Al-Ankaboot 29:42

Al-Ankaboot · from ayah 42

29:42

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ ؕ— وَهُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ۟اِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ مِنۡ شَىۡءٍ‌ؕ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ

یہ جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں (خواہ) وہ کچھ ہی ہو خدا اُسے جانتا ہے۔ اور وہ غالب اور حکمت والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, Allah knows whatever thing they call upon other than Him. And He is the Exalted in Might, the Wise.

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 4 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ankaboot

All translations of 29:42

یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جس چیز کو بھی پکارتے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے اور وہی زبردست اور حکیم ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں (خواہ) وہ کچھ ہی ہو خدا اُسے جانتا ہے۔ اور وہ غالب اور حکمت والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں کو جانتا ہے جنہیں وه اس کے سوا پکار رہے ہیں، وه زبردست اور ذی حکمت ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جس جس چیز کو پکارتے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے، اور وہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ جانتا ہے جس چیز کی اس کے سوا پوجا کرتے ہیں اور وہی عزت و حکمت والا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک اللہ ان (بتوں کی حقیقت) کو جانتا ہے جن کی بھی وہ اس کے سوا پوجا کرتے ہیں، اور وہی غالب ہے حکمت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یقینا اللہ جانتا ہے جسے وہ اس کے سوا پکارتے ہیں کوئی بھی چیز ہو اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جس جس چیز کو پکارتے ہیں۔ اللہ اسے خوب جانتا ہے اور وہی سب پر غالب اور حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک اللہ اچھی طرح جانتا ہے ان چیزوں کو جن کو یہ اس کے سوا پکارتے ہیں اور وہ عزیز و حکیم ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک اللہ جانتا ہے ہر اس چیز کو جس کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں اللہ کے سوا اور وہی ہے سب پر غالب نہایت حکمت والا

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک اللہ کے سوا جس کسی کو بھی پکارتے رہتے ہیں۔ اللہ ان سب کو جانتا ہے اور وہ بڑا زبردست ہے بڑا حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً اللہ خوب جانتا ہے جس چیز کو بھی یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں۔ اور وہ زبردست ہے حکمت والا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ جس چیز کو اللہ کے سوا پکارتے ہیں خواہ وہ کچھ ہی ہو اللہ اسے جانتا ہے اور وہ غالب اور حکمت والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely Allah knows fully what they call upon apart from Him. He is the Most Powerful, the Most Wise.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, Allah knows whatever thing they invoke beside Allah, and He is the Mighty, the Wise.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, Allah knows whatever thing they invoke beside Allah, and He is the Mighty, the Wise.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, Allah knows what things they invoke instead of Him. He is the All-Mighty, the All-Wise.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! Allah knoweth what thing they invoke instead of Him. He is the Mighty, the Wise.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, Allah knows whatever thing they call upon other than Him. And He is the Exalted in Might, the Wise.

— Saheeh International

God knows whatever they worship besides Him; He is the Majestic and All-wise.

— Muhammad Sarwar

Surely Allah knows whatever thing they call upon besides Him; and He is the Mighty, the Wise.

— Muhammad Habib Shakir

Verily Allah knoweth whatsoever thing they invoke beside Him. And He is the Mighty, the Wise.

— Abdul Majid Daryabadi

Verily Allah doth know of (every thing) whatever that they call upon besides Him: and He is Exalted (in power), Wise.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 29:42

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 41–43

مکڑی کا جالا جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا اوروں کی پرستش اور پوجاپاٹ کرتے ہیں ان کی کمزوری اور بےعلمی کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ ان سے مدد روزی اور سختی میں کام آنے کے امیدوار رہتے ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی مکڑی کے جالے میں بارش اور دھوپ اور سردی سے پناہ چاہے۔ اگر ان میں علم ہوتا تو یہ خالق کو چھوڑ کر مخلوق سے امیدیں وابستہ نہ کرتے۔ پس ان کا حال ایمانداروں کے حال کے بالکل برعکس ہے۔ وہ ایک مضبوط کڑے کو تھامے ہوئے ہیں اور یہ مکڑی کے جالے میں اپنا سرچھپائے ہوئے ہیں۔ اس کا دل اللہ کی طرف ہے اس کا جسم اعمال صالحہ کی طرف مشغول ہے اور اس کا دل مخلوق کی طرف اور جسم اس کی پرستش کی طرف جھکا ہوا ہے۔ پھر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 42–43

سورة العنکبوت 74 یعنی اللہ کو ان سب چیزوں کی حقیقت خوب معلوم ہے جنہیں یہ لوگ معبود بنائے بیٹھے ہیں اور مدد کے لیے پکارتے ہیں۔ ان کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے۔ طاقت کا مالک صرف اللہ ہی ہے اور اسی کی تدبیر و حکمت اس کائنات کا نظام چلا رہی ہے۔ ایک دوسرا ترجمہ اس آیت کا یہ بھی ہوسکتا ہے " اللہ خوب جانتا ہے کہ اسے چھوڑ کر جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کچھ بھی نہیں ہیں (یعنی بےحقیقت ہیں) اور عزیز و حکیم بس وہی ہے "۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–42

