Explained with ayahs 41–43
مکڑی کا جالا
جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا اوروں کی پرستش اور پوجاپاٹ کرتے ہیں ان کی کمزوری اور بےعلمی کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ ان سے مدد روزی اور سختی میں کام آنے کے امیدوار رہتے ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی مکڑی کے جالے میں بارش اور دھوپ اور سردی سے پناہ چاہے۔ اگر ان میں علم ہوتا تو یہ خالق کو چھوڑ کر مخلوق سے امیدیں وابستہ نہ کرتے۔ پس ان کا حال ایمانداروں کے حال کے بالکل برعکس ہے۔ وہ ایک مضبوط کڑے کو تھامے ہوئے ہیں اور یہ مکڑی کے جالے میں اپنا سرچھپائے ہوئے ہیں۔ اس کا دل اللہ کی طرف ہے اس کا جسم اعمال صالحہ کی طرف مشغول ہے اور اس کا دل مخلوق کی طرف اور جسم اس کی پرستش کی طرف جھکا ہوا ہے۔ پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
سورة العنکبوت 74
یعنی اللہ کو ان سب چیزوں کی حقیقت خوب معلوم ہے جنہیں یہ لوگ معبود بنائے بیٹھے ہیں اور مدد کے لیے پکارتے ہیں۔ ان کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے۔ طاقت کا مالک صرف اللہ ہی ہے اور اسی کی تدبیر و حکمت اس کائنات کا نظام چلا رہی ہے۔
ایک دوسرا ترجمہ اس آیت کا یہ بھی ہوسکتا ہے " اللہ خوب جانتا ہے کہ اسے چھوڑ کر جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کچھ بھی نہیں ہیں (یعنی بےحقیقت ہیں) اور عزیز و حکیم بس وہی ہے "۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا للنَّاسِ ۚ وَمَا يَعْقِلُهَآ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ ، مشرکین کے خداؤں کی کمزوری کی مثال مکڑی کے جالے سے دینے کے بعد یہ ارشاد فرمایا کہ ہم ایسی ایسی واضح مثالوں سے توحید کی حقیت کا بیان کرتے ہیں، مگر ان مثالوں سے بھی سمجھ بوجھ صرف علماء دین ہی حاصل کرتے ہیں، دوسرے لوگ تدبر اور غور و فکر ہی نہیں کرتے کہ حق ان پر واضح ہوجائے۔
اللہ کے نزدیک عالم کون ہے ؟
امام بغوی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت جابر سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس آیت کی تلاوت فرما کر فرمایا کہ عالم وہی شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کے کلام میں غور و فکر کرے اور اس کی اطاعت پر عمل کرے اور اس کو ناراض کرنے والے…
Read the full tafseer →وتلک الامثال نضر بھا للناس ج وما یعقلھا الا العلمون (43)
’ امثال ‘ سے اشارہ ان تمام امثال و واقعات کی طرف ہے جو اوپر مذکور ہوئے ہیں۔ فرمایا کہ یہ مثالیں ہم جو بیان کر رہے ہیں اس سے مقصود داستان سرائی نہیں ہے۔ ہم یہ اس لئے پیش کر رہے ہیں کہ لوگ ان پر غور کریں اور خود اپنی زندگیوں کے لئے ان سے سبق حاصل کریں۔ کوئی مثال جب کسی کے سامنے رکھی جاتی ہے تو اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر اس کو خود اس کا ماضی و مستقبل دکھا دیا جائے۔ لیکن دوسروں کی مثال سے خود اپنے لئے سبق حاصل کرنا ہر شخص کا کام نہیں ہے۔ یہ کام وہی لوگ کرتے ہیں جن کے اندر عقل و علم کی روشنی موجود ہو۔ یہاں ’ عالمون ‘ سے وہ لوگ مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
43-1یعنی انھیں خواب غفلت سے بیدار کرنے، شرک کی حقیقت سے آگاہ کرنے اور ہدایت کا راستہ سجھانے کے لئے۔
43-2اس علم سے مراد اللہ کا، اس کی شریعت کا اور ان آیات و دلائل کا علم ہے جن پر غور و فکر کرنے سے انسان کو اللہ کی معرفت حاصل ہوتی اور ہدایت کا راستہ ملتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
25: یہ کائنات اس مقصد کے لیے پیدا کی گئی ہے کہ اس کے ذریعے لوگوں کو آزمایا جائے، اور پھر لوگوں کے اعمال کے مطابق انہیں جزاء یا سزا ملے۔ اگر آخرت کی زندگی آنے والی نہ ہو تو کائنات کو پیدا کرنے کا یہ اصل مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
