Explained with ayahs 47–49
حق تلاوت
فرمان ہے کہ جیسے ہم نے اگلے انبیاء پر اپنی کتابیں نازل فرمائی تھیں اسی طرح یہ کتاب یعنی قرآن شریف ہم نے اے ہمارے آخری رسول ﷺ تم پر نازل فرمایا ہے۔ پس اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ہماری کتاب کی قدر کی اور اس کی تلاوت کا حق ادا کیا وہ جہاں اپنی کتابوں پر ایمان لائے اس پاک کتاب کو بھی مانتے ہیں جیسے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ ، اور جیسے حضرت سلمان فارسی ؓ وغیرہ۔ اور ان لوگوں یعنی قریش وغیرہ میں سے بھی بعض لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں ہاں جو لوگ باطل سے حق کو چھپانے والے اور سورج کی روشنی سے آنکھیں بند کرنے والے ہیں وہ تو اسکے بھی منکر ہیں۔ پھر فرماتا ہے اے نبی ﷺ تم ان میں مدت العمرتک رہ چکے ہو…
Read the full tafseer →سورة العنکبوت 84
اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جس طرح پہلے انبیاء پر ہم نے کتابیں نازل کی تھیں اسی طرح اب یہ کتاب تم پر نازل کی ہے۔ دوسرا یہ کہ ہم نے اسی تعلیم کے ساتھ یہ کتاب نازل کی ہے کہ ہماری پچھلی کتابوں کا انکار کر کے نہیں بلکہ ان سب کا اقرار کرتے ہوئے اسے مانا جائے۔
سورة العنکبوت 85
سیاق وسباق خود بتارہا ہے کہ اس سے مراد تمام اہل کتاب نہیں ہیں بلکہ وہ اہل کتاب ہیں جن کو کتب الہیہ کا صحیح علم و فہم نصیب ہوا تھا، جو " چارپائے بروکتا بےچند " کے مصداق محض کتاب بردار قسم کے اہل کتاب نہیں تھے، بلکہ حقیقی معنی میں اہل کتاب تھے۔ ان کے سامنے جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی پچھلی کتابوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
خلاصہ تفسیر
اور جب پیغمبر ﷺ کی رسالت ثابت ہے تو اے مسلمانوں منکرین رسالت میں سے جو اہل کتاب ہیں ہم ان سے طریقہ گفتگو بتلاتے ہیں اور یہ تخصیص اس لئے کہ اول تو وہ بوجہ اہل علم ہونے کے بات کو سنتے ہیں اور مشرکین تو بات سننے سے پہلے ہی ایذا کے در پے ہوجاتے ہیں، دوسرے اہل علم کے ایمان لے آنے سے عوام کا ایمان زیادہ متوقع ہوجاتا ہے اور وہ طریقہ یہ ہے کہ) تم اہل کتاب کے ساتھ بجز مہذب طریقے کے مباحثہ مت کرو ہاں جو ان میں زیادتی کریں (تو ان کو جو ترکی بہ ترکی دین کا مضائقہ نہیں، گو افضل جب بھی طریقہ احسن ہے) اور (وہ مہذب طریقہ یہ ہے کہ مثلاً ان سے) یوں کہو کہ ہم اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو ہم پر…
Read the full tafseer →وکذلک انزلنا الیک الکتب ط فالذین اتینھم الکتب یومنون بہ ج و من ھولا من تو من بہ ط وما یجحد بایتنا الا الکفرون (47)
’ وکذلک انزلنا الیک الکتب ‘ یعنی دعوت کے اسی اصول پر جس کی طرف اوپر کی آیت میں اشارہ ہے ہم نے تم پر یہ کتاب اتاری ہے۔ یہ کتاب اس بات کی مدعی نہیں ہے کہ سب سے پہلے یہ باتیں اسی کتاب میں نازل ہوئیں بلکہ اس کا دعویٰ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام نبیوں اور رسولوں نے اسی دین کی دعوت دی ہے جس کی دعوت یہ کتاب دے رہی ہے لیکن پچھلی امتوں نے یا تو اللہ کی اتاری ہوئی تعلیمات بھلا دیں یا ان میں اپنی ہوائے نفس کے مطابق تبدیلیاں کردیں اس طرح اللہ کا دین بالکل مسخ و محرف ہوگیا تھا۔ اب اللہ نے…
Read the full tafseer →47-1اس سے مراد عبد اللہ بن سلام وغیرہ ہیں۔ ایتائے کتاب سے مراد اس پر عمل ہے، گویا اس پر جو عمل نہیں کرتے، انھیں یہ کتاب دی ہی نہیں گئی۔
47-2ان سے مراد اہل مکہ ہیں۔ جن میں سے کچھ لوگ ایمان لے آئے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
28: حضور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے امی بنایا، یعنی آپ لکھتے پڑھتے نہیں تھے۔ اس آیت میں اس کی حکمت بیان فرمائی گئی ہے کہ امی ہونے کے باوجود جب آپ کی زبان مبارک پر قرآن کریم جاری ہوا تو یہ بذات خود ایک عظیم الشان معجزہ تھا کہ جس شخص نے کبھی نہ پڑھنا سیکھا، نہ لکھنا، وہ ایسا فصیح وبلیغ کلام پیش کر رہا ہے جس کی مثال پیش کرنے سے سارا عرب عاجز ہوگیا۔ قرآن کریم فرما رہا ہے کہ اگر آپ پڑھتے لکھتے ہوتے تو آپ کے مخالفین کو یہ کہنے کا کچھ نہ کچھ موقع مل جاتا کہ آپ نے کہیں سے پڑھ پڑھا کر یہ مضامین اکٹھے کرلیے ہیں۔ اگرچہ اعتراض اس پر بھی فضول ہی ہوتا، لیکن اب تو یہ کہنے کا کوئی موقع ہی باقی نہیں رہا۔
Read the full tafseer →وکذلک انزلنا الیک ۔۔۔۔۔۔ بایتنا الا الکفرون (47)