وَاِنَّ اَوْهَنَ الْبُيُوْتِ لَبَيْتُ الْعَنْكَبُوْتِ ، عنکبوت مکڑی کو کہا جاتا ہے، اس کی مختلف قسمیں ہیں۔ بعض ان میں سے زمین میں گھر بناتی ہیں، بظاہر وہ یہاں مراد نہیں، بلکہ مراد وہ مکڑی ہے جو جالا تانتی ہے اور اس میں معلق رہتی ہے اس جالے کے ذریعہ مکھی کو شکار کرتی ہے، یہ ظاہر ہے کہ جانوروں کی جتنی قسم کے گھونسلے اور گھر معروف ہیں، یہ جالے کے تار ان سب سے زیادہ کمزور ہیں کہ معمولی ہوا سے بھی ٹوٹ سکتے ہیں۔ اس آیت میں غیر اللہ کی پرستش کرنے والوں اور ان پر اعتماد کرنے والوں کی مثال مکڑی کے اس جالے سے دی ہے جو کہ نہایت کمزور ہے۔ اسی طرح جو لوگ اللہ کے سوا بتوں پر یا کسی انسان وغیرہ پر بھروسہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اناللہ یعلم ما یدعون من دونہ من شی وھو العزیز الحکیم (42) یعنی کوئی یہ نہ خیال کرے کہ مشرکین کے دیویوں دیوتائوں کی یہ تمثیل ان کی مبالغہ آمیز تحقیر ہے۔ یہ تحقیر نہیں بلکہ اصل حقیقت کا اظہار ہے۔ اللہ تعالیٰ ان دیویوں دیوتائوں کی حقیقت سے اچھی طرح واقف ہے۔ اچھی طرح واقف ہے کے اسلوب بیان میں جو طنز و تحقیر مضمر ہے وہ اصحابِ ذوق سے مخفی نہیں ہے۔ یہ اسلوب ہماری زبان میں بھی معروف ہے۔ وھوا العزیز الحکیم ‘ یعنی یہ دیوی دیوتا اس خدا کے مقابل میں اپنے پچاریوں کے کیا کام آسکیں گے جو عزیز بھی ہے اور حکیم بھی۔ عزیز یعنی سب پر غالب اور سب کی رسائی سے بالاتر۔ ’ حکیم ‘ یعنی جس کا ہر کام عدل و حکمت پر مبنی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 42–43

43-1یعنی انھیں خواب غفلت سے بیدار کرنے، شرک کی حقیقت سے آگاہ کرنے اور ہدایت کا راستہ سجھانے کے لئے۔ 43-2اس علم سے مراد اللہ کا، اس کی شریعت کا اور ان آیات و دلائل کا علم ہے جن پر غور و فکر کرنے سے انسان کو اللہ کی معرفت حاصل ہوتی اور ہدایت کا راستہ ملتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 42–44

25: یہ کائنات اس مقصد کے لیے پیدا کی گئی ہے کہ اس کے ذریعے لوگوں کو آزمایا جائے، اور پھر لوگوں کے اعمال کے مطابق انہیں جزاء یا سزا ملے۔ اگر آخرت کی زندگی آنے والی نہ ہو تو کائنات کو پیدا کرنے کا یہ اصل مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 41–43

مثل الذین اتخذوا ۔۔۔۔۔۔ وما یعقلھا الا العلمون (41 – 43) یہ ایک عجیب اور سچی تصویر ہے ، ان تمام قوتوں کی جو اس کائنات میں موجود ہیں۔ اس میں ایک ایسی حقیقت کو نمایاں کیا گیا ہے جس سے لوگ بالعموم غافل رہتے ہیں اور اس غفلت کی وجہ سے پھر ان کے پیمانے اور اقدار بدل جاتی ہیں۔ پھر وہ غلط رابطے قائم کرلیتے ہیں ۔ ان کو پتہ نہیں ہوتا کہ وہ غلط سمت میں جا رہے ہیں۔ وہ صحیح فیصلہ نہیں کرسکتے کہ کیا لیں اور کیا چھوڑیں۔ اس غلط سوچ کی وجہ سے وہ پھر ریاستی قوت سے بھی دھوکہ کھا جاتے ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس زمین پر ریاستی قوت ہی اصل قوت ہے اور سب کچھ ہے۔ اور ہر جگہ موثر ہے۔ اس لیے وہ اس قوت سے ڈرتے ہیں اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی ممکن تھا سننے والا تعجب کرے کہ سب کو ایک ہی ذیل میں کھینچ دیا کسی کو مستثنیٰ نہ کیا۔ بعض لوگ بت کو پوجتے ہیں، بعض آگ پانی کو، بعض اولیاء انبیاء یا فرشتوں کو، سو اللہ نے فرما دیا کہ اللہ کو سب معلوم ہیں۔ اگر کوئی ایک بھی ان میں سے مستقل قدرت و اختیار رکھتا تو اللہ سب کی یک قلم نفی نہ کرتا۔ 10 یعنی اللہ کو کسی کی رفاقت نہیں چاہیے، وہ زبردست ہے، اور مشورہ نہیں چاہیے کیونکہ حکیم مطلق ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 42–45

