Al-Ankaboot 29:57

Al-Ankaboot · from ayah 57

29:57

كُلُّ نَفْسٍ ذَآىِٕقَةُ الْمَوْتِ ۫— ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ ۟كُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَةُ الۡمَوۡتِ ۖ ثُمَّ اِلَيۡنَا تُرۡجَعُوۡنَ‏

ہر متنفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے۔ پھر تم ہماری ہی طرف لوٹ کر آؤ گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Every soul will taste death. Then to Us will you be returned.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 6 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ankaboot

All translations of 29:57

ہر متنفس کو موت کا مزا چکھنا ہے، پھر تم سب ہماری طرف ہی پلٹا کر لائے جاؤ گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہر متنفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے۔ پھر تم ہماری ہی طرف لوٹ کر آؤ گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہر جاندار موت کا مزه چکھنے واﻻ ہےاور تم سب ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہر متنفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے، پھر ہماری ہی طرف تم سب کو واپس لایا جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہر جان کو موت کا مز ہ چکھنا ہے پھر ہماری ہی طرف پھروگے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے، پھر تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہر جان موت کو چکھنے والی ہے، پھر تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہر شخص کو موت کا مزا چکھنا ہے۔ پھر تم ہماری طرف ہی لوٹائے جاؤ گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہر جان کو موت کا مزاچکھنا ہے پھر تم ہماری ہی طرف لوٹائے جائو گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہر جی کو موت کا مزہ بہرحال چکھنا ہے پھر تم سب کو آخرکار لوٹ کر ہماری ہی طرف آنا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ پھر تم سب ہماری طرف واپس لائے جاؤ گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہر جان موت کا مزا چکھنے والی ہے پھر تم ہماری ہی طرف لوٹا دیے جاؤ گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہر شخص موت کو چکھنے والا ہے پھر تم ہماری ہی طرف لوٹ کر آئوگے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Every being shall taste death, then it is to Us that you shall be sent back.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Every person has to taste death, then to Us you are to be returned.

— Muhammad Taqi Usmani

Every person has to taste death, then to Us you are to be returned.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Everyone shall taste death. Then unto Us you shall be returned.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Every soul will taste of death. Then unto Us ye will be returned.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Every soul will taste death. Then to Us will you be returned.

— Saheeh International

Every soul will experience the agony of death and to Me you will all return.

— Muhammad Sarwar

Every soul must taste of death, then to Us you shall be brought back.

— Muhammad Habib Shakir

Every soul shall taste of death; then unto Us ye shall be returned.

— Abdul Majid Daryabadi

Every soul shall have a taste of death in the end to Us shall ye be brought back.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 29:57

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 56–60

مہاجرین کے لیے انعامات الٰہی اللہ تبارک وتعالیٰ اس آیت میں ایمان والوں کو ہجرت کا حکم دیتا ہے کہ جہاں وہ دین کو قائم نہ رکھ سکتے ہوں وہاں سے اس جگہ چلے جائیں جہاں ان کے دین میں انہیں آزادی رہے اللہ کی زمین بہت کشادہ ہے جہاں وہ فرمان اللہ کے ماتحت اللہ کی عبادت و توحید بجالاسکیں وہاں چلے جائیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمام شہر اللہ کے شہر ہیں اور کل بندے اللہ کے غلام ہیں جہاں تو بھلائی پاسکتا ہو وہیں قیام کر چناچہ صحابہ اکرام پر جب مکہ شریف کی رہائش مشکل ہوگئی تو وہ ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے تاکہ امن وامان کے ساتھ اللہ کے دین پر قیام کرسکیں وہاں کے سمجھدار دیندار بادشاہ اصحمہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة العنکبوت 95 یعنی جان کی فکر نہ کرو۔ یہ تو کبھی نہ کبھی جانی ہی ہے۔ ہمیشہ رہنے کے لیے تو کوئی بھی دنیا میں نہیں آیا ہے۔ لہذا تمہارے لیے فکر کے لائق مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اس دنیا میں جان کیسے بچائی جائے۔ بلکہ اصل لائق فکر مسئلہ یہ ہے کہ ایمان کیسے بچایا جائے اور خدا پرستی کے تقاضے کس طرح پورے کیے جائیں۔ آخر کار تمہیں پلٹ کر ہماری طرف ہی آنا ہے۔ اگر دنیا میں جان بچانے کے لیے ایمان کھو کر آئے تو اس کا نتیجہ کچھ اور ہوگا اور ایمان بچانے کے لیے جان کھو آئے تو اس کا انجام کچھ دوسرا ہوگا۔ پس فکر جو کچھ بھی کرنی ہے اس بات کی کرو کہ ہماری طرف جب پلٹو گے تو کیا لے کر پلٹو گے، جان پر قربان کیا ہوا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ ، یعنی ہر ایک جان چکھنے والی ہے مزہ موت کا جس سے کسی کو کسی جگہ کسی حال مفر نہیں اس لئے موت سے خوف اور گھبراہٹ مومن کا کام نہیں ہونا چاہئے۔ وہ تو ہر شخص کو ہر حال میں پیش آئے گی اپنی جگہ میں کیسے ہی حفاظت کے سامان کر کے رہے، پھر بھی آئے گی اور مومن کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ اللہ کے مقرر کردہ وقت سے پہلے موت نہیں آسکتی اس لئے اپنی جگہ رہنے یا ہجرت کر کے دوسری جگہ جانے میں موت کا خوف حائل نہ ہونا چاہئے، خصوصاً جبکہ احکام الہیہ کی اطاعت کرتے ہوئے موت آجانا دائمی راحتوں اور نعمتوں کا ذریعہ ہے جو ان کو آخرت میں ملیں گی جس کا ذکر بعد کی دو آیتوں میں فرمایا ہے