” اسی طرح “ یعنی ایک ہی مسلسل اور تاریخی منہاج کے مطابق ، ایک ہی سنت الہیہ کے مطابق جو اٹل ہے اور اسی طریقے کے مطابق جس کے ذریعے اللہ ہمیشہ رسولوں کو ہدایت دیتا رہا ہے۔
وکذلک انزلنا الیک الکتب (29: 47) ” اے نبی ﷺ ، ہم نے اسی طرح تمہاری طرف کتاب نازل کی ہے “۔ اور جب کتاب نازل کی تو لوگ اس کے مقابلے میں دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے ۔ ایک تو وہ لوگ تھے جو اہل کتاب میں سے بھی تھے اور قریش میں سے بھی تھے وہ تو ایمان لے آئے اور دوسرا گروہ وہ لوگ ہیں جو اہل کتاب کے ایمان اور شہادت کے بعد بھی اس کو تسلیم نہیں کرتے حالانکہ وہ اس کی سچائی کی تصدیق کرچکے…
Read the full tafseer →8 یعنی اس کتاب میں آخر تمہاری کتابوں سے کونسی بات کم ہے جو قبول کرنے میں تردد ہے۔ جس طرح انبیائے سابقین پر کتابیں اور صحیفے ایک دوسرے کے بعد اترتے رہے، پیغمبر آخرالزماں پر یہ کتاب لاجواب اتری اس کے ماننے سے اتنا انکار کیوں ہے۔
9 یعنی جن اہل کتاب نے اپنی کتاب ٹھیک سمجھی وہ اس کتاب کو بھی مانیں گے اور انصافاً ماننا چاہیے۔ چناچہ ان میں سے جو منصف ہیں، وہ اس کی صداقت دل سے تسلیم کرتے ہیں۔ اور نہ صرف اہل کتاب بلکہ عرب کے بعض لوگ بھی جو کتب سابقہ کا کچھ علم نہیں رکھتے اس قرآن کو مانتے جا رہے ہیں۔ حقیقت میں قرآن کریم کی صداقت کے دلائل اس قدر روشن ہیں کہ بجز سخت حق پوش نافرمان کے کوئی ان کی تسلیم سے…
Read the full tafseer →فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ ج ”
یعنی یہود و نصاریٰ میں سے بھی ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن کو اللہ کا کلام مانتے ہوئے اس پر ایمان لائیں گے۔ جیسا کہ قبل ازیں ہم سورة القصص کے چھٹے رکوع میں حبشہ سے مکہ آنے والے ان مسلمانوں کا ذکر پڑھ چکے ہیں جو پہلے عیسائی تھے ‘ پھر صحابہ کرام رض کی تبلیغ سے حضور ﷺ پر ایمان لے آئے اور یوں اللہ تعالیٰ کے ہاں دوہرے اجر کے مستحق ٹھہرے۔
وَمَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَآ اِلَّا الْکٰفِرُوْنَ ”
یہاں سے آگے اب دوسرا مضمون شروع ہو رہا ہے جس میں روئے سخن مشرکین مکہ کی طرف ہے۔ ان لوگوں کے لیے یہاں نبی آخر الزماں ﷺ کی نبوت کی ایک اور دلیل بیان کی جا رہی ہے۔…
Read the full tafseer →79 یعنی جس طرح ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی بالکل ویسے بھی آپ پر یہ کتاب نازل کی ہے۔ اور اہل کتاب میں سے جو منصف مزاج ہیں۔ وہ یہ سمجھ کر ان دونوں کتابوں کا سرچشمہ ایک ہی ہے، قرآن پر ایمان لے آئے تھے اور اہل مکہ میں بھی کچھ منصف مزاج موجود ہیں جو قرآن کے دلائل سن کر فوراً اس سے متاثر ہوجاتے ہیں اور ایمان لے آتے ہیں۔ گویا ایک انسان کی ہدایت کے لئے اس کتاب میں نہ نقلی دلائل کی کمی ہے اور نہ عقلی دلائل کی۔ اس سے انکار صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو اپنے مذہبی تعصبات کو چھوڑ کر حق بات ماننے کو تیار نہیں۔ نہ وہ اپنی خواہش نفس اور بےلگام آزادی پر کسی قسم کی پابندی قبول کرنے کو تیار ہیں۔
Read the full tafseer →57۔ چناچہ ان لوگوں کا ذی فہم اور منصف مزاج طبقہ بالآخر اسلام لے ہی آیا۔ یعنی مومنی اھل الکتب (معالم) اے الذین اخذوہ فتلوہ حق تلاوتہ من احبارھم العلماء الاذکیاء (ابن کثیر) (آیت) ” الکتب “۔ سے یہاں مراد جنس کتاب ہے۔ (آیت) ” بہ “۔ یعنی قرآن پر (آیت) ” الذین اتینھم الکتب “۔ کی ایک تفسیر امام رازی (رح) نے یہ بھی نقل کی ہے کہ اس سے مراد اہل کتاب نہیں بلکہ خود انبیاء کرام ہیں کہ کتابیں براہ راست ودرحقیقت تو انہیں کو عطا ہوئی تھیں۔
58۔ (جو ہر طرح کے وضوح دلائل کے بعد بھی انکار پر اڑے ہوئے ہیں) (آیت) ” من ھؤلآء “۔ یعنی مشرکین مکہ میں سے۔ یعنی اھل مکۃ (معالم) یعنی العرب من قریش وغیرھم (ابن کثیر) (آیت)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–51
آیت نمبر 45 تا 51
ترجمہ : جو کتاب آپ پر یعنی قرآن وحی کی گئی ہے آپ اس کو پڑھا کیجئے اور نماز کی پابندی رکھئے یقیناً نماز بیحیائی اور شرعاً ناشائستہ کاموں سے روک دیتی ہے یعنی نماز کی شان یہی ہے، جب یک انسان نماز میں ہوتا ہے بیشک اللہ کا ذکر دیگر طاعتوں کے مقابلہ میں بہت بڑی چیز ہے جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے اس کی تم کو وہ جزادے گا اور تم اہل کتاب کے ساتھ بجز مہذب طریقہ کے مجادلہ کرو مثلاً اللہ کی طرف اللہ کی آیات کے ذریعہ دعوت دو اور اس کے دلائل پر تنبیہ کرو مگر ان کے ساتھ جو ان میں زیادتی کریں بایں طور کہ محاربہ کریں اور جزیہ دینے سے انکار کریں تو ایسے لوگوں سے جہاد بالسیف…
