Explained with ayahs 61–63
توحید ربویت توحید الوہیت
اللہ تعالیٰ ثابت کرتا ہے کہ معبود برحق صرف وہی ہے۔ خود مشرکین بھی اس بات کے قائل ہیں کہ آسمان و زمین کا پیدا کرنے والا سورج کو مسخر کرنے والا دن رات کو پے درپے لانے والا خالق رازق موت وحیات پر قادر صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ غنا کے لائق کون ہے اور فقر کے لائق کون ہے ؟ اپنے بندوں کی مصلحتیں اس کو پوری طرح معلوم ہیں۔ پس جبکہ مشرکین خود مانتے ہیں کہ تمام چیزوں کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے سب پر قابض صرف وہی ہے پھر اس کے سوا دوسروں کی عبادت کیوں کرتے ہیں ؟ اور اس کے سوا دوسروں پر توکل کیوں کرتے ہیں ؟ جبکہ ملک کا مالک وہ تنہا ہے تو عبادتوں کے لائق بھی وہ اکیلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
سورة العنکبوت 100
یہاں سے پھر کلام کا رخ کفار مکہ کی طرف مڑتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
اس کے بعد کی آیات میں رزق کا اصلی ذریعہ بتلایا ہے جو حق تعالیٰ کی عطاء ہے اور فرمایا ہے کہ خود ان منکروں کافروں سے سوال کرو کہ آسمان زمین کس نے پیدا کئے ؟ اور شمس و قمر کس کے تابع فرمان چل رہے ہیں ؟ بارش کون برساتا ہے ؟ پھر اس بارش کے ذریعہ زمین سے نباتات کون اگاتا ہے ؟ تو مشرکین بھی اس کا اقرار کریں گے کہ یہ سب کام ایک ذات حق تعالیٰ ہی کا ہے۔ تو ان سے کہئے کہ پھر تم اللہ کے سوا دوسروں کی پوجا پاٹ اور ان کو اپنا کار ساز کیسے سمجھتے ہو۔ اگلی آیات وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ سے آخر رکوع تک اسی کا بیان ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ہجرت سے روکنے والی دوسری فکر معاش کی ہے، وہ…
Read the full tafseer →ولئن سالتھم من خلق السموات والارض وسخر الشمس والقمر لیقولن اللہ ج فانی یوفکون (61)
اوپر کی آیات میں خدا ہی پر بھروسہ کرنے اور اس کی راہ میں جینے اور مرنے کو جو تعلیم دی گئی ہے، اس آیت میں اور آگے کی آیات میں اسی کے دلائل بیان ہو رہے ہیں کہ خدا کے سوا کوئی اور حقدار نہیں ہے کہ اس کی بندگی کی جائے اور اس پر بھروسہ کیا جائے۔ یہ حقیقت ایسی مسلم ہے کہ اس سے ان لوگوں کو بھی مجالِ انکار نہیں ہے جو خدا کے بہت سے شریک وسہیم بنائے بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کی پوجا کر رہے ہیں۔ اگر ان سے بھی پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کا خالق، سورج اور چاند کا مسخر کرنے والا کون ہے تو وہ بھی اس کا یہی جواب دیں گے کہ اللہ۔ اس…
Read the full tafseer →61-1یعنی یہ مشرکین، جو مسلمان کو محض توحید کی وجہ سے ایذائیں پہنچا رہے ہیں، ان سے اگر پوچھا جائے کہ آسمان و زمین کو عدم وجود میں لانے والا اور سورج اور چاند کو اپنے اپنے مدار پر چلانے والا کون ہے ؟ تو وہاں یہ اعتراف کئے بغیر انھیں چارہ نہیں ہوتا کہ یہ سب کچھ کرنے والا اللہ ہے
61-2 یعنی دلائل اور و اعتراف کے باوجود حق سے انکار اور گریز باعث تعجب ہے۔
Read the full tafseer →33: یعنی اس حقیقت کا اعتراف کرنے کا منطقی تقاضا یہ تھا کہ وہ اسی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے، کسی اور کی نہیں، لیکن اس کے بعد انہیں کیا ہوجاتا ہے کہ اس منطقی تقاضے پر عمل کرنے کے بجائے شرک شروع کردیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
ولئن سالتھم من خلق السموت والارض ۔۔۔۔۔۔۔۔ جھنم مثوی للکفرین (61 – 67)
