Explained with ayahs 56–60
مہاجرین کے لیے انعامات الٰہی
اللہ تبارک وتعالیٰ اس آیت میں ایمان والوں کو ہجرت کا حکم دیتا ہے کہ جہاں وہ دین کو قائم نہ رکھ سکتے ہوں وہاں سے اس جگہ چلے جائیں جہاں ان کے دین میں انہیں آزادی رہے اللہ کی زمین بہت کشادہ ہے جہاں وہ فرمان اللہ کے ماتحت اللہ کی عبادت و توحید بجالاسکیں وہاں چلے جائیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمام شہر اللہ کے شہر ہیں اور کل بندے اللہ کے غلام ہیں جہاں تو بھلائی پاسکتا ہو وہیں قیام کر چناچہ صحابہ اکرام پر جب مکہ شریف کی رہائش مشکل ہوگئی تو وہ ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے تاکہ امن وامان کے ساتھ اللہ کے دین پر قیام کرسکیں وہاں کے سمجھدار دیندار بادشاہ اصحمہ…
Read the full tafseer →سورة العنکبوت 94
یہ اشارہ ہے ہجرت کی طرف۔ مطلب یہ ہے کہ اگر مکہ میں خدا کی بندگی کرنی مشکل ہو رہی ہے تو ملک چھوڑ کر نکل جاؤ، خدا کی زمین تنگ نہیں ہے۔ جہاں بھی تم خدا کے بندے بن کر رہ سکتے ہو وہاں چلے جاؤ۔ تم کو قوم و وطن کی نہیں بلکہ اپنے خدا کی بندگی کرنی چاہیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اصل چیز قوم، وطن اور ملک نہیں ہے بلکہ اللہ کی بندگی ہے۔ اگر کسی وقت قوم و وطن اور ملک کی محبت کے تقاضے اللہ کی بندگی کے تقاضوں سے ٹکرا جائیں تو وہی وقت مومن کے ایمان کی آزمائش کا ہوتا ہے۔ جو سچا مومن ہے وہ اللہ کی بندگی کرے گا اور قوم وطن اور ملک کو لات مار دے گا۔ جو جھوٹا مدعی ایمان ہے وہ ایمان کو چھوڑ دے گا اور…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے میرے ایمان دار بندو (جب یہ لوگ غایت عداوت وعناد سے تم کو اقامت شرائع (اختیار دین پر ایذاء پہونچاتے ہیں تو یہاں رہنا کیا ضرور) میری زمین فراخ ہے، سو (اگر یہاں رہ کر عبادت نہیں کرسکتے تو اور کہیں چلے جاؤ اور وہاں جا کر) خالص میری ہی عبادت کرو (کیونکہ یہاں اہل شرک کا زور ہے، تو ایسی عبادت جو توحید محض پر مبنی ہو اور شرک سے خالی ہو، یہاں مشکل ہے، البتہ خدا کے ساتھ غیر خدا کی بھی عبادت ہو یہ ممکن ہے مگر وہ عبادت ہی نہیں اور اگر تم کو ہجرت میں احباب و اوطان کی مفارقت شاق معلوم ہو تو یہ سمجھ لو کہ ایک نہ ایک روز یہ تو ہونا ہی ہے، کیونکہ) ہر شخص کو موت کا مزہ چکھنا (ضرور) ہے (آخر اس…
Read the full tafseer →یعبادی الذین امنوا ان ارضی واسعۃ فایای فاعبدون (56)
یہ ان مظلوم مسلمانوں کو خطاب فرمایا جن کا مسئلہ ابتدائے سورة سے اس میں زیر بحث ہے۔ اندازِ خطاب میں بڑی دلنوازی ہے۔ فرمایا کہ اے میرے بندو، جو مجھ پر ایمان لائے ہو، اگر تم پر مکہ کی سرزمین اس عہد میں جمے رہو۔ اگر یہ سرزمین تمہیں چھوڑنی پڑی تو اطمینان رکھو کہ میری زمین بہت کشادہ ہے، کوئی اور سرزمین تمہارا خیر مقدم کرے گی۔ فایای فاعبدون، بہرحال تم جمے رہو کہ میرے سوا کسی اور کی بندگی کی ذلت گوارا نہ کرو گے۔ اگر میری خاطر تم اپنے گھروں کو چھوڑو گے تو تمہاری ذمہ داری میرے اوپر ہے اور میرے پاس کسی چیز کی بھی کمی نہیں ہے۔
اس آیت سے چند باتیں نہایت…
Read the full tafseer →56-1اس میں ایسی جگہ سے، جہاں اللہ کی عبادت کرنی مشکل ہو اور دین پر قائم رہنا دوبھر ہو رہا ہو ہجرت کرنے کا حکم ہے، جس طرح مسلمانوں نے پہلے مکہ سے حبشہ کی طرف اور بعد میں مدینہ کی طرف ہجرت کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
30: جیسا کہ اس سورت کے تعارف میں عرض کیا گیا، یہ سورت اس زمانے میں نازل ہوئی تھی جب کفار مکہ نے مسلمانوں پر ظلم وستم کی انتہا کر رکھی تھی، اور بعض صحابہ کرام ؓ اس صورت حال سے پریشان تھے، اس سورت کے شروع میں تو انہیں صبر و استقامت کی تلقین فرمائی گئی ہے، اور اب اس آیت میں اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ اگر مکہ مکرمہ میں دین پر عمل کرنا مشکل ہورہا ہے تو اللہ کی زمین بہت وسیع ہے، ہجرت کرکے کسی اور ایسی جگہ چلے جاؤ، جہاں امن و سکون کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرسکو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