Read the full tafseer →وکذلک انزلنا الیک الکتب . اور ایسے ہی ہم نے آپ کی طرف کتاب اتاری یعنی جس طرح آپ سے
پہلے کتابیں نازل کہیں ‘ اسی طرح آپ پر بھی کتاب نازل کی جو بذریعہ وحی آپ کے پاس پہنچی اور جو پچھلی ساری کتب الٰہیہ کو سچا بتاتی ہے۔
فالذین اتینھم الکتب یؤمنون بہ . پس جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ ان لوگوں
سے مراد ہیں حضرت عبد اللہ بن سلام اور دوسرے لوگ جو قرآن پر ایمان لے آئے تھے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ جن کو ہم کے کتاب دی وہ بعثت رسول اللہ سے پہلے اس کتاب پر ایمان رکھتے تھے۔
ومن ھؤلآ من یؤمن بہ وما یحجد بایتنا الا الکفرون . اور ان میں سے (یعنی مکہ والوں میں سے ‘
یا عرب میں سے ‘ یا ان اہل کتاب…
Read the full tafseer →اسی طرح ہم نے آپ پر کتاب نازل فرمائی تاکہ اس میں جو اوامرو نواہی اور واقعات ہیں وہ آپ ان کے سامنے پڑھ کر سنائیں۔ سو جن لوگوں کو ہم نے کتاب توریت کا علم دیا ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن سلام وغیرہ وہ آپ پر اور قرآن کریم پر ایمان لے آئے ہیں اور ان مشرکین مکہ میں سے بھی کچھ لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لے آئے ہیں اور ہماری آیات میں سے سوائے کافروں یعنی کعب و ابوجہل وغیرہ کے اور کوئی انکار نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ : یعنی جس طرح ہم نے آپ سے پہلے موسیٰ ؑ اور دوسرے پیغمبروں پر کتاب نازل کی ایسے ہی آپ پر یہ کتاب نازل فرمائی۔
فَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ : ”جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی“ سے مراد تمام اہل کتاب نہیں، کیونکہ جس نے کتاب پڑھی ہی نہیں یا اسے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی یا اسے اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی اور اس میں تحریف و تبدل سے کام لیا تو وہ درحقیقت ان لوگوں میں شامل ہی نہیں جنھیں کتاب دی گئی، کیونکہ انھوں نے اسے اس طرح لیا ہی نہیں جیسے لینا چاہیے تھا۔ یعنی وہ لوگ جنھیں ہم نے اس سے پہلے کتاب دی اور وہ فی الواقع اس کا اتباع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
اس میں دو مسئلے ہیں۔
مسئلہ نمبر 1:۔ علماء نے اللہ تعالیٰ کے فرمان : کی تعبیر میں اختلاف کیا ہے : مجاہد نے کہا : یہ آیت محکم ہے اہل کتاب سے مجادلہ اس طریقہ سے کرنا جائز ہے جو احسن ہے مراد یہ ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی جائے، حج اور آیات پر آگاہ کیا جائے یہ امید رکھتے ہوئے کہ وہ ایمان کی دعوت قبول کریں گے۔ یہ مجادلہ سختی اور شدت کی صورت میں نہ ہو۔ اس تعبیر کی بناء پر معنی یہ ہوگا : اس کا معنی ہے مگر وہ جو تم پر ظلم کریں۔ ورنہ ظلم کا کلمہ عام ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ معنی ہے اہل کتاب میں سے جو حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائے ان کے ساتھ جھگڑا نہ کیا کرو، جس طرح حضرت عبداللہ بن سلام اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
1۔ الفریابی وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولاتجادلوا اہل الکتب الا بالتی ہی احسن الا لذین ظلموا منہم سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے کہا اللہ کے ساتھ دوسرا معبود ہے۔ یا اس کی اولاد ہے، یا اس کا کوئی شریک ہے یا اللہ کا ہاتھ بالکل بندھا ہوا ہے، اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں یا انہوں نے محمد ﷺ کو تکلیف دی اور وہ اہل کتاب تھے اور فرمایا آیت وقولوا امنا بالذی انزل الینا وانزل الیکم جو یہ نہ کہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی معبود ہے یا اس کی کوئی اولاد ہے اس کا کوئی شریک ہے یا اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے یا اللہ فقیر ہے اور محمد ﷺ کو تکلیف نہیں دی۔
2۔ الفریابی وابن جریر نے مجاہد (رح) نے آیت…
