غیر مسلموں کو دلائل سے قائل کرو
حضرت قتادۃ وغیرہ تو فرماتے ہیں کہ یہ آیت تو جہاد کے حکم کے ساتھ منسوخ ہے اب تو یہی ہے کہ یا تو اسلام قبول کرو یا جزیہ ادا کرو یا لڑائی لڑیں۔ لیکن اور بزرگ مفسرین کا قول ہے کہ یہ حکم باقی ہے جو یہودی یا نصرانی دینی امور کو سجھنا چاہے اور اسے مہذب طریقے پر سلجھے ہوئے پیرائے سے سمجھا دینا چاہئے۔ کیا عجیب ہے کہ وہ راہ راست اختیار کرے۔ جیسے اور آیت میں عام حکم موجود ہے آیت (اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ ۭ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَـبِيْلِهٖ وَهُوَ اَعْلَمُ…
Read the full tafseer →سورة العنکبوت 80
واضح رہے کہ آگے چل کر اسی سورة میں ہجرت کی تلقین کی جارہی ہے۔ اس وقت حبش ہی ایک ایسا مامن تھا جہاں مسلمان ہجرت کر کے جاسکتے تھے۔ اور حبش پر اس زمانے میں عیسائیوں کا غلبہ تھا، اس لیے ان آیات میں مسلمانوں کو ہدایات دی جارہی ہیں کہ اہل کتاب سے جب سابقہ پیش آئے تو ان سے دین کے معاملہ میں بحث و کلام کا کیا انداز اختیار کریں۔
سورة العنکبوت 81
یعنی مباحثہ معقول دلائل کے ساتھ، مہذب و شائستہ زبان میں، اور افہام و تفہیم کی اسپرٹ میں ہونا چاہیے، تاکہ جس شخص سے بحث کی جارہی ہو اس کے خیالات کی اصلاح ہوسکے۔ مبلغ کو فکر اس بات کی ہونی چاہیے کہ وہ مخاطب کے دل کا دروازہ کھول کر حق بات اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
خلاصہ تفسیر
اور جب پیغمبر ﷺ کی رسالت ثابت ہے تو اے مسلمانوں منکرین رسالت میں سے جو اہل کتاب ہیں ہم ان سے طریقہ گفتگو بتلاتے ہیں اور یہ تخصیص اس لئے کہ اول تو وہ بوجہ اہل علم ہونے کے بات کو سنتے ہیں اور مشرکین تو بات سننے سے پہلے ہی ایذا کے در پے ہوجاتے ہیں، دوسرے اہل علم کے ایمان لے آنے سے عوام کا ایمان زیادہ متوقع ہوجاتا ہے اور وہ طریقہ یہ ہے کہ) تم اہل کتاب کے ساتھ بجز مہذب طریقے کے مباحثہ مت کرو ہاں جو ان میں زیادتی کریں (تو ان کو جو ترکی بہ ترکی دین کا مضائقہ نہیں، گو افضل جب بھی طریقہ احسن ہے) اور (وہ مہذب طریقہ یہ ہے کہ مثلاً ان سے) یوں کہو کہ ہم اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو ہم پر…
Read the full tafseer →ولا تجادلوا اھل الکبت الا بالتی ھی احسن ق الا الذین ظلموا منھم وتولا امنا بالذی انزل الینا وانزل الیکم وانھنا وانھک وحدونحن لہ مسلمون (46)
دعوت کے اس دور میں، جو اس سورة میں زیر بحث ہے، اہلِ کتاب بھی مخالفت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تھے اس وجہ سے جس طرح اوپر والی آیت میں ان لوگوں کے باب میں دعوت کا طریقہ واضح کردیا گیا جو قرآن کی صداقت تسلیم کرنے کے لئے معجزات کے طالب تھے اسی طرح یہاں چند آیات میں اس طریقہ کی وضاحت فرما دی گئی جو اہل کتاب کے ساتھ بحث و استدلال میں مسلمانوں کو اختیار کرنا چاہیے۔ اہل کتاب کی اس خصوصیات کی وجہ آگے کی آیات سے خود واضح ہوجائے گی کہ ان کی دینی حیثیت بھی مشرکین عرب سے…
Read the full tafseer →46-1اس لئے کہ وہ اہل علم و فہم ہیں، بات کو سمجھنے کی صلاحیت و استعداد رکھتے ہیں۔ بنابریں ان سے بحث و گفتگو میں تلخی اور تندی مناسب نہیں۔
46-2یعنی جو بحث و مجادلہ میں افراط سے کام لیں تو تمہیں بھی سخت لب و لہجہ اختیار کرنے کی اجازت ہے۔ بعض نے پہلے گروہ سے مراد وہ اہل کتاب لیے ہیں جو مسلمان ہوگئے تھے اور دوسرے گروہ سے وہ اشخاص جو مسلمان نہیں ہوئے بلکہ یہودیت و نصرانیت پر قائم رہے اور بعض نے ظلموا منھم کا مصداق ان اہل کتاب کو لیا ہے جو مسلمانوں کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتے تھے اور جدال قتال کے بھی مرتکب ہوتے تھے ان سے تم بھی قتال کرو تاآنکہ مسلمان ہوجائیں یا جزیہ دیں۔
46-3تورات و انجیل پر۔ یعنی…
Read the full tafseer →27: یوں تو دعوت اسلام میں ہر جگہ یہی تعلیم دی گئی ہے کہ وہ شائستگی کے ساتھ ہو، لیکن خاص طور پر اہل کتاب یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کے بارے میں اس لئے یہ تاکید کی گئی ہے کہ وہ آسمانی کتابوں پر فی الجملہ ایمان رکھتے ہیں، اس لئے بت پرستوں کے مقابلے میں وہ مسلمانوں سے زیادہ قریب ہیں، تاہم اگر زیادتی ان کی طرف سے ہو تو ترکی بہ ترکی جواب دینے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
