اخلاص خوف اور اللہ کا ذکر
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو اور ایمان داروں کو حکم دے رہا ہے کہ وہ قرآن کریم کی تلاوت کرتے رہیں اور اسے اوروں کو بھی سنائیں اور نمازوں کی نگہبانی کریں اور پابندی سے پڑھتے رہا کریں۔ نماز انسان کو ناشائستہ کاموں اور نالائق حرکتوں سے باز رکھتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ جس نمازی کی نماز نے اسے گناہوں سے اور سیاہ کاریوں سے باز نہ رکھا وہ اللہ سے بہت دور ہوجاتا ہے ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی گئی تو آپ نے فرمایا جسے اس کی نماز بےجا اور فحش کاموں سے نہ روکے تو سمجھ لو کہ اس کی نماز اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہوئی۔ اور روایت میں ہے…
Read the full tafseer →سورة العنکبوت 77
خطاب بظاہر نبی ﷺ سے ہے، مگر دراصل مخاطب تمام اہل ایمان ہیں۔ ان پر جو ظلم و ستم اس وقت توڑے جارہے تھے اور ایمان پر قائم رہنے میں جن شدید حوصلہ شکن مشکلات سے ان کو سابقہ پیش آرہا تھا، ان کا مقابلہ کرنے کے لیے پچھلے چار رکوعوں میں صبر وثبات اور توکل علی اللہ کی مسلسل تلقین کرنے کے بعد اب انہیں عملی تدبیر یہ بتائی جارہی ہے کہ قرآن کی تلاوت کریں اور نماز قائم کریں، کیونکہ یہی دو چیزیں ایسی ہیں جو ایک مومن میں وہ مضبوط سیرت اور وہ زبردست صلاحیت پیدا کرتی ہیں جن سے وہ باطل کی بڑی سے بڑی طغیانیوں اور بدی کے سخت سے سخت طوفانوں کے مقابلہ میں نہ صرف کھڑا رہ سکتا ہے بلکہ ان کا منہ پھیر…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(اے محمد ﷺ چونکہ آپ رسول ہیں، اس لئے) جو کتاب آپ پر وحی کی گئی ہے آپ (تبلیغ کے واسطے) اس کو (لوگوں کے سامنے) پڑھا کیجئے (اور تبلیغ قولی کے ساتھ تبلیغ عملی بھی کیجئے کہ دین کے کام ان کو عمل کر کے بھی بتلائیے، خصوصاً) نماز کی پابندی رکھئے (کیونکہ تمام اعمال میں نماز اعظم عبادت بھی ہے اور اس کے اثرات بھی دور رس ہیں کہ) بیشک نماز (اپنی وضع کے اعتبار سے) بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی رہتی ہے (یعنی بزبان حال کہتی ہے کہ تو جس معبود کی انتہائی تعظیم کر رہا ہے اور اس کی اطاعت کا اقرار کر رہا ہے فحشا اور منکر میں مبتلا ہونا اس کی شان میں بےادبی ہے) اور (اسی طرح نماز کے سوا جتنے نیک…
Read the full tafseer →اتل ما اوحی الیک من الکتب واقم الصلوۃ ان الصلوۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر ط ولذکر اللہ اکبر ط واللہ یعلم ماتصنعون (45)
یہ نبی ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ تم یہ قرآن لوگوں کو سناء اور اسی کے ذریعہ سے لوگوں کو دعوت دو۔ اگر مخالفین ان نشانیوں اور دلائل کی طرف توجہ نہیں کرتے جن کی طرف قرآن ان کو توجہ دلا رہا ہے، بلکہ معجزے یا عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں، تو ان کے ان مطالبات کی کوئی پروانہ کرو۔ قرآن ان کے لئے ایک عظیم رحمت ہے۔ اگر وہ اس کی قدر نہیں کریں گے تو اس کا انجام خود بھگتیں گے۔
’ واقم الصلوۃ ط ان الصلوۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر۔ یعنی اپنے اور اپنے ساتھیوں کے لئے نما زکا اہتمام کرو۔ اس…
Read the full tafseer →45-1قرآن کریم کی تلاوت متعدد مقاصد کے لئے مطلوب ہے۔ محض اجر وثواب کے لئے، اس کے معنی و مطلب پر تدبر و تفکر کے لئے، تعلیم و تدریس کے لئے، اور وعظ و نصیحت کے لئے، اس حکم تلاوت میں ساری صورتیں شامل ہیں۔
45-2کیونکہ نماز سے (بشرطیکہ نماز ہو) انسان کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ قائم ہوجاتا ہے، جس سے انسان کو اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوتی ہے جو زندگی کے ہر موڑ پر اس کے عزم و ثبات کا باعث، اور ہدایت کا ذریعہ ثابت ہوتی ہے اس لیے قرآن کریم میں کہا گیا ہے کہ اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔ نماز اور صبر کوئی مرئی چیز نہیں ہے نہیں کہ انسان انکا سہارا پکڑ کر ان سے مدد حاصل کرلے۔ یہ تو غیر مرئی چیز…
Read the full tafseer →26: یعنی اگر انسان نماز کو نماز کی طرح پڑھے، اور اس کے مقصد پر دھیان دے تو وہ اسے بےحیائی اور ہر برے کام سے روکے گی، اس لئے کہ انسان نماز میں سب سے پہلے تکبیر کہہ کر اللہ تعالیٰ کی بڑائی کا اعلان اور اقرار کرتا ہے، جس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے آگے کسی بات کو وقعت نہیں دیتا، پھر ہر رکعت میں وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ یا اللہ ! میں آپ ہی کی بندگی کرتا ہوں، اور آپ ہی سے مدد مانگتا ہوں، لہذا جب اس کے بعد کسی گناہ کا خیال اس کے دل میں آئے تو اگر اس نے نماز دھیان سے پڑھی ہے تو اسے اپنا عہد یاد آنا چاہیے، جو یقیناً اسے گناہ سے روکے گا، نیز رکوع سجدے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
