Al-Ankaboot 29:48

Al-Ankaboot · from ayah 48

29:48

وَمَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّلَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ ۟وَمَا كُنۡتَ تَـتۡلُوۡا مِنۡ قَبۡلِهٖ مِنۡ كِتٰبٍ وَّلَا تَخُطُّهٗ بِيَمِيۡنِكَ‌ اِذًا لَّارۡتَابَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ

اور تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اُسے اپنے ہاتھ سے لکھ ہی سکتے تھے ایسا ہوتا تو اہلِ باطل ضرور شک کرتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And you did not recite before it any scripture, nor did you inscribe one with your right hand. Otherwise the falsifiers would have had [cause for] doubt.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 5 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ankaboot

All translations of 29:48

(اے نبیؐ) تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے، اگر ایسا ہوتا تو باطل پرست لوگ شک میں پڑ سکتے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اُسے اپنے ہاتھ سے لکھ ہی سکتے تھے ایسا ہوتا تو اہلِ باطل ضرور شک کرتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس سے پہلے تو آپ کوئی کتاب پڑھتے نہ تھے اور نہ کسی کتاب کو اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے کہ یہ باطل پرست لوگ شک وشبہ میں پڑتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تم اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے، اور نہ کوئی کتاب اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے۔ اگر ایسا ہوتا تو باطل والے میں میخ نکال سکتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اس سے پہلے تم کوئی کتاب نہ پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتے تھے یوں ہوتا تو باطل ضرور شک لاتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (اے حبیب!) اس سے پہلے آپ کوئی کتاب نہیں پڑھا کرتے تھے اور نہ ہی آپ اسے اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے ورنہ اہلِ باطل اسی وقت ضرور شک میں پڑ جاتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تو اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتا تھا اور نہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتا تھا، اس وقت باطل والے لوگ ضرور شک کرتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور (اے نبی !) اس سے پہلے آپ نہ تو کوئی کتاب پڑھ سکتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے لکھ سکتے تھے۔ اگر ایسی بات ہوتی تو باطل پرست شبہ میں پڑ سکتے تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تم تو اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ اس کو اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے۔ ایسا ہوتا تو یہ جھٹلانے والے میں میکھ نکالتے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور آپ (اے پیغمبر !) اس سے پہلے نہ تو کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ ہی آپ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتے تھے اگر کہیں ایسا ہوتا تو یہ باطل پرست شک میں پڑ سکتے تھے (مگر ایسی تو کوئی بات بھی نہیں)

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ تو اس (قرآن) سے قبل نہ کوئی کتاب پڑھے ہوئے تھے اور نہ اسے (یعنی کوئی کتاب) اپنے ہاتھ سے لکھ سکتے تھے ورنہ (یہ) ناحق شناس لوگ شبہ نکالنے لگتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (اے نبی ﷺ !) آپ تو اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ ہی آپ اپنے داہنے ہاتھ سے اسے لکھتے تھے (اگر ایسا ہوتا) تب تو یہ جھٹلانے والے ضرور شک کرتے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور آپ اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اسے اپنے ہاتھ سے لکھ ہی سکتے تھے۔ ایسا ہوتا تو کفار ضرور شک کرتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Prophet), you did not recite any Book before, nor did you write it down with your hand; for then the votaries of falsehood would have had a cause for doubt.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

You (O Prophet,) have never been reciting any book before this, nor have you been writing it with your right hand; had it been so, the adherents of falsehood would have raised doubts.

— Muhammad Taqi Usmani

You (O Prophet,) have never been reciting any book before this, nor have you been writing it with your right hand; had it been so, the adherents of falsehood would have raised doubts.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Neither did you read any book before it nor did you write any book with your right hand. In that case, indeed, the followers of falsehood might have doubted.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And thou (O Muhammad) wast not a reader of any scripture before it, nor didst thou write it with thy right hand, for then might those have doubted, who follow falsehood.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And you did not recite before it any scripture, nor did you inscribe one with your right hand. Otherwise the falsifiers would have had [cause for] doubt.

— Saheeh International

You were not able to read or write before the Quran was revealed to you; otherwise, the followers of falsehood would have tried to confuse the matter.

— Muhammad Sarwar

And you did not recite before it any book, nor did you transcribe one with your right hand, for then could those who say untrue things have doubted.

— Muhammad Habib Shakir

And thou hast not been reciting any book before it, nor hast thou been writing it With thine right hand, for then might the followers of falsehood have doubted.

— Abdul Majid Daryabadi

And thou wast not (able) to recite a Book before this (Book came), nor art thou (able) to transcribe it with thy right hand: In that case, indeed, would the talkers of vanities have doubted.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 29:48

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 47–49

حق تلاوت فرمان ہے کہ جیسے ہم نے اگلے انبیاء پر اپنی کتابیں نازل فرمائی تھیں اسی طرح یہ کتاب یعنی قرآن شریف ہم نے اے ہمارے آخری رسول ﷺ تم پر نازل فرمایا ہے۔ پس اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ہماری کتاب کی قدر کی اور اس کی تلاوت کا حق ادا کیا وہ جہاں اپنی کتابوں پر ایمان لائے اس پاک کتاب کو بھی مانتے ہیں جیسے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ ، اور جیسے حضرت سلمان فارسی ؓ وغیرہ۔ اور ان لوگوں یعنی قریش وغیرہ میں سے بھی بعض لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں ہاں جو لوگ باطل سے حق کو چھپانے والے اور سورج کی روشنی سے آنکھیں بند کرنے والے ہیں وہ تو اسکے بھی منکر ہیں۔ پھر فرماتا ہے اے نبی ﷺ تم ان میں مدت العمرتک رہ چکے ہو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة العنکبوت 88 یہ نبی ﷺ کی نبوت کے ثبوت میں وہی استدلال ہے جو اس سے پہلے سورة یونس اور سورة قصص میں گزر چکا ہے (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، تفسیر سورة یونس 21 و تفسیر سورة قصس 64 و 109۔ اس مضمون کی مزید تشریح کے لیے تفہیم القرآن، تفسیر سورة نحل حاشیہ 107، بنی اسرائیل حاشیہ 105، المومنون حاشیہ 66، الفرقان حاشیہ 12، اور الشوری حاشیہ 84 کا مطالعہ بھی مفید ہوگا) اس آیت میں استدلال کی بنیاد یہ ہے کہ نبی ﷺ ان پڑھ تھے۔ آپ کے اہل وطن اور رشتہ و برادری کے لوگ جن کے درمیان روز پیدائش سے سن کہلوت کو پہنچنے تک آپ کی ساری زندگی بسر ہوئی تھی، اس بات سے خوب واقف تھے کہ آپ نے عمر بھر نہ کبھی کوئی کتاب پڑھی، نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–55