اتل ما اوحی ۔۔۔۔۔ یعلم ما تصنعون (29: 45) ” جو کتاب آپ پر وحی کی گئی ہے اسے پڑھئے اور نماز قائم کیجئے بیشک نماز فحاشی اور منکرات سے روکتی ہے۔ بیشک اللہ کا ذکر بڑی چیز ہے اور اللہ جانتا ہے جو کام تم کرتے ہو “۔
ان کے سامنے کتاب پڑھیں کہ یہی ذریعہ دعوت اسلامی ہے ، اور ایک ربانی معجزہ ہے اور اس کتاب کے اندر بیان کردہ سچائی وہی ہے جو اس کائنات کے اندر پوشیدہ سچائی ہے۔ اور نماز قائم کرو ، جب نماز قائم کی جاتی ہے تو یہ فحاشی اور منکرات سے روکتی ہے ، یہ اللہ کے ساتھ ایسا رابطہ ہے کہ جب کوئی یہ رابط قائم کرتا ہے تو پھر وہ فحاشی اور منکرات کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ یہ ظاہری اور روحانی تطہیر کا…
Read the full tafseer →5 یعنی مشرکوں کا دین جڑ سے غلط ہے اور اہل کتاب کا دین اصل میں سچا تھا، تو ان سے ان کی طرح مت جھگڑو کہ جڑ سے ان کی بات کاٹنے لگو۔ بلکہ نرمی، متانت، خیرخواہی اور صبرو تحمل سے واجبی بات سمجھاؤ۔ البتہ جو ان میں صریح بےانصافی، عناد اور ہٹ دھرمی پر تل جائے اس کے ساتھ مناسب سختی کا برتاؤ کرسکتے ہو اور آگے چل کر ایسوں کو سزا دینی ہے۔ (تنبیہ) پہلے قرآن کی تلاوت کا حکم تھا، اغلب ہے کہ منکرین اسے سن کر الجھنے لگیں، تو بتلادیا کہ بحث کے وقت فریق مقابل کی علمی و دینی حیثیت کا خیال رکھو۔ جوش مناظرہ میں صداقت و اخلاق کی حد سے نہ نکلو۔ جہاں کہیں جتنی سچائی ہو اس کا اعتراف کرو۔
6 یعنی ہمارا جیسا کہ قرآن پر…
Read the full tafseer →آیت 46 وَلَا تُجَادِلُوْٓا اَہْلَ الْکِتٰبِ اِلَّا بالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُز ”
ان کو دعوت دیتے ہوئے اچھے طریقے سے ان سے گفتگو کرو۔ تمہاری گفتگو میں نہ تو ان کی توہین کا انداز ہو اور نہ ہی ان کی عصبیت جاہلی کو بھڑکنے کا موقع ملتا ہو۔ بہر حال اپنا پیغام احسن طریقے سے ان تک پہنچا دو۔ اس کے بعد وہ اپنے نظریے اور عمل کے لیے اللہ کے ہاں خود ذمہ دار ہیں۔
اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ ”
اس استثناء کے دو معنی ہیں۔ ایک یہ کہ ان میں غیر منصفانہ طرز عمل دکھانے والے افراد سے مجادلہ کرنے کی سرے سے ضرورت ہی نہیں ہے ‘ اور دوسرے یہ کہ دوران گفتگو ایسے لوگوں کی ہٹ دھرمی کے سبب ان کے ساتھ کسی حد تک سخت…
Read the full tafseer →76 یعنی مشرکوں کا دین تو سراسر باطل ہے۔ مگر اہل کتاب کا دین اپنی اصل کے لحاظ سے سچا تھا۔ لہذا ان سے تمہاری بحث کا انداز مشرکوں سے جداگانہ ہوجانا چاہئے۔ اور ان کے مذاہب میں جتنی سچائی موجود ہے اس کا اعتراف کرنا چاہئے۔ پھر جس مقام سے اختلاف واقع ہوتا ہے وہ نرمی، متانت سے اور خیر خواہی کے جذبے سے انھیں سمجھانا چاہئے۔ بحث کا انداز یہ نہ ہونا چاہئے کہ دورے کو سراسر غلط اور نیچا دکھانے کی کوشش کی جائے۔ بلکہ ایسا طریقہ اختیار کرنا چاہئے جس سے اسے اپنی غلطی کا اعتراف کرلینا آسان ہوجائے۔
77 بےانصاف یا ظالم سے مراد وہ لوگ ہیں جو مذہبی تعصب کو ہی سب سے بڑی قدر سمجھتے ہوں۔ اور ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آئے…
Read the full tafseer →55۔ (تو انہیں البتہ جواب ترکی بہ ترکی دینے میں مضائقہ نہیں) مسلمانوں کو ہدایت کی جارہی ہے کہ تبلیغ کے سلسلہ میں موقعے مباحثہ ومناظرہ کے بھی آئیں گے۔ کتابی مذہب والوں یعنی جو توحید وسلسلہ نبوت کے قائل ہیں ان سے مباحثہ کے وقت ہمیشہ نرمی، تہذیب اور ان کی دلجوئی سے کام لیتے رہو کہ اس سے انہیں ترغیب اسلام میں داخل ہونے کی ہوتی رہے گی۔ ہاں البتہ ان میں جو بدزبان ہوں انہیں حسب مصلحت ان کے رنگ میں بھی جو اب دیا جاسکتا ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا، اس میں دلالت ہے کہ مخالف کے ساتھ اول نرمی برتے اور جب عناد ظاہر ہو تو خشونت کی اجازت ہے۔ چناچہ یہی طریقہ ہے اہل اللہ کا مخالفین کے ساتھ۔ البتہ طالبین کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–51
آیت نمبر 45 تا 51
ترجمہ : جو کتاب آپ پر یعنی قرآن وحی کی گئی ہے آپ اس کو پڑھا کیجئے اور نماز کی پابندی رکھئے یقیناً نماز بیحیائی اور شرعاً ناشائستہ کاموں سے روک دیتی ہے یعنی نماز کی شان یہی ہے، جب یک انسان نماز میں ہوتا ہے بیشک اللہ کا ذکر دیگر طاعتوں کے مقابلہ میں بہت بڑی چیز ہے جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے اس کی تم کو وہ جزادے گا اور تم اہل کتاب کے ساتھ بجز مہذب طریقہ کے مجادلہ کرو مثلاً اللہ کی طرف اللہ کی آیات کے ذریعہ دعوت دو اور اس کے دلائل پر تنبیہ کرو مگر ان کے ساتھ جو ان میں زیادتی کریں بایں طور کہ محاربہ کریں اور جزیہ دینے سے انکار کریں تو ایسے لوگوں سے جہاد بالسیف…