اور یہ دنیا کی زندگی کچھ نہیں ہے مگر ایک کھیل اور دل کا بہلاوا۔ اصل زندگی کا گھر تو دار آخرت ہے ، کاش یہ لوگ جانتے۔ جب یہ لوگ کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے اس سے دعا مانگتے ہیں ، پھر جب وہ انہیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو یکایک یہ شرک کرنے لگتے ہیں تاکہ اللہ کی دی ہوئی نجات پر ان کا کفران نعمت کریں۔ اور (حیات دنیا کے) مزے لوٹیں ۔ اچھا ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا۔ کیا یہ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے ایک پر امن حرم بنا دیا ہے حالانکہ ان کے گردو پیش لوگ اچک لیے جاتے ہیں ؟ کیا پھر بھی یہ لوگ باطل کو…
Read the full tafseer →3 یعنی رزق کے تمام اسباب (سماویہ و ارضیہ) اسی نے پیدا کئے سب جانتے ہیں، پھر اس پر بھروسہ نہیں کرتے کہ وہ ہی پہنچا بھی دے گا۔ مگر جتنا وہ چاہے نہ جتنا تم چاہو۔ یہ اگلی آیت میں سمجھا دیا ہے (موضح) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِط بَلْ اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ ”
اب اگلی آیت میں اہل ایمان کے لیے ایک اور ہدایت آرہی ہے :
Read the full tafseer →93 یہ خطاب صرف مہاجرین کو ہی نہیں بلکہ اس خطاب میں سب مشترک ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ زمین و آسمان اور سورج اور چاند، سب کو پیدا کرنے والا اور انھیں اپنے اپنے کام پر لگانے والا اللہ ہے۔ اور انسان کی تمام ضروریات زندگی اسی نظام سے وابستہ ہیں۔ انھیں ضروریات میں سے ایک ضرورت کھانے پینے کی اور ذریعہ معاش کی ضرورت ہے۔ تو مسلمان جہاں بھی ہجرت کرکے جائیں گے۔ یہ سارا نظام وہاں بھی موجود ہوگا اور اللہ تمہیں وہاں بھی ایسے ہی روزی مہیا کرے گا جیسے یہاں کر رہا ہے لہذا اس پر توکل کرو۔
اور اس خطاب کا روئے سخن مشرکین مکہ کی طرف سمجھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تمہاری زندگی اور زندگی کا بقا کا سارا سامان تو…
Read the full tafseer →78۔ یعنی ترحید فی التکوین کے قائل ہو کر پھر معبودیت والوہیت میں بھی توحید پر کیوں نہیں قائم رہتے، اور اس باب میں کیسے بھٹکے جا رہے ہو کہ آکاش دیوتا دھرتی مائی اور سورج دیوتا کے بھی قائل ہو رہے ہو !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–63
آیت نمبر 52 تا 63
ترجمہ : آپ کہہ دیجئے کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان میری سچائی پر گواہ کافی ہے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسے سب باتوں کی خبر ہے اور انہیں میں میرا اور تمہارا حال بھی ہے اور جو لوگ باطل پر اور وہ اللہ کے علاوہ وہ چیزیں ہیں جن کی پوجا پاٹ کی جاتی ہے یقین رکھتے ہیں اور تم میں سے اللہ کے منکر ہیں یہی لوگ ہیں جو اپنے سودے میں نقصان اٹھانے والے ہیں اس طور پر کہ انہوں نے ایمان کے بدلے کفر اختیار کرلیا ہے اور یہ لوگ آپ سے عذاب کے بارے میں جلدی کرتے ہیں اور اگر عذاب کی مدت متعین نہ ہوتی تو ان پر فوری عذاب آچکا ہوتا اور ان پر وہ عذاب دفعۃً آپہنچے گا اور ان کو اس کے آنے کی خبر بھی…
Read the full tafseer →ولئن سالتھم من خلق السمٰوٰت والارض وسخر الشمس والقمر لیقولن اللہ . اور اگر آپ