اتل ما اوحی ۔۔۔۔۔ یعلم ما تصنعون (29: 45) ” جو کتاب آپ پر وحی کی گئی ہے اسے پڑھئے اور نماز قائم کیجئے بیشک نماز فحاشی اور منکرات سے روکتی ہے۔ بیشک اللہ کا ذکر بڑی چیز ہے اور اللہ جانتا ہے جو کام تم کرتے ہو “۔
ان کے سامنے کتاب پڑھیں کہ یہی ذریعہ دعوت اسلامی ہے ، اور ایک ربانی معجزہ ہے اور اس کتاب کے اندر بیان کردہ سچائی وہی ہے جو اس کائنات کے اندر پوشیدہ سچائی ہے۔ اور نماز قائم کرو ، جب نماز قائم کی جاتی ہے تو یہ فحاشی اور منکرات سے روکتی ہے ، یہ اللہ کے ساتھ ایسا رابطہ ہے کہ جب کوئی یہ رابط قائم کرتا ہے تو پھر وہ فحاشی اور منکرات کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ یہ ظاہری اور روحانی تطہیر کا…
Read the full tafseer →1 یعنی قرآن کی تلاوت کرتے رہئیے تاکہ دل مضبوط اور قوی رہے، تلاوت کا اجر وثواب الگ حاصل ہو۔ اس کے معارف و حقائق کا انکشاف بیش از بیش ترقی کرے۔ دوسرے لوگ بھی سن کر اس کے مواعظ اور علوم و برکات سے منتفع ہوں، جو نہ مانیں ان پر خدا کی حجت تمام ہو، اور دعوت و اصلاح کا فرض بحسن و خوبی انجام پاتا رہے۔
2 نماز کا برائیوں سے روکنا دو معنی میں ہوسکتا ہے۔ ایک بطریق تسبب، یعنی نماز میں اللہ تعالیٰ نے خاصیت و تاثیر رکھی ہو کہ نمازی کو گناہوں اور برائیوں سے روک دے جیسے کسی دوا کا استعمال کرنا بخار وغیرہ امراض کو روک دیتا ہے۔ اس صورت میں یاد رکھنا چاہیے کہ دوا کے لئے ضروری نہیں کہ اس کی ایک ہی خوراک بیماری کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
اب یہاں سے اس سورت کا آخری حصہ شروع ہو رہا ہے جو تین رکوعات پر مشتمل ہے۔ جیسا کہ آغاز میں بتایا گیا ہے ‘ سورت کے اس حصے میں دو مضامین مشرکین مکہ اور اہل ایمان سے خطاب اس انداز میں متوازی چل رہے ہیں جیسے ایک رسی کی دو لڑیاں آپس میں گندھی ہوئی ہوں۔ قرآن کے اس اسلوب کے بارے میں پہلے بھی کئی بار ذکر ہوچکا ہے کہ مدنی سورتوں میں اہل ایمان سے خطاب کے لیے عام طور پر یٰاَیُّھَا الَّذِینَ اٰمَنُوْا کا صیغہ آیا ہے ‘ جبکہ مکی سورتوں میں اہل ایمان کو براہ راست مخاطب کرنے کے بجائے عموماً رسول اللہ ﷺ کی وساطت سے مخاطب کیا گیا ہے۔ البتہ اس سورت کی آیت 56 میں یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ میں…
Read the full tafseer →72 اس آیت میں یہ ظاہر خطاب صرف رسول اللہ کو ہے لیکن مخاطب سارے ہی مومن ہیں۔ جو مکہ میں کافروں کے ہاتھوں تکلیفیں اٹھا رہے تھے۔ ان مصائب کے مداوا کے طور پر انھیں تین باتوں کی تلقین کی گئی ایک قرآن کی تلاوت، دوسرے نماز پر ہمیشگی اور تیسرے ہر وقت اللہ کو یاد رکھنا۔
تلاوت قرآن کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے دل میں صبر اور برداشت کی قوت پیدا ہوتی ہے۔ جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنٰهُ تَرْتِيْلًا 32) 25 ۔ الفرقان :32) بشرطیکہ قرآن کریم کو سوچ سمجھ کر پڑھا جائے اور اس کی اقتضات کو اپنی ذات پر نافذ کیا جائے۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ قرآن کی تلاوت بذات خود…
Read the full tafseer →52۔ (آیت) ” اتل ....... اقم الصلوۃ “۔ یعنی تشریع قولی اور تشریع فعلی، دین کے دونوں کاموں میں برابر لگے رہیے۔ (آیت) ” اتل “۔ میں خطاب رسول اللہ ﷺ سے ہے اور (آیت) ” اقم “۔ میں رسول وامت دونوں سے۔ (آیت) ” اقم الصلوۃ “۔ اقامت صلوۃ کے تحت میں نماز کے وقت کی پابندی اور اس کے ارکان و شرائط کی رعایت آگئی۔ اقامۃ الصلوۃ اداؤھا فی وقتھا بقراء تھا ورکوعھا وسجودھا وقعودھا وتشھدھا و جمیع شروطھا (قرطبی) (آیت) ” اتل “۔ یعنی قرآن کی تلاوت خود بھی کیجئے اور دوسروں کو بھی سنائیے۔ علم عمل پر مقدم ہوتا ہے۔ اس ترتیب کے مطابق یہاں تلاوت قرآن کو اقامۃ الصلوۃ پر مقدم رکھا ہے۔ (آیت) ” من الکتب “۔ میں من بیانہ ہے۔
53۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–51
آیت نمبر 45 تا 51
