Explained with ayahs 53–55
موت کے بعد کفار کو عذاب اور مومنوں کو جنت
مشرکوں کا اپنی جہالت سے عذاب الٰہی طلب کرنا بیان ہو رہا ہے یہ اللہ کے نبی سے بھی یہی کہتے تھے اور خود اللہ تعالیٰ سے بھی یہی دعائیں کرتے تھے کی جناب باری اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمیں اور کوئی دردناک عذاب کر۔ یہاں انہیں جواب ملتا ہے کہ رب العلمین یہ بات مقرر کرچکا ہے کہ ان کفار کو قیامت کے دن عذاب ہونگے اگر یہ نہ ہوتا تو انکے مانگتے ہی عذاب کے مہیب بادل ان پر برس پڑتے۔ اب بھی یہ یقین مانیں کہ یہ عذاب آئیں گے اور ضرورآئیں گے بلکہ انکی بیخبر ی میں اچانک اور یک بیک آپڑیں گے۔ یہ عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں اور جہنم بھی انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
سورة العنکبوت 93
یعنی بار بار چیلنج کے انداز میں مطالبہ کر رہے ہیں کہ اگر تم رسول ہو اور ہم واقعی حق کو جھٹلا رہے ہیں تو ہم پر وہ عذاب کیوں نہیں لے آتے جس کے ڈراوے تم ہمیں دیا کرتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–55
تفسیروں میں جو عام مفسرین نے اہل کتاب کی روایات نقل کی ہیں ان کا بھی یہی درجہ ہے اور نقل کرنے کا منشاء بھی صرف اس کی تاریخی حیثیت کو واضح کرنا ہے، احکام حلال و حرام کا ان سے استنباط نہیں کیا جاسکتا، مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّلَا تَخُــطُّهٗ بِيَمِيْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ ، یعنی نزول قرآن سے پہلے نہ آپ کوئی کتاب پڑھتے تھے، نہ کچھ لکھ سکتے تھے، بلکہ آپ امی تھے، اگر ایسا نہ ہوتا اور آپ لکھے پڑھے ہوتے تو اہل باطل کے لئے شک و شبہ کی گنجائش نکل آتی کہ یہ الزام لگاتے کہ آپ نے پچھلی کتابیں تورات و انجیل پڑھی ہیں یا نقل کی ہیں۔ آپ جو کچھ قرآن میں فرماتے ہیں وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
یستعجلونک بالعذاب، فان جھنم لمحیطۃ بالکفرین، یوم یغشھم العذاب من فوتھم ومن تحت ارجلھم و یقول ذوقا ما کنتم تعملون (54۔ 55)
یہاں ان کے استعجال بالعذاب کو پھر دہرایا ہے۔ بظاہر اس تکرار کی ضرورت نہیں تھی لیکن یہ اعادہ و اظہارِ تعجب کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ بڑے طنطنہ سے بار بار عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں گویا عذاب ان سے بہت دور ہے، حالانکہ عذاب ان کے اوپر اور ان کے نیچے سے ان کو گھیرے ہوئے ہے۔ یہ خدا کی جہنم کے احاطے میں ہیں۔ یہ جن اعمال کے اندر گھرے ہوئے ہیں یہی اعمال ان کے لئے جہنم کا ایندھن ہوں گے، تو جس عذاب کے لئے وہ جلدی مچائے ہوئے ہیں اس کا پورا سامان تو انہوں نے خود فراہم کر رکھا ہے۔…
Read the full tafseer →55-1یقول کا فاعل اللہ ہے یا فرشتے یعنی جب چاروں طرف سے ان پر عذاب ہو رہا ہوگا تو کہا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
30: جیسا کہ اس سورت کے تعارف میں عرض کیا گیا، یہ سورت اس زمانے میں نازل ہوئی تھی جب کفار مکہ نے مسلمانوں پر ظلم وستم کی انتہا کر رکھی تھی، اور بعض صحابہ کرام ؓ اس صورت حال سے پریشان تھے، اس سورت کے شروع میں تو انہیں صبر و استقامت کی تلقین فرمائی گئی ہے، اور اب اس آیت میں اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ اگر مکہ مکرمہ میں دین پر عمل کرنا مشکل ہورہا ہے تو اللہ کی زمین بہت وسیع ہے، ہجرت کرکے کسی اور ایسی جگہ چلے جاؤ، جہاں امن و سکون کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرسکو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
قل کفی باللہ بینی ۔۔۔۔۔ ھم الخسرون (52)