تفسیروں میں جو عام مفسرین نے اہل کتاب کی روایات نقل کی ہیں ان کا بھی یہی درجہ ہے اور نقل کرنے کا منشاء بھی صرف اس کی تاریخی حیثیت کو واضح کرنا ہے، احکام حلال و حرام کا ان سے استنباط نہیں کیا جاسکتا، مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّلَا تَخُــطُّهٗ بِيَمِيْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ ، یعنی نزول قرآن سے پہلے نہ آپ کوئی کتاب پڑھتے تھے، نہ کچھ لکھ سکتے تھے، بلکہ آپ امی تھے، اگر ایسا نہ ہوتا اور آپ لکھے پڑھے ہوتے تو اہل باطل کے لئے شک و شبہ کی گنجائش نکل آتی کہ یہ الزام لگاتے کہ آپ نے پچھلی کتابیں تورات و انجیل پڑھی ہیں یا نقل کی ہیں۔ آپ جو کچھ قرآن میں فرماتے ہیں وہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وما کنت تتلوا من قبلہ من کتب ولا تخطہ بیمینک اذا لارتاب المبطلون (48) یہ اہل کتاب کو توجہ دلائی گی ہے کہ اگر وہ ضد اور انانیت سے کام نہ لیں تو تمہاری رسالت کی یہ دلیل ان کے لئے کافی ہے کہ ایک شخص جس نے نہ آسمانی صحیفوں میں سے کوئی صحیفہ پڑھا اور نہ جو لکھنے کے فن سے واقف ہے آخر اس کے اوپر یہ تمام علوم کہاں سے برس پڑے کہ اس نے نہ صرف تمام نبیوں کی تعلیم کو ازسر نو زندی کردیا بلکہ جو کسر انہوں نے چھوڑی تھی وہ بھی اس نے پوری کردی۔ آنحضرت ﷺ کی رسالت کی یہ دلیل ہوں تو سب پر حجت ہے لیکن اہل کتاب پر یہ خاص طور پر حجت ہے اس لئے کہ وہ انبیاء سابقین کی تمام شریعت و حکتم کے وارث تھے۔ انہیں سوچنا چاہیے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

48-1اس لیے کہ ان پڑھ تھے 48-2اس لئے کہ لکھنے کے لئے بھی علم ضروری ہے، جو آپ نے کسی سے حاصل ہی نہیں کیا تھا۔ 48-3یعنی اگر آپ پڑھے لکھے ہوتے یا کسی استاد سے کچھ سیکھا ہوتا تو لوگ کہتے کہ یہ قرآن مجید فلاں کی مدد سے یا اس سے تعلیم حاصل کرنے کا نتیجہ ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 47–48

28: حضور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے امی بنایا، یعنی آپ لکھتے پڑھتے نہیں تھے۔ اس آیت میں اس کی حکمت بیان فرمائی گئی ہے کہ امی ہونے کے باوجود جب آپ کی زبان مبارک پر قرآن کریم جاری ہوا تو یہ بذات خود ایک عظیم الشان معجزہ تھا کہ جس شخص نے کبھی نہ پڑھنا سیکھا، نہ لکھنا، وہ ایسا فصیح وبلیغ کلام پیش کر رہا ہے جس کی مثال پیش کرنے سے سارا عرب عاجز ہوگیا۔ قرآن کریم فرما رہا ہے کہ اگر آپ پڑھتے لکھتے ہوتے تو آپ کے مخالفین کو یہ کہنے کا کچھ نہ کچھ موقع مل جاتا کہ آپ نے کہیں سے پڑھ پڑھا کر یہ مضامین اکٹھے کرلیے ہیں۔ اگرچہ اعتراض اس پر بھی فضول ہی ہوتا، لیکن اب تو یہ کہنے کا کوئی موقع ہی باقی نہیں رہا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وما کنت تتلوا ۔۔۔۔۔ لارتاب المبطلون (48) قرآن کریم کفار کے شبہات کا پیچھا کرتا ہے ، یہاں تک کہ ان کے بچگانہ اعتراضات اور شبہات کا بھی دفعیہ کردیا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے زندگی کا طویل ترین حصہ کفار مکہ کے درمیان بسر کیا تھا۔ آپ نہ پڑھ سکتے تھے اور نہ لکھ سکتے تھے۔ اچانک انہوں نے ایسی عجیب کتاب پیش کی جس نے تمام پڑھے لکھے لوگوں اور لکھنے والوں کو عاجز کردیا۔ اگر حضور اکرم ﷺ نزول قرآن سے قبل پڑھے لکھے ہوتے تو کفار مکہ جائز طور پر اعتراض کرتے کہ حضور ﷺ خود تصنیف کر رہے ہیں لہٰذا اب وہ جو اعتراضات کرتے ہیں وہ بےبنیاد ہے۔ میں کہتا ہوں قرآن کریم ان کے لغو اور بچگانہ سوالات کا بھی جواب دیتا ہے۔ ورنہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 نزول قرآن سے پہلے آپ کی عمر کے چالیس سال ان ہی مکہ والوں میں گزرے۔ سب جانتے ہیں کہ اس مدت میں نہ آپ کسی استاد کے پاس بیٹھے نہ کوئی کتاب پڑھی نہ کبھی ہاتھ میں قلم پکڑا، ایسا ہوتا تو ان باطل پرستوں کو شبہ نکالنے کی جگہ رہتی کہ شاید اگلی کتابیں پڑھ کر یہ باتیں نوٹ کرلی ہوں گی، ان ہی کو اب آہستہ آہستہ اپنی عبارت میں ڈھال کر سنا دیتے ہیں۔ گو اس وقت بھی یہ کہنا غلط ہوتا، کیونکہ کوئی پڑھا لکھا انسان بلکہ دنیا کے تمام پڑھے لکھے آدمی مل کر اور کل مخلوق کی طاقت کو اپنے ساتھ ملا کر بھی ایسی بےنظیر کتاب تیار نہیں کرسکتے، تاہم جھوٹوں کو بات بنانے کا ایک موقع ہاتھ لگ جاتا لیکن جب کہ آپ کا امیّ ہونا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 48 وَمَا کُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِہٖ مِنْ کِتٰبٍ وَّلَا تَخُطُّہٗ بِیَمِیْنِکَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ ” قرآن نازل ہونے سے پہلے تو آپ ﷺ ان لوگوں کو کوئی کتاب پڑھ کر نہیں سناتے تھے اور نہ ہی آپ ﷺ کوئی کتاب خود اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے ‘ بلکہ دنیوی اعتبار سے تو آپ ﷺ نے نہ کوئی تعلیم حاصل کی ہے اور نہ ہی آپ ﷺ نے پڑھنا لکھنا سیکھا ہے۔ ہاں اگر ایسا ہوتا تو قرآن کو باطل قرار دینے والوں کے لیے اس کے بارے میں شک کی کچھ گنجائش پیدا ہوسکتی تھی کہ جی ہاں ! یہ حضرت تو پرانے لکھاری ہیں ‘ روز روز کی مشق سے قلم میں زور اور تحریر میں نکھار آتا گیا اور رفتہ رفتہ یہ سلسلہ یہاں تک پہنچ گیا کہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