یعبادی الذین امنوا ۔۔۔۔۔ وھو السمیع العلیم (56 – 60)
دلوں کے خالق ، دلوں کی خفیہ باتوں کے جاننے والے ، دلوں میں آنے والے خیالات کے جاننے والے ، اور دلوں میں پیدا ہونے والے وساوس ، اور دلوں میں چھپے ہوئے خدشات کو جاننے والے اور ان دلوں کے پیدا کرنے والے خالق کائنات یوں پکارتے ہیں ” اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو “ ان الفاظ کے ساتھ پکار کر ان کی دعوت دی جاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرو ، اس خطاب کے ذریعے پہلے ہی مرحلہ پر بتا دیا جاتا ہے کہ اس ہجرت کی حقیقت کیا ہے یہ کہ اللہ اور رب کے لیے اور مولائے کریم کی راہ میں ، میں اس کے بندوں کی یہ نقل مکانی ہے۔ یہ تو تھا پہلا نچ ، اور دوسرا احساس ان کو…
Read the full tafseer →10 یعنی یہ مکہ کے کافر اگر تم کو تنگ کرتے ہیں تو خدا کی زمین تنگ نہیں دوسری جگہ جا کر خدا کی عبادت کرو۔
Read the full tafseer →آیت 56 یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَۃٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ ”
قرآن کے اس اسلوب کے بارے میں ایک نکتہ جو پہلے کئی بار دہرایا جا چکا ہے یہاں پھر ذہن میں تازہ کرلیں کہ مکی دور میں اہل ایمان سے براہ راست بہت کم خطاب کیا گیا ہے ‘ زیادہ تر انہیں نبی مکرم ﷺ کی وساطت سے ہی مخاطب کیا گیا ہے ‘ جبکہ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کی اصطلاح صرف مدنی قرآن میں ملتی ہے۔
یہاں پر یٰعِبَادِیَ کے طرز تخاطب میں بہت شفقت اور عنایت کا اظہار پایا جاتا ہے کہ اے میرے بندو ! اگر مجھ پر ایمان لانے کی پاداش میں مکہ کی سرزمین میں تمہارا قافیہ تنگ کردیا گیا ہے ‘ تمہارے لیے اگر یہاں رہنا…
Read the full tafseer →88 آیت کے الفاظ سے ہی معلوم ہو رہا ہے کہ یہ اس وقت نازل ہوئی تھی جب کفار مکہ نے مسلمانوں پر اس قدر سختیاں روا رکھی تھیں کہ انھیں جینا بھی دو بھر ہوگیا تھا۔ اس کی مشکل کا حل اللہ تعالیٰ نے یہ بتلایا کہ اس علاقہ سے ہجرت کر جاؤ اور وہاں جاکر رہو جہاں تم آزادی سے میری عبادت کرسکو۔ واضح رہے کہ اپنے وطن اور اپنے اقرباء سے محبت انسان کی فطرت میں داخل ہے۔ لیکن یہ حب الوطنی، وطن پرستی کی حد تک، اوراقرباء سے محبت قوم پرستی کی حد تک نہیں ہونی چاہئے۔ اصل چیز اللہ کی عبادت اور اپنے دین کی حفاظت ہے اس کے مقابلہ وطن اور قبیلہ کچھ چیز نہیں۔ اور اگر دین کا فقدان کرکے وطن اور قوم کو ترجیح دی جائے تو یہی چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
72۔ (خواہ یہاں یا جہاں کہیں بھی، توحیدی عبادت ممکن ہے) یہ ترغیب ہے ہجرت یعنی اقامت دین کی خاطر ترک وطن کی، علماء نے اس سے یہ نکالا ہے کہ جہاں کفر وفسق کی شدت ہو اور خدا پرستی کا موقع نہ مل سکے، وہاں سے بندۂ مومن چلا جائے۔ (آیت) ” ان ارضی واسعۃ “۔ میں اشارہ ہے کہ اللہ کی نعمتیں کھانے پینے، رہنے سہنے سے متعلق کسی ایک خطہ یا علاقہ تک محدود نہیں۔ یہ تو وطن کے باہر بھی سب کہیں مل سکتی کہیں ان کی طرف سے اتنا فکر مند کیوں ہوتے ہو۔ یہ مضمون زیادہ کھول کر پہلے ہی بیان ہوچکا ہے۔ یجد فی الارض مراغما کثیرا (سورۃ النساء)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–63
آیت نمبر 52 تا 63
ترجمہ : آپ کہہ دیجئے کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان میری سچائی پر گواہ کافی ہے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسے سب باتوں کی خبر ہے اور انہیں میں میرا اور تمہارا حال بھی ہے اور جو لوگ باطل پر اور وہ اللہ کے علاوہ وہ چیزیں ہیں جن کی پوجا پاٹ کی جاتی ہے یقین رکھتے ہیں اور تم میں سے اللہ کے منکر ہیں یہی لوگ ہیں جو اپنے سودے میں نقصان اٹھانے والے ہیں اس طور پر کہ انہوں نے ایمان کے بدلے کفر اختیار کرلیا ہے اور یہ لوگ آپ سے عذاب کے بارے میں جلدی کرتے ہیں اور اگر عذاب کی مدت متعین نہ ہوتی تو ان پر فوری عذاب آچکا ہوتا اور ان پر وہ عذاب دفعۃً آپہنچے گا اور ان کو اس کے آنے کی خبر بھی…