وہ ذات جو جہانوں کے بارے میں سب کچھ جانتی ہے اس کی شہادت سے بڑی شہادت کس کی ہوسکتی ہے اور اللہ اپنے علم سے شہادت دے رہا ہے کہ یہ لوگ باطل پر ہیں۔ والذین امنوا ۔۔۔۔۔ ھم الخسرون (29: 52) ” جو لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ سے کفر کرتے ہیں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں “۔ یہ مطلقاًخسارے میں ہیں ۔ ہر چیز سے وہ محروم ہوگئے ہیں ۔ دنیاو آخرت دونوں ہار چکے ہیں ۔ اپنی ذلمت ، شخصیت ، ہدایت ، استقا مت ، اطمینان ، سچائی اور نور سب چیزوں سے محروم ہوچکے ہیں ۔
اللہ کی ذات پر ایمان لا نا بھی ایک عمل اور کمائی ہے ۔ یہ بذات خود اچھی کمائی ہے ۔ اس پر اللہ اپنے فضل وکرم سے…
Read the full tafseer →9 یہ اللہ تعالیٰ کہے گا، یا وہ عذاب ہی بولے گا جیسے زکوٰۃ نہ دینے والے کا مال۔ حدیث میں آیا ہے کہ سانپ ہو کر گلے میں پڑے گا، گلے چیرے گا اور کہے گا میں تیرا مال ہوں تیرا خزانہ ہوں۔
Read the full tafseer →وَیَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ”
اب اگلی آیت میں خطاب کا رخ پھر اہل ایمان کی طرف پھیرا جا رہا ہے اور راہ حق کے مجاہدین کو تیسری ہدایت دی جارہی ہے۔ پہلی ہدایت آیت 45 میں جبکہ دوسری 46 میں دی جا چکی ہے۔
Read the full tafseer →87 یَقُوْلُ کا ایک معنی تو وہی ہے جو ترجمہ میں مذکور ہے اور دوسرا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جہنم کا عذاب خود انھیں یہ بات کہے گا۔ چناچہ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جس شخص کو اللہ مال دے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اس کا مال ایک گنجے شانپ کی شکل بن کر، جن کی آنکھوں پر دو کالے داغ ہوں گے۔ اس کے گلے کا طوق بن جائے گا پھر اس کی دونوں باچھیں پکڑ کر کہے گا : میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔ (بخاری۔ کتاب الزکوۃ باب اثم بانع الزکوٰ ۃ)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
72۔ (خواہ یہاں یا جہاں کہیں بھی، توحیدی عبادت ممکن ہے) یہ ترغیب ہے ہجرت یعنی اقامت دین کی خاطر ترک وطن کی، علماء نے اس سے یہ نکالا ہے کہ جہاں کفر وفسق کی شدت ہو اور خدا پرستی کا موقع نہ مل سکے، وہاں سے بندۂ مومن چلا جائے۔ (آیت) ” ان ارضی واسعۃ “۔ میں اشارہ ہے کہ اللہ کی نعمتیں کھانے پینے، رہنے سہنے سے متعلق کسی ایک خطہ یا علاقہ تک محدود نہیں۔ یہ تو وطن کے باہر بھی سب کہیں مل سکتی کہیں ان کی طرف سے اتنا فکر مند کیوں ہوتے ہو۔ یہ مضمون زیادہ کھول کر پہلے ہی بیان ہوچکا ہے۔ یجد فی الارض مراغما کثیرا (سورۃ النساء)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–63
آیت نمبر 52 تا 63
ترجمہ : آپ کہہ دیجئے کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان میری سچائی پر گواہ کافی ہے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسے سب باتوں کی خبر ہے اور انہیں میں میرا اور تمہارا حال بھی ہے اور جو لوگ باطل پر اور وہ اللہ کے علاوہ وہ چیزیں ہیں جن کی پوجا پاٹ کی جاتی ہے یقین رکھتے ہیں اور تم میں سے اللہ کے منکر ہیں یہی لوگ ہیں جو اپنے سودے میں نقصان اٹھانے والے ہیں اس طور پر کہ انہوں نے ایمان کے بدلے کفر اختیار کرلیا ہے اور یہ لوگ آپ سے عذاب کے بارے میں جلدی کرتے ہیں اور اگر عذاب کی مدت متعین نہ ہوتی تو ان پر فوری عذاب آچکا ہوتا اور ان پر وہ عذاب دفعۃً آپہنچے گا اور ان کو اس کے آنے کی خبر بھی…
Read the full tafseer →یوم یغشٰھم العذاب من فوقھم ومن تحت ارجلھم جس روز کہ عذاب اوپر سے اور ان کے قدموں
کے نیچے سے ان کو گھیر لے گا یعنی ہر طرف سے احاطہ کرلے گا۔
ویقول . اور (ا اللہ یا اللہ کے حکم سے کوئی فرشتہ) کہے گا۔
ذوقوا ما کنتم تعلمون . جو کچھ تم کرتے تھے اس (سزا) کا مزہ چکھو۔
Read the full tafseer →اور جس دن جہنم کا عذاب ان کو اوپر سے اور ان کے نیچے سے جبکہ یہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے گھیر لے گا اور اس وقت ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جو کچھ تم کفریہ اعمال و اقوال کر رہے تھے اس کا مزہ چکھو۔
