مقصد کائنات
اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی قدرت کا بیان ہو رہا ہے کہ وہی آسمانوں کا اور زمینوں کا خالق ہے اس نے انہیں کھیل تماشے کے طور پر یا لغو و بیکار نہیں بنایا بلکہ اس لئے کہ یہاں لوگوں کو بسائے۔ پھر ان کی نیکیاں بدیاں دیکھے۔ اور قیامت کے دن ان کے اعمال کے مطابق انہیں جزا سزادے۔ بروں کو ان کی بداعمالیوں پر سزا اور نیکوں کو ان کی نیکیوں پر بہترین بدلہ۔
Read the full tafseer →سورة العنکبوت 75
یعنی کائنات کا یہ نظام حق پر قائم ہے نہ کہ باطل پر۔ اس نظام پر جو شخص بھی صاف ذہن کے ساتھ غور کرے گا اس پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ زمین و آسمان اوہام و تخیلات پر نہیں بلکہ حقیقت و واقعیت پر کھڑے ہیں۔ یہاں اس امر کا کوئی امکان نہیں ہے کہ ہر شخص اپنی جگہ جو کچھ بھی سمجھ بیٹھے اور اپنے وہم و گمان سے جو فلسفہ بھی گھڑے وہ ٹھیک بیٹھ جائے۔ یہاں تو صرف وہی چیز کامیاب ہوسکتی ہے اور قرار و ثبات پاسکتی ہے جو حقیقت اور واقعہ کے مطابق ہے۔ خلاف واقعہ قیاسات اور مفروضات پر جو عمارت بھی کھڑی کی جائے گی وہ آخر کار حقیقت سے ٹکرا کر پاش پاش ہوجائے گی۔ یہ نظام کائنات صاف شہادت دے رہا ہے کہ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا للنَّاسِ ۚ وَمَا يَعْقِلُهَآ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ ، مشرکین کے خداؤں کی کمزوری کی مثال مکڑی کے جالے سے دینے کے بعد یہ ارشاد فرمایا کہ ہم ایسی ایسی واضح مثالوں سے توحید کی حقیت کا بیان کرتے ہیں، مگر ان مثالوں سے بھی سمجھ بوجھ صرف علماء دین ہی حاصل کرتے ہیں، دوسرے لوگ تدبر اور غور و فکر ہی نہیں کرتے کہ حق ان پر واضح ہوجائے۔
اللہ کے نزدیک عالم کون ہے ؟
امام بغوی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت جابر سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس آیت کی تلاوت فرما کر فرمایا کہ عالم وہی شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کے کلام میں غور و فکر کرے اور اس کی اطاعت پر عمل کرے اور اس کو ناراض کرنے والے…
Read the full tafseer →ؒ خلق اللہ السموات والارض بالحق ط ان فی ذلک لایۃ للمومنین (44)
یعنی آسمانوں اور زمین کے نظام پر جو شخص بھی غور کرے گا اس پر یہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ یہ دنیا نہ تو کسی خالق کے بغیر وجود میں آگئی ہے اور نہ یہ مختلف دیوتائوں کی کوئی بازی گاہ یا رزم گاہ ہے بلکہ یہ ایک علم و حکیم اور عزیز و مقتدر خالق نے ایک مقصد حق کے ساتھ اس کو وجود بخشا ہے اور یہ اپنے وجود سے شہادت دے رہی ہے کہ ایک دن آئے گا جب یہ مقصد حق سب کے سامنے آجائے گا۔ اس دن اس کے خالق کا کامل عدل ظاہر ہوگا اور باطل باطل نابود ہوجائے گا۔ جو لوگ اس دنیا کو ایک بازی گاہ سمجھ کر زندگی بطالت میں گزار رہے ہیں وہ اپنی اس بےفکری کے انجام سے…
Read the full tafseer →44-1یعنی بےفائدہ اور بےمقصد نہیں۔
44-2یعنی اللہ کے وجود کی، اس کی قدرت اور علم و حکمت کی۔ اور پھر اسی دلیل سے وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ کائنات میں اس کے سوا کوئی معبود نہیں، کوئی حاجت روا اور مشکل کشا نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
25: یہ کائنات اس مقصد کے لیے پیدا کی گئی ہے کہ اس کے ذریعے لوگوں کو آزمایا جائے، اور پھر لوگوں کے اعمال کے مطابق انہیں جزاء یا سزا ملے۔ اگر آخرت کی زندگی آنے والی نہ ہو تو کائنات کو پیدا کرنے کا یہ اصل مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →خلق اللہ ۔۔۔۔۔ لایۃ للمؤمنین (44)