80 آپ کی رسالت کو جھٹلانے یا اسے کم از کم مشکوک بنانے کے لئے قریش نے جو باتیں اختراع کی تھیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ اس شخص نے سابقہ آسمانی کتابوں سے فیض حاصل کیا ہے اور اس کی بنیاد یہ تھی کہ آپ کی پیش کردہ کتاب یعنی قرآن کے بہت سے مضامین تورات سے ملتے جلتے تھے اور بعض منصف اہل کتاب اسی بات کی تصدیق بھی کردیتے ہیں۔ اس آیت میں ان کے اسی اعتراض کا جواب دیا گیا ہے کہ آپ نبوت سے پیشتر نہ تو کوئی کتاب پڑھ سکتے تھے کہ اس کے مطالعہ سے آپ کو ایسی معلومات حاصل ہوں اور نہ ہی لکھ سکتے تھے کہ علمائے اہل کتاب سے سن کر اسے نوٹ کرتے جائیں اور بعد میں اپنی طرف سے پیش کردیں۔ ہاں ان میں سے کوئی بھی صورت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

59۔ یعنی اس وقت کچھ تو منشاء اشتباء ان لوگوں کے پاس ہوتا۔ اور یہ لوگ آپ ﷺ کی بابت یہ کہنے لگتے کہ آدمی پڑھے لکھے ہیں کسی دوسری آسمانی کتاب سے مضامین چرا لیے ہیں حالانکہ قرآن کے وجوہ اعجاز اتنے کھلے ہوئے ہیں کہ اس وقت بھی دعوے کو چلنے نہ دیتے لیکن بہرحال کچھ تو گنجائش ہوتی، اور اب تو اتنی بھی نہیں۔ رسول کریم ﷺ کی امت اور ناخواندہ ہونے پر اس سے بڑھ کر صریح شہادت اور کیا ہوگی۔ اس پر بھی ناحق شناسوں کا ایک گروہ (خصوصا مسیحی پادریوں کا) آج تک اس پر مصر چلا آرہا ہے کہ آپ ﷺ ضرور پڑھے لکھے تھے، اور اس پر رسالے اور کتابیں چھاپتا چلا جاتا ہے ! باطل پرستی کی بھی کوئی انتہاء ہے !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 45–51

آیت نمبر 45 تا 51 ترجمہ : جو کتاب آپ پر یعنی قرآن وحی کی گئی ہے آپ اس کو پڑھا کیجئے اور نماز کی پابندی رکھئے یقیناً نماز بیحیائی اور شرعاً ناشائستہ کاموں سے روک دیتی ہے یعنی نماز کی شان یہی ہے، جب یک انسان نماز میں ہوتا ہے بیشک اللہ کا ذکر دیگر طاعتوں کے مقابلہ میں بہت بڑی چیز ہے جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے اس کی تم کو وہ جزادے گا اور تم اہل کتاب کے ساتھ بجز مہذب طریقہ کے مجادلہ کرو مثلاً اللہ کی طرف اللہ کی آیات کے ذریعہ دعوت دو اور اس کے دلائل پر تنبیہ کرو مگر ان کے ساتھ جو ان میں زیادتی کریں بایں طور کہ محاربہ کریں اور جزیہ دینے سے انکار کریں تو ایسے لوگوں سے جہاد بالسیف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما کنت تتلوا من قبلہ من کتب ولا تخطہ بیمینک اذا الارتاب المبطلون آپ اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے ‘ نہ اپنے ہاتھ سے کوئی کتاب لکھتے تھے (اگر ایسا ہوتا تو) اس وقت باطل پرست (یہ کافر) شک میں پڑجاتے۔ مِنْ قَبْلِہٖ اس کتاب کے نزول سے پہلے۔ بِیَمِیْنِکَ اپنے سیدھے ہاتھ سے۔ لکھنا تو ہاتھ سے ہی ہوتا ہے پھر اس لفظ کی صراحت بتارہی ہے کہ مجازی معنی اس جگہ مراد نہیں ہے (لکھنے سے مراد ہے کبھی لکھوانا بھی مجازاً ہوتا ہے۔ ایک بادشاہ نے دوسرے بادشاہ کو لکھا ‘ یعنی اپنے وزیر پیشی سے لکھوایا) یمین کے لفظ سے عدم تحریر کی زیادہ تصور کشی ہے (بائیں ہاتھ سے تو شاید کوئی لکھ لیتا ہو ‘ دایاں ہاتھ ہی عام طور پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 48–49