Read the full tafseer →يَوْمَ يَغْشٰـىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ : یہ جہنم کے گھیرنے کی تفصیل ہے کہ عذاب کافروں کو ان کے اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے یعنی ہر طرف سے گھیر لے گا، جیسا کہ فرمایا : (لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ ۭوَكَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ) [ الأعراف : 41 ] ”ان کے لیے جہنم ہی کا بچھونا اور ان کے اوپر کے لحاف ہوں گے۔“ اور فرمایا : (لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَــلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَــلٌ) [ الزمر : 16 ] ”ان کے لیے ان کے اوپر سے آگ کے سائبان ہوں گے اور ان کے نیچے سے بھی سائبان ہوں گے۔“ اور فرمایا : (لَوْ يَعْلَمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا حِيْنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
جب اللہ تعالیٰ نے انہیں عذاب سے ڈرایا تو انہوں نے انکار کی زیادتی کے طور پر کہا : وہ عذاب ہم پر جلدی لے آئیے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ بات کہنے والا نضر بن حارث اور ابو جہل تھا۔ دونوں نے کہا : (الانفال 32) اور ان کا یہ کہنا (ص)
اللہ کا فرمان : اگر عذاب کے نازل ہونے میں معین وقت نہ ہوتا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد ہے جو میں نے تم سے وعدہ کیا کہ میں تیری قوم کو عذاب نہ دوں گا اور قیامت تک انہیں مہلت دوں گا۔ اس کی وضاحت اس ارشاد میں ہے (القمر 46) ضحاک نے کہا : یہ دنیا میں ان کی عمروں کی مدت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اجل مسمی سے مراد نفخہ اولیٰ ہے : یہ یحییٰ بن سلام کا قول ہے (1) ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
1۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے آیت ویستعجلونک بالعذاب کے بارے میں فرمایا کہ اس امت کے کچھ جاہل لوگوں نے یہ کہا تھا اللہم ان کان ہذا ہوا لحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء اوائتنا بعذاب الیم (الانفال اے اللہ اگر یہ دین حق ہے آپ کی طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پترھ برسا ئیے یا ہمارے پاس دردناک عذاب لے آئیے )
2۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولیاتینہم بغتتۃ وہم لایشعرون اور ان پر عذاب اچانک آئے گا اور ان کو پتہ بھ نہ ہوگا اور یہ بدر کا دن ہوا۔
3۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وان جہنم لمحیطۃ بالکفرین سے مراد ہے کہ جہنم میں بحر اخضر ہے جس میں ستارے گرتے ہیں…
Read the full tafseer →يَوْمَ [جس دن ] يَغْشٰـىهُمُ [چھائے گا ان پر ] الْعَذَابُ [عذاب ] مِنْ فَوْقِهِمْ [ان کے اوپر سے ] وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ [اور ان کے پیروں کے نیچے سے ] وَيَقُوْلُ [اور (اللہ تعالیٰ ) کہے گا ] ذُوْقُوْا [تم لوگ چکھو ] مَا [اس کو جو ] كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ [تم لوگ کیا کرتے تھے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
ہجرت کی اہمیت اور ضرورت
معالم التنزیل (جلد 3 ص 472) میں علامہ بغوی ؓ نے لکھا ہے کہ آیت (یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا) (الآیۃ) ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے مکہ معظمہ میں رہتے ہوئے اسلام قبول کرلیا تھا وہاں کے مقامی حالات کی وجہ سے (جو کافروں کی طرف سے دکھ تکلیف کی صورت میں پیش آتے رہتے تھے) اپنا ایمان ظاہر کرنے سے قاصر تھے، اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ میری زمین وسیع ہے فراخ ہے یہاں سے ہجرت کر جاؤ، دشمنوں کے خوف کی وجہ سے میری عبادت نہیں کرسکتے ہو تو اس شہر کو چھوڑ دو اور میری عبادت میں لگو۔ اس وقت مدینہ منورہ دارالہجرۃ تھا، رسول اللہ ﷺ اور بہت سے صحابہ مدینہ منورہ پہنچ گئے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–55