” اللہ نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے ، در حقیقت اس میں ایک نشانی ہے اہل ایمان کے لیے “۔
تمام انبیاء کے قصص کے بعد یہ آیت آتی ہے اور اس تمثیل کے بعد آتی ہے جس میں اللہ کی قوت کے مقابلے میں دوسری قوتوں کو تار عنکبوت کی طرف نزار و نحیف بتایا گیا ہے۔ یہ آیت ان سب قصص و تمثیلات کے ساتھ مربوط اور ہم آہنگ ہے۔ اور ان کے درمیان ایک گہرا رابطہ ہے کہ زمین و آسمان میں وہی حقیقت بکھری ہوئی ہے اور ہر سو نظر آتی ہے۔ یہ کائنات جس ٹھوس نظام پر قائم ہے ، اس کے اندر وہی حقیقت ہے وہی قوت ہے جو اس قرآن کے اندر پوشیدہ ہے۔
ان فی ذلک لایۃ للمومنین (29: 44) ” درحقیقت اس میں…
Read the full tafseer →12 یعنی نہایت حکمت سے بنایا، بیکار پیدا نہیں کیا۔
13 یعنی جب آسمان و زمین اس اکیلے نے بنا دیے تو چھوٹے چھوٹے کاموں میں اسے کسی شریک یا مددگار کی کیا احتیاج ہوگی۔ ہوتی تو ان بڑے کاموں میں ہوتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
اب یہاں سے اس سورت کا آخری حصہ شروع ہو رہا ہے جو تین رکوعات پر مشتمل ہے۔ جیسا کہ آغاز میں بتایا گیا ہے ‘ سورت کے اس حصے میں دو مضامین مشرکین مکہ اور اہل ایمان سے خطاب اس انداز میں متوازی چل رہے ہیں جیسے ایک رسی کی دو لڑیاں آپس میں گندھی ہوئی ہوں۔ قرآن کے اس اسلوب کے بارے میں پہلے بھی کئی بار ذکر ہوچکا ہے کہ مدنی سورتوں میں اہل ایمان سے خطاب کے لیے عام طور پر یٰاَیُّھَا الَّذِینَ اٰمَنُوْا کا صیغہ آیا ہے ‘ جبکہ مکی سورتوں میں اہل ایمان کو براہ راست مخاطب کرنے کے بجائے عموماً رسول اللہ ﷺ کی وساطت سے مخاطب کیا گیا ہے۔ البتہ اس سورت کی آیت 56 میں یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ میں…
Read the full tafseer →70 یعنی زمین و آسمان یا نظام کائنات کو بےفائدہ ہی نہیں بنادیا بلکہ اس نظام سے بیشمار مصالح اور فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔ زمین پر بسنے والی ہر طرح کی مخلوق کی زندگی اور زندگی کی بقا کا انحصار اسی نظام کائنات پر ہے۔ اگر اس نظام میں سے بھی ایک بھی کل پرزہ اٹھا لیا جائے تو صرف یہی نہیں کہ جاندار اشیاء کی زندگی کیا خاتمہ ہوجائے گا۔ بلکہ زمین پر نباتات، پودے اور درخت تک بھی نہ اگ سکیں گے۔
71 یعنی ہر صاحب علم و دانش کے لئے لمحہ فکریہ یہ ہے کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ کائنات کو پیدا تو اللہ کرے، زمین کی روئیدگی کی قوتیں اللہ عطا کرے، بارش برسائے تو اللہ، تمام مخلوق کی ضروریات زندگی مہیا کرے تو اللہ۔ مگر جب…
Read the full tafseer →51۔ (ایسے خالق وصانع کے معبود واحد ہونے کی) (آیت) ” بالحق “۔ اس خلق کائنات سے بھی اسے مقصود احقاق حق ہی رہا ہے۔ اور لوگوں کو اپنی ذات وصفات کمال کی طرف توجہ دلانا۔ اے محقا غیر قاصد بہ باطلا فان المقصود بالذات من خلقھا افادۃ الخیر والدلالۃ علی ذاتہ وصفاتہ (بیضاوی) اے محقا مراعیا للحکم والمصالح (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–44
آیت نمبر 31 تا 44
ترجمہ : ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ابرہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحٰق کی اور ان کے بعد (اسحٰق کے بیٹے) یعقوب کی خوشخبری لے کر آئے تو کہنے لگے کہ ہم اس بستی والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں یعنی لوط (علیہ السلام) کی بستی والوں کو بلاشبہ اس بستی والے ظالم یعنی کافر ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کہنے لگے اس میں تو لوط (بھی) ہیں فرشتوں نے کہا جو وہاں ہیں ہم ان کو خوب جانتے ہیں، ہم لوط (علیہ السلام) کو اور ان کے اہل خانہ کو سوائے ان کی بیوی کے بچالیں گے اس لئے کہ وہ تو عذاب میں رہ جانے والوں میں ہوگی اور جب ہمارے فرستادے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کی وجہ سے لوط مغموم ہوئے اور ان…