Read the full tafseer →ولا تجادلوآ اھل الکتب الا بالتیھی احسن . اور اہل کتاب سے مباحثہ نہ کرو مگر اس طریقہ سے
جو اچھا ہے۔
آیت میں خطاب رسول اللہ اور مؤمنوں کو ہے۔ یعنی قرآن اور آیات قرآن کے ذریعہ سے اللہ کی طرف آنے کی دعوت دو اور قرآن کے پیش کردہ دلائل پر متنبہ کرو۔ اس مطلب پر مستثنیٰ مفرغ ہوگا ‘ یا استثناء منقطع ہے اور مطلب یہ ہے کہ کافروں کی بداخلاقی کے مقابلہ میں تم نرم سے کام لو ‘ مباحثہ کے وقت وہ غضب ناک ہوجائیں تو تم تحمل کرو ‘ وہ شوروغل کریں تو تم ان کی خیرخواہی ظاہر کرو۔ چونکہ خیرخواہی اور نصیحت مجادلہ میں داخل نہیں ہے اس لئے مستثنیٰ منقطع ہوگا۔
الا الذین ظلموا منھم . مگر ان میں سے جنہوں نے ظلم کیا ہو۔ یعنی…
Read the full tafseer →اور تم یہود و نصاری کے ساتھ بحث مت کرو مگر قرآن حکیم کے ذریعے سے۔ ہاں ! جو ان میں زیادتی کریں جیسا کہ وفد بنی نجران۔ اور یوں کہو کہ ہم قرآن حکیم پر بھی اور توریت اور انجیل پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور ہمارا اور تمہارا اللہ ایک، وحدی لاشریک (یعنی ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں) ہے اور ہم تو اسی کی اطاعت اور اسی کی توحید کا اقرار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَلَا تُجَادِلُوْٓا اَهْلَ الْكِتٰبِ۔۔ : یعنی مشرکوں کا دین جڑ سے غلط ہے اور کتاب والوں کا دین اصل میں سچ تھا تو ان سے ان کی طرح نہ جھگڑو کہ جڑ سے ان کی بات کاٹو، بلکہ نرمی سے واجبی بات سمجھاؤ، مگر ان میں جو (صریح) بےانصافی پر (اتر) آئے اس کی سزا وہی ہے (یعنی اس کے ساتھ اس کے جرم کے مطابق سلوک کرو)۔ (موضح)
3 کتاب اللہ کی تلاوت کے حکم کے بعد فرمایا کہ اہل کتاب میں سے جو اسے سن کر سمجھنے کے لیے بحث کرے اس کے ساتھ ایسے طریقے ہی سے بحث کرو جو بہتر سے بہتر ہوسکتا ہے۔ کیا عجب ہے کہ وہ راہ راست اختیار کرے۔ دوسری آیت میں یہ حکم عام ہے اور دعوت دین میں ہر ایک کے ساتھ یہی طریقہ اختیار کرنے کا حکم ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
اس میں دو مسئلے ہیں۔
مسئلہ نمبر 1:۔ علماء نے اللہ تعالیٰ کے فرمان : کی تعبیر میں اختلاف کیا ہے : مجاہد نے کہا : یہ آیت محکم ہے اہل کتاب سے مجادلہ اس طریقہ سے کرنا جائز ہے جو احسن ہے مراد یہ ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی جائے، حج اور آیات پر آگاہ کیا جائے یہ امید رکھتے ہوئے کہ وہ ایمان کی دعوت قبول کریں گے۔ یہ مجادلہ سختی اور شدت کی صورت میں نہ ہو۔ اس تعبیر کی بناء پر معنی یہ ہوگا : اس کا معنی ہے مگر وہ جو تم پر ظلم کریں۔ ورنہ ظلم کا کلمہ عام ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ معنی ہے اہل کتاب میں سے جو حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائے ان کے ساتھ جھگڑا نہ کیا کرو، جس طرح حضرت عبداللہ بن سلام اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
1۔ الفریابی وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولاتجادلوا اہل الکتب الا بالتی ہی احسن الا لذین ظلموا منہم سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے کہا اللہ کے ساتھ دوسرا معبود ہے۔ یا اس کی اولاد ہے، یا اس کا کوئی شریک ہے یا اللہ کا ہاتھ بالکل بندھا ہوا ہے، اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں یا انہوں نے محمد ﷺ کو تکلیف دی اور وہ اہل کتاب تھے اور فرمایا آیت وقولوا امنا بالذی انزل الینا وانزل الیکم جو یہ نہ کہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی معبود ہے یا اس کی کوئی اولاد ہے اس کا کوئی شریک ہے یا اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے یا اللہ فقیر ہے اور محمد ﷺ کو تکلیف نہیں دی۔
2۔ الفریابی وابن جریر نے مجاہد (رح) نے آیت…