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

کل نفس ذائقۃ الموت قف ثم الینا ترجعون (57) یہ آیت اگرچہ تہدید و تسلی دونوں کی متعمل ہے لیکن یہاں پیش و عقب کی آیات تسلی کے مفہوم کی تائید میں ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ زندگی تو چند روزہ ہے۔ بالآخر ایک دن سب کو مرنا اور خدا ہی کی طرف لوٹنا ہے تو اس حیات چند روزہ کی خاطر آدمی اپنے رب سے کیوں شرمسار ہو اپنے رب کی خاطر اس دنیا ہی پر کیوں نہ لات مارے !

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

57-1یعنی موت کا جرعہ تلخ تو لامحالہ ہر ایک کو پینا ہے ہجرت کرو گے تب بھی اور نہ کرو گے تب بھی اس لیے تمہارے لیے وطن کا رشتے داروں کا اور دوست احباب کا چھوڑنا مشکل نہیں ہونا چاہیے موت تو تم جہاں بھی ہو گے آجائے گی۔ البتہ اللہ کی عبادت کرتے ہوئے مروگے تو تم اخروی نعمتوں سے شاد کام ہوگے۔ اس لیے کہ مر کر تو اللہ ہی کے پاس جانا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

31: یعنی اگر ہجرت کرنے سے اس لئے رُکاوٹ محسوس ہو کہ اپنے عزیزوں دوستوں کو چھوڑنا پڑے گا تو یہ جدائی کبھی نہ کبھی تو ہونی ہی ہے، کیونکہ ہر انسان کو موت آنی ہے، پھر جب سب ہمارے پاس واپس آجاؤگے تو پھر کبھی جدائی نہیں ہوگی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 56–60

یعبادی الذین امنوا ۔۔۔۔۔ وھو السمیع العلیم (56 – 60) دلوں کے خالق ، دلوں کی خفیہ باتوں کے جاننے والے ، دلوں میں آنے والے خیالات کے جاننے والے ، اور دلوں میں پیدا ہونے والے وساوس ، اور دلوں میں چھپے ہوئے خدشات کو جاننے والے اور ان دلوں کے پیدا کرنے والے خالق کائنات یوں پکارتے ہیں ” اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو “ ان الفاظ کے ساتھ پکار کر ان کی دعوت دی جاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرو ، اس خطاب کے ذریعے پہلے ہی مرحلہ پر بتا دیا جاتا ہے کہ اس ہجرت کی حقیقت کیا ہے یہ کہ اللہ اور رب کے لیے اور مولائے کریم کی راہ میں ، میں اس کے بندوں کی یہ نقل مکانی ہے۔ یہ تو تھا پہلا نچ ، اور دوسرا احساس ان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " جب کافروں نے مکہ میں بہت زور باندھا تو مسلمانوں کو ہجرت کا حکم ہوا۔ چناچہ اسی تراسی گھر حبشہ چلے گئے۔ اس کو فرمایا کوئی دن کی زندگی ہے جہاں بن پڑے وہاں کاٹ دو ، پھر ہمارے پاس اکٹھے آؤ گے۔ اس میں مہاجرین کی تسلی کردی تاکہ وطن چھوڑنا اور حضرت سے جدا ہونا دل پر بھاری نہ گزرے۔ گویا جتلا دیا کہ وطن، خویش و اقارب، رفقاء اور چھوٹے بڑے آج نہیں کل چھوٹیں گے۔ فرض کرو اس وقت مکہ سے ہجرت نہ کی تو ایک روز دنیا سے ہجرت کرنا ضروری ہے مگر وہ بےاختیار ہوگا۔ بندگی اس کا نام ہے کہ اپنی خوشی اور اختیار سے ان چیزوں کو چھوڑ دے جو پروردگار حقیقی کی بندگی میں مزاحم اور خلل انداز ہوتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 57 کُلُّ نَفْسٍ ذَآءِقَۃُ الْمَوْتِقف ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ ” دیکھو ! موت تو ایک دن آنی ہی ہے۔ اس دنیا میں نہ کوئی ہمیشہ رہا ہے اور نہ ہی آئندہ کوئی ہمیشہ رہے گا۔ فرض کرو اگر یاسر اور ان کی اہلیہ سمیہ رض ابوجہل کے ہاتھوں شہید نہ بھی ہوتے تو کیا ہوتا ؟ بس یہی نا کہ چند برس اور جی لیتے۔ موت تو پھر بھی انہیں آنی ہی تھی۔ راہ حق کے مسافروں کے لیے یہ بہت قیمتی نصیحت ہے۔ اگر یہ اٹل حقیقت انسان کے دل و دماغ میں مستحضر رہے تو انتہائی مشکل اور نامساعد حالات میں بھی اس کی ہمت قائم رہتی ہے اور وہ زندگی بچانے کے لیے حق کا ساتھ چھوڑنے اور باطل کے ساتھ مصالحت کرلینے کی سوچ جیسے شیطانی وسوسوں سے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