اور آپ قرآن کریم سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھے ہوئے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے کسی کتاب کو لکھ سکتے تھے اور اگر ایسی حالت ہوتی تو یہ یہود و نصاری اور مشرکین ضرور شکل کرتے اور کہتے کہ ہماری کتابوں میں تو نبی امی کی بشارت ہے بلکہ آپ کی نعت و صفت کے بارے میں خود بہت سی واضح دلیلیں ہیں ان لوگوں کے دلوں میں جن کو علم توریت دیا گیا ہے یا یہ قرآن کریم ہی آپ کی نبوت کے لیے خود بہت سی واضح دلیلوں والا اور حلال و حرام اور اوامرو نواہی کو واضح طور پر بیان کرنے والا ان لوگوں کے سینوں میں محفوظ ہے جن کو قرآن کریم کا علم دیا گیا ہے۔ اور ہماری آیات یعنی رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم سے یہ یہود و نصاری اور مشرکین ہی…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ۔۔ : یعنی اے نبی ! وحی کے ذریعے سے آنے والی جس کتاب کی تلاوت کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اس کے نزول سے پہلے آپ اپنی قوم میں چالیس سال کا عرصہ رہے ہیں، نہ آپ کسی بھی طرح کی لکھی ہوئی کوئی چیز پڑھتے تھے نہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتے تھے، بلکہ محض امیّ تھے۔ وہ سب لوگ اس بات کو بخوبی جانتے ہیں جن میں آپ کی زندگی گزری، بلکہ بہت تھوڑے آدمی چھوڑ کر ان کا اپنا حال بھی یہی ہے کہ وہ امیّ ہیں، جیسا کہ فرمایا : (هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا) [ الجمعۃ : 2 ] ”وہی ہے جس نے ان پڑھوں میں ایک رسول انھی میں سے بھیجا۔“ اور پہلی کتابوں میں بھی آپ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1:۔ قبلۃ کی ضمیر کتاب کی طرف لوٹ رہی ہے جو قرآن ہے جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوا۔ اے محمد ﷺ آپ اس سے قبل اسے نہیں پڑھتے تھے اور اہل کتاب سے اختلاف نہیں کرتے تھے بلکہ ہم نے اسے اعجاز کے انتہائی درجہ پر فائز فرما کر غیوب کا ضامن بنا کر اور دوسرے مقاصد کے لئے اسے نازل کیا۔ اگر آپ کتاب پڑھتے ہوتے اور حروف لکھا کرتے تو اہل کتاب میں سے باطل پرست شک میں مبتلا ہوجاتے اور ان کے شک کی کوئی وجہ بھی ہوتی۔ وہ کہتے ہم نے اپنی کتابوں میں تو اسے امی پایا ہے جو نہ لکھا ہے اور نہ پڑھتا ہے پس یہ وہ نہیں : مجاہد نے کہا : اہل کتاب اپنی کتابوں میں پاتے کہ حضرت محمد ﷺ نہ لکھتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 48–50

1۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت وما کنت تتلوا من قبلہ من کتب ولا تخطہ بیمینک کے بارے میں روایت کیا کہ اہل کتاب اپنی کتابوں میں پاتے تھے کہ محمد ﷺ نہ تو اپنے ہاتھ سے لکھیں گے اور نہ کتاب کو پڑھیں گے تو یہ آیت وماکنت تتلو من قبلہ من کتب ولا تخطہ بیمینک ولا تکطہ بیمینک اذا لارتاب المبطلہون یعنی آپ سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے کوئی کتاب لکھتے تھے اگر ایسا ہوتا تو اس وقت باطل پرست یعنی کفار شک میں پڑجاتے۔ 2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن المردویہ والاسمعیلی نے اپنی معجم میں ابن عباس ؓ سے آیت وما کنت تتلوا من قبلہ من کتب ولا تخطہ بیمینک…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمَا كُنْتَ تَتْلُوْا [اور آپ ﷺ نہیں پڑھا کرتے تھے ] مِنْ قَبْلِهٖ [اس سے پہلے ] مِنْ كِتٰبٍ [کوئی سی بھی کتاب ] وَّلَا تَخُــطُّهٗ [اور نہ ہی آپ ﷺ لکھتے تھے اس کو ] بِيَمِيْنِكَ [اپنے داہنے ہاتھ سے ] اِذًا [تب تو ] لَّارْتَابَ [ضرور شبہ میں پڑتے ] الْمُبْطِلُوْنَ [ناحق کرنے والے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

رسالت محمدیہ پر ایک واضح دلیل : اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر ایک واضح دلیل بیان فرمائی اور وہ یہ کہ آپ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے، اہل مکہ میں آپ نے پورے چالیس سال گزارے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت سے سرفراز فرمایا، مکہ والے جانتے تھے کہ آپ بالکل امی ہیں کسی سے آپ نے کچھ بھی نہیں پڑھا، آپ نہ پڑھنا جانتے تھے نہ لکھنا۔ اہل کتاب بھی اپنی کتابوں میں جو آپ کی صفات پاتے ان میں یہ واضح طور پر موجود تھا کہ آپ امی ہوں گے۔ مکہ معظمہ میں آپ نے نبوت کے بعد تیرہ سال گزارے اور ان کو اللہ تعالیٰ کی کتاب سنائی تو انہوں نے ضد اور عناد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی کتاب ہونے سے انکار کردیا اور یوں کہنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–55

اثبات رسالت محمدیہ وازالہ شکوک و شبہات منکرین نبوت قال اللہ تعالیٰ اتل ما اوحی الیک من الکتب واقم الصلوٰہ۔۔۔ الی۔۔۔ ذوقوا ما کنتم تعملون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں توحید کا ذکر تھا اور اس بات کا ذکر تھا کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) نے لوگوں کو توحید کی دعوت دی اور شرک سے منع کیا بالآخر وہ منکرین ہلاک ہوئے اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کی رسالت کا مضمون ذکر کرتے ہیں اور منکرین رسالت کے بعض شبہات کا جواب دیتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ ان کے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کیجئے جو توحید کے مضامین پر اور گذشتہ امتوں کے حال اور مال پر مشتمل ہے اور آپ ﷺ کی رسالت کا عظیم معجزہ ہے عجب نہیں کہ آیات خداوندی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