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ [اور اسی طرح ] اَنْزَلْنَآ [ہم نے اتارا ] اِلَيْكَ [آپ ﷺ کی طرف ] الْكِتٰبَ ۭ [اس کتاب کو ] فَالَّذِيْنَ [تو وہ لوگ ] اٰتَيْنٰهُمُ [ہم نے دی جن کو ] الْكِتٰبَ [کتاب ] يُؤْمِنُوْنَ [وہ لوگ ایمان لائیں گے ] بِهٖ ۚ [اس (کتاب) پر ] وَمِنْ هٰٓؤُلَاۗءِ مَنْ [اور ان (مکہ والوں) میں وہ بھی ہیں جو ] يُّؤْمِنُ [ایمان لائیں گے ] بِهٖ ۭ [اس پر ] وَمَا يَجْحَدُ [اور انکار نہیں کرتے ] بِاٰيٰتِنَآ [ہماری آیتوں کا ] اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ [مگر کافر لوگ ] ۔
Read the full tafseer →(وَ کَذٰلِکَ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ ) اور جس طرح ہم نے پہلی کتابیں نازل کیں اسی طرح ہم نے آپ کی طرف یہ کتاب نازل فرمائی یعنی قرآن مجید (فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ ) (جن لوگوں کو ہم نے آپ سے پہلے کتاب دی ہے وہ اس پر ایمان لاتے ہیں) اس سے وہ اہل کتاب مراد ہے جنہوں نے حق ظاہر ہوتے ہی حق کو قبول کیا اور اسلام لے آئے جیسے عبد اللہ بن سلام، سلمان فارسی اور حبشہ کے نصاریٰ (وَ مِنْ ھٰٓؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِہٖ ) (اور ان لوگوں میں سے یعنی قریش مکہ اور دیگر قبائل اہل عرب میں سے بعض لوگ قرآن کریم پر ایمان لاتے ہیں) (وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَآ اِلَّا الْکٰفِرُوْنَ )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–55
اثبات رسالت محمدیہ وازالہ شکوک و شبہات منکرین نبوت
قال اللہ تعالیٰ اتل ما اوحی الیک من الکتب واقم الصلوٰہ۔۔۔ الی۔۔۔ ذوقوا ما کنتم تعملون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں توحید کا ذکر تھا اور اس بات کا ذکر تھا کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) نے لوگوں کو توحید کی دعوت دی اور شرک سے منع کیا بالآخر وہ منکرین ہلاک ہوئے اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کی رسالت کا مضمون ذکر کرتے ہیں اور منکرین رسالت کے بعض شبہات کا جواب دیتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ ان کے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کیجئے جو توحید کے مضامین پر اور گذشتہ امتوں کے حال اور مال پر مشتمل ہے اور آپ ﷺ کی رسالت کا عظیم معجزہ ہے عجب نہیں کہ آیات خداوندی…
Read the full tafseer →39:۔ کاف بیان کمال کے لیے ہے اور یہ الکتاب یعنی قرآن کو ماننے کی ترغیب ہے۔ ایسی عظیم الشان، مدلل اور محکم کتاب نازل کرنا ہمارا ہی کمال ہے۔ اب تمہیں اس کتاب پر عمل کرنا چاہیے۔
40:۔ یہ دعوی توحید پر نقلی دلیل ہے مؤمنین اہل کتاب سے۔ یعنی اہل کتاب میں سے جو حق پسند اور منصف مزاج ہیں وہ قرآن پر ایمان لا چکے ہیں یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن اور اس کا بیان کردہ مسئلہ توحید ہے۔ ومن ھؤلاء سے اہل عرب یا اہل مکہ مراد ہیں۔ یعنی اہل کتاب کے علاوہ خود ان مشرکین میں سے بھی بہت سے لوگ ایمان لا چکے ہیں۔ وما یجحد، یہ زجر ہے۔ اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ انصاف پسند تھے وہ تو ایمان لا چکے ہیں اور ہماری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
ربطِ آیات
سورة العنکبوت اللہ تعالیٰ نے زیادہ تر ایمان کے ساتھ ابتلاء کا ذکر کیا ہے اور اس سلسلہ میں بعض انبیاء کی آزمائش کے واقعات بیان کرکے اہل ایمان کو تسلی دی ہے کہ کسی کو بغیر آزمائش کے نہیں چھوڑا جائے گا۔ پھر اللہ نے شرک کی قباحت کو ایک مثال کے ذریعے واضح کیا ، پھر توحید کی دعوت دی۔ اس کے بعد نبی (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ جو چیز آپ کی طرف بصورت وحی ناز کی جاتی ہے اس کو پڑھیں اور نماز قائم رکھیں کہ یہ بےحیائی اور برائی سے روکنے والی چیز ہے۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے اور اللہ تعالیٰ تمہاری تمام کارگزاریوں سے واقف ہے۔
اہل کتاب کے ساتھ مجادلہ
اہل کتاب اور مشرک لوگ اسلام…
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ 0ۭ فَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰہُمُ الْكِتٰبَ يُؤْمِنُوْنَ بِہٖ 0ۚ وَمِنْ ہٰٓؤُلَاۗءِ مَنْ يُّؤْمِنُ بِہٖ 0ۭ وَمَا يَجْحَدُ بِاٰيٰتِنَآ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ 47
نزل
النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ.
يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106]
( ن ز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
تفسیر : وکذلک انزلنا الیک الکتاب پھر اب تم کو ہمارے اہل حق ہونے میں کیا کلام باقی ہے، صاف بات ہے ہم پر نبی یا کتاب نہ ماننے کا الزام عائد نہیں ہوسکتا، ہاں تم پر ہے اس لیے خدا ترس اہل کتاب جیسا کہ عبداللہ بن سلام ؓ اور عرب کے بھی با انصاف لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں۔ فالذین اتینہم الکتاب یؤمنون بہ الخ پھر جو اس کا منکر ہے تو وہی ہے جو ازلی کافر ہے۔ وما یجحد بایتنا الا الکفرون اس کے بعد ایک اور دلیل تسلی بخش ذکر کرکے فرماتا ہے۔ وما کنت تتلوا من قبلہ من کتب ولا تخطہ بیمینک اذا لارتاب المبطلون کہ اس دن سے پہلے آپ نہ کبھی کوئی کتاب پڑھتے تھے، نہ لکھتے تھے یعنی ظاہری علم نہیں تھا، اگر اگلی کتابیں…
Read the full tafseer →وَکَذٰلِکَ اَنْزَلْنَـآ اِلَیْکَ الْـکِتٰبَ ط فَالَّذِیْنَ اٰ تَیْنٰـھُمُ الْـکِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ ج وَمِنْ ھٰٓـؤُلَآئِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِہٖ ط وَمَا یَجْحَدُ بِاٰ یٰـتِنَـآ اِلاَّلْـکٰفِرُوْنَ ۔ (العنکبوت : 47)
(اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف بھی کتاب اتاری، پس وہ لوگ جنھیں ہم نے کتاب دے رکھی ہے وہ اس پر ایمان لائیں گے اور ان میں سے بعض اس پر ایمان لا بھی رہے ہیں اور ہماری آیات کا انکار صرف کافر ہی کرتے ہیں۔ )
قرآن کی دعوت کا انداز
گزشتہ آیت میں بحث و دعوت کے جس بہترین طریقہ کی وضاحت کی گئی ہے اور مسلمانوں کو اہل کتاب سے بحث کرنے کا جو بہترین طریقہ سکھایا گیا ہے ہم نے آپ کی طرف جو کتاب…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ نے تورات، انجیل، زبور اور صحف ابراہیم نازل کیے اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ پر قرآن مجید نازل فرمایا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے صحف ابراہیم، تورات، زبور اور انجیل میں یہ بات بھی بیان فرمائی ہے کہ تمام انبیاء کے آخر میں حضرت محمد ﷺ خاتم المرسلین کے طور پر مبعوث کیے جائیں گے اور ان پر قرآن نازل کیا جائے گا۔ جس کا تذکرہ یوں کیا جا رہا ہے کہ اسی طرح ہی ہم نے آپ ﷺ کی طرف قرآن مجید نازل کیا جن لوگوں کو ہم نے آپ سے پہلے کتاب عنایت کی اور وہ اس پر سچا ایمان رکھتے ہیں۔ وہی لوگ قرآن مجید پر ایمان لاتے ہیں اور اہل مکہ میں بھی قرآن مجید پر ایمان لانے والے ہیں۔ حقائق…
Read the full tafseer →قرآن تمام کتب کا مصدق ہے :
47: وَکَذٰلِکَ (اور اسی طرح) ۔ یعنی اس اتارنے کی طرح۔ اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الْکِتٰبَ (ہم نے آپ کی طرف کتاب اتاری) ۔ یعنی ہم نے اس کو تمام کتب سماویہ کی مصدق بنا کر بھیجا۔ نمبر 2۔ جیسا ہم نے کتاب ان انبیاء (علیہم السلام) پر اتاری جو آپ سے پہلے ہوئے اسی طرح تمہاری طرف ہم نے قرآن مجید کو اتارا۔ فَالَّذِیْنَ ٰاتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ (پس وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی وہ اس پر ایمان لانے والے ہیں) ۔
وہ عبداللہ بن سلام اور جو ان کے ساتھ ایمان لائے۔ وَمِنْ ہٰٓؤُلَآئِ (اور ان میں سے) ۔ اہل مکہ میں سے۔ مَنْ یُّؤْمِنُ بِہٖ (ایسے ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں) ۔…
Read the full tafseer →47۔ وکذالک ، ایسے ہی آپ پر کتاب نازل کی جس طرح آپ سے پہلے کتابیں نازل کیں۔ انزلنا الیک الکتاب فالذین اتیناھم الکتاب یومنون بہ، اس سے مراد مومن واہل کتاب مراد ہیں۔ عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھ۔ ومن ھو لائ، یعنی مکہ والے ، من یومن بہ، اس سے مراد مکہ کے مومنین ہیں۔ ومایجحد بایاتنا الاالکافرون، ، یہ اس وجہ سے یہود اور اہل مکہ اس بات سے جان گئے کہ محمد نبی برحق اور قرآن بھی برحق ہے۔ پھر انہوں نے اس سے انکار کردیا، قتادہ کا بیان ہے کہ جحود کسی چیز کے پہچاننے کے بعد اس کا انکار کردینا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