Read the full tafseer →یعبادی الذین امنوا ان ارضی واسعۃ فایای فاعبدون . اے میرے ایمان دار بندو ! میری زمین
فراخ ہے سو خاص میری ہی عبادت کرو۔
اِیَّای فعل محذوف کا مفعول ہے یعنی اُعْبُدُوْا اِیَّای اور فاعْبُدُوْن اس کی تاکید ہے۔
مقاتل اور کلبی نے کہا : اس آیت کا نزول ان کمزور مسلمانوں کے حق میں ہوا جو (کمزوری کی وجہ سے) مکہ میں رہ گئے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ مکہ کے اندر رہ کر اگر تم ایمان کا اظہار نہیں کرسکتے ہو تو وطن چھوڑ کر کسی دوسری جگہ چلے جاؤ جہاں آزادی کے ساتھ اظہار ایمان کرسکتے ہو جیسے مدینہ وغیرہ کیونکہ میری زمین تنگ نہیں ہے۔
مجاہد نے کہا : میری زمین وسیع ہے ‘ ترک وطن کر کے چلے جاؤ اور وہاں پہنچ کر جہاد…
Read the full tafseer →اے میرے ایماندار بندو یعنی حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی، حضرت علی مرتضی اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سرزمین مدینہ امن والی ہے وہاں چلے جاؤ اور خالص میری ہی عبادت کرو۔
Read the full tafseer →يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا : یہ حقیقت ہے کہ ساری مخلوق ہی اللہ تعالیٰ کے عبد (غلام) ہیں۔ پھر یہ بندے دوقسم کے ہیں، مومن اور کافر۔ دونوں کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا، مومن نے اپنی پسند چھوڑ کر رب کی پسند اختیار کی، اس کی مرضی کو اپنی مرضی پر ترجیح دی، چناچہ وہ ہر چیز میں اللہ کا عبد، بندہ اور غلام بن گیا۔ جو مالک نے کہا، کیا، جس سے روک دیا اس سے رک گیا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے ”يٰعِبَادِيَ“ (اے میرے بندو !) کے معزز اور پیار بھرے الفاظ کے ساتھ مخاطب فرمایا۔ کافر بھی اگرچہ اللہ ہی کا بندہ ہے مگر اس نے اپنے رب کے سامنے سرکشی اختیار کی، اس کی مرضی کے بجائے اپنی مرضی پر چلا، سو محبت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
یہ آیت نازل ہوئی تاکہ جو مومن مکہ مکرمہ میں ہیں انہیں ہجرت پر برانگختیہ کیا جائے، یہ مقاتل، اور کلبی کا قول ہے : (1) ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی زمین کی وسعت کی خبرد یاور یہ یہ بتایا کہ ایسے علاقے میں رہنا جہاں کفار کی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑے۔ یہ درست نہیں بلکہ یہ درست ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے صالح بندوں کے ساتھ اس کی زمین میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کو تلاش کریں یعنی اگر تمہیں ایمان کے اظہار میں تنگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو مدینہ کی طرف ہجرت کر جائو وہ وسیع ہے کیونکہ وہاں توحید کا اظہار کرنا ممکن ہے : ابن جبیر اور عطاء نے کہا : جہاں بھی ظلم اور منکر ہو وہاں اس آیت کا حکم مرتب ہوگا اور ایسے ملک…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی زمین عبادت کرنے والوں کے لیے وسیع ہے۔
1۔ الفریابی وابن جریر نے والبیہقی فی شعب الایمان سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت یعبادی الذین اٰمنوا ان ارضی واسعۃ سے مراد ہے کہ اے میرے بندو ایمان والو ! میری زمین وسعی ہے یعنی تو جب کسی زمین میں نافرمانی کے کام کئے جائیں تو وہاں سے نکل جاؤ۔
2۔ ابن ابی شیبہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان ارضی واسعۃ یعنی میری زمین وسیع ہے جسے نافرمانی کا حکم دیا جائے سو اس کو چاہیے کہ وہ بھاگ جائے۔
3۔ الفریابی وابن جریر نے مجاہد (رح) سے آیت یعبادی الذین ٰمنوا ان ارضی واسعۃ فایای فاعبدون یعنی میری زمین وسیع ہے تو وہاں سے ہجرت کر جاؤ اور…
Read the full tafseer →يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ [اے میرے وہ بندو جو ] اٰمَنُوْٓا [ایمان لائے ] اِنَّ اَرْضِيْ [بیشک میری زمین ] وَاسِعَةٌ [کشادہ ہے ] فَاِيَّايَ [تو صرف میری ہی ] فَاعْبُدُوْنِ [پس تم لوگ بندگی کرو میری ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