اثبات رسالت محمدیہ وازالہ شکوک و شبہات منکرین نبوت
قال اللہ تعالیٰ اتل ما اوحی الیک من الکتب واقم الصلوٰہ۔۔۔ الی۔۔۔ ذوقوا ما کنتم تعملون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں توحید کا ذکر تھا اور اس بات کا ذکر تھا کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) نے لوگوں کو توحید کی دعوت دی اور شرک سے منع کیا بالآخر وہ منکرین ہلاک ہوئے اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کی رسالت کا مضمون ذکر کرتے ہیں اور منکرین رسالت کے بعض شبہات کا جواب دیتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ ان کے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کیجئے جو توحید کے مضامین پر اور گذشتہ امتوں کے حال اور مال پر مشتمل ہے اور آپ ﷺ کی رسالت کا عظیم معجزہ ہے عجب نہیں کہ آیات خداوندی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
47:۔ یہ پہلے دعوے سے متعلق ہے۔ ابتداء سورت میں کہا گیا توحید کی خاطر مصائب و مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا اور ان منافقین کی طرح نہ ہونا جو معمولی تکلیف پر توحید کا نام لینا بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ اب یہاں فرمایا اگر مشرکین اس قدر ایذائیں دیں کہ وطن میں رہنا مشکل ہوجائے تو میری زمین فراخ ہے وطن سے ہجرت کر کے کسی دوسری جگہ چلے جاؤ جہاں ت میری خالص عبادت بجا لا سکو۔ کل نفس الخ۔ یہ دنیا چند روزہ ہے آخر ہر ایک کو موت آئے گی اور تم سب میرے پاس آؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–59
ربطہ آیات
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب اور مشرکین کا شکوہ کیا تھا جو ایمان لانے کی بجائے طرح طرح کی نشانیاں طلب کرتے تھے۔ اللہ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ آپ صاف صاف کہہ دیں کہ میرا کام تو کھول کر ڈر سنانا ہے۔ نشانیاں پیش کرنا میرے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے وہ جب چاہے کوئی نشانی ظاہر کردیتا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ اس سے بڑی نشانی اور معجزہ کیا ہوگا کہ ایک امی آدمی ایسی عظیم الشان کتاب پڑھ کر سناتا ہے جس نے نہ کوئی کتاب پڑھی ہے اور نہ لکھنا سیکھا ہے۔ یہ کتاب ایسے علوم و معارف پر مشتمل ہے جس کا کوئی انسان احاطہ نہیں کرسکتا۔
رسالت پر شہادت خداوندی
اللہ نے…
Read the full tafseer →يَوْمَ يَغْشٰـىہُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِہِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِہِمْ وَيَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 55
غشي
غَشِيَهُ غِشَاوَةً وغِشَاءً : أتاه إتيان ما قد غَشِيَهُ ، أي : ستره . والْغِشَاوَةُ : ما يغطّى به الشیء، قال : وَجَعَلَ عَلى بَصَرِهِ غِشاوَةً [ الجاثية/ 23]
( غ ش و ) غشیۃ غشاوۃ وغشاء
اس کے پاس اس چیز کی طرح آیا جو اسے چھپائے غشاوۃ ( اسم ) پر دہ جس سے کوئی چیز ڈھانپ دی جائے قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلَ عَلى بَصَرِهِ غِشاوَةً [ الجاثية/ 23] اور اس کی آنکھوں پر پر دہ ڈال دیا ۔
فوق
فَوْقُ يستعمل في المکان، والزمان، والجسم، والعدد، والمنزلة،
وذلک أضرب :
الأول : باعتبار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
ترکیب : انا انزلنا جملہ یکفہم کا فاعل یتلی علیہم کتاب کی صفت کفی کا فاعل اللہ اور ب زائد ہے شہیدا مفعول لہ کفی سے باتمیز اور ممکن ہے کہ حال بھی ہوجائے یوم یغشہم ظرف ہے اس کا عامل محیط ای سیحیط بھم یوم کذا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
