Al-Ankaboot 29:49

Al-Ankaboot · from ayah 49

29:49

بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ ؕ— وَمَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ ۟بَلۡ هُوَ اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ فِىۡ صُدُوۡرِ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ‌ؕ وَمَا يَجۡحَدُ بِاٰيٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوۡنَ

بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں۔ جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے اُن کے سینوں میں (محفوظ) اور ہماری آیتوں سے وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو بےانصاف ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Rather, the Qur'an is distinct verses [preserved] within the breasts of those who have been given knowledge. And none reject Our verses except the wrongdoers.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 5 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ankaboot

All translations of 29:49

دراصل یہ روشن نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے دلوں میں جنہیں عِلم بخشا گیا ہے، اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر وہ جو ظالم ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں۔ جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے اُن کے سینوں میں (محفوظ) اور ہماری آیتوں سے وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو بےانصاف ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

بلکہ یہ (قرآن) تو روشن آیتیں ہیں جو اہل علم کے سینوں میں محفوظ ہیں، ہماری آیتوں کا منکر بجز ﻇالموں کے اور کوئی نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

حقیقت تو یہ ہے کہ یہ قرآن ایسی نشانیوں کا مجموعہ ہے جو ان لوگوں کے سینوں میں بالکل واضح ہیں جنہیں علم عطا کیا گیا ہے اور ہماری آیتوں کا انکار صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو ظالم ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بلکہ وہ روشن آیتیں ہیں ان کے سینوں میں جن کو علم دیا گیا اور ہماری آیتوں کا انکار نہیں کرتے مگر ظالم

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بلکہ وہ (قرآن ہی کی) واضح آیتیں ہیں جو ان لوگوں کے سینوں میں (محفوظ) ہیں جنہیں (صحیح) علم عطا کیا گیا ہے، اور ظالموں کے سوا ہماری آیتوں کا کوئی انکار نہیں کرتا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلکہ یہ تو واضح آیات ہیں ان لوگوں کے سینوں میں جنھیں علم دیا گیا ہے اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر جو ظالم ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلکہ وہ (قرآن) تو واضح آیات ہیں جو ان لوگوں کے سینوں میں محفوظ ہیں جنہیں علم دیا گیا ہے۔ اور ہماری آیات سے بےانصاف لوگوں کے سوا کوئی انکار نہیں کرتا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بلکہ یہ تو کھلی ہوئی آیات ہیں ان لوگوں کے سینوں میں جن کو علم عطا ہوا ہے۔ اور ہماری آیات کا بس وہی لوگ انکار کر رہے ہیں جو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلکہ یہ (قرآن) تو کھلی آیتیں ہیں ان لوگوں کے سینوں میں جنہیں علم دیا گیا ہے اور ہماری آیتوں کا انکار نہیں کرتے مگر وہی لوگ جو ظالم ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

بات یہ ہے کہ یہ (کتاب خود ہی بہت ہی) کھلی ہوئی نشانیاں ہے ان لوگوں کے ذہن میں جنہیں علم عطا ہوا ہے۔ اور ہماری آیتوں سے تو بس ضدی ہی لوگ انکار کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بلکہ یہ تو روشن آیات ہیں ان لوگوں کے سینوں میں جنہیں علم دیا گیا ہے اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر وہی لوگ جو ظالم ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں ‘ جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے ان کے سینوں میں محفوظ اور ہماری آیتوں سے وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو بےانصاف ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

But it is a set of Clear Signs in the hearts of those who have been endowed with knowledge. None except the utterly unjust will deny Our Signs.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

But it (the Qur‘an in itself) is (a package of) evident signs in the hearts of those who are given knowledge. And no one rejects our verses except the wrongdoers.

— Muhammad Taqi Usmani

But it (the Qur‘an in itself) is (a package of) evident signs in the hearts of those who are given knowledge. And no one rejects our verses except the wrongdoers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Nay, but it is clear Ayat, (preserved) in the breasts of those who have been given knowledge. And none but the wrongdoers deny Our Ayat.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But it is clear revelations in the hearts of those who have been given knowledge, and none deny Our revelations save wrong-doers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Rather, the Qur'an is distinct verses [preserved] within the breasts of those who have been given knowledge. And none reject Our verses except the wrongdoers.

— Saheeh International

In fact, the Quran consists of illustrious verses that exist in the hearts of those who have knowledge. No one rejects Our revelations except the unjust ones.

— Muhammad Sarwar

Nay! these are clear communications in the breasts of those who are granted knowledge; and none deny Our communications except the unjust.

— Muhammad Habib Shakir

Aye! it in itself manifest signs in the breasts of those who have been vouchsafed knowledge, and none gainsay Our signs save the wrong-doers.