Read the full tafseer →خلق اللہ السموت والارض بالحق . اس نے آسمان و زمین کو برحق (یعنی ٹھیک) پیدا کیا۔ اس کائنات کی تخلیق کی اصل غرض ہے افادۂ خیر اور اپنی ذات وصفات کا اظہار۔
ان فی ذلک لایۃ للمؤمنین . اس تخلیق میں اہل ایمان کے لئے نشانی ہے اللہ کی ہستی اور توحید کی ‘ اس کے ہمہ گیر علم محیط کل قدرت اور ارادہ کی اور تمام عیوب و نقائص سے پاک ہونے کی۔ اور چونکہ اہل ایمان ہی اس سے فائدہ اندوز اور (ہدایت یاب) ہوتے ہیں ‘ اس لئے انہی کے لئے یہ تخلیق رہنما ہے۔
(بیسواں پارہ ختم)
Read the full tafseer →(44) اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو مناسب طریقے پر بنایا اور ان مضامین میں اہل ایمان کے لیے بڑی دلیل ہے۔
Read the full tafseer →خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بالْحَـقِّ : یعنی کائنات کا یہ نظام حق پر قائم ہے۔ اس نے اسے نہایت حکمت سے بنایا ہے، بےفائدہ اور بےمقصد نہیں بنایا۔ دیکھیے سورة انبیاء (16) اور دخان (38)۔
اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّــلْمُؤْمِنِيْنَ : زمین و آسمان کی پیدائش میں صرف ایمان والوں کے لیے نشانیاں ہیں، کیونکہ وہی ان پر غور کرتے ہیں، دوسرے لوگ زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کی بیشمار قدرتوں اور نشانیوں کے پاس سے گزر جاتے ہیں مگر دھیان ہی نہیں کرتے۔ (دیکھیے سورة یوسف : 106) جو لوگ دل میں جذبۂ ایمان رکھتے ہوئے اس نظام کائنات پر غور کریں گے ان پر یہ حقیقت کھل جائے گی کہ یہ نظام نہ کسی خالق کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
حق سے مراد عدل و انصاف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اپنی کلام اور قدرت کے ساتھ یہی حق ہے۔ آیۃ سے مراد علامت اور دلالت ہے۔ مومنین سے مراد تصدیق کرنے والے ہیں۔
ترجمہ :
” آپ تلاوت کیجئے اس کتاب کی جو وحی کی گئی ہے آپ کی طرف اور نماز صحیح صحیح ادا کیجئے۔ بیشک نماز منع کرتی ہے بےحیائی اور گناہ سے اور واقعی اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت بڑا ہے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔ “
اس میں چار مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر ا : اُتل تلاوت اور اس کو معمول بنانے کا حکم ہے سورة طہٰ میں اس آدمی کے لئے وعید گزر چکی ہے۔ جو اس سے اعراض کرتا ہے کتاب کے مقدمہ میں اس پر برانگختیہ کیا گیا ہے کتاب سے مراد قرآن حکیم ہے۔
مسئلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
1۔ ابن ابی حاتم نے عمرو بن مرہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ کی کتاب میں کسی آیت سے نہیں گزر ا کہ میں نے اس کو نہ پہچانا ہو تو وہ مجھے رنج میں ڈال دیتی۔ کیونکہ میں نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے سنا آیت وتلک الامثال نضربہا للناس وما یعقلہا الا العلمون کہ یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں اور اس کو نہیں سمجھتے مگر عالم۔
Read the full tafseer →خَلَقَ اللّٰهُ [پیدا کیا اللہ نے ] السَّمٰوٰتِ [آسمانوں کو ] وَالْاَرْضَ [اور زمین کو ] بِالْحَـقِّ ۭ [حق کے ساتھ ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [بیشک اس میں ] لَاٰيَةً [یقینا ایک نشانی ہے ] لِّــلْمُؤْمِنِيْنَ [ایمان لانے والوں کے لئے ] ۔