ہجرت کی اہمیت اور ضرورت
معالم التنزیل (جلد 3 ص 472) میں علامہ بغوی ؓ نے لکھا ہے کہ آیت (یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا) (الآیۃ) ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے مکہ معظمہ میں رہتے ہوئے اسلام قبول کرلیا تھا وہاں کے مقامی حالات کی وجہ سے (جو کافروں کی طرف سے دکھ تکلیف کی صورت میں پیش آتے رہتے تھے) اپنا ایمان ظاہر کرنے سے قاصر تھے، اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ میری زمین وسیع ہے فراخ ہے یہاں سے ہجرت کر جاؤ، دشمنوں کے خوف کی وجہ سے میری عبادت نہیں کرسکتے ہو تو اس شہر کو چھوڑ دو اور میری عبادت میں لگو۔ اس وقت مدینہ منورہ دارالہجرۃ تھا، رسول اللہ ﷺ اور بہت سے صحابہ مدینہ منورہ پہنچ گئے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–63
ترغیب ہجرت وذکر بقائے عالم آخرت
وبیان حقارت دنیا وفناء وزوال او
قال اللہ تعالیٰ یعبادی الذین امنوا ان ارضی واسعۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وان اللہ لمع المحسنین۔
(ربط) جب کفار مکہ مسلمانوں کی ایذا رسانی پر تل گئے اور مسلمانوں کو احکام اسلام بجا لانا دشوارہو گیا تو حکم نازل ہوا کہ مسلمان مکہ سے ہجرت کر جائیں اور جہاں ارکان اسلام آزادی کے ساتھ ادا کرسکیں وہاں چلے جائیں کافروں کی زمین میں کافروں کے ساتھ رہنا درست نہیں چناچہ صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے اول حبشہ کی طرف ہجرت کی پھر بعد چندے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی زجاج (رح) کہتے کہ جس جگہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت نماز روزہ ممکن نہ ہو یا جس جگہ علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
47:۔ یہ پہلے دعوے سے متعلق ہے۔ ابتداء سورت میں کہا گیا توحید کی خاطر مصائب و مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا اور ان منافقین کی طرح نہ ہونا جو معمولی تکلیف پر توحید کا نام لینا بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ اب یہاں فرمایا اگر مشرکین اس قدر ایذائیں دیں کہ وطن میں رہنا مشکل ہوجائے تو میری زمین فراخ ہے وطن سے ہجرت کر کے کسی دوسری جگہ چلے جاؤ جہاں ت میری خالص عبادت بجا لا سکو۔ کل نفس الخ۔ یہ دنیا چند روزہ ہے آخر ہر ایک کو موت آئے گی اور تم سب میرے پاس آؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–59
ربطہ آیات
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب اور مشرکین کا شکوہ کیا تھا جو ایمان لانے کی بجائے طرح طرح کی نشانیاں طلب کرتے تھے۔ اللہ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ آپ صاف صاف کہہ دیں کہ میرا کام تو کھول کر ڈر سنانا ہے۔ نشانیاں پیش کرنا میرے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے وہ جب چاہے کوئی نشانی ظاہر کردیتا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ اس سے بڑی نشانی اور معجزہ کیا ہوگا کہ ایک امی آدمی ایسی عظیم الشان کتاب پڑھ کر سناتا ہے جس نے نہ کوئی کتاب پڑھی ہے اور نہ لکھنا سیکھا ہے۔ یہ کتاب ایسے علوم و معارف پر مشتمل ہے جس کا کوئی انسان احاطہ نہیں کرسکتا۔
رسالت پر شہادت خداوندی
اللہ نے…
Read the full tafseer →يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ اَرْضِيْ وَاسِعَۃٌ فَاِيَّايَ فَاعْبُدُوْنِ 56
عبد
والعَبْدُ يقال علی أربعة أضرب :
الأوّل : عَبْدٌ بحکم الشّرع، وهو الإنسان الذي يصحّ بيعه وابتیاعه، نحو : الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ
[ البقرة/ 178] ، وعَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] .
الثاني : عَبْدٌ بالإيجاد، وذلک ليس إلّا لله، وإيّاه قصد بقوله : إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] .