ترجمہ : جو کتاب آپ پر یعنی قرآن وحی کی گئی ہے آپ اس کو پڑھا کیجئے اور نماز کی پابندی رکھئے یقیناً نماز بیحیائی اور شرعاً ناشائستہ کاموں سے روک دیتی ہے یعنی نماز کی شان یہی ہے، جب یک انسان نماز میں ہوتا ہے بیشک اللہ کا ذکر دیگر طاعتوں کے مقابلہ میں بہت بڑی چیز ہے جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے اس کی تم کو وہ جزادے گا اور تم اہل کتاب کے ساتھ بجز مہذب طریقہ کے مجادلہ کرو مثلاً اللہ کی طرف اللہ کی آیات کے ذریعہ دعوت دو اور اس کے دلائل پر تنبیہ کرو مگر ان کے ساتھ جو ان میں زیادتی کریں بایں طور کہ محاربہ کریں اور جزیہ دینے سے انکار کریں تو ایسے لوگوں سے جہاد بالسیف…
Read the full tafseer →اتل ما اوحی الیک من الکتب . جو کتاب آپ کے پاس وحی کے ذریعہ سے بھیجی گئی ہے اس کو پڑھئے۔
تاکہ اللہ کا قرب حاصل ہو ‘ نصیحت پذیری کا تحفظ ہو ‘ احکام کی نگہداشت ہو ‘ اس کی مثالوں سے عبرت حاصل ہو ‘ معانی قرآن کا انکشاف ہو ‘ کیونکہ بار بار غور کے کر پڑھنے سے ان معانی کا انکشاف ہوتا ہے جن کا انکشاف پہلی مرتبہ تلاوت کرنے سے نہیں ہوتا۔ اس پیہم تلاوت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پڑھنے والا معانی قرآن کو سمجھ کر قرآن کے اوامرو نواہی کا پابند ہوجاتا ہے۔
واقم الصلوۃ . اور (فرض) نماز قائم کرو۔
ان الصلوۃ تنھی عن الفحشآء والمنکر . (کیونکہ) نماز بلاشبہ بےحیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے۔
اَلْفَحْشَآءِ وہ بری بات جس…
Read the full tafseer →اے محمد ﷺ آپ ان لوگوں کو قرآن کریم پڑھ کر سنایا کریں اور پانچوں نمازوں کی پابندی رکھیے کیونکہ نماز گناہ اور برے کاموں سے روک ٹوک کرتی رہتی ہے یعنی کم از کم جب تک آدمی نماز پڑھتا ہے تو نماز ایسی چیزوں سے روکے رکھتی ہے جن کا شریعت اور سنت میں کہیں تذکرہ نہیں اور تم جو نماز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہو اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کا مغفرت فرمانا اور ثواب عطا کرنا بہت بڑی چیز ہے اور جو کچھ تم نیکیاں اور برائیاں کرتے ہو اللہ تعالیٰ سب سے واقف ہے۔
Read the full tafseer →اُتْلُ مَآ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ۔۔ : مکہ مکرمہ میں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں پر جو ظلم و ستم ہو رہا تھا اور انھیں ایمان پر ثابت قدم رہنے میں جو مشکلات پیش آرہی تھیں سورت کے شروع سے یہاں تک انھیں ان مشکلات کو برداشت کرنے اور ان پر استقامت اختیار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی آزمائش کی سنت بیان کی گئی۔ اس کے نمونے کے لیے پہلے اولو العزم پیغمبروں کی آزمائش اور ان کی قوموں کے شدید معاندانہ رویے پر ان کے صبر کو بیان کیا گیا، ساتھ ہی نافرمان اقوام کا عبرت ناک انجام ذکر کیا گیا۔ مقصد مسلمانوں کو تسلی دینا اور مشکل سے مشکل حالات میں استقامت کی تلقین ہے۔ اب وہ عملی تدبیر بتائی جس سے مومن میں وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
حق سے مراد عدل و انصاف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اپنی کلام اور قدرت کے ساتھ یہی حق ہے۔ آیۃ سے مراد علامت اور دلالت ہے۔ مومنین سے مراد تصدیق کرنے والے ہیں۔
ترجمہ :
” آپ تلاوت کیجئے اس کتاب کی جو وحی کی گئی ہے آپ کی طرف اور نماز صحیح صحیح ادا کیجئے۔ بیشک نماز منع کرتی ہے بےحیائی اور گناہ سے اور واقعی اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت بڑا ہے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔ “
اس میں چار مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر ا : اُتل تلاوت اور اس کو معمول بنانے کا حکم ہے سورة طہٰ میں اس آدمی کے لئے وعید گزر چکی ہے۔ جو اس سے اعراض کرتا ہے کتاب کے مقدمہ میں اس پر برانگختیہ کیا گیا ہے کتاب سے مراد قرآن حکیم ہے۔
مسئلہ…
Read the full tafseer →1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے ان الصلوۃ تنہی عن الفحشاء والمنکر کے بارے میں فرمایا کہ نماز روکنے والی ہے اور ڈانٹنے والی ہے اللہ کی نافرمانی سے۔
2۔ عبد بن حمید نے ابو العالیہ (رح) سے آیت انا الصلوۃ تنہی عن الفحشاء والمنکر کے بارے میں فرمایا کہ نماز میں تین باتیں ہیں اخلاص، خشیت اس کو برے کاموں سے روکتی ہے اور اللہ کے ذکر سے مراد قرآن ہے جو اس کو نیک کاموں کا حکم کرتا ہے اور اس کو برے کاموں سے روکتا ہے۔
نماز بےحیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے
3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت ان الصلوۃ تنہی عن الفحشاء والمنکر،…