Read the full tafseer →(خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بالْحَقِّ ) (اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا) ان کے پیدا کرنے میں بڑی حکمت ہے، جو منکر ہیں وہ بھی مانتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزیں ہیں لیکن ایمان نہیں لاتے۔ (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ) (بلاشبہ اس میں مومنین کے لیے نشانیاں ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل ہیں۔ دلائل تو سب ہی کے لیے ہیں لیکن ان سے اہل ایمان ہی متنفع ہوتے ہیں، جنہیں ایمان قبول کرنا نہیں وہ جانتے بوجھتے منکر بنے ہوئے ہیں اور انکار پر تلے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
ابطال شرک و اثبات توحید
قال اللہ تعالیٰ مچل الذین اتخذوا من دون اللہ اولیاء۔۔۔ الی۔۔۔ ان فی ذلک لایۃ لل مومنین۔
(ربط) گزشتہ آیت میں یہ بتلایا کہ ان ظالموں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا اور کفر اور شرک میں مبتلا ہوئے اور مورد عذاب الٰہی بنے اب ان آیات میں ان کے ظلم کی تشریح کرتے ہیں کہ ان لوگوں کی مثال جو بت پرستی کرتے ہیں مکڑی کی سی ہے جس کا گھر بہت بودا ہوتا ہے مکڑی کی طرح یہ بھی اپنے اعتقاد کا تانا بانا بنتے ہیں جو محض لغو ہے۔
(یا یوں کہو) کہ ان ظالموں نے جس دین کو اپنا قلعہ اور حصن حصین سمجھا ہوا ہے اس کی حقیقت مکڑی کے جالے سے زیادہ نہیں۔
چناچہ فرماتے ہیں مثال ان لوگوں کی جنہوں نے خدا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
35:۔ یہ مرکزی دعوی توحید پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور ساری کائنات کو پیدا ہی اظہار حق کے لیے فرمایا ہے کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی قدرت کاملہ اور اس کی وحدانیت پر دلالت کرتا ہے (بالحق) ای للحق و اظہار الحق (معالم و خازن ص 161 ج 5) ۔ انہا مع اشتمالہا علی جمیع ما یتعلق بہ معاشہم شواھد دالۃ علی شئونہ تعالیٰ المتعلقۃ بذاتہ و صفاتہ (ابو السعود ج 6 ص 696) ۔ ایمان والوں کے لیے اس میں بہت بڑی دلیل ہے۔ مومنوں کی تخصیص اس لیے کی گئی کہ اس سے استفادہ صرف وہی کرتے ہیں ویسے تو ہر غور و فکر کرنے والے کا ذہن اس سے اللہ کی وحدانیت اور اس کی عظیم قدرت تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
ربط آیات : گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ ابتلا کا ذکر فرمایا۔ اور کچھ لوگوں کی مثالیں بھی بیان فرمائیں۔ اس سلسلے مٰں اللہ کے پاک انبیاء ، نوح (علیہ السلام) ابراہیم علیہ السلا ، لوط (علیہ السلام) اور شعیب (علیہ السلام) اور ان پر آنے والی آزمائشوں کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے کافروں اور مشرکوں کا انجام اور ان کو ملنے والی سزاؤں کا تذکرہ کیا۔ ایمان ہی کے سلسلے میں توحید کا بیان ہوا۔ باقی مکی سورتوں کی طرح اس سورة میں بھی بنیادی مضامین۔ نبوت و رسالت ، معاد اور وحی الہی کا ذکر ہے جو کہ مختلف سورتوں میں مختلف انداز میں بیان کیا گیا ہ۔ اس درس میں مسئلہ توحید کو خاص طور پر بیان کیا گیا ہے…
Read the full tafseer →خَلَقَ اللہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَـقِّ 0ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَۃً لِّــلْمُؤْمِنِيْنَ 44ۧ
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی…
Read the full tafseer →تفسیر : ان فی ذلک لایۃ للمؤمنین تک انبیاء کے واقعات اور شرک کی برائی اور مشرکین کے ساتھ مناظرہ اور ان کی بت پرستی کی تحقیر تھی اور یہ ایک خاص مقصد تبلیغ رسالت سے متعلق تھا، جس میں روح پر تکان آنا اور طبیعت کا سست ہوجانا ایک جبلی بات ہے، اس لیے اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو تلاوت قرآن اور نماز اور ذکر الٰہی کا حکم دے کر پھر تازہ دم کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ۔