Read the full tafseer →وَلَا تُجَادِلُوْٓا [اور تم لوگ مناظرہ مت کرو ] اَهْلَ الْكِتٰبِ [اہل کتاب سے ] اِلَّا [مگر ] بِالَّتِيْ [اس (طریقہ) سے جو کہ ] ھِىَ [وہی ] اَحْسَنُ ڰ [سب سے خوبصورت ہو ] اِلَّا الَّذِيْنَ [سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ] ظَلَمُوْا [ظلم کیا ] مِنْهُمْ [ان میں سے ] وَقُوْلُوْٓا [اور تم لوگ (یوں) کہو ] اٰمَنَّا [ہم ایمان لائے ] بِالَّذِيْٓ [اس پر جو ] اُنْزِلَ [اتارا گیا ] اِلَيْنَا [ہماری طرف ] وَاُنْزِلَ [اور نازل کیا گیا ] اِلَيْكُمْ [تم لوگوں کی طرف ] وَاِلٰـهُنَا [اور ہمارا الٰہ ] وَاِلٰــهُكُمْ [اور تم لوگوں کا الٰہ ] وَاحِدٌ [ایک (ہی) ہے ] وَّنَحْنُ [اور ہم لوگ ] لَهٗ [اس کی ہی ]…
Read the full tafseer →اہل کتاب سے مجادلہ اور مباحثہ کرنے کا طریقہ
ان آیات مبارکہ میں اللہ رب العزت نے اہل کتاب سے مباحثہ کرنے کے بارے میں نصیحت فرمائی ہے، ارشاد فرمایا کہ یہود و نصاریٰ سے جب گفتگو کرنے کا موقع آجائے تو ان سے اچھے طریقے پر بحث کرو۔ یہود و نصاریٰ اللہ تعالیٰ کو مانتے تھے اور اب بھی مانتے ہیں، اور یہ بھی مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ شانہ نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے انبیاء کرام (علیہ السلام) مبعوث فرمائے اس لیے ان سے اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور پیغمبروں کی رسالت کے بارے میں کوئی بحث کرنے کی ضرورت نہ تھی، البتہ خاتم الانبیاء والمرسلین جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کے جو منکر تھے ان سے اس بارے میں بحث کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–55
اثبات رسالت محمدیہ وازالہ شکوک و شبہات منکرین نبوت
قال اللہ تعالیٰ اتل ما اوحی الیک من الکتب واقم الصلوٰہ۔۔۔ الی۔۔۔ ذوقوا ما کنتم تعملون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں توحید کا ذکر تھا اور اس بات کا ذکر تھا کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) نے لوگوں کو توحید کی دعوت دی اور شرک سے منع کیا بالآخر وہ منکرین ہلاک ہوئے اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کی رسالت کا مضمون ذکر کرتے ہیں اور منکرین رسالت کے بعض شبہات کا جواب دیتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ ان کے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کیجئے جو توحید کے مضامین پر اور گذشتہ امتوں کے حال اور مال پر مشتمل ہے اور آپ ﷺ کی رسالت کا عظیم معجزہ ہے عجب نہیں کہ آیات خداوندی…
Read the full tafseer →37:۔ یہ طریق تبلیغ ہے۔ مشرکین مکہ کی طرح اگرچہ اہل کتاب بھی ایذاء رسانی میں پیش پیش ہیں لیکن پھر بھی تبلیغ میں نرمی اختیار کرو اور درشتی سے کام نہ لو۔ الا الذین ظلموا الخ البتہ ان میں جو ضد وعناد اور بےانصافی پر اتر آئیں اور نرمی کا ان پر کوئی اثر نہ ہو ان کے ساتھ ذرا سخت لہجہ اختیار کرلو تاکہ ان کے غرور و استکبار کا جواب ہوجائے۔ الا الذین ظلموا منھم بالافراد فی العتداء والعناد ولم یقلبوا النصح ولم ینفع فیھم الرفق فاستعملوا معہم الغلظۃ (روح ج 31 ص 2) ۔ یا استثناء منقطع ہے یعنی اگر آپ نرمی سے تبلیغ کریں گے تو اس سے وہ زیادہ متاثر ہوں گے۔ الا الذین ظلموا منہم البتہ ان میں سے جو ضدی اور بےانصاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
ربطِ آیات
سورة العنکبوت اللہ تعالیٰ نے زیادہ تر ایمان کے ساتھ ابتلاء کا ذکر کیا ہے اور اس سلسلہ میں بعض انبیاء کی آزمائش کے واقعات بیان کرکے اہل ایمان کو تسلی دی ہے کہ کسی کو بغیر آزمائش کے نہیں چھوڑا جائے گا۔ پھر اللہ نے شرک کی قباحت کو ایک مثال کے ذریعے واضح کیا ، پھر توحید کی دعوت دی۔ اس کے بعد نبی (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ جو چیز آپ کی طرف بصورت وحی ناز کی جاتی ہے اس کو پڑھیں اور نماز قائم رکھیں کہ یہ بےحیائی اور برائی سے روکنے والی چیز ہے۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے اور اللہ تعالیٰ تمہاری تمام کارگزاریوں سے واقف ہے۔
اہل کتاب کے ساتھ مجادلہ
اہل کتاب اور مشرک لوگ اسلام…
Read the full tafseer →وَلَا تُجَادِلُوْٓا اَہْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ 0ۤۖ اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ وَقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بِالَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَاُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَاِلٰـہُنَا وَاِلٰــہُكُمْ وَاحِدٌ وَّنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ 46