Read the full tafseer →اُتْلُ [آپ (علیہ السلام) پڑھیے ] مَآ [اس کو جو ] اُوْحِيَ [وحی کیا گیا ] اِلَيْكَ [آپ ﷺ کی طرف ] مِنَ الْكِتٰبِ [کتاب میں سے ] وَاَقِـمِ [اور آپ ﷺ قائم رکھیے ] الصَّلٰوةَ ۭ: نماز کو ] اِنَّ الصَّلٰوةَ [یقینا نماز ] تَنْهٰى [روکتی ہے ] عَنِ الْفَحْشَاۗءِ [بے حیائی سے ] وَالْمُنْكَرِ ۭ [اور برائی سے ] وَلَذِكْرُ اللّٰهِ [اور یقینا اللہ کی یاد ] اَكْبَرُ ۭ [سب سے بڑی (چیز) ہے ] وَاللّٰهُ يَعْلَمُ [اور اللہ جانتا ہے ] مَا [اس کو جو ] تَصْنَعُوْنَ : تم کرتے ہو ]
خ ط ط
(ن) خطا لکیر کھینچنا۔ کوئی عبارت لکھنا ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 48 ۔
نوٹ۔ 1: آیت۔ 45 ۔ میں ہے کہ نماز برائی سے روکتی ہے۔ آج کل مشاہدہ یہ…
Read the full tafseer →قرآن مجید کی تلاوت کرنے اور نماز قائم کرنے کا حکم
اس آیت کریمہ میں دو حکم ہیں، پہلا حکم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کتاب آپ کو دی ہے آپ اس کی تلاوت کرتے رہیں۔ تنہائی میں تلاوت کرنا، نمازوں میں قرآن مجید پڑھنا، لوگوں کے سامنے پڑھنا اور اس کی تعلیم دینا الفاظ کا عموم ان سب کو شامل ہے دوسرا حکم یہ ہے کہ آپ نماز قائم کریں۔ دیگر آیات میں بھی نماز قائم کرنے کا حکم وارد ہوا ہے، سورة بنی اسرائیل میں ارشاد ہے (اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ ) اور سورة ہود میں فرمایا ہے (وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّھَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ ) ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو نماز قائم کرنے کا حکم دیا ہے، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–55
اثبات رسالت محمدیہ وازالہ شکوک و شبہات منکرین نبوت
قال اللہ تعالیٰ اتل ما اوحی الیک من الکتب واقم الصلوٰہ۔۔۔ الی۔۔۔ ذوقوا ما کنتم تعملون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں توحید کا ذکر تھا اور اس بات کا ذکر تھا کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) نے لوگوں کو توحید کی دعوت دی اور شرک سے منع کیا بالآخر وہ منکرین ہلاک ہوئے اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کی رسالت کا مضمون ذکر کرتے ہیں اور منکرین رسالت کے بعض شبہات کا جواب دیتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ ان کے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کیجئے جو توحید کے مضامین پر اور گذشتہ امتوں کے حال اور مال پر مشتمل ہے اور آپ ﷺ کی رسالت کا عظیم معجزہ ہے عجب نہیں کہ آیات خداوندی…
Read the full tafseer →36:۔ یہ دعوی توحید پر دلیل وحی ہے۔ یہ مسئلہ توحید وحی کے ذریعہ سے آپ پر نازل کیا گیا ہے۔ اس لیے جو کتاب آپ پر نازل کی گئی ہے آپ اس مسئلہ توحید کو بیان کرتے رہیں اور کتاب اللہ کی آیتیں پڑھ کر سناتے رہیں۔ واقم الصلوۃ الخ، یہ امر مصلح ہے یعنی مسئلہ توحید بیان کرنے کی وجہ سے کفار کی طرف سے آپ کو جو تکلیف وا یذاء پہنچے اس کا اثر کم کرنے کے لے آپ نماز قائم کریں۔ نماز سے اللہ کے ساتھ خصوصی تعلق قائم رہے گا، صبر و ہمت کا جذبہ پیدا ہوگا اور مصائب و مشکلات کی اہمیت دل سے کم ہوجائے گی۔ الفحشاء سے کافروں کی خباثتیں اور ان کی ایذائیں مراد ہیں۔ یعنی نماز کافروں کی خباثتوں اور ایذاؤں کا اثر دل سے زائل کردے…
Read the full tafseer →تلاوت قرآن پاک
گذشتہ آیات میں ایمان کے ابتلا کا ذکر ہوچکا ہے۔ ایک مثال کے ذریعے کفر و شرک کی کمزوری کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ اب کتاب الٰہی کی صداقت اور رسالت کا ضمنا بیان ہے۔ اس کے بعد توحید اور معاد کا ذکر ہوگا۔ آج کی آیت میں پہلے قرآن پاک کے متعلق ارشاد ہے۔ اتل ما اوھی الیک من الکتب آپ پڑھیں اس چیز کو جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے۔ کتاب کی صورت میں یعنی قرآن کریمہ ، تلاوت کا معنی پڑھنا ہوتا ہے اور یہ دو مقاصد کے لیے ہوتا ہے۔ تلاوت کا ایک قصہ حصول ثواب اور روحانی تسلی ہوتا ہے ، جیسا کہ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ قرآن پاک کے ایک ایک حرف کی تلاوت پر اللہ تعالیٰ دس دس نیکیاں عطا فرماتا ہے۔ یہ ایسی…
Read the full tafseer →اُتْلُ مَآاُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَاَقِـمِ الصَّلٰوۃَ 0ۭ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ 0ۭ وَلَذِكْرُ اللہِ اَكْبَرُ 0ۭ وَاللہُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ 45
تلو