یَسْتَعْجِلُوْنَکَ بِالْعَذَابِ ط وَاِنَّ جَھَنَّمَ لَمُحِیْطَۃٌ م بِالْـکٰفِرِیْنَ ۔ یَوْمَ یَغْشٰھُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِھِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِہِمْ وَیَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔
(العنکبوت : 54، 55)
(یہ آپ سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ جہنم ان کافروں کو گھیرے میں لے چکی ہے۔ جس دن عذاب ان کے اوپر سے اور ان کے پائوں کے نیچے سے ان کو ڈھانپ لے گا اور ارشاد ہوگا کہ اب چکھو، سزا ان کرتوتوں کی جو تم کرتے تھے۔ )
قریش کی بےبصیرتی پر تعجب کا اظہار
یہاں قریش کے مطالبہ عذاب کا ذکر دوبارہ کیا گیا ہے، بظاہر یہ تکرار معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت میں یہ اعادہ اظہارِتعجب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
فہم القرآن
ربط کلام : نبی معظم ﷺ سے دیگر معجزات مانگنے کے ساتھ کفار یہ بھی مطالبہ کرتے تھے کہ جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے اور دھمکاتے رہتے ہو وہ آتا کیوں نہیں ؟
جواباً فرمایا گیا ہے کہ آپ ﷺ سے عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں لیکن انہیں بتلائیں کہ عذاب کا ایک وقت مقرر ہے۔ وہ کسی کے جلدی کرنے سے اپنے وقت سے پہلے نازل نہیں ہوتا۔ البتہ جب نازل ہوتا ہے تو اس قدر اچانک نازل ہوتا ہے کہ کوئی بھاگنا چاہے تو بھاگ نہ سکے اور کوئی بچنا چاہے تو اس سے بچ نہیں سکتا۔
جس عذاب کا یہ لوگ بار بار مطالبہ کرتے ہیں۔ انہیں بتلائیں کہ ” اللہ “ چاہے گا تو وہ تمہیں دنیا میں ہی…
Read the full tafseer →55: یَوْمَ یَغْشٰہُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِہِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِہِمْ (جس دن ان کو عذاب اوپر سے اور ان کے قدموں کے نیچے سے ڈھانپ لے گا) ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا ہے من فوقہم ظلل من النار ومن تحتہم ظلل۔] الزمر۔ 16[
(ان کے اوپر آگ کے سائبان اور ان کے نیچے بھی سائبان ہوں گے) ۔
قراءت : الکافرین پر وقف نہیں ہے۔ کیونکہ یوم احاطۃ النار کا ظرف ہے۔ اور یقول یاء کے ساتھ ہے۔ کوفی اور نافع نے اس طرح پڑھا ہے۔ ذُوْقُوْا مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (تم چکھو جو کچھ تم عمل کرتے تھے) یعنی اپنے اعمال کی جزاء۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
55۔ یوم یغشاھم ، ،، جب انکو عذاب پہنچ جائے گا، العذاب من فوقھم ومن تحت ارجلھم، یعنی جب ان کو عذاب جہنم ڈھانپ لے گا، جیسا کہ اللہ رب العزت نے ان کے لیے فرمایا ۔ لھم من جھنم مھاد ومن فوقھم غواش، ویقول ذوقوا، نافع اور اہل کوفہ نے ، ویقول ، یاء کے ساتھ پڑھا ہے جہنم کا داروغہ ان سے کہے گا چکھوا جہنم کا عذاب اور دوسرے قراء نے ، نقول ، کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ جب بھی وہ کسی کام کا حکم کرتے ہیں تو اس کو اپنی طرف منسوب کردیتے ہیں ، ماکنتم تعملون، بدلہ ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔
آیت کا شان نزول۔
مقاتل اور کلبی نے کہا اس آیت کا نزول ان کمزور مسلمانوں کے حق میں ہوا جو کمزوری کی وجہ سے مکہ میں رہ گئے تھے مطلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–59
50 تا 59۔ مشرکین مکہ کہتے ہیں کہ اگر یہ سچے رسول ہیں تو کچھ نشانیاں کیوں نہیں دکھاتے اللہ فرماتا ہے تو کہہ دے نشانیاں اللہ کے اختیار میں ہیں اگر اللہ جانتا نشانیاں دیکھ کر تم راہ پر آجاؤ گے تو وہ تم کو نشانیاں بھی دکھا دیتا اس پر کچھ مشکل نہ تھا مگر وہ جانتا ہے کہ تمہارا ارادہ مسخرا پن کا ہے اس لیے وہ تم کو نہیں دکھاتا اور میں تو فقط ڈرانے والا ہوں پھر اللہ تعالیٰ مشرکوں کی وہ جہالت بیان کرتا ہے جس کے سبب سے وہ جو پیغمبر صلعم کی سچائی پر نشانیاں مانگتے تھے حالانکہ قرآن شریف ایسا بڑا معجزہ ہے کہ جس کے مقابلہ سے بڑے بڑے فصیح بلیغ عاجز آگئے اس کا مانند دس سورت کیا بلکہ ایک سورت بھی نہ بناسکے پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