جدل
الجِدَال : المفاوضة علی سبیل المنازعة والمغالبة، وأصله من : جَدَلْتُ الحبل، أي : أحكمت فتله ۔ قال اللہ تعالی: وَجادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ [ النحل/ 125]
( ج د ل ) الجدال
( مفاعلۃ ) کے معنی ایسی گفتگو کرنا ہیں جسمیں طرفین ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کریں اصل میں یہ جدلت الحبل سے مشتق ہے ۔ جس کے معنی ہیں رسی کو مضبوط بٹنا اسی…
Read the full tafseer →ترکیب : الا بالتی ای المجادلۃ التیھی احسن کا لدعاء الی اللہ اباتہ و لتنبیہ علی جحجہ الالذین ظلموا ھو استثناء من الجنس و فی المعنی و جہاں احدھما الا الذین ظلموا فلا تجادلوھم بالحسنی بل بالغلظۃ والثانی لا تجادلوھم البتہ۔
فقال ولا تجادلوا اھل الکتاب الا بالتیھی احسن اہل کتاب سے مجادلہ نہ کرو مگر عمدہ طور سے ہو تو مضائقہ نہیں جس میں نرم کلامی اور اظہارِ حق مدنظر ہو الا الذین ظلموا منہم مگر جو ان میں ہٹ دھرم ہیں، بعض سخن پرور ضدی متعصب زبان دراز ہو تو ان سے مناظرہ نہ کرو، ان کو اس وقت کے لیے چھوڑ دو کہ آسمانی سلطنت کا بادشاہ اپنی تلوار اپنی ران پر لٹکائے اور اس کا دائیاں ہاتھ مہیب کام دکھائے۔ اس…
Read the full tafseer →وَلاَ تُجَادِلُوْٓا اَھْلَ الْکِتٰبِ اِلاَّ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ صلے ق اِلاَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ وَقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بِالَّذِیْٓ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَاُنْزِلَ اِلَیْکُمْ وَاِلٰـھُنَا وَاِلٰـھُکُمْ وَاحِدٌ وَّنَحْنُ لَـہٗ مُسْلِمُوْنَ ۔ (العنکبوت : 46)
(اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر اس طریقہ سے جو بہتر ہو، سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں اور ان سے کہو کہ ہم ایمان لائے ہیں اس چیز پر بھی جو ہماری طرف بھیجی گئی ہے اور اس چیز پر بھی جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔ )
یہود کے ذکر کی وجہ اور ان سے متعلق…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : کفار اور مشرکین مکہ کے ساتھ اکثر اہل کتاب بھی نبی ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرنے پر اتر آتے۔ اس لیے اہل کتاب کے بارے میں آپ ﷺ کو خصوصی ہدایت دی گئی ہے۔
اے نبی ﷺ اور مسلمانوں ! اگر تمہارے ساتھ اہل کتاب بحث و تکرار اور جھگڑا کرنے پر اتر آئیں تو تمہیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ ان سے بحث و تکرار سے بچا جائے۔ اگر تکرار کی صورت ناگزیر ہو تو دلائل کی روشنی میں اچھے انداز میں بحث کرو، کیونکہ جن لوگوں نے کفر و شرک کا روّیہ اختیار کر رکھا ہے وہ بحث و تکرار کے ذریعے تمہیں الجھانا چاہتے ہیں۔ درحقیقت یہ لوگ اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ہیں۔ انہیں یہی…
Read the full tafseer →46: وَلَا تُجَادِلُوْا اَہْلَ الْکِتٰبِ اِلاَّ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ (اور اہل کتاب سے مباحثہ نہ کرو۔ مگر اس طریقہ سے جو بہت خوب ہو) ۔ مگر اس انداز سے جو خوب تر ہو۔ اور وہ یہ ہے کہ درشتی کا مقابلہ نرمی اور غضب کا غصہ پی جانے سے کیا جائے جیسا کہ فرمایا دوسرے مقام پر ادفع بالتی ہی احسن ] المؤمنون۔ 96[
ظلموا کی مراد :
اِلاَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ (مگر وہ لوگ جو ان میں سے ظلم کرنے والے ہیں) ۔ انہوں نے عناد اور زیادتی میں حد کردی اور خیر خواہانہ بات کو قبول نہ کیا۔ اور نرمی ان میں اثر کرتی نظر نہیں آتی۔ ان کے ساتھ سختی کرو۔
ایک قول یہ ہے :
مگر وہ لوگ جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ایذائیں دی…
Read the full tafseer →تفسیر۔
46۔ ولاتجادلوا اھل الکتاب، ، یعنی نہ جھگڑو، الابالتیھی احسن، ، قرآن اور آیات قرآنیہ کے ذریعے سے اللہ کی طرف آنے کی دعوت دو اور قرآن کے پیش کردہ دلائل پر متنبہ کرو۔ یہ حکم جزیہ کے نافذ ہونے سے پہلے کا ہے۔ الاالذین ظلموامنھم ، وہ جزیہ دینے سے انکار کردیں تو ان سے لڑو یہاں تک کہ وہ مسلمان ہوجائیں اور یاذلیل ہوکر جزیہ عطا کریں، مجازا آیت یوں ہوگی ، الاالذین ظلموکم، چونکہ یہ سب کفر کی وجہ سے ظالم ہیں۔