— Abdul Majid Daryabadi

Nay, here are Signs self-evident in the hearts of those endowed with knowledge: and none but the unjust reject Our Signs.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 29:49

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 47–49

حق تلاوت فرمان ہے کہ جیسے ہم نے اگلے انبیاء پر اپنی کتابیں نازل فرمائی تھیں اسی طرح یہ کتاب یعنی قرآن شریف ہم نے اے ہمارے آخری رسول ﷺ تم پر نازل فرمایا ہے۔ پس اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ہماری کتاب کی قدر کی اور اس کی تلاوت کا حق ادا کیا وہ جہاں اپنی کتابوں پر ایمان لائے اس پاک کتاب کو بھی مانتے ہیں جیسے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ ، اور جیسے حضرت سلمان فارسی ؓ وغیرہ۔ اور ان لوگوں یعنی قریش وغیرہ میں سے بھی بعض لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں ہاں جو لوگ باطل سے حق کو چھپانے والے اور سورج کی روشنی سے آنکھیں بند کرنے والے ہیں وہ تو اسکے بھی منکر ہیں۔ پھر فرماتا ہے اے نبی ﷺ تم ان میں مدت العمرتک رہ چکے ہو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة العنکبوت 89 یعنی ایک امی کا قرآن جیسی کتاب پیش کرنا اور یکایک ان غیر معمولی کمالات کا مظاہرہ کرنا جن کے لیے کسی سابقہ تیاری کے آثار کبھی کسی کے مشاہدے میں نہیں آئے۔ یہی دانش و بینش رکھنے والوں کی نگاہ میں اس کی پیغمبری پر دلالت کرنے والی روشن ترین نشانیاں ہیں، دنیا کی تاریخی ہستیوں میں سے جس کے حالات کا بھی جائزہ لیا جائے، آدمی اس کے اپنے ماحول میں ان اسباب کا پتہ چلا سکتا ہے جو اس کی شخصیت بنانے اور اس سے ظاہر ہونے والے کمالات کے لیے اس کو تیار کرنے میں کار فرما تھے۔ اس کے ماحول اور اس کی شخصیت کے اجزائے ترکیبی میں ایک کھلی مناسبت پائی جاتی ہے۔ لیکن محمد ﷺ کی شخصیت جن حیرت انگیز کمالات…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–55

تفسیروں میں جو عام مفسرین نے اہل کتاب کی روایات نقل کی ہیں ان کا بھی یہی درجہ ہے اور نقل کرنے کا منشاء بھی صرف اس کی تاریخی حیثیت کو واضح کرنا ہے، احکام حلال و حرام کا ان سے استنباط نہیں کیا جاسکتا، مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّلَا تَخُــطُّهٗ بِيَمِيْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ ، یعنی نزول قرآن سے پہلے نہ آپ کوئی کتاب پڑھتے تھے، نہ کچھ لکھ سکتے تھے، بلکہ آپ امی تھے، اگر ایسا نہ ہوتا اور آپ لکھے پڑھے ہوتے تو اہل باطل کے لئے شک و شبہ کی گنجائش نکل آتی کہ یہ الزام لگاتے کہ آپ نے پچھلی کتابیں تورات و انجیل پڑھی ہیں یا نقل کی ہیں۔ آپ جو کچھ قرآن میں فرماتے ہیں وہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یل ھو ایت بینت فی صدور، الذین اوتو العلم وما یجحد بایتنا الا الظلمون (49) یعنی اہل کتاب میں سے جن کے اندر دین کا صحیح علم ہے ان کے سینوں میں تو یہ قرآن نہایت واضح اور روشنی آیات کی شکل میں موجود ہے۔ وہ اس کی ہر بات کو اپنے ہی دل کی بات سمجھتے ہیں۔ ان کے لئے یہ ایک جانی پہنچائی ہوئی اور ایک موعود و منتظر چیز ہے۔ وہ اپنے نبیوں کی پیشن گوئیوں کی بنا پر اس کے لئے سراپا انتظار تھے۔ اور اب اس کو پاکر سمجھتے ہیں کہ گویا ان کو اپنی مطلوب و محبوب چیز مل گئی۔ قرآن مجید میں سچے اہل کتاب کے جذبات، قرآن اور آخری رسول سے متعلق، نہایت واضح الفاط میں نقل ہوئے ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس طرح آخرت بعثت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

49-1یعنی قرآن مجید کے حافظوں کے سینوں میں ہے۔ یہ قرآن مجید کا اعجاز ہے کہ قرآن مجید لفظ بہ لفظ سینے میں محفوظ ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 49–50

29: یعنی وہ معجزات کیوں نہیں دئیے گئے جن کی ہم فرمائش کرتے ہیں۔ اگرچہ آنحضرت ﷺ کو بہت سے معجزات عطا فرمائے گئے تھے، لیکن کفار مکہ نت نئے معجزات کا مطالبہ کرتے رہتے تھے، جیسے سورة بنی اسرائیل : 93 میں تفصیل سے بیان فرمایا گیا ہے۔ جواب یہ دیا گیا ہے کہ معجزات دکھانا اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہے، میں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دار کرنے کے لیے آیا ہوں۔ نیز اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ قرآن کریم بذات خود ایک بڑا معجزہ ہے جو ایک طالب حق کے لیے بالکل کافی ہونا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