تَلَاهُ : تبعه متابعة ليس بينهم ما ليس منها، وذلک يكون تارة بالجسم وتارة بالاقتداء في الحکم، ومصدره : تُلُوٌّ وتُلْوٌ ، وتارة بالقراءة وتدبّر المعنی، ومصدره : تِلَاوَة وَالْقَمَرِ إِذا تَلاها [ الشمس/ 2]
( ت ل و ) تلاہ ( ن )
کے معنی کسی کے پیچھے پیچھے اس طرح چلنا کے ہیں کہ ان کے درمیان کوئی اجنبی کو چیز حائل نہ ہو یہ کہیں تو جسمانی طور ہوتا ہے اور کہیں اس کے احکام کا اتباع کرنے سے اس معنی میں…
Read the full tafseer →فقال اتل ما اوحی الیک من الکتاب الخ کہ اگر یہ جاہل و سرکش نہ مانیں تو آپ کتاب الٰہی کی جو آپ کی طرف بھیجی گئی ہے، یعنی قرآن مجید تلاوت کیجئے، کیونکہ اس میں نوح و ابراہیم و لوط و موسیٰ کی امتوں کا پورا بیان ہے، آپ کے دل کو تسکین ہوجائے گی کہ پہلے بھی کافر اور بت پرستوں نے اپنے انبیاء کے ساتھ یہ کچھ کیا تھا، جس پر برباد ہوئے، یہ کوئی نئی بات نہیں اور اسی لیے اتل فرمایا۔ اتل علیہم نہیں فرمایا اور نیز قرآن میں دنیا کی بےثباتی و دار آخرت کی ترغیب ہے، اس کے پڑھنے سے خواہ مخواہ دل کو تسلی اور روح کو روشنی حاصل ہوجاتی ہے اور دنیا کو بےثبات سمجھنے لگتا ہے، پھر کوئی رنج رنج نہیں معلوم ہوتا ہے اور اب تک…
Read the full tafseer →اُتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْـکِتٰبِ وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ ط اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْـکَرِ ط وَلَذِکْرُاللّٰہِ اَکْبَرُ ط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَاتَصْنَعُوْنَ ۔ (العنکبوت : 45)
(اے پیغمبر ! اس کتاب کی تلاوت کیجیے جو آپ کی طرف وحی کی جارہی ہے اور نماز قائم کیجیے، یقینا نماز بےحیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے اور اللہ کی یاد بہت بڑی چیز ہے اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ )
مخالفین کی پرواہ نہ کریں اور تلاوت اور نماز کا اہتمام رکھیں
نبی کریم ﷺ اور مسلمان جن نامساعد حالات میں تبلیغ و دعوت کا فریضہ انجام دے رہے تھے گزشتہ چار رکوعوں میں ان پر صبروثبات اور توکل…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : عقیدہ توحید سمجھانے کے بعد نبی ﷺ کی نبوت کے عقلی اور تاریخی دلائل۔
نبی معظم ﷺ کے ساتھ مشرکین کا سب سے بڑا اختلاف عقیدہ توحید پر تھا۔ ان کا آخری مطالبہ یہ تھا کہ قرآن مجید کی ان آیات کو خارج از قرآن کیا جائے جن میں ہمارے معبودوں کی نفی کی گئی ہے۔ اس پر آپ ﷺ کو حکم ہوا آپ لوگوں کے سامنے قرآن مجید کی تبلیغ کرتے رہیں اور یاد رکھیں اللہ تعالیٰ کے فرمان کبھی تبدیل نہیں ہوا کرتے۔ “
” اُتُلُ مَا اُوْحِیَ “ کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اے رسول ﷺ ! آپ پر قرآن کی صورت میں جو بھی وحی کی جا رہی ہے اس کی تلاوت کیا کریں۔ قرآن مجید کی تلاوت کرنے سے ایمان میں اضافہ اور مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔…
Read the full tafseer →45: اُتْل مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ (پڑھیے اس کو جو آپ کی طرف کتاب وحی کے ذریعہ بھیجی گئی ہے) ۔ تاکہ اس کے کلام کی تلاوت سے اس کا قرب حاصل ہو۔ اور تاکہ اللہ تعالیٰ کے اوامرو نواہی سے تمہیں واقفیت حاصل ہو۔ وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ (اور تم نماز قائم کرو) ۔ اقامت ِصلاۃ پر مداومت اختیار کرو۔
نماز برائی سے روک :
اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ (بلاشبہ نماز بےحیائی سے روکتی ہے) ۔ الفحشاء۔ (زنا جیسے برے کام) ۔ وَالْمُنْکَرِ (اور بری باتیں) ۔ جن کو عقل و شرع برا قرار دے۔
ایک قول :
جو نماز کی نگہبانی کرنے والا ہو ایک نہ ایک دن وہ اسے اپنی طرف کھینچ لے گی۔
رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے۔ کہ…
Read the full tafseer →تفسیر۔
45۔ اتل مااوحی الیک من الکتاب، ، اس سے قرآن مجید ہے۔ واقم الصلوۃ ان الصلوۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر ، فحشاء وہ بری بات جس کی برائی شرعا اور عقل کھلی ہوئی ہو۔ بعض نے کہا کہ فحشاء ہے جو اعمال میں قبیح ہو اور منکر وہ اعمال جن کو شریعت میں نہ پہچانا گیا ہو۔ ابن مسعود اور ابن عباس نے فرمایا نماز گناہوں سے بازداشت اور روک دینے کی طاقت ہے اس لیے جس کی نماز اس کو بھلائی کا حکم نہ دے اور بری باتوں سے نہ روکے اس کی نماز اللہ سے دوری ہی پیدا کرتی ہے۔ حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ جس کی نماز اس کو فحشاء اور برائی سے نہ بچا سکے تو اس کی نماز اس پر وبال ہے۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک انصاری جو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