41:۔ یہ آنحضرت ﷺ کی نبوت اور دعوی توحید میں سچا ہونے کی دلیل ہے۔ یعنی قرآن کے نزول سے پہلے نہ تو آپ پہلی کتابیں پڑھا کرتے تھے اور نہ کچھ تحریر کیا کرتے تھے یعنی آپ پڑھنا اور لکھنا جانتے ہی نہ تھے۔ اگر آپ لکھنا پڑھنا جانتے ہوتے تو باطل پرست یعنی مشرکین مکہ کو شکوک و شبہات کی ایک اور راہ مل جاتی اور وہ کہتے محمد ﷺ کتب سابقہ کا مطالعہ کرتا رہتا ہے اور پھر اپنے ہاتھ سے مضامین لکھ کر وحی الٰہی کے نام سے ہمارے سامنے پیش کردیتا ہے۔ لیکن اب اس شب ہے کی کوئی گنجائش نہیں اس لیے اب ماننا پڑے گا کہ آپ جو کچھ بیان کرتے ہیں وہ اللہ کی وحی سے کرتے ہیں اور آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ قال النحاس دلیلا علی نبوتہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 46–51

ربطِ آیات سورة العنکبوت اللہ تعالیٰ نے زیادہ تر ایمان کے ساتھ ابتلاء کا ذکر کیا ہے اور اس سلسلہ میں بعض انبیاء کی آزمائش کے واقعات بیان کرکے اہل ایمان کو تسلی دی ہے کہ کسی کو بغیر آزمائش کے نہیں چھوڑا جائے گا۔ پھر اللہ نے شرک کی قباحت کو ایک مثال کے ذریعے واضح کیا ، پھر توحید کی دعوت دی۔ اس کے بعد نبی (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ جو چیز آپ کی طرف بصورت وحی ناز کی جاتی ہے اس کو پڑھیں اور نماز قائم رکھیں کہ یہ بےحیائی اور برائی سے روکنے والی چیز ہے۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے اور اللہ تعالیٰ تمہاری تمام کارگزاریوں سے واقف ہے۔ اہل کتاب کے ساتھ مجادلہ اہل کتاب اور مشرک لوگ اسلام…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِہٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّلَا تَخُطُّہٗ بِيَمِيْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ۝ 48 خط الخطّ کالمدّ ، ويقال لما له طول، والخطوط أضرب فيما يذكره أهل الهندسة من مسطوح، ومستدیر، ومقوّس، وممال، ويعبّر عن کلّ أرض فيها طول بالخطّ كخطّ الیمن، وإليه ينسب الرّمح الخطّيّ ، وكلّ مکان يَخُطُّهُ الإنسان لنفسه ويحفره يقال له خَطُّ وخِطَّةٌ. والخَطِيطَة : أرض لم يصبها مطر بين أرضین ممطورتین کالخطّ المنحرف عنه، ويعبّر عن الکتابة بالخَطِّ ، قال تعالی: وَما كُنْتَ تَتْلُوا مِنْ قَبْلِهِ مِنْ كِتابٍ وَلا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ [ العنکبوت/ 48] . ( خ ط ط ) الخط ( مثل مد ) جس میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 47–49

تفسیر : وکذلک انزلنا الیک الکتاب پھر اب تم کو ہمارے اہل حق ہونے میں کیا کلام باقی ہے، صاف بات ہے ہم پر نبی یا کتاب نہ ماننے کا الزام عائد نہیں ہوسکتا، ہاں تم پر ہے اس لیے خدا ترس اہل کتاب جیسا کہ عبداللہ بن سلام ؓ اور عرب کے بھی با انصاف لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں۔ فالذین اتینہم الکتاب یؤمنون بہ الخ پھر جو اس کا منکر ہے تو وہی ہے جو ازلی کافر ہے۔ وما یجحد بایتنا الا الکفرون اس کے بعد ایک اور دلیل تسلی بخش ذکر کرکے فرماتا ہے۔ وما کنت تتلوا من قبلہ من کتب ولا تخطہ بیمینک اذا لارتاب المبطلون کہ اس دن سے پہلے آپ نہ کبھی کوئی کتاب پڑھتے تھے، نہ لکھتے تھے یعنی ظاہری علم نہیں تھا، اگر اگلی کتابیں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَا کُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِـہٖ مِنْ کِتٰبٍ وَّلاَ تَخُطُّہٗ بِیَمِیْـنِکَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ ۔ (العنکبوت : 48) (اے پیغمبر ! آپ اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ اس کو اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے، (اگر ایسا ہوتا) تو باطل پرست لوگ شک میں پڑ سکتے تھے۔ ) آنحضرت ﷺ کی رسالت نہایت سادہ اور محکم دلیل یوں تو یہ بات ساری دنیائے کفر سے کہی گئی ہے لیکن سابقہ آیات میں چونکہ اہل کتاب کا ذکر ہورہا ہے اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ اہل کتاب کو توجہ دلائی جارہی ہے کہ اگر وہ خاندانی تعصب سے نکل سکیں اور انانیت کو راستے میں حائل نہ ہونے دیں تو آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم کی صداقت کے لیے ایک نہایت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 48–49