بل ھو ایت بینت ۔۔۔۔۔ بایتنا الا الظلمون (49) ” دراصل یہ روشن نشانیاں ہیں ان لوگوں کے دلوں میں جنہیں علم بخشا گیا ہے ، اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر وہ جو ظالم ہیں “۔ یہ قرآن اہل علم کے لیے واضح دلائل پر مشتمل ہے جن میں کوئی التباس اور پیچیدگی نہیں ہے نہ کوئی شبہ اور شک ہے۔ یہ ایسے دلائل ہیں جو لوگوں کے سینوں میں موجود ہیں ، لوگوں کے دل ان دلائل پر مطمئن ہیں اس لیے اہل علم قرآن آیات پر کوئی مزید دلیل طلب نہیں کرتے۔ وہ علم جس پر لفظ علم کا اطلاق کیا جاسکتا ہے وہ ان لوگوں کے دلوں میں موجود ہے۔ وہ بصورت ملکہ منتقلاً وہاں بیٹھا ہے۔ وہ دلوں سے پھوٹتا ہے ، وہ دلوں کی راہنمائی کرتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی پیغمبر نے کسی سے لکھا پڑھا نہیں۔ بلکہ یہ وحی جو ان پر آئی ہمیشہ کو بن لکھے سینہ بسینہ جاری رہے گی۔ اللہ کے فضل سے علماء اور حفاظ و قراء کے سینے اس کے الفاظ و معانی کی حفاظت کریں گے اور آسمانی کتابیں حفظ نہ ہوتی تھیں۔ یہ کتاب حفظ ہی سے باقی ہے۔ لکھنا اس پر افزود ہے (موضح با ضافہ یسیر) 12 یعنی ناانصافی کا کیا علاج۔ ایک شخص یہ ہی ٹھان لے کہ میں کبھی سچی بات نہ مانوں گا۔ وہ روشن سے روشن چیز کا بھی انکار کردے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 49 بَلْ ہُوَ اٰیٰتٌم بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ ط ” سابقہ الہامی کتابوں کا علم رکھنے والے لوگ قرآن کی آیات بینات کو خوب پہچانتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

81 اس آیت کے دو مطلب ہیں اگر ھُوَ کی ضمیر کو قرآن کی طرف راجع قرار دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ قرآن کی آیات بڑے واضح دلائل پر مشتمل ہیں۔ اور یہ آیات اہل علم کے سینوں میں محفوظ ہیں۔ یعنی ان اہل علم ان آیات کو حفظ یا ازبر کرلیا ہے۔ اور یہ قرآن اسی طرح سینہ بہ سینہ اہل علم میں منتقل ہوتا جائے گا۔ اور یہ قرآن کی ایسی ناقابل تردید صفت ہے جو ابتدائے اسلام سے آج تک اور آئندہ بھی تاقیامت ہر شخص مشاہدہ کرسکتا ہے اور کرتا رہے گا۔ ہر دور میں مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد حافظ قرآن رہی ہے۔ اور یہی قرآن کی اعجازی حیثیت اور اس کی حفاظت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ قرآن کی حفاظت کا دوسرا ذریعہ کتابت قرآن ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

60۔ یعنی اس کے وجوہ اعجاز اتنے کھلے ہوئے اور متعدد ہیں، کہ یہ ایک کتاب بجائے خود بہت سے نشانوں کے قائم مقام ہے۔ (آیت) ” الذین اوتوا العلم “۔ سے مراد مومنین ہیں۔ (آیت) ” صدور “۔ کے معنی اگر لفظی یعنی سینہ کے لیے جائیں تو مراد ہوگی کہ یہ کتاب بطور نشان واضح کے سینہ بہ سینہ محفوظ چلی آتی ہے ہر امکان تحریف سے ماوراء۔ 61۔ (ورنہ منصف مزاج کو تو ذار شک نہیں رہ سکتا) (آیت) ” یجحد “۔ جحد کے معنی پہلے بیان ہوچکے ہیں کہ دل کو یقین تو کسی بات کا آجائے۔ پھر بھی ضد وجہل سے زبان انکار پر اڑی رہے۔ (آیت) ” الظلمون “ یعنی ضدی۔ ہٹ دھرم۔ اے المتوغلون فی الظلم بالمکابرۃ بعد وضوح دلائل اعجازھا (بیضاوی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 45–51

آیت نمبر 45 تا 51 ترجمہ : جو کتاب آپ پر یعنی قرآن وحی کی گئی ہے آپ اس کو پڑھا کیجئے اور نماز کی پابندی رکھئے یقیناً نماز بیحیائی اور شرعاً ناشائستہ کاموں سے روک دیتی ہے یعنی نماز کی شان یہی ہے، جب یک انسان نماز میں ہوتا ہے بیشک اللہ کا ذکر دیگر طاعتوں کے مقابلہ میں بہت بڑی چیز ہے جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے اس کی تم کو وہ جزادے گا اور تم اہل کتاب کے ساتھ بجز مہذب طریقہ کے مجادلہ کرو مثلاً اللہ کی طرف اللہ کی آیات کے ذریعہ دعوت دو اور اس کے دلائل پر تنبیہ کرو مگر ان کے ساتھ جو ان میں زیادتی کریں بایں طور کہ محاربہ کریں اور جزیہ دینے سے انکار کریں تو ایسے لوگوں سے جہاد بالسیف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

بل ھو اٰیٰت بینٰت فی صدور الذین اوتو العلم یہ قرآن رسول کا خود تراشیدہ اور خود مکتوبہ نہیں ہے بلکہ کھلی ہوئی آیات ہیں جو خود اپنی سچائی پر دلالت کر رہی ہیں ان لوگوں کے سینوں میں جن کو علم عطا کیا گیا ہے۔ یعنی اہل ایمان کے دلوں میں جو قرآن کے عامل اور حافظ ہیں ‘ کوئی بھی ان آیات میں تغیر نہیں کرسکتا۔ قرآن کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کی آیات کھلے ہوئے معجزات ہیں اور ہر تحریف و تبدیل سے محفوظ ہیں ‘ اللہ نے خود فرما دیا ہے : وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ ۔ پھر یہ قرآن اہل ایمان کے سینوں میں محفوظ ہے ‘ اہل ایمان اس کے حافظ ہیں۔ اس کے برخلاف دوسری آسمانی کتابیں چونکہ معجزہ نہ تھیں اس لئے لوگوں نے ان کی آیات…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 48–49