89 اس حکم کے مطابق مختلف اوقات میں تراسی افراد مکہ سے ہجرت کرکے حبشہ کی طرف چلے گئے تھے۔ انھیں مہاجرین کی تسلی کے لئے فرمایا کہ اپنی جانوں کی فکر نہ کرو۔ یہ چند روزہ زندگی ہے۔ موت تو بہرحال آکے رہے گی یہ چند دن کی زندگی جہاں میسر آئے کاٹ لو۔ پھر ہمارے پاس آکٹھے ہوجاؤ گے۔ تمہارا مقصد یہ نہیں ہونا چاہئے کہ اپنا جان و مال اور گھر بار کیسے بچایا جائے بلکہ یہ ہونا چاہئے کہ اپنا ایمان کیسے بچایا جائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

73۔ (اور دنیا کے مرغوبات ومالوفات کو ایک دن تو بہرحال چھوڑنا ہی ہے، پھر آج اقامت دین ہی کی خاطر ترک وطن و اقارب کیوں نہ اختیار کیا جائے) ہجرت کے جو مانع نفس میں موجود ہیں انمیں ایک (آیت) ” ان ارضی واسعۃ “۔ سے رفع کیا جاچکا ہے۔ دوسرا جواب اب مل رہا ہے کہ جن چیزوں کا ترک ومفارقت آج شاق گزر رہی ہے ان سے دوری اور مہجوری ایک دن تو بہرحال ناگزیر ہی ہے۔ تو آج ہی اپنے قصد واختیار سے کیوں نہ حاصل کرلی جائے کہ آئندہ ہر طرح کی نعمتوں کا استحقاق ہوجائے۔ فقال لھم ان ماتکرھون لابد من وقوعہ فان کل نفس ذائقہ الموت والموت متفرق الاحباب فالاولی ان یکون ذلک فی سبیل اللہ فیجازیکم علیہ (کبیر) اے انتم لامحالۃ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 52–63

آیت نمبر 52 تا 63 ترجمہ : آپ کہہ دیجئے کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان میری سچائی پر گواہ کافی ہے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسے سب باتوں کی خبر ہے اور انہیں میں میرا اور تمہارا حال بھی ہے اور جو لوگ باطل پر اور وہ اللہ کے علاوہ وہ چیزیں ہیں جن کی پوجا پاٹ کی جاتی ہے یقین رکھتے ہیں اور تم میں سے اللہ کے منکر ہیں یہی لوگ ہیں جو اپنے سودے میں نقصان اٹھانے والے ہیں اس طور پر کہ انہوں نے ایمان کے بدلے کفر اختیار کرلیا ہے اور یہ لوگ آپ سے عذاب کے بارے میں جلدی کرتے ہیں اور اگر عذاب کی مدت متعین نہ ہوتی تو ان پر فوری عذاب آچکا ہوتا اور ان پر وہ عذاب دفعۃً آپہنچے گا اور ان کو اس کے آنے کی خبر بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

کل نفس ذآئقۃ الموت . ہر شخص موت کا مزہ چکھنے والا ہے۔ یعنی جس طرح چکھنے والا کسی چیز کا مزہ چکھتا ہے ‘ اسی طرح موت کی تلخی اور تکلیف ہر شخص پائے گا۔ لہٰذا تم موت کے خوف سے شر کے مقام میں پڑے نہ رہو بلکہ اللہ کی عبادت کر کے موت کی تیاری کرو۔ ثم الینا ترجعون . پھر تم سب ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ یعنی ہم تمہارے اعمال کا بدلہ دیں گے اس لئے تم اللہ کی راہ میں ہجرت کرو ‘ اس کی جزاء ہم تم کو عنایت کریں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