ان اہل مکہ سے دریافت کریں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا اور سورج اور چاند کو کس نے زبردستی کام پر لگایا تو وہ یقیناً کہیں گے کہ اللہ نے (ہی ایسا کیا ہے) یعنی وہ اقرار کریں گے کہ اللہ ہی نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور چاند اور سوج کو کام میں لگایا ہے کیونکہ ہر عقل سلیم کی طرف فطری شہادت ہے کہ سلسلۂ ممکنات (کا ابتدائی کنارا) واجب الوجود ہستی پر ختم ہوتا ہے (ممکن ہستی جس کا اپنا وجود اپنا نہیں ‘ دوسرے ممکن کو وجود نہیں عطا کرسکتی اس لئے ہر ممکن کی علت موجدہ وہی ہستی ہے جو واجب الوجود ہے۔ جانب مبدء میں…
Read the full tafseer →اگر آپ ان کفار مکہ سے دریافت کریں کہ بھلا وہ کون ہے جس نے آسمان و زمین پیدا کیے اور جس نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے تو کفار مکہ جواب میں یہی کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا کیا ہے اور اسی نے ان کو کام میں لگا رکھا ہے پھر کیوں اللہ تعالیٰ کی تکذیب کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ۔۔ : یہاں سے کلام کا رخ پھر اہل مکہ کی طرف ہوگیا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے معبود واحد ہونے کی دلیل کے طور پر مشرکین مکہ کے اس اعتراف کا ذکر ہے کہ کائنات کو پیدا کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ چناچہ فرمایا، اے رسول ! یا اے مخاطب ! اگر تو ان مشرکین سے پوچھے کہ وہ کون ہے جس نے یہ سب آسمان پیدا کیے اور یہ زمین پیدا کی ؟ اور وہ کون ہے جس نے تمہارے فائدے کے لیے سورج اور چاند کو مسخر کردیا ؟ تو یقیناً وہ کسی تردّد کے بغیر کہیں گے کہ وہ ”اللہ“ ہے۔ یہ ایک حیران کن حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا آج تک کسی نے یہ دعویٰ بھی نہیں کیا کہ میں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
جب مشرکوں نے مسلمانوں کو فقر کی عار دلائی اور کہا : اگر تم حق پر ہوتے تو تم فقراء نہ ہوتے یہ ملمع سازی تھی، کفار میں بھی فقراء تھے اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کو زائل فرمایا : اس طرح اس کا قول جس نے یہ کہا : اگر ہم ہجرت کریں تو ہم ایسی کوئی چیز نہ پائیں جس کو ہم خرچ کریں، یعنی جب تم نے اس چیز کا اعتراف کرلیا کہ اللہ تعالیٰ ان اشیاء کا خالق ہے تو تم رزق میں کیسے شک کرتے ہو جس کے قبضہ قدرت میں کائنات کی تخلیق ہے تو وہ بندے کو رزق دینے سے عاجز نہیں۔ اسی وجہ سے اپنے اس ارشاد کے ساتھ اس کو ملایا ہے :
تم کیسے میری توحید کا انکار کرو گے اور میری عبادت سے پھرو گے ؟ یعنی ایمان اور کفر کے ساتھ رزق کا امر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
رسول اللہ ﷺ کا فقر اختیاری تھا
1۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی وابن عساکر ضعیف سند کے ساتھ ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ آپ مدینہ منورہ کے بعض باغات میں داخل ہوئے آپ نے گری ہوئی کھجوریں اٹھانی شروع فرماءٰں اور کھانے لگے مجھ سے فرمایا اے ابن عمر تجھے کیا ہوا تو نہیں کھاتا میں نے عرض کیا یارسول اللہ مجھے خواہش نہیں آپ نے فرمایا لیکن مجھے خواہش ہے اور یہ چوتھی صبح ہے کہ میں نے کوئی کھانا نہیں چکھا اور نہ اس کو پایا اگر میں چاہتاتو میں اپنے رب سے دعا کرتا کہ مجھے بھی کسری اور قیصر جیسے خزانے عطا فرمائیے۔ اے ابن عمر ؓ تیرا کیا خیال ہوتا جب تو…
Read the full tafseer →وَلَىِٕنْ [اور بیشک اگر ] سَاَلْتَهُمْ [آپ ﷺ پوچھیں ان سے ] مَّنْ خَلَقَ [کس نے پیدا کیا ] السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ [آسمانوں اور زمین کو ] وَسَخَّــرَ [اور مسخر کیا ] الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ [سورج کو اور چاند کو ] لَيَقُوْلُنَّ [تو وہ لوگ لازما کہیں گے ] اللّٰهُ [اللہ نے ] فَاَنّٰى [تو کہاں سے ] يُؤْفَكُوْنَ : وہ سب پلٹائے جارہے ہیں ]