مثل الذین اتخذوا ۔۔۔۔۔۔ وما یعقلھا الا العلمون (41 – 43)
یہ ایک عجیب اور سچی تصویر ہے ، ان تمام قوتوں کی جو اس کائنات میں موجود ہیں۔ اس میں ایک ایسی حقیقت کو نمایاں کیا
گیا ہے جس سے لوگ بالعموم غافل رہتے ہیں اور اس غفلت کی وجہ سے پھر ان کے پیمانے اور اقدار بدل جاتی ہیں۔ پھر وہ غلط رابطے قائم کرلیتے ہیں ۔ ان کو پتہ نہیں ہوتا کہ وہ غلط سمت میں جا رہے ہیں۔ وہ صحیح فیصلہ نہیں کرسکتے کہ کیا لیں اور کیا چھوڑیں۔
اس غلط سوچ کی وجہ سے وہ پھر ریاستی قوت سے بھی دھوکہ کھا جاتے ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس زمین پر ریاستی قوت ہی اصل قوت ہے اور سب کچھ ہے۔ اور ہر جگہ موثر ہے۔ اس لیے وہ اس قوت سے ڈرتے ہیں اور اس…
Read the full tafseer →11 مشرکین مکہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ " مکڑی " اور " مکھی " وغیرہ حقیر چیزوں کی مثالیں بیان کرتا ہے جو اس کی عظمت کے منافی ہیں اس کا جواب دیا، کہ مثالیں اپنے مواقع کے لحاظ سے نہایت موزوں اور ممثل لہ پر پوری منطبق ہیں۔ مگر سمجھدار ہی اس کا مطلب ٹھیک سمجھتے ہیں۔ جاہل بیوقوف کیا جانیں۔ مثال کا انطباق مثال دینے والے کی حیثیت پر نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ جس کی مثال ہے اس کی حیثیت کو دیکھو، اگر وہ حقیر و کمزور ہے تو تمثیل بھی ایسی ہی حقیر و کمزور چیزوں سے ہوگی۔ مثال دینے والے کی عظمت کا اس سے کیا تعلق۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
اب یہاں سے اس سورت کا آخری حصہ شروع ہو رہا ہے جو تین رکوعات پر مشتمل ہے۔ جیسا کہ آغاز میں بتایا گیا ہے ‘ سورت کے اس حصے میں دو مضامین مشرکین مکہ اور اہل ایمان سے خطاب اس انداز میں متوازی چل رہے ہیں جیسے ایک رسی کی دو لڑیاں آپس میں گندھی ہوئی ہوں۔ قرآن کے اس اسلوب کے بارے میں پہلے بھی کئی بار ذکر ہوچکا ہے کہ مدنی سورتوں میں اہل ایمان سے خطاب کے لیے عام طور پر یٰاَیُّھَا الَّذِینَ اٰمَنُوْا کا صیغہ آیا ہے ‘ جبکہ مکی سورتوں میں اہل ایمان کو براہ راست مخاطب کرنے کے بجائے عموماً رسول اللہ ﷺ کی وساطت سے مخاطب کیا گیا ہے۔ البتہ اس سورت کی آیت 56 میں یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ میں…
Read the full tafseer →69 اس آیت کے بھی دو مطلب ہیں ایک یہ کہ اقوام عالم کے یہ واقعات اس لئے بیان کرتے ہیں کہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ انبیاء کی تکذیب اور اللہ کی نافرمانی کرنے والوں کا کیا انجام ہوتا ہے۔ اور اللہ اپنے فرمانبرداروں کو ظالموں سے نجات دینے کی کیسی کیسی صورتیں پیدا کردیتا ہے۔
اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ کفار مکہ کو ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اللہ کی شان اس بات سے بہت بلند تر ہے کہ مکھی، مچھر اور مکڑی جیسی حقیر مخلوق کی مثالیں بیان کرے۔ ایسا اعتراض جاہل قسم کے لوگ ہی کرسکتے ہیں اہل علم نہیں کرسکتے۔ اہل علم تو صرف یہ دیکھتے ہیں کہ آیا ممنل اور ممنل لہ جو شبیہ بیان کی جارہی ہے وہ درست ہے ؟ اگر وہ درست ہے تو…
Read the full tafseer →50۔ یعنی وہ لوگ جو حقائق کا علم رکھتے ہیں یا علم وحق کے طالب ہیں۔ ان احقائق کو اپنی گرفت میں وہی لاتے ہیں جو درجہ ضروری میں اپنے عقل وعلم سے کام لیتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–44
آیت نمبر 31 تا 44