اب یہاں سے اس سورت کا آخری حصہ شروع ہو رہا ہے جو تین رکوعات پر مشتمل ہے۔ جیسا کہ آغاز میں بتایا گیا ہے ‘ سورت کے اس حصے میں دو مضامین مشرکین مکہ اور اہل ایمان سے خطاب اس انداز میں متوازی چل رہے ہیں جیسے ایک رسی کی دو لڑیاں آپس میں گندھی ہوئی ہوں۔ قرآن کے اس اسلوب کے بارے میں پہلے بھی کئی بار ذکر ہوچکا ہے کہ مدنی سورتوں میں اہل ایمان سے خطاب کے لیے عام طور پر یٰاَیُّھَا الَّذِینَ اٰمَنُوْا کا صیغہ آیا ہے ‘ جبکہ مکی سورتوں میں اہل ایمان کو براہ راست مخاطب کرنے کے بجائے عموماً رسول اللہ ﷺ کی وساطت سے مخاطب کیا گیا ہے۔ البتہ اس سورت کی آیت 56 میں یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ میں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

67 اس آیت کے دو مطلب ہیں۔ ایک تو ترجمہ سے ہی واضح ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ جن جن چیزوں کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں ان کی حقیقت کچھ بھی نہیں اور محض لاشی ہیں 68 یعنی اللہ کو نہ تو ان معبودوان باطل کی رفاقت مطلوب ہے۔ کیونکہ خود ہی سب سے زبردست اور سب پر غالب ہے۔ اور نہ ہی ان سے کسی قسم کے مشورہ کی ضرورت ہے کیونکہ حکیم مطلق ہے۔ اپنے ہر کام کی حکمت اور مصلحت سے خوب واقف ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

48۔ (درحقیقت یہی ان پر خوب روشن ہے کہ وہ سہارے کیسے بودے اور پھسپھ سے ہیں) 49۔ یعنی قوت عملی میں بھی کامل، اور قوت علمی میں بھی کامل۔ وہ جب اور جو، جس سے چاہے ہر انتقام پر قادر ہے۔ پھر بھی جو فورا نہیں لیتا ہے تو اپنے کمال حکمت سے کسی دوسرے وقت کے لیے اٹھائے ہوئے ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 31–44

آیت نمبر 31 تا 44 ترجمہ : ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ابرہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحٰق کی اور ان کے بعد (اسحٰق کے بیٹے) یعقوب کی خوشخبری لے کر آئے تو کہنے لگے کہ ہم اس بستی والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں یعنی لوط (علیہ السلام) کی بستی والوں کو بلاشبہ اس بستی والے ظالم یعنی کافر ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کہنے لگے اس میں تو لوط (بھی) ہیں فرشتوں نے کہا جو وہاں ہیں ہم ان کو خوب جانتے ہیں، ہم لوط (علیہ السلام) کو اور ان کے اہل خانہ کو سوائے ان کی بیوی کے بچالیں گے اس لئے کہ وہ تو عذاب میں رہ جانے والوں میں ہوگی اور جب ہمارے فرستادے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کی وجہ سے لوط مغموم ہوئے اور ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان اللہ یعلم ما یدعون من دونہ من شیء . (آپ کافروں سے کہہ دیجئے کہ) وہ جس چیز کو اللہ کے سوا پکارتے ہیں (یعنی پوجتے ہیں) اللہ کو اس کا علم ہے۔ (اس ترجمہ پر مَا یَدْعُوْنَ میں لفظ مَا موصولہ ہوگا) مَا کو استفہامیہ بھی قرار دیا جاسکتا ہے یعنی اللہ کے سوا وہ کس چیز کو پوجتے ہیں ‘ اللہ واقف ہے۔ یا مَا مصدر ہے یعنی اللہ ان کی عبادت غیر اللہ کو جانتا ہے۔ یا مَا نافیہ ہے یعنی اللہ واقف ہے کہ وہ کسی چیز کو اللہ کے سوا نہیں پکارتے۔ اس صورت میں کفار کی عبادت کو جو مذکورہ بالا عبارت میں خانۂ عَنْکَبُوْت سے تشبیہ دی اس کی تاکید اس جملہ سے ہوجائے گی اور کام میں کافروں کی جہالت کا اظہار ہوگا۔ وھو العزیز…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(42) اللہ تعالیٰ ان تمام جھوٹے معبودوں کو جانتا ہے جن کی یہ اللہ کے علاوہ پرستش کر رہے ہیں کہ یہ معبود دنیا و آخرت میں ان کے کچھ کام نہیں آسکتے اور وہ غیر اللہ کی پرستش کرنے والوں کو سزا دینے میں غالب اور حکمت والا ہے کہ اس بات کا حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کسی کی پرستش نہ کی جائے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا يَدْعُوْنَ۔۔ : ممکن تھا عنکبوت کی مثال سن کر کوئی شخص تعجب کرتا کہ اللہ تعالیٰ نے سب کو مکڑی جیسا بےبس اور بےاختیار بنادیا، کسی کو مستثنیٰ نہ کیا، بعض لوگ بتوں کو پوجتے ہیں، بعض آگ کو، بعض پانی کو جب کہ وہ لوگ بھی ہیں جو فرشتوں اور انبیاء و اولیاء کو پوجتے اور پکارتے ہیں۔ اس لیے فرمایا کہ لوگ اللہ کے سوا جس کسی کو بھی پکارتے ہیں اسے سب معلوم ہیں، اگر ان میں سے کسی کے پاس بھی کچھ قدرت یا اختیار ہوتا تو اللہ تعالیٰ سب کی سرے سے نفی نہ کرتا۔ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : یعنی اللہ خود سب پر غالب ہے، اسے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں اور وہ کمال حکمت والا ہے، اسے کسی کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 41–43