Read the full tafseer →توحید کے دلائل
جو لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں غیر اللہ کو بھی شریک کرتے تھے ان کے بارے میں فرمایا کہ اے نبی ﷺ اگر آپ ان لوگوں سے دریافت کریں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا اور چاند اور سورج کو کس نے مسخر کیا اور انہیں ایک طریقہ خاص پر کس نے کام میں لگایا تو یہ لوگ اس کا یہی جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ کیا ہے، جب اقرار بھی ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ نے ہی کیا ہے تو پھر کہاں الٹے پاؤں جا رہے ہیں، یعنی توحید کو چھوڑ کر شرک کو کیوں اختیار کررہے ہیں ؟ خالقیت میں جس طرح اللہ کا کوئی شریک نہیں اسی طرح صفت رزاقیت میں بھی کوئی شریک نہیں، وہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہے رزق وسیع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–63
ترغیب ہجرت وذکر بقائے عالم آخرت
وبیان حقارت دنیا وفناء وزوال او
قال اللہ تعالیٰ یعبادی الذین امنوا ان ارضی واسعۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وان اللہ لمع المحسنین۔
(ربط) جب کفار مکہ مسلمانوں کی ایذا رسانی پر تل گئے اور مسلمانوں کو احکام اسلام بجا لانا دشوارہو گیا تو حکم نازل ہوا کہ مسلمان مکہ سے ہجرت کر جائیں اور جہاں ارکان اسلام آزادی کے ساتھ ادا کرسکیں وہاں چلے جائیں کافروں کی زمین میں کافروں کے ساتھ رہنا درست نہیں چناچہ صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے اول حبشہ کی طرف ہجرت کی پھر بعد چندے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی زجاج (رح) کہتے کہ جس جگہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت نماز روزہ ممکن نہ ہو یا جس جگہ علی…
Read the full tafseer →50:۔ یہ دعوی توحید پر دوسری عقلی دلیل ہے علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ جب مشرکین خود تسلیم کرتے ہیں کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور یہ سارا نظام شمسی بھی اسی کے تصرف و اختیار میں ہے تو پھر کہاں ان کی عقلیں ماری گئیں کہ اللہ کے سوا اوروں کو کارساز سمجھ کر پکارتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
ربطہ آیات
اس سورة مبارکہ میں زیادہ تر ایمان کے ساتھ ابتلا کا ذکر ہے۔ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کی مثالیں بھی بیان فرمائیں کہ اس نے اپنے جلیل القدر بندوں کو کس طرح آزمائش میں ڈالا پھر کفرو شرک کا رد کیا ، نبوت و رسالت پر معترضین کے اعتراضات کے جوابات دئیے۔ پھر ابتلا ہی کے ضمن میں ہجرت کا مقام بیان فرمایا اور اہل ایمان کو حکم دیا کہ جب کفار اہل ایمان پر عرصہ حیات تنگ کردیں اور انہیں دینی شعائر بھی ادا نہ کرنے دیں تو موخر الذھر کا فرض ہوجاتا ہے کہ ایسی جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ ہجرت کر جائے کیونکہ اللہ کی زمین بڑی وسیع ہے۔ مسند احمد کی روایت میں حضرت زبیر بین العوامہ ؓ سے…
Read the full tafseer →وَلَىِٕنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَسَخَّــرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُوْلُنَّ اللہُ 0ۚ فَاَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ 61
سأل
السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ.