(العنکبوت : 44)
(اللہ نے آسمانوں اور زمین کو مقصد حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، بیشک اس میں اہل ایمان کے لیے ایک نشانی ہے۔ )
آسمان و زمین کی گواہی
حقیقت یہ ہے کہ جو شخص بھی آسمان و زمین کی تخلیق اور اس کے نظام پر غور کرے گا اس کے لیے اس بات کو مانے بغیر چارہ نہیں کہ یہ دنیا نہ تو کسی خالق کے بغیر وجود میں آگئی ہے اور نہ یہ مختلف دیوتائوں کی کوئی بازی گاہ یا رزم گاہ ہے۔ اس کے تخلیق کے عمل میں ایسا تناسب، ایسی حُسنِ ترتیب، ایسی گرفت، ایسی علم کی ہمہ گیری اور ایسی پر ازحکمت کارفرمائی ہے جس میں کسی دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین کو ان کے شرک کے بارے میں سمجھایا جائے تو وہ شرک کا انکار کرتے ہیں اس لیے ارشاد ہوا ہے کہ اللہ جانتا ہے کہ اس کے سوا وہ جس جس کو پکارتے ہیں۔
مشرک اقوام کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ مشرک قوم دوچار خداؤں پر مطمئن نہیں ہوتی۔ اہل مکہ نے بیت اللہ میں تین سو ساٹھ جھوٹے خدا سجا رکھے تھے۔ ہندوستان کی مذہبی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اس قوم کے خداؤں کی تعداد ہزاروں سے متجاوز ہے کچھ تاریخ دانوں نے لکھا ہے کہ ان کے خداؤں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد بنتی ہے۔ عیسائیوں نے مستقل طور پر تین خدا بنائے ہوئے ہیں۔ یہودیوں نے حضرت عزیز کو ” اللہ “ کا بیٹا ٹھہرایا ہوا ہے…
Read the full tafseer →آیت 44: خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ (اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا) ۔ حق کے لئے یعنی ان کو باطل نہیں بنایا بلکہ اس میں حکمت ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ زمین اس کے بندوں کا مسکن بنے اور عبرت والوں کے لئے عبرت ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کی دلیل ہو۔ کیا تم اس ارشاد کو نہیں دیکھتے۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ (بیشک اس میں البتہ ایمان والوں کے لئے نشانی ہے) ۔ ایمان والوں کو خاص اس لئے کیا گیا کیونکہ وہی اس سے فائدہ اٹھانے والے ہیں۔
Read the full tafseer →44۔ خلق اللہ السماوات والارض بالحق، ، حق کے لیے یا اظہار حق کے لیے۔ ان فی ذالک، اس کے پیدا کرنے میں ، لایہ، نشانی ہے۔ للمومنین ، اس کی قدرت اور توحید پر۔
نماز بےحیائی اور برائی سے بچاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
44 تا 49۔ ان آیتوں میں اپنی قدرت کا حال بیان فرمایا ہے کہ اس نے آسمان اور زمین کو بےفائدہ نہیں پیدا کیا بلکہ اس واسطے پیدا کیا کہ ہر ایک شخص کو اس کے عمل کا بدلہ ملے برے کو برا اچھے کو اچھا اس آیت میں ایمان والوں کو ہدایت ہے کہ اللہ اکیلا جہاں کا پیدا کرنے والا ہے وہی اکیلا پوجنے کے قابل ہے اور منکرین حشر کو یہ تنبیہ ہے کہ یہ لوگ خود تو دنیا میں کو کام کرتے ہیں اس میں کوئی نہ کوئی فائدہ ان کو مد نظر ہوتا ہے مثلا کھیتی میں پیدا وار کا فائدہ تجارت میں نقدی کا فائدہ ان کا مقصود ہوتا ہے پھر یہ نادان اللہ تعالیٰ کے اتنے بڑے انتظام کو بےفائدہ کیوں ٹھہراتے ہیں اتنا نہیں سمجھتے کہ دنیا کے ختم ہوجانے…
Read the full tafseer →آیت 44
یہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہی ہے کہ جس نے آسمانوں کو ان کی بلندیوں ان کی کشادگی ان کی خوبصورتی اور ان کے اندر سورج چاند دیگر سیار گان اور فرشتوں کی موجودگی کے باوجود اکیلے تخلیق کیا ہے اور وہی ہے جو زمین اور اس کے پہاڑوں سمندروں صحراؤں بیابانوں اور درختوں کی تخلیق میں متفرد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کو عبث بےکار اور بےفائدہ پیدا نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو صرف اس لئے تخلیق فرمایا ہے کہ اس کا حکم اور شریعت نافذ ہو اور اس کے بندوں پر اس کی نعمت کا اتمام ہوتا کہ بندے اس کی حکمت اس کے غلبہ اور اس کی تدبیر کائنات کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–44
سورة العنکبوت
مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو
قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–69
58 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اس کے احاطہ علم کے اعتبار سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ پوری طرح جانتا ہے ان سب چیزوں کو جن کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں اللہ کے سوا "۔ تعمیم ملاحظہ ہو کہ اول تو { شیئ } خود نکرہ ہے جو ہر چیز کو شامل ہے۔ پھر اس پر { من } استغراقیہ سے مزید تاکید۔ یعنی کوئی بھی چیز خواہ کوئی فرشتہ ہو یا انسان، شجر ہو یا حجر، بت ہو یا جن وغیرہ وغیرہ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ مافوق الاسباب کسی کو بھی پکارنا شرک ہے جو کہ سب سے بڑا گناہ اور ناقابل معافی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اب وہ لوگ دیکھ لیں جو اس وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر اس کی عاجز مخلوق کو پکارتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے " یا رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
عبرت کے نشان قوم عاد، ثمود، فرعون، ہامان، قارون
تشریح : الاعراف ‘ ھود ‘ شعراء اور کئی سورتوں میں ان کا ذکر آچکا ہے۔ یہاں مختصراً دوبارہ ان قوموں کا ذکر کیا جا رہا ہے صرف اس حوالے سے کہ لوگ یہ اچھی طرح سمجھ جائیں کہ وہ قادر مطلق اپنی مخلوق سے بہت پیار کرتا ہے اسی لیے اچھے برے کی پہچان واضح کرنے کے لیے نبی بھیجتا رہا مگر اکثر قومیں اس قدر بگڑ چکی تھیں کہ اللہ کو پہچان کر بھی اللہ کی راہ اختیار کرنے کو تیار نہ تھیں اور اس طرح انہوں نے خود اپنے لیے تباہی و بربادی اور عذاب کے اسباب بنائے۔ مثلاً عاد کی قوم ‘ قوم ثمود ‘ مدین والے، ہامان ‘ فرعون وغیرہ یہ سب اپنے زمانے کی مانی ہوئی طاقتور قومیں تھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–44
آیات 31 تا 44
اسرارومعارف
ایک وقت میں ایک کا بھلا دوسرے کا نقصان ایمان و عمل کے باعث :
اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کو ولادت اسمعیل (علیہ السلام) کی خوشخبری دینے کے لیے آئے تو انہیں بتایا کہ قوم لوط کی بستیوں کو اجاڑنا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے یعنی وہی فرستادہ جو ایک ہستی کو اس کے ایمان و عمل کے باعث نوید مسرت سنانے آئے تھے دوسروں کے کفر اور بد اعمالی کے باعث ان کی تباہی بھی لائے تھے کہ وہ بہت حد سے بڑھ چکے تھے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فوراکہا اس بستی میں تو لوط (علیہ السلام) بھی ہیں تو فرشتے کہنے لگے سب معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہے۔ لوط (علیہ السلام) اور ان کے پیروکار اس آفت سے…
Read the full tafseer →8 ۔ ان کے بنانے میں بندوں کی تمام ضرورتوں اور مصلحتوں کا خیال رکھا گیا ہے۔ ان کو تفریحاً … نہیں بنایا گیا ہے۔ (شوکانی۔ ابن کثیر) بعض نے حق سے مراد کلام اور قدرت بھی لی ہے۔ (قرطبی) 9 ۔ یعنی جو لوگ دل میں جذبہ ایمان رکھتے ہوئے اس نظام کائنات پر غور کریں گے۔ ان پر یہ حقیقت کھل جائے گی کہ یہ نظام نہ کسی خالق کے بغیر بنا ہے اور نہ اس کے ایک سے زیادہ خالق ہوسکتے ہیں۔ بس ایک ہی ذات پاک ہے جس نے اسے پیدا کیا اور وہی اس کی حقدار ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔ (ابن کثیر بتوضیح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