اخفش نے کہا : کمثل العنکبوت پر وقف تام ہے۔ پھر اس کے قصہ کو بیان کیا اور کہا : ابن انباری نے کہا : یہ غلط ہے : کیونکہ یہ عنکبوت کا صلہ ہے : گویا فرمایا : موصول کے بغیر صلہ پر وقف اچھا نہیں۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح فرمایا : (الجمعہ 5) یحمل، حمار کا صلہ ہے یحمل کی بجائے حمار پر وقف کرنا اچھا نہیں۔ فراء نے کہا : یہ ضرب المثل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کے لئے بیان کی ہے جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان کو معبود بناتا ہے جو نہ نفع دیتے ہیں اور نہ نقصان دیتے ہیں جس طرح مکڑی کا گھر نہ اسے گرمی سے بچاتا ہے اور نہ ٹھنڈ سے بچاتا ہے۔ عنکبوت پر وقف اچھا نہیں کیونکہ اس گھر جو اسے کسی چیز سے نہیں بچاتا اس کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 41–42

1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت مثل الذین اتخذو من دون اللہ اولیاء کمثل العنکبوت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے مشرک کے لیے بیان فرمائی اسے اس معبود اس کی کمزوری اور اجزاء کی قلت کی وجہ سے ذرا بھی فائدہ نہ دیں گے۔ مشرکین کا اپنے باطل معبود سے بہت کمزور تعلق ہے۔ 2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت مثل الذین اتخذوا من دون اللہ اولیاء کے بارے میں روایت کیا کہ مثال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بیان فرمایا اس شخص کے لیے جو غیر اللہ کی عبادت کرتا ہے اور اس کی مثال مکڑی کے گھر کی مثال کی طرح ہے۔ 3۔ ابو داوء د نے اپنے مراسیل میں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ ] يَعْلَمُ [جانتا ہے ] مَا [اس کو جس کو ] يَدْعُوْنَ [یہ لوگ پکارتے ہیں ] مِنْ دُوْنِهٖ [اس کے علاوہ ] مِنْ شَيْءٍ ۭ [کسی چیز میں سے ] وَهُوَ الْعَزِيْزُ [اور وہ ہی بالادست ہے ] الْحَكِيْمُ [حکمت والا ہے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ مِنْ شَیْءٍ ) (یہ لوگ اللہ کے سوا جس جس کی بھی عبادت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کو ان سب کا علم ہے) یہ چیزیں نہایت ضعیف ہیں۔ (وَ ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ) (اور وہ غلبہ والا حکمت والا ہے)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–44

ابطال شرک و اثبات توحید قال اللہ تعالیٰ مچل الذین اتخذوا من دون اللہ اولیاء۔۔۔ الی۔۔۔ ان فی ذلک لایۃ لل مومنین۔ (ربط) گزشتہ آیت میں یہ بتلایا کہ ان ظالموں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا اور کفر اور شرک میں مبتلا ہوئے اور مورد عذاب الٰہی بنے اب ان آیات میں ان کے ظلم کی تشریح کرتے ہیں کہ ان لوگوں کی مثال جو بت پرستی کرتے ہیں مکڑی کی سی ہے جس کا گھر بہت بودا ہوتا ہے مکڑی کی طرح یہ بھی اپنے اعتقاد کا تانا بانا بنتے ہیں جو محض لغو ہے۔ (یا یوں کہو) کہ ان ظالموں نے جس دین کو اپنا قلعہ اور حصن حصین سمجھا ہوا ہے اس کی حقیقت مکڑی کے جالے سے زیادہ نہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں مثال ان لوگوں کی جنہوں نے خدا کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