ہر شخص کو لازما موت کا مزہ چکھنا ہے اور پھر مرنے کے بعد تم سب کو ہمارے پاس آنا ہے جہاں تمہیں تمہارے اعمال کا صلہ دیا جائے گا

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ۔۔ : اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت اور خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کی ترغیب ہے، یعنی ہر جان خواہ اپنے وطن میں رہے یا وہاں سے ہجرت کر جائے، موت کی تلخی کو چکھنے والی ہے۔ یہ چند دن کی زندگی جہاں اور جیسے ہو سکے کاٹ لو، پھر ہمارے پاس آ اکٹھے ہو گے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 56–60

یہ آیت نازل ہوئی تاکہ جو مومن مکہ مکرمہ میں ہیں انہیں ہجرت پر برانگختیہ کیا جائے، یہ مقاتل، اور کلبی کا قول ہے : (1) ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی زمین کی وسعت کی خبرد یاور یہ یہ بتایا کہ ایسے علاقے میں رہنا جہاں کفار کی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑے۔ یہ درست نہیں بلکہ یہ درست ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے صالح بندوں کے ساتھ اس کی زمین میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کو تلاش کریں یعنی اگر تمہیں ایمان کے اظہار میں تنگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو مدینہ کی طرف ہجرت کر جائو وہ وسیع ہے کیونکہ وہاں توحید کا اظہار کرنا ممکن ہے : ابن جبیر اور عطاء نے کہا : جہاں بھی ظلم اور منکر ہو وہاں اس آیت کا حکم مرتب ہوگا اور ایسے ملک…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 57–59

1۔ ابن مردویہ نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب یہ آیت انک میت وانہم میتون الذمر نازل ہوئی تو میں نے عرض کیا اے میرے رب کیا ساری مخلوق مرجائے گی اور انبیاء باقی رہیں گے پھر یہ آیت نازل ہوئی آیت کل نفس ذائقۃ الموت ثم الینا ترجعون یعنی ہر جان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے پھر ہماری طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

كُلُّ نَفْسٍ [ہر جان ] ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ ۣ [موت کو چکھنے والی ہے ] ثُمَّ اِلَيْنَا [پھر ہماری طرف ہی ] تُرْجَعُوْنَ [تم لوگ لوٹائے جاؤ گے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

ہر جان کو موت چکھنی ہے اللہ تعالیٰ شانہ نے دونوں باتوں کا جواب دے دیا، اول تو یہ فرمایا (کُلُّ نَفْسٍ ذَآءِقَۃُ الْمَوْتِ ) کہ ہر جان کو موت چکھنی ہے کہیں بھی رہو موت اپنے مقرر وقت پر آجائے گی پھر موت سے کیا ڈرنا اور اس کے لیے ہجرت کو چھوڑنے کے کیا معنی ؟ (ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ ) (پھر موت کے بعد ہمارے پاس آؤ گے) اگر ہجرت کرلی تو اس کا اجر پاؤ گے، اور اگر بالفرض ہجرت نہ کی تو سزا ملے گی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 56–63

ترغیب ہجرت وذکر بقائے عالم آخرت وبیان حقارت دنیا وفناء وزوال او قال اللہ تعالیٰ یعبادی الذین امنوا ان ارضی واسعۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وان اللہ لمع المحسنین۔ (ربط) جب کفار مکہ مسلمانوں کی ایذا رسانی پر تل گئے اور مسلمانوں کو احکام اسلام بجا لانا دشوارہو گیا تو حکم نازل ہوا کہ مسلمان مکہ سے ہجرت کر جائیں اور جہاں ارکان اسلام آزادی کے ساتھ ادا کرسکیں وہاں چلے جائیں کافروں کی زمین میں کافروں کے ساتھ رہنا درست نہیں چناچہ صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے اول حبشہ کی طرف ہجرت کی پھر بعد چندے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی زجاج (رح) کہتے کہ جس جگہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت نماز روزہ ممکن نہ ہو یا جس جگہ علی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 57–58

48:۔ یہ ہجرت کرنے والوں کے لیے بشارت اخروی ہے۔ جو لوگ توحید پر ایمان لائے اور توحید کی خاطر تکلیفیں اٹھائیں، اپنی جائیدادیں اور مکان چھوڑے آخرت میں ہم انہیں شاندار بالا خانے عطا کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ الذین صبروا الخ یہ ان ایمان والوں کا اجر ہے جنہوں نے اپنی عملی زندگی میں توحید کا نمونہ پیش کیا اور دین حق کی خاطر مصائب برداشت کیے اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور اعتماد رکھا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 52–59