والثالث : عَبْدٌ بالعِبَادَةِ والخدمة،
والناس في هذا ضربان :
عبد لله مخلص، وهو المقصود بقوله : وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] ، إِنَّهُ كانَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–63
جبکہ کفار و مشرکین مکہ اور نیز اہل کتاب کا حال اور ان کے نامحمود طریقے کی برائی اور آخرت کا حال صاف صاف بیان ہوا تو شدہ شدہ کفار مکہ کو نہایت جوش و تعصب ہوا کہ دینداروں کو نہایت تکلیفیں دینی شروع کردیں جن کو مسلمان نہایت استقلال اور ثابت قدمی کے ساتھ برداشت کرتے رہے، مگر جب ادائِ ارکان دینی سے بھی سخت مانع آئے تو وطن چھوڑ کر باہر جانے کی اجازت ہی نہ دی بلکہ رغبت دلائی گئی، اس لیے یہ آیتیں نازل ہوئیں جن میں ہجرت کی ترغیب ہے، جس سے مسلمان ملک حبشہ اور مدینہ کی طرف ہجرت کرکے جانے لگے۔ فقال یعبادی الذین امنو کہ اے میرے ایماندار بندوں میری زمین فراخ اور کشادہ ہے، کس لیے یہاں پڑے ہو باہر جاؤ اور…
Read the full tafseer →یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَۃٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ ۔ (العنکبوت : 56)
(اے میرے بندو ! جو ایمان لائے ہو بیشک میری زمین بہت کشادہ ہے، پس میری ہی بندگی کرو۔ )
مظلوم مسلمانوں سے خطاب اور ہجرت کی ہدایات
مکہ معظمہ میں ہر ایمان لانے والے کے لیے جس طرح زندگی دشوار کی جارہی تھی وہ تاریخ کی ایک ایسی حقیقت ہے جس سے ہر پڑھا لکھا آدمی واقف ہے۔ اس سورة کے آغاز میں بھی انھیں لوگوں کو حوصلہ دیا گیا ہے اور بعض اشتباہات کا ازالہ بھی فرمایا گیا ہے۔ اب اس آیت میں نہایت دلنوازی کے انداز میں ان سے خطاب کرکے فرمایا گیا ہے کہ اگر مکہ کی سرزمین تمہارے ایمان کی وجہ سے تمہارے لیے واقعی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
فہم القرآن
ربط کلام : کفار کو جہنّم کے عذاب کا نقشہ پیش کرنے کے بعد مومنوں کو ہجرت کا حکم دیا گیا ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ مومنوں دنیا کی تکلیفیں تو معمولی اور عارضی ہیں اگر جہنّم کی تکلیفوں سے بچنا چاہتے ہو تو اپنا ایمان بچا کر ہجرت کر جاؤ۔
ہجرت کرنے والوں کو یہ حکم دیتے ہوئے تسلّی دی گئی ہے کہ یہ نہ سوچو کہ گھر بار چھوڑ کر جائیں تو کدھر جائیں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ ” اللہ “ کی زمین بڑی وسیع ہے۔ تمہاری زندگی کا مقصد ” اللہ “ کی عبادت اور اس کی غلامی کرنا ہے۔ اس لیے اپنے مقصد حیات کو سامنے رکھو اور اس کے لیے ہجرت کر جاؤ اور اپنے رب کی غلامی میں زندگی بسر کرو۔ اگر تمہیں کسی قسم کے…
Read the full tafseer →56: یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَۃٌ (اے میرے بندو ! جو کہ ایمان لاتے ہو۔ بیشک میری زمین وسیع ہے) ۔
قراءت : بصری اور عاصم کے علاوہ کوفی علماء نے یعبادی کو سکون یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اَرْضِیَ کو یاء کے فتحہ کے ساتھ شامی نے پڑھا ہے۔ مطلب یہ ہے۔
مسئلہ : جب کبھی کسی مسلمان کو کسی شہر میں رہتے ہوئے عبادت ممکن نہ ہو۔ اور وہاں وہ اپنے دین پر نہ چل سکتا ہو۔ اس کو وہاں سے ایسے شہر میں چلے جانا چاہیے جہاں وہ صحت و سلامتی قلب کے ساتھ عبادت کرسکے۔ اور دین پر قائم رہ سکے اور زیادہ عبادت انجام دے سکے۔ اس میں مختلف علاقوں کا مختلف حکم ہے۔
علماء کا قول :
ہم نے نفس کو دبانے میں سب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
55۔ یوم یغشاھم ، ،، جب انکو عذاب پہنچ جائے گا، العذاب من فوقھم ومن تحت ارجلھم، یعنی جب ان کو عذاب جہنم ڈھانپ لے گا، جیسا کہ اللہ رب العزت نے ان کے لیے فرمایا ۔ لھم من جھنم مھاد ومن فوقھم غواش، ویقول ذوقوا، نافع اور اہل کوفہ نے ، ویقول ، یاء کے ساتھ پڑھا ہے جہنم کا داروغہ ان سے کہے گا چکھوا جہنم کا عذاب اور دوسرے قراء نے ، نقول ، کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ جب بھی وہ کسی کام کا حکم کرتے ہیں تو اس کو اپنی طرف منسوب کردیتے ہیں ، ماکنتم تعملون، بدلہ ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔
آیت کا شان نزول۔
مقاتل اور کلبی نے کہا اس آیت کا نزول ان کمزور مسلمانوں کے حق میں ہوا جو کمزوری کی وجہ سے مکہ میں رہ گئے تھے مطلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–59