44 تا 49۔ ان آیتوں میں اپنی قدرت کا حال بیان فرمایا ہے کہ اس نے آسمان اور زمین کو بےفائدہ نہیں پیدا کیا بلکہ اس واسطے پیدا کیا کہ ہر ایک شخص کو اس کے عمل کا بدلہ ملے برے کو برا اچھے کو اچھا اس آیت میں ایمان والوں کو ہدایت ہے کہ اللہ اکیلا جہاں کا پیدا کرنے والا ہے وہی اکیلا پوجنے کے قابل ہے اور منکرین حشر کو یہ تنبیہ ہے کہ یہ لوگ خود تو دنیا میں کو کام کرتے ہیں اس میں کوئی نہ کوئی فائدہ ان کو مد نظر ہوتا ہے مثلا کھیتی میں پیدا وار کا فائدہ تجارت میں نقدی کا فائدہ ان کا مقصود ہوتا ہے پھر یہ نادان اللہ تعالیٰ کے اتنے بڑے انتظام کو بےفائدہ کیوں ٹھہراتے ہیں اتنا نہیں سمجھتے کہ دنیا کے ختم ہوجانے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 45
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی وحی و تنزیل یعنی اس کتاب عظیم کی تلاوت کا حکم دیتا ہے۔ یہاں اس کتاب عظیم کی تلاوت کا معنی یہ ہے کہ اس کی اتباع کی جائے ‘ اس کے احکام کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کیا جائے ‘ اس کی ہدایت کو راہ نما بنایا جائے ‘ اس کی خبر کی تصدیق ‘ اس کے معانی میں تدبر اور اس کے الفاظ کی تلاوت کی جائے۔ تب اس کے الفاظ کی تلاوت ‘ معنی ہی کا جز شمار ہوگی۔
جب تلاوت کا معنی مذکورہ بالا امور کو شامل ہے تو معلوم ہوا کہ مکمل اقامت دین تلاوت کتاب میں داخل ہے۔ اس صورت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد : (واقم الصلوٰۃ) ” اور نماز قائم کرو۔ “ عام طور پر عطف خاص کے باب میں سے ہے اور اس کی…
Read the full tafseer →نماز بےحیائی اور برائی سے روکتی ہے
قول باری ہے : (ان الصلوٰۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر۔ یقینا نماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ ) حضرت ابن مسعود ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ نے روایت کی ہے کہ نماز امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتی ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کا قول ہے۔ ” نماز صرف اس شخص کو فائدہ دیتی ہے جو اس کی اطاعت کرتا ہے۔ “ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس سے نماز کے موجبات کو قائم رکھنا مراد ہے یعنی نماز کی طرف دل اور اعضاء وجوارح سے توجہ کرنا۔ نماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے۔
یہ اس لئے کہا گیا کہ نماز ایسے مخصوص افعال واذکار پر مشتمل ہوتی ہے جن کے درمیان دنیاوی امور خلل انداز نہیں ہوتے۔ کوئی دوسرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–69
58 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اس کے احاطہ علم کے اعتبار سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ پوری طرح جانتا ہے ان سب چیزوں کو جن کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں اللہ کے سوا "۔ تعمیم ملاحظہ ہو کہ اول تو { شیئ } خود نکرہ ہے جو ہر چیز کو شامل ہے۔ پھر اس پر { من } استغراقیہ سے مزید تاکید۔ یعنی کوئی بھی چیز خواہ کوئی فرشتہ ہو یا انسان، شجر ہو یا حجر، بت ہو یا جن وغیرہ وغیرہ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ مافوق الاسباب کسی کو بھی پکارنا شرک ہے جو کہ سب سے بڑا گناہ اور ناقابل معافی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اب وہ لوگ دیکھ لیں جو اس وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر اس کی عاجز مخلوق کو پکارتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے " یا رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
نبی ﷺ کے لیے ہدایات، قرآن کی برکات
تشریح : یہاں اللہ جل شانہ ‘ اپنے پیارے نبی سے مخاطب ہو رہے ہیں کہ آپ کو نبوت کا رتبہ دیا گیا ہے اور وحی کے ذریعے سے قرآن مجیددیا گیا ہے۔ اس کو پڑھا کرو۔ کیونکہ قرآن پاک کوئی معمولی کتاب نہیں۔ یہ کتاب انسان کے لیے ہر قسم کے علوم کا مجموعہ ہے۔ اور ثابت ہوچکا ہے کہ قرآن کسی بندے کا لکھا ہوا نہیں بلکہ یہ آسمانی کتاب ہے جو اللہ نے وحی کے ذریعے آپ ﷺ پر نازل فرمائی۔ اس کی سچائی کے لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر کوئی انسان قرآن کا مصنف ہوتا تو آج سے چودہ سو سال قبل ایسے حقائق کیسے بیان کرسکتا جو آج جدید سائنسی معلومات سے پوری طرح مطابقت رکھتے ہیں۔ قرآن میں تخلیقات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–51