آیت نمبر : 55-54-53
اللہ تبارک و تعالیٰ رسول ﷺ اور قرآن کی تکذیب کرنے والے جہلا کی جہالت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے ‘ نیز یہ کہ وہ عذاب کے لیے جلدی مچاتے اور تکذیب میں اضافہ کرتے ہوئے کہتے ہیں : (متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین) (الملک : 76/52) ” یہ وعدہ کب ہے اگر تم سچے ہو۔ “ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (ولولا اجل مسمی) اگر اس عذاب کے لیے ایک مدت مقرر نہ کردی گئی ہوتی (لجآء ھم العذاب) ” تو ان پر عذاب آچکا ہوتا۔ “ یعنی ان پر ہمیں عاجز اور بےبس سمجھنے اور حق کی تکذیب کرنے کی بنا پر عذاب نازل ہوجاتا۔ اگر ہم ان کو ان کی جہالت کی بنا پر پکڑتے تو ان کی باتیں انہیں فوراً عذاب میں مبتلا کرنے کا باعث بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–69
قول باری ہے : (ولا تجادلوا اھل الکتاب الا بالتیھی احسن۔ اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقے سے) قتادہ کا قول ہے کہ یہ آیت قول باری (وقاتلوا المشرکین اور مشرکین سے قتال کرو) کی بنا پر منسوخ ہوچکی ہے۔ کوئی بحث تلوار کے استعمال سے بڑھ کر نہیں ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قتادہ کی مراد یہ ہے کہ آیت، زیر بحث کا حکم قتال کے حکم سے پہلے کا ہے۔
قول باری ہے : (الا الذین ظلموا منھم ۔ سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں) ۔ یعنی۔ واللہ اعلم۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے بحث وجدال وغیرہ میں تمہارے ساتھ ظلم کیا ہو جو اس امر کا مقتضی ہو کہ تم ان کے ساتھ سخت رویہ رکھو۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–69
58 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اس کے احاطہ علم کے اعتبار سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ پوری طرح جانتا ہے ان سب چیزوں کو جن کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں اللہ کے سوا "۔ تعمیم ملاحظہ ہو کہ اول تو { شیئ } خود نکرہ ہے جو ہر چیز کو شامل ہے۔ پھر اس پر { من } استغراقیہ سے مزید تاکید۔ یعنی کوئی بھی چیز خواہ کوئی فرشتہ ہو یا انسان، شجر ہو یا حجر، بت ہو یا جن وغیرہ وغیرہ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ مافوق الاسباب کسی کو بھی پکارنا شرک ہے جو کہ سب سے بڑا گناہ اور ناقابل معافی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اب وہ لوگ دیکھ لیں جو اس وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر اس کی عاجز مخلوق کو پکارتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے " یا رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–55
کفار کے لیے عذاب کی خبر
تشریح : جیسا کہ پہلے قرآن کے آسمانی کتاب ہونے کے ثبوت دیے جا چکے ہیں تو ایک ثبوت اور دیا جا رہا ہے کہ نبوت سے پہلے چالیس سال آپ نے اہل مکہ کے ساتھ گزارے تھے۔ سب آپ کو اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ بڑے ایماندار تاجر ہیں انتہائی نیک فطرت ‘ نرم مزاج ‘ بےحد ذہین مگر آپ پڑھے لکھے نہ تھے لوگ جانتے تھے کہ آج تک نہ انہوں نے کوئی کتاب پڑھی ہے نہ کبھی کچھ لکھا ہے۔ تو پھر یکدم وہ اس قدر حکمت سے بھری باتیں، گزشتہ تاریخی واقعات اور مستقبل کے حالات، حقیقت پر مبنی باتیں، آسمانوں زمین کے پھیلائو، ملکی انتظامات ‘ عسکری (فوجی) مہارت کے اصول و ضوابط ‘ جنگی چالیں اور سب سے بڑھ کر انسانی زندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–63
آیات 52 تا 63
اسرارومعارف