44 تا 49۔ ان آیتوں میں اپنی قدرت کا حال بیان فرمایا ہے کہ اس نے آسمان اور زمین کو بےفائدہ نہیں پیدا کیا بلکہ اس واسطے پیدا کیا کہ ہر ایک شخص کو اس کے عمل کا بدلہ ملے برے کو برا اچھے کو اچھا اس آیت میں ایمان والوں کو ہدایت ہے کہ اللہ اکیلا جہاں کا پیدا کرنے والا ہے وہی اکیلا پوجنے کے قابل ہے اور منکرین حشر کو یہ تنبیہ ہے کہ یہ لوگ خود تو دنیا میں کو کام کرتے ہیں اس میں کوئی نہ کوئی فائدہ ان کو مد نظر ہوتا ہے مثلا کھیتی میں پیدا وار کا فائدہ تجارت میں نقدی کا فائدہ ان کا مقصود ہوتا ہے پھر یہ نادان اللہ تعالیٰ کے اتنے بڑے انتظام کو بےفائدہ کیوں ٹھہراتے ہیں اتنا نہیں سمجھتے کہ دنیا کے ختم ہوجانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
آیت نمبر : 47-48
(وکذلک انزلنا الیک الکتب) ” اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اتاری کتاب “ یعنی اے محمد ﷺ ہم نے آپ پر یہ کتاب کریم نازل کی جو ہر بڑی خبر کو کھول کھول کر بیان کرتی ہے جو ہر خلق حسن اور ہر امر کامل کی طرف دعوت دیتی ہے ‘ جو تمام کتب سابقہ کی تصدیق کرتی ہے جن کے بارے میں گزشتہ انبیاء نے خبر دی ہے۔ (فالذین اتینھم الکتب) ” پس جن لوگوں کو ہم نے کتاب عطا کی ہے “ انہوں نے اسے اس طرح پہچان لیا ہے جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے اور ان کے ہاں کسی حسد نے مداخلت کی ہے نہ خواہشات نفس نے۔ (یومنون بہ) ” وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ “ کیونکہ انہیں اس کے برحق اور سچے ہونے کا یقین ہوگیا ہے ‘ اس لیے کہ انہی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–69
قول باری ہے : (ولا تجادلوا اھل الکتاب الا بالتیھی احسن۔ اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقے سے) قتادہ کا قول ہے کہ یہ آیت قول باری (وقاتلوا المشرکین اور مشرکین سے قتال کرو) کی بنا پر منسوخ ہوچکی ہے۔ کوئی بحث تلوار کے استعمال سے بڑھ کر نہیں ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قتادہ کی مراد یہ ہے کہ آیت، زیر بحث کا حکم قتال کے حکم سے پہلے کا ہے۔
قول باری ہے : (الا الذین ظلموا منھم ۔ سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں) ۔ یعنی۔ واللہ اعلم۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے بحث وجدال وغیرہ میں تمہارے ساتھ ظلم کیا ہو جو اس امر کا مقتضی ہو کہ تم ان کے ساتھ سخت رویہ رکھو۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–69
58 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اس کے احاطہ علم کے اعتبار سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ پوری طرح جانتا ہے ان سب چیزوں کو جن کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں اللہ کے سوا "۔ تعمیم ملاحظہ ہو کہ اول تو { شیئ } خود نکرہ ہے جو ہر چیز کو شامل ہے۔ پھر اس پر { من } استغراقیہ سے مزید تاکید۔ یعنی کوئی بھی چیز خواہ کوئی فرشتہ ہو یا انسان، شجر ہو یا حجر، بت ہو یا جن وغیرہ وغیرہ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ مافوق الاسباب کسی کو بھی پکارنا شرک ہے جو کہ سب سے بڑا گناہ اور ناقابل معافی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اب وہ لوگ دیکھ لیں جو اس وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر اس کی عاجز مخلوق کو پکارتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے " یا رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–55
کفار کے لیے عذاب کی خبر
تشریح : جیسا کہ پہلے قرآن کے آسمانی کتاب ہونے کے ثبوت دیے جا چکے ہیں تو ایک ثبوت اور دیا جا رہا ہے کہ نبوت سے پہلے چالیس سال آپ نے اہل مکہ کے ساتھ گزارے تھے۔ سب آپ کو اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ بڑے ایماندار تاجر ہیں انتہائی نیک فطرت ‘ نرم مزاج ‘ بےحد ذہین مگر آپ پڑھے لکھے نہ تھے لوگ جانتے تھے کہ آج تک نہ انہوں نے کوئی کتاب پڑھی ہے نہ کبھی کچھ لکھا ہے۔ تو پھر یکدم وہ اس قدر حکمت سے بھری باتیں، گزشتہ تاریخی واقعات اور مستقبل کے حالات، حقیقت پر مبنی باتیں، آسمانوں زمین کے پھیلائو، ملکی انتظامات ‘ عسکری (فوجی) مہارت کے اصول و ضوابط ‘ جنگی چالیں اور سب سے بڑھ کر انسانی زندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–51
