جن کے نیچے نہریں جاری ہو نگی۔ جنتّی جنت میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ ان کے لیے بہترین اجر ہوگا کیونکہ وہ دنیا کے نقصانات اور ہر قسم کی تکالیف پر صبر کرتے ہوئے اپنے رب پر اعتماد کرتے رہے۔ صبر کا معنٰی تکلیف کے وقت حوصلہ کرنا اور مستقل مزاجی کے ساتھ حق بات پر قائم رہنا ہے۔ توکل کا…
Read the full tafseer →قراءت : یحییٰ نے یرجعون اور یعقوب نے ترجعون پڑھا ہے۔
58: وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّہُمْ (اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالحہ کیے ہم ضرور) مِنَ الْجَنَّۃِ غُرَفًا (ان کو جنت کے بالاخانوں میں ٹھکانہ دیں گے) ۔ ہم ان کو جنت میں لے جااُتاریں گے۔
قراءت : علالی نے لنثوینہم۔ کوفی قراء نے عاصم کے علاوہ پڑھا ہے یہ الثواء سے ہے۔ اور معنی : اقامت کے لئے کسی جگہ اترنا۔ ثویٰ کا لفظ غیر متعدی ہے جب اس کو ہمزہ سے متعدی بناتے ہیں تو ایک مفعول سے تجاوز نہیں کرتا اور ضمیر مؤمنین اور غرف کی طرف تعدیہ کرنے کی وجہ یہ ہے۔ کہ اس کو لننزلنہم کی جگہ اس کو لائیں یا…
Read the full tafseer →58۔ والذین امنواوعملوالصالحات لنبوئنھم، حمزہ اور کسائی نے ثاء ساکنہ کے ساتھ بغیرہمزہ کے پڑھا ہے اور فرمایا، ثوی الرجل، اذاقام واثوبتہ، جب وہ کسی جگہ اترتے ہیں اور دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ پر ھا ہے اور فتحہ کے ساتھ واؤ کی تشدید اور اس کے حمزہ کے ساتھ۔ ای لننزلنھم، ،۔
” من الجنۃ غرفا، ، وہ بلند ہوں گے۔ تجری من تحتھا الانھار خالدین فیھا نعم اجرالعاملین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–59
50 تا 59۔ مشرکین مکہ کہتے ہیں کہ اگر یہ سچے رسول ہیں تو کچھ نشانیاں کیوں نہیں دکھاتے اللہ فرماتا ہے تو کہہ دے نشانیاں اللہ کے اختیار میں ہیں اگر اللہ جانتا نشانیاں دیکھ کر تم راہ پر آجاؤ گے تو وہ تم کو نشانیاں بھی دکھا دیتا اس پر کچھ مشکل نہ تھا مگر وہ جانتا ہے کہ تمہارا ارادہ مسخرا پن کا ہے اس لیے وہ تم کو نہیں دکھاتا اور میں تو فقط ڈرانے والا ہوں پھر اللہ تعالیٰ مشرکوں کی وہ جہالت بیان کرتا ہے جس کے سبب سے وہ جو پیغمبر صلعم کی سچائی پر نشانیاں مانگتے تھے حالانکہ قرآن شریف ایسا بڑا معجزہ ہے کہ جس کے مقابلہ سے بڑے بڑے فصیح بلیغ عاجز آگئے اس کا مانند دس سورت کیا بلکہ ایک سورت بھی نہ بناسکے پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
آیت نمبر : 56-59
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (یعبادی الذین امنوآ) ” اے میرے بندوں جو ایمان لائے ہو ! “ اور جنہوں نے میرے رسول کی تصدیق کی ہے (ان ارضی واسعۃ فایای فاعبدون) ” میری زمین فراخ ہے ‘ پس تم میری ہی عبادت کرو۔ “ یعنی جب کسی سرزمین میں تمہارے لیے اپنے رب کی عبادت کرنا ممکن نہ رہے تو اس کو چھوڑ کر کسی اور سرزمین میں چلے جاؤ جہاں تم اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرسکو۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جگہیں بہت کشادہ ہیں۔ تمہارا معبود ایک ہے اور موت تمہیں آکر رہے گی پھر تمہیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ وہ اس شخص کو بہترین جزا سے نوازے گا جس نے ایمان اور عمل صالح کو اکٹھا کیا ‘ وہ انہیں رفیع الشان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–69
قول باری ہے : (ولا تجادلوا اھل الکتاب الا بالتیھی احسن۔ اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقے سے) قتادہ کا قول ہے کہ یہ آیت قول باری (وقاتلوا المشرکین اور مشرکین سے قتال کرو) کی بنا پر منسوخ ہوچکی ہے۔ کوئی بحث تلوار کے استعمال سے بڑھ کر نہیں ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قتادہ کی مراد یہ ہے کہ آیت، زیر بحث کا حکم قتال کے حکم سے پہلے کا ہے۔
قول باری ہے : (الا الذین ظلموا منھم ۔ سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں) ۔ یعنی۔ واللہ اعلم۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے بحث وجدال وغیرہ میں تمہارے ساتھ ظلم کیا ہو جو اس امر کا مقتضی ہو کہ تم ان کے ساتھ سخت رویہ رکھو۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–69