34:۔ یعنی سب کچھ جاننے والا اللہ تعالیٰ ہے اور جن کو مشرکین پکارتے ہیں وہ تو ان پکارنے والوں کے احوال سے بھی باخبر نہیں ہیں پھر انہیں کیوں پکارتے ہیں۔ پھر وہ غالب اور حکیم بھی ہے اس لیے علیم وخبیر اور عزیز و قدیر کو چھوڑ کر عاجز مخلوق کو کارساز سمجھ کر حاجات میں پکارنا کونسی عقلمندی ہے۔ وتلک الامثال الخ ہم مثالیں دے کر لوگوں کو مسئلہ توحید سمجھاتے ہیں لیکن ان میں غور و فکر صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو راسخ فی العلم ہوں اور عقل و بصیرت رکھتے ہوں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 41–44

ربط آیات : گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ ابتلا کا ذکر فرمایا۔ اور کچھ لوگوں کی مثالیں بھی بیان فرمائیں۔ اس سلسلے مٰں اللہ کے پاک انبیاء ، نوح (علیہ السلام) ابراہیم علیہ السلا ، لوط (علیہ السلام) اور شعیب (علیہ السلام) اور ان پر آنے والی آزمائشوں کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے کافروں اور مشرکوں کا انجام اور ان کو ملنے والی سزاؤں کا تذکرہ کیا۔ ایمان ہی کے سلسلے میں توحید کا بیان ہوا۔ باقی مکی سورتوں کی طرح اس سورة میں بھی بنیادی مضامین۔ نبوت و رسالت ، معاد اور وحی الہی کا ذکر ہے جو کہ مختلف سورتوں میں مختلف انداز میں بیان کیا گیا ہ۔ اس درس میں مسئلہ توحید کو خاص طور پر بیان کیا گیا ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ اللہَ يَعْلَمُ مَا يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ مِنْ شَيْءٍ۝ 0 ۭ وَہُوَالْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝ 42 علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 41–43

ترکیب : مثل الذین صلہ و موصول مبتداء کمثل العنکبوت خبر اتخذت بیتا جملہ مستانفہ یا وصف والعنکبوت تقع علی الواحد والجمع والمذکر والمونث والتا، فیہ زائدۃ کتاء طاغوت و یجمع علی عناکیب و عناکب و عکابٍ و عکبۃ واعکبٍ (بیضاوی) مایدعون من دونہ من شیء ما استفہامیۃ منصوبۃ بیدعون بالتاء والیاء ویعلم معلقۃ عنھا (لان من خواص افعال القلوب التعلیق ای ابطال العمل لفظا فقطا) ومن للتنبیین اونافیتہ ومن مزیدۃ وشیء مفعول یدعون او موصولہ مفعول لیعلم و مفعول یدعون محذوف وھو العائد والخبر الامثال و نضربہا حال عنھا ویجوزان یکون خبرا والامثال لغت بالحق حال۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ولکن کانوا انفسہم یظلمون اب یہاں ان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ مِنْ شَیْ ئٍ ط وَھُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (العنکبوت : 42) (بےشک اللہ خوب جانتا ہے ان چیزوں کو جن کو وہ اس کے سوا پکارتے ہیں اور وہی زبردست اور حکمت والا ہے۔ ) اللہ تعالیٰ ہر چیز کی حقیقت سے آگاہ ہے اوپر کی تمثیل سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ مشرکین نے جن دیویوں اور دیوتائوں یا دیگر قوتوں کو خدا کا شریک بنا رکھا ہے ان کی تحقیر میں مبالغے سے کام لیا گیا ہے اور دلوں میں نفرت پیدا کرنے کے لیے ابلاغ کو ایک حربے کے طور پر کام میں لایا گیا ہے، ایسی کوئی بات نہیں۔ اس تمثیل میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ بالکل حقیقت ہے۔ تمام جھوٹے معبودوں کی قوت اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 42–44