آیات 45 تا 51
اسرارومعارف
آپ قرآن پڑھا کیجیے اور نماز قائم کیجیے۔ یعنی کہ آپ قرآن کریم کو پڑھ کر سنایا کیجیے اس بات کی پرواہ کیے بغیر کہ کوئی ایمان لاتا ہے کہ نہیں۔ اور عبادات کو قائم کیجیے لہذا یہ ضروری ہے کہ قرآن کو مسلسل لوگوں پہ بیان کیا جائے یعنی تبلیغ کی جائے اور مبلغ خود عبادات پہ پورے اہتمام سے کاربند رہے کہ عبادات کا خاصہ یہ ہے کہ بندے کو برائی اور منکرات سے بچنے کی توفیق نصیب ہوتی ہے۔
قرآن کے بیان اور نماز کا اثر :
یہ کمال قرآنی بیانات میں بھی ہے کہ جس بات پر قرآن سے وعظ کیا جائے کوئی قبول کرے یا نہ خود کرنے والے کو اس پہ عمل کی توفیق ارزاں ہوتی ہے اور نماز جو بارگاہ صمدیت کی حضوری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
8 ۔ کہ پچھلی کتابوں کو دیکھ کر آپ نے پیغمبر کا دعویٰ کردیا ہے۔ اس آیت میں آنحضرت ﷺ کے امی ہونے کو آپ ﷺ کے دعوائے نبوت میں سچا ہونے پر دلیل ٹھہرایا ہے۔ (دیکھئے سورة قصص آیت 86 و سورة یونس آیت 16) بعض لوگوں نے صحیح بخاری میں صلح حدیبیہ والی روایت میں ” اخذ لکتب “ کہ قلم پکڑا اور لکھا سے استدلال کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ لکھنا پڑھنا جانتے تھے مگر یہ استدلال بچند وجوہ مخدوش ہے۔ اولاً تو صحیح بخاری کی دوسری روایت میں ” امر لکتب “ کے الفاظ ہیں جو وضاحت کے لئے کافی ہیں یعنی کہ ” اپ نے حکم دیا تو کاتب نے لکھا “ اور پھر اسی روایت میں :” ولایحن ان لکتب “ کے الفاظ ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا اس موقع…
Read the full tafseer →(29:47) کذلک ۔۔ الکتب اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں :۔
ّ (1) جس طرح ہم نے پہلے انبیاء پر کتابیں نازل کی تھیں اسی طرح اب یہ کتاب (القرآن) تم پر نازل کی ہے۔
(2) ہم نے اس تعلیم کے ساتھ یہ کتاب (قرآن) نازل کی ہے کہ ہماری پچھلی کتابوں کا انکار کرکے نہیں بلکہ ان کا اقرار کرتے ہوئے اسے مانا جائے۔
اتینھم الکتب ای التوراۃ والانجیل۔ یا اس میں حذف مضاف ہے اور کلام یوں ہے اتینھم علم الکتب جن کو ہم نے توراۃ و انجیل کا علم عطا کیا۔
یؤمنون بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب الکتب (یعنی القرآن) کے لئے ہے اور یؤمنون میں ضمیر جمع مذکر غائب ان علماے اہل کتاب کی طرف راجع ہے جنہوں نے خدا کی نازل کردہ کتابوں کو بغور پر ھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
لغات القرآن آیت نمبر (45 تا 47 ) ۔
اتل (پڑھ۔ تلاوت کر) ۔ اوحی (وحی کی گئی) ۔ اقم (قائم کر) ۔ تنھی (روکتا ہے) ۔ لا تجادلوا (تم نہ جھگڑو ) ۔ ما یجحد (وہ انکار نہیں کرتا) ۔
تشریح : آیت نمبر (45 تا 47 ) ۔ ” نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ کو خطاب کرتے ہوئے درحققیت آپ کی پوری امت کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں ہمت و جرات سے آگے بڑھتے رہنا اور حالات کے ناموافق ہونے کے باوجود مایوس نہ ہونا سنت انبیاء ہے۔ کیونکہ آپ سے پہلے جتنے بھی انبیاء کرام گذرے ہیں ان کی امتوں نے اللہ کی نافرمانیوں کی انتہا کردی تھی وہ ان کا مذاق اڑاتے، پھبتیاں کستے اور طرح طرح سے ستاتے تھے مگر انبیاء کرام اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
نماز بری باتوں سے روکتی ہیے۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا : اے محبوب ﷺ چونکہ تم رسول ہو، جو تم پر وحی کی گئی ہے تم اس کی تبلیغ کرو، اور اس کو لوگوں کے سامنے پڑھا کرو کیونکہ اس میں نوح، ابراہیم، لوط ، موسیٰ کی اموں کا پورا بیان ہے کہ پہلے بھی کافر اور بت پرستوں نے اپنے انبیاء کے ساتھ جو کچھ کیا جس پر برباد ہوئے اور نماز کی جو کہ اعظم عبادت ہے خوب کوشش وسرگرمی سے ادا کرو، کیونکہ نماز بری اور بےحیائی کی باتوں سے روکتی ہے اول تو ان میں ہر رکعت میں الحمد شریف پڑھی جاتی ہے جس کا ہر ہرجملہ انسان کی روحانی قوتوں کو ابھارنے والا ہے پھر اس کے آگے کھڑا ہونا ، حمدوثنا کرنا، اس شاہ دوجہاں رب العالمین کے آگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
[20] یعنی اہل ایمان۔
[21] یعنی نبی ﷺ