58 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اس کے احاطہ علم کے اعتبار سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ پوری طرح جانتا ہے ان سب چیزوں کو جن کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں اللہ کے سوا "۔ تعمیم ملاحظہ ہو کہ اول تو { شیئ } خود نکرہ ہے جو ہر چیز کو شامل ہے۔ پھر اس پر { من } استغراقیہ سے مزید تاکید۔ یعنی کوئی بھی چیز خواہ کوئی فرشتہ ہو یا انسان، شجر ہو یا حجر، بت ہو یا جن وغیرہ وغیرہ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ مافوق الاسباب کسی کو بھی پکارنا شرک ہے جو کہ سب سے بڑا گناہ اور ناقابل معافی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اب وہ لوگ دیکھ لیں جو اس وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر اس کی عاجز مخلوق کو پکارتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے " یا رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–63
مومنوں کے اوصاف اور ربوبیت الٰہی کے دلائل
تشریح : ان آیات میں خوشخبری ان لوگوں کو دی گئی ہے جن میں صبر اور توکل ہو۔ یعنی ہر قسم کی آزمائش ‘ سختی اور مصیبت جو ان کو راہ خدا میں اٹھانی پڑے صبرو سکون سے برداشت کرتے ہوئے ایمان بااللہ پر قائم رہیں۔ اور پورا بھروسہ اللہ پر رکھیں ایمان کی حفاظت اور بقا کے لیے ان کو گھر بار ‘ جائیداد اور رشتہ دار عزیز بھی چھوڑنے پڑیں تو ہجرت ضرور کر جائیں یہ سنت ہے۔ اور جو اللہ کی محبت میں سب کچھ چھوڑ دیتا ہے وہ تو ویسے ہی اللہ کا مقبول ترین انسان بن جاتا ہے۔ جب کہ اللہ تو ویسے ہی بڑا مہربان اور رازق ہے کیونکہ وہ ہر کافر مشرک کو برابر رزق دیتا ہے۔ رزق دینا صرف اسی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–63
آیات 52 تا 63
اسرارومعارف
آپ ان سے کہ دیجیے کہ اس قدر دلائل کے بعد بھی اگر تم شبہات میں گرفتار ہو تو پھر میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے جو زمین و آسمان کے سب رازوں سے اقف ہے مومن و کافر کے دلوں کو جانتا ہے۔ اور یہ ظاہر ہوجائے گا جو لوگ باطل پر ہیں اور اللہ کے ارشادات کا انکار کرتے ہیں انجام کار وہی نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔ یہ عذاب مانگنے میں بڑی جلدی دکھاتے ہیں۔ اگر سب معاملات کے اوقات اللہ کریم نے طے نہ فرما دیے ہوتے تو انہیں مانگنے پہ بھی عذاب مل جاتا۔ بحر حال اللہ کی گرفت انہیں اچانک پکڑے گی جبکہ یہ سمجھ ہی نہ پائیں گے کہ سب کچھ کیسے ہوگیا دنیا میں بھی شکست کھا کر پھر موت کے منہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
1 ۔ نہ کہ اپنی جائیدادوں، کاروبار یا برادری یا کسی اور چیز پر۔
Read the full tafseer →(29:58) لنبوئنھم۔ لام تاکید کا۔ نبوئن مضارع تاکید بانون ثقیلہ جمع متکلم بوأ یبوا تبونہ (باب تفعیل) بوء مادہ۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ۔ ہم ان کو ضرور جگہ دیں گے۔ ہم ان کو ضرور ٹھہرائیں گے۔ ہم ان کو ضرور اتاریں گے۔ البواء کسی جگہ کے اجزاء کا مساوی۔ ہموار۔ (اور سازگار و موافق) ہونے کے ہیں۔ تبوا (باب تفعل) المکان۔ کسی جگہ اقامت اختیار کرنا۔ جیسے نتبوا من الجنۃ حیث نشاء (39:74) ہم بہشت میں جہاں چاہیں رہیں۔ الباء ۃ۔ البیئۃ ۔ المبوأ گھر، مکان۔ سرائے۔
غرفا۔ بالاخانے۔ اونچے محل۔ منصوب بوجہ مفعول ثانی نبوئنھم کا۔ مفعول اول ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ ہم ان کو بہشت میں بالاخانوں پر جگہ دیں گے۔
تجری من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
لغات القرآن آیت نمبر (56 تا 60) ۔
ارضی (میری زمین) ۔ واسعتہ (وسیع۔ پھیلی ہوئی) ۔ ذائقتہ (چکھنے والی) ۔ نبوء ن (ہم ضرور ٹھکا نا دیں گے) ۔ غرف (کمرہ۔ بالا خانہ) ۔ نعم اجر (بہترین بدلہ) ۔ کاین (کتنے ہی۔ بہت سے) ۔ دابتہ (جانور۔ جان دار) ۔ لا تحمل (نہیں اٹھاتے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر (56 تا 60) ۔ ” اللہ تعالیٰ کا یہ نظام ہے کہ ہزاروں لاکھوں انسان ہر روز پیدا ہوتے اور مرتے رہتے ہیں۔ انسان زندگی گذارنے کے لئے ایک گھر بنا کر اپنے بیوی، بچوں اور گھر والوں کے ساتھ رہتا بستا ہے۔ کنبہ، خاندان اور برادری کے تعلقات بنتے چلے جاتے ہیں۔ بچپن، جوانی اور بڑھاپے کی عمر گذار کر آخر کار موت کی آغوش میں جا کر سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