(29:43) تلک الامثال۔ یہ مثالیں یعنی یہ موجودہ مکڑی کی مثال اور قرآن مجید میں مذکور دوسری مثالیں مثلاً ان اللہ لا سیتحی ان یضرب مثلا ما بعوضۃ فما فوقھا (2:26) خدا اس بات سے عار نہیں کرتا کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز کی مثال بیان فرمائے۔ یا
یایھا الناس ضرب مثل فاستمعوا لہ ان الذین تدعون من دون اللہ لن یخلقوا ذبابا ولو اجتمعوا لہ (22:73) اے لوگو ! ایک مثال بیان کی جاتی ہے سو اسے سنو ! جن لوگوں کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی (تک تو) پیدا نہی کرسکتے۔ چاہے وہ سب ہی اس غرض کے لئے جمع ہوجاویں ۔ وغیرہ
ما یعقلہا۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب عقل مصدر۔ (باب ضرب) وہ نہیں سمجھتے۔ ھا ضمیر واحد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
لغات القرآن آیت نمبر (41 تا 44) ۔
العنکبوت (مکڑی) ۔ اتخذت (بنایا) ۔ اوھن (سب سے کمزور۔ کمزور ترین) ۔ خلق (اس نے پیدا کیا) ۔
تشریح : آیت نمبر (41 تا 44) ۔ ” ابتدائے کائنات سے نبی کریم ﷺ تک جتنے بھی بیشمار انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لائے انہوں نے عقیدہ کی گندگیوں میں ملوث لوگوں کی اصلاح کے لئے بتایا کہ اللہ ہی ساری کائنات کا پیدا کرنے والا، سب کو رزق دینے والا اور سب کی حاجتیں پوری کرنے والا ہے وہ صرف ایک اللہ ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ وہی ہر ایک کا محافظ و نگران، نفع اور نقصان کا مالک اور ہر ایک کی ضروریات کو پورا کرنے والا ہے وہ اگر کسی پر اپنی رحمتوں کو نازل کرتا ہے تو کوئی اسے روکنے…
Read the full tafseer →(ف 1) ان آیتوں میں اپنی قدرت کا حال بیان فرماتا ہے کہ اس نے آسمان اور زمین کو بےفائدہ نہیں پیدا کیا بلکہ اس واسطے پیدا کیا کہ ہر ایک شخص کو اس کے عمل کا بدلہ ملے، برے کا برا، اچھے کو اچھا، اس آیت میں ایمان والوں کو ہدایت ہے کہ اللہ اکیلا جہان کا پیدا کرنے والا ہے وہی اکیلا عبادت کے قابل ہے اور منکرین حشر کو یہ تنبیہ ہے کہ یہ لوگ خود تو دنیا میں جو کام کرتے ہیں اس میں کوئی نہ کوئی فائدہ ان کے مدنظر ہوتا ہے ، مثلا کھیتی میں پیداوار کا فائدہ، تجارت میں نقدی کا فائدہ، ان کا مقصود ہوتا ہے پھر یہ نادان اللہ تعالیٰ کے اتنے بڑے انتظام کو بےفائدہ کیوں ٹھہراتے ہیں اتنا نہیں سمجھتے کہ دنیا کے ختم ہوجانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
[15] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة انعام حاشیہ 25 صفحہ 328۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
ف 2: جس طرح اس عنکبوت کے کمزور اور ناچیز گھر میں پناہ نہیں مل سکتی ۔ اور یہ گھر آرام و آسودگی باعت نہیں ہوسکتا ۔ اسی طرح مشرک جو اوہام و خرافات اور مشرکانہ خیالات کا ایک مکان تعمیر کرنا چاہتا ہے ۔ سو اس کو معلوم ہونا چاہیے ۔ کہ یہ مکڑی کے گھر کی طرح دنیا بھر کے گھروں سے بودا اور نکما ہوتا ہے ۔ ذرا سی معقولیت اور ادنی سی بصیرت بھی اس کو ڈھادینے کے کافی ہے یعنی شرک کا گھر جو آدمی اپنے دماغ وقلب میں خیالات کے آرام اور آسودگی کے لئے بناتا ہے اس سے ہرگز یہ ضرورت پوری نہیں ہوتی ارشاد ہے ۔ کہ یہ امثال ان لوگوں کے لئے وجہ ہدایت ہوسکتی ہیں ۔ جو عالم اور سمجھدار ہیں ۔ اور واقعہ یہ ہے کہ یہ نہایت عمدہ…