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کی صداقت اور نبی اکرم ﷺ کی نبّوت کے مزید ثبوت۔ سب سے پہلے قرآن مجید کا انکار کرنے والے اہل مکہ تھے، جن کا ایک الزام یہ تھا کہ محمد ﷺ اپنی طرف سے آیات بنا کر اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگاتا ہے جس کی درجنوں دلائل کے ساتھ نفی کی گئی ہے۔ جن میں دو دلائل یہ ہیں کہ سوچو اور غور کرو کہ محمد ﷺ اس سے پہلے نہ پڑھنا جانتے تھے اور نہ ہی اپنے ہاتھ سے لکھ سکتے تھے۔ اگر محمد ﷺ پہلے سے لکھنا پڑھنا جانتے ہوتے تو پھر تمہیں اس کی نبّوت میں ضرور شک ہوسکتا تھا کہ پڑھا لکھا انسان تھا اپنی صلاحیّت کی بنیاد پر ایک کتاب بنا لایا ہے۔ نبی ﷺ کی حالت یہ ہے کہ نہ آپ نے کسی کے سامنے زنوائے تلمذ طے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آپ نے کوئی کتاب نہیں پڑھی : 48: وَمَا کُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِہٖ (اور آپ اس سے پہلے پڑھتے نہ تھے کوئی کتاب) ۔ یعنی اس قرآن مجید سے پہلے۔ مِنْ کِتٰبٍ وَّلَا تَخُطُّہٗ بِیَمِیْنِکَ (اور نہ آپ اپنے دائیں ہاتھ سے اس کتاب کو لکھتے تھے) ۔ آیت میں یمین کو خاص کر ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے عموماً دائیں ہاتھ سے ہی لکھا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہوا۔ آپ نے کوئی سی کتاب بھی نہیں پڑھی اور نہ آپ لکھتے تھے۔ اِذًا (اس وقت) اگر اس میں سے کوئی چیز ہوئی۔ کتاب کا پڑھنا اور لکھنا۔ لاَّرْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ (ضرور باطل پرست شک میں پڑجاتے) ۔ یہاں باطل پرستوں سے اہل کتاب مراد ہیں کیونکہ وہ کہا کرتے تھے کہ ہم آپ کی تعریف امی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 48۔ وماکنت تتلوا، اے محمد، من قبلہ من کتاب، اس سے پہلے جوان پر کتاب نازل فرمائی ، لایخطہ بیمینک، وہ اس کو نہیں لکھتے تھے اور اس وقت نہ پڑھتے تھے اور نہ ہی لکھتے تھے وحی سے پہلے، اذالارتاب المبطلون، ، اگر آپ اسکو لکھو گے یاپڑھو گے وحی سے پہلے مشرکین اہل مکہ شک و شبہات میں پڑجائیں گے اور وہ کہیں گے کہ یہ توماقبل امتوں کے قصے کہانیاں ہیں ان کو منسوخ کردیا گیا ہے ، قتادہ نے کہا کہ یہی تفسیر بیان کی ہے کہ کافروں کو اہل باطل کفر سے یا شک میں پڑنے کی وجہ سے کہا گیا حالانکہ بکثرت معجزات کی کثرت کی موجودگی میں کفر میں یا شک میں پڑنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ مقاتل کا بیان ہے کہ مبطلون سے مراد ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 44–49

44 تا 49۔ ان آیتوں میں اپنی قدرت کا حال بیان فرمایا ہے کہ اس نے آسمان اور زمین کو بےفائدہ نہیں پیدا کیا بلکہ اس واسطے پیدا کیا کہ ہر ایک شخص کو اس کے عمل کا بدلہ ملے برے کو برا اچھے کو اچھا اس آیت میں ایمان والوں کو ہدایت ہے کہ اللہ اکیلا جہاں کا پیدا کرنے والا ہے وہی اکیلا پوجنے کے قابل ہے اور منکرین حشر کو یہ تنبیہ ہے کہ یہ لوگ خود تو دنیا میں کو کام کرتے ہیں اس میں کوئی نہ کوئی فائدہ ان کو مد نظر ہوتا ہے مثلا کھیتی میں پیدا وار کا فائدہ تجارت میں نقدی کا فائدہ ان کا مقصود ہوتا ہے پھر یہ نادان اللہ تعالیٰ کے اتنے بڑے انتظام کو بےفائدہ کیوں ٹھہراتے ہیں اتنا نہیں سمجھتے کہ دنیا کے ختم ہوجانے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 47–48

آیت نمبر : 47-48 (وکذلک انزلنا الیک الکتب) ” اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اتاری کتاب “ یعنی اے محمد ﷺ ہم نے آپ پر یہ کتاب کریم نازل کی جو ہر بڑی خبر کو کھول کھول کر بیان کرتی ہے جو ہر خلق حسن اور ہر امر کامل کی طرف دعوت دیتی ہے ‘ جو تمام کتب سابقہ کی تصدیق کرتی ہے جن کے بارے میں گزشتہ انبیاء نے خبر دی ہے۔ (فالذین اتینھم الکتب) ” پس جن لوگوں کو ہم نے کتاب عطا کی ہے “ انہوں نے اسے اس طرح پہچان لیا ہے جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے اور ان کے ہاں کسی حسد نے مداخلت کی ہے نہ خواہشات نفس نے۔ (یومنون بہ) ” وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ “ کیونکہ انہیں اس کے برحق اور سچے ہونے کا یقین ہوگیا ہے ‘ اس لیے کہ انہی کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–69

قول باری ہے : (ولا تجادلوا اھل الکتاب الا بالتیھی احسن۔ اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقے سے) قتادہ کا قول ہے کہ یہ آیت قول باری (وقاتلوا المشرکین اور مشرکین سے قتال کرو) کی بنا پر منسوخ ہوچکی ہے۔ کوئی بحث تلوار کے استعمال سے بڑھ کر نہیں ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قتادہ کی مراد یہ ہے کہ آیت، زیر بحث کا حکم قتال کے حکم سے پہلے کا ہے۔ قول باری ہے : (الا الذین ظلموا منھم ۔ سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں) ۔ یعنی۔ واللہ اعلم۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے بحث وجدال وغیرہ میں تمہارے ساتھ ظلم کیا ہو جو اس امر کا مقتضی ہو کہ تم ان کے ساتھ سخت رویہ رکھو۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 42–69

58 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اس کے احاطہ علم کے اعتبار سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ پوری طرح جانتا ہے ان سب چیزوں کو جن کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں اللہ کے سوا "۔ تعمیم ملاحظہ ہو کہ اول تو { شیئ } خود نکرہ ہے جو ہر چیز کو شامل ہے۔ پھر اس پر { من } استغراقیہ سے مزید تاکید۔ یعنی کوئی بھی چیز خواہ کوئی فرشتہ ہو یا انسان، شجر ہو یا حجر، بت ہو یا جن وغیرہ وغیرہ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ مافوق الاسباب کسی کو بھی پکارنا شرک ہے جو کہ سب سے بڑا گناہ اور ناقابل معافی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اب وہ لوگ دیکھ لیں جو اس وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر اس کی عاجز مخلوق کو پکارتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے " یا رسول…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 47–55