ہجرت کا حکم۔
(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ہجرت کا حکم فرماتا ہے کہ جس شہر میں آدمی دین پر پورانہ چل سکے وہاں سے ہجرت کرکے دوسرے شہر میں چلاجائے جہاں دین پر آزادی سے چل سکے ، نبی ﷺ نے فرمایا سب شہر اللہ کے ہیں، اور سب بندے اللہ کے ہیں جہاں نیکی کرسکے وہاں قیام کرو، پہلے پہل بےوطن ہونے میں تنگی معاش کے اندیشہ سے لوگوں کو مکہ کے چھوڑے جان میں پس پیش تھا لیکن جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اللہ کی زمین کشادہ اور اللہ ہر جگہ رازق ہے اس خوف و خطرناک جگہ سے حبشہ کو ہجرت کی تاکہ وہاں بےخوف اپنے دین پرچلیں۔ وہاں کے بادشاہ نجاشی نے ان کو جگہ دی اور بڑی مدد کی۔ وطن چھوڑنا یوں ہی ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
[27] یعنی تمہیں اس کا اندیشہ نہ ہونا چاہئے کہ ہجرت کے بعد معاش کا کیا ذریعہ ہوگا۔ جو اللہ جانوروں کو روزی پہنچاتا ہے کیا اپنے وفادار بندوں کو نہ پہنچائے گا ؟ خوب سمجھ لو کہ رزاق حقیقی وہی ہے جو سب کی باتیں سنتا اور دلوں کے اخلاص کو جانتا ہے۔ لہذا اگر تم اس کی راہ میں وطن چھوڑ کر نکلو گے تو وہ تم کو بھی روزی دے گا جس طرح اپنی بیشمار مخلوقات کو دے رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–61
حل لغات غرفا ۔ بالا خانے ۔ غرفۃ کی جمع ہے ۔
Read the full tafseer →58۔ آگے نیک اعمال پر اجر مذکور ہے ارشاد ہوتا ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کے پابند رہے اور نیک کام کرتے رہے تو ہم ان کو یقینا جنت کے ایسے بالا خانوں میں جگہ دیں گے جن کے پائیں اور نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور وہ ان بالا خانوں میں ہمیشہ رہیں گے کیا خوب اجر اور صلہ ہے عمل کرنے والوں کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
ف 4۔ یعنی اگر ہجرت میں تم کو احباب و اوطان کی مفارقت شاق معلوم ہو تو یہ سمجھ لو کہ ایک نہ ایک روز یہ تو ہونا ہی ہے کیونکہ ہر شخص کو موت کا مزہ چکھنا ضرور ہے، آخر اس وقت سب چھوٹیں گے۔
Read the full tafseer →ایمان لانے والوں کو ہم بلاشبہ بالاخانوں میں جگہ دیں گے :
58۔ جو لوگ ایمان لانے کے بعد نیک عمل کئے بلاشبہ نیک عمل ہر حال میں نیک عمل ہی ہے لیکن آخرت کے لئے اس کا اجر اسی صورت مل سکتا ہے جب نیک عمل کرنے والے کا آخرت پر ایمان ہو اگر اس کا ایمان آخرت پر نہ ہو تو اس کی جزا اس کو اس دنیا میں مل جائے گی اور آخرت میں اس کے لئے کچھ نہیں ہوگا ۔ ایک آدمی غلہ کا مالک ہے اور زمین کا بھی وہ زمین کو اس قابل بناتا ہے کہ اس میں بیج آگ سکے اور پھر بیج بھی ڈال دیتا ہے تو ضرور اس کو اس کا پھل ملے گا لیکن جس نے زمین تیار نہیں کی یا زمین اس کے پاس نہیں تھی تو اس نے پتھر پر بیج ڈال دیا بیج تو دونوں نے ڈالا لیکن…
Read the full tafseer →وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُبَوِّئَنَّهُم مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا (And those who believe and do righteous deeds, We shall accommodate them in mansions of the Paradise beneath which rivers flow, where they will live forever - 29:58).
The other risk involved in hijrah (migration) is about the arrangement of sustenance in the strange land. One does manage the sustenance at one's own place through employment, trade, cultivation, or inherited land, but on migration all that is left behind. So, how would he manage the…
Read the full tafseer →96 That is, "Even if you remained deprived of all the worldly blessings because of your faith and righteousness and ended up as a total failure from the worldly point of view, you should rest assured that you will be compensated for it; and not only compensated but rewarded excellently."
Read the full tafseer →