ترجمہ : ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ابرہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحٰق کی اور ان کے بعد (اسحٰق کے بیٹے) یعقوب کی خوشخبری لے کر آئے تو کہنے لگے کہ ہم اس بستی والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں یعنی لوط (علیہ السلام) کی بستی والوں کو بلاشبہ اس بستی والے ظالم یعنی کافر ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کہنے لگے اس میں تو لوط (بھی) ہیں فرشتوں نے کہا جو وہاں ہیں ہم ان کو خوب جانتے ہیں، ہم لوط (علیہ السلام) کو اور ان کے اہل خانہ کو سوائے ان کی بیوی کے بچالیں گے اس لئے کہ وہ تو عذاب میں رہ جانے والوں میں ہوگی اور جب ہمارے فرستادے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کی وجہ سے لوط مغموم ہوئے اور ان…
Read the full tafseer →وتلک الامثال نضربھا للناس وما یعقلھا الا العلمون . اور ہم لوگوں (کی ہدایت اور ان کو
سمجھانے) کے لئے یہ مثالیں بیان کرتے ہیں اور صرف اہل علم ہی ان کو سمجھتے ہیں ‘ جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں اور اشیاء کی حقائق کیفیات کو جانتے ہیں۔
بغوی نے عطا اور ابو الزبیر کی روایت بیان کی کہ حضرت جابر نے آیت وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا للنَّاسِ وَمَا یَعْقِلُھَا الاَّ الْعٰلِمُوْنَ تلاوت کی اور فرمایا : عالم وہ ہے جس کو اللہ کی طرف سے سمجھ ملی ہو اور سمجھنے کے بعد وہ اللہ کی اطاعت کرے اور اس کی نافرمانی سے پرہیز رکھے۔ ثعلبی اور واحدی کی روایت بھی اسی طرح ہے۔ ابو داؤد بن حر نے کتاب العقل میں حارچ بن…
Read the full tafseer →(43) اور ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سمجھانے کے لیے بیان کرتے ہیں لیکن قرآنی مثالوں کو علم والے اور توحید والے ہی سمجھتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا للنَّاسِ : یہ کفار کے اس سوال کا جواب ہے کہ مکڑی، مچھر اور مکھی وغیرہ جیسی حقیر چیزوں کی مثال کی کیا ضرورت تھی ؟ جیسا کہ فرمایا : (وَاَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَيَقُوْلُوْنَ مَاذَآ اَرَاد اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا) [ البقرۃ : 26 ]”اور رہے وہ جنھوں نے کفر کیا تو وہ کہتے ہیں اللہ نے اس کے ساتھ مثال دینے سے کیا ارادہ کیا ؟“ جواب دیا کہ مثال کا مقصد بات کو سمجھانا ہوتا ہے، کیونکہ مثال سے بات اچھی طرح ذہن نشین ہوجاتی ہے، مگر ان مثالوں کو صرف علم والے سمجھتے ہیں۔
وَمَا يَعْقِلُهَآ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ : ”الْعٰلِمُوْنَ“ (جاننے والوں) سے مراد ایسے لوگ ہیں جو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
اخفش نے کہا : کمثل العنکبوت پر وقف تام ہے۔ پھر اس کے قصہ کو بیان کیا اور کہا : ابن انباری نے کہا : یہ غلط ہے : کیونکہ یہ عنکبوت کا صلہ ہے : گویا فرمایا : موصول کے بغیر صلہ پر وقف اچھا نہیں۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح فرمایا : (الجمعہ 5) یحمل، حمار کا صلہ ہے یحمل کی بجائے حمار پر وقف کرنا اچھا نہیں۔ فراء نے کہا : یہ ضرب المثل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کے لئے بیان کی ہے جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان کو معبود بناتا ہے جو نہ نفع دیتے ہیں اور نہ نقصان دیتے ہیں جس طرح مکڑی کا گھر نہ اسے گرمی سے بچاتا ہے اور نہ ٹھنڈ سے بچاتا ہے۔ عنکبوت پر وقف اچھا نہیں کیونکہ اس گھر جو اسے کسی چیز سے نہیں بچاتا اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
1۔ ابن ابی حاتم نے عمرو بن مرہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ کی کتاب میں کسی آیت سے نہیں گزر ا کہ میں نے اس کو نہ پہچانا ہو تو وہ مجھے رنج میں ڈال دیتی۔ کیونکہ میں نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے سنا آیت وتلک الامثال نضربہا للناس وما یعقلہا الا العلمون کہ یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں اور اس کو نہیں سمجھتے مگر عالم۔