ربطہ آیات گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب اور مشرکین کا شکوہ کیا تھا جو ایمان لانے کی بجائے طرح طرح کی نشانیاں طلب کرتے تھے۔ اللہ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ آپ صاف صاف کہہ دیں کہ میرا کام تو کھول کر ڈر سنانا ہے۔ نشانیاں پیش کرنا میرے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے وہ جب چاہے کوئی نشانی ظاہر کردیتا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ اس سے بڑی نشانی اور معجزہ کیا ہوگا کہ ایک امی آدمی ایسی عظیم الشان کتاب پڑھ کر سناتا ہے جس نے نہ کوئی کتاب پڑھی ہے اور نہ لکھنا سیکھا ہے۔ یہ کتاب ایسے علوم و معارف پر مشتمل ہے جس کا کوئی انسان احاطہ نہیں کرسکتا۔ رسالت پر شہادت خداوندی اللہ نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَۃُ الْمَوْتِ۝ 0ۣ ثُمَّ اِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ۝ 57 نفس الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، ( نس ) النفس کے معنی ذات ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے موت أنواع الموت بحسب أنواع الحیاة : فالأوّل : ما هو بإزاء القوَّة النامية الموجودة في الإنسان والحیوانات والنّبات . نحو قوله تعالی: يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] ، وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] . الثاني : زوال القوّة الحاسَّة . قال : يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 56–63

جبکہ کفار و مشرکین مکہ اور نیز اہل کتاب کا حال اور ان کے نامحمود طریقے کی برائی اور آخرت کا حال صاف صاف بیان ہوا تو شدہ شدہ کفار مکہ کو نہایت جوش و تعصب ہوا کہ دینداروں کو نہایت تکلیفیں دینی شروع کردیں جن کو مسلمان نہایت استقلال اور ثابت قدمی کے ساتھ برداشت کرتے رہے، مگر جب ادائِ ارکان دینی سے بھی سخت مانع آئے تو وطن چھوڑ کر باہر جانے کی اجازت ہی نہ دی بلکہ رغبت دلائی گئی، اس لیے یہ آیتیں نازل ہوئیں جن میں ہجرت کی ترغیب ہے، جس سے مسلمان ملک حبشہ اور مدینہ کی طرف ہجرت کرکے جانے لگے۔ فقال یعبادی الذین امنو کہ اے میرے ایماندار بندوں میری زمین فراخ اور کشادہ ہے، کس لیے یہاں پڑے ہو باہر جاؤ اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ قف ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ ۔ (العنکبوت : 57) (ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے، پھر تم سب ہماری طرف ہی پلٹا کر لائے جاؤ گے۔ ) ہجرت کے سفر میں فکر جان بچانے کی نہیں، ایمان بچانے کی ہونی چاہیے۔ یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی کوئی بات نہیں آدمی چند روزہ زندگی کے لیے ایسی کمزوری کیوں دکھائے جو اسے اپنے رب کے سامنے شرمسار کردے۔ آخرت کی ہمیشہ رہنے والی زندگی میں ایمان اور عمل صالحہ کا سکہ چلے گا، اور یہی دولت وہاں کام آئے گی۔ تو آدمی فکر اس دولت کی کرے جو ہمیشہ کی زندگی کی ضامن ہے۔ اس کی کیا فکر، جو آج ہے تو کل نہیں۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 56–57

فہم القرآن ربط کلام : کفار کو جہنّم کے عذاب کا نقشہ پیش کرنے کے بعد مومنوں کو ہجرت کا حکم دیا گیا ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ مومنوں دنیا کی تکلیفیں تو معمولی اور عارضی ہیں اگر جہنّم کی تکلیفوں سے بچنا چاہتے ہو تو اپنا ایمان بچا کر ہجرت کر جاؤ۔ ہجرت کرنے والوں کو یہ حکم دیتے ہوئے تسلّی دی گئی ہے کہ یہ نہ سوچو کہ گھر بار چھوڑ کر جائیں تو کدھر جائیں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ ” اللہ “ کی زمین بڑی وسیع ہے۔ تمہاری زندگی کا مقصد ” اللہ “ کی عبادت اور اس کی غلامی کرنا ہے۔ اس لیے اپنے مقصد حیات کو سامنے رکھو اور اس کے لیے ہجرت کر جاؤ اور اپنے رب کی غلامی میں زندگی بسر کرو۔ اگر تمہیں کسی قسم کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

57: کُلُّ نَفْسٍ ذَآپقَۃُ الْمَوْتِ (ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے) ۔ یعنی موت کی کڑواہٹ اور اس کی تکلیف پائے گا جیسا کہ کوئی چکھنے والا اس چیز کا ذائقہ پاتا ہے۔ کیونکہ جب مہاجر کو موت کا یقین ہے تو وطن سے علیحدگی اس پر آسان ہوگی۔ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ (پھر تم ہماری بارگاہ میں لوٹائے جائو گے) ۔ موت کے بعد تاکہ ثواب و عقاب پا سکو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