آپ ان سے کہ دیجیے کہ اس قدر دلائل کے بعد بھی اگر تم شبہات میں گرفتار ہو تو پھر میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے جو زمین و آسمان کے سب رازوں سے اقف ہے مومن و کافر کے دلوں کو جانتا ہے۔ اور یہ ظاہر ہوجائے گا جو لوگ باطل پر ہیں اور اللہ کے ارشادات کا انکار کرتے ہیں انجام کار وہی نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔ یہ عذاب مانگنے میں بڑی جلدی دکھاتے ہیں۔ اگر سب معاملات کے اوقات اللہ کریم نے طے نہ فرما دیے ہوتے تو انہیں مانگنے پہ بھی عذاب مل جاتا۔ بحر حال اللہ کی گرفت انہیں اچانک پکڑے گی جبکہ یہ سمجھ ہی نہ پائیں گے کہ سب کچھ کیسے ہوگیا دنیا میں بھی شکست کھا کر پھر موت کے منہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
4 ۔ اکثر مفسرین کے نزدیک یہ آیت ان کمزور مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی جو مکہ سے ہجرت نہیں کرسکے تھے اور کفار نہیں ستا رہے تھے۔ (روح) اس میں ہجرت کی ترغیب ہے۔ یعنی اگر مکہ کی سرزمین میں جہاں تم اب ہو، میری بندگی بجالانا مشکل ہو رہا ہے تو میری زمین تنگ نہیں ہے۔ تم اپنے وطن چھوڑ کر کسی ایسی جگہ چلے جائو جہاں تم آزادی سے میری بندگی کرسکو۔ زجاج (رح) کہتے ہیں کہ یہ حکم عام ہے یعنی اگر کوئی شخص کسی ایسی جگہ رہتا ہو جہاں برائیوں کا دور دورہ ہو اور اس کے لئے حالات کا بدل ڈالنا ممکن نہ ہو، تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اس جگہ سے ہجرت کر کے کسی ایسی جگہ چلا جائے جہاں وہ آزادی سے خدا کی بندگی کرسکتا ہو۔…
Read the full tafseer →(29:55) یوم یغشھم العذاب من فوقھم ومن تحت ارجلہم یوم یغشھم۔ ظرف ہے اور اس کا عامل (بابت نصب) محیطۃ ہے ۔ ای سیحیط بھم یوم ۔۔ جس دن عذاب ان کو گھیرے گا۔ ان کے اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے (یعنی ہر طرف سے اور یہ وضاحت ہے یغشھم کی) ۔
ویقول : ای ویقول اللہ لہم۔
وذقوا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر۔ ذاق یذوق ذوقا (نصر) تم چکھو، ذائقہ۔ قوت ذائقہ۔ چکھنے والی۔ کل نفس ذائقۃ الموت ہر نفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے۔ ہر نفس موت کو چکھنے والا ہے۔
ذوقوا ما کنتم تعملون ۔ : ای ذوقوا جزاء ما کنتم تعملون اپنی کرتوتوں کی جزا چکھو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–55
لغات القرآن آیت نمبر (48 تا 55) ۔
لا تخط (نہیں لکھتا ہے) ۔ یمین (داہنا ہاتھ) ۔ ارتاب (شک کیا) ۔ المبطلون (ناحق چلنے والے) ۔ لم یکف (کافی نہیں ہے) ۔ یستعجلون (وہ جلدی کرتے ہیں) ۔ مسمی (مقرر۔ متعین) ۔ بغتتہ (اچانک) ۔
تشریح : آیت نمبر (48 تا 55) ۔ ” اللہ تعالیٰ کا نظام یہ ہے کہ اس نے انسانوں کو پیدا کر کے ان کی رہنمائی کے اسباب بھی مہیا کئے ہیں چناچہ ہر دور میں اللہ نے اپنے رسولوں کو بھیجا اور ان کو وہ کتاب ہدایت بھی دی جس میں دنیا میں زندگی گذار کر آخرت کی کامیابیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ جب نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا تو اس وقت تو ریت، زبور اور انجیل کتابیں موجود تھیں جس میں انسانی ہاتھوں
نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
(ف 1) تم کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے جو سب کچھ جانتا ہے اگر میں جھوٹ کہتا ہوں تو وہ مجھ سے بدلہ لے گا لیکن وہ تو دن بدن اسلام کو ترقی دے رہا ہے جس سے اسلام کا حق ہونا صاف ظاہر ہے اب اللہ تعالیٰ مشرکوں کی دوسری جہالت بیان کرتا ہے کہ وہ خدا کا عذاب جلد طلب کرتے ہیں ان سے کہہ دیاجائے گا کہ اگر عذاب کے لیے وقت مقرر نہ ہوچکا ہوتا تو بہت جلد ان پر عذاب آچکا ہوتا، اور وہ عذاب ان پر یکایک بیخبر ی میں آجائے گا۔ اور دوزخ ان کی تاک میں ہے قیامت کے دن جب ان کو دوزخ کی آگ میں جھونکا جائے گا تو اس وقت اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ اب عذاب کی جلدی کرنے اور اپنی بداعمالی کا مزہ چکھو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