Read the full tafseer →وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ [اور یہ مثالیں ] نَضْرِبُهَا [ہم بیان کرتے ہیں ان کو ] لِلنَّاسِ ۚ [لوگوں کے لئے ] وَمَا يَعْقِلُهَآ [اور نہیں سمجھتے ان کو ] اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ [مگر علم والے لوگ ] ۔
Read the full tafseer →(وَ تِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا للنَّاسِ ) (اور یہ مثالیں ہیں جو ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں) (وَ مَا یَعْقِلُھَآ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ ) (اور ان مثالوں کو بس علم والے ہی سمجھتے ہیں) جو لوگ سمجھنا ہی نہیں چاہتے علم سے دور رہنے کو ہی پسند کرتے ہیں یہ لوگ ان سے مستفید نہیں ہوتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
ابطال شرک و اثبات توحید
قال اللہ تعالیٰ مچل الذین اتخذوا من دون اللہ اولیاء۔۔۔ الی۔۔۔ ان فی ذلک لایۃ لل مومنین۔
(ربط) گزشتہ آیت میں یہ بتلایا کہ ان ظالموں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا اور کفر اور شرک میں مبتلا ہوئے اور مورد عذاب الٰہی بنے اب ان آیات میں ان کے ظلم کی تشریح کرتے ہیں کہ ان لوگوں کی مثال جو بت پرستی کرتے ہیں مکڑی کی سی ہے جس کا گھر بہت بودا ہوتا ہے مکڑی کی طرح یہ بھی اپنے اعتقاد کا تانا بانا بنتے ہیں جو محض لغو ہے۔
(یا یوں کہو) کہ ان ظالموں نے جس دین کو اپنا قلعہ اور حصن حصین سمجھا ہوا ہے اس کی حقیقت مکڑی کے جالے سے زیادہ نہیں۔
چناچہ فرماتے ہیں مثال ان لوگوں کی جنہوں نے خدا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
35:۔ یہ مرکزی دعوی توحید پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور ساری کائنات کو پیدا ہی اظہار حق کے لیے فرمایا ہے کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی قدرت کاملہ اور اس کی وحدانیت پر دلالت کرتا ہے (بالحق) ای للحق و اظہار الحق (معالم و خازن ص 161 ج 5) ۔ انہا مع اشتمالہا علی جمیع ما یتعلق بہ معاشہم شواھد دالۃ علی شئونہ تعالیٰ المتعلقۃ بذاتہ و صفاتہ (ابو السعود ج 6 ص 696) ۔ ایمان والوں کے لیے اس میں بہت بڑی دلیل ہے۔ مومنوں کی تخصیص اس لیے کی گئی کہ اس سے استفادہ صرف وہی کرتے ہیں ویسے تو ہر غور و فکر کرنے والے کا ذہن اس سے اللہ کی وحدانیت اور اس کی عظیم قدرت تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
ربط آیات : گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ ابتلا کا ذکر فرمایا۔ اور کچھ لوگوں کی مثالیں بھی بیان فرمائیں۔ اس سلسلے مٰں اللہ کے پاک انبیاء ، نوح (علیہ السلام) ابراہیم علیہ السلا ، لوط (علیہ السلام) اور شعیب (علیہ السلام) اور ان پر آنے والی آزمائشوں کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے کافروں اور مشرکوں کا انجام اور ان کو ملنے والی سزاؤں کا تذکرہ کیا۔ ایمان ہی کے سلسلے میں توحید کا بیان ہوا۔ باقی مکی سورتوں کی طرح اس سورة میں بھی بنیادی مضامین۔ نبوت و رسالت ، معاد اور وحی الہی کا ذکر ہے جو کہ مختلف سورتوں میں مختلف انداز میں بیان کیا گیا ہ۔ اس درس میں مسئلہ توحید کو خاص طور پر بیان کیا گیا ہے…
Read the full tafseer →وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُہَا لِلنَّاسِ 0 ۚ وَمَا يَعْقِلُہَآ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ 43
مثل
والمَثَلُ عبارة عن قول في شيء يشبه قولا في شيء آخر بينهما مشابهة، ليبيّن أحدهما الآخر ويصوّره . فقال : وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [ الحشر/ 21] ، وفي أخری: وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] .