( س ء ل ) السؤال
( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–63
جبکہ کفار و مشرکین مکہ اور نیز اہل کتاب کا حال اور ان کے نامحمود طریقے کی برائی اور آخرت کا حال صاف صاف بیان ہوا تو شدہ شدہ کفار مکہ کو نہایت جوش و تعصب ہوا کہ دینداروں کو نہایت تکلیفیں دینی شروع کردیں جن کو مسلمان نہایت استقلال اور ثابت قدمی کے ساتھ برداشت کرتے رہے، مگر جب ادائِ ارکان دینی سے بھی سخت مانع آئے تو وطن چھوڑ کر باہر جانے کی اجازت ہی نہ دی بلکہ رغبت دلائی گئی، اس لیے یہ آیتیں نازل ہوئیں جن میں ہجرت کی ترغیب ہے، جس سے مسلمان ملک حبشہ اور مدینہ کی طرف ہجرت کرکے جانے لگے۔ فقال یعبادی الذین امنو کہ اے میرے ایماندار بندوں میری زمین فراخ اور کشادہ ہے، کس لیے یہاں پڑے ہو باہر جاؤ اور…
Read the full tafseer →وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَسَخَّرَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ ج فَاَنّٰی یُؤْفَـکُوْنَ ۔ (العنکبوت : 61)
(اور آپ ان سے پوچھیں کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے اور سورج اور چاند کو کس نے مسخر کر رکھا ہے تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے، تو وہ کہاں اوندھے ہوئے جاتے ہیں۔ )
گزشتہ ہدایات پر دلائل
گزشتہ آیات میں اس سرزمین سے ہجرت کی ترغیب دی گئی ہے جہاں اللہ تعالیٰ کی بندگی مشکل کردی جائے اور طاغوت کی بندگی پر مجبور کیا جائے۔ اور راستے کی مشکلات کے حوالے سے اللہ ہی پر بھروسا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اب انہی باتوں پر دلائل دیے جارہے ہیں۔ سب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
فہم القرآن
ربط کلام : اے ہجرت کرنے والو ! اگر تمہیں یقین نہیں آتا تو مشرکین سے پوچھ لو کہ رزق دینے والا کون ہے ؟ اس کے ساتھ ہی مشرکین سے مزید سوال۔
قرآن مجید لوگوں کو صرف دلائل کی بنیاد پر عقیدہ توحید اور حقائق تسلیم کرنے پر زور نہیں دیتا بلکہ وہ لوگوں کا ضمیر بیدار کرنے کے لیے ان سے استفسار کرتا ہے کہ زمین و آسمانوں کو کس نے پیدا کیا اور چاند و سورج کو کس نے تمہاری خدمت میں لگا رکھا ہے ؟ قرآن مجید مکہ میں نازل ہوا تھا اس لیے سب سے پہلے انہی سے سوال کیا گیا کہ اللہ کی ذات اور اس کی صفات میں دوسروں کو شریک بنانے والوں ! بتاؤ کہ زمین و آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے اور شمس و قمر کو تمہارے لیے کس…
Read the full tafseer →دلائل قدرت :
61: وَلَپنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ (اور اگر تم ان سے سوال کرو کہ کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ سورج اور چاند کو تمہارے کام میں لگا دیا) ۔ یعنی اگر آپ ان مشرکین سے آسمانوں اور زمین کے خالق کے بارے میں دریافت کریں۔ کہ باوجود یہ دونوں اپنی وسعت و بڑائی کے کس نے بنائے ہیں۔ اور وہ کون ہے جس نے سورج و چاند کو کام میں لگا دیا ؟ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ فَاَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ (وہ ضرور کہیں گے اللہ تعالیٰ پھر وہ کہاں پھرے جا رہے ہیں) ۔ ان تمام باتوں کا اقرار کرنے کے بعد وہ اللہ تعالیٰ کی توحید سے کس طرح پھر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
تفسیر۔
61۔ ولئن سالتھم، اس سے مراد کفار مکہ ہیں۔ من خلق السموات والارض وسخرالشمس والقمر لیقولن اللہ فانی یوفکون۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–69