57۔ کل نفس ذائقۃ الموت۔۔ ان کو موت کا خوف دلایا تاکہ انکے لیے ہجرت کرنے میں مشکل نہ آئے۔ یعنی ہر ایک شخص کو مرنا ہے جہاں کہیں بھی ہو، لہذا تم موت کے خوف سے شر کے مقام میں پڑے رہو۔ ثم الینا ترجعون، ، پھر ہم تمہارے اعمال کا بدلہ دیں گے ، ابوبکر نے یرجعون پڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 50–59

50 تا 59۔ مشرکین مکہ کہتے ہیں کہ اگر یہ سچے رسول ہیں تو کچھ نشانیاں کیوں نہیں دکھاتے اللہ فرماتا ہے تو کہہ دے نشانیاں اللہ کے اختیار میں ہیں اگر اللہ جانتا نشانیاں دیکھ کر تم راہ پر آجاؤ گے تو وہ تم کو نشانیاں بھی دکھا دیتا اس پر کچھ مشکل نہ تھا مگر وہ جانتا ہے کہ تمہارا ارادہ مسخرا پن کا ہے اس لیے وہ تم کو نہیں دکھاتا اور میں تو فقط ڈرانے والا ہوں پھر اللہ تعالیٰ مشرکوں کی وہ جہالت بیان کرتا ہے جس کے سبب سے وہ جو پیغمبر صلعم کی سچائی پر نشانیاں مانگتے تھے حالانکہ قرآن شریف ایسا بڑا معجزہ ہے کہ جس کے مقابلہ سے بڑے بڑے فصیح بلیغ عاجز آگئے اس کا مانند دس سورت کیا بلکہ ایک سورت بھی نہ بناسکے پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 56–59

آیت نمبر : 56-59 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (یعبادی الذین امنوآ) ” اے میرے بندوں جو ایمان لائے ہو ! “ اور جنہوں نے میرے رسول کی تصدیق کی ہے (ان ارضی واسعۃ فایای فاعبدون) ” میری زمین فراخ ہے ‘ پس تم میری ہی عبادت کرو۔ “ یعنی جب کسی سرزمین میں تمہارے لیے اپنے رب کی عبادت کرنا ممکن نہ رہے تو اس کو چھوڑ کر کسی اور سرزمین میں چلے جاؤ جہاں تم اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرسکو۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جگہیں بہت کشادہ ہیں۔ تمہارا معبود ایک ہے اور موت تمہیں آکر رہے گی پھر تمہیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ وہ اس شخص کو بہترین جزا سے نوازے گا جس نے ایمان اور عمل صالح کو اکٹھا کیا ‘ وہ انہیں رفیع الشان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–69

قول باری ہے : (ولا تجادلوا اھل الکتاب الا بالتیھی احسن۔ اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقے سے) قتادہ کا قول ہے کہ یہ آیت قول باری (وقاتلوا المشرکین اور مشرکین سے قتال کرو) کی بنا پر منسوخ ہوچکی ہے۔ کوئی بحث تلوار کے استعمال سے بڑھ کر نہیں ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قتادہ کی مراد یہ ہے کہ آیت، زیر بحث کا حکم قتال کے حکم سے پہلے کا ہے۔ قول باری ہے : (الا الذین ظلموا منھم ۔ سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں) ۔ یعنی۔ واللہ اعلم۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے بحث وجدال وغیرہ میں تمہارے ساتھ ظلم کیا ہو جو اس امر کا مقتضی ہو کہ تم ان کے ساتھ سخت رویہ رکھو۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 42–69

58 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اس کے احاطہ علم کے اعتبار سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ پوری طرح جانتا ہے ان سب چیزوں کو جن کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں اللہ کے سوا "۔ تعمیم ملاحظہ ہو کہ اول تو { شیئ } خود نکرہ ہے جو ہر چیز کو شامل ہے۔ پھر اس پر { من } استغراقیہ سے مزید تاکید۔ یعنی کوئی بھی چیز خواہ کوئی فرشتہ ہو یا انسان، شجر ہو یا حجر، بت ہو یا جن وغیرہ وغیرہ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ مافوق الاسباب کسی کو بھی پکارنا شرک ہے جو کہ سب سے بڑا گناہ اور ناقابل معافی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اب وہ لوگ دیکھ لیں جو اس وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر اس کی عاجز مخلوق کو پکارتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے " یا رسول…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 56–63