( م ث ل ) مثل ( ک )
المثل کے معنی ہیں ایسی بات کے جو کسی دوسری بات سے ملتی جلتی ہو ۔ اور ان میں سے کسی ایک کے ذریعہ دوسری کا مطلب واضح ہوجاتا ہو ۔ اور معاملہ کی شکل سامنے آجاتی ہو ۔ مثلا عین ضرورت پر کسی چیز کو کھودینے کے لئے الصیف ضیعت اللبن کا محاورہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
ترکیب : مثل الذین صلہ و موصول مبتداء کمثل العنکبوت خبر اتخذت بیتا جملہ مستانفہ یا وصف والعنکبوت تقع علی الواحد والجمع والمذکر والمونث والتا، فیہ زائدۃ کتاء طاغوت و یجمع علی عناکیب و عناکب و عکابٍ و عکبۃ واعکبٍ (بیضاوی) مایدعون من دونہ من شیء ما استفہامیۃ منصوبۃ بیدعون بالتاء والیاء ویعلم معلقۃ عنھا (لان من خواص افعال القلوب التعلیق ای ابطال العمل لفظا فقطا) ومن للتنبیین اونافیتہ ومن مزیدۃ وشیء مفعول یدعون او موصولہ مفعول لیعلم و مفعول یدعون محذوف وھو العائد والخبر الامثال و نضربہا حال عنھا ویجوزان یکون خبرا والامثال لغت بالحق حال۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ولکن کانوا انفسہم یظلمون اب یہاں ان…
Read the full tafseer →وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا لِلنَّاسِ ج وَمَا یَعْقِلُھَآ اِلاَّ الْعٰلِمُوْنَ ۔ (العنکبوت : 43)
(یہ مثالیں لوگوں کی فہمائش کے لیے بیان کرتے ہیں مگر ان کو وہی لوگ سمجھتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں)
مثال کے فہم کے لیے علم شرط ہے
اس آیت کریمہ میں اَمْثَالُسے اشارہ ان تمام امثال و واقعات کی طرف ہے جو اوپر مذکور ہوئے۔ انسانی کمزوری یہ ہے کہ وہ واقعات یا مثالوں کو ہمیشہ واقعات یا مثال سمجھ کر محظوظ تو ہوتا ہے لیکن اثر قبول نہیں کرتا۔ وہ زیادہ سے زیادہ اسے دفع الوقتی کا ذریعہ سمجھتا ہے جبکہ قرآن کریم ان مثالوں کو اس لیے بیان کرتا ہے کہ لوگ ان سے سبق حاصل کریں ان میں کوئی نصیحت ہے تو اپنی زندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین کو ان کے شرک کے بارے میں سمجھایا جائے تو وہ شرک کا انکار کرتے ہیں اس لیے ارشاد ہوا ہے کہ اللہ جانتا ہے کہ اس کے سوا وہ جس جس کو پکارتے ہیں۔
مشرک اقوام کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ مشرک قوم دوچار خداؤں پر مطمئن نہیں ہوتی۔ اہل مکہ نے بیت اللہ میں تین سو ساٹھ جھوٹے خدا سجا رکھے تھے۔ ہندوستان کی مذہبی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اس قوم کے خداؤں کی تعداد ہزاروں سے متجاوز ہے کچھ تاریخ دانوں نے لکھا ہے کہ ان کے خداؤں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد بنتی ہے۔ عیسائیوں نے مستقل طور پر تین خدا بنائے ہوئے ہیں۔ یہودیوں نے حضرت عزیز کو ” اللہ “ کا بیٹا ٹھہرایا ہوا ہے…
Read the full tafseer →43: وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ (یہ مثالیں) ۔ نَضْرِبُہَا (ہم ان کو بیان کرتے ہیں) ۔ لوگوں کے سامنے کھول کر بیان کرتے ہیں۔
نحو : تلک الامثال مبتدأ اور نضربہا اس کی خبر ہے۔
لِلنَّاسِ (لوگوں کے لئے) ۔ قریش کے سفہاء و جہلاء کہتے کہ محمد ﷺ کا رب تو مکھی اور مچھر کی مثال بیان کرتا ہے۔ وہ ان مثالوں سے ہنستے۔ اسی لئے فرمایا۔ وَمَا یَعْقِلُہَآ اِلاَّ الْعٰلِمُوْنَ (اور ان کو وہ سمجھتے ہیں جو سمجھ والے ہیں) ۔ ان مثالوں اور اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کو سمجھ والے سمجھتے ہیں۔ مطلب یہ ہے۔ ان کی صحت و خوبی کو جانتے اور اس کے فوائد سے سمجھ بوجھ والے واقف ہیں۔ کیونکہ امثال اور تشبیہات وہ تو مخفی معانی کی طرف…
Read the full tafseer →43۔ وتلک الامثال ، اس سے مراد مشابہ ہے مثل کہاجاتا ہے پورے کلام کو دوسرے کلام کے تشبہ دینا، قران پاک نے اس امت کے کفار کے احوال کو ماقبل امتوں کے کفار کے احوال کے ساتھ تشبیہ اور تمثیل بیان کی۔ نضربھا، ہم انکوبیان کریں گے ، للناس، عطا اور مقاتل کا بیان ہے کہ اس سے مراد کفار مکہ ہے۔ ومایعقلھا الی العالمون، ان امثال کو عقل والے ہی جانتے ہیں یعنی علمائ۔
حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی کریم نے یہ آیت تلاوت فرمائی ، وتلک الامثال نضربھاللناس ومایعقلھا الاالعالمون، ، اور فرمایا عالم وہ ہے جس کو اللہ کی طرف سے سمجھ ملی ہو اور سمجھنے کے بعد وہ اللہ کی اطاعت کرے اورا سکی نافرمانی سے پرہیز رکھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
41 تا 43۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی کہاوت بیان فرماتا ہے جو خدا کو جھوڑ کر اوروں کو معبود ٹھہراتے ہیں اور اپنی حاجتوں میں ان کو پکارتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے مکڑی کا گھر ہے جو نہایت بودا ہے اور گرمی جاڑے بارش کا اس میں کچھ بچاؤ نہیں اسی طرح ان جھوٹے معبودوں سے ان کے پوجنے والوں کو کچھ فائدہ نہیں ان کا دین مکڑی کے گھر کی طرح بودا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جھوٹے معبودوں کے پوجنے والوں کی مکڑی کے گھر سے مثال دی جس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ آفت آجاوے گی تو ان کو اپنے جھوٹے معبودوں سے اسی طرح کچھ مدد نہ ملے گی جس طرح مکڑی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
آیت 41
یہ مثال ‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس شخص کے لئے بیان کی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسری ہستیوں کی عبادت بھی کرتا ہے اور اس کا مقصد ان سے عزت قوت اور منفعت کا حصول ہے حالانہ حقیقت اس کے مقصود کے بالکل برعکس ہے۔ اس شخص کی مثال اس مجڑی کی سی ہے جس نے جالے کا گھر بنایا ہوتا کہ گرمی سردی اور دیگر آفات سے محفوظ رہے۔ (وان اوھن البیوت) مگر سب سے کمزور گھر ( لبیت العنکبوت) ” مکڑی کا گھر ہوتا ہے مکڑی کا شمار کمزور حیوانات میں ہوتا ہے اور اس کا گھر تو سب سے کمزور گھر ہے وہ گھر بنا کر اس میں کمزوری کے سوا کچھ اضاعہ نہیں کرتی۔ اسی طرح مشرکین نے جو اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے سرپرست بنا رکھی ہیں وہ ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–44
سورة العنکبوت
مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو
قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–69
58 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اس کے احاطہ علم کے اعتبار سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ پوری طرح جانتا ہے ان سب چیزوں کو جن کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں اللہ کے سوا "۔ تعمیم ملاحظہ ہو کہ اول تو { شیئ } خود نکرہ ہے جو ہر چیز کو شامل ہے۔ پھر اس پر { من } استغراقیہ سے مزید تاکید۔ یعنی کوئی بھی چیز خواہ کوئی فرشتہ ہو یا انسان، شجر ہو یا حجر، بت ہو یا جن وغیرہ وغیرہ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ مافوق الاسباب کسی کو بھی پکارنا شرک ہے جو کہ سب سے بڑا گناہ اور ناقابل معافی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اب وہ لوگ دیکھ لیں جو اس وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر اس کی عاجز مخلوق کو پکارتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے " یا رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
عبرت کے نشان قوم عاد، ثمود، فرعون، ہامان، قارون
تشریح : الاعراف ‘ ھود ‘ شعراء اور کئی سورتوں میں ان کا ذکر آچکا ہے۔ یہاں مختصراً دوبارہ ان قوموں کا ذکر کیا جا رہا ہے صرف اس حوالے سے کہ لوگ یہ اچھی طرح سمجھ جائیں کہ وہ قادر مطلق اپنی مخلوق سے بہت پیار کرتا ہے اسی لیے اچھے برے کی پہچان واضح کرنے کے لیے نبی بھیجتا رہا مگر اکثر قومیں اس قدر بگڑ چکی تھیں کہ اللہ کو پہچان کر بھی اللہ کی راہ اختیار کرنے کو تیار نہ تھیں اور اس طرح انہوں نے خود اپنے لیے تباہی و بربادی اور عذاب کے اسباب بنائے۔ مثلاً عاد کی قوم ‘ قوم ثمود ‘ مدین والے، ہامان ‘ فرعون وغیرہ یہ سب اپنے زمانے کی مانی ہوئی طاقتور قومیں تھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–44