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین کو ان کے شرک کے بارے میں سمجھایا جائے تو وہ شرک کا انکار کرتے ہیں اس لیے ارشاد ہوا ہے کہ اللہ جانتا ہے کہ اس کے سوا وہ جس جس کو پکارتے ہیں۔ مشرک اقوام کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ مشرک قوم دوچار خداؤں پر مطمئن نہیں ہوتی۔ اہل مکہ نے بیت اللہ میں تین سو ساٹھ جھوٹے خدا سجا رکھے تھے۔ ہندوستان کی مذہبی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اس قوم کے خداؤں کی تعداد ہزاروں سے متجاوز ہے کچھ تاریخ دانوں نے لکھا ہے کہ ان کے خداؤں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد بنتی ہے۔ عیسائیوں نے مستقل طور پر تین خدا بنائے ہوئے ہیں۔ یہودیوں نے حضرت عزیز کو ” اللہ “ کا بیٹا ٹھہرایا ہوا ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 42: اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ (بیشک اللہ تعالیٰ جانتے ہیں۔ جن کو وہ پکارتے ہیں) ۔ قراءت : بصری و عاصم نے سوائے اعشیٰ و برجمی کے یاء سے پڑھا ہے۔ نحو : ما الذی کے معنی میں ہے۔ اور یہ یعلم کا مفعول ہے۔ اور یدعون کا مفعول مضمر ہے۔ ای یدعونہ یعنی وہ اس کی عبادت کرتے ہیں۔ مِنْ دُوْنِہٖ مِنْ شَیْئٍ (اس کے سوا یعنی کوئی چیز بھی ہے) ۔ نحو : مِن یہ بیانیہ ہے۔ وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (وہ زبردست حکمتوں والے ہیں) ۔ وہ ایسا غالب ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ ایسی حکمتوں والا ہے کہ جلد سزا نہیں دیتا۔ اس میں ان کی جہالت کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس طرح کہ انہوں نے جماد کی عبادت کی جس کو کچھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

42۔ ان اللہ یعلم مایدعون من دونہ من شئی وھوالعزیز الحکیم۔ قراء اہل بصرہ اور عاصم نے ان کو یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ مراد اس سے ماقبل کی امتیں ہیں اور دوسرے قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 41–43

41 تا 43۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی کہاوت بیان فرماتا ہے جو خدا کو جھوڑ کر اوروں کو معبود ٹھہراتے ہیں اور اپنی حاجتوں میں ان کو پکارتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے مکڑی کا گھر ہے جو نہایت بودا ہے اور گرمی جاڑے بارش کا اس میں کچھ بچاؤ نہیں اسی طرح ان جھوٹے معبودوں سے ان کے پوجنے والوں کو کچھ فائدہ نہیں ان کا دین مکڑی کے گھر کی طرح بودا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جھوٹے معبودوں کے پوجنے والوں کی مکڑی کے گھر سے مثال دی جس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ آفت آجاوے گی تو ان کو اپنے جھوٹے معبودوں سے اسی طرح کچھ مدد نہ ملے گی جس طرح مکڑی کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 41–43

آیت 41 یہ مثال ‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس شخص کے لئے بیان کی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسری ہستیوں کی عبادت بھی کرتا ہے اور اس کا مقصد ان سے عزت قوت اور منفعت کا حصول ہے حالانہ حقیقت اس کے مقصود کے بالکل برعکس ہے۔ اس شخص کی مثال اس مجڑی کی سی ہے جس نے جالے کا گھر بنایا ہوتا کہ گرمی سردی اور دیگر آفات سے محفوظ رہے۔ (وان اوھن البیوت) مگر سب سے کمزور گھر ( لبیت العنکبوت) ” مکڑی کا گھر ہوتا ہے مکڑی کا شمار کمزور حیوانات میں ہوتا ہے اور اس کا گھر تو سب سے کمزور گھر ہے وہ گھر بنا کر اس میں کمزوری کے سوا کچھ اضاعہ نہیں کرتی۔ اسی طرح مشرکین نے جو اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے سرپرست بنا رکھی ہیں وہ ہر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–44

سورة العنکبوت مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 42–69

58 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اس کے احاطہ علم کے اعتبار سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ پوری طرح جانتا ہے ان سب چیزوں کو جن کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں اللہ کے سوا "۔ تعمیم ملاحظہ ہو کہ اول تو { شیئ } خود نکرہ ہے جو ہر چیز کو شامل ہے۔ پھر اس پر { من } استغراقیہ سے مزید تاکید۔ یعنی کوئی بھی چیز خواہ کوئی فرشتہ ہو یا انسان، شجر ہو یا حجر، بت ہو یا جن وغیرہ وغیرہ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ مافوق الاسباب کسی کو بھی پکارنا شرک ہے جو کہ سب سے بڑا گناہ اور ناقابل معافی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اب وہ لوگ دیکھ لیں جو اس وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر اس کی عاجز مخلوق کو پکارتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے " یا رسول…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 36–44