کفار کے لیے عذاب کی خبر تشریح : جیسا کہ پہلے قرآن کے آسمانی کتاب ہونے کے ثبوت دیے جا چکے ہیں تو ایک ثبوت اور دیا جا رہا ہے کہ نبوت سے پہلے چالیس سال آپ نے اہل مکہ کے ساتھ گزارے تھے۔ سب آپ کو اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ بڑے ایماندار تاجر ہیں انتہائی نیک فطرت ‘ نرم مزاج ‘ بےحد ذہین مگر آپ پڑھے لکھے نہ تھے لوگ جانتے تھے کہ آج تک نہ انہوں نے کوئی کتاب پڑھی ہے نہ کبھی کچھ لکھا ہے۔ تو پھر یکدم وہ اس قدر حکمت سے بھری باتیں، گزشتہ تاریخی واقعات اور مستقبل کے حالات، حقیقت پر مبنی باتیں، آسمانوں زمین کے پھیلائو، ملکی انتظامات ‘ عسکری (فوجی) مہارت کے اصول و ضوابط ‘ جنگی چالیں اور سب سے بڑھ کر انسانی زندگی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–51

آیات 45 تا 51 اسرارومعارف آپ قرآن پڑھا کیجیے اور نماز قائم کیجیے۔ یعنی کہ آپ قرآن کریم کو پڑھ کر سنایا کیجیے اس بات کی پرواہ کیے بغیر کہ کوئی ایمان لاتا ہے کہ نہیں۔ اور عبادات کو قائم کیجیے لہذا یہ ضروری ہے کہ قرآن کو مسلسل لوگوں پہ بیان کیا جائے یعنی تبلیغ کی جائے اور مبلغ خود عبادات پہ پورے اہتمام سے کاربند رہے کہ عبادات کا خاصہ یہ ہے کہ بندے کو برائی اور منکرات سے بچنے کی توفیق نصیب ہوتی ہے۔ قرآن کے بیان اور نماز کا اثر : یہ کمال قرآنی بیانات میں بھی ہے کہ جس بات پر قرآن سے وعظ کیا جائے کوئی قبول کرے یا نہ خود کرنے والے کو اس پہ عمل کی توفیق ارزاں ہوتی ہے اور نماز جو بارگاہ صمدیت کی حضوری…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 47–48

8 ۔ کہ پچھلی کتابوں کو دیکھ کر آپ نے پیغمبر کا دعویٰ کردیا ہے۔ اس آیت میں آنحضرت ﷺ کے امی ہونے کو آپ ﷺ کے دعوائے نبوت میں سچا ہونے پر دلیل ٹھہرایا ہے۔ (دیکھئے سورة قصص آیت 86 و سورة یونس آیت 16) بعض لوگوں نے صحیح بخاری میں صلح حدیبیہ والی روایت میں ” اخذ لکتب “ کہ قلم پکڑا اور لکھا سے استدلال کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ لکھنا پڑھنا جانتے تھے مگر یہ استدلال بچند وجوہ مخدوش ہے۔ اولاً تو صحیح بخاری کی دوسری روایت میں ” امر لکتب “ کے الفاظ ہیں جو وضاحت کے لئے کافی ہیں یعنی کہ ” اپ نے حکم دیا تو کاتب نے لکھا “ اور پھر اسی روایت میں :” ولایحن ان لکتب “ کے الفاظ ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا اس موقع…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(29ـ48) کنت تتلوا ماضی استمراری۔ واحد مذکر حاضر تو پڑھا کرتا تھا ۔ تو پڑھتا تھا۔ ما کنت تتلوا تو نہیں پڑھتا تھا۔ تو نہیں پڑھ سکتا تھا من قبلہ میں ضمیر ہ واحد مذکر غائب القرآن کی طرف راجع ہے ۔ ای قبل انزال القرآن۔ قرآن کے نازل ہونے سے پہلے۔ من کتب۔ کوئی کتاب۔ ولا تخطہ مضارع منفی واحد مذکر حاضر ۔ خط یخط (باب نصر) خط (مضاعف) لکھنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کتاب کی طرف راجع ہے۔ اور نہ ہی تم اس کو لکھ سکتے تھے۔ بیمینک۔ تیرے دائیں ہاتھ سے۔ تو اپنے دائیں ہاتھ کے ساتھ۔ نفی کی تاکید کے لئے آیا ہے۔ یعنی نہ تو نے کبھی اپنے دائیں ہاتھ سے (جو اکثر اسی ہاتھ سے لکھنے کا کام لیا جاتا ہے) ایسی کسی کتاب کو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 48–55

لغات القرآن آیت نمبر (48 تا 55) ۔ لا تخط (نہیں لکھتا ہے) ۔ یمین (داہنا ہاتھ) ۔ ارتاب (شک کیا) ۔ المبطلون (ناحق چلنے والے) ۔ لم یکف (کافی نہیں ہے) ۔ یستعجلون (وہ جلدی کرتے ہیں) ۔ مسمی (مقرر۔ متعین) ۔ بغتتہ (اچانک) ۔ تشریح : آیت نمبر (48 تا 55) ۔ ” اللہ تعالیٰ کا نظام یہ ہے کہ اس نے انسانوں کو پیدا کر کے ان کی رہنمائی کے اسباب بھی مہیا کئے ہیں چناچہ ہر دور میں اللہ نے اپنے رسولوں کو بھیجا اور ان کو وہ کتاب ہدایت بھی دی جس میں دنیا میں زندگی گذار کر آخرت کی کامیابیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ جب نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا تو اس وقت تو ریت، زبور اور انجیل کتابیں موجود تھیں جس میں انسانی ہاتھوں نے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 48–49