مومنوں کے اوصاف اور ربوبیت الٰہی کے دلائل تشریح : ان آیات میں خوشخبری ان لوگوں کو دی گئی ہے جن میں صبر اور توکل ہو۔ یعنی ہر قسم کی آزمائش ‘ سختی اور مصیبت جو ان کو راہ خدا میں اٹھانی پڑے صبرو سکون سے برداشت کرتے ہوئے ایمان بااللہ پر قائم رہیں۔ اور پورا بھروسہ اللہ پر رکھیں ایمان کی حفاظت اور بقا کے لیے ان کو گھر بار ‘ جائیداد اور رشتہ دار عزیز بھی چھوڑنے پڑیں تو ہجرت ضرور کر جائیں یہ سنت ہے۔ اور جو اللہ کی محبت میں سب کچھ چھوڑ دیتا ہے وہ تو ویسے ہی اللہ کا مقبول ترین انسان بن جاتا ہے۔ جب کہ اللہ تو ویسے ہی بڑا مہربان اور رازق ہے کیونکہ وہ ہر کافر مشرک کو برابر رزق دیتا ہے۔ رزق دینا صرف اسی کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 52–63

آیات 52 تا 63 اسرارومعارف آپ ان سے کہ دیجیے کہ اس قدر دلائل کے بعد بھی اگر تم شبہات میں گرفتار ہو تو پھر میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے جو زمین و آسمان کے سب رازوں سے اقف ہے مومن و کافر کے دلوں کو جانتا ہے۔ اور یہ ظاہر ہوجائے گا جو لوگ باطل پر ہیں اور اللہ کے ارشادات کا انکار کرتے ہیں انجام کار وہی نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔ یہ عذاب مانگنے میں بڑی جلدی دکھاتے ہیں۔ اگر سب معاملات کے اوقات اللہ کریم نے طے نہ فرما دیے ہوتے تو انہیں مانگنے پہ بھی عذاب مل جاتا۔ بحر حال اللہ کی گرفت انہیں اچانک پکڑے گی جبکہ یہ سمجھ ہی نہ پائیں گے کہ سب کچھ کیسے ہوگیا دنیا میں بھی شکست کھا کر پھر موت کے منہ میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

5 ۔ اس میں بھی۔ اللہ کی راہ میں ہجرت اور خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کی ترغیب ہے۔ یعنی جان کی فکر نہ کرو۔ یہ تو ایک نہ ایک دن اس بدن سے نکلنے والی ہے۔ اصل فکر اور اصل تگ ودو ایمان بچانے کی ہونی چاہیے۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 56–57

(29:56) فایای واحد متکلم کی ضمیر منصوب منفصل ۔ مجھ کو۔ مجھ ہی سے۔تعقیب کا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 56–60

لغات القرآن آیت نمبر (56 تا 60) ۔ ارضی (میری زمین) ۔ واسعتہ (وسیع۔ پھیلی ہوئی) ۔ ذائقتہ (چکھنے والی) ۔ نبوء ن (ہم ضرور ٹھکا نا دیں گے) ۔ غرف (کمرہ۔ بالا خانہ) ۔ نعم اجر (بہترین بدلہ) ۔ کاین (کتنے ہی۔ بہت سے) ۔ دابتہ (جانور۔ جان دار) ۔ لا تحمل (نہیں اٹھاتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر (56 تا 60) ۔ ” اللہ تعالیٰ کا یہ نظام ہے کہ ہزاروں لاکھوں انسان ہر روز پیدا ہوتے اور مرتے رہتے ہیں۔ انسان زندگی گذارنے کے لئے ایک گھر بنا کر اپنے بیوی، بچوں اور گھر والوں کے ساتھ رہتا بستا ہے۔ کنبہ، خاندان اور برادری کے تعلقات بنتے چلے جاتے ہیں۔ بچپن، جوانی اور بڑھاپے کی عمر گذار کر آخر کار موت کی آغوش میں جا کر سو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 56–59

ہجرت کا حکم۔ (ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ہجرت کا حکم فرماتا ہے کہ جس شہر میں آدمی دین پر پورانہ چل سکے وہاں سے ہجرت کرکے دوسرے شہر میں چلاجائے جہاں دین پر آزادی سے چل سکے ، نبی ﷺ نے فرمایا سب شہر اللہ کے ہیں، اور سب بندے اللہ کے ہیں جہاں نیکی کرسکے وہاں قیام کرو، پہلے پہل بےوطن ہونے میں تنگی معاش کے اندیشہ سے لوگوں کو مکہ کے چھوڑے جان میں پس پیش تھا لیکن جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اللہ کی زمین کشادہ اور اللہ ہر جگہ رازق ہے اس خوف و خطرناک جگہ سے حبشہ کو ہجرت کی تاکہ وہاں بےخوف اپنے دین پرچلیں۔ وہاں کے بادشاہ نجاشی نے ان کو جگہ دی اور بڑی مدد کی۔ وطن چھوڑنا یوں ہی ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 57–60