سعید بن جبیر نے کہا کہ اس سے مراد اہل حرب ہیں، اور وہ لوگ جن کے ساتھ کوئی عہد وغیرہ نہیں ہوا، قتادہ اور مقاتل اس آیت کو منسوخ قراردیتے ہیں۔ اس آیت سے ، قاتلوالذین لایومنون باللہ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
44 تا 49۔ ان آیتوں میں اپنی قدرت کا حال بیان فرمایا ہے کہ اس نے آسمان اور زمین کو بےفائدہ نہیں پیدا کیا بلکہ اس واسطے پیدا کیا کہ ہر ایک شخص کو اس کے عمل کا بدلہ ملے برے کو برا اچھے کو اچھا اس آیت میں ایمان والوں کو ہدایت ہے کہ اللہ اکیلا جہاں کا پیدا کرنے والا ہے وہی اکیلا پوجنے کے قابل ہے اور منکرین حشر کو یہ تنبیہ ہے کہ یہ لوگ خود تو دنیا میں کو کام کرتے ہیں اس میں کوئی نہ کوئی فائدہ ان کو مد نظر ہوتا ہے مثلا کھیتی میں پیدا وار کا فائدہ تجارت میں نقدی کا فائدہ ان کا مقصود ہوتا ہے پھر یہ نادان اللہ تعالیٰ کے اتنے بڑے انتظام کو بےفائدہ کیوں ٹھہراتے ہیں اتنا نہیں سمجھتے کہ دنیا کے ختم ہوجانے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 46
اللہ تبارک و تعالیٰ اہل کتاب سے ایسی بحث کرنے سے روکتا ہے جو بصیرت کی بنیاد پر اور کسی مسلمہ قاعدے کے مطابق نہ ہو ‘ نیز اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ جب بھی اہل کتاب سے بحث کریں تو احسن انداز ‘ حسن اخلاق اور نرم کلامی سے ان کے ساتھ بحث کریں اور دعوت اسلام بہترین طریقے سے پیش کریں اور باطل کو قریب ترین ذریعے سے رد کریں۔ اس بحث کا مقصد محض جھگڑنا اور مدمقابل پر غلبہ حاصل کرنا نہ ہو بلکہ اس کا مقصد حق کا بیان اور مخلوق کی ہدایت ہو۔
اہل کتاب میں سے ایسے آدمی کے سوا جس نے اپنے اس ارادے اور حالت کا اظہار کرکے ظلم کا ارتکاب کیا کہ اس کے بحث کرنے کا مقصد وضاحت حق نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–69
قول باری ہے : (ولا تجادلوا اھل الکتاب الا بالتیھی احسن۔ اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقے سے) قتادہ کا قول ہے کہ یہ آیت قول باری (وقاتلوا المشرکین اور مشرکین سے قتال کرو) کی بنا پر منسوخ ہوچکی ہے۔ کوئی بحث تلوار کے استعمال سے بڑھ کر نہیں ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قتادہ کی مراد یہ ہے کہ آیت، زیر بحث کا حکم قتال کے حکم سے پہلے کا ہے۔
قول باری ہے : (الا الذین ظلموا منھم ۔ سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں) ۔ یعنی۔ واللہ اعلم۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے بحث وجدال وغیرہ میں تمہارے ساتھ ظلم کیا ہو جو اس امر کا مقتضی ہو کہ تم ان کے ساتھ سخت رویہ رکھو۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–69
58 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اس کے احاطہ علم کے اعتبار سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ پوری طرح جانتا ہے ان سب چیزوں کو جن کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں اللہ کے سوا "۔ تعمیم ملاحظہ ہو کہ اول تو { شیئ } خود نکرہ ہے جو ہر چیز کو شامل ہے۔ پھر اس پر { من } استغراقیہ سے مزید تاکید۔ یعنی کوئی بھی چیز خواہ کوئی فرشتہ ہو یا انسان، شجر ہو یا حجر، بت ہو یا جن وغیرہ وغیرہ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ مافوق الاسباب کسی کو بھی پکارنا شرک ہے جو کہ سب سے بڑا گناہ اور ناقابل معافی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اب وہ لوگ دیکھ لیں جو اس وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر اس کی عاجز مخلوق کو پکارتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے " یا رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
نبی ﷺ کے لیے ہدایات، قرآن کی برکات
تشریح : یہاں اللہ جل شانہ ‘ اپنے پیارے نبی سے مخاطب ہو رہے ہیں کہ آپ کو نبوت کا رتبہ دیا گیا ہے اور وحی کے ذریعے سے قرآن مجیددیا گیا ہے۔ اس کو پڑھا کرو۔ کیونکہ قرآن پاک کوئی معمولی کتاب نہیں۔ یہ کتاب انسان کے لیے ہر قسم کے علوم کا مجموعہ ہے۔ اور ثابت ہوچکا ہے کہ قرآن کسی بندے کا لکھا ہوا نہیں بلکہ یہ آسمانی کتاب ہے جو اللہ نے وحی کے ذریعے آپ ﷺ پر نازل فرمائی۔ اس کی سچائی کے لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر کوئی انسان قرآن کا مصنف ہوتا تو آج سے چودہ سو سال قبل ایسے حقائق کیسے بیان کرسکتا جو آج جدید سائنسی معلومات سے پوری طرح مطابقت رکھتے ہیں۔ قرآن میں تخلیقات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–51