اور آپ قرآن کریم سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھے ہوئے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے کسی کتاب کو لکھ سکتے تھے اور اگر ایسی حالت ہوتی تو یہ یہود و نصاری اور مشرکین ضرور شکل کرتے اور کہتے کہ ہماری کتابوں میں تو نبی امی کی بشارت ہے بلکہ آپ کی نعت و صفت کے بارے میں خود بہت سی واضح دلیلیں ہیں ان لوگوں کے دلوں میں جن کو علم توریت دیا گیا ہے یا یہ قرآن کریم ہی آپ کی نبوت کے لیے خود بہت سی واضح دلیلوں والا اور حلال و حرام اور اوامرو نواہی کو واضح طور پر بیان کرنے والا ان لوگوں کے سینوں میں محفوظ ہے جن کو قرآن کریم کا علم دیا گیا ہے۔ اور ہماری آیات یعنی رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم سے یہ یہود و نصاری اور مشرکین ہی…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

بَلْ هُوَ اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ فِيْ صُدُوْرِ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ ۭ : یعنی یہ قرآن پہلی کتابوں کو پڑھ کر تصنیف کی ہوئی کتاب نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی ہوئی کتاب ہے۔ جس میں دو نمایاں اوصاف ہیں، ایک یہ کہ یہ آیات بینات ہیں، یعنی ایسا واضح معجزہ ہیں جن کا جواب نہ کوئی لاسکا ہے نہ لاسکے گا، جیسا کہ فرمایا : (وَاِنْ كُنْتُمْ فِىْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰي عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ ۠ وَادْعُوْا شُهَدَاۗءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ) [ البقرۃ : 23 ] ”اور اگر تم اس کے بارے میں کسی شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندے پر اتارا ہے تو اس…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس سے مراد قرآن ہے : حضرت حسن بصری نے کہا : فراء نے حضرت عبداللہ کی قرأت میں گمان کیا ہے : معنی ہے بلکہ قرآن کی آیات، آیات بینات ہیں (3) حضرت حسن بصری نے کہا : اس کی مثل (الاعراف 203) ہے اگر یہ جائز ہے تو اس کی مثل (الکہف 98) بھی جائز ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : اس امت کی حفظ کی صلاحیت سے نوازا گیا اس امت سے پہلے کے لوگ اپنی کتابوں کو دیکھ کر ہی پڑھا کرتے تھے جب وہ اسے بند کرتے تو سوائے انبیاء کے کوئی انہیں یاد رکھنے والا نہ ہوتا۔ حضرت کعب نے اس امت کی صفت بیان کرتے ہوئے کہا : یہ علماء و حکماء ہیں اور فقہ میں انبیاء ہیں : یعنی یہ قرآن اس طرح نہیں جس طرح باطل پرست کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے یا شعر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 48–50

1۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت وما کنت تتلوا من قبلہ من کتب ولا تخطہ بیمینک کے بارے میں روایت کیا کہ اہل کتاب اپنی کتابوں میں پاتے تھے کہ محمد ﷺ نہ تو اپنے ہاتھ سے لکھیں گے اور نہ کتاب کو پڑھیں گے تو یہ آیت وماکنت تتلو من قبلہ من کتب ولا تخطہ بیمینک ولا تکطہ بیمینک اذا لارتاب المبطلہون یعنی آپ سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے کوئی کتاب لکھتے تھے اگر ایسا ہوتا تو اس وقت باطل پرست یعنی کفار شک میں پڑجاتے۔ 2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن المردویہ والاسمعیلی نے اپنی معجم میں ابن عباس ؓ سے آیت وما کنت تتلوا من قبلہ من کتب ولا تخطہ بیمینک…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

بَلْ هُوَ [بلکہ یہ ] اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ [ایسی واضح آیات ہیں جو ] فِيْ صُدُوْرِ الَّذِيْنَ [ان لوگوں کے سینوں میں ہیں جن کو ] اُوْتُوا [دیا گیا ] الْعِلْمَ ۭ [علم ] وَمَا يَجْـحَدُ [اور انکار نہیں کرتے ] بِاٰيٰتِنَآ [ہماری آیات کا ] اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ [مگر ظلم کرنے والے لوگ ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا : (بَلْ ھُوَ اٰیٰتٌ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ ) بلکہ بات یہ ہے کہ یہ کتاب یعنی (قرآن شریف) اگرچہ ایک کتاب ہے لیکن بہت سے معجزات پر مشتمل ہونے کی وجہ سے بہت بڑی دلیل ہے جو اپنی قوت و عظمت کی وجہ سے بہت سی واضح دلیلوں کا مجموعہ بنا ہوا ہے اور ان لوگوں کے دلوں میں ہے جن کو علم عطا کیا گیا ہے، (وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَآ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ ) (اور ہماری آیتوں کا انکار صرف بےانصاف لوگ ہی کرتے ہیں) باوجودیکہ قرآن معجزہ ہے اور اس کا اعجاز سب پر ظاہر ہے پھر بھی ظالم لوگ انکار پر تلے ہوئے ہیں۔ فائدہ : سورة اعراف میں خاتم النبیین ﷺ کے بارے میں (اَلَّذِیْنَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–55