[27] یعنی تمہیں اس کا اندیشہ نہ ہونا چاہئے کہ ہجرت کے بعد معاش کا کیا ذریعہ ہوگا۔ جو اللہ جانوروں کو روزی پہنچاتا ہے کیا اپنے وفادار بندوں کو نہ پہنچائے گا ؟ خوب سمجھ لو کہ رزاق حقیقی وہی ہے جو سب کی باتیں سنتا اور دلوں کے اخلاص کو جانتا ہے۔ لہذا اگر تم اس کی راہ میں وطن چھوڑ کر نکلو گے تو وہ تم کو بھی روزی دے گا جس طرح اپنی بیشمار مخلوقات کو دے رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 2: ان آیات میں اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے کہ ہر نفس کے لئے موت مقدر ہے ۔ ہر شخص کو مرنا ہے ۔ یہ چاہے وہ جلالت قدر اور عظمت میں ساری دنیا سے بڑھا ہوا ہو ۔ اس لئے اسے دنیا کی زندگی میں سمجھ لینا چاہیے ۔ کہ کہیں ہجرت و جہاد سے تحلف اس بنا پر نہیں کہ موت سے خائف ہے اور ہجرت و جہاد کو ہلاکت کا سبب سمجھتا ہے ۔ اگر حین بزدلی کا یہ بندیہ دل میں ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ موت کے لئے کوئی جگہ یا وقت اور کیفیت کا سوال نہیں ۔ وہ ہر وقت اور جگہ آسکتی ہے ۔ اس کے حملوں سے کوئی شخص نہ کبھی بچا ہے اور نہ بچ سکتا ہے ۔ پھر کیا صورت بہتر نہیں کہ اللہ کی راہ میں اس کے دین کے اعلاء میں اور اس کی آزادانہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

57۔ ہر متنفس اور ہر جاندار کا مزہ چکھنے والا ہے پھر تم سب کی بازگشت ہماری طرف سے اور تم سب ہماری طرف لوٹائے جائو گے۔ یہ شاید اس لئے فرمایا کہ ترک وطن اور ہجرت کے حکم سے جو پریشانی ہو دور ہوجائے کہ آخر ایک دن موت کا مزہ چکھنا ہے اور دنیا ہی چھوڑنا ہے تو آج دین کی خاطر ترک وطن کرلیں تا کہ اجر بھی میسر آئے اور اللہ تعالیٰ کا حکم کی تعمیل بھی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 57–58

ف 4۔ یعنی اگر ہجرت میں تم کو احباب و اوطان کی مفارقت شاق معلوم ہو تو یہ سمجھ لو کہ ایک نہ ایک روز یہ تو ہونا ہی ہے کیونکہ ہر شخص کو موت کا مزہ چکھنا ضرور ہے، آخر اس وقت سب چھوٹیں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موت سے کون بچا ہے جو تم بچ سکو گے سب کو ہماری طرف آنا ہے : 57۔ یہ پیشوایان مذہب ہی نہیں اس دنیا میں بڑے بڑے لوگ آئے جنہوں نے زندگی کے لئے بہت سروسامان اکٹھے کئے غور کرو کہ کیا پھر ان کو موت نے چھوڑا ۔ بلاشبہ یہ زندگی فانی ہے چاہے وہ شاہ ہو یا گدا ‘ ہر شخص نے ایک نہ ایک روز موت کا پیالہ ہونٹوں سے لگانا ہے اور اگر کوئی نہیں لگائے گا تو ان پیشوایان مذہب کی طرح ان کے گلے میں انڈیل دیا جائے گا اور وہ وقت ہوگا کہ گھر بار بھی چھوٹ جائے گا فرزند و زن اور دوست و احباب بھی سب پیچھے رہ جائیں گے ۔ تف ہے تم پر کہ تم ان ساری چیزوں کو حالت اضطرار میں چھوڑو کیا اس سے بہتر اور خوشی خوشی اس کی رضا کے لئے جان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The answer to this problem is given in the next verse: كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (Every person has to taste death - 29:57) that is, no one has any escape from death anywhere in any situation. Therefore, it should not be the trait of a Muslim to be afraid of death, because despite all possible defenses one may arrange for himself, death will overcome him. And it is also part of a believer's faith that death cannot come before the time Allah has determined. Therefore, fear of death should not be an impediment in one's decision about his staying at a certain place or leaving it. If death…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

95 That is, "Do not be anxious for your life: one has to die sooner or later. No one has come to live for ever in this world. Therefore, your real problem is not how to save life, but your real problem is how to save your Faith, and fulfil the requirements of God-worship. You have ultimately to return to Us. If you lost your faith for the sake of saving your life the result in the Hereafter will be different, but if you lost your life for the sake of saving your faith the result will be just the opposite. Therefore, you should be anxious only about what you will bring when you return to Us.…

Read the full tafseer →