50 تا 59۔ مشرکین مکہ کہتے ہیں کہ اگر یہ سچے رسول ہیں تو کچھ نشانیاں کیوں نہیں دکھاتے اللہ فرماتا ہے تو کہہ دے نشانیاں اللہ کے اختیار میں ہیں اگر اللہ جانتا نشانیاں دیکھ کر تم راہ پر آجاؤ گے تو وہ تم کو نشانیاں بھی دکھا دیتا اس پر کچھ مشکل نہ تھا مگر وہ جانتا ہے کہ تمہارا ارادہ مسخرا پن کا ہے اس لیے وہ تم کو نہیں دکھاتا اور میں تو فقط ڈرانے والا ہوں پھر اللہ تعالیٰ مشرکوں کی وہ جہالت بیان کرتا ہے جس کے سبب سے وہ جو پیغمبر صلعم کی سچائی پر نشانیاں مانگتے تھے حالانکہ قرآن شریف ایسا بڑا معجزہ ہے کہ جس کے مقابلہ سے بڑے بڑے فصیح بلیغ عاجز آگئے اس کا مانند دس سورت کیا بلکہ ایک سورت بھی نہ بناسکے پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
آیت نمبر : 56-59
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (یعبادی الذین امنوآ) ” اے میرے بندوں جو ایمان لائے ہو ! “ اور جنہوں نے میرے رسول کی تصدیق کی ہے (ان ارضی واسعۃ فایای فاعبدون) ” میری زمین فراخ ہے ‘ پس تم میری ہی عبادت کرو۔ “ یعنی جب کسی سرزمین میں تمہارے لیے اپنے رب کی عبادت کرنا ممکن نہ رہے تو اس کو چھوڑ کر کسی اور سرزمین میں چلے جاؤ جہاں تم اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرسکو۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جگہیں بہت کشادہ ہیں۔ تمہارا معبود ایک ہے اور موت تمہیں آکر رہے گی پھر تمہیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ وہ اس شخص کو بہترین جزا سے نوازے گا جس نے ایمان اور عمل صالح کو اکٹھا کیا ‘ وہ انہیں رفیع الشان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–69
قول باری ہے : (ولا تجادلوا اھل الکتاب الا بالتیھی احسن۔ اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقے سے) قتادہ کا قول ہے کہ یہ آیت قول باری (وقاتلوا المشرکین اور مشرکین سے قتال کرو) کی بنا پر منسوخ ہوچکی ہے۔ کوئی بحث تلوار کے استعمال سے بڑھ کر نہیں ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قتادہ کی مراد یہ ہے کہ آیت، زیر بحث کا حکم قتال کے حکم سے پہلے کا ہے۔
قول باری ہے : (الا الذین ظلموا منھم ۔ سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں) ۔ یعنی۔ واللہ اعلم۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے بحث وجدال وغیرہ میں تمہارے ساتھ ظلم کیا ہو جو اس امر کا مقتضی ہو کہ تم ان کے ساتھ سخت رویہ رکھو۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–69
58 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اس کے احاطہ علم کے اعتبار سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ پوری طرح جانتا ہے ان سب چیزوں کو جن کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں اللہ کے سوا "۔ تعمیم ملاحظہ ہو کہ اول تو { شیئ } خود نکرہ ہے جو ہر چیز کو شامل ہے۔ پھر اس پر { من } استغراقیہ سے مزید تاکید۔ یعنی کوئی بھی چیز خواہ کوئی فرشتہ ہو یا انسان، شجر ہو یا حجر، بت ہو یا جن وغیرہ وغیرہ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ مافوق الاسباب کسی کو بھی پکارنا شرک ہے جو کہ سب سے بڑا گناہ اور ناقابل معافی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اب وہ لوگ دیکھ لیں جو اس وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر اس کی عاجز مخلوق کو پکارتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے " یا رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–63
مومنوں کے اوصاف اور ربوبیت الٰہی کے دلائل
تشریح : ان آیات میں خوشخبری ان لوگوں کو دی گئی ہے جن میں صبر اور توکل ہو۔ یعنی ہر قسم کی آزمائش ‘ سختی اور مصیبت جو ان کو راہ خدا میں اٹھانی پڑے صبرو سکون سے برداشت کرتے ہوئے ایمان بااللہ پر قائم رہیں۔ اور پورا بھروسہ اللہ پر رکھیں ایمان کی حفاظت اور بقا کے لیے ان کو گھر بار ‘ جائیداد اور رشتہ دار عزیز بھی چھوڑنے پڑیں تو ہجرت ضرور کر جائیں یہ سنت ہے۔ اور جو اللہ کی محبت میں سب کچھ چھوڑ دیتا ہے وہ تو ویسے ہی اللہ کا مقبول ترین انسان بن جاتا ہے۔ جب کہ اللہ تو ویسے ہی بڑا مہربان اور رازق ہے کیونکہ وہ ہر کافر مشرک کو برابر رزق دیتا ہے۔ رزق دینا صرف اسی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–63