اثبات رسالت محمدیہ وازالہ شکوک و شبہات منکرین نبوت قال اللہ تعالیٰ اتل ما اوحی الیک من الکتب واقم الصلوٰہ۔۔۔ الی۔۔۔ ذوقوا ما کنتم تعملون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں توحید کا ذکر تھا اور اس بات کا ذکر تھا کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) نے لوگوں کو توحید کی دعوت دی اور شرک سے منع کیا بالآخر وہ منکرین ہلاک ہوئے اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کی رسالت کا مضمون ذکر کرتے ہیں اور منکرین رسالت کے بعض شبہات کا جواب دیتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ ان کے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کیجئے جو توحید کے مضامین پر اور گذشتہ امتوں کے حال اور مال پر مشتمل ہے اور آپ ﷺ کی رسالت کا عظیم معجزہ ہے عجب نہیں کہ آیات خداوندی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

42:۔ یہ ماقبل سے اضراب ہے۔ یعنی اس کتاب مبارک میں شک و ریب کا کیا سوال وہ تو اہل علم کے سینوں میں محفوظ ہوچکی ہے اور ایمان والوں نے اسے اپنے سینوں میں محفوط کر کے ہر قسم کی تحریف و تبدیل اور شک و ریب کی دسترس سے مامومن کردیا ہے۔ وما یجحد الخ، ہماری آیتیں جو سراپا نور ہدایت اور واضح دلائل وبراہین پر مشتمل ہیں ان کا انکار صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو ضد اور عناد و مکابرہ میں حد سے گذر چکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 46–51

ربطِ آیات سورة العنکبوت اللہ تعالیٰ نے زیادہ تر ایمان کے ساتھ ابتلاء کا ذکر کیا ہے اور اس سلسلہ میں بعض انبیاء کی آزمائش کے واقعات بیان کرکے اہل ایمان کو تسلی دی ہے کہ کسی کو بغیر آزمائش کے نہیں چھوڑا جائے گا۔ پھر اللہ نے شرک کی قباحت کو ایک مثال کے ذریعے واضح کیا ، پھر توحید کی دعوت دی۔ اس کے بعد نبی (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ جو چیز آپ کی طرف بصورت وحی ناز کی جاتی ہے اس کو پڑھیں اور نماز قائم رکھیں کہ یہ بےحیائی اور برائی سے روکنے والی چیز ہے۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے اور اللہ تعالیٰ تمہاری تمام کارگزاریوں سے واقف ہے۔ اہل کتاب کے ساتھ مجادلہ اہل کتاب اور مشرک لوگ اسلام…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

بَلْ ہُوَاٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ فِيْ صُدُوْرِ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ۝ 0ۭ وَمَا يَجْـحَدُ بِاٰيٰتِنَآ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ۝ 49 الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 47–49

تفسیر : وکذلک انزلنا الیک الکتاب پھر اب تم کو ہمارے اہل حق ہونے میں کیا کلام باقی ہے، صاف بات ہے ہم پر نبی یا کتاب نہ ماننے کا الزام عائد نہیں ہوسکتا، ہاں تم پر ہے اس لیے خدا ترس اہل کتاب جیسا کہ عبداللہ بن سلام ؓ اور عرب کے بھی با انصاف لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں۔ فالذین اتینہم الکتاب یؤمنون بہ الخ پھر جو اس کا منکر ہے تو وہی ہے جو ازلی کافر ہے۔ وما یجحد بایتنا الا الکفرون اس کے بعد ایک اور دلیل تسلی بخش ذکر کرکے فرماتا ہے۔ وما کنت تتلوا من قبلہ من کتب ولا تخطہ بیمینک اذا لارتاب المبطلون کہ اس دن سے پہلے آپ نہ کبھی کوئی کتاب پڑھتے تھے، نہ لکھتے تھے یعنی ظاہری علم نہیں تھا، اگر اگلی کتابیں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 49–50

بَلْ ھُوَ اٰیٰتٌ م بلیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ ط وَمَایَجْحَدُ بِاٰ یٰـتِـنَـآ اِلاَّ الظّٰلِمُوْنَ ۔ (العنکبوت : 49) (بلکہ یہ روشن نشانیاں ہیں ان لوگوں کے سینوں میں جن کو علم عطا ہوا ہے، اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر وہ جو ظالم ہیں۔ ) آیت کے دو مفہوم اس آیت کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ ھُوَ کا مرجع قرآن کریم کو قرار دیا جائے۔ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اہل کتاب میں سے جن لوگوں کو صحیح علم نصیب ہوا ہے جو علم کے قدرآشنا اور علم کی حدود سے آگاہ ہیں انھیں قرآن کریم کو تسلیم کرنے میں کوئی تأمل نہیں۔ کیونکہ ان کی کتابوں میں قرآن پاک کی تعلیمات کے بارے میں جو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 48–49

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کی صداقت اور نبی اکرم ﷺ کی نبّوت کے مزید ثبوت۔ سب سے پہلے قرآن مجید کا انکار کرنے والے اہل مکہ تھے، جن کا ایک الزام یہ تھا کہ محمد ﷺ اپنی طرف سے آیات بنا کر اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگاتا ہے جس کی درجنوں دلائل کے ساتھ نفی کی گئی ہے۔ جن میں دو دلائل یہ ہیں کہ سوچو اور غور کرو کہ محمد ﷺ اس سے پہلے نہ پڑھنا جانتے تھے اور نہ ہی اپنے ہاتھ سے لکھ سکتے تھے۔ اگر محمد ﷺ پہلے سے لکھنا پڑھنا جانتے ہوتے تو پھر تمہیں اس کی نبّوت میں ضرور شک ہوسکتا تھا کہ پڑھا لکھا انسان تھا اپنی صلاحیّت کی بنیاد پر ایک کتاب بنا لایا ہے۔ نبی ﷺ کی حالت یہ ہے کہ نہ آپ نے کسی کے سامنے زنوائے تلمذ طے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