قرآن شریف کا حق ہونا۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اے محبوب ﷺ قرآن کے نازل ہونے سے پہلے تم نہ تو کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ کوئی کتاب اپنے دائیں بائیں ہاتھ سے لکھتے تھے ۔ تو ان مشرکوں کے دل جانتے ہیں کہ امی شخص ایسی کتاب تو اپنے دل سے ہرگز نہیں بناسکتا جس کا بنانا پڑھے لکھے لوگوں کی قدرت سے بھی باہر ہے اور پہلی کتابوں میں تمہارے اوصاف ایسے تفصیل سے ہیں کہ اہل کتاب کے دل بھی خوب جانتے ہیں کہ تم اللہ کے رسول ہو، اور قرآن شریف کلام الٰہی ہے ۔ پس اس روشن دلیل سے ظاہرہوگیا کہ یہ کتاب اس کے برگزیدہ اور سچے بندے محمد ﷺ پر نازل ہوئی ، جو اس پر ایمان لایا اس نے کامیابی حاصل کرکے اس کے مہمان خانہ فردوس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 47–49

[20] یعنی اہل ایمان۔ [21] یعنی نبی ﷺ [22] یعنی اُمّی ہونے کے باوجود تم پر قرآن جیسی کتاب کا نازل ہونا، کیا بجائے خود اتنا بڑا معجزہ نہیں کہ تمہاری رسالت پر یقین لانے کے لئے کافی ہو ؟ اس کے بعد بھی کسی اور معجزے کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے ؟

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

امی نبی ﷺ 2: اس آیت میں قرآن حضور ﷺ کی شان امت کو پیش کرتا ہے ۔ کہ وہ شخص جس نے توحید کے اسرار و رموز کو وہ شگاف طور پر بیان کیا جس نے انسانوں کی صحیح رانمائی کی ۔ جس نے مذہب کی مشکل لتھیوں آن کی آن میں نہایت آسانی سے سلجھادیا ۔ جس نے نفس عقل کو حیران و ششدر کردیا ۔ جس کی حکمت حکمت بانعہ جس نافرمان فرمان فطرت ۔ جو دنیا جہان کا محبوب ہے ۔ جس کے ادنی خادموں کی غلامی فلسفہ نے صدیوں تک کی ۔ جس نے قرآن ایسی عظیم الشان کتاب پیش کی جس نے قیامت تک کے لئے دماغوں کو مخاطب کرکے کہا ۔ کہ اگر تمہیں اس کی عظمت میں کلام ہے ۔ تو آؤ اس کا مقابلہ کرکے دیکھ لو ۔ وہ امی تھا ۔ اس نے کسی شخص کے سامنے زانوئے تلمذ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

48۔ اور اے پیغمبر ! آپ اس کتاب یعنی قرآن کریم سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھے ہوئے تھے اور نہ کوئی کتاب اپنے داہنے ہاتھ سے لکھ سکتے تھے ایسا ہوتا تو یہ باطل پرست اور ہٹ دھرم جھوٹے اس وقت ضرور کسی شبہ میں پڑتے۔ نبی کریم ﷺ کی صداقت اور قرآن کریم کے منزل من اللہ ہونے پر ایک اور دلیل بیان کی گئی ہے کہ نزول قرآن کریم سے پیشتر آپ کوئی کتاب نہ پڑھ سکتے تھے نہ لکھ سکتے تھے اگر لکھنا پڑھنا جانتے ہوتے تھے تو اس شبہ کا امکان بھی تھا کہ لکھے پڑھے آدمی ہیں کہیں بیٹھ کر یہ قرآن کریم مرتب کرلیا ہوگا اگرچہ پھر بھی اس کی اعجازی فصاحت و بلاغت اس کی مقتضی تھی کہ اس کو منجانب اللہ مانا جائے لیکن اس وقت اہل زیغ اور اہل…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 46–51

ف 4۔ یعنی ان کو جواب ترکی بہ ترکی دینے کا مضائقہ نہیں، گو افضل جب بھی طریقہ احسن ہے۔ 5۔ کیونکہ مدار ایمان کا منزل من اللہ ہونا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نبوت سے پہلے نبی کریم ﷺ نہ لکھ سکتے تھے اور نہ ہی پڑھ سکتے تھے : 48۔ نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ نبوت سے پہلے نہ تو لکھنا جانتے تھے اور نہ ہی پڑھنا کیونکہ آپ ﷺ نے کسی انسان کے سامنے تہ زانو نہیں کئے کہ کسی سے لکھنا اور پڑھنا سیکھا ہو اور یہ واضح طور پر اس بات کی نشانی ہے کہ آپ ﷺ نے قرآن کریم کی عبارت میں سے کچھ بھی اپنی طرف سے بیان نہیں کیا اور نہ ہی نزول قرآن کریم سے پہلے لکھنا پڑھنا جانتے تھے کہ آپ ﷺ نے کسی سے کچھ سیکھ لیا ہو یا کسی سے کچھ پڑھ لیا یا کسی سے کچھ لکھوا لیا ہو جس کو بعد میں املا کیا گیا ہو لیکن نبوت آئی تو نبوت کے ساتھ ہی پڑھنا بھی آگیا اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبوت کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 47–48

The status of the narrations of the People of the Book quoted by the commentators in their commentaries is also the same. The object of their reproduction in the commentaries is meant to highlight their historical position. They cannot be used for determining what is permitted (halal) and what is not permitted حَرَام (haram). مَا كُنتَ تَتْلُو مِن قَبْلِهِ مِن كِتَابٍ وَلَا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ إِذًا لَّارْ‌تَابَ الْمُبْطِلُونَ (And you have never been reciting any book before this, nor have you been writing it with your right hand, had it been so, the people of falsehood would have raised…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

88 This is the same argument that has already been given in Surahs Yunus and Qasas as a proof of the Holy Prophet's Prophethood. (See E.N. 21 of Yunus and E.N.'s 64 and 109 of AI-Qasas. For further explanation, see E.N. 107 of An-Nahl, E.N. 105 of Bani Isra'il, E.N. 66 of AI-Mu'minun, E.N. 12 of Al-Furqan, and E.N. 84 of Ash-Shu`araa). The basis of the argument in this verse is that the Holy Prophet was unlettered. His compatriots and his kinsmen among whom he had spent his whole life, from birth to old age, knew fully well that he had never read a book nor ever handled a pen. Presenting this…

Read the full tafseer →