آیات 52 تا 63
اسرارومعارف
آپ ان سے کہ دیجیے کہ اس قدر دلائل کے بعد بھی اگر تم شبہات میں گرفتار ہو تو پھر میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے جو زمین و آسمان کے سب رازوں سے اقف ہے مومن و کافر کے دلوں کو جانتا ہے۔ اور یہ ظاہر ہوجائے گا جو لوگ باطل پر ہیں اور اللہ کے ارشادات کا انکار کرتے ہیں انجام کار وہی نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔ یہ عذاب مانگنے میں بڑی جلدی دکھاتے ہیں۔ اگر سب معاملات کے اوقات اللہ کریم نے طے نہ فرما دیے ہوتے تو انہیں مانگنے پہ بھی عذاب مل جاتا۔ بحر حال اللہ کی گرفت انہیں اچانک پکڑے گی جبکہ یہ سمجھ ہی نہ پائیں گے کہ سب کچھ کیسے ہوگیا دنیا میں بھی شکست کھا کر پھر موت کے منہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
4 ۔ اکثر مفسرین کے نزدیک یہ آیت ان کمزور مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی جو مکہ سے ہجرت نہیں کرسکے تھے اور کفار نہیں ستا رہے تھے۔ (روح) اس میں ہجرت کی ترغیب ہے۔ یعنی اگر مکہ کی سرزمین میں جہاں تم اب ہو، میری بندگی بجالانا مشکل ہو رہا ہے تو میری زمین تنگ نہیں ہے۔ تم اپنے وطن چھوڑ کر کسی ایسی جگہ چلے جائو جہاں تم آزادی سے میری بندگی کرسکو۔ زجاج (رح) کہتے ہیں کہ یہ حکم عام ہے یعنی اگر کوئی شخص کسی ایسی جگہ رہتا ہو جہاں برائیوں کا دور دورہ ہو اور اس کے لئے حالات کا بدل ڈالنا ممکن نہ ہو، تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اس جگہ سے ہجرت کر کے کسی ایسی جگہ چلا جائے جہاں وہ آزادی سے خدا کی بندگی کرسکتا ہو۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
(29:56) فایای واحد متکلم کی ضمیر منصوب منفصل ۔ مجھ کو۔ مجھ ہی سے۔تعقیب کا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
لغات القرآن آیت نمبر (56 تا 60) ۔
ارضی (میری زمین) ۔ واسعتہ (وسیع۔ پھیلی ہوئی) ۔ ذائقتہ (چکھنے والی) ۔ نبوء ن (ہم ضرور ٹھکا نا دیں گے) ۔ غرف (کمرہ۔ بالا خانہ) ۔ نعم اجر (بہترین بدلہ) ۔ کاین (کتنے ہی۔ بہت سے) ۔ دابتہ (جانور۔ جان دار) ۔ لا تحمل (نہیں اٹھاتے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر (56 تا 60) ۔ ” اللہ تعالیٰ کا یہ نظام ہے کہ ہزاروں لاکھوں انسان ہر روز پیدا ہوتے اور مرتے رہتے ہیں۔ انسان زندگی گذارنے کے لئے ایک گھر بنا کر اپنے بیوی، بچوں اور گھر والوں کے ساتھ رہتا بستا ہے۔ کنبہ، خاندان اور برادری کے تعلقات بنتے چلے جاتے ہیں۔ بچپن، جوانی اور بڑھاپے کی عمر گذار کر آخر کار موت کی آغوش میں جا کر سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
ہجرت کا حکم۔
(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ہجرت کا حکم فرماتا ہے کہ جس شہر میں آدمی دین پر پورانہ چل سکے وہاں سے ہجرت کرکے دوسرے شہر میں چلاجائے جہاں دین پر آزادی سے چل سکے ، نبی ﷺ نے فرمایا سب شہر اللہ کے ہیں، اور سب بندے اللہ کے ہیں جہاں نیکی کرسکے وہاں قیام کرو، پہلے پہل بےوطن ہونے میں تنگی معاش کے اندیشہ سے لوگوں کو مکہ کے چھوڑے جان میں پس پیش تھا لیکن جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اللہ کی زمین کشادہ اور اللہ ہر جگہ رازق ہے اس خوف و خطرناک جگہ سے حبشہ کو ہجرت کی تاکہ وہاں بےخوف اپنے دین پرچلیں۔ وہاں کے بادشاہ نجاشی نے ان کو جگہ دی اور بڑی مدد کی۔ وطن چھوڑنا یوں ہی ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
[26] یہ اشارہ ہے ہجرت کی طرف۔ یعنی اگر یہ مکہ کے کافر تنگ کرتے ہیں تو اللہ کی زمین تنگ نہیں۔ دوسری جگہ ہجرت کر جاؤ جہاں تم اللہ کے بندے بن کر رہ سکو۔ اس سے معلوم ہوا کہ اصل چیز قوم، ملک اور وطن نہیں بلکہ اللہ کی بندگی ہے۔ یہ آیت اس باب میں صریح ہے کہ ایک توحید پرست انسان محب وطن تو ہوسکتا ہے مگر وطن پرست نہیں ہوسکتا۔ وہ اللہ کی بندگی پر دنیا کی ہر چیز کو قربان کر دے گا مگر اللہ کی بندگی کو کسی چیز پر قربان نہیں کرے گا۔
Read the full tafseer →ہجرت