61 تا 69۔ اللہ تعالیٰ ان آیتوں میں اپنا معبود ہونا بیان فرماتا ہے کہ اس کے سوائے کوئی لائق بندگی کے نہیں ہے کس واسطے کہ مشرک لوگ اگرچہ خدا کے سوا اوروں کو بھی پوجتے ہیں لیکن آسمان و زمین چاند سورج رات دن کا پیدا کرنے والا خدا ہی کو جانتے ہیں اور اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ بندوں کا روزی دینے والا اور مارنے والا بھی وہی اللہ ہے اور وہی کسی کو امیر اور کسی کو فقیر جیسا مناسب دیکھتا ہے اور جس کا جس کا مستحق جانتا ہے ویسا ہی کرتا ہے وہی سب کا خالق ہے یہ سب کچھ کہہ کر پھر بتوں کو اپنا معبود جانتے ہیں کی زندگی پر رکھا تھا اس لیے آگے کی آیت میں اللہ تعالیٰ دنیا کی حقارت اور آخرت کی تعریف بیان فرماتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
آیت نمبر : 63-62-61
ان آیات کریمہ میں مشرکین کے خلاف ‘ جو توحید الوہیت اور توحید عبادت کی تکذیب کرتے ہیں۔۔۔ توحید ربوبیت کے ذریعے سے ‘ جس کا وہ اقرار کرتے ہیں۔۔۔ الزای استدلال کیا گیا ہے۔ آپ ان سے پوچھیں کہ زمین اور آسمان کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ کون ہے جو آسمان سے پانی برساتا ہے پھر اس کے ذریعے سے زمین کے مرنے کے بعد اس کو زندگی عطا کرتا ہے اور کون ہے جس کے ہاتھ میں تمام کائنات کی تدبیر ہے ؟ (لیقولن اللہ) تو وہ جواب دیں گے کہ اکیلے اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ ان تمام امور میں بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی ‘ جن کی وہ عبادت کرتے ہیں ‘ بےبسی کا اعتراف کریں گے۔ ان کے جھوٹ اور بہتان طرازی پر تعجب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–69
قول باری ہے : (ولا تجادلوا اھل الکتاب الا بالتیھی احسن۔ اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقے سے) قتادہ کا قول ہے کہ یہ آیت قول باری (وقاتلوا المشرکین اور مشرکین سے قتال کرو) کی بنا پر منسوخ ہوچکی ہے۔ کوئی بحث تلوار کے استعمال سے بڑھ کر نہیں ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قتادہ کی مراد یہ ہے کہ آیت، زیر بحث کا حکم قتال کے حکم سے پہلے کا ہے۔
قول باری ہے : (الا الذین ظلموا منھم ۔ سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں) ۔ یعنی۔ واللہ اعلم۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے بحث وجدال وغیرہ میں تمہارے ساتھ ظلم کیا ہو جو اس امر کا مقتضی ہو کہ تم ان کے ساتھ سخت رویہ رکھو۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–69
58 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اس کے احاطہ علم کے اعتبار سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ پوری طرح جانتا ہے ان سب چیزوں کو جن کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں اللہ کے سوا "۔ تعمیم ملاحظہ ہو کہ اول تو { شیئ } خود نکرہ ہے جو ہر چیز کو شامل ہے۔ پھر اس پر { من } استغراقیہ سے مزید تاکید۔ یعنی کوئی بھی چیز خواہ کوئی فرشتہ ہو یا انسان، شجر ہو یا حجر، بت ہو یا جن وغیرہ وغیرہ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ مافوق الاسباب کسی کو بھی پکارنا شرک ہے جو کہ سب سے بڑا گناہ اور ناقابل معافی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اب وہ لوگ دیکھ لیں جو اس وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر اس کی عاجز مخلوق کو پکارتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے " یا رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–63
مومنوں کے اوصاف اور ربوبیت الٰہی کے دلائل