Read the full tafseer →44۔ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو کمال مصلحت اور حکمت کے ساتھ بنایا ہے ، بلا شبہ ان دونوں کے بنانے میں اہل ایمان کے لئے بڑی دلیل ہے۔ یعنی زمین اور آسمان کو نہایت مناسب انداز میں جیسا بنانا چاہئے تھا ویسا ہی بنایا اور مسلمانوں کے لئے دلیل اس لئے فرمایا کہ وہ ان کی بناوٹ اور ساخت کو دیکھ کر یہ جانتے ہیں کہ چونکہ یہ کا کام صرف اللہ تعالیٰ ہی کا ہے اس لئے اس کی عبادت میں کوئی شریک نہیں کیا جاسکتا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اس کام میں کوئی شامل نہ تھا تو تھوڑے کام میں شریک ہونے کی کیا احتیاج۔ 12
یعنی جب آسمان و زمین جیسی مخلوق بنانے میں کسی کا ساجھا اور کسی کی شرکت نہیں تو جو…
Read the full tafseer →ف 2۔ اوپر توحید کا ذکر تھا، آگے نبوت کا ذکر ہے، اس ترتیب سے کہ اول حضور ﷺ کو اتل ما اوحی الیک سے تبلیغ قولی اور اقم الصلوة سے تبلیغ فعلی کا حکم اور اس کے بعد کے جملوں میں بیان فضل اعمال وبیان علم الہی سے ترغیب و ترہیب شرائع کی کہ معین مقصود تبلیغ ہے اور لا تجادلوا سے قل کفی باللہ تک منکرین رسالت سے کلام اول اہل کتاب سے پھر غیر اہل کتاب سے پھر آگے یستعجلونک سے بعض منکرین رسالت کے ایک شبہ کا جواب مذکور ہے۔
Read the full tafseer →آسمان و زمین کا سارا نظام باقاعدگی سے چلانا ہی دلیل ” عمیق “ ہے :
44۔ تمہارے سر کے اوپر جو کچھ ہے اس پر ذرا عمیق نظر سے نگاہ دوڑاؤ اور غور کرو کہ کیا کچھ ہے جو تمہاری نظریں دیکھ رہی ہیں اور بیشمار ہے جس کو تمہاری آنکھ دیکھ ہی نہیں سکتی پھر تلاش کرو کہ کیا یہ سارا کچھ بغیر کسی خالق کے مخلوق ہوگیا ؟ کیا تمہاری عقل مانتی ہے ؟ اگر نہیں تو پھر بتاؤ کہ یہ سب کچھ کس نے تخلیق کیا ؟ اگر نہیں بتا سکتے تو اچھی طرح کان کھول کر سن لو یہ سب کچھ اس نے بنایا ہے جس کو ہم ” اللہ “ کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ اچھا ذرا اپنے پاؤں کے نیچے بھی دیکھو کہ کیا ہے ؟ زمین ہے اب اس زمین کے نشیب و فراز پر غور کرو ‘ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
Commentary
اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ (And recite (0 Muhammad) what is revealed to you - 29:45). In the previous verses some incidents of a few prophets and their people were related, in which some rebellious infidels were also mentioned, who faced various divine punishments. There were also some words of solace for the Holy Prophet ﷺ ، and consolation for the believers, in that how the earlier prophets had endured various types of hardships. There was also persuasion for continuing the work of teaching and preaching, and not to lose heart under any circumstances.
A brief but comprehensive…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
75 That is, "The system of the universe is based on the truth and not on falsehood. Whoever ponders over this system with an unbiased mind will realize that the earth and the heavens owe their existence to reality and fact and not to superstition and fancy. Here there is no possibility that whatever a person may conceive in his mind and whatever philosophy he may invent out of his personal whim and conjecture should fit in with the system. Here only such a thing can succeed and endure, which is in harmony with the reality and actual fact. A structure that is raised on unreal presumptions and…
Read the full tafseer →