عبرت کے نشان قوم عاد، ثمود، فرعون، ہامان، قارون تشریح : الاعراف ‘ ھود ‘ شعراء اور کئی سورتوں میں ان کا ذکر آچکا ہے۔ یہاں مختصراً دوبارہ ان قوموں کا ذکر کیا جا رہا ہے صرف اس حوالے سے کہ لوگ یہ اچھی طرح سمجھ جائیں کہ وہ قادر مطلق اپنی مخلوق سے بہت پیار کرتا ہے اسی لیے اچھے برے کی پہچان واضح کرنے کے لیے نبی بھیجتا رہا مگر اکثر قومیں اس قدر بگڑ چکی تھیں کہ اللہ کو پہچان کر بھی اللہ کی راہ اختیار کرنے کو تیار نہ تھیں اور اس طرح انہوں نے خود اپنے لیے تباہی و بربادی اور عذاب کے اسباب بنائے۔ مثلاً عاد کی قوم ‘ قوم ثمود ‘ مدین والے، ہامان ‘ فرعون وغیرہ یہ سب اپنے زمانے کی مانی ہوئی طاقتور قومیں تھیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 31–44

آیات 31 تا 44 اسرارومعارف ایک وقت میں ایک کا بھلا دوسرے کا نقصان ایمان و عمل کے باعث : اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کو ولادت اسمعیل (علیہ السلام) کی خوشخبری دینے کے لیے آئے تو انہیں بتایا کہ قوم لوط کی بستیوں کو اجاڑنا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے یعنی وہی فرستادہ جو ایک ہستی کو اس کے ایمان و عمل کے باعث نوید مسرت سنانے آئے تھے دوسروں کے کفر اور بد اعمالی کے باعث ان کی تباہی بھی لائے تھے کہ وہ بہت حد سے بڑھ چکے تھے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فوراکہا اس بستی میں تو لوط (علیہ السلام) بھی ہیں تو فرشتے کہنے لگے سب معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہے۔ لوط (علیہ السلام) اور ان کے پیروکار اس آفت سے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

5 ۔ یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جب ” ما یدعون “ کے ” ما “ کو استفہامیہ قرار دیا جائے اور اگر اسے نافیہ قرار دیا جائے تو ترجمہ یوں ہوگا۔ ” اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ لوگ اس لے سوا کسی چیز کو نہیں پکارتے یعنی وہ کوئی چیز نہیں ہے کہ اسے پکارنا ان کے کسی کام آسکے اور یہاں ایک تیسرا احتمال بھی ہے کہ ” ما “ مصدر بیان لیا جائے۔ (شوکانی) 6 ۔ اسی کو پکارنا، اسی کے سامنے التجائیں کرنا اور اسی سے مرادیں مانگنا کام آسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 41–42

(29:41) اتخذوا۔ ماضی جمع مذکر غائب اتخاذ (افتعال) مصدر۔ انہوں نے اختیار کیا۔ انہوں نے ٹھہرالیا۔ اوھن۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے سب سے کمزور۔ سب سے ضعیف۔ وھن مصدر۔ جس کے معنی جسمانی طور پر کسی معاملہ میں کمزور ہونے یا اخلاقی کمزوری ظاہر کرنے کے ہیں۔ چناچہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے رب انی وھن العظم منی (19:47) اے میرے پروردگار میری ہڈیاں بڑھاپے کے سبب کمزور ہوگئی ہیں۔ ان اللہ یعلم ما یدعون من دونہ من شیئ۔ میں ما موصولہ ہے اور یعلم کا مفعول ہے من دونہ میں من متعلقہ یدعون ہے۔ ہ ضمیر کا مرجع اللہ ہے من شیء میں من یا تو تبیین کا ہے اور موصول کے بیان کے لئے ہے یا تبعیضیہ ہے۔ ترجمہ یوں ہوگا :۔ یہ جس کسی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 41–44

لغات القرآن آیت نمبر (41 تا 44) ۔ العنکبوت (مکڑی) ۔ اتخذت (بنایا) ۔ اوھن (سب سے کمزور۔ کمزور ترین) ۔ خلق (اس نے پیدا کیا) ۔ تشریح : آیت نمبر (41 تا 44) ۔ ” ابتدائے کائنات سے نبی کریم ﷺ تک جتنے بھی بیشمار انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لائے انہوں نے عقیدہ کی گندگیوں میں ملوث لوگوں کی اصلاح کے لئے بتایا کہ اللہ ہی ساری کائنات کا پیدا کرنے والا، سب کو رزق دینے والا اور سب کی حاجتیں پوری کرنے والا ہے وہ صرف ایک اللہ ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ وہی ہر ایک کا محافظ و نگران، نفع اور نقصان کا مالک اور ہر ایک کی ضروریات کو پورا کرنے والا ہے وہ اگر کسی پر اپنی رحمتوں کو نازل کرتا ہے تو کوئی اسے روکنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 41–43