تشریح : ان آیات میں خوشخبری ان لوگوں کو دی گئی ہے جن میں صبر اور توکل ہو۔ یعنی ہر قسم کی آزمائش ‘ سختی اور مصیبت جو ان کو راہ خدا میں اٹھانی پڑے صبرو سکون سے برداشت کرتے ہوئے ایمان بااللہ پر قائم رہیں۔ اور پورا بھروسہ اللہ پر رکھیں ایمان کی حفاظت اور بقا کے لیے ان کو گھر بار ‘ جائیداد اور رشتہ دار عزیز بھی چھوڑنے پڑیں تو ہجرت ضرور کر جائیں یہ سنت ہے۔ اور جو اللہ کی محبت میں سب کچھ چھوڑ دیتا ہے وہ تو ویسے ہی اللہ کا مقبول ترین انسان بن جاتا ہے۔ جب کہ اللہ تو ویسے ہی بڑا مہربان اور رازق ہے کیونکہ وہ ہر کافر مشرک کو برابر رزق دیتا ہے۔ رزق دینا صرف اسی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–63
آیات 52 تا 63
اسرارومعارف
آپ ان سے کہ دیجیے کہ اس قدر دلائل کے بعد بھی اگر تم شبہات میں گرفتار ہو تو پھر میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے جو زمین و آسمان کے سب رازوں سے اقف ہے مومن و کافر کے دلوں کو جانتا ہے۔ اور یہ ظاہر ہوجائے گا جو لوگ باطل پر ہیں اور اللہ کے ارشادات کا انکار کرتے ہیں انجام کار وہی نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔ یہ عذاب مانگنے میں بڑی جلدی دکھاتے ہیں۔ اگر سب معاملات کے اوقات اللہ کریم نے طے نہ فرما دیے ہوتے تو انہیں مانگنے پہ بھی عذاب مل جاتا۔ بحر حال اللہ کی گرفت انہیں اچانک پکڑے گی جبکہ یہ سمجھ ہی نہ پائیں گے کہ سب کچھ کیسے ہوگیا دنیا میں بھی شکست کھا کر پھر موت کے منہ میں…
Read the full tafseer →4 ۔ جو ایسے قادر مطلق کو چھوڑ کر دوسروں کی پوجا کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
(29:60) کاین۔ اسم ہے جو کاف تشبیہ اور ای سے مرکب ہے۔ تعداد میں کثرت ظاہر کرنے کے لئے تمیز کا محتاج ہوتا ہے اور اس کی تمیز بیشتر من کے ساتھ مجرور ہوتی ہے جیسے وکاین من نبی قتل معہ ربیون کثیر (3:146) اور کہتے ہی نبی ہوچکے ہیں کہ ان کی معیت میں بہت اللہ والوں نے (کافروں سے) لڑائی کی۔
اس مثال میں کاین نے کثیر تعداد کو طاہر کیا۔ لیکن کس کی ” یہ بات “ مبہم تھی۔ جب اس کے بعد من نبی آیا تو ابہام دور ہوگیا۔ اور معلوم ہوگیا کہ یہ کثیر تعداد نبیوں کی تھی ! اور جگہ قرآن مجید میں ہے فکاین من قریۃ اہلکناھا وہی ظالمۃ (22:45) غرض کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کر ڈالا ہو نافرمان تھیں۔ کاین کتنی ہی۔ بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–64
لغات القرآن آیت نمبر (61 تا 64 ) ۔
سالت (تو نے پوچھا) ۔ سخر (اس نے تابع کردیا۔ مسخر کردیا) ۔ انی (کہاں ؟ ) ۔ یوفکون (الٹے پھرے جاتے ہیں) ۔ لھو (کھیل۔ کود) ۔ لعب (کھیلنا کودنا۔ اچھلنا) ۔ الحیوان (زندگی) ۔
تشریح : آیت نمبر (61 تا 64 ) ۔ ” قرآن کریم کے اولین مخاطب مکہ مکرمہ کے لوگ تھے جو اللہ کو اور بیت اللہ کو مانتے تھے مگر جب ان سے پوچھا جاتا تھا کہ تم ایک اللہ کی عبادت و بند گی چھوڑ کر ان تین سو ساٹھ بتوں سے امیدیں کیوں باندھتے ہو ؟ اور ان سے کیوں مانگتے ہو ؟ تو وہ کہتے تھے کہ ہم اللہ ہی کو ما نتے ہیں لیکن یہ بت اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ اگر یہ ہماری سفارش نہ کریں تو اللہ بھی ہماری نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–64