1: اسلام چونکہ تہذیت و تمدن اور عقائد و عبادات کے لحاظ سے ایسا مذہب نہیں ہے جس میں کسی خاص ماحول یا فضا کے ساتھ دینی اختصاص ہو ۔ اس لئے وہ بالطیع قیود ووطن سے آزاد ہے ۔ اس کے نزدیک ہر وہ خطہ ارض وطن ہے ۔ جہاں مسلمان مومنین اسلامی زندگی بسر کرسکے ۔ اور ہو وہ جگہ چھوڑ دینے کے لائق ہے جہاں دین کی آزادی میسر نہیں ۔ اگرچہ وہ مکہ جیسی متبرک جگہ ہی کیوں نہ ہو اسلام ایسا مکمل حدود تا آشیانہ اور ہمہ صداقت مذہب ہے کہ لاہ مکان ونسان کی حدود سے بےنیاز ہے ۔ ساری دنیا کیوسعتیں اس کا صحن مکانی ہیں ۔ چناچہ ارشاد ہے ارغی واسعۃ یعنی میری زمین میرے مومن بندوں پرکشادہ ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ ملکی رسم و رواج یا…
Read the full tafseer →56۔ آگے مسلمانوں کو ہجرت کرنے کی ترغیب ہے ارشاد ہوتا ہے اے میرے بندو جنہوں نے دعوت اسلامی کو قبول کرلیا ہے اور اے میرے بندو جو اہل ایمان ہیں میری زمین فراخ اور وسیع ہے سو تم صرف میری ہی عبادت کیا کرو۔ یعنی اے میرے بندو جو ایمان لے آئو ہو اگر تم اپنے طن میں آزادی کے ساتھ میری عبادت نہیں کرسکتے اور منکر تم کو میری عبادت نہیں کرنے دیتے اور تمہاری راہ میں مشکلات پیدا کر رہے ہیں تو میری زمین بہتری وسیع اور فراخ ہے تم کوئی امن کی جگہ دیکھ کر وہاں ہجرت کر کے چلے جائو اور کسی دبائو سے میری عبادت میں فرق نہ آنے دو بلکہ صرف میری ہی عبادت کرتے رہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب کافروں نے مکہ میں بہت…
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی جب یہ لوگ غایت عداوت و معاندت سے تم کو اقامت شرائع و اختیار دین پر ایذا پہنچاتے ہیں تو یہاں رہنا کیا ضروری ہے میری زمین فراخ ہے، سو اگر یہاں رہ کر عبادت نہیں کرسکتے، تو کہیں اور چالے جاو اور وہاں جاکر خالص میری ہی عبادت کرو۔
Read the full tafseer →میرے بندو جو ایمان لائے ہو زمین بہت وسیع ہے تم کو میری عبادت کرنا ہے :
56۔ ایمان والوں کو مخاطب کرکے بذریعہ رسول اللہ ﷺ ان سے راز ونیاز کی بات کہی جارہی ہے کہ تم میرے بندے ہو اور مجھ ہی پر ایمان لائے ہو تم پر جو ظلم ڈھائے جا رہے ہیں بلاشبہ ان سے پہاڑوں کے دل بھی لرز جاتے ہیں تو بلاشبہ تم پہاڑ نہیں ہو بلکہ تمہارا عزم وجزم پہاڑوں سے بہت زیادہ وزنی اور بہت ٹھوس ہونا چاہئے لیکن اس کے باوجود اگر یہاں نہیں تو وہاں سہی جہاں تم میری عبادت آسانی سے بجا لاسکو تمہارے رب کی زمین تمہاری زمین ہے اور اس کی وسعت کی کوئی انتہا نہیں تم کو ہر حال میں میری عبادت کا سلسلہ جاری رکھنا چاہئے اونٹ خواہ کسی کروٹ بیٹھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–56
Commentary
From the very beginning of this Surah until now the enmity of the infidels toward Muslims, their rejection of the Oneness of God and prophethood of the Holy Prophet ﷺ ، and putting hurdles in the way of truth and believers were described. In the above verses a way out of this entanglement is suggested in order to come out of the turmoil and spread and propagate the truth, and establish justice - the common name for this action is hijrah (migration).It means to leave the hometown and land where one is forced to speak and act against the truth.
Command in connection with hijrah and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
94 This is an allusion to the Hijrah, which implies this: if you feel that it is becoming difficult to worship God in Makkah, you may leave it and move to another place where you can live as the we servants of God, for God's earth is vast. You should serve Allah and not your nation and country." This shows that the real thing is not the nation and the home and the country but the worship of Allah If at some time the demands of the nation and country's love clash with the demands of Allah's worship, it is the time of trial for the believer's faith. The true believer will worship Allah and…
Read the full tafseer →