غیروں کو معبود بنانے کا رد۔ (ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مثال بیان فرمائی ہے جو اللہ کو چھوڑ کر اور روں کو معبود ٹھہراتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے مکڑی کا گھر جو نہایت بودا ہے اور گرمی جاڑے بارش کا اس میں کچھ بچاؤ نہیں، اسی طرح ان جھوٹے معبودوں سے ان کے پوجنے والوں کو کچھ فائدہ نہیں، ان کا دین مکڑی کے گھر کی طرح بودا ہے فرمایا اگر ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ آفت آجائے تو ان کے اپنے جھوٹے معبودوں سے اس طرح کچھ مدد نہ ملے گی جس طرح مکڑی کو اپنے گھر سے جاڑے گرمی میں کچھ بچاؤ کی مدد نہیں ملتی ، پھر اللہ تعالیٰ نے ان جھوٹے معبودوں کے پوجنے والوں کو دھمکایا کہ ہم سب کچھ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 41–42

ایک بےمثل تشبیہہ 1: حقیقت یہ ہے کہ مشرکین کے عقیدہ کی کمزوری اور ان کی بےچارگی کی اس سے بہتر مثال نہیں بیان کی جاسکتی غور فرمائیے کہ گھر کی غرض کیا ہوسکتی ہے ۔ یہی کہ وہاں آرام اور آسودگی ہو ۔ گرمی اور سردی سے پناہ ملے ۔ اور بادوباران کے وقت آرام میسر ہو ۔ مگر مکڑی کے گھر میں یہ چیزیں کہاں حاصل ہوسکتی ہیں ۔ ہوا کا ایک جھونکا اس کو برباد کرسکتا ہے ۔ اور آگ کا ایک شرارہ اس کے سارے تانے بانے کو فنا کرسکتا ہے ۔ حل لغات :۔ العنکبوت ۔ مکڑی اوھن ۔ بہت زیادہ بودا

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

42۔ اللہ تعالیٰ ان سب چیزوں کی حقیقت کو جانتا ہے جن کو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا پوجتے ہیں اور جن کی پرستش کرتے ہیں اور وہی کمال علم اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کبھی سننے والا تعجب کرے کہ سب کو ایک لکڑی ہانک دیا بعض خلق بت پوجتے ہیں بعض آگ پانی کو بعض اولیاء انبیاء کو یا فرشتوں کو سو اللہ نے فرمایا کہ اللہ کو سب معلوم ہیں اگر کوئی کرسکتا تو اللہ سب کو ایک قلم موقوف نہ کرتا اور اللہ کو کسی کی رفاقت نہیں چاہئے زبردست سے اور مشورت نہیں چاہئے حکمتیں اسی کو ہیں ۔ 12 مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سواخواہ بت ہو ، تھان ہو ، فرشتہ ہو، نبی ہو ، ولی ہو ، چھڑی ہو ،…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 41–43

ف 1۔ پس جیسا اس مکڑی نے اپنے زعم میں ایک اپنی پناہ بنائی ہے مگر واقع میں وہ پناہ غایت ضعف سے کالعدم ہے اسی طرح یہ شرک معبودات باطلہ کو اپنے زعم میں اپنی پناہ سمجھتے ہیں مگر واقع میں وہ پناہ لاشے محض ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں ان کی اصل سے اللہ تعالیٰ ہی واقف ہے : 42۔ ایسے بدبخت اور بداطوار لوگ جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر لوگوں کو اپنا معبود اور حاجت روا اور مشکل کشا بناتے ہیں ان کے بت بنا کر سامنے رکھتے یا ان کی قبروں کے طواف کرتے ہیں اور ان سے امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں کہ جب ہم پر کوئی افتاد پڑے گی تو وہ آگے بڑھ کر ان کی بچا لیں گے بلاشبہ ان کی یہ ساری توقعات مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہیں وہ ان لوگوں کو عذاب الہی سے ہرگز ہرگز نہیں بچا سکیں گے اور لاریب اللہ سے تعلق توڑ کر غیروں سے تعلق جوڑنے والے اور ان پر بھروسہ کرنے والے ایسے ہی ہیں جیسے وہ نادان جو ریت پر محل تیار کرنا چاہتے ہیں ۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 42–43

وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِ‌بُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ (And these examples We cite for people, and no one understands them except the knowledgeable ones. - 29:43). After comparing the weakness of the gods of disbelievers with cobweb, it is stressed that Allah Ta’ ala provides such clear examples to elucidate the truth of Oneness. But only knowledgeable persons draw benefit from them, and the people at large do not ponder, so that they could also understand the truth. Who is knowledgeable in the sight of Allah? Imam Baghawi has quoted with his own sanad (chain of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

74 That is, "Allah knows full well the reality of those beings and things which they have taken as their deities and which they invoke for help. They are absolutely powerless. The Owner of power is only Allah, Who is controlling the system of this universe according to His own wisdom and design." Another translation of this verse can be: "Allah knows full well that those whom they invoke, apart from Him, are nonentities, and He alone is the AllMighty, the All-Wise."

Read the full tafseer →