49: بَلْ ہُوَ (بلکہ وہ) یعنی قرآن۔ ٰایٰتٌ0 بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُو الْعِلْمَ (واضح آیات ہیں جو ان لوگوں کے سینوں میں ہیں جن کو علم دیا گیا) ۔ حفاظ و علماء کے سینوں میں ہیں اور یہ دونوں قرآن کی خصوصیات ہیں۔ نمبر 1۔ آیات کا اعجاز واضح ہے۔ نمبر 2۔ سینوں میں محفوظ ہیں۔ بخلاف دیگر کتب کے کہ وہ معجزات نہ تھیں اور مصاحف سے ہی پڑھی جاتی تھیں۔ وَمَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَآ (اور ہماری واضح آیات کا انکار نہیں کرتے) ۔ اِلاَّ الظّٰلِمُوْنَ (مگر ظالم) ۔ جو ظلم میں بہت زیادہ بڑھے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

49۔ بل ھو ایات بینات، ،، حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد آیات بینات ہیں۔ فی صدور الذین اوتوالعلم، ، مومنین جنہوں نے قرآن کو اٹھایا ، ابن عباس کا بیان ہے کہ ، بل ھو، یعنی محمد ﷺ کی ذات اور الذین اوتوالعلم، سے مراد ہیں اہل کتاب یعنی رسول اللہ کی شخصیت انہی واضح علامات کی حامل ہے، جو اہل کتاب کے سینوں میں محفوظ ہیں یعنی رسول اللہ کے جو اوصاف انکی کتابوں میں مذکور ہٰں اور اہل کتاب ان سے واقف ہیں اور وہ اوصاف رسول اللہ کی شخصیت میں موجود ہیں۔ ومایجحد بایاتنا الاالظالمون۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 44–49

44 تا 49۔ ان آیتوں میں اپنی قدرت کا حال بیان فرمایا ہے کہ اس نے آسمان اور زمین کو بےفائدہ نہیں پیدا کیا بلکہ اس واسطے پیدا کیا کہ ہر ایک شخص کو اس کے عمل کا بدلہ ملے برے کو برا اچھے کو اچھا اس آیت میں ایمان والوں کو ہدایت ہے کہ اللہ اکیلا جہاں کا پیدا کرنے والا ہے وہی اکیلا پوجنے کے قابل ہے اور منکرین حشر کو یہ تنبیہ ہے کہ یہ لوگ خود تو دنیا میں کو کام کرتے ہیں اس میں کوئی نہ کوئی فائدہ ان کو مد نظر ہوتا ہے مثلا کھیتی میں پیدا وار کا فائدہ تجارت میں نقدی کا فائدہ ان کا مقصود ہوتا ہے پھر یہ نادان اللہ تعالیٰ کے اتنے بڑے انتظام کو بےفائدہ کیوں ٹھہراتے ہیں اتنا نہیں سمجھتے کہ دنیا کے ختم ہوجانے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت نمبر : 49 (بل) ” بلکہ “ یہ قرآن کریم (ایت بینت) ” واضح آیات ہیں “ نہ کہ مخفی (فی صدور الذین اوتوا العلم) ” ان لوگوں کے سینوں میں جو علم دیے گئے ہیں۔ “ یہ لوگ تمام مخلوق کے سردار ‘ ان کے زیادہ عقل و خرد رکھنے والے اور کامل لوگ ہیں۔ جب ان آیات بینات نے اس قسم کے اصحاب خرد کے سینوں کو منور کر رکھا ہے تو دوسروں پر تو بدرجہ اولیٰ حجت ہیں اور دوسرے لوگ انکار کرکے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور یہ انکار ظلم کے سوا کچھ نہیں ‘ بنا بریں فرمایا : (وما یجحد بایتنآ الا الظلمون) ” اور ہماری آیات کا انکار صرف ظالم لوگ کرتے ہیں۔ “ یعنی ان آیات کا انکار ایک جاہل شخص ہی کرسکتا ہے جو علم کے بغیر بحث کرتا ہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–69

قول باری ہے : (ولا تجادلوا اھل الکتاب الا بالتیھی احسن۔ اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقے سے) قتادہ کا قول ہے کہ یہ آیت قول باری (وقاتلوا المشرکین اور مشرکین سے قتال کرو) کی بنا پر منسوخ ہوچکی ہے۔ کوئی بحث تلوار کے استعمال سے بڑھ کر نہیں ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قتادہ کی مراد یہ ہے کہ آیت، زیر بحث کا حکم قتال کے حکم سے پہلے کا ہے۔ قول باری ہے : (الا الذین ظلموا منھم ۔ سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں) ۔ یعنی۔ واللہ اعلم۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے بحث وجدال وغیرہ میں تمہارے ساتھ ظلم کیا ہو جو اس امر کا مقتضی ہو کہ تم ان کے ساتھ سخت رویہ رکھو۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 42–69

58 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اس کے احاطہ علم کے اعتبار سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ پوری طرح جانتا ہے ان سب چیزوں کو جن کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں اللہ کے سوا "۔ تعمیم ملاحظہ ہو کہ اول تو { شیئ } خود نکرہ ہے جو ہر چیز کو شامل ہے۔ پھر اس پر { من } استغراقیہ سے مزید تاکید۔ یعنی کوئی بھی چیز خواہ کوئی فرشتہ ہو یا انسان، شجر ہو یا حجر، بت ہو یا جن وغیرہ وغیرہ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ مافوق الاسباب کسی کو بھی پکارنا شرک ہے جو کہ سب سے بڑا گناہ اور ناقابل معافی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اب وہ لوگ دیکھ لیں جو اس وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر اس کی عاجز مخلوق کو پکارتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے " یا رسول…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 47–55