آیات 45 تا 51
اسرارومعارف
آپ قرآن پڑھا کیجیے اور نماز قائم کیجیے۔ یعنی کہ آپ قرآن کریم کو پڑھ کر سنایا کیجیے اس بات کی پرواہ کیے بغیر کہ کوئی ایمان لاتا ہے کہ نہیں۔ اور عبادات کو قائم کیجیے لہذا یہ ضروری ہے کہ قرآن کو مسلسل لوگوں پہ بیان کیا جائے یعنی تبلیغ کی جائے اور مبلغ خود عبادات پہ پورے اہتمام سے کاربند رہے کہ عبادات کا خاصہ یہ ہے کہ بندے کو برائی اور منکرات سے بچنے کی توفیق نصیب ہوتی ہے۔
قرآن کے بیان اور نماز کا اثر :
یہ کمال قرآنی بیانات میں بھی ہے کہ جس بات پر قرآن سے وعظ کیا جائے کوئی قبول کرے یا نہ خود کرنے والے کو اس پہ عمل کی توفیق ارزاں ہوتی ہے اور نماز جو بارگاہ صمدیت کی حضوری…
Read the full tafseer →1 ۔ ” اور لوگوں تک اس کے احکام و فرامین پہنچاتا رہ “ تاکہ میں ایمان، سیرت کی پختگی اور مصائب و شدائد برداشت کرنے کی اطاعت پیدا ہو۔ 2 ۔ نماز سے مراد تمام فرض نمازیں ہیں اور اسے درستی سے ادا کرنے کا مطلب پورے ارکان و شرائط و سنن، طمانیت اور خشوع و خضوع سے ادا کرنا ہے۔ (قرطبی) مزید وضاحت کے لئے دیکھئے۔ ( سورة بقرہ حاشیہ آیت) 3 ۔ یعنی آخر کار اس کے بےحیائی اور برے کاموں سے رک جانے کا سبب بنتی ہے۔ اور یہ ناممکن ہے کہ ایک شخص صحیح طور پر نماز گزار ہو اور پھر بےحیائی اور برے کاموں سے بھی چمٹا رہے۔ بعض روایات میں آنحضرت ﷺ نے بھی اس کی تصریح کی ہے جیسا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت میں آنحضرت ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
(29:45) اتل۔ تو پڑھ۔ تو تلاوت کر۔ تلاوۃ مصدر فعل امر صیغہ واحد مذکر حاضر یہاں بمعنی زم علی تلاوۃ ہے۔ یعنی متواتر پڑھا کیجئے
ما اوحی الیک من الکتاب : ما موصولہ اوحی ماضی مجہول واحد مذکر غائب ۔ ایحاء (افعال) مصدر۔ وحی کی گئی۔ من الکتب میں من بیانہ ہے الکتب سے مراد القرآن ہے۔ یعنی جو کتاب آپ پر وحی کی گئی ہے اسے دائما پڑھا کیجئے۔
اقم الصلوۃ : اقم امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ (اگرچہ خطاب حضرت رسول کریم ﷺ سے ہے لیکن اس سے جمیع الناس مراد ہیں) اقامۃ مصدر۔ باب افعال۔ تو قائم رکھ۔ تو سیدھا رکھ۔ تو راست کر۔ (اس میں بھی مداومت کے معنی ہیں) ۔
الصلوۃ میں الف لام عہد کا ہے۔ یعنی وہ نماز ظاہری اور باطنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
لغات القرآن آیت نمبر (45 تا 47 ) ۔
اتل (پڑھ۔ تلاوت کر) ۔ اوحی (وحی کی گئی) ۔ اقم (قائم کر) ۔ تنھی (روکتا ہے) ۔ لا تجادلوا (تم نہ جھگڑو ) ۔ ما یجحد (وہ انکار نہیں کرتا) ۔
تشریح : آیت نمبر (45 تا 47 ) ۔ ” نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ کو خطاب کرتے ہوئے درحققیت آپ کی پوری امت کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں ہمت و جرات سے آگے بڑھتے رہنا اور حالات کے ناموافق ہونے کے باوجود مایوس نہ ہونا سنت انبیاء ہے۔ کیونکہ آپ سے پہلے جتنے بھی انبیاء کرام گذرے ہیں ان کی امتوں نے اللہ کی نافرمانیوں کی انتہا کردی تھی وہ ان کا مذاق اڑاتے، پھبتیاں کستے اور طرح طرح سے ستاتے تھے مگر انبیاء کرام اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
نماز بری باتوں سے روکتی ہیے۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا : اے محبوب ﷺ چونکہ تم رسول ہو، جو تم پر وحی کی گئی ہے تم اس کی تبلیغ کرو، اور اس کو لوگوں کے سامنے پڑھا کرو کیونکہ اس میں نوح، ابراہیم، لوط ، موسیٰ کی اموں کا پورا بیان ہے کہ پہلے بھی کافر اور بت پرستوں نے اپنے انبیاء کے ساتھ جو کچھ کیا جس پر برباد ہوئے اور نماز کی جو کہ اعظم عبادت ہے خوب کوشش وسرگرمی سے ادا کرو، کیونکہ نماز بری اور بےحیائی کی باتوں سے روکتی ہے اول تو ان میں ہر رکعت میں الحمد شریف پڑھی جاتی ہے جس کا ہر ہرجملہ انسان کی روحانی قوتوں کو ابھارنے والا ہے پھر اس کے آگے کھڑا ہونا ، حمدوثنا کرنا، اس شاہ دوجہاں رب العالمین کے آگے…
Read the full tafseer →[16] خطاب بظاہر نبی ﷺ سے ہے مگر دراصل مخاطب تمام اہل ایمان ہیں جو کفار کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے ہوئے تھے۔ سابقہ آیات میں بیان کیا گیا ہے کہ تم سے پہلے بھی اہل ایمان کو آزمائشوں میں ڈالا گیا تھا اور وہ بھی اسی طرح مخالفین کے ظلم وستم و استہزا کا نشانہ بنے تھے جس طرح آج تم بنے ہوئے ہو۔ اب یہاں انھیں کفار کے ظلم و ستم کا مقابلہ کرنے کی عملی تدبیر یہ بتائی جا رہی ہے کہ وہ قرآن کی تلاوت کریں اور نماز قائم کریں کیونکہ انہی دو چیزوں سے مومن میں وہ زبردست صلاحیت پیدا ہوتی ہے جس سے وہ باطل کا کامیابی سے مقابلہ