[26] یہ اشارہ ہے ہجرت کی طرف۔ یعنی اگر یہ مکہ کے کافر تنگ کرتے ہیں تو اللہ کی زمین تنگ نہیں۔ دوسری جگہ ہجرت کر جاؤ جہاں تم اللہ کے بندے بن کر رہ سکو۔ اس سے معلوم ہوا کہ اصل چیز قوم، ملک اور وطن نہیں بلکہ اللہ کی بندگی ہے۔ یہ آیت اس باب میں صریح ہے کہ ایک توحید پرست انسان محب وطن تو ہوسکتا ہے مگر وطن پرست نہیں ہوسکتا۔ وہ اللہ کی بندگی پر دنیا کی ہر چیز کو قربان کر دے گا مگر اللہ کی بندگی کو کسی چیز پر قربان نہیں کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
حل لغات : بغتۃ ۔ خلاف توقع ۔ ناگہاں
Read the full tafseer →55۔ جس دن ان کے اوپر سے اور ان کے پائوں کے نیچے سے ان کو عذاب لپیٹ لے گا اور ڈھانک لے گا اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے اس کا مز ہ چکھو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی آخت کا عذاب تو عبث مانگتے ہیں اس عذاب میں تو پڑے ہی ہیں وہ کفر اور برے کام مرے پر نظر آئے گا کہ دوزخ کی آگ کیونکر جلاتی ہے۔ 12
یعنی عذاب دنیا میں بھی آئے گا اور آخرت کا عذاب تو ظاہرہی ہے کہ قیامت بھی اچانک ہی آئے گی گو اس کی علامت ظاہر ہوجائیں گی اور برزخ سے اٹھنا بھی اچانک ہوگا اور جہنم کے عذاب کا گھیرنا اور لپیٹنا بھی ہوکر رہے گا اس وقت ارشاد ہوگا جو اعمال کیا کرتے تھے اس کا اب مزہ چکھو۔
العیاذ باللہ یہ…
Read the full tafseer →ف 2۔ پس وہ عذاب عذاب جہنم ہے اور وہ میعاد یوم قیامت ہے۔
Read the full tafseer →وہ دن آنے ہی والا ہے کہ ان کو اوپر اور نیچے سے وہ ڈھانپ لے گا :
55۔ وہ دوزخ جو تمہارے لئے سلگائی گئی ہے وہ کہیں دور نہیں ہے وہ تو تمہارے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہے اور ذرا غور کرو کہ تمہارے اعمال تم سے کتنے دور ہیں ؟ بس تمہارے عمل کا دروازہ بند ہونے کی دیر ہے کہ تمہارے اوپر بھی آگ ہی آگ ہوگی اور تمہارے نیچے بھی آگ ہی آگ ہوگی اور اسی وقت تمہاری سرکشی کا تم کو پتہ چل جائے گا اور تمہارے سر کا بھوت اترنے میں ذرا دیر نہیں لگے گی اور تمہاری یہ ساری سرکشی ہرن ہوجائے گی :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–56
Commentary
From the very beginning of this Surah until now the enmity of the infidels toward Muslims, their rejection of the Oneness of God and prophethood of the Holy Prophet ﷺ ، and putting hurdles in the way of truth and believers were described. In the above verses a way out of this entanglement is suggested in order to come out of the turmoil and spread and propagate the truth, and establish justice - the common name for this action is hijrah (migration).It means to leave the hometown and land where one is forced to speak and act against the truth.
Command in connection with hijrah and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
94 This is an allusion to the Hijrah, which implies this: if you feel that it is becoming difficult to worship God in Makkah, you may leave it and move to another place where you can live as the we servants of God, for God's earth is vast. You should serve Allah and not your nation and country." This shows that the real thing is not the nation and the home and the country but the worship of Allah If at some time the demands of the nation and country's love clash with the demands of Allah's worship, it is the time of trial for the believer's faith. The true believer will worship Allah and…
Read the full tafseer →