کفار کے لیے عذاب کی خبر تشریح : جیسا کہ پہلے قرآن کے آسمانی کتاب ہونے کے ثبوت دیے جا چکے ہیں تو ایک ثبوت اور دیا جا رہا ہے کہ نبوت سے پہلے چالیس سال آپ نے اہل مکہ کے ساتھ گزارے تھے۔ سب آپ کو اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ بڑے ایماندار تاجر ہیں انتہائی نیک فطرت ‘ نرم مزاج ‘ بےحد ذہین مگر آپ پڑھے لکھے نہ تھے لوگ جانتے تھے کہ آج تک نہ انہوں نے کوئی کتاب پڑھی ہے نہ کبھی کچھ لکھا ہے۔ تو پھر یکدم وہ اس قدر حکمت سے بھری باتیں، گزشتہ تاریخی واقعات اور مستقبل کے حالات، حقیقت پر مبنی باتیں، آسمانوں زمین کے پھیلائو، ملکی انتظامات ‘ عسکری (فوجی) مہارت کے اصول و ضوابط ‘ جنگی چالیں اور سب سے بڑھ کر انسانی زندگی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–51

آیات 45 تا 51 اسرارومعارف آپ قرآن پڑھا کیجیے اور نماز قائم کیجیے۔ یعنی کہ آپ قرآن کریم کو پڑھ کر سنایا کیجیے اس بات کی پرواہ کیے بغیر کہ کوئی ایمان لاتا ہے کہ نہیں۔ اور عبادات کو قائم کیجیے لہذا یہ ضروری ہے کہ قرآن کو مسلسل لوگوں پہ بیان کیا جائے یعنی تبلیغ کی جائے اور مبلغ خود عبادات پہ پورے اہتمام سے کاربند رہے کہ عبادات کا خاصہ یہ ہے کہ بندے کو برائی اور منکرات سے بچنے کی توفیق نصیب ہوتی ہے۔ قرآن کے بیان اور نماز کا اثر : یہ کمال قرآنی بیانات میں بھی ہے کہ جس بات پر قرآن سے وعظ کیا جائے کوئی قبول کرے یا نہ خود کرنے والے کو اس پہ عمل کی توفیق ارزاں ہوتی ہے اور نماز جو بارگاہ صمدیت کی حضوری…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

9 ۔ وہ اس کو زبانی یاد کریں گے اور بن دیکھے پڑھیں گے۔ یہ قرآن کے خدائی کتاب ہونے کی واضح دلیل ہے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں :” یہ وحی جو اس پر آئی ہمیشہ کو بن دیکھے جاری رہے گی سینہ بسینہ۔ اور کتابیں حفظ نہ ہوتی تھیں۔ یہ کتاب حفظ ہی سے باقی ہے لکھنا افزود (زیادہ) ہے۔ (موضح) آیت کا دوسرا مطلب ابن جریر (رح) نے یہ بیان کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا امی ہونا ان لوگوں کے سینوں میں، جو اہل کتاب میں سے ہیں۔ آپ ﷺ کے سچا پیغمبر ہونے کی کھلی کھلی نشانیوں (میں سے) ہے۔ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں : یہ مطلب زیادہ واضح ہے (نیز دیکھئے : اعراف :157)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 49–50

(29:49) بل۔ یہاں حرف اضراب ہے یعنی ماقبل کے ابطال اور مابعد کی تصحیح کے لئے بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں۔ ایت بینت۔ موسوف و صفت۔ واضح روشن آیات۔ اوتوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب اتی یؤتی ایتاء (افعال) مصدر۔ ان کو دیا گیا۔ وہ دئیے گئے۔ ان کو ملا۔ فی صدور۔ سینوں میں (حفظ کیا ہوا) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 48–55

لغات القرآن آیت نمبر (48 تا 55) ۔ لا تخط (نہیں لکھتا ہے) ۔ یمین (داہنا ہاتھ) ۔ ارتاب (شک کیا) ۔ المبطلون (ناحق چلنے والے) ۔ لم یکف (کافی نہیں ہے) ۔ یستعجلون (وہ جلدی کرتے ہیں) ۔ مسمی (مقرر۔ متعین) ۔ بغتتہ (اچانک) ۔ تشریح : آیت نمبر (48 تا 55) ۔ ” اللہ تعالیٰ کا نظام یہ ہے کہ اس نے انسانوں کو پیدا کر کے ان کی رہنمائی کے اسباب بھی مہیا کئے ہیں چناچہ ہر دور میں اللہ نے اپنے رسولوں کو بھیجا اور ان کو وہ کتاب ہدایت بھی دی جس میں دنیا میں زندگی گذار کر آخرت کی کامیابیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ جب نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا تو اس وقت تو ریت، زبور اور انجیل کتابیں موجود تھیں جس میں انسانی ہاتھوں نے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 48–49