(ف 1) اللہ تعالیٰ ان آیتوں میں اپنا معبود ہونابیان فرماتا ہے کہ اس کے سوائے کوئی لائق عبادت نہیں اس واسطے مشرک لوگ اگرچہ اللہ کے سوا اوروں کو پوجتے ہیں لیکن آسمان و زمین، چاند وسورج ، رات دن کا پیدا کرنے والا اللہ ہی کو جانتے ہیں۔ اور اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ بندوں کو روزی دینے والا اور مارنے والابھی وہی اللہ ہے پھر فرمایا کہ ان سے پوچھیے کہ کس نے اتارا آسمان سے پانی پھر چلایا اس سے زمین کو اس کے مرے پیچھے یعنی خشک کو تروتازہ کیا تو البتہ کہیں گے اللہ تعالیٰ نے ۔ مطلب یہ کہ نبی ﷺ کے زمانے کے کافر اقرار کرتے تھے کہ آسمان سے مینہ وہی برساتا ہے جب لوگ قحط سے مرنے لگتے ہیں، اور بندوں کا رازق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
[28] یعنی اللہ کا شکر ہے کہ تم نے اس کا اعتراف تو کیا اور تمہارا نور فطرت بجھ نہیں گیا۔ اور الحمدللہ سے یہ مطلب بھی نکلتا ہے کہ جب یہ سارے کام اللہ کے ہیں تو پھر حمد کا مستحق بھی صرف وہی ہے دوسرا کوئی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–61
حل لغات غرفا ۔ بالا خانے ۔ غرفۃ کی جمع ہے ۔
Read the full tafseer →61۔ آگے پھر شرک کی کمزوری اور توحید کا اثبات ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے اور اے پیغمبر اگر آپ ان کافروں سے دریافت کریں اور پوچھیں کہ وہ کون ہے جس نے آسمان کو اور زمین کو پیدا کیا ہے اور جس نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے تو وہ لوگ یہی جواب دیں گے کہ وہ اللہ ہے پھر یہ لوگ کدھر الٹے جا رہے ہیں ۔ یعنی تکوینی امور کا نام لیتے ہیں لیکن الوہیت کا اقرار نہیں کرتے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اسباب رزق کے اسی نے بنائے سب جانتے ہیں پھر اس پر بھروسہ نہیں کرتے وہی پہنچا بھی دے گا مگر جتنا وہ چاہے نہ جتنا تم چاہو یہ آگے سمجھا دیا ۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
ف 2۔ یعنی توحید فی الالوہیة کا جو مبنی ہے یعنی توحید فی التکوین وہ تو ان لوگوں کے نزدیک بھی مسلم ہے، پھر جب توحید فی التکوین کو مانتے ہیں تو پھر توحید فی الاولوہیة کے بارے میں کدھر الٹے جارہے ہیں۔
Read the full tafseer →زمین وآسمان کو پیدا کرنے والا کون ہے ؟ وہ جواب دیں گے ‘ اللہ :
61۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اگر آپ ان سے یعنی مکہ کے مشرکین سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا کون ہے ؟ اور وہ کون ہے جس نے سورج اور چاند کو ان کے کام پر لگا دیا ؟ تو وہ یعنی مشرکین فورا جواب دیں گے اور ذرا تامل نہیں کریں گے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ‘ سورج اور چاند کو ان کے کام پر لگانے والا اللہ ہے اللہ کے سوا کوئی اور نہیں ہے پھر آپ ان سے کہہ دیجئے کہ پھر تم کہاں دھکے کھاتے چلے جا رہے ہو ۔ اصل میں (یؤفکون) استعمال ہوا ہے جس کی اصل (افک) ہے جس کے معنی جھوٹ ‘ بہتان ‘ کسی چیز کا اس کی اصل جانب سے منہ پھیرنے کا…
Read the full tafseer →After stating the real source of sustenance for all, that is the bounty of Allah Ta’ ala, it is said that if you ask the infidels as to who has created the earth and the skies, or who controls the movement of the sun and the moon, or who brings in the rain, and who makes the vegetation grow; then even they will admit that it is all controlled and done by One entity, that is Allah Ta’ ala. In the next sentence it is advised to ask them as to why do they then worship any other than Allah and regard it as their mentor. From the next verse وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ…
Read the full tafseer →100 From here the discourse is again directed to the disbelievers of Makkah.
Read the full tafseer →