آیات 45 تا 51
اسرارومعارف
آپ قرآن پڑھا کیجیے اور نماز قائم کیجیے۔ یعنی کہ آپ قرآن کریم کو پڑھ کر سنایا کیجیے اس بات کی پرواہ کیے بغیر کہ کوئی ایمان لاتا ہے کہ نہیں۔ اور عبادات کو قائم کیجیے لہذا یہ ضروری ہے کہ قرآن کو مسلسل لوگوں پہ بیان کیا جائے یعنی تبلیغ کی جائے اور مبلغ خود عبادات پہ پورے اہتمام سے کاربند رہے کہ عبادات کا خاصہ یہ ہے کہ بندے کو برائی اور منکرات سے بچنے کی توفیق نصیب ہوتی ہے۔
قرآن کے بیان اور نماز کا اثر :
یہ کمال قرآنی بیانات میں بھی ہے کہ جس بات پر قرآن سے وعظ کیا جائے کوئی قبول کرے یا نہ خود کرنے والے کو اس پہ عمل کی توفیق ارزاں ہوتی ہے اور نماز جو بارگاہ صمدیت کی حضوری…
Read the full tafseer →5 ۔ یعنی معقول دلائل اور شائستہ زبان کے ساتھ ان کے انبیا اور ان کی کتابوں کا ادب ملحوظ رکھتے ہوئے۔ یہی حکم اب بھی ہے (ابن جریر) نیز دیکھئے۔ ( سورة نمل :125) 6 ۔ یعنی اگر وہ صریح بےانصافی، ضد اور ہٹ دھرمی پر تل جائیں تو ان سے ان کے رویہ کے مطابق سختی کا برتائو بھی کرسکتے ہو۔ مجاہد فرماتے ہیں کہ ان سے مراد مشرکین اہل کتاب ہیں۔ یا وہ جو آنحضرت ﷺ کو ایذا رسانی پر تلے رہتے تھے۔ بہرحال یہ آیت مکی ہے اس سے قتال ثابت نہیں ہوتا۔ (روح) 7 ۔ یعنی توراۃ، انجیل، زبور اور ان دوسرے صحیفوں پر جو تمہارے انبیا پر نازل ہوئے۔ ایک حدیث میں بھی اسی کی تلقین فرمائی گئی ہے : لاتصدقوا اھل الکتاب ولا تکذبومھم و قولوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
(29:45) اتل۔ تو پڑھ۔ تو تلاوت کر۔ تلاوۃ مصدر فعل امر صیغہ واحد مذکر حاضر یہاں بمعنی زم علی تلاوۃ ہے۔ یعنی متواتر پڑھا کیجئے
ما اوحی الیک من الکتاب : ما موصولہ اوحی ماضی مجہول واحد مذکر غائب ۔ ایحاء (افعال) مصدر۔ وحی کی گئی۔ من الکتب میں من بیانہ ہے الکتب سے مراد القرآن ہے۔ یعنی جو کتاب آپ پر وحی کی گئی ہے اسے دائما پڑھا کیجئے۔
اقم الصلوۃ : اقم امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ (اگرچہ خطاب حضرت رسول کریم ﷺ سے ہے لیکن اس سے جمیع الناس مراد ہیں) اقامۃ مصدر۔ باب افعال۔ تو قائم رکھ۔ تو سیدھا رکھ۔ تو راست کر۔ (اس میں بھی مداومت کے معنی ہیں) ۔
الصلوۃ میں الف لام عہد کا ہے۔ یعنی وہ نماز ظاہری اور باطنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
لغات القرآن آیت نمبر (45 تا 47 ) ۔
اتل (پڑھ۔ تلاوت کر) ۔ اوحی (وحی کی گئی) ۔ اقم (قائم کر) ۔ تنھی (روکتا ہے) ۔ لا تجادلوا (تم نہ جھگڑو ) ۔ ما یجحد (وہ انکار نہیں کرتا) ۔
تشریح : آیت نمبر (45 تا 47 ) ۔ ” نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ کو خطاب کرتے ہوئے درحققیت آپ کی پوری امت کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں ہمت و جرات سے آگے بڑھتے رہنا اور حالات کے ناموافق ہونے کے باوجود مایوس نہ ہونا سنت انبیاء ہے۔ کیونکہ آپ سے پہلے جتنے بھی انبیاء کرام گذرے ہیں ان کی امتوں نے اللہ کی نافرمانیوں کی انتہا کردی تھی وہ ان کا مذاق اڑاتے، پھبتیاں کستے اور طرح طرح سے ستاتے تھے مگر انبیاء کرام اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
نماز بری باتوں سے روکتی ہیے۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا : اے محبوب ﷺ چونکہ تم رسول ہو، جو تم پر وحی کی گئی ہے تم اس کی تبلیغ کرو، اور اس کو لوگوں کے سامنے پڑھا کرو کیونکہ اس میں نوح، ابراہیم، لوط ، موسیٰ کی اموں کا پورا بیان ہے کہ پہلے بھی کافر اور بت پرستوں نے اپنے انبیاء کے ساتھ جو کچھ کیا جس پر برباد ہوئے اور نماز کی جو کہ اعظم عبادت ہے خوب کوشش وسرگرمی سے ادا کرو، کیونکہ نماز بری اور بےحیائی کی باتوں سے روکتی ہے اول تو ان میں ہر رکعت میں الحمد شریف پڑھی جاتی ہے جس کا ہر ہرجملہ انسان کی روحانی قوتوں کو ابھارنے والا ہے پھر اس کے آگے کھڑا ہونا ، حمدوثنا کرنا، اس شاہ دوجہاں رب العالمین کے آگے…