قرآن شریف کا حق ہونا۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اے محبوب ﷺ قرآن کے نازل ہونے سے پہلے تم نہ تو کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ کوئی کتاب اپنے دائیں بائیں ہاتھ سے لکھتے تھے ۔ تو ان مشرکوں کے دل جانتے ہیں کہ امی شخص ایسی کتاب تو اپنے دل سے ہرگز نہیں بناسکتا جس کا بنانا پڑھے لکھے لوگوں کی قدرت سے بھی باہر ہے اور پہلی کتابوں میں تمہارے اوصاف ایسے تفصیل سے ہیں کہ اہل کتاب کے دل بھی خوب جانتے ہیں کہ تم اللہ کے رسول ہو، اور قرآن شریف کلام الٰہی ہے ۔ پس اس روشن دلیل سے ظاہرہوگیا کہ یہ کتاب اس کے برگزیدہ اور سچے بندے محمد ﷺ پر نازل ہوئی ، جو اس پر ایمان لایا اس نے کامیابی حاصل کرکے اس کے مہمان خانہ فردوس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 47–49

[20] یعنی اہل ایمان۔ [21] یعنی نبی ﷺ [22] یعنی اُمّی ہونے کے باوجود تم پر قرآن جیسی کتاب کا نازل ہونا، کیا بجائے خود اتنا بڑا معجزہ نہیں کہ تمہاری رسالت پر یقین لانے کے لئے کافی ہو ؟ اس کے بعد بھی کسی اور معجزے کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے ؟

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

قرآن محفوظ ہے 3: اس آیت میں قرآن کی اس فضیلت کا اظہار ہے ۔ کہ یہ کتاب گذشتہ کتابوں کی طرح ضائع نہ ہوگی ۔ اور کسی طرح کی تحریف اور تبدیلی اس میں نہیں ہوسکے گی ۔ کیونکہ اس کی حفاظت صرف کاغذ اور روشنائی قلم پر موقوف نہیں ۔ بلکہ یہ سفینوں کے ساتھ بےانتہا انسانوں کے سینوں میں موجود رہینگی ۔ چناچہ آج تمام دنیا کی مذہبی کتابوں میں یہ درجہ صرف قرآن مجید کو حاصل ہے کہ اس کا لفظ لفظ اہل علم کے حافظے میں مرتسم ہے یہ ہوسکتا ہے کہ مذاہب پر ایسی آفت آئے ۔ کہ اس کا سارا ذخیرہ دینی تلف ہوجائے ۔ مگر یہ ناممکن ہے کہ قیامت تک قرآن کو کسی نوع کا صدمہ پہنچ سکے ۔ جب تک ایک حافظ قرآن بھی زندہ ہے ۔ اس وقت تک اسلام…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

49۔ بلکہ یہ قرآن کریم صاف اور واضح آیات و دلائل کا مجموعہ ہے ان لوگوں کے سینوں اور ذہنوں میں جن کو سمجھ اور علم عطا کیا گیا ہے اور ہماری آیتوں کو ماننے سے وہی انکار کرتے ہیں جونا انصاف اور ضدی و ہٹ دھرم ہیں ۔ یعنی قرآن کریم باوجود ایک کتاب ہونے کے بیشمار دلائل واضحہ اور معجزات کا مجموعہ ہے اور ان لوگوں کے اذہان اور صدور میں محفوظ ہے جنکو سمجھ اور علم صحیح عطا ہوا ہے جس پر کسی مصنف مزاج کو شبہ کی گنجائش نہیں اور بس وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو ظالم اور ہٹ دھرم ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی پیغمبر نے کسی سے نہیں لکھا پڑھا مگر یہ وحی جو ان پر آئی ہمیشہ کو بن لکھے جاری رہے گی ۔ سینہ بسینہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 46–51

ف 4۔ یعنی ان کو جواب ترکی بہ ترکی دینے کا مضائقہ نہیں، گو افضل جب بھی طریقہ احسن ہے۔ 5۔ کیونکہ مدار ایمان کا منزل من اللہ ہونا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قرآن کریم کیا ہے ؟ وہ روشن دلائل ہیں جو صاحب علم لوگوں کے دلوں میں محفوظ ہیں : 49۔ گزشتہ دو آیتوں میں تین نشانات معاصرین کے سامنے پیش کئے گئے تھے ایک وہ کتاب جو محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی ‘ دوسرا محمد رسول اللہ ﷺ کا ناخواندہ ہونا اور تیسرا لکھ نہ سکنا جس کا مجموعہ خود محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات تھی ۔ اب ان تینوں نشانات پر ان لوگوں کی شہادت قائم کی جا رہی ہے جو اس وقت وہاں موجود تھے اور اپنے زمانے میں صاحب علم کہلاتے تھے اور جن کو اس وقت کا ایک زمانہ جانتا اور مانتا تھا وہ بلاشبہ محمد رسول اللہ ﷺ کے مخالفین ومعاندین تھے لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انہی لوگوں کو مخاطب کیا اور انہیں لوگوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 49–56

Commentary From the very beginning of this Surah until now the enmity of the infidels toward Muslims, their rejection of the Oneness of God and prophethood of the Holy Prophet ﷺ ، and putting hurdles in the way of truth and believers were described. In the above verses a way out of this entanglement is suggested in order to come out of the turmoil and spread and propagate the truth, and establish justice - the common name for this action is hijrah (migration).It means to leave the hometown and land where one is forced to speak and act against the truth. Command in connection with hijrah and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

89 That is, "The presentation of a Book like the Qur'an by an unlettered person, and the manifestation by him, all of a sudden, of extraordinary qualities of character while nobody ever noticed him making any preparation for these previously, are in fact the clearest Signs which serve as pointers to his Prophethood for those who are possessed of knowledge and wisdom. " If one reviews the life-story of any great historical personage, one can always discover the factors in his environment, which moulded his personality and prepared him for the excellences and qualities that emanated from him in…

Read the full tafseer →