آیات 31 تا 44
اسرارومعارف
ایک وقت میں ایک کا بھلا دوسرے کا نقصان ایمان و عمل کے باعث :
اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کو ولادت اسمعیل (علیہ السلام) کی خوشخبری دینے کے لیے آئے تو انہیں بتایا کہ قوم لوط کی بستیوں کو اجاڑنا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے یعنی وہی فرستادہ جو ایک ہستی کو اس کے ایمان و عمل کے باعث نوید مسرت سنانے آئے تھے دوسروں کے کفر اور بد اعمالی کے باعث ان کی تباہی بھی لائے تھے کہ وہ بہت حد سے بڑھ چکے تھے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فوراکہا اس بستی میں تو لوط (علیہ السلام) بھی ہیں تو فرشتے کہنے لگے سب معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہے۔ لوط (علیہ السلام) اور ان کے پیروکار اس آفت سے…
Read the full tafseer →7 ۔ علم والوں سے مراد ایسے لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب اور آفاق میں پھیلی ہوئی نشانیوں پر سوچ بچار کرتے ہیں۔ ایسے لوگ ہی راسخ فی العلم کہلانے کے مستحق ہیں۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
(29:43) تلک الامثال۔ یہ مثالیں یعنی یہ موجودہ مکڑی کی مثال اور قرآن مجید میں مذکور دوسری مثالیں مثلاً ان اللہ لا سیتحی ان یضرب مثلا ما بعوضۃ فما فوقھا (2:26) خدا اس بات سے عار نہیں کرتا کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز کی مثال بیان فرمائے۔ یا
یایھا الناس ضرب مثل فاستمعوا لہ ان الذین تدعون من دون اللہ لن یخلقوا ذبابا ولو اجتمعوا لہ (22:73) اے لوگو ! ایک مثال بیان کی جاتی ہے سو اسے سنو ! جن لوگوں کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی (تک تو) پیدا نہی کرسکتے۔ چاہے وہ سب ہی اس غرض کے لئے جمع ہوجاویں ۔ وغیرہ
ما یعقلہا۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب عقل مصدر۔ (باب ضرب) وہ نہیں سمجھتے۔ ھا ضمیر واحد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
لغات القرآن آیت نمبر (41 تا 44) ۔
العنکبوت (مکڑی) ۔ اتخذت (بنایا) ۔ اوھن (سب سے کمزور۔ کمزور ترین) ۔ خلق (اس نے پیدا کیا) ۔
تشریح : آیت نمبر (41 تا 44) ۔ ” ابتدائے کائنات سے نبی کریم ﷺ تک جتنے بھی بیشمار انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لائے انہوں نے عقیدہ کی گندگیوں میں ملوث لوگوں کی اصلاح کے لئے بتایا کہ اللہ ہی ساری کائنات کا پیدا کرنے والا، سب کو رزق دینے والا اور سب کی حاجتیں پوری کرنے والا ہے وہ صرف ایک اللہ ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ وہی ہر ایک کا محافظ و نگران، نفع اور نقصان کا مالک اور ہر ایک کی ضروریات کو پورا کرنے والا ہے وہ اگر کسی پر اپنی رحمتوں کو نازل کرتا ہے تو کوئی اسے روکنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
غیروں کو معبود بنانے کا رد۔
(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مثال بیان فرمائی ہے جو اللہ کو چھوڑ کر اور روں کو معبود ٹھہراتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے مکڑی کا گھر جو نہایت بودا ہے اور گرمی جاڑے بارش کا اس میں کچھ بچاؤ نہیں، اسی طرح ان جھوٹے معبودوں سے ان کے پوجنے والوں کو کچھ فائدہ نہیں، ان کا دین مکڑی کے گھر کی طرح بودا ہے فرمایا اگر ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ آفت آجائے تو ان کے اپنے جھوٹے معبودوں سے اس طرح کچھ مدد نہ ملے گی جس طرح مکڑی کو اپنے گھر سے جاڑے گرمی میں کچھ بچاؤ کی مدد نہیں ملتی ، پھر اللہ تعالیٰ نے ان جھوٹے معبودوں کے پوجنے والوں کو دھمکایا کہ ہم سب کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