[22] یعنی اُمّی ہونے کے باوجود تم پر قرآن جیسی کتاب کا نازل ہونا، کیا بجائے خود اتنا بڑا معجزہ نہیں کہ تمہاری رسالت پر یقین لانے کے لئے کافی ہو ؟ اس کے بعد بھی کسی اور معجزے کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے ؟
Read the full tafseer →ف 1: اہل کتاب اور مسلمان میں مذہب کے باب میں بہت سی باتیں مشترک ہیں ۔ وہ بھی خدا کے قائل ہیں ۔ ملائکہ کو مانتے ہیں ۔ حشر ونشر کو تسلیم کرتے ہیں ۔ اور جنت و دوزخ کے معتقد ہیں ۔ اس لئے ارشاد ہے کہ جب ان لوگوں سے بحث کرو ۔ تو عمدہ اور احسن طریق سے ۔ جاذب اور موثر انداز سے ۔ ایسا نہ ہو ۔ کہ وہ تمہاری سختی اور خشونت سے اپنے مسلمات کا بھی انکار کردیں
الا الذین ظلموا سے مراد وہ لوگ ہیں جو مشرک ہیں اور خدا کے ساتھ دوسروں کو ساجھی قرار دیتے ہیں ۔ قرآن کی رو سے یہ لوگ کسی اخلاقی رعایت کے مستحق نہیں
Read the full tafseer →47۔ اور جس طرح ہم نے پہلے انبیاء پر کتابیں نازل کیں اسی طرح ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل کی ہو جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کتاب یعنی قرآن کریم کو مانتے ہیں اور بعض لوگ ان منکرین عرب میں سے بھی ایسے ہیں جو اس کتاب یعنی قرآن کریم پر ایمان لاتے ہیں اور ہماری آیتوں کا انکار نہیں کرتے مگر وہی جو کفر کے خوگر ہوچکے ہیں اور کفر پر اڑنے والے ہیں ۔ یعنی ضدی اور ہٹی قسم کے لوگ تو انکار ہی کرتے رہتے ہیں لیکن جو مصنف مزاج اور صحیح سمجھ رکھنے والے ہیں وہ مشرکوں میں سے بھی اور اہل کتاب میں سے بھی اس کو مانتے اور اس پر ایمان لے آتے ہیں اول قرآن کریم کے نزول پر استدلال کیا کتب سابقہ کے نزول سے پھر اہل کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
ف 4۔ یعنی ان کو جواب ترکی بہ ترکی دینے کا مضائقہ نہیں، گو افضل جب بھی طریقہ احسن ہے۔
5۔ کیونکہ مدار ایمان کا منزل من اللہ ہونا ہے۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ہم نے آپ پر کتاب نازل کی جیسا کہ پہلے رسولوں پر ہم اتار چکے ہیں :
47۔ زیر نظر آیت میں نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرکے بیان کیا جا رہا ہے کہ جس طرح ہم پہلے رسولوں پر کتب اور صحیفے نازل کرچکے ہیں اسی طرح ہم نے آپ پر کتاب یعنی قرآن کریم نازل کرنا شروع کیا ہے اور ان اہل کتاب میں ایسے نیک سیرت اور نیک کردار سلیم الطبع لوگ بھی موجود ہیں کہ قرآن کریم کو جب انہوں نے دیکھا ‘ سنا اور سمجھا تو وہ بلاتامل اس پر ایمان لے آئے کیونکہ اس طرح ان کا ایمان لانا دراصل ان کی اپنی کتاب ہی پر ایمان لانا تھا اس لئے کہ دراصل ان کی اپنی کتاب ہی پر ایمان لانا تھا اس لئے کہ انہوں نے نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
The status of the narrations of the People of the Book quoted by the commentators in their commentaries is also the same. The object of their reproduction in the commentaries is meant to highlight their historical position. They cannot be used for determining what is permitted (halal) and what is not permitted حَرَام (haram).
مَا كُنتَ تَتْلُو مِن قَبْلِهِ مِن كِتَابٍ وَلَا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ إِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُونَ (And you have never been reciting any book before this, nor have you been writing it with your right hand, had it been so, the people of falsehood would have raised…
Read the full tafseer →84 This can have two meanings: (1) "Just as We had sent down the Books to the former Prophets, so We have sent down this Book to you"; and (2) "We have sent down this Book with the teaching that it should be believed in not by rejecting Our former Books but by affirming faith in all of them. "
85 The context itself shows that this dces not imply all the people of the Book but only those who were blessed with the right understanding and the knowledge of the Divine Scriptures, and were "the people of the Book ' in the we sense. When this last Book of Allah came before them, confirming His…
Read the full tafseer →