Read the full tafseer →[19] مسلمانوں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ تبلیغ کے سلسلے میں مباحثہ و مناظرہ کے مواقع بھی آئیں گے تو جو مخالفین زیادتی اور بدزبانی پر اتر آئیں انھیں حسب مصلحت ان کے رنگ میں جواب دیا جاسکتا ہے۔ اسلام اپنے پیروؤں کو شائستگی، شرافت اور معقولیت تو ضرور سکھاتا ہے مگر ظلم کے مقابلے میں عاجزی اور مسکینی نہیں سکھاتا کہ وہ ہر ظالم کے لئے نرم چارہ بن کر رہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
نماز برائیوں سے روکتی ہے
1: مقصد یہ ہے کہ حضور ﷺ کو تسلی دی جائے ۔ اور بتایاجائے ۔ کہ آپ کا کام اللہ کے پیغام کو لوگوں تک پہنچانا ہے ۔ چاہے وہ قبول کریں یا رد کریں ۔ یہ آپ کے فرائض میں داخل نہیں ۔ کہ لاہد آپ ان کے دلوں تک رسائی حاصل کریں ۔ اور زبردستی ایمان کی دولت ان کے سپرد کردیں ۔ اس سلسلہ میں یہ ضروری تھا ۔ کہ گذشتہ اقوام وملل کے حالات بتلائے جائیں ۔ اس لئے ارشاد فرمایا ۔ کہ آپ قرآن پڑھیں ۔ اور دیکھیں ۔ کہ باوجود انبیاء کی سعی کی بلیغ کے انسانوں کا کثیر طبقہ رشدوہدایت سے محروم رہا ۔ اس لئے اگر یہ لوگ بھی ان بدبختان ازلی میں داخل ہوں ۔ اور قرآن کی برکات سعادت حاصل نہ کریں تو آپ قطعاً تکلیف…
Read the full tafseer →46۔ اور تم لوگ اہل کتاب کے ساتھ مباحثہ اور مناظرہ نہ کیا کرو مگر ہاں ایسے طریقے پر مباحثہ کرو جو طریقہ اچھا اور بہتر ہو لیکن وہ لوگ جو زیادتی کریں ان کی رعایت نہ کرنے میں مضائقہ نہیں اور اہل کتاب کے مقابلے میں یوں کہا کرو کہ ہم اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو ہماری طرف بھیجی گئی ہے اور ان کتابوں پر بھی جو تمہاری طرف بھیجی گئی ہیں اور ہمارا معبود اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اسی کے فرماں بردار اور اسی کے حکم پر ہیں ۔ اہل کتاب کی حالت نسبتاً کفار مکہ سے بہتر تھی اہل کتاب پڑھے لکھے لوگ تھے آسمانی کتابوں کو جانتے تھے ان کا نام لیتے تھے پیغمبروں سے واقف ، توحید اور قیامت کو بھی سمجھتے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
ف 4۔ یعنی ان کو جواب ترکی بہ ترکی دینے کا مضائقہ نہیں، گو افضل جب بھی طریقہ احسن ہے۔
5۔ کیونکہ مدار ایمان کا منزل من اللہ ہونا ہے۔
Read the full tafseer →اہل کتاب سے بحث ومناظرہ کرو تو شائستہ انداز اختیار کرو :
46۔ قرآن کریم کی اصل غرض وغایت جو گزشتہ آیات میں بیان کی گئی وہ تزکیہ نفس انسانی ہے اور بلاشبہ ارکان اسلام کی یہی اصل ہے جس کا لحاظ رکھ کر اسلامی عبادات کو تشکیل دیا گیا ہے اور اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں جو تزکیہ نفس انسان کرسکے علاوہ ازیں جو کچھ ہے وہ سب کا سب ایک دھوکا ہے اور ایک فریب ہے جو دنیا کے فریبی لوگوں کو فریب دینے کے لئے کرتے رہتے ہیں اس لئے اس جگہ وضاحت فرما دی کہ اگر اہل کتاب کے ساتھ کسی قسم کا مجادلہ در پیش آئے تو محتاط انداز اختیار کیا جائے ایسا نہ ہو کہ تزکیہ نفس انسانی جو اصل غرض قرآن کریم کی ہے اس کو کسی…
Read the full tafseer →Commentary
وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا (And do not debate with the people of the Book unless it is in the best way, except those from them who commit injustice. - 29:46). It means that if one has to get involved in a discussion or debate with the people of the book, he should present his arguments in an affable manner. For instance, it is prudent to answer an impudent remark with politeness, the rage with mildness, and uncivilized tumult with dignified speech.
إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا (except those from them who commit…
Read the full tafseer →80 It should be noted that a little below in this Surah the people are being exhorted to migrate. At that time Habash was the only place of safety to which the Muslims could migrate, and Habash in those days was under the domination of the Christians. Therefore, in these verses the Muslims are being instructed as to how they should argue and discuss matters concerning religion with the people of the Book when such an occasion arises.
81 That is, "The discussion should be conducted rationally, in a civilized and decent language, so that the ideas of the other person may be reformed. The…
Read the full tafseer →