[15] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة انعام حاشیہ 25 صفحہ 328۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
ف 2: جس طرح اس عنکبوت کے کمزور اور ناچیز گھر میں پناہ نہیں مل سکتی ۔ اور یہ گھر آرام و آسودگی باعت نہیں ہوسکتا ۔ اسی طرح مشرک جو اوہام و خرافات اور مشرکانہ خیالات کا ایک مکان تعمیر کرنا چاہتا ہے ۔ سو اس کو معلوم ہونا چاہیے ۔ کہ یہ مکڑی کے گھر کی طرح دنیا بھر کے گھروں سے بودا اور نکما ہوتا ہے ۔ ذرا سی معقولیت اور ادنی سی بصیرت بھی اس کو ڈھادینے کے کافی ہے یعنی شرک کا گھر جو آدمی اپنے دماغ وقلب میں خیالات کے آرام اور آسودگی کے لئے بناتا ہے اس سے ہرگز یہ ضرورت پوری نہیں ہوتی ارشاد ہے ۔ کہ یہ امثال ان لوگوں کے لئے وجہ ہدایت ہوسکتی ہیں ۔ جو عالم اور سمجھدار ہیں ۔ اور واقعہ یہ ہے کہ یہ نہایت عمدہ…
Read the full tafseer →43۔ اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لئے بیان کیا کرتے ہیں مگر ان مثالوں کو اہل علم ہی سمجھا کرتے ہیں یعنی مثال خواہ کوئی جھوٹی چیز کی ہو یا بڑی چیز کی مثال کی مطابقت مثل لہٗ کے ساتھ ہے یا نہیں یہ اہل علم کا کام ہے جاہل اس کو نہیں سمجھتے شاید یہ کفار کے اس شبہ کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ مکھی اور مکڑی کی مثالیں بیان کرتا ہے پہلے بارے میں ہم تفصیل کے ساتھ عرض کرچکے ہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
ف 1۔ پس جیسا اس مکڑی نے اپنے زعم میں ایک اپنی پناہ بنائی ہے مگر واقع میں وہ پناہ غایت ضعف سے کالعدم ہے اسی طرح یہ شرک معبودات باطلہ کو اپنے زعم میں اپنی پناہ سمجھتے ہیں مگر واقع میں وہ پناہ لاشے محض ہے۔
Read the full tafseer →مثالیں بیان کی جاتی ہیں اور علم والے وہی ہیں جو ان کو سمجھتے ہیں :
43۔ پیچھے مکڑی کے جالے کی تشبیہہ بیان کی گئی تھی اور اسی طرح قرآن کریم میں یہ لفظ بار بار استعمال ہوچکا ہے اس لئے زیر نظر آیت میں فرمایا گیا کہ ” یہ مثالیں ہیں جن کو ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں “ غور کرو کہ (للناس) کا لفظ استعمال کرکے باقی ساری کائنات کی نفی کردی کہ یہ مثالیں لوگوں کے لئے بیان کی جاتی ہیں لوگوں کے سوا کسی اور مخلوق کے لئے نہیں پھر لوگوں میں سے مخصوص کرکے مزید ارشاد فرما دیا کہ ” ان مثالوں کو وہی سمجھتے ہیں جو علم رکھتے ہیں “ کیونکہ مثال بیان ہی تفہیم کے لئے ہوتی ہے اور مثال کبھی بعینہ وہ چیز نہیں ہوتی بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ (And these examples We cite for people, and no one understands them except the knowledgeable ones. - 29:43). After comparing the weakness of the gods of disbelievers with cobweb, it is stressed that Allah Ta’ ala provides such clear examples to elucidate the truth of Oneness. But only knowledgeable persons draw benefit from them, and the people at large do not ponder, so that they could also understand the truth.
Who is knowledgeable in the sight of Allah?
Imam Baghawi has quoted with his own sanad (chain of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
75 That is, "The system of the universe is based on the truth and not on falsehood. Whoever ponders over this system with an unbiased mind will realize that the earth and the heavens owe their existence to reality and fact and not to superstition and fancy. Here there is no possibility that whatever a person may conceive in his mind and whatever philosophy he may invent out of his personal whim and conjecture should fit in with the system. Here only such a thing can succeed and endure, which is in harmony with the reality and actual fact. A structure that is raised on unreal presumptions and…
Read the full tafseer →