کر سکتا ہے۔ لیکن مومن کو تلاوت قرآن اور نماز سے یہ صلاحیت اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
نماز برائیوں سے روکتی ہے
1: مقصد یہ ہے کہ حضور ﷺ کو تسلی دی جائے ۔ اور بتایاجائے ۔ کہ آپ کا کام اللہ کے پیغام کو لوگوں تک پہنچانا ہے ۔ چاہے وہ قبول کریں یا رد کریں ۔ یہ آپ کے فرائض میں داخل نہیں ۔ کہ لاہد آپ ان کے دلوں تک رسائی حاصل کریں ۔ اور زبردستی ایمان کی دولت ان کے سپرد کردیں ۔ اس سلسلہ میں یہ ضروری تھا ۔ کہ گذشتہ اقوام وملل کے حالات بتلائے جائیں ۔ اس لئے ارشاد فرمایا ۔ کہ آپ قرآن پڑھیں ۔ اور دیکھیں ۔ کہ باوجود انبیاء کی سعی کی بلیغ کے انسانوں کا کثیر طبقہ رشدوہدایت سے محروم رہا ۔ اس لئے اگر یہ لوگ بھی ان بدبختان ازلی میں داخل ہوں ۔ اور قرآن کی برکات سعادت حاصل نہ کریں تو آپ قطعاً تکلیف…
Read the full tafseer →45۔ اے پیغمبر جو کتاب آپ کی جانب وحی کی گئی ہے اس کی تلاوت کیا کیجئے اور نماز کی پابندی کیجئے اور نماز کو قائم رکھئے بیشک نماز بےحیائی اور نا معقول و ناشائستہ کاموں سے باز رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کا ذکر بہت بڑی چیز ہے اور اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے جو تم کرتے ہو ۔ اوپر کی آیات میں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام اور ان کے ماننے والوں کے ساتھ منکرین کی بد سلوکی اور برے برتائو کا ذکر تھا تا کہ مسلمان ان فتنوں سے نہ گھبرائیں جو دین حق کے منکروں کی طرف سے آئے دن پیش آتے رہتے ہیں۔
اب نبی کریم ﷺ کو خطاب فرماتے ہوئے بعض احکام بیان فرماتے ہیں اور اس کے ضمن میں آپ کی نبوت کے بعض دلائل کا بھی…
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی نماز بلسان حال کہتی ہے کہ جس معبود کی تو اتنی تعظیم کرتا ہے فحشاء و منکر کے ارتکاب سے اس کی بےتعظیمی نہایت نازیبا ہے۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! ﷺ وحی کی گئی کتاب کو پڑھیئے اور نماز کو قائم کیجئے :
45۔ زیر نظر آیت انہیں آیات میں سے ایک ہے جن آیات میں خطاب تو نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ ہی سے ہے لیکن دراصل اہل ایمان کو مخاطب کیا جاتا ہے اس جگہ بھی یہی پیرایہ بیان اختیار کیا گیا ہے ۔ زیر نظر آیت میں دو باتوں کا حکم دیا گا ں ہے ایک ان دو حکموں میں سے قرآن کریم کی تلاوت ہے اور دوسرا حکم نماز کا قائم کرنا ہے ۔ قرآن کریم کی تلاوت کے فوائد وبرکات اگر تحریر کئے جائیں تو ایک مستقل کتاب تیار ہوجائے ، اس جگہ اختصار کے ساتھ چند ایک باتیں عرض کی جاتی ہیں ۔ قرآن کریم کو جب پڑھو تو سنوار کر ترتیل وتجوید کے ساتھ پڑھو ‘ رسول اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
Commentary
اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ (And recite (0 Muhammad) what is revealed to you - 29:45). In the previous verses some incidents of a few prophets and their people were related, in which some rebellious infidels were also mentioned, who faced various divine punishments. There were also some words of solace for the Holy Prophet ﷺ ، and consolation for the believers, in that how the earlier prophets had endured various types of hardships. There was also persuasion for continuing the work of teaching and preaching, and not to lose heart under any circumstances.
A brief but comprehensive…
Read the full tafseer →77 The address apparently is directed to the Holy Prophet but, in fact, it is meant for all the believers. Until now they were being counselled patience and reliance on Allah to brave the extreme trying conditions in which they found themselves and the persecutions they were being subjected to on account of their faith. Now they are being told to recite the Qur'an and establish the Salat as a practical device, for these are the two things which endow a believer with a strong character and a wonderful capacity by which he can not only brave successfully the most violent storms of evil